Baaghi TV

Tag: امریکا

  • خطاب کے دوران حملہ،الہان عمر کا ڈونلڈ ٹرمپ پر براہ راست الزام

    خطاب کے دوران حملہ،الہان عمر کا ڈونلڈ ٹرمپ پر براہ راست الزام

    امریکی کانگریس کی رکن الہان عمر نے منگل کے روز مینیسوٹا میں ٹاؤن ہال کے دوران حملے کے بعد کہا ہے کہ حملہ آور خاص طور پر ٹرمپ کے سومی باشندوں کی ملک بدر کرنے کے احکامات پر ناراض تھا۔

    الہان عمر نے منگل کو مینیپولس میں نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ ہر بار جب صدر نے میرے اور میری کمیونٹی کے خلاف نفرت انگیز زبان استعمال کی، مجھے موت کی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں اگر ٹرمپ اقتدار میں نہ ہوتے تو انہیں حکومت سے سیکیورٹی فراہم کرنے کی ضرورت نہ پڑتی۔

    واضح رہے کہ حملہ آور جیمز کازمیرچاک نے الہان عمر پر سرنج سے کسی مادے کو چھڑکنے کی کوشش کی ابتدائی رپورٹس کے مطابق یہ مادہ ایپل سائڈر ونیگر تھا، ایف بی آئی اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے، جبکہ اس پر ابھی باقاعدہ الزامات عائد نہیں ہوئے،امریکی قانون کے مطابق کانگریس کے رکن پر حملہ کرنا وفاقی جرم ہے۔

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا امکان

    ٹرمپ نے ماضی میں الہان عمر کو ان کے وطن صومالیہ کا ذکر کرتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا 2019 میں انہوں نے ٹوئٹ کیا تھا کہ الہان عمر اور دیگر خواتین کانگریس رکن ملک واپس جائیں، حالیہ برسوں میں ٹرمپ نے الہان عمر کو فراڈ کے الزامات سے بھی جوڑا۔

    کانگریس کے دیگر رہنماﺅں نے حملے کی مذمت کی رپبلکن رکن نیتھنئیل موران نے کہا کہ سیاسی یا مذہبی اختلافات کسی بھی حالت میں تشدد کا جواز نہیں بن سکتے۔ تاہم کچھ رپبلکن رہنماﺅں نے الہان پر تنقید بھی کی، جن میں سینٹر ٹومی ٹیوبرویل اور رپبلیکن رینڈ فائن شامل ہیں، جنہوں نے اس واقعے کو الہان کے لیے خطرہ قرار دینے کے بجائے اس پر تنقید کی۔

    پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان پہلا ٹی ٹوئنٹی میچ آج کھیلا جائے گا

    امریکا میں سیاسی تشدد کے خطرات میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے کیپیٹل پولیس کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کانگریس اراکین اور ان کے اہل خانہ کے خلاف 14,938 دھمکیاں موصول ہوئیں، جو 2024 کے مقابلے میں کافی زیادہ ہیں۔

  • نوری المالکی دوبارہ اقتدار میں آئے تو امریکا عراق کی مزید حمایت نہیں کرے گا،ٹرمپ

    نوری المالکی دوبارہ اقتدار میں آئے تو امریکا عراق کی مزید حمایت نہیں کرے گا،ٹرمپ

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر سابق وزیرِاعظم نوری المالکی دوبارہ اقتدار میں آئے تو امریکا عراق کی مزید حمایت نہیں کرے گا۔

    صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا کہ المالکی کے گزشتہ دورِ اقتدار میں عراق غربت اور شدید بدامنی کا شکار ہوا تھا اور ایسا دوبارہ نہیں ہونا چا ہیے اگر المالکی دوبارہ منتخب ہوئے تو امریکا عراق کی مدد بند کر دے گا، اور امریکی حمایت کے بغیر عراق کے لیے ترقی، خوشحالی اور آزادی ممکن نہیں ہوگی۔

    ادھر امریکی وزیرِخارجہ مارکو روبیو نے بھی عراق میں ایران نواز حکومت کے خدشے پر تشویش کا اظہار کیا ہے امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق واشنگٹن سمجھتا ہے کہ ایران کے زیرِاثر حکومت عراق کے قومی مفادات کا تحفظ نہیں کر سکتی

    امریکی حکام نوری المالکی کو ایران کے زیادہ قریب سمجھتے ہیں، جس پر واشنگٹن میں طویل عرصے سے تشویش پائی جاتی ہے ٹرمپ کی جانب سے یہ مداخلت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے تعلقات شدید تناؤ کا شکار ہیں اور عراق میں ایرانی اثر و رسوخ پر بھی خدشات بڑھ رہے ہیں، شیعہ سیاسی جماعتوں کے اتحاد، کوآرڈینیشن فریم ورک، نے نوری المالکی کی نامزدگی کی حمایت کا اعلان کیا ہے-

    نوری المالکی 2006 سے 2014 تک عراق کے وزیرِاعظم رہے اور 2003 میں صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد وہ واحد عراقی وزیرِاعظم ہیں جنہوں نے دو مدتیں مکمل کیں۔ تاہم ان پر اقتدار کو اپنے ہاتھ میں رکھنے، سنی اور کرد آبادی کو نظرانداز کرنے اور ایران کے قریب ہونے کے الزامات لگتے رہے ہیں 2014 میں داعش کے پھیلاؤ کے بعد امریکا نے ان کی قیادت پر اعتماد کھو دیا تھا۔

    ماہرین کے مطابق ٹرمپ کی کھلی مخالفت نوری المالکی کے لیے ایک بڑی سیاسی رکاوٹ بن سکتی ہے، تاہم عراقی سیاست میں غیر متوقع موڑ آنا کوئی نئی بات نہیں۔

  • امید ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ ڈیل کر لے گا،صدر ٹرمپ

    امید ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ ڈیل کر لے گا،صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آئیووا میں میڈیا سے گفتگو اور ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایران، معیشت، سرحدی سیکیورٹی اور آئندہ انتخابات سے متعلق کہا ہے کہ جون میں ایران کی جوہری صلاحیت کو ختم کر دیا گیا تھا-

    صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی بحری بیڑہ ایران کی جانب گامزن ہے اور جون میں ایران کی جوہری صلاحیت کو ختم کر دیا گیاانہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران میں کی گئی فوجی کارروائی کے دوران کوئی شہری ہلاک نہیں ہوا اور امید ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ ڈیل کر لے گا امریکا میں تیل کی قیمتیں کم کر دی گئی ہیں اور ملک کی سرحدوں کو محفوظ بنا دیا گیا ہےہزاروں جرائم پیشہ اور غیرقانونی افراد کو امریکا سے واپس بھیجا جا چکا ہے جبکہ امریکی فوج کو مزید مضبوط کیا گیا ہے-

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ حکومت کو مہنگائی کا بحران ورثے میں ملا تھا تاہم ایک سال کے اندر مہنگائی کی شرح میں نمایاں کمی کی گئی اور امریکی معیشت اب دنیا کی مضبوط ترین معیشت بن چکی ہےصدر ٹرمپ نے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ مڈٹرم الیکشن باآسانی جیت جائیں گے۔

    ٹرمپ نے منی سوٹا واقعے کی منصفانہ تحقیقات کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ وہ خود اس کی نگرانی کریں گےانہوں نے سابق حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہی فیصلوں کے باعث لاکھوں غیرقانونی افراد امریکا آئے اور ماضی میں امریکی سرحد تاریخ کی بدترین حالت میں تھی۔

  • امریکی مسلم رکن کانگریس الہان عمر پر خطاب کے دوران حملہ

    امریکی مسلم رکن کانگریس الہان عمر پر خطاب کے دوران حملہ

    امریکا کی ڈیموکریٹک مسلم رکن کانگریس الہان عمر پر بدبودار مائع پھینک دیا گیا۔

    رپورٹس کے مطابق واقعہ اُس وقت پیش آیا جب وہ خطاب کر رہی تھیں، واقعہ رمنی سوٹا کے شہر میناپولیس میں ایک ٹاؤن ہال میٹنگ کے دوران پیش آیا، مائع پھینکے جانے سے الہان عمر کو کوئی چوٹ نہیں آئی، موقع پر موجود سکیورٹی اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مبینہ طور پر سفید فام شخص کو حراست میں لے لیا۔

    امریکی میڈیا کے مطابق الہان عمر اس اجلاس میں ہوم لینڈ سکیورٹی کی وزیر کرسٹی نوم سے استعفے یا مواخذے کا مطالبہ کر رہی تھیں،کرسٹی نوم اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر اسٹیفن ملر پر ایک واقعے سے متعلق گمراہ کن معلومات پھیلانے کے الزامات بھی عائد کیے جا رہے ہیں۔

    رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ منی سوٹا میں ایک مظاہرے کے دوران آئیس اہلکاروں نے ایک شخص کو ہلاک کیا تھا، جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ مسلح تھا، تاہم بعد میں سامنے آیا کہ متاثرہ شخص غیر مسلح تھا اور فائرنگ سے قبل اسے قابو میں کر لیا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ الہان عمر کو ماضی میں بھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا رہا ہے ان کے والدین کا تعلق صومالیہ سے ہے اور وہ امریکا میں مسلم کمیونٹی کی نمایاں آواز سمجھی جاتی ہیں۔

  • اپنی زمین اور فضائی حدود ایران کیخلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے، سعودی ولی عہد

    اپنی زمین اور فضائی حدود ایران کیخلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے، سعودی ولی عہد

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ٹیلیفونک گفتگو کی،ایرانی صدر نے امریکی طیارہ بردار جہاز کے خطے میں پہنچنے کے بعد سعودی ولی عہد کو فون کیا۔

    سعودی پریس ایجنسی کے مطابق منگل کے روز سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے فون پر گفتگو میں کہا کہ مملکت اپنی فضائی حدود یا سرزمین کو ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی،سعودی عرب ایران کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے اور ایسے تمام اقدامات کی حمایت کرتا ہے جو مکالمے کے ذریعے تنازعات کے حل کا باعث بنیں اور خطے میں سلامتی اور استحکام کو فروغ دیں۔

    صدر پزشکیان نے ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام پر مملکت کے ثابت قدم مؤقف پر اظہارِ تشکر کیا اور خطے میں سلامتی اور استحکام کے لیے ولی عہد کی کوششوں پر ان کا شکریہ ادا کیاصدر پزشکیان نے شہزادہ محمد بن سلمان کو بتایا کہ اسلامی ممالک کی ’وحدت اور یکجہتی‘ خطے میں ’پائیدار سلامتی، استحکام اور امن‘ کی ضمانت بن سکتی ہے۔

    پاکستان نے اقتصادی تعاون تنظیم کی دو سالہ چیئرمین شپ سنبھال لی

    فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدرمسعود پزشکیان نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ ایک ٹیلیفون کال میں امریکی ’دھمکیوں‘ پر کہا کہ ان کا مقصد ’خطے کی سلامتی کو درہم برہم کرنا ہے اور اس سے عدم استحکام کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہو گا۔‘

    سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے کہا کہ ولی عہد نے پیزشکیان کو بتایا ہے کہ ریاض ’اپنی فضائی حدود یا اپنی سرزمین کو ایران کے خلاف کسی فوجی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔

    ایران کا آبنائے ہرمز میں فوجی مشقوں کا اعلان

    مسعود پزشکیان کے دفتر کے مطابق انہوں نے شہزادہ محمد بن سلمان کو بتایا کہ ’امریکیوں کی دھمکیوں اور نفسیاتی کارروائیوں کا مقصد خطے کی سلامتی کو درہم برہم کرنا ہے اور ان (کے خطے) کے لیے عدم استحکام کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہو گا۔

    اس سے قبل ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ صدر پزشکیان نے کہا کہ تہران ہمیشہ ایسے کسی بھی عمل کا خیر مقدم کرتا ہے جو بین الاقوامی قانون کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے جنگ کو روکنے میں مدد دے۔

    واضح رہےکہ امریکی فوج کا یو ایس ایس ابراہم لنکن ائیر کرافٹ کیریئر اور اس کے ساتھ موجود دیگر جنگی جہازوں پر مشتمل بحری بیڑا مشرق وسطیٰ پہنچ گیا ہے۔

    صدر یو اے ای اور صدر آصف زرادری کی ملاقات،دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال

  • امریکی انتظامیہ کے پاس حماس کو ہتھیار ڈالنے کے لیے ایک مضبوط پروگرام موجود ہے،عالمی میڈیا

    امریکی انتظامیہ کے پاس حماس کو ہتھیار ڈالنے کے لیے ایک مضبوط پروگرام موجود ہے،عالمی میڈیا

    الجزیرہ کی رپورٹر روزیلینڈ جورڈن نے اپنی رپورٹ میں امریکی اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ حماس کے کئی افراد ہتھیار ڈالنے کی باتیں کر رہے ہیں اور اگر وہ ہتھیار نہ ڈالیں تو یہ معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی، امریکی انتظامیہ کے پاس حماس کو ہتھیار ڈالنے کے لیے ایک مضبوط پروگرام موجود ہے-

    الجزیرہ کے مطابق امریکی اہلکار نے کہا ہے کہ غزہ میں حماس کے ہتھیار ڈالنے کے عمل کے دوران فلسطینی گروپ کے لیے ‘کسی قسم کی معافی’ دی جا سکتی ہے۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب غزہ میں آخری اسرائیلی قیدی کی لاش بازیاب ہوئی، جو اکتوبر میں طے پانے والے غزہ جنگ بندی معاہدے کے اگلے مرحلے کی راہ ہموار کرتی ہے۔

    اہلکار نے بتایا کہ حماس کے کئی افراد ہتھیار ڈالنے کی باتیں کر رہے ہیں اور اگر وہ ہتھیار نہ ڈالیں تو یہ معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی،ہتھیار ڈالنے کے ساتھ ساتھ کچھ قسم کی معافی بھی زیر غور ہے، اور امریکی انتظامیہ کے پاس حماس کو ہتھیار ڈالنے کے لیے ایک مضبوط پروگرام موجود ہے، اہلکار نے اس بات کا بھی اشارہ دیا کہ معاہدے کے تحت حماس کے سیاسی حیثیت کے اعتراف اور معافی پر بات ہو رہی ہے۔

    حماس نے کہا کہ قیدیوں کی لاشیں واپس کرنے سے اس کی جنگ بندی میں پابندی ظاہر ہوتی ہے اور اس نے اپنی ذمہ داریاں پوری کر دی ہیں۔ اس نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ بھی معاہدے پر مکمل عمل کرے، جس میں رفح کراسنگ کھولنا، ضروری اشیا کی فراہمی، پابندیاں ختم کرنا اور نیشنل کمیٹی کے کام کو آسان بنانا شامل ہے۔

    ٹرمپ کے 20 نکاتی غزہ منصوبے کے مطابق، قیدیوں کی واپسی کے بعد وہ حماس کے ارکان جو ہتھیار جمع کروائیں گے انہیں معافی دی جائے گی اور جو غزہ چھوڑنا چاہیں گے انہیں محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا منصوبے میں امداد کے آزادانہ بہاؤ اور رفح سرحدی کراسنگ کے دوبارہ کھلنے کی وضاحت بھی شامل ہے۔

  • ہماری سرزمین ایران پر حملے کیلیے  کسی کو بھی استعمال کرنے نہیں دیں گے،متحدہ عرب امارات

    ہماری سرزمین ایران پر حملے کیلیے کسی کو بھی استعمال کرنے نہیں دیں گے،متحدہ عرب امارات

    مریکا کی جانب سے ایران پر بڑے فوجی حملے کے لیے کسی خلیجی ملک کی سرزمین کے استعمال کے امکان پر متحدہ عرب امارات نے کہا ہے کہ ایران پر حملے کی صورت میں کسی کو بھی لاجسٹیکل سپورٹ یعنی فوجی سامان، سہولت یا مدد بھی فراہم نہیں کی جائے گی۔

    عالمی میڈیا کے مطابق متحدہ عرب امارات نے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ ہماری فضائی حدود، زمینی علاقے یا سمندری پانیوں کو ایران پر فوجی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے، ایران پر حملے کی صورت میں کسی کو بھی لاجسٹیکل سپورٹ یعنی فوجی سامان، سہولت یا مدد بھی فراہم نہیں کی جائے گی،موجودہ بحران کا حل صرف اور صرف کشیدگی میں کمی، مذاکرات، بین الاقوامی قانون کی پابندی اور ریاستوں کی خودمختاری کے احترام میں ہے۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا نے جنگی جہاز بردار طیارہ بردار بحری بیڑے یو ایس ایس ابراہم لنکن کو خلیجی پانیوں میں بھیجا ہے، جس کے بارے میں امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ بحری بیڑہ خلیج عمان کے قریب پہنچ گیا ہے جو ممکنہ طور پر ایران کے خلاف فوجی آپریشن میں استعمال ہوگا،قبل ازیں امریکی صدر نے خطے میں آرمیڈا بھیجے جانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم ایران کی صورتحال پر قریب سے نظر رکھے ہوئے ہے۔

    دوسری جانب ایرانی فوج نے متنبہ کیا ہے کہ ہماری نگاہیں ہدف اور انگلیاں ٹرگر پر ہیں، بس روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای کے ایک اشارے کا انتظار ہے۔

  • امریکا میں شدید ترین برفانی طوفان،11 افراد ہلاک،ہزاروں پروازیں منسوخ،لاکھوں صارفین بجلی سے محروم

    امریکا میں شدید ترین برفانی طوفان،11 افراد ہلاک،ہزاروں پروازیں منسوخ،لاکھوں صارفین بجلی سے محروم

    امریکا میں شدید ترین برفانی طوفان کے نتیجے میں کم از کم 11 افراد ہلاک ہو گئے جبکہ ہفتے کے روز سے اب تک 19 ہزار پروازیں بھی منسوخ کی جاچکی ہیں۔

    غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق خراب موسمی حالات کے باعث سڑکوں پر سفر سے گریز کی ہدایات جاری کی گئیں ہیں،طوفان کے باعث ٹیکساس سے نیو انگلینڈ تک وسیع علاقے میں برف باری، ژالہ باری اور بارش ہورہی ہے جبکہ آئندہ دنوں میں درجہ حرارت خطرناک حد تک کم ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

    نیویارک کے میئر زہران ممدانی نے بتایا کہ اتوار کے روز 5 افراد کھلے آسمان تلے مردہ پائے گئےٹیکساس میں حکام نے 3 ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے، ریاست لوویزیانا میں 2 افراد ہائپوتھرمیا کے باعث ہلاک ہوئے۔ریاست آئیووا کے جنوب مشرقی علاقے میں سخت موسم کے باعث ٹریفک حادثے میں ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔

    خبررساں ایجنسی کے مطابق برفانی طوفان کے باعث پیر تک 8 لاکھ 20 ہزار سے زائد صارفین بجلی سے محروم رہے جن میں زیادہ تر جنوبی ریاستوں سے تعلق رکھتے ہیں جہاں طوفان ہفتے کے روز شدید ہواٹیکساس سے لے کر نارتھ کیرولائنا اور نیویارک تک حکام نے شہریوں کو خطرناک حالات کے باعث گھروں میں رہنے کی ہدایت کی ہے۔

    طوفان کے باعث کم از کم 20 امریکی ریاستوں اور وفاقی دارالحکومت واشنگٹن میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہےواشنگٹن، فلاڈیلفیا اور نیویارک کے بڑے ہوائی اڈوں پر تقریباً تمام پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں، فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ کے مطابق ہفتے سے اب تک اندرون اور بیرون ملک آنے جانے والی 19 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ کی جا چکی ہیں۔

    امریکی میڈیا کے مطابق منی سوٹا میں درجہ حرارت منفی 27 ڈگری ریکارڈ کیا گیا جبکہ شکاگو میں درجہ حرارت منفی 14 ڈگری تک گر گیا ہے، جس سے شہریوں کو سخت سردی اور زندگی کے معمولات متاثر ہونے کا سامنا ہے۔

    امریکہ کے مشرقی حصے میں برفباری بھی شدید رہی فلاڈیلفیا میں 9 انچ سے زائد برفباری ریکارڈ کی گئی، نیویارک سٹی کے سنٹرل پارک میں 11 انچ اور بوسٹن میں 16 انچ سے زائد برفباری نوٹ کی گئی ہےبرفباری کے باعث نقل و حمل متاثر ہوئی اور شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

    حکام نے خبردار کیا ہے کہ شدید سردی اور برفباری کے دوران بیرونی سرگرمیوں میں احتیاط برتی جائے تاکہ حادثات سے بچا جا سکے۔

  • امریکہ میں منجمد ثاثے ہماری ہی کی ملکیت ہیں،روس

    امریکہ میں منجمد ثاثے ہماری ہی کی ملکیت ہیں،روس

    روسی صدارتی انتظامیہ کے نائب سربراہ میکسم اوریشکن نے کہا ہے کہ امریکہ میں منجمد ایک ارب ڈالر کے روسی اثاثے روس ہی کی ملکیت ہیں۔

    ایک انٹرویو میں اوریشکن نے کہا کہ اگر یہ اثاثے بحال ہوتے ہیں تو ماسکو خود اس رقم کے استعمال کا طریقہ طے کرے گا اثاثوں کی منتقلی کا عمل اس وقت ممکن ہو گا جب امریکی بینک روس کے احکامات پر عمل کریں ، بات اتنی ہی سادہ ہے، اوریشکن نے صدر ولادیمر پیوٹن کے حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ارب ڈالر روس کے ہیں اور ہم خود اس کے استعمال کے لیے ہدایات دیں گے۔

    واضح رہے کہ صدر پیوٹن نے حال ہی میں فلسطینی صدر محمود عباس کے ساتھ ملاقات میں کہا تھا کہ روس فلسطینی عوام کی مدد کے لیے ایک ارب ڈالر ’بورڈ آف پیس‘ کے ذریعے مختص کرنے کے لیے تیار ہے،یہ معاملہ امریکی وفد کے ساتھ 22 جنوری کو کریملن میں ہونے والی ملاقات میں بھی زیر بحث آیا۔

    صدر پیوٹن کا مزید کہنا تھا کہ رقم غزہ پٹی کی تعمیر نو اور فلسطینی مسائل کے حل کیلئے استعمال کی جائے گی، امن بورڈ کے فنڈز امریکا میں منجمد روسی اثاثوں سے بھی فراہم کئے جا سکتے ہیں فلسطینی صدر دو روزہ دورے پر روس پہنچے تھے، صدر پیوٹن نے ملاقات کے آغاز میں فلسطین کے ساتھ روسی تعلقات کو گہرے اور تاریخی قرار دیتے ہوئے یاد دلایا کہ سوویت یونین نے 1988ء میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا تھا اور ماسکو آج بھی اسی پوزیشن پر قائم ہے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ جامع امن کا واحد راستہ دو ریاستی حل اور فلسطینی ریاست کا مکمل قیام ہے، روسی صدر نے بتایا کہ روس نے غزہ میں بحران کے دوران فلسطینی امداد کے سلسلے میں 800 ٹن سے زائد انسانی سامان بھیجا اور 32 امدادی آپریشن انجام دیئے، جن میں گندم اور دیگر اشیائے ضروریہ شامل تھیں۔

  • امریکا میں برفانی طوفان کا اثرکب تک برقرار رہے گا؟

    امریکا میں برفانی طوفان کا اثرکب تک برقرار رہے گا؟

    امریکی محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ برفانی طوفان کا اثر اگلے ہفتے تک برقرار رہے گا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا کی متعدد ریاستوں کو بڑے برفانی طوفان کا سامنا ہے،ٹیکساس ، اوکلاہوما سمیت کئی ریاستوں میں شدید برفباری جاری ہے ،
    امریکا بھر میں 2روز کے دوران 15 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ ہوچکی ہیں،متاثرہ ریاستوں میں ساڑھے 8 لاکھ سے زائد صارفین بجلی سے محروم ہیں، 40 ریاستو ں کے 24 کروڑ سے زائد افراد متاثر ہونے کا خدشہ ہے،برفانی طوفان کے باعث 24 ریاستوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی، واشنگٹن، نیو یارک میں شدید برفباری ، خون جماتی ٹھنڈ کی پیشگوئی کی گئی ہے،متعلقہ حکام نے شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی ہے،جبکہ امریکی محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ برفانی طوفان کا اثر اگلے ہفتے تک برقرار رہے گا۔