Baaghi TV

Tag: امریکا

  • امریکا کی ایران کے خلاف  اسٹیلتھ میزائل استعمال کرنے کی تیاری

    امریکا کی ایران کے خلاف اسٹیلتھ میزائل استعمال کرنے کی تیاری

    امریکا نے ایران کے خلاف اسٹیلتھ میزائل استعمال کرنے کی تیاری کر لی ہے-

    امریکی نشریاتی ادارے ’بلومبرگ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی گئی مہلت ختم ہونے میں اب صرف 48 گھنٹے باقی ہیں اور امریکی فوج نے اس کے بعد کے مرحلے کے لیے دنیا کے مہلک ترین ’جاسم ای آر‘ (JASSM-ER) اسٹیلتھ کروز میزائلوں کا بڑا ذخیرہ مشرقِ وسطیٰ منتقل کرنے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق، ان میزائلوں کو بحر الکاہل کے امریکی اڈوں سے نکال کر سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مراکز اور برطانیہ کی فضائی بیسز پر پہنچایا جا رہا ہے تاکہ ایران کے اندر گہرائی میں موجود اہداف کو نشانہ بنایا جا سکے یہ میزائل اپنی خاص ’اسٹیلتھ‘ ٹیکنالوجی کی وجہ سے دشمن کے ریڈار میں آئے بغیر 600 میل سے زیادہ فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اسے داغنے والا جہاز دشمن کے دفاعی نظام کی زد میں آئے بغیر اپنا کام مکمل کر سکتا ہے ایک جاسم میزائل کی مالیت تقریباً 15 لاکھ ڈالر (ڈیڑھ ملین ڈالر) ہے، جو اس ہتھیار کی اہمیت اور قیمت کا اندازہ لگانے کے لیے کافی ہےسینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے مطابق امریکا جنگ کے پہلے چھ دنوں میں ہی ایران پر ایسے 786 میزائل داغ چکا ہے۔

    بھارتی جریدے کاحالیہ کشیدہ صورتحال میں پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کا اعتراف

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں تہران کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے پاس معاہدہ کرنے یا آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے اب صرف 48 گھنٹے باقی ہیں، ورنہ ان پر آفت ٹوٹ پڑے گی اس الٹی میٹم کے ساتھ ہی اسرائیل نے بھی اپنی تیاریوں کو حتمی شکل دے دی ہے۔

    ایک اسرائیلی دفاعی عہدیدار کا کہنا ہے کہ اسرائیل ایران کی توانائی کی تنصیبات اور بجلی گھروں پر حملے کے لیے تیار ہے اور صرف امریکا کے گرین سگنل کا انتظار کر رہا ہے،یہ حملے اگلے ایک ہفتے کے اندر متوقع ہیں جن کا مقصد ایران کی معاشی شہ رگ کو کاٹنا ہے۔

    کیا ٹرمپ کاپاگل پن روکنےکے لیےکچھ نہیں کیاجاسکتا؟سابق سربراہ آئی اے ای اے کا عالمی برادری سے سوال

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے اتنے بڑے پیمانے پر جدید ترین ہتھیاروں کا رخ مشرقِ وسطیٰ کی طرف موڑنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ ایران کے خلاف ایک بہت بڑا وار کرنے کی تیاری میں ہے۔

  • امریکا اسرائیل کے ایران پر  حملے، خوزستان میں پیٹروکیمیکل تنصیبات تباہ

    امریکا اسرائیل کے ایران پر حملے، خوزستان میں پیٹروکیمیکل تنصیبات تباہ

    امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے مختلف علاقوں پر کیے گئے حملوں میں خوزستان کے 6 پیٹروکیمیکل پلانٹس کو نشانہ بنایا گیا-

    ایرانی میڈیا کے مطابق ہفتے کے روز امریکا اور اسرائیل نے ایران کے جنوب مغربی صوبے خوزستان میں بڑے پیمانے پر حملے کیے، جن میں 6 پیٹروکیمیکل پلانٹس کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ان حملوں کے نتیجے میں کم از کم 5 افراد ہلاک جبکہ 170 زخمی ہو گئے۔

    خبر رساں ایجنسی فارس نے خوزستان کے ڈپٹی گورنر کے حوالے سے بتایا کہ شہر ماہشہر کے اسپیشل پیٹروکیمیکل زون میں زور دار دھماکے سنے گئے حملوں میں علاقے میں قائم کم از کم تین کمپنیوں کو نشانہ بنایا گیا۔

    تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق حملوں سے ہونے والے نقصانات کی مکمل تفصیلات تاحال سامنے نہیں آ سکیں، تاہم پلانٹس کو براہِ راست نشانہ بنائے جانے کے باعث بڑے پیمانے پر تباہی کی اطلاعات ہیں امدادی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے یہ دھماکے مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً ساڑھے سات بجے ہوئے، جن کے ساتھ فضا میں ڈرون جیسی تیز آواز بھی سنائی دی۔

    دوسری جانب بوشہر میں واقع جوہری پاور پلانٹ کے قریب بھی ایک شہری جاں بحق ہوا، جس کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا دارالحکومت تہران میں بھی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جہاں شہید بہشتی یونیورسٹی اور ایک ریسرچ سینٹر کو نقصان پہنچا ہے، جس سے تعلیمی اور تحقیقی سرگرمیا ں متاثر ہوئی ہیں پاسدارانِ انقلاب کے ایک ائیر ڈیفنس مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، تاہم اس حوالے سے نقصانات کی تفصیلات تاحال واضح نہیں ہو سکیں-

  • امریکی پائلٹ کے ریسکیو آپریشن میں مصروف ایک اور امریکی طیارے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    امریکی پائلٹ کے ریسکیو آپریشن میں مصروف ایک اور امریکی طیارے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے امریکی پائلٹ کے ریسکیو آپریشن میں مصروف ایک اور امریکی طیارے کو نشانہ بنا کر گرایا ہے –

    ایرانی خبر رساں ایجنسی ’فارس‘ کے مطابق یہ کارروائی صوبہ اصفہان کے جنوبی علاقے میں کی گئی، جہاں امریکی طیارہ لاپتہ افسر کی تلاش کے لیے پرواز کر رہا تھا۔

    ایرانی میڈیا نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر ایک تصویر بھی جاری کی ہے جس میں کھیتوں کے درمیان سے کالے دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے جا سکتے ہیں،ایرانی حکام نے اس واقعے کو صدر ٹرمپ کے ان دعوؤں کا جواب قرار دیا ہے جن میں وہ ریسکیو آپریشن کی کامیابی کی باتیں کر رہے تھے۔

    ایرانی خبر رساں ایجنسی نے اس کارروائی کو ”صدر ٹرمپ کی جانب سے ایک بڑی شکست پر پردہ ڈالنے کی مایوس کن کوشش“ کا انجام قرار دیا ہے۔

    واضح رہے کہ واشنگٹن سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق امریکی حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ لاپتہ ہونے والے دوسرے پائلٹ یا عملے کے رکن (ایئرمین) کو تلاش کرکے باحفاظت ایران سے نکال لیا گیا ہےہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب امریکی فورسز نے ایران کے صوبے کہگیلویہ و بویراحمد کے شہر دہشت میں اپنے دوسرے لاپتہ پائلٹ کو بچانے کے لیے ایک انتہائی بڑا اور خطرناک آپریشن کیا،رات بھر جاری رہنے والے اس ریسکیو آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اتوار کی صبح سوشل میڈیا پر تصدیق کی ہے کہ ایران میں گرائے گئے جنگی طیارے کا لاپتہ پائلٹ کو امریکی افواج نے باحفاظت نکال لیا ہے۔

  • ایران میں لاپتہ امریکی پائلٹ کی بازیابی،صدر ٹرمپ نے  مشن کو امریکی تاریخ کا سب سے مشکل اور نڈر  آپریشن قرار دیا

    ایران میں لاپتہ امریکی پائلٹ کی بازیابی،صدر ٹرمپ نے مشن کو امریکی تاریخ کا سب سے مشکل اور نڈر آپریشن قرار دیا

    ایران کے اندر گرنے والے امریکی جنگی طیارے ایف-15 ای کے عملے کو بچانے کے لیے جاری آپریشن کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کی صبح سوشل میڈیا پر تصدیق کی ہے کہ ایران میں گرائے گئے جنگی طیارے کا لاپتہ پائلٹ کو امریکی افواج نے باحفاظت نکال لیا ہے سماجی رابطے کی سائٹ ’ٹروتھ سوشل‘ پر کی گئی اپنی پوسٹ میں صدر ٹرمپ نے لکھا کہ ”ہم نے اسے نکال لیا ہے،ا نہوں نے اس مشن کو امریکی تاریخ کے سب سے مشکل اور نڈر ’سرچ اینڈ ریسکیو‘ آپریشنز میں سے ایک قرار دیا، جس میں امریکی فوج نے دشمن کے علاقے کے اندر جا کر اپنے افسر کو بچایا۔

    صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ بازیاب کرایا گیا اہلکار کوئی معمولی افسر نہیں بلکہ ایک انتہائی قابلِ احترام ’کرنل‘ ہے، جو اب مکمل طور پر محفوظ ہے اگرچہ اس خطرناک مشن اور طیارہ گرنے کے دوران کرنل کو کچھ زخم آئے ہیں، لیکن وہ اب خطرے سے باہر ہے اور جلد ہی مکمل صحت یاب ہو جائے گا،اس مشن میں درجنوں جدید ترین جنگی طیارے اور مہلک ترین ہتھیار استعمال کیے گئے تاکہ دشمن کے علاقے میں پھنسے ہوئے اہلکار کو ہر قیمت پر نکالا جا سکے۔

    انہوں نے انکشاف کیا کہ یہ گزشتہ دو دنوں میں دوسری بڑی کامیابی ہے، کیونکہ اس سے پہلے ایک اور بہادر پائلٹ کو بھی بچایا گیا تھا جس کی تصدیق اس وقت اس لیے نہیں کی گئی تاکہ دوسرے جاری آپریشن کو کسی خطرے میں نہ ڈالا جائے۔

    صدر ٹرمپ نے اس دہری کامیابی کو امریکی فوجی تاریخ کا ایک یادگار لمحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ دو الگ الگ پائلٹس کو دشمن کی سرزمین کے اندر سے باحفاظت نکالا گیا ہو امریکا اپنے کسی بھی سپاہی کو کبھی پیچھے نہیں چھوڑے گا۔

    صدر ٹرمپ نے اس کامیابی کو ایرانی فضائی حدود پر امریکی غلبے اور برتری کا ثبوت قرار دیا، لیکن اس بارے میں کوئی ذکر نہیں کیا کہ آخر وہ ایف-15 طیارہ ایرانی فورسز نے گرایا کیسے تھاصدر ٹرمپ نے تمام امریکیوں، چاہے وہ ریپبلکن ہوں یا ڈیموکریٹ، سے اپیل کی کہ وہ اس فخر کے لمحے میں متحد ہو جائیں۔

    امریکی میڈیا کے مطابق امریکی حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ لاپتہ ہونے والے دوسرے پائلٹ یا عملے کے رکن (ایئرمین) کو تلاش کرکے باحفاظت ایران سے نکال لیا گیا ہےہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب امریکی فورسز نے ایران کے صوبے کہگیلویہ و بویراحمد کے شہر دہشت میں اپنے دوسرے لاپتہ پائلٹ کو بچانے کے لیے ایک انتہائی بڑا اور خطرناک آپریشن کیا،رات بھر جاری رہنے والے اس ریسکیو آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

    ’الجزیرہ‘ نے مقامی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اس آپریشن کے دوران کم از کم چار افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ ایک شخص زخمی ہے، تاہم غیر سرکاری اطلاعات بتاتی ہیں کہ جانی نقصان اس سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہےاگرچہ ان مسلح جھڑپوں کی باضابطہ تصدیق ابھی باقی ہے، لیکن دہشت کے گردونواح میں ہونے والی ہلچل سے یہ واضح تھا کہ امریکی کمانڈوز پائلٹ کو بازیاب کرانے کے لیے سرتوڑ کوششیں کر رہے تھے۔

    یہ صورتحال اس لیے بھی پیچیدہ تھی کیونکہ گزشتہ دو دنوں سے ایرانی حکام بھی اس پائلٹ کی تلاش میں مصروف تھے اور انہوں نے عام شہریوں کو بھی اس مہم میں شامل ہونے کی اپیل کی تھی ایرانی حکام نے پائلٹ کا سراغ لگانے والے کسی بھی شہری کے لیے بڑے انعام کا اعلان کر رکھا تھا، جس کی وجہ سے مقامی آبادی بھی اس تلاش میں سرگرم تھی۔

    لیکن اسی دوران امریکی ٹیموں نے ’سرچ اینڈ ریسکیو‘ مشن کے تحت پائلٹ تک پہنچنے کی کوشش کی امریکی حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے الجزیرہ کو بتایا تھا کہ اگرچہ لاپتہ اہلکار کو ڈھونڈ نکالنا ایک بڑی کامیابی ہے، لیکن ریسکیو ٹیم کے لیے اصل چیلنج اسے بحفاظت ایران سے باہر نکالنا تھا ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ بازیاب کرایا گیا اہلکار مرد ہے یا خاتون، کیونکہ امریکی فوجی اصطلاح میں ’ایئرمین‘ کا لفظ دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

  • ایران جنگ:امریکا میں گیس کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ

    ایران جنگ:امریکا میں گیس کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ

    امریکا میں گیس کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ، فی گیلن گیس کی قیمت $4.10 تک پہنچ گئی۔

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے 48 گھنٹے کا وقت دیا ہے ، وجہ امریکا میں بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتیں ہیں، جبکہ امریکا میں گیس کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں فی گیلن گیس کی قیمت $4.10 تک پہنچ گئی، یہ اضافہ پچھلے ہفتے کے مقابلے میں 12 سینٹ کا اضافہ ہے جو غیر معمولی اضافہ ہے۔

    قیمتوں میں یہ اضافہ 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد سے 37 فیصد تک ہو چکا ہے۔ قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ خلیج فارس میں ہرمز کے تنگ راستے کی تقریباً بندش ہے س آبی گذرگاہ سے دنیا کے لیے تیل کی تقریباً 20 فیصد ترسیل کے لیے اہم ہے اور مشرق وسطیٰ میں تیل کی پیداوار میں کمی بھی ہے،ریاست کیلیفورنیا میں فی گیلن گیس کی سب سے زیادہ اوسط قیمت $5.92 کے قریب ہے جبکہ اوکلاہوما میں سب سے کم قیمت $3.29 فی گیلن ہے۔

  • امریکا میں قاسم سلیمانی کی بھانجی اور ان کی بیٹی  گرفتار

    امریکا میں قاسم سلیمانی کی بھانجی اور ان کی بیٹی گرفتار

    امریکی حکام نے ایران کے مرحوم جنرل قاسم سلیمانی کی بھانجی اور ان کی بیٹی کو گرفتار کرتے ہوئے ان کا گرین کارڈ منسوخ کر دیا،امریکی وفاقی ایجنٹوں نے مرحوم ایرانی فوجی کمانڈر قاسم سلیمانی کی بھانجی اور نواسی کو سکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو کی جانب سے ان کی قانونی مستقل رہائشی حیثیت کو منسوخ کرنے کے بعد حراست میں لے لیا ہے-

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی وفاقی حکام نے سابق ایرانی فوجی کمانڈر قاسم سلیمانی شہید کی بھانجی حمیدہ سلیمانی افشار اور ان کی بیٹی کو گرفتار کر لیا ہے یہ اقدام اس کے بعد کیا گیا جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ان کا قانونی مستقل رہائشی (گرین کارڈ) کا درجہ منسوخ کر دیا، ان کی گرفتاری امریکی امیگریشن اور کسٹمز انفارسمینٹ کی تحویل میں ہونے کے بعد سامنے آئی۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے بیان کے مطابق، حمیدہ سلیمانی افشار اور ان کی بیٹی اب امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کی حراست میں ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ گرین کارڈ کی منسوخی اور گرفتاری امریکی قوانین کے مطابق کی گئی کارروائی ہے۔

    واضح رہے جنرل قاسم سلیمانی کو جنوری 2020 کی صبح بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر امریکی فضائی حملے میں شہید کیا گیا تھا اسی حملے میں عراقی ملیشیا کے کمانڈر ابو مہدی المہندس بھی مارے گئے تھےمرحوم جنرل قاسم سلیمانی ایران کی اسلامی انقلاب گارڈز کور پاسدارانِ انقلاب کی بیرونی شاخ، قدس فورس کے سربراہ تھ وہ ایران اور مشرق وسطیٰ میں ایرانی اثر و رسوخ بڑھانے میں ایک کلیدی کردار ادا کرتے تھے اور عراق و شام میں لڑائیوں میں اہم قائد کے طور پر جانے جاتے تھے، ان کی شہرت ایران کے اندر اور بین الاقوامی سطح پر بہت زیادہ تھی۔

  • معاہدہ نہ ہوا تو ایران پر قیامت ٹوٹ پڑے گی،ٹرمپ کا 48 گھنٹے کا ایک اور الٹی میٹم

    معاہدہ نہ ہوا تو ایران پر قیامت ٹوٹ پڑے گی،ٹرمپ کا 48 گھنٹے کا ایک اور الٹی میٹم

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے پاس 48 گھنٹے ہیں کہ وہ کوئی معاہدہ کر لے یا آبنائے ہرمز کھول دے، ورنہ اس پر قیامت ٹوٹ پڑے گی۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل میں جاری بیان میں کہا کہ ‘یاد رکھیں جب میں نے ایران کو معاہدہ کرنے یا آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے 10 دن دیے تھے،وقت نکلتا جا رہا ہے، اب 10 دن کا دیا وقت ختم ہو رہا ہے، معاہدہ نہ ہوا تو ان پر جہنم برسانے کے لیے 48 گھنٹے باقی رہ گئے ہیں-

    ایک اور بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایف 16 طیارےکی تباہی سے ایران سے مذاکرات پر اثر نہیں پڑےگایہ جنگ ہے اور ہم حالت جنگ میں ہیں، جنگی طیارے کی تباہی سے سفارتی عمل متاثر نہیں ہوگا، انہوں نے یہ بھی کہا کہ ابھی نہیں کہہ سکتاکہ لاپتا عملے کے رکن کو نقصان پہنچایاگیا تو امریکاکیا اقدام کرےگا۔

    امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری ایران پر حملوں کا آغاز کیا تھا، ان حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای، پاسداران انقلاب کے مرکزی کمانڈرز اور اہم شخصیات شہید ہوگئی تھیں جبکہ ایران نے جوابی کارروائی میں خطے میں قائم امریکی بیسز اور اسرائیل کو نشانہ بنایا۔

    بعد ازاں ڈونلڈ ٹرمپ متعدد مرتبہ ایران کو جنگ بندی معاہدہ کرنے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے بدترین کارروائیوں کی دھمکی دی تھی،ڈونلڈ ٹرمپ نے 30 مارچ کو سوشل میڈیا پر جاری بیان میں دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ معاہدہ نہ کرنے اور 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز نہ کھولنے کی صورت میں ایران کے بجلی گھروں، تیل کے کنوؤں اور ڈی سیلی نیشن پلانٹس پر حملے کیے جائیں گے۔

  • ایران  کا  امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ کے امکان کا عندیہ

    ایران کا امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ کے امکان کا عندیہ

    ایران کی مسلح افواج کے سینئر کمانڈر بریگیڈیئر جنرل محمد جعفر اسدی نے امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ کے امکان کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی افواج کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے مکمل تیار ہیں۔

    ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایران کی مسلح افواج کے سینئر کمانڈر بریگیڈیئر جنرل محمد جعفر اسدی نے ہفتے کے روز ایک ٹی وی انٹرویو میں خطے کی حالیہ صورتِ حال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں ایران اور امریکا کے درمیان دوبارہ جنگ کا امکان موجود ہے ماضی گواہ ہے کہ امریکا کسی بھی معاہدے، وعدے یا بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری نہیں کرتا ہے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ اگر امریکا کی جانب سے کسی قسم کی کارروائی کی گئی تو ایران کی مسلح افواج پوری طاقت کے ساتھ اس کا مقابلہ کریں گی،کہ ملک کی دفاعی تیاری مکمل ہے اور دشمن کی کسی بھی ممکنہ کارروائی کا فیصلہ کُن اور سخت جواب دیا جائے گادشمن کی سازشوں کے باوجود ریاست کے تمام ستون ایرانی قیادت کی ہدایات کے مطابق مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی پیشکش کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس سے مطمئن نہیں ہیں، انہو ں نے کہا کہ ایران کی قیادت کے اندر شدید اختلافات کے باعث مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق تہران نے اپنی نئی مذاکراتی تجویز جمعرات کو ثالث ملک پاکستان کے ذریعے امریکا تک پہنچائی، تاہم اس کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

    دوسری جانب امریکی حکام نے بھی ایرانی تجویز کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں، تاہم رپورٹس کے مطابق امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف نے ایسی ترامیم پیش کی ہیں جن کے تحت ایران کے جوہری پروگرام کو دوبارہ مذاکرات کا حصہ بنایا گیا ہے ان مطالبات میں یہ بھی شامل ہے کہ ایران بمباری سے متاثرہ جوہری تنصیبات سے افزودہ یورینیم منتقل نہ کرے اور نہ ہی وہاں سرگرمیاں دوبارہ شروع کرے۔

    دوسری جانب سفارتی محاذ پر پاکستان کی امن کوششوں میں ایک بڑا بریک تھرو سامنے آیا ہے، ایران نے مذاکرات کے لیے اپنی نئی تجاویز پاکستان کے ذریعے امریکا کو بھجوا دی ہیں تاہم صدر ٹرمپ نے فی الحال ایرانی تجاویز پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی قیادت کو زیادہ مناسب تجاویز پیش کرنی چاہئیں۔

  • ٹرمپ نے ایران کے خلاف دو بڑے زمینی آپریشنز کی منصوبہ بندی کی ہے،امریکی میڈیا

    ٹرمپ نے ایران کے خلاف دو بڑے زمینی آپریشنز کی منصوبہ بندی کی ہے،امریکی میڈیا

    امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کی آڑ میں الجھا کر ایران پر زمینی حملوں کا منصوبہ بنا لیا ہے جبکہ ہزاروں امریکی فوجی پہلے ہی خطے میں پہنچ چکے ہیں۔

    امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کے خلاف دو بڑے زمینی آپریشنز کی منصوبہ بندی کی ہے پہلا آپریشن ایران کے اہم تیل بردار مرکز خارگ جزیرے پر قبضے کے لیے ہوگا جبکہ دوسرا آپریشن افزودہ یورینیم حاصل کرنے کے مقصد سے کیا جائے گا, امریکا پہلے ہی ساڑ ھے تین ہزار میرینز اور نیول اہلکار خطے میں تعینات کرچکا ہے، جبکہ آئندہ ہفتوں میں مزید ساڑھے تین ہزار فوجیوں کی آمد متوقع ہے، جس سے خطے میں امریکی فوجی موجودگی مزید بڑھ جائے گی۔

    رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ مکمل حملے سے کم درجے کا ہے، تاہم اس کے دوران امریکی اہلکاروں کو ایرانی ڈرونز، میزائلوں، زمینی فائرنگ اور بارودی سرنگوں جیسے خطرات کا سامنا ہوسکتا ہے, وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ پینٹاگون کا کام مختلف آپشنز تیار کرنا ہے تاکہ صدر کو فیصلے کے لیے مکمل اختیارات حاصل ہوں، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ صدر ٹرمپ نے کوئی حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔

    امریکی میڈیا کے مطابق خارگ جزیرے پر قبضہ ایران کے لیے شدید معاشی دھچکا ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ یہ جزیرہ ایران کی تیل برآمدات کا ایک بڑا مرکز ہے اس کے ساتھ ساتھ اس اقدام سے ایران کے فوجی آپریشنز کے لیے دستیاب مالی وسائل بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔

    دوسری جانب صدر ٹرمپ کے قریبی حلقوں نے انہیں خبردار کیا ہے کہ ایرانی سرزمین پر قدم رکھنا ایک نہایت خطرناک اور پیچیدہ مشن ہوگا،ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے کسی بھی آپریشن سے نہ تو ایران کی حکومت گرے گی اور نہ ہی آبنائے ہرمز کھلنے کی ضمانت دی جاسکتی ہے اگر امریکا نے زمینی کارروائی کی تو یہ جنگ جلد ختم ہونے کے بجائے طویل ہوسکتی ہے اور اسے ہفتوں میں سمیٹنا ممکن نہیں ہوگا۔

    دوسری جانب ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ دشمن بظاہر مذاکرات کی بات کرتا ہے لیکن خفیہ طور پر زمینی حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق انہوں نے کہا کہ ایرانی افواج امریکی فوجیوں کے انتظار میں ہیں اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گ ایران کی عسکری تیاری مکمل ہے، میزائل نظام فعال ہے اور دشمن کی کمزوریوں سے بخوبی آگاہ ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ ان کا بیان ابراہ راست واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے ردعمل میں دیا گیا یا نہیں۔

  • ٹرمپ اور نیتن یاہو کو   جنگی جرائم کے الزام میں پھانسی کی سزا ہوسکتی ہے،امریکی ماہر سیاسیات

    ٹرمپ اور نیتن یاہو کو جنگی جرائم کے الزام میں پھانسی کی سزا ہوسکتی ہے،امریکی ماہر سیاسیات

    امریکی سیاسیات کے ماہر اور بین القوامی تعلقات کے اسکالر جان میئر شائمر نے دعویٰ کیا کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو جنگی جرائم کے الزام میں پھانسی کی سزا ہوسکتی ہے۔

    میئر شا ئمر نے ایک سوشل میڈیا پوڈ کاسٹ میں کہا کہ اگر نیورمبرگ ٹرائلز ہوتے اور اسرائیلی و امریکی رہنماؤں کو عدالت میں پیش کیا جاتا، تو صدر ٹرمپ، نیتن یاہو اور ان کے کئی مشیران کو پھانسی دی جاتی، نیورمبرگ ٹرائلز میں سابقہ نازی جرمن رہنماؤں کو نسل کشی اور جارحانہ جنگ کے الزامات پر سزائیں دی گئی تھیں،امریکا اور اسرائیل نے ایران پر بلاوجہ دو حملے کیے، جن میں جون 2025 کا حملہ اور موجودہ جارحانہ کارروائی شامل ہے، اور اس میں ایران کے کسی فو جی اقدام کو جواز نہیں بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل نے غیر قانونی طریقے سے رہنماؤں کو قتل کیا اور غزہ کی پٹی میں نسل کشی کی جنگ بھی لڑی۔

    28 فروری سے شروع ہونے والی امریکی و اسرائیلی جارحیت میں اعلیٰ ایرانی افسران اور کمانڈرز کو نشانہ بنایا گیا ان دشمنانہ کارروائیوں میں ایران کی توانائی کی تنصیبات، شہری بنیادی ڈھانچے، اسکولز، اسپتالوں اور ہوائی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس سے سیکڑوں عام شہری ہلاک ہوئے ایران کی مسلح افواج نے اس کے جواب میں اسرائیل کے زیر قبضہ علاقوں اور خطے میں امریکی فوجی ٹھکانوں اور اثاثوں کو نشانہ بناتے ہوئے تقریبا روزانہ میزائل اور ڈرون آپریشنز کیے۔