Baaghi TV

Tag: امریکا

  • امریکا میں  ٹک ٹاک بند،ایپل اور گوگل ایپ اسٹورز سے ہٹا دیا گیا

    امریکا میں ٹک ٹاک بند،ایپل اور گوگل ایپ اسٹورز سے ہٹا دیا گیا

    امریکا میں ویڈیو شئیرنگ ایپلیکیشن ٹک ٹاک پر باضابطہ طور پر پابندی لگا دی گئی۔

    باغی ٹی وی: روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق ٹک ٹاک ایپ نے ہفتے کی رات سے ہی امریکا میں کام کرنا بند کر دیا تھا اور اسے ایپل اور گوگل ایپ اسٹورز سے ہٹا دیا گیا پابندی سے گھنٹوں قبل ہی ٹک ٹاک آف لائن ہو گیا 170 ملین سے زائد امریکی ٹک ٹاک استعمال کرتےہیں ٹک ٹاک ایک معروف چینی سوشل میڈیا اپیلیکیشن ہے جو اب ایپل اور گوگل ایپ سٹورز پر ڈاؤن لوڈ کے لیے میسر نہیں۔

    روئٹرز کے مطابق ایپلیکیشن کے کام بند کرنے کے بعد ٹک ٹاک صارفین نے دوسرے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا رخ کیا جہاں انہیں معلوم ہوا کہ ٹک ٹاک بند ہوگیا ہے صارفین کے ٹک ٹاک اکاؤنٹس ان کے موبائل فون سے خود ہی لاگ آؤٹ ہوگئے۔

    جنوبی کوریا: معطل صدر کی حراست میں توسیع ، حامیوں نے عدالت پر دھاوا بول دیا

    رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکا میں ٹک ٹاک صارفین کو ایک پیغام ملا جس میں کہا گیا ہے کہ ایک نئے قانون کی وجہ سے ایپ پر پابندی لگا دی گئی ہے پیغام میں وضاحت کی گئی کہ پابندی کا مطلب ہے کہ صارفین چند دنوں تک رسائی حاصل نہیں کر سکتے تاہم نومنتخب صدر ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ وہ ٹک ٹاک انتظامیہ کے ساتھ مل کر کوئی حل تلاش کریں گے۔

    ٹک ٹاک کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ اگر صدر بائیڈن نے پابندی کے معاملے پر فوری مداخلت نہیں کی تو اتوار سے 17 کروڑ امریکی صارفین کے لیے ایپ سروس بند کرنے پر مجبور ہوں گے۔

    پہلا مرحلہ عارضی،دوسرا مرحلہ بے نتیجہ رہا تو جنگ کا دوبارہ آغاز کریں گے،نیتن یاہو

    خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے حکام کے حوالے سے بتایا تھا کہ صدر جو بائیڈن کی جانب سے ٹک ٹاک پر پابندی کے قانون کا نفاذ نہیں کیا جائے گا ٹک ٹاک کے مستقبل کا فیصلہ 20 جنوری کو صدارت کا عہدہ سنبھالنے والے ڈونلڈ ٹرمپ پر چھوڑ دیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ امریکی ایوان نمائندگان کانگریس سے منظور کیے گئے قانون پر صدر جو بائیڈن نے اپریل 2024 میں دستخط کیے تھے،دو روز قبل امریکی سپریم کورٹ نے امریکا میں ٹک ٹاک پر پابندی کے قانون کو برقرار رکھنے کا فیصلہ سنایا تھااس قانون کے تحت ٹک ٹاک کی سرپرست کمپنی بائیٹ ڈانس کو کہا گیا کہ وہ 19 جنوری تک امریکا میں اپنی سوشل میڈیا ایپ کو فروخت کر دے یا پابندی کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہو جائے۔

    غزہ میں جنگ بندی معاہدہ :قابض فوج رفح سٹی سے نکلنا شروع

    ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی ٹک ٹاک کو ‘بچانے’ کی خواہش ظاہر کر چکے ہیں اور رپورٹس کے مطابق وہ اس قانون پر عملدرآمد 90 دن تک ملتوی کرنے کے لیے ایگزیکٹو آرڈر جاری کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

    دوسری جانب ٹک ٹاک کی بندش کے بعد کئی امریکی ٹک ٹاک صارفین کی جانب سے غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہےایک صارف کا کہنا ہے کہ میں نے واقعی میں نہیں سوچا تھا کہ ٹک ٹاک بند ہوجائے گا اب میں اداس ہوں اور مجھے ان دوستوں کی یاد آئے گی جو میں نے وہاں بنائے تھے امید ہے کہ یہ ایپ جلد ہی بحال ہوجائے گی۔

    غزہ معاہدہ : 6ہفتوں کی جنگ بندی پر عمل درآمد 3 مراحل میں کیا جائے گا،قطری وزیر اعظم

  • ٹرمپ کی دھمکیاں،کینیڈا کا امریکہ سے درآمد کی جانے والی اشیا پر کسٹم ڈیوٹی بڑھانے پر غور

    ٹرمپ کی دھمکیاں،کینیڈا کا امریکہ سے درآمد کی جانے والی اشیا پر کسٹم ڈیوٹی بڑھانے پر غور

    کینیڈا نےتجارتی جنگ شروع کرنے پر امریکیوں پر ’ٹرمپ ٹیکس‘ لگانے کی دھمکی دیدی ۔

    باغی ٹی وی: ڈونلڈ ٹرمپ جلد دوسری بار صدارتی عہدہ سنبھالنے والے ہیں اور انہوں نے کینیڈا سے درآمد کی جانے والی اشیاء پر 25 فیصد ٹیرف لگانے کے منصوبے کا اعلان کر رکھا ہےیہ اقدام ان کی وسیع تر اقتصادی اور خارجہ پالیسی کی حکمت عملی کا حصہ ہے، جو میکسیکو، چین اور دیگر تجارتی شراکت داروں کو بھی نشانہ بنائے گی۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق کینیڈا کے وزیر خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ کینیڈین مصنوعات پر کسٹم ڈیوٹی بڑھاتے ہیں تو امریکی عوام زیادہ ٹیکس کے ذریعے قیمت ادا کریں گے،”ٹرمپ ٹیرف ٹیکس“ امریکیوں کو نقصان پہنچائے گا جس کے لیے کینیڈا تجارتی جنگ شروع ہونے کی صورت میں سخت کارروائی کرنے کا عزم کر رہا ہے۔

    عمران خان کو سزا سے پاکستان سےٹرمپ انتظامیہ کا تصادم کا امکان بڑھ گیا، برطانوی اخبار

    کینیڈا کی وزیر خارجہ میلانیا جولی کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ ٹیکس عائد کرتا ہے تو وہ دونوں ممالک کے درمیان دہائیوں میں سب سے بڑی تجارتی جنگ شروع کردے گا انہوں نے امریکا کو خبر دار کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا زیادہ سے زیادہ دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے، اور ان کے پاس کینیڈا کے صارفین اور ملازمتوں کے تحفظ کے لیے ایک منصوبہ موجود ہے۔

    کرپٹو کرنسی سے متعلق پوسٹ،ٹرمپ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا شبہ

    کینیڈین حکومت کے ذرائع نے غیرملکی خبر ایجنسی کو بتایا کہ کینیڈا امریکہ سے درآمد کی جانے والی اشیا پر کسٹم ڈیوٹی بڑھانے پر غور کررہا ہے ان سامان میں اسٹیل کی مصنوعات، سیرامکس، سنک، شیشے کے برتن، اور یہاں تک کہ اوورنج جوس بھی شامل ہے یہ اس منصوبے کا پہلا مرحلہ ہوگا جس سے امریکی اشیا پر مزید محصولات، یا ٹیکس عائد کیا جا سکتا ہے۔

    سیف علی خان چاقو حملہ کیس،مشتبہ شخص چھتیس گڑھ میں گرفتار

    واضح رہے کہ نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ان کی مجوزہ پالیسی پر عملدرآمد کے نتیجے میں کینیڈا کے صارفین اور اُن کی ملازمتوں پر بہت بڑا اثر پڑے گا۔

  • ٹک ٹاک کی ممکنہ بندش،صارفین پر کیا اثرات مرتب ہوں گے

    ٹک ٹاک کی ممکنہ بندش،صارفین پر کیا اثرات مرتب ہوں گے

    ٹک ٹاک نے اعلان کیا ہے کہ وہ اتوار کو "ڈارک” ہو سکتا ہے، کیونکہ سپریم کورٹ نے اس کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے جس کے ذریعے اس نے ایک ممکنہ پابندی سے بچنے کی کوشش کی تھی جو ایپ کو امریکہ میں بند کر سکتی ہے۔

    یہ پابندی 2024 کے اس قانون کا نتیجہ ہے جو قومی سلامتی کے خدشات کی بنیاد پر منظور کیا گیا، جس کے تحت ٹک ٹاک کی پیرنٹ کمپنی بائٹ ڈانس کو مشہور شارٹ ویڈیو ایپ کو بیچنے یا 19 جنوری کو امریکہ میں بند کر دینے کا کہا گیا تھا۔ اسی دوران، ڈونلڈ ٹرمپ، جو پیر کو اپنے عہدے کا حلف اٹھا رہے ہیں، نے کہا ہے کہ وہ اس مسئلے کا "سیاسی حل” تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔ ٹرمپ نے اس بارے میں چینی رہنما شی جن پنگ سے بات کی ہے۔

    ٹک ٹاک کے اندازاً 170 ملین امریکی صارفین ابھی بھی ایپ استعمال کر سکیں گے کیونکہ یہ پہلے ہی ان کے فونز میں ڈاؤن لوڈ ہو چکی ہے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ، سافٹ ویئر اور سیکیورٹی اپڈیٹس نہ ملنے کی وجہ سے ایپ کا استعمال مشکل ہو جائے گا۔ماہرین کے مطابق، ایپ کا ایک ویب ورژن دستیاب ہو سکتا ہے جس میں ایپ کے مقابلے میں کم خصوصیات ہوں گی، اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ کام نہ کرے۔ بعض صارفین وی پی این (ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک) کا استعمال کرکے ٹک ٹاک تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں تاکہ وہ اپنی لوکیشن اور انٹرنیٹ پروٹوکول ایڈریس کو چھپاسکیں۔

    ٹک ٹاک پر اپنا کاروبار بنانے والے ،مواد تخلیق کرنے والے اس ایپ کی ممکنہ بندش کے لئے تیاری کر رہے ہیں اور اپنے پیروکاروں کو متبادل ایپس جیسے انسٹاگرام اور یوٹیوب کی طرف متوجہ کر رہے ہیں۔

    ٹفنی سیانسی، جو ایک مواد تخلیق کرنے والی شخصیت ہیں، نے اس بات کا اظہار کیا کہ اس تجویز کردہ پابندی سے "ہمارے منتخب نمائندوں نے امریکی عوام کو ناکام کر دیا ہے کیونکہ انہوں نے ٹک ٹاک کے اصل اثرات کو نہیں سمجھا”۔ انہوں نے کہا کہ "یہ ایک ایسا ماحولیاتی نظام ہے جس نے امریکی معیشت کا ایک بڑا حصہ تخلیق کیا ہے”۔اسی طرح، مواد تخلیق کرنے والی شخصیت جینیٹ اوک نے کہا کہ اس پلیٹ فارم نے انہیں برانڈ ڈیلز حاصل کرنے اور اپنی موسیقی کو فروغ دینے میں مدد دی، جس سے "ایسی مواقع ملیں جو میں نے کبھی اپنی زندگی میں نہیں سوچا تھا”۔

    مشتہرین اس پابندی کے اثرات سے بچنے کے لئے ہنگامی منصوبے تیار کر رہے ہیں کیونکہ یہ ان کے اشتہاری مہمات کو متاثر کرے گا۔ ٹک ٹاک نے مشتہرین کو نئے فیچرز کی پیشکش کی ہے، جیسے ایک نیا ٹول جس کی مدد سے اشتہارات کو بڑے پیمانے پر تخلیق، ترمیم اور شامل کرنا آسان ہوگا۔اگر پابندی عائد ہو جاتی ہے تو امریکہ میں سالانہ 11 ارب ڈالر سے زائد کی اشتہاری سرمایہ کاری پر سوالیہ نشان آ جائے گا۔

    اس پابندی سے امریکہ اور چین کے درمیان پہلے سے موجود تجارتی کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، خاص طور پر چینی حکومت پر امریکی سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی کی برآمدات پر پابندی کے بعد۔ٹرمپ اس مسئلے کے حل کے لئے ایگزیکٹو آرڈر استعمال کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق، وہ چین سے کچھ اہم چیزیں حاصل کرنے کے لئے اپنی پوزیشن تبدیل کر سکتے ہیں۔

    اگرچہ امریکہ میں پابندی کا براہ راست اثر برطانیہ کے صارفین پر نہیں پڑے گا کیونکہ وہاں ٹیکنالوجی کی نگرانی برطانوی قوانین کے تحت کی جاتی ہے، تاہم برطانیہ کے ٹک ٹاک صارفین نے اس پابندی کے اثرات سے متعلق اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ایڈن ہیلننگ، جو ٹک ٹاک پر @etherealgames کے نام سے کام کرتے ہیں، نے کہا کہ انہیں اپنے کاروبار کے حوالے سے تشویش ہے کیونکہ پابندی کی صورت میں انہیں ایپ کو چھوڑنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا، "بہت سے تخلیق کار اس ایپ پر اپنی روزی روٹی کماتے ہیں، اور یہ ایپ ان کے ہاتھوں سے نکل سکتی ہے۔”یہ پابندی نہ صرف ٹک ٹاک کے صارفین بلکہ مواد تخلیق کرنے والوں اور مشتہرین کے لئے بھی ایک سنگین مسئلہ بن سکتی ہے، اور اس کے اثرات دنیا بھر میں محسوس کئے جا سکتے ہیں۔

    امریکا میں چین کی معروف سوشل میڈیا ایپ ٹک ٹاک پر 19 جنوری 2025 سے پابندی کا نفاذ ہونے والا ہے، کیونکہ کمپنی نے اس ایپ کے امریکی آپریشنز کو فروخت کرنے کا عمل ابھی تک مکمل نہیں کیا۔صدر جو بائیڈن نے اس حوالے سے اپنا فیصلہ کر لیا ہے کہ کیا ٹک ٹاک پر پابندی عائد کرنے والے قانون کو نافذ کیا جائے یا نہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، حکام نے بتایا کہ صدر بائیڈن کی جانب سے اس پابندی کے نفاذ کا فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔حکام کا کہنا ہے کہ ٹک ٹاک کے مستقبل کا حتمی فیصلہ اب 20 جنوری کو صدر منتخب ہونے والے ڈونلڈ ٹرمپ پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

    امریکی ایوانِ نمائندگان نے اپریل 2024 میں اس قانون کی منظوری دی تھی، جس کے تحت ٹک ٹاک کی سرپرست کمپنی بائیٹ ڈانس کو 19 جنوری تک اپنی سوشل میڈیا ایپ کو امریکا میں فروخت کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اگر بائیٹ ڈانس اس ایپ کو فروخت نہیں کرتا تو اسے پابندی کا سامنا کرنا پڑے گا۔نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی یہ خواہش ظاہر کر چکے ہیں کہ وہ ٹک ٹاک کو "بچانے” کے لیے اقدامات کریں گے۔ اطلاعات کے مطابق، وہ اس قانون پر عملدرآمد کو 90 دن تک موخر کرنے کے لیے ایگزیکٹو آرڈر جاری کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ مائیک والٹز، جو کہ ٹرمپ کے نامزد قومی سلامتی کے مشیر ہیں، نے 16 جنوری کو ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ "ہم ٹک ٹاک کو بند ہونے سے بچانے کے لیے اقدامات کریں گے”۔

    ٹک ٹاک کے چیف ایگزیکٹو، شاؤ زی چیو نے دسمبر 2024 میں فلوریڈا میں ڈونلڈ ٹرمپ کی رہائش گاہ کا دورہ کیا تھا تاکہ وہ اس ایپ پر پابندی کے خلاف ان کی حمایت حاصل کر سکیں۔ شاؤ زی چیو اب ٹرمپ کی صدارتی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔

    عمران طالبان کا حامی،اسامہ کو شہید کہا،امریکہ میں ٹرکوں پر مہم

    کرم میں شر پسند عناصر امن معاہدے کی ناکامی کیوں چاہتے

    "میں سیف علی خان ہوں”، جب آٹو ڈرائیور کو پتا چلا کہ اس کا زخمی مسافرسیف تھا

  • امریکا میں ٹک ٹاک بند ہونے کا امکان

    امریکا میں ٹک ٹاک بند ہونے کا امکان

    شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک کی جانب سے ریلیف نہ ملنے کی صورت میں 19 جنوری کو ایپ کو امریکا میں بند کرنے کی تیاریاں شروع کردی گئیں۔

    خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی حکومت یا عدالت کی جانب سے ریلیف نہ ملنے کی صورت میں ٹک ٹاک 19 جنوری کے اختتام کو اپنی ایپ امریکا میں بند کردے گا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ اگر ٹک ٹاک کو ریلیف نہ ملا تو 19 جنوری سے امریکا میں ایپلی کیشن کو غیر فعال کردیا جائے گا، اس صورت میں صارفین ایپ کو ڈاؤن لوڈ نہیں کر سکیں گے۔علاوہ ازیں جن افراد کے پاس موبائل میں ٹک ٹاک کی ایپلی کیشن ہوگی، وہ اس پر مواد کو اپلوڈ کرنے سے محروم ہوجائیں گے جب کہ وہ ٹک ٹاک کے مواد کو ری شیئر بھی نہیں کر سکیں گے۔

    خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکا میں جن صارفین کے پاس ٹک ٹاک ایپلی کیشن موجود ہوگی، وہ ایپ پر مواد کو دیکھ سکیں گے لیکن ان کے پاس بھی ایپ دوسرے فیچرز سے غیر فعال ہوجائے گا۔ٹک ٹاک کی مالک کمپنی بائیٹ ڈانس نے واضح طور پر ایپلی کیشن کو 19 جنوری کو بند کرنے کا اعلان نہیں کیا، تاہم متعدد امریکی نشریاتی اداروں نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے پہلے ہی یہ رپورٹ دی تھی کہ ریلیف نہ ملنے کی صورت میں ٹک ٹاک ایپ کو بند کردے گا۔

    دوسری جانب رائٹرز نے اپنی رپورٹ میں واشنگٹن پوسٹ کی خبر کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ایپلی کیشن کی بندش کے ایک دن بعد عہدے کا حلف لینے والے ڈونلڈ ٹرمپ ممکنہ طور پر حلف اٹھاتے ہی ٹک ٹاک کی پابندی میں 60 سے 90 دن کے اضافے کا اعلان کریں گے۔ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی یہ عندیہ دے چکے ہیں کہ وہ ٹک ٹاک پر پابندی کے حق میں نہیں اور انہوں نے عدالت میں درخواست بھی دائر کر رکھی ہے کہ ایپ کی بندش کی تاریخ میں اضافہ کیا جائے،ان کی حکومت معاملے کا سیاسی حل تلاش کرے گی۔

  • ایران سے نمٹنے کیلئے ٹرمپ حکومت کا ابتدائی 100 دن کا منصوبہ پیش

    ایران سے نمٹنے کیلئے ٹرمپ حکومت کا ابتدائی 100 دن کا منصوبہ پیش

    نیو یارک: یونائیٹڈ اگینسٹ نیوکلیئر ایران (یو اے این آئی) کی جانب سے ٹرمپ حکومت کی نئی مدت کے پہلے 100 دنوں کے دوران ایران کے بارے میں امریکی پالیسی کو از سر نو تشکیل دینے کی سفارشات شامل ہیں۔

    باغی ٹی وی: یونائیٹڈ اگینسٹ نیوکلیئر ایران (UANI) امریکا میں وہ تنظیم ہے جو ایران کو ایک علاقائی سپر پاور بننے کے اپنے عزائم کو حاصل کرنے سے روکنا چاہتی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق امریکا میں یہ غیر جانبدار تنظیم تہران کو عالمی سطح پر دہشت گردی اور علاقائی عدم استحکام کا ایک بڑا ذریعہ سمجھتی ہے مذکورہ تنظیم کا منصوبہ امریکی حکومت کے لیے قومی طاقت کے چار اہم محوروں پر مبنی ”جامع حکمت عملی“ پر انحصار کرتا ہے، یہ چار محور سفارتی، معلوماتی، فوجی اور اقتصادی ہیں۔

    ٹیسٹ فاسٹ بولر میر حمزہ فیلڈنگ کے دوران زخمی

    اس کی اہم سفارشات میں اقوام متحدہ کے ذریعے بین الاقوامی پابندیاں دوبارہ لگانے کے طریقہ کار کو فعال کرنا، ایران سے ایٹمی پروگرام میں ”زیرو افزودگی یا دوبارہ پروسیسنگ“ کی پالیسی پر عمل کرنا شامل ہے۔

    تہران پر دباؤ کو بڑھانے کے لیے اتحادیوں اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایک اتحاد تشکیل دینا۔ ایرانی عوام کی مدد کے لیے ”ڈیموکریسی فنڈ“ بنانے کے لیے ایرانی اثاثوں کو ضبط اور ری ڈائریکٹ کرنا۔

    امریکی شہریوں کو نقصان پہنچانے پر ایرانی پاسداران انقلاب اور ایرانی خفیہ ایجنسی کی تنصیبات کے خلاف فوجی حملے کرنا۔

    ٹرمپ حلف برداری تقریب کے 20 دعوت نامے ملے، سلمان اکرم راجہ

    امریکی پابندیوں سے بچنے والے پورے ایرانی گھوسٹ بیڑے کی نشاندہی کرنا اور پائلٹس کیلئے انعامی پروگرام شروع کرنا کہ وہ اپنے جہازوں پر ایرانی تیل کی نقل و حمل نہ کریں۔

    اس تنظیم کا کہنا ہے کہ قومی طاقت کے اوزار (DIME) پر مبنی اس جامع نقطہ نظر کے ذریعے ٹرمپ حکومت ایرانی حکومت کو کمزور کر سکتی ہے، جبکہ ایرانی عوام کو ان کی اپنی خواہشات کا احساس کرنے کے لیے جگہ فراہم کر سکتی ہے پہلے 100 دنوں کے اندر ان سفارشات پر عمل کرنا شروع کر کے آنے والی انتظامیہ اس بات کو یقینی بنائے گی کہ اسلامی جمہوریہ کو اپنی دہائیوں سے جاری جارحیت اور جبر کی مہم کی اصل قیمت کا سامنا کرنا پڑے۔
    نومئی مقدمے،عمران خان کی درخواست ضمانت پر نوٹس جاری
    دوسری جانب ایرانی صدرمسعود پیزشکیان نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قتل کی سازش کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ الزامات ”ایرانوفوبیا“ کو فروغ دینے کی کوشش ہیں اور ایران کی جانب سے ایسے اقدامات کی مسلسل تردید کی گئی ہے۔

    ٹرمپ حلف برداری تقریب کے 20 دعوت نامے ملے، سلمان اکرم راجہ

    اپنے غیرملکی میڈیا انٹرویو میں مسعود پیزشکیان نے کہا کہ ایران نے کبھی بھی ٹرمپ کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کی اور اکتوبر میں سوئس سفارت کاروں کے ذریعے امریکہ کو تحریری یقین دہانی بھیجی تھی۔

  • ہم حماس کو غزہ میں دوبارہ اقتدار میں آنے سے روکیں گے،امریکا

    ہم حماس کو غزہ میں دوبارہ اقتدار میں آنے سے روکیں گے،امریکا

    واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نےکہا ہے کہ ہم ایک ایسی فلسطینی ریاست کے لیے راستہ بنانا چاہتے ہیں جو اسرائیل کے شانہ بشانہ رہے تاہم غزہ کے لوگوں کی جبری نقل مکانی کو بھی مسترد کرتے ہیں-

    باغی ٹی وی : جنگ بندی معاہدے کے تحت غزہ میں امریکی شہریت رکھنے والے یرغمالیوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی کی تیاری شروع کر دی گئی، امریکی وزیر خارجہ انٹونئی بلنکن نے بتایا کہ حماس کی قید میں اسرائیلی یرغمالیوں میں، سب سے پہلے امریکیوں کی رہائی سے غزہ جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کا آغاز ہوگا۔

    "العربیہ” کے مطابق حماس نے بھی جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کی تیاری کے لیے یرغمالیوں کو گروپوں میں تقسیم کرنا شروع کر دیا ہے حماس نے معاہدے کے ثالثوں سے اسرائیل کی جانب سے معاہدے پر مکمل عمل درآمد کی ضمانت مانگی ہےیرغمالیوں کی وصولی کے لیے ثالثوں اور ریڈ کراس کے درمیان بھی بات چیت شروع ہوگئی۔

    بھارت دہشتگردی میں اپنے ملوث ہونے کی دستاویزی حقیقتوں کو تسلیم کرے،دفتر خارجہ

    امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا کہ بالآخر حماس نے معاہدے کو مکمل کرنے کی ضرورت کو سمجھ لیا ہے ہم ایک ایسی فلسطینی ریاست کے لیے راستہ بنانا چاہتے ہیں جو اسرائیل کے شانہ بشانہ رہے تاہم غزہ کے لوگوں کی جبری نقل مکانی کو بھی مسترد کرتے ہیں۔

    امریکی وزیر خارجہ نے فلسطینیوں پر غزہ میں ایک عبوری حکومت کی تشکیل میں تعاون کرنے پر زور دیتے ہوئے فلسطینی اتھارٹی سے غزہ میں حکومت کے قیام میں حصہ لینے کا مطالبہ بھی کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ "ہم حماس کو غزہ میں دوبارہ اقتدار میں آنے سے روکیں گے،انہوں نے نشاندہی کی کہ واشنگٹن "غزہ میں سیکورٹی فورسز کو تربیت دینے اور تیار کرنے کے لیے ایک اقدام” شروع کرے گا۔

    لاس اینجلس آگ بابا وانگا کی 2025 کے حوالے سے تباہ کن پیشگوئیوں کا آغاز ہے؟

    ادھر قطری وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے بعد غزہ کی تعمیر نو کے لیے ایک منصوبہ پیش کر رہے ہیں۔

    اس سے قبل امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کا معاہدہ حقیقت بننے والا ہے پیر کے روز بائیڈن نے کہا کہ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کا معاہدہ حقیقت بننے والا ہے۔ انہوں نے ایک تقریر میں مزید کہا کہ ثالث ایک معاہدے تک پہنچنے اور غزہ میں یرغمالیوں کی رہائی کے لیے تیزی سے کام کر رہے ہیں،اپنی طرف سے امریکی نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی کہ غزہ معاہدہ ہفتے کے آخر تک مکمل ہو سکتا ہے۔

    بھارتی آرمی چیف کی پریس کانفرنس پر پاک فوج کا ردعمل

  • امریکا کے گہرے اور پراسرار پہاڑ جہاں آدم خور   بونوں کا بسیرا ہے

    امریکا کے گہرے اور پراسرار پہاڑ جہاں آدم خور بونوں کا بسیرا ہے

    امریکا کے گہرے اور پراسرار پہاڑوں کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آج بھی ان پہاڑوں کے سائے میں ’آدم خور لِلی ُپٹ بونے‘ چھپے بیٹھے ہیں جو نہ صرف انسانوں کا شکار کرتے ہیں، بلکہ اپنی اجنبی شکلوں اور خونخوار انداز کے باعث مقامی کہانیوں کا حصہ بن چکے ہیں-

    باغی ٹی وی: یہ کہانی 19ویں صدی کے ابتدائی برسوں کی ہے جب مہم جو اور پہاڑوں میں بسنے والے لوگ ان ’بونوں کے خونخوار قبیلوں‘ کے بارے میں خوفناک قصے سناتے تھے،یہ لوگ چارفٹ یا اس سے بھی کم قد والے تھے، اور جب انہیں غصہ آتا یا کسی نے ان کی حدود کو کراس کیا تو وہ جان لے کر چھوڑتے تھے وہ انسانوں کو شکار کرتے اور کبھی کبھار ان کے گوشت کا استعمال کرتے تھے۔

    اگرچہ یہ کہانیاں طویل عرصے تک صرف افسانہ سمجھی گئیں لیکن حالیہ برسوں میں کچھ عجیب و غریب واقعات نے ان کی حقیقت سامنے لانے کی کوشش کی ہے کئی ماہرین نے ان پراسرار ہستیوں کی موجودگی کے شواہد جمع کیے ہیں ایپلیچین اور سیرا نیواڈا کے پہاڑوں میں غائب ہونے والے افراد کے بارے میں ایک سنسنی خیز حقیقت سامنے آئی ہے۔

    دریائے سندھ روزانہ کروڑوں روپے کا سونا اگل رہا ہے،رپورٹ

    2022 میں، ایک ماہر کوہ پیماؤں کے گروپ کا اچانک غائب ہونا، ان کے پیچھے چھوڑے گئے عجیب و غریب آثار، اور ایک زندہ بچ جانے والے شخص کی خوفناک گواہی نے سب کو حیرانی میں مبتلا کردیا اس شخص کا کہنا تھا کہ ہمیں وہ چھوٹے، سیاہ اجسام دکھائی دیے جو ہمارے ارد گرد آ گئے تھے، اور ان میں سے ایک نے ہمارے ساتھی کو کھا لیا تھا۔

    کیا یہ چھوٹے آدم خور ’لِلی پُٹ‘ بونے حقیقت میں موجود ہیں؟ اگر ہیں تو، کیا یہ وہی قدیم قبیلے ہیں جو صدیوں سے پہاڑوں میں گم ہو گئے تھے؟ یہ سوالات اب تک انسانوں کے لیے ایک سنسنی خیز معمہ بن چکے ہیں۔

    بے نظیر نشوونما پروگرام میں 79 کروڑ سے زائد کی سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف

    کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ جنگجو شاید کسی گمشدہ نسل کی باقیات ہیں جو اس وقت سے الگ تھلگ زندگی گزار رہے ہیں، اور ممکنہ طور پر آج بھی اپنی اجنبی روایات اور خونخوار طرز زندگی کو جاری رکھے ہوئے ہیں ممکن ہے کہ یہ ’آدم خور ِللی پُٹین بونے‘ کسی قدیم نسل سے تعلق رکھتے ہوں جو تمام تر ترقی سے الگ تھلگ رہ کر اپنی بقاء کے لیے جنگ کرتے ہوں۔

    ڈاکٹر ایولن ہیریس، مشہور ماہر بشریات کہتی ہیں ’ہم اس بات کو رد نہیں کر سکتے کہ یہ لوگ ابھی بھی ہماری دنیا میں کہیں موجود ہوں، جو ہمارے خیالات سے بھی بالا تر ہو عجیب بات یہ ہے کہ ایک مقامی ایڈاہو ریڈیو اسٹیشن نے دعویٰ کیا ہے کہ عجیب قبیلہ آج بھی ایڈاہو کے پہاڑوں پر گھوم رہا ہے۔

    چیمپئنز ٹرافی:اکستان میں ہونے والے میچز کے ٹکٹوں کی قیمتیں فائنل

    دنیا ہمیشہ ایسی حقیقتوں سے بھری ہوتی ہے جو ہماری سمجھ سے باہر ہیں۔ شاید ان ’خونخوار بونوں‘ کا راز کبھی مکمل طور پر سامنے نہ آئے، مگر یہ حقیقت ہے کہ یہ پہاڑ، ان خونخوارجنگجوؤں کی موجودگی کے گواہ ہیں، اور شاید وہ ایک دن ہماری نظر سے چھپے ہوئے ان پراسرار سرنگوں اور غاروں میں دوبارہ نکل آئیں۔

  • لاس اینجلس جنگلات میں آگ لگنے کی وجوہات کی تحقیقات جاری

    لاس اینجلس جنگلات میں آگ لگنے کی وجوہات کی تحقیقات جاری

    امریکا کے شہر لاس اینجلس میں جنگلات میں لگی آگ کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ فیڈرل بیورو آف الکوحل، ٹوبیکو اور فائر آرمز (اے ٹی ایف) اس تحقیقاتی عمل کی قیادت کر رہا ہے۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، اے ٹی ایف کے عہدیدار جوز میڈینا نے کہا ہے کہ "ہم جانتے ہیں کہ ہر کوئی جواب چاہتا ہے اور کمیونٹی کا حق ہے کہ وہ ان وجوہات کے بارے میں معلومات حاصل کرے، مگر ابھی آگ لگنے کی وجوہات کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔”اے ٹی ایف نے یہ بھی بتایا کہ وہ مقامی لا انفورسمنٹ، فارسٹ سروس اور یو ایس اٹارنی کے ساتھ مل کر اس حادثے کی تفصیلی تحقیقات کر رہا ہے۔ تحقیقاتی عمل میں 75 سے زائد افراد شریک ہیں، جو کہ دو مختلف مقامات سے آگ کے آغاز کی وجوہات کا پتا چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    لاس اینجلس میں حالیہ آگ کی تباہ کن صورتحال نے علاقے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود آگ پر قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔ اب تک 40 ہزار ایکڑ سے زائد رقبہ جل کر تباہ ہو چکا ہے، 12 ہزار سے زائد گھر خاکستر ہو چکے ہیں اور 30 کے قریب افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اس کے علاوہ لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوگئے ہیں۔اس آتشزدگی کی ایک اور ہولناک کہانی سامنے آئی ہے، جب شمالی لاس اینجلس کے علاقے الٹاڈینا میں ہالی ووڈ کی مشہور اداکارہ ڈیلیس کی جلی ہوئی لاش کی باقیات ملی۔ 95 سالہ اداکارہ نے مشہور فلموں "بلوز برادرز”، "لیڈی سنگز دی بلوز” اور "دی 10 کمانڈمنٹس” میں اہم کردار ادا کیے تھے۔ ان کی پوتی کیلی نے فیس بک پوسٹ پر ان کی موت کی تصدیق کی اور بتایا کہ ان کی دادی کی باقیات ان کے گھر سے ملی ہیں۔کیلی نے ایک ویڈیو میں جلی ہوئی سائیکل، ریفریجریٹر اور دروازہ دکھایا اور کہا کہ انہوں نے اپنی دادی کو آخری بار اس وقت دیکھا تھا جب وہ انہیں منگل کی رات کو ان کے الٹاڈینا والے گھر چھوڑ کر آئیں۔ کیلی نے مزید بتایا کہ اس وقت آگ کی ابتدا ہوئی تھی اور دو پہاڑوں کے درمیان لگی آگ اتنی خطرناک محسوس نہیں ہو رہی تھی، تاہم وہ اپنے کینسر سے متاثرہ بہن بھائی کی دیکھ بھال کے لیے واپس آ گئی تھیں۔لاس اینجلس میں تیز ہوائیں ہونے کے باعث آگ کے مزید پھیلنے کا خدشہ ہے، جس سے صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔

    لاس اینجلس آگ، رہائشیوں کو بے دخلی سے بچانے کے لیے قراردادیں منظور
    لاس اینجلس میں افسران نے رہائشیوں کو بے دخلی سے بچانے کے لیے قراردادیں منظور کر لیں، اور ان لوگوں کے لیے فنڈ قائم کیا جنہوں نے اپنے گھر اور کاروبار کھو دیے،لاس اینجلس سٹی کونسل نے منگل کے روز کئی قراردادوں کی منظوری دی تاکہ رہائشی جنگل کی آگ سے ہونے والے نقصان سے بازیابی کر سکیں اور معمول کی حالت میں واپس آ سکیں، منظور شدہ اقدامات میں وفاقی ایمرجنسی فنڈز کی تیز تر منتقلی، مٹی کے پھسلنے کے امکانات کا جائزہ اور رہائشیوں کو بے دخلی اور قیمتوں کے بڑھنے سے بچانے کے اقدامات شامل ہیں، خاص طور پر ان افراد کو جو نقل مکانی کرنے والے ہیں یا پالتو جانوروں کے مالک ہیں۔ایک تجویز میں یہ شامل تھا کہ آگ سے متاثرہ کرایہ داروں کے لیے کرائے میں اضافے کو ایک سال کے لیے روک دیا جائے اور بے دخلی پر پابندی عائد کی جائے، لیکن اس تجویز کو کمیٹی کے حوالے کر دیا گیا۔

    لاس اینجلس آگ، عوامی جائیداد اور انفراسٹرکچر کو نقصان کا تخمینہ تقریباً 360 ملین ڈالر
    فیڈرل فنڈز کے حوالے سے قرارداد میں کہا گیا کہ "ایک ابتدائی اندازے کے مطابق عوامی جائیداد اور انفراسٹرکچر کو نقصان کا تخمینہ تقریباً 360 ملین ڈالر لگایا گیا ہے،” اور مزید کہا کہ ان فنڈز کی کمی سے ضروری خدمات جیسے عوامی تحفظ، لائبریریاں، پارکس اور بے گھر افراد کی خدمات متاثر ہو سکتی ہیں۔علیحدہ طور پر، لاس اینجلس کاؤنٹی بورڈ آف سپروائزرز نے منگل کو ایک فنڈ قائم کرنے کا حکم دیا تاکہ ان رہائشیوں یا کاروباروں کی مدد کی جا سکے جنہوں نے اپنی روزگار یا گھر کھو دیے ہیں۔بورڈ نے چیف ایگزیکٹو آفیسر کو ایک ہفتے کا وقت دیا ہے تاکہ وہ فنڈ کے لیے ضروریات کو مرتب کریں، جو "فلاحی تنظیموں کے ساتھ شراکت داری، نجی شعبے سے عطیات حاصل کرنے اور ان افراد کی امداد کرنے کے اختیارات پر مشتمل ہو سکتا ہے جو ہوا کے طوفان اور اہم آگ کے واقعات سے متاثر ہوئے ہیں،” اجلاس کے ایجنڈے کے مطابق۔کیترن بارگر، بورڈ کی چیئر، نے اجلاس میں کہا، "ہم جانتے ہیں کہ ضروریات کی فہرست بہت وسیع ہے اور اس میں بچوں کی دیکھ بھال سے لے کر رہائشی امداد، اجرت کی واپسی تک شامل ہوں گی۔” انہوں نے مزید کہا کہ یہ فنڈ "فنڈ دینے والوں کو کاؤنٹی بھر میں شدید ضروریات کی حمایت کرنے کا موقع دے گا۔”

    لاس اینجلس فائر ڈیپارٹمنٹ نے 7 جنوری کو تقریباً 1,000 فائر فائٹرز اور درجنوں فائر انجنوں کو پالیسیڈز فائر سے پہلے علاقے میں تعینات نہیں کیا تھا، جب ہوا کی رفتار بڑھنے لگی تھی، رپورٹ کے مطابق ایل اے ایف ڈی نے پانچ پانی لے جانے والے انجنوں کا عملہ بنایا تھا، جب کہ اس وقت 40 سے زیادہ انجن دستیاب تھے۔ فائر حکام نے دوسرا شفٹ مکمل کرنے کے لیے فائر فائٹرز کو ڈیوٹی پر رکھنے کا حکم نہیں دیا، جس سے عملے کی تعداد دوگنا ہو سکتی تھی۔ایل اے ایف ڈی چیف کرسٹِن کراؤلی نے لاس اینجلس ٹائمز کو ایک بیان میں ان کی ردعمل کی دفاع کرتے ہوئے کہا کہ "جو منصوبہ انہوں نے تیار کیا، میں اس کے پیچھے ہوں کیونکہ ہمیں شہر بھر میں تمام وسائل کو مؤثر طریقے سے منظم کرنا تھا۔”انہوں نے مزید کہا کہ بجٹ کی کٹوتیوں کی وجہ سے ایل اے ایف ڈی کی میکانک پوزیشنز میں کمی آئی تھی جس کی وجہ سے کچھ "ریڈی ریزرو” انجن سروس سے باہر ہو گئے تھے۔

    لاس اینجلس آگ،متاثرین کی امداد کے لئے کنسرٹ کا اعلان
    لاس اینجلس کلپرز کا گھر، انگل ووڈ میں واقع انٹوٹ ڈوم، 30 جنوری کو فائر ایڈ کے عنوان سے ایک خیرات کنسرٹ کی میزبانی کرے گا، جس کا مقصد جنگل کی آگ سے متاثرہ کمیونٹیز کی دوبارہ آبادکاری کے لیے فنڈز اکٹھا کرنا ہے۔اس کنسرٹ کا اہتمام ایگ، لائیو نیشن اور ایرون انزوف کے اشتراک سے کیا جا رہا ہے، جس میں مشہور فنکاروں کی پرفارمنس متوقع ہے۔

    اب تک، آگ نے 25 افراد کی جان لے لی ہے، جن میں سے 9 پالیسیڈز فائر اور 16 ایٹن فائر میں ہلاک ہوئے۔حکومتی اقدامات میں لاس اینجلس میں 15 پوسٹل کوڈز میں ریئل اسٹیٹ کے غیر منصفانہ اور زبردستی نقد آفرز کو روکنے کے لیے ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا گیا۔دو اسکول جو پالیسیڈز میں جل گئے تھے، عارضی کیمپس پر دوبارہ کھلیں گے۔

    جیسیکا سمپسن اور ایرک جونسن کے درمیان طلاق کی تصدیق

    ہوائی اڈوں پر مسافروں کے لیے شراب کی خریداری کی حد مقرر کرنے کا مطالبہ

  • میشل اوباما ٹرمپ کی حلف برداری تقریب میں شریک نہیں ہوں گی

    میشل اوباما ٹرمپ کی حلف برداری تقریب میں شریک نہیں ہوں گی

    امریکی سابق خاتون اول، میشل اوباما، آئندہ ہفتے ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت نہیں کریں گی، ان کے دفتر نے منگل کے روز اس بات کی تصدیق کی، لیکن اس فیصلے کی کوئی وضاحت فراہم نہیں کی۔

    باراک اوباما کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا: "سابق صدر باراک اوباما 60 ویں حلف برداری کی تقریب میں شرکت کریں گے۔ سابق پہلی خاتون میشل اوباما آئندہ حلف برداری کی تقریب میں شرکت نہیں کریں گی۔”ٹرمپ کی حلف برداری میں شرکت نہ کرنا ایک روایت سے انحراف ہے، کیونکہ اس تقریب میں عموماً سابق صدور اور ان کی بیویاں حصہ لیتی ہیں۔ سابق صدر جارج ڈبلیو بش اور لورا بش حلف برداری میں شرکت کریں گے، جب کہ ذرائع کے مطابق سابق صدر بل کلنٹن اور ہیلری کلنٹن بھی اس تقریب میں موجود ہوں گے۔

    میشل اوباما گزشتہ ہفتے سابق صدر جمی کارٹر کے لیے منعقدہ یادگاری تقریب میں بھی شریک نہیں ہوئیں اور وہ ہوائی میں موجود رہیں۔ تاہم، سابق صدر باراک اوباما اس تقریب میں شریک ہوئے اور واشنگٹن کی نیشنل کیتھیڈرل میں ٹرمپ کے ساتھ بیٹھ کر پروگرام کے آغاز کے دوران ان سے بات چیت کی۔دیگر سابق پہلی خواتین، بشمول ہیلری کلنٹن اور لورا بش، اس تقریب میں شریک ہوئیں۔

    میشل اوباما نے ماضی میں کھل کر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے، جنہیں انہوں نے اپنے خاندان کی حفاظت کو خطرے میں ڈالنے والا قرار دیا تھا۔2017 میں، میشل اوباما نے ذاتی اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے، ٹرمپ کے پہلے صدارتی انتخاب میں کامیابی کے بعد، ان اور ملانیا ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس میں چائے کی دعوت دی تھی۔بعد ازاں، میشل اوباما نے ٹرمپ کی حلف برداری کے موقع پر اس تجربے پر بات کرتے ہوئے کہا: "وہ لمحے آنسوؤں سے بھرے ہوئے تھے، لیکن پھر اس اسٹیج پر بیٹھ کر میں نے جو کچھ دیکھا، وہ ہمارے نمائندہ نظریات کے برعکس تھا۔ اس اسٹیج پر کوئی تنوع نہیں تھا، کوئی رنگ نہیں تھا، اور امریکہ کے وسیع تر احساس کی عکاسی نہیں ہو رہی تھی۔”

    یہ بھی یاد رہے کہ 2021 میں، ٹرمپ اور ان کی اہلیہ ملانیا ٹرمپ نے صدر جو بائیڈن کی حلف برداری میں شرکت نہیں کی تھی، کیونکہ ٹرمپ نے 2020 کے انتخابات میں جیتنے کے اپنے جھوٹے دعوے کیے تھے۔

    بھارت میں روسی خاتون کو ہراسانی کا سامنا

    جنوبی کوریا کے معزول صدر یون سک یول گرفتار

  • کیا لاس اینجلس میں آتشزدگی کا سبب ایک پرندہ ہے؟

    کیا لاس اینجلس میں آتشزدگی کا سبب ایک پرندہ ہے؟

    لاس اینجلس: امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس میں لگنے والی آگ کیسے لگی جہاں اس کی وجوہات جاننے کی کوششیں کی جارہی ہیں وہیں سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ آگ آگ اگلنے والے پرندے نے لگائی ہے-

    باغی ٹی وی : لاس اینجلس میں لگی آگ پر 6 روز بعد بھی قابو نہ پایا جا سکا لاس اینجلس کے جنگلات سے شروع ہو کر وسیع رقبے کو اپنی لپیٹ میں لینے والی آگ سے ہلاکتوں کی تعداد 24 ہوگئی ہے جبکہ 16 افراد لاپتا ہیں ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آگ پر مکمل قابو پانے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں، آگ بجھانے کے آپریشن میں سینکڑوں فائرانجنز، ہزاروں فائر فائٹرز، واٹر ٹینکر اور 60 طیارے حصہ لے رہے ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق لاس اینجلس میں لگی آگ کو مشرقی علاقے کی طرف پھیلنے سے روکنے کے لیے طیاروں سے پانی اورآگ بجھانے والے مادے کا اسپرے کیا جارہا ہے، تیز ہواؤں کے تھپیڑوں کے باعث فائرفائٹرز کو مشکلات کا سامنا ہے علاقائی حکام نے پبلک ہیلتھ ایمرجنسی کا اعلان کیا ہے اور دھوئیں کے باعث دور دراز علاقوں میں بھی ہزاروں افراد کو اپنے گھر چھوڑنا پڑے ہیں۔

    لاس اینجلس، تباہ کن آگ سے 77 سالہ اداکار جیمز ووڈس کا گھر محفوظ

    اتنے بڑے پیمانے پر آگ لگنے کی وجوہات جاننے کی کوششیں کی جا رہی ہیں وہیں ایک ’پرندے‘ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس سے متعلق دعویٰ کیا گیا کہ یہ پرندہ منہ سے آگ نکالتا ہے جو لاس اینجلس کے جنگلات میں آگ لگنے کا سبب بنا۔

    24 اگست 2022 ”امیزنگ ورلڈ“ نامی فیس بک پیج نے ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک ایسا پرندہ ہے جو اپنے منہ سے آگ اگلتا ہے،یہی ویڈیو دیگر فیس بک صارفین کی جانب سےشئیر کی گئی، بعد ازاں سوچ فیکٹ نے ویڈیو اسکرین شاٹس لے کر گوگل ریورس امیج اور TinEye پر تلاش کرکے ویڈیو کی حقیقت پر تحقیق کی،معلوم ہوا کہ فیبریسیو رباچم نامی ایک یوٹیوب صارف کے چینل پر پرندے کی یہی فوٹیج دکھائی اپ لوڈ کی گئی تھی۔

    جوبائیڈن انتظامیہ کی فیس بک کو دھمکیاں،مارک زکر برگ کا جوابی وار
    bird

    فیبریسیو رباچم وی ایف ایکس آرٹسٹ ہے جو مہارت کے ساتھ ویڈیوز کو ترمیم کر کے اسے بہتر بناتے ہیں۔ 14 دسمبر 2020 کو پوسٹ کیا گیاویڈیو میں دکھائے جانے والے پرندے کو ”Quero-Quero“ یا Southern Lapwing کہا جاتا ہے، جو عام طور پر ارجنٹائن اور بولیویا میں پایا جاتا ہے۔

    جبکہ اسی ویڈیو کی اے ایف پی فیکٹ چیک 2021 میں پہلے ہی جانچ کر چکا ہے تخلیق کار، فیبریسیو رباچم نے بتایا تھا کہ انہوں نے پرندے کی ویڈیو میں خصوصی ایفیکٹس کا استعمال کیا ہے،ان سب جائزوں اور تلاش کے بعد معلوم ہوا کہ کوئی بھی پرندہ ایسا نہیں جو منہ سے آگ نکال سکتا ہو اور نہ ہی Quero-Quero نامی یہ پرندہ لاس اینجلس میں آگ لگانے کی وجہ بنا۔

    پی ٹی آئی کی اسپیکر قومی اسمبلی سے مذاکراتی کمیٹیوں کا اجلاس بلانے کی درخواست