Baaghi TV

Tag: امریکا

  • ہم ایران پر اکیلے حملہ کر دیں گے، اسرائیل کا امریکا کو دو ٹوک پیغام

    ہم ایران پر اکیلے حملہ کر دیں گے، اسرائیل کا امریکا کو دو ٹوک پیغام

    اسرائیل نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام اس حد سے تجاوز کرتا ہے جسے وہ ایک حساس سیکیورٹی ریڈ لائن قرار دیتا ہے تو وہ یکطرفہ فوجی کارروائی کے لیے تیار ہے۔

    انڈیا ٹوڈے نے اسرائیلی اخبار دی یروشلم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے اعلیٰ حکام نے اپنے امریکی عہدیداروں کو آگاہ کیا ہے کہ ایران کی بڑھتی ہوئی میزائل صلاحیتیں اسرائیل کے لیے بڑا خطرہ ہیں اور انہیں بغیر کسی نتیجے کے مزید آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اسرائیلی سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے ایران کی میزائل تیاری اور لانچنگ انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے کا اسرائیلی منصوبہ حالیہ ہفتوں میں اعلیٰ سطحی سفارتی اور فوجی رابطوں کے ذریعے امریکا تک پہنچایا گیاحکام نے مبینہ طور پر آپریشنل تصورات بھی پیش کیے، جن میں پروگرام سے منسلک اہم پیداواری اور ذخیرہ کرنے والی تنصیبات پر ہدفی حملے شامل ہیں۔

    ایک ذرائع نے دی یروشلم پوسٹ کے حوالے سے کہا کہ ہم نے امریکیوں کو بتا دیا ہے کہ اگر ایران بیلسٹک میزائلوں کے حوالے سے ہماری مقرر کردہ ریڈ لائن عبور کرتا ہے تو ہم اکیلے حملہ کریں گے اسرائیل کے مطابق ایران ابھی اس حد تک نہیں پہنچا، تاہم وہ مسلسل نگرانی میں ہے۔

    سینیٹ قائمہ کمیٹی، میری ٹائم شعبے میں غیرقانونی زمین الاٹمنٹس کیخلاف کارروائی کی ہدایت

    ایک اور سینئر دفاعی شخصیت نے بتایا کہ اسرائیل تہران کو ایسے اسٹریٹجک ہتھیاروں کے نظام دوبارہ تعمیر کرنے کی اجازت نہیں دے گا جو ملک کی بقا کے لیے خطرہ بن سکتے ہوں، اور اس بات پر زور دیا کہ یروشلم مکمل فوجی آزادیِ عمل محفوظ رکھتا ہے۔

    ایک عہدیدار نے موجودہ صورتحال کو ایران کے میزائل انفراسٹرکچر کو کمزور کرنے اور اسرائیل اور ہمسایہ ریاستوں کے خلاف خطرات کو ناکارہ بنانے کا ایک تاریخی موقع قرار دیا، حالیہ بات چیت کے دوران اس سے منسلک مزید تنصیبات کو نشانہ بنانے کے منصوبے بھی پیش کیے گئے۔

    پاکستان نے بہترین ڈپلومیسی سے کھیل بچا لیا، بھارتی میڈیا کا بڑا اعتراف

    کئی اسرائیلی حکام نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ممکنہ طور پر محدود فوجی ردعمل کو ترجیح دے سکتے ہیں، جیسا کہ یمن میں حوثیوں کے خلاف حالیہ امریکی کارروائیاں تھیں ان کا خدشہ ہے کہ ایسا طریقہ کار ایران کی بنیادی صلاحیتوں کو برقرار رکھے گادفاعی ذرائع کے مطابق جزوی اقدامات اس بڑے اسٹریٹجک خطرے کو ختم کرنے میں ناکام رہیں گے جسے اسرائیل اپنی سلامتی کے لیے مرکزی خطرہ سمجھتا ہے۔

  • امریکی بحری جہازوں کو ایران کے پانیوں سے دور رہنے کی ہدایت

    امریکی بحری جہازوں کو ایران کے پانیوں سے دور رہنے کی ہدایت

    امریکا نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے امریکی پرچم بردار بحری جہازوں کے لیے نئی ہدایات جاری کرتے ہوئے انہیں ایران کے علاقائی پانیوں سے حتیٰ الامکان دور رہنے کا مشورہ دیا ہے.

    امریکی میری ٹائم ایڈمنسٹریشن کی جانب سے پیر کو جاری کردہ ایڈوائزری میں امریکی جہازوں کے کپتانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایرانی فورسز کو امریکی جہازوں پر سوار ہونے کی اجازت نہ دیں اور ایران کے علاقائی پانیوں سے حتیٰ الامکان دور رہیں تاہم اگر ایرانی فورسز کسی امریکی تجارتی جہاز پر سوار ہو جائیں تو عملے کو زبردستی مزاحمت نہ کرنے کا کہا گیا ہے،زبردستی مزاحمت سے گریز کا مطلب سوار ہونے کی اجازت یا رضامندی نہیں سمجھا جائے گا۔

    ایڈوائزری میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی پرچم بردار تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرتے وقت ایران کے علاقائی سمندر سے زیادہ سے زیادہ فاصلے پر رہیں، بشرطیکہ نیویگیشنل سیفٹی متاثر نہ ہو،مشرقی سمت سفر کرنے والے جہازوں کو عمان کے علاقائی پانیوں کے قریب سے گزرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

    یہ سفارشات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان جمعے کو عمان میں بالواسطہ مذاکرات کا ایک دور کئی ہفتوں کی سخت بیانات بازی اور جنگ کے خدشات کے بعد منعقد ہواگزشتہ برس جون میں اسرائیل کی جانب سے ایران پر بمباری کے بعد ایک ایرانی رکنِ پارلیمنٹ نے عندیہ دیا تھا کہ اگر جنگ بڑھی تو آبنائے ہرمز کو بند کرنا ایک آپشن ہو سکتا ہے۔

    امریکی حکومت آبنائے ہرمز کو دنیا کا سب سے اہم تیل کا بحری راستہ قرار دیتی ہے کیونکہ یہ توانائی پیدا کرنے والے خطے کو بحر ہند سے ملاتا ہے، جنوری کے اواخر میں ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز میں بحری مشقیں کیں، جس پر امریکی فوج نے ایران کو ’غیر محفوظ اور غیر پیشہ ورانہ‘ رویے سے خبردار کیا تھا بعد ازاں امریکا نے دعویٰ کیا کہ اس نے علاقے میں اپنے ایک طیارہ بردار جہاز کے قریب آنے والا ایرانی ڈرون مار گرایا۔

    واشنگٹن اس سے قبل بھی ایران پر عائد سخت پابندیوں کے تحت ایرانی تیل بردار جہاز ضبط کر چکا ہے، 2019 میں متحدہ عرب امارات نے خلیجِ عمان میں اپنے علاقائی پانیوں میں 4 جہازوں پر تخریبی حملوں کی اطلاع دی تھی، تاہم حالیہ دنوں میں خلیج کے علاقے میں جہازوں کو براہِ راست کسی نئی دھمکی کی اطلاعات سامنے نہیں آئیں۔

  • صدر ٹرمپ کی چینی صدر سے ٹیلیفونک گفتگو، وائٹ ہاؤس مدعو کر لیا

    صدر ٹرمپ کی چینی صدر سے ٹیلیفونک گفتگو، وائٹ ہاؤس مدعو کر لیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ رواں سال کے آخر میں چینی صدر شی جن پنگ کی وائٹ ہاؤس میں میزبانی کریں گے۔

    ٹرمپ نے یہ بات این بی سی نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی، جو بدھ کے روز ریکارڈ کیا گیا اسی دن ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان تجارت، تائیوان، یوکرین جنگ اور ایران کی صورتحال سمیت متعدد اہم امور پر تفصیلی گفتگو بھی ہوئی،جبکہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں جب دنیا کی 2 بڑی معیشتیں تجارتی جنگ سے متاثرہ تعلقات کو ازسرِنو بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہیں امکان ہے کہ صدر ٹرمپ اپریل میں چین کا دورہ کریں گے، جس کے بعد صدر شی جن پنگ امریکا کا دورہ کریں گے۔

    انٹرویو میں ٹرمپ نے بتایا کہ چینی صدر سال کے آخر میں وائٹ ہاؤس آئیں گے م دنیا کے 2 طاقتور ترین ممالک ہیں اور ہمارے تعلقات بہت اچھے ہیںصدر ٹرمپ نے شی جن پنگ کے ساتھ گفتگو کو ’بہترین‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم دونوں اس بات کی اہمیت کو سمجھتے ہیں کہ تعلقات کو اسی طرح برقرار رکھا جائے۔

    چینی سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابقشی جن پنگ نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ تجارت سمیت دوطرفہ مسائل بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان خوش اسلوبی سے حل ہو سکتے ہیں شی جن پنگ نے کہا کہ مسائل کو ایک ایک کر کے حل کرتے ہوئے اور باہمی اعتماد کو مضبوط بناتے ہوئے، ہم دونوں ممالک کے درمیان درست طرزِ تعلق قائم کر سکتے ہیں۔

    وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد گزشتہ ایک سال کے دوران ٹرمپ نے مختلف شعبوں پرٹیرف عائد کیے، جن میں اسٹیل، گاڑیاں اور دیگر اشیا شامل ہیں، جبکہ وسیع تر معاشی اقدامات بھی کیے گئے اگرچہ امریکا اور چین کے درمیان تجارتی معاملات پر کشیدگی رہی، تاہم گزشتہ موسم بہارمیں بڑے تصادم کے بعد دونوں ممالک ایک وسیع تر مفاہمت پر پہنچے۔

    امریکا کی جانب سے چینی مینوفیکچرنگ پر انحصار کم کرنے کی کوششوں کے باوجود، دونوں ممالک کی معیشتیں اب بھی گہرے طور پر ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں آخری بار 2023 میں امریکا کا دورہ کرنیوالے چینی صدر شی جن پنگ نے بدھ کے روز ٹرمپ کو خودمختار تائیوان کو اسلحہ فروخت کرنے کے معاملے پر ’احتیاط‘ برتنے کا مشورہ دیا، جسے چین اپنی سرزمین کا حصہ قرار دیتا ہے۔

    ادھر جمعے کے روز امریکا نے روس اور چین کے ساتھ سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے جوہری ہتھیاروں پر نئی پابندیاں عائد کرنے کی تجویز دی، تاہم بیجنگ نے فی الحال ان مذاکرات میں شامل ہونے سے انکار کردیا ہے۔

  • پاکستان میں موجود امریکا منتقلی کے منتظر افغان شہریوں سے متعلق اہم پیشرفت

    پاکستان میں موجود امریکا منتقلی کے منتظر افغان شہریوں سے متعلق اہم پیشرفت

    پاکستان میں موجود امریکا منتقلی کے منتظر افغان شہریوں کو واپس افغانستان بھیجنے کا فیصلہ کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

    ذرائع کے مطابق ہزاروں افغان شہری کئی برس سے امریکا میں آبادکاری کے منتظر ہیں، تاہم طویل تاخیر کے باعث اب ان کی واپسی کا عمل شروع کیے جانے کا امکان ہے پاکستان میں موجود تقریباً 19 ہزار سے زائد افغان شہری امریکا منتقلی کے انتظار میں ہیں، تاہم افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد کئی سال گزرنے کے باوجود امریکا کی جانب سے ان کی مکمل آبادکاری ممکن نہیں ہو سکی۔ اس صورتحال کے باعث پاکستان نے افغان شہریوں کو واپس ان کے ملک بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق وفاقی وزارت داخلہ نے افغان شہریوں کی واپسی کے حوالے سے صوبوں کو آگاہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس سلسلے میں تمام صوبائی چیف سیکریٹریز، پولیس سربراہان، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور اسلام آباد انتظامیہ کو باقاعدہ خطوط ارسال کیے جانے کا امکان ہے۔

    یاد رہے کہ پاکستان پہلے بھی غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں خصوصاً افغان شہریوں کی واپسی کا عمل شروع کر چکا ہے، اور ماضی میں بڑی تعداد میں افغان شہریوں کو ملک چھوڑنے کی ہدایات دی گئی تھیں پاکستان نے اس سے قبل مغربی ممالک، خصوصاً امریکا، پر زور دیا تھا کہ وہ ان افغان شہریوں کی بروقت آبادکاری یقینی بنائیں، بصورت دیگر انہیں واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔

    واضح رہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت آنے کے بعد بڑی تعداد میں افغان شہری پاکستان منتقل ہوئے تھے، جن میں وہ افراد بھی شامل تھے جنہیں غیر ملکی حکومتوں کے ساتھ کام کرنے کے باعث خطرات لاحق تھے اب کئی سال گزرنے کے باوجود ان کے کیسز مکمل نہ ہونے سے صورتحال پیچیدہ ہو گئی ہے۔

  • امریکا کا چین پر خفیہ ایٹمی دھماکوں کا الزام، بیجنگ کا  سخت ردعمل

    امریکا کا چین پر خفیہ ایٹمی دھماکوں کا الزام، بیجنگ کا سخت ردعمل

    امریکا نے چین پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے جون 2020 میں خفیہ طور پر ایٹمی تجربہ کیا، جو لداخ کی گلوان وادی میں بھارت اور چین کے درمیان جھڑپوں کے چند دن بعد کیا گیا، جس پر چین نے سخت ردعمل دیا ہے۔

    امریکی انڈر سیکریٹری آف اسٹیٹ فار آرمز کنٹرول تھامس ڈی نانو نے سوئٹرزلینڈ کے شہر جنیوا میں اقوامِ متحدہ کی تخفیفِ اسلحہ کانفرنس کے دوران الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حکومت کو علم ہے کہ چین نے جوہری دھماکوں پر مشتمل تجربات کیے، جن میں سینکڑوں ٹن طاقت کے تجربات کی تیاری بھی شامل تھی۔

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ چین نے ایٹمی تجربات پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی کیونکہ اسے معلوم تھا کہ یہ ایٹمی تجربات پر پابندی سے متعلق وعدوں کی خلاف ورزی ہے اس مقصد کے لیے ’ڈیکپلنگ‘ نامی طریقہ استعمال کیا تاکہ دھماکوں کی لہروں کو محسوس نہ کیا جا سکےچین نے ایسا ہی ایک جوہری تجربہ 22 جون 2020 کو بھی کیا تھا۔

    امریکی عہدیدار نے کانفرنس کے بعد سوشل میڈیا پر بھی مؤقف دہرایا اور کہا کہ ’نیو اسٹارٹ‘ معاہدے کے خاتمے کے بعد موجودہ جوہری کنٹرول نظام اب مؤثر نہیں رہا ان کے مطابق 2026 میں ایک جوہری طاقت اپنی صلاحیتیں غیر معمولی رفتار سے بڑھا رہی ہے جبکہ دوسری طاقت ایسے جوہری نظام تیار کر رہی ہے جو کسی معاہدے کے دائرہ کار میں نہیں آتے۔

    واضح رہے کہ نیو اسٹارٹ معاہدہ 2010 میں امریکا اور روس کے درمیان طے پایا تھا، جو فروری 2026 کے اوائل میں ختم ہو گیا اس معاہدے کے خاتمے کو عالمی جوہری اسلحہ کنٹرول کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے اس سے قبل روس 2023 میں جامع جوہری تجرباتی پابندی معاہدے (سی ٹی بی ٹی) کی توثیق بھی واپس لے چکا ہے۔

    رائٹرز کے مطابق چین کے سفیر برائے تخفیفِ اسلحہ شین جیان نے امریکی الزامات کا براہِ راست جواب نہیں دیا، تاہم انہوں نے کہا ہے کہ چین نے ہمیشہ جوہری امور میں ذمہ دارانہ اور محتاط رویہ اختیار کیا ہے امریکا نام نہاد ’چینی جوہری خطرے‘ کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے اور اسلحہ کی دوڑ میں اضافے کا اصل ذمہ دار امریکا خود ہے۔

    شین جیان نے کہا کہ چین اس مرحلے پر امریکا اور روس کے ساتھ نئے جوہری مذاکرات میں شامل نہیں ہوگا چین کا مؤقف ہے کہ اس کے جوہری وارہیڈز کی تعداد امریکا اور روس کے مقابلے میں کہیں کم ہے چین کے پاس تقریباً 600 جبکہ واشنگٹن اور ماسکو کے پاس تقریباً چار، چار ہزار جوہری وارہیڈز موجود ہیں امریکا کو سرد جنگ کی سوچ ترک کر کے مشترکہ اور تعاون پر مبنی سلامتی کے تصور کو اپنانا چاہیے۔

  • امریکا کا پاکستان سے متعلق نیا سیکیورٹی الرٹ جاری

    امریکا کا پاکستان سے متعلق نیا سیکیورٹی الرٹ جاری

    امریکی محکمہ خارجہ نے پاکستان سے متعلق نیا سیکیورٹی الرٹ جاری کر دیا۔

    اسلام آباد ترلائی کلاں میں خود کش دھماکے کے بعد امریکا نے پاکستان سے متعلق نیا سکیورٹی الرٹ جاری کر دیا ہےامریکی محکمہ خارجہ نے سیکیورٹی ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے پاکستان میں سفر کرنے والے امریکی شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔

    امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکی شہری عوامی اجتماعات میں جانے سے گریز کریں اور اپنی ذاتی سیکیورٹی منصوبہ بندی کے بارے میں نئے سرے سے جائزہ لیں،سیکیورٹی ایڈوائزی میں کہا گیا کہ امریکی شہری مقامی میڈیا پر صورت حال سے متعلق تازہ معلومات سے آگاہ رہیں۔

  • امریکا میں گرفتار خطرناک مجرموں کی فہرست جاری، بھارتی شہری بھی شامل

    امریکا میں گرفتار خطرناک مجرموں کی فہرست جاری، بھارتی شہری بھی شامل

    امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی جانب سے جاری کی گئی خطرناک مجرموں کی تازہ فہرست جاری کی گئی ہے جس میں 89 بھارتی شہری بھی شامل ہیں۔

    اس ڈیٹا بیس میں قریباً 25 ہزار ایسے جرم کرنے والے غیر قانونی شہری شامل ہیں، جن میں قتل، جنسی جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے مقدمات میں ملو ث افراد شامل ہیں، جنہیں امریکی امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ اور امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن نے گرفتار کرکے سزا دی۔

    امریکی محکمہ ہوم لینڈ کی جانب سے جاری کردہ عوامی ڈیٹا بیس میں مجرموں کے نام، تصاویر، جرائم اور قومیت کی تفصیلات شامل ہیں،ویب سائٹ (WOW.DHS.GOV) اس لیے متعارف کرائی گئی تاکہ امریکی عوام یہ دیکھ سکیں کہ وہ کون سے غیر قانونی شہری گرفتار کررہے ہیں، ان کے جرائم کیا ہیں۔

    محکمے نے مزید کہاکہ یہ ڈیٹا بیس 25 ہزار افراد کی معلومات فراہم کرتا ہے اور یہ صرف ایک جھلک ہے ان جرائم پیشہ غیر قانونی شہریوں کی، جنہیں گرفتار کیا گیا۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے کمیونٹیز میں دہشت پھیلائی،’امریکی عوام کو ایسے افراد کا شکار نہیں ہونا چاہیے جو قانونی طور پر بھی ہمارے ملک میں رہنے کے اہل نہیں ہیں۔

    یہ تمام افراد ایسے ہیں جنہیں امریکا میں گرفتار کیا جا چکا ہے اور جن پر جرائم کا الزام ثابت ہو چکا ہے ویب سائٹ میں سرچ فلٹر کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے، جس کے ذریعے صارفین نام، ملک یا ریاست کے لحاظ سے معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔

  • میزائل پروگرام پر کسی صورت مذاکرات نہیں کریں گے، ایرانی وزیرِ خارجہ

    میزائل پروگرام پر کسی صورت مذاکرات نہیں کریں گے، ایرانی وزیرِ خارجہ

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ ایران اپنے میزائل پروگرام سے دستبرداری کی کسی کوشش کو قبول نہیں کرے گا۔

    عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے زیرِ اہتمام دوحہ میں غزہ کے معاملے پر منعقدہ فورم میں کئی ممالک کے سیاسی رہنماؤں اور نمائندوں نے شرکت کی، ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی حال ہی میں عمان میں امریکا کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کے بعد فورم میں شریک ہوئے۔ اس موقع پر

    ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا کے ساتھ حالیہ مذاکرات ایک اچھا آغاز ضرور ہیں تاہم اعتماد سازی کے لیے ابھی طویل سفر باقی ہےحالیہ بات چیت بالواسطہ تھی اور اس میں میزائل یا دیگر دفاعی معاملات شامل زیرِ غور نہیں آئے یورینیم افزودگی پر پابندی ایران کے لیے کسی صورت قابلِ قبو ل نہیں، یورینیم کی افزودگی ایران کا حق ہے اور یہ عمل جاری رہے گا، امریکا بمباری کے ذریعے بھی ایران کی اس صلاحیت کو ختم نہیں کرسکا ہے۔

    عباس عراقچی نے اس بات پر زور دیا کہ ایران یورینیم افزودگی کے معاملے پر ایک قابلِ اعتماد اور پائیدار معاہدے تک پہنچنے کے لیے تیار ہے جوہری معا ملہ صرف مذاکرات کے ذریعے ہی حل ہو سکتا ہے تاہم میزائل پروگرام پر بات کرتے ہوئے انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ یہ قومی دفاع کا معاملہ ہے اس پر کسی قسم کی بات چیت نہیں ہو سکتی۔

    امریکی حملے کے ممکنہ ردعمل سے متعلق سوال پر عباس عراقچی نے ایک بار پھر واضح کیا کہ اگر ایران پر حملہ ہوا تو خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران امریکی اڈوں اور ہمسایہ ریاستوں میں فرق کرتا ہے اور پڑوسی ممالک کو نشانہ نہیں بنائے گا جنگ کا امکان ہمیشہ موجود رہتا ہے اور ایران ہر صورتحال کے لیے تیار ہے۔

    واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا نیا دور جمعے کی صبح عمان کی ثالثی میں اس کے دارالحکومت مسقط میں شروع ہوا تھا یہ بات چیت چند گھنٹے جاری رہی، اس دوران دونوں فریقین نے اپنے مؤقف عمان کے وزیرِ خارجہ کےذریعے ایک دوسرے تک پہنچائے دونوں ملکوں کے وفود نے مشا ورت کے لیے ایک دن کا وقفہ لیا ہے عمانی وزارتِ خارجہ کے مطابق دوسرے دور میں بھی عمان کے وزیرِ خارجہ بدر البوسعیدی ثالث کا کردار ادا کریں گے تاکہ ایران کے جوہری پروگرام اور منجمد اثاثوں کی واپسی جیسے پیچیدہ معاملات پر بات چیت کو آگے بڑھایا جا سکے۔

  • ٹرمپ کی اوباما جوڑے سے متعلق تضحیک آمیز ویڈیو شیئر، امریکا میں شدید ردِعمل

    ٹرمپ کی اوباما جوڑے سے متعلق تضحیک آمیز ویڈیو شیئر، امریکا میں شدید ردِعمل

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سابق صدر بارک اوباما اور سابق خاتونِ اول مشعل اوباما سے متعلق ایک تضحیک آمیز ویڈیو شیئر کیے جانے پر امریکا میں شدید ردِعمل سامنے آ گیا ہے۔

    ویڈیو کو نسل پرستانہ قرار دیتے ہوئے مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں نے اس کی سخت مذمت کی ہے، ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کی شب اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر یہ مختصر ویڈیو شیئرکی، جس میں بارک اوباما اورمشعل اوباما کو جنگل میں بندروں کے روپ میں دکھایا گیا ہےویڈیو کے اختتام پر اوباما جوڑے کی اصل تصاویر کو بندروں کے جسموں پر فِٹ کیا گیا، جسے سیاہ فام افراد کے خلاف توہین آمیز اور نسل پرستانہ تصور قرار دیا جا رہا ہے۔

    ویڈیو میں 2020 کے صدارتی انتخابات سے متعلق بے بنیاد الزامات بھی شامل ہیں، جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ووٹنگ مشینوں کے ذریعے انتخابی نتائج چرائے گئے پس منظر میں چند لمحوں کے لیے گانا ’’دی لائن سلیپس ٹونائٹ‘‘ بھی سنائی دیتا ہے۔

    ری پبلکن سینیٹر ٹِم اسکاٹ، جو امریکی سینیٹ میں واحد سیاہ فام ری پبلکن ہیں نے ویڈیو کو کھلے الفاظ میں نسل پرستانہ قرار دیتے ہوئے صدرٹرمپ سے فوری طور پر پوسٹ ہٹانے کا مطالبہ کیا انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ وائٹ ہاؤس سے اس سے زیادہ توہین آمیز مواد انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔

    دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے اس تنقید کو ’’جعلی غصہ‘‘ قرار دیتے ہوئے صدر کے اقدام کا دفاع کیا ہے،لیکن ویڈیو کے وائرل ہونے کے 12 گھنٹے بعد اسے حذف کر دیا۔

    جمعہ کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا: ’’میں نے کوئی غلطی نہیں کی‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس نے عملے کے کسی رکن کی طرف سے پوسٹ کرنے سے پہلے ویڈیو کا آغاز ہی دیکھا تھا اور مجھے نہیں معلوم تھا کہ اس میں اوباما کی تصویر کشی ہے۔

    متعدد ریپبلکن سینیٹرز کی جانب سے شدید تنقید کے بعد ٹرمپ کے ٹروتھ سوشل اکاؤنٹ سے پوسٹ ہٹا دی گئی۔

    جیسے ہی تنقید بڑھ رہی تھی، وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے کہا کہ پوسٹ کو ہٹا دیا گیا ہے۔ اوباما کے کلپ کو ایک منٹ طویل ویڈیو کے آخر میں شامل کیا گیا تھا جس میں 2020 کے صدارتی انتخابات کے دوران مشی گن میں ووٹنگ کی سازش کے دعوے شامل تھے۔

    ٹرمپ کی اوبامہ پر تنقید کرنے کی ایک تاریخ ہے جو صدر کے طور پر ان کی پہلی مدت سے پہلے کی ہے۔ اس نے باقاعدگی سے یہ جھوٹ پھیلایا کہ ہوائی میں پیدا ہونے والا اوباما دراصل کینیا میں پیدا ہوا تھا اور اس لیے وہ صدر بننے کے لیے نااہل تھا۔

    این اے اے سی پی کے قومی صدر ڈیرک جانسن نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ویڈیو "صاف نسل پرست، نفرت انگیز اور سراسر حقیر ہے۔”

  • تائیوان کو اسلحے کی فروخت: امریکی صدر  کا چین کا متوقع دورہ خطرے میں پڑ سکتا ہے

    تائیوان کو اسلحے کی فروخت: امریکی صدر کا چین کا متوقع دورہ خطرے میں پڑ سکتا ہے

    چین نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ تائیوان کو اسلحے کی فروخت سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا چین کا متوقع دورہ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق امریکا نے ممکنہ طور پر تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کا اسلحہ تائیوان کو بیچنے کا منصوبہ بنایا ہے جس میں اہم دفاعی نظام شامل ہیں۔

    چین نے سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ فروخت بیجنگ،واشنگٹن تعلقات میں سنجیدہ رکاوٹ بن سکتی ہے، خاص طور پر صدر ٹرمپ کے اپریل میں بیجنگ جانے والے دورے کے تناظر میں،تائیوان کے حوالے سے امریکا کو “احتیاط سے کام لینے” کی ضرورت ہے ورنہ دوطرفہ تعلقات میں مشکلات پیدا ہوں گی۔

    صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر ٹرمپ کو فون پر خبردار کیا ہے کہ اسلحے کی فروخت جیسے اقدامات تعلقات پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں،چین تائیوان کو اپنا حصہ سمجھتا ہے اور کسی بھی غیر ملکی اسلحے کی فروخت کو اس کی خودمختاری پر برا اثر اور امن کیلئے خطرہ تصور کرتا ہے۔