Baaghi TV

Tag: امریکا

  • تقریب حلف برداری،ٹرمپ ہار گئے،میلانیا کوکوشش کے باوجود "بوسہ” نہ دے سکے

    تقریب حلف برداری،ٹرمپ ہار گئے،میلانیا کوکوشش کے باوجود "بوسہ” نہ دے سکے

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوسری بار بطور امریکی صدر عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے،

    ٹرمپ کی تقریب حلف برداری میں فوٹوگرافروں کے کیمرے ایک ایک سیکنڈ میں اس تاریخی لمحے کو محفوظ کر رہے تھے، اور اسی دوران ایک دلچسپ اور غیر متوقع منظر نے دنیا بھر کی توجہ حاصل کی ہے،ٹرمپ اور ان کی اہلیہ میلانیا کے درمیان یہ لمحہ ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گیا۔ نو منتخب صدر امریکا، ڈونلڈ ٹرمپ، جب کیپیٹل کی عمارت میں حاضرین کے سامنے اپنی اہلیہ میلانیا کو بوسہ دینے کی کوشش کر رہے تھے، تو ایک ہنسی مذاق کی صورتحال پیدا ہو گئی۔ٹرمپ نے اپنی اہلیہ کے گال پر بوسہ دینے کے لیے جب ان کی جانب بڑھنے کی کوشش کی، تو میلانیا کے سر پر موجود ہیٹ نے انہیں بوسہ دینے میں رکاوٹ ڈالی۔ اس وقت ان کے ارد گرد ان کے بچے بھی موجود تھے، جنہوں نے کامیابی اور فتح کی خوشی میں ٹرمپ کا ساتھ دیا تھا۔

    لیکن جب ٹرمپ نے اپنی اہلیہ کے گال پر بوسہ دینے کی کوشش کی، تو ہیٹ کی موجودگی کی وجہ سے وہ یہ نہ کر پائے۔ اس پر ٹرمپ نے فوراً صورتحال کو سنبھالا اور خود کو شرمندگی سے بچاتے ہوئے اپنی اہلیہ کو ہوا میں بوسہ (Flying Kiss) دے کر مطمئن ہو گئے۔یہ منظر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا اور صارفین نے اس "ادھورے بوسے” پر دلچسپ تبصرے کیے۔ سوشل میڈیا پر لوگوں نے اس منظر پر قہقہے لگائے اور اس کو ایک منفرد اور غیر متوقع واقعہ قرار دیا۔

    یہ لمحہ نہ صرف ہال میں موجود افراد کے لیے یادگار بن گیا، بلکہ سوشل میڈیا پر بھی اس نے اپنی جگہ بنا لی، جہاں پر صارفین نے اس کو مختلف انداز میں شیئر کیا۔ ٹرمپ کی شخصیت اور اس منفرد لمحے نے ایک بار پھر سوشل میڈیا پر اپنی دھاک بٹھا لی۔

    ٹرمپ کی سعودی اسرائیل تعلقات میں بہتری کی امید

    ٹرمپ نے حلف اٹھاتے وقت بائبل پر ہاتھ نہ رکھا

    جوبائیڈن کے 78 صدارتی اقدامات منسوخ،ٹرمپ نے اہم ایگریکٹو آرڈر پر کئے دستخط

  • ٹرمپ کی سعودی  اسرائیل  تعلقات میں بہتری  کی امید

    ٹرمپ کی سعودی اسرائیل تعلقات میں بہتری کی امید

    امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ابراہام معاہدے میں شمولیت کے امکان کا اظہار کیا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی صدرات سنبھالنے کے بعد وائٹ ہاؤس میں بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ سعودی عرب بالآخر ابراہام معاہدے میں شامل ہو جائے گا۔ اس معاہدے کا مقصد اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان تعلقات کو مستحکم کرنا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب کی اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں بہتری آنے کی امید ہے، جس سے مشرق وسطی میں امن اور استحکام کی راہیں ہموار ہوں گی۔

    پیر کے روز ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کے 47 ویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھایا اور اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ اب امریکا ترقی کرے گا اور وہ اپنے دور میں امریکا کو "پہلے رکھوں گا”۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا بہت جلد ایک مضبوط، عظیم، اور پہلے سے زیادہ کامیاب ملک بنے گا۔اپنے خطاب میں ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ان کی اولین ترجیح ایک ایسا ملک قائم کرنا ہے جو آزاد اور مضبوط ہو۔ انہوں نے اپنی صدارت کے دوران درپیش مشکلات کا ذکر کیا اور کہا کہ انھیں جن مشکلات کا سامنا ہوا وہ امریکی تاریخ میں کسی اور کو نہیں ہوئیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ امریکا کو پھر سے عظیم بنانے کے لیے کام کریں گے اور یہ دن امریکی شہریوں کی آزادی کا دن ہے۔ انہوں نے سیاہ فام اور لاطینی امریکی کمیونٹیز کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ ان کے مسائل کو سن کر ان کے لیے کام کریں گے۔ اس موقع پر انہوں نے مارٹن لوتھر کنگ ڈے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا اور اس دن کے موقع پر سیاہ فام کمیونٹی کے حقوق کے لیے کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

    نماز کی مبینہ بے حرمتی کا مقدمہ،رجب بٹ کی حفاظتی ضمانت منظور

    ٹرمپ نے حلف اٹھاتے وقت بائبل پر ہاتھ نہ رکھا

    جوبائیڈن کے 78 صدارتی اقدامات منسوخ،ٹرمپ نے اہم ایگریکٹو آرڈر پر کئے دستخط

  • ٹرمپ نے  حلف اٹھاتے وقت بائبل پر ہاتھ نہ رکھا

    ٹرمپ نے حلف اٹھاتے وقت بائبل پر ہاتھ نہ رکھا

    امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز اپنی صدارت کا حلف اٹھایا، جس کے ساتھ ہی وہ امریکا کے 47 ویں صدر بن گئے۔ اس موقع پر امریکی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جان رابرٹس نے صدر ٹرمپ سے عہدہ صدارت کا حلف لیا۔

    حلف برداری کی تقریب میں ایک حیران کن بات یہ تھی کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس موقع پر بائبل پر ہاتھ نہیں رکھا۔ جہاں ایک طرف ٹرمپ کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ دو بائبلز تھامے کھڑی تھیں، وہیں صدر ٹرمپ نے اپنا سیدھا ہاتھ بلند کیا لیکن کسی بھی بائبل پر ہاتھ نہیں رکھا۔اگرچہ امریکی دستور کے تحت صدر کے لیے بائبل پر ہاتھ رکھنا قانونی طور پر ضروری نہیں ہے، مگر یہ ایک قدیم روایت ہے کہ امریکی صدر اپنے عہدے کا حلف ایک ہاتھ بائبل پر رکھ کر لیتا ہے۔ یہ روایت امریکا کی صدارت کی تاریخ میں صدیوں سے جاری ہے، تاہم ٹرمپ کا یہ غیر متوقع اقدام لوگوں کے لیے حیرانی کا باعث بن گیا۔

    یاد رہے کہ 20 جنوری 2017 کو اپنے پہلے دور صدارت کی حلف برداری کے دوران، ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دائیں ہاتھ کو دو بائبلز پر رکھا تھا، لیکن اس بار ایسا کچھ نہیں کیا۔ اس عجیب و غریب صورتحال نے ملکی اور عالمی سطح پر بحث و مباحثہ کو جنم دیا ہے۔

    جوبائیڈن کے 78 صدارتی اقدامات منسوخ،ٹرمپ نے اہم ایگریکٹو آرڈر پر کئے دستخط

    کمیٹی چلتے ہوئے کیسز واپس لے تو عدلیہ کی آزادی تو ختم ،جسٹس منصور علی شاہ

  • ٹرمپ کی حلف برداری سے قبل بٹ کوائن ریکارڈ بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

    ٹرمپ کی حلف برداری سے قبل بٹ کوائن ریکارڈ بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

    واشنگٹن: نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری سے قبل بٹ کوائن ریکارڈ بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔

    باغی ٹی وی : فرانسیسی خبر ایجنسی کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریب حلف برداری سے قبل پیر کو بٹ کوائن کی قیمت $109,241 کی ریکارڈ بلند ترین سطح پر پہنچ گئی نومبر میں ٹرمپ کے صدارتی انتخاب جیتنے کے بعد سے دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی کی قیمت میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، دسمبر کے اوائل میں پہلی بار بٹ کوائن نے $100,000 کی سطح کو عبور کیا تھا۔

    واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کرپٹو کرنسی سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے کے منصوبے کا اشارہ دے چکے ہیں، ٹرمپ نے کرپٹو کرنسی کے حمایتی پال اٹکنز کو امریکی سیکیورٹیز ریگولیٹر کا سربراہ نامزد کیا ہے جس سے اس امید کو تقویت ملی کہ نئے صدر اس شعبے کو ڈی ریگولیٹ کر دیں گے۔

    ٹرمپ کے بعد ملانیا ڈالر کرنسی بھی لانچ

    ماضی میں کرپٹو کرنسی کو "scam” قرار دینے کے باوجود ٹرمپ نے اس ہفتے کے آخر میں اپنی خود کی کرپٹو کرنسی بھی لانچ کی تھی جسے ٹرمپ ڈالر کہا جاتا ہے، اس کرپٹو کرنسی کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن کئی ارب ڈالر تک بڑھ گئی ہے۔

    اس سے قبل بٹ کوائن کے تاریخی $100,000 کی سطح پر پہنچنے پر ٹرمپ نے اپنے ٹرتھ سوشل پلیٹ فارم پر لکھا تھا کہ مبارک ہو بٹ کوائنرز!!! $100,000!!! آپ کا استقبال ہے!!! مل کر ہم امریکا کو ایک بار پھر عظیم بنائیں گے-

    ڈھاکہ یونیورسٹی میں شیخ مجیب کی تصویر بناکر اسے نفرت کا مینار قرار دیدیا گیا

  • ٹرمپ چین اور بھارت کے دورے کے خواہشمند

    ٹرمپ چین اور بھارت کے دورے کے خواہشمند

    نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مشیروں سے ذاتی طور پر یہ کہا ہے کہ وہ عہدہ سنبھالنے کے بعد چین کا دورہ کرنا چاہتے ہیں، جیسا کہ تین مختلف ذرائع نے سی این این کو بتایا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے بیجنگ کے ساتھ کھلے ڈائیلاگ کو فروغ دینے کی خواہش ظاہر کی ہے، جبکہ چین کے بارے میں سخت موقف اپنانا بھی ان کے ایجنڈے میں شامل ہے۔

    ٹرمپ نے صدر بننے کے بعد کئی ممالک کے دورے میں دلچسپی ظاہر کی ہے، جن میں بھارت بھی شامل ہے، جہاں وہ وزیرِ اعظم نریندر مودی سے ملاقات کرنے کی خواہش رکھتے ہیں، جن کے ساتھ ان کے تعلقات ہمیشہ دوستانہ رہے ہیں۔وال اسٹریٹ جرنل نے سب سے پہلے رپورٹ کیا تھا کہ ٹرمپ نے اپنے مشیروں سے کہا تھا کہ وہ چین کا دورہ کرنا چاہتے ہیں۔

    ٹرمپ نے چین کے صدر شی جن پنگ سے جمعہ کو فون پر بات کی تھی، ٹرمپ نے شی کو اپنی تقریبِ حلف برداری میں شرکت کی دعوت بھی دی تھی، مگر چین نے اس کی بجائے نائب صدر ہان ژینگ کو بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ٹرمپ نے ہمیشہ یہ موقف اپنایا ہے کہ امریکی صدور کو غیر ملکی حریفوں سے براہِ راست بات کرنی چاہیے، اور وہ اپنے انتخابی مہم کے دوران اکثر یہ دعویٰ کرتے تھے کہ ان کی شی اور روسی صدر ولادیمیر پوتن جیسے رہنماؤں سے بہترین تعلقات ہیں۔

    ٹرمپ کے مشیر جیسن ملر نے سی این این کو بتایا، "ٹرمپ نے اپنے پہلے چار سالوں میں یہ بات بہت مؤثر طریقے سے کی کہ اگر آپ کسی ملک کے ساتھ کچھ بدلنا چاہتے ہیں، چاہے وہ دشمن ہو یا حریف ہو، یا چین کے معاملے میں، تو آپ کو ان سے بات کرنے کی ضرورت ہے اور کہنا ہوگا، ‘یہ وہ چیز ہے جو ہم کرنا چاہتے ہیں۔’” ملر نے مزید کہا، "کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم دوست بن جائیں گے؟ نہیں، بالکل نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ٹرمپ صدر ان کے ساتھ براہِ راست سخت موقف اختیار کر سکتے ہیں۔”ایک مشیر نے سی این این کو بتایا کہ "ٹرمپ کا مقصد شی کے ساتھ سودے کرنا ہے”۔

    انہوں نے کہا، "ٹرمپ اپنے تعلقات کو چینی صدر کے ساتھ امریکی تعلقات کا نمائندہ سمجھتے ہیں۔” اس مشیر نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ اقتدار میں شی کے ساتھ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کی کوشش کی تھی ،”ٹرمپ نے اس بات کو اس طرح سمجھا کہ شی یہ دکھانا چاہتے تھے کہ وہ ان کی کتنی عزت کرتے ہیں”، مشیر نے کہا، جو اس دورے میں شامل تھا۔ "وہ اس تعلقات کو دوبارہ زندہ کرنا چاہتے ہیں۔”

    شی جن پنگ نے بھی ٹرمپ کے ساتھ ایک زیادہ کھلے رویے کا اشارہ دیا ہے، جس میں نومبر میں ٹرمپ کی فتح کے بعد انہیں مبارکباد دینا شامل ہے اور کہنا تھا کہ امریکہ اور چین کو "نئے دور میں ایک دوسرے کے ساتھ مناسب طریقے سے تعلقات قائم کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ دونوں ممالک اور دنیا بھر کے لیے فائدہ مند ثابت ہو”۔

    چیمپئنز ٹرافی:ٹورنامنٹ میں بہترین کارکردگی دکھانے کی کوشش کریں گے،روہت شرما

    ٹرمپ کی حلف برداری سے قبل واشنگٹن میں خطاب کےاہم نکات

  • بائیڈن انتظامیہ کے "تباہ کن” آرڈرز کو واپس لوں گا،ٹرمپ

    بائیڈن انتظامیہ کے "تباہ کن” آرڈرز کو واپس لوں گا،ٹرمپ

    امریکی نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے پہلے دن کی تقریب حلف برداری کے بعد فوری طور پر کئی ایگزیکٹو آرڈرز جاری کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ اپنی انتخابی مہم کی متعدد پالیسی ترجیحات کو مکمل کریں۔ ٹرمپ نے اتوار کے روز اعلان کیا کہ وہ اپنے پہلے دن کے دوران "تقریباً 100” ایگزیکٹو آرڈرز جاری کریں گے، جن میں سے بیشتر بائیڈن انتظامیہ کے جاری کردہ آرڈرز کو واپس لینے یا ختم کرنے کے لیے ہوں گے۔

    ٹرمپ کے نائب چیف آف اسٹاف برائے پالیسی، اسٹیفن ملر، نے اتوار کی دوپہر سینئر کانگریسی ریپبلکنز کے ساتھ ایک فون کال میں ان آرڈرز کی تفصیل پیش کی۔ ذرائع کے مطابق اس کال میں پالیسی کی تفصیلی وضاحت کے بجائے، ٹرمپ کی ٹیم نے اس بات کا تعارف کرایا کہ قانون سازوں کو کیا توقع رکھنی چاہیے۔ مزید تفصیلات بعد میں کیپٹل ہل کے اتحادیوں تک پہنچائی جائیں گی۔ملر نے ایگزیکٹو آرڈرز کے تحت اہم امیگریشن اقدامات کی تفصیلات شیئر کیں، جن میں سرحد پر نیشنل ایمرجنسی کا اعلان شامل ہے، تاکہ دفاعی محکمے سے فنڈنگ حاصل کی جا سکے۔ ٹرمپ اپنے پہلے دور حکومت کی "مائگرینٹ پروٹیکشن پروٹوکول” پالیسی کو دوبارہ فعال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جسے جو بائیڈن نے اپنے پہلے دن ہی منسوخ کر دیا تھا۔

    ٹرمپ کی ٹیم نے ان پالیسی اقدامات کو ایک طویل عرصے سے تیار کی گئی حکمت عملی کے طور پر بیان کیا، جس کا مقصد امیگریشن کے مسائل پر قابو پانا اور سرحدی سیکیورٹی کو مضبوط کرنا ہے۔ اس کے علاوہ، ٹرمپ غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں بعض منشیات کی اسمگلنگ کرنے والی تنظیموں کو شامل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ٹرمپ کی ٹیم نے اس بات کا بھی عندیہ دیا کہ وہ اپنے دوسرے دور حکومت میں توانائی کے شعبے میں اہم اقدامات اٹھائیں گے۔ ان میں سے ایک ایگزیکٹو آرڈر "شیڈول ایف” ہو گا جس کے تحت وفاقی ملازمین کے لیے کام کے تحفظات کو محدود یا ختم کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، ٹرمپ ایگزیکٹو آرڈرز کے ذریعے وفاقی حکومت کے تنوع، مساوات اور شمولیت کے پالیسیوں کو منسوخ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جنہیں بائیڈن نے اپنے پہلے دن نافذ کیا تھا۔ٹرمپ توانائی کے شعبے میں بھی ایمرجنسی کا اعلان کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جس کے تحت مقامی توانائی پیداوار، صنعتوں، اجازت ناموں کے قواعد اور توانائی کے شعبے کے ساتھ متعلقہ زمینوں کو ہدف بنایا جائے گا۔

    ان تمام ایگزیکٹو آرڈرز کے ممکنہ قانونی چیلنجز کا سامنا بھی متوقع ہے، کیونکہ یہ اقدامات بڑے پیمانے پر بائیڈن انتظامیہ کی پالیسیوں کو رد کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ تاہم، ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ اپنی قلم کی ایک لکیر سے ان اقدامات کو نافذ کریں گے اور بائیڈن انتظامیہ کے "تباہ کن” آرڈرز کو واپس لے لیں گے۔ٹرمپ کا کہنا تھا، "میں اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے فوراً بعد سینکڑوں ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کروں گا، جن میں سے بیشتر کل میری تقریر میں وضاحت سے بیان ہوں گے۔”

    ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈرز کے اس سیٹ کا مقصد اس کے انتخابی وعدوں کو عملی جامہ پہنانا ہے اور بائیڈن کے نفاذ کردہ اقدامات کو بدلنا ہے۔ ان اقدامات کے خلاف قانونی چیلنجز متوقع ہیں لیکن ٹرمپ کی ٹیم ان تبدیلیوں کو جلدی اور تیز رفتاری سے نافذ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

    طالبان کے اہم رہنما کی افغان خواتین ،لڑکیوں پر تعلیمی پابندیاں اٹھانے کی اپیل

    حج 2025 کی تیاری میں کسی قسم کی لاپرواہی قبول نہیں،وزیراعظم

  • ٹرمپ کی حلف برداری،چین سے کون ہو گا شریک

    ٹرمپ کی حلف برداری،چین سے کون ہو گا شریک

    چینی صدر شی جن پنگ نے اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کی دعوت خود قبول نہیں کی، لیکن بیجنگ نے ایک اعلیٰ حکومتی اہلکار کو واشنگٹن میں ہونے والی اس تقریب میں شرکت کے لیے بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چین کے نائب صدر ہان ژینگ نے اتوار کو امریکی نائب صدر جے ڈی ونسے سے ملاقات کی، اور پیر کو ہونے والی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کریں گے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام بیجنگ کے لیے ایک اہم، خیرسگالی کا اظہار ہے کیونکہ چین ٹرمپ اور ان کی نئی کابینہ کے ساتھ بڑے تناؤ سے بچنا چاہتا ہے۔

    ہان ژینگ چین کے سب سے سینئر حکومتی اہلکار ہیں جو امریکی حلف برداری میں شرکت کر رہے ہیں، تاہم چین کے سیاسی نظام میں نائب صدر کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے۔ اصل اقتدار چینی کمیونسٹ پارٹی کے طاقتور پولیٹ بیورو اسٹینڈنگ کمیٹی کے پاس ہے، جس سے ہان نے 2022 میں ریٹائرمنٹ لے لی تھی۔اس کے باوجود، ایک اعلیٰ حکومتی اہلکار کو امریکہ بھیجنے کا مطلب یہ ہے کہ بیجنگ امریکہ اور چین کے درمیان کشیدہ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے دلچسپی رکھتا ہے۔ ہان نے مختلف بین الاقوامی ایونٹس میں شی جن پنگ کی نمائندگی کی ہے، جن میں برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوم کا تاجپوشی بھی شامل ہے۔

    ہان نے اس دورے کے دوران امریکی کاروباری برادری کے افراد سے ملاقات کی، جن میں ٹیسلا کے سی ای او اور ٹرمپ کے قریبی اتحادی ایلون مسک بھی شامل ہیں۔ چینی خبر ایجنسی کے مطابق، ہان نے مسک کے ساتھ ملاقات میں امریکی کمپنیوں سے کہا کہ وہ چین اور امریکہ کے تجارتی تعلقات کو فروغ دیں۔ ٹیسلا کا سب سے بڑا پیداواری پلانٹ امریکہ کے باہر چین کے شہر شنگھائی میں واقع ہے۔

    ہان کا امریکہ پہنچنا چینی صدر شی جن پنگ اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان جمعہ کو ہونے والی ایک ٹیلیفونک بات چیت کے بعد ہوا، جس میں دونوں رہنماؤں نے ایک نئے دور کا آغاز کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ چینی وزارت خارجہ کے مطابق شی نے ٹرمپ کو دوبارہ انتخاب پر مبارکباد دی اور کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئے آغاز کی ضرورت ہے۔

    ماہرین کے مطابق ہان کا ٹرمپ کی حلف برداری میں شرکت کرنا بیجنگ کی جانب سے اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ ٹرمپ کی دعوت کو سنجیدہ لے رہا ہے اور ایک نئے تعلقات کی طرف قدم بڑھانے کے لیے تیار ہے۔ تاہم، یہ بھی خطرات کا سامنا کرسکتا ہے کیونکہ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں چین پر بھاری ٹیکس عائد کرنے کی دھمکی دی تھی، جو چین کے لیے ایک بڑا چیلنج ہو سکتا ہے۔اگرچہ چین اور امریکہ کے تعلقات میں اقتصادی، تجارتی، اور سیکیورٹی مسائل کی بنا پر تناؤ رہا ہے، لیکن چین کو ٹرمپ کے دور میں ان تعلقات کو بہتر کرنے کا ایک موقع نظر آ رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ٹرمپ اقتصادی مقابلہ بازی کو اہمیت دیں گے، نہ کہ چین کی جانب سے امریکی عالمی حکم کے لیے خطرے کو۔ اس کے علاوہ، ٹرمپ نے شی جن پنگ کو "کامیاب” اور "طاقتور” رہنما قرار دیا ہے، جو اس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ وہ چین کے ساتھ تعلقات میں نرمی کی کوشش کرسکتے ہیں۔

    بیجنگ کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ ٹرمپ کی حکومت کے ساتھ نئے تعلقات کا آغاز کرے، خاص طور پر جب ٹرمپ کی پالیسی کا فوکس اقتصادی تعلقات پر ہوگا۔

    حج 2025 کی تیاری میں کسی قسم کی لاپرواہی قبول نہیں،وزیراعظم

    ٹرمپ کا عمران کی رہائی کیلئے کردارصرف پی ٹی آئی کی خوش گمانی

  • ٹرمپ کا عمران کی رہائی کیلئے کردارصرف پی ٹی آئی کی خوش گمانی

    ٹرمپ کا عمران کی رہائی کیلئے کردارصرف پی ٹی آئی کی خوش گمانی

    پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی نے تحریک انصاف کے اس خیال کو محض خوش گمانی قرار دیا ہے کہ نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ عمران خان کی رہائی میں کسی قسم کا کردار ادا کریں گے۔

    حسین حقانی کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف یہ سمجھتی ہے کہ ٹرمپ اور عمران خان دونوں ہی پاپولسٹ لیڈر ہیں اور اس لئے یہ توقع کی جاتی ہے کہ ٹرمپ کے دل میں عمران خان کے لیے ہمدردی ہو گی، لیکن حقیقت میں ایسا کوئی اشارہ ابھی تک نہیں ملا کہ نئی امریکی انتظامیہ اس معاملے میں کوئی اثر انداز ہو گی۔بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں حسین حقانی نے کہا کہ تحریک انصاف کا یہ خیال بھی ہے کہ انہوں نے امریکہ میں مضبوط لابنگ کی ہے اور اس کا اثر عمران خان کی رہائی کے معاملے پر پڑے گا۔ ان کے مطابق، پی ٹی آئی کا تیسرا گمان یہ ہے کہ امریکہ پاکستان پر عمران خان کی رہائی کے لیے دباؤ ڈال سکتا ہے اور چوتھا یہ کہ صدر ٹرمپ کے دل میں عمران خان کے لیے ہمدردی موجود ہے۔

    حسین حقانی نے اس خیال کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ نئی امریکی انتظامیہ اس معاملے میں کچھ کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ ماضی میں بھی پاکستان کے معاملات پر امریکہ کی مداخلت یا دباؤ کی کوئی مثال نہیں ملتی، جیسے کہ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے وقت امریکہ نے مخالفت کی تھی لیکن اس کا کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔ اسی طرح نواز شریف کی قید کے دوران بھی امریکی صدر بل کلنٹن کی مداخلت کے باوجود انہیں رہائی نہ مل سکی تھی، بلکہ سعودی عرب کی مداخلت پر نواز شریف کو سعودی عرب بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

    حسین حقانی نے مزید کہا کہ اگر ٹرمپ واقعی پاکستان پر کوئی دباؤ ڈالنا چاہیں تو ان کے پاس کوئی خاص طریقہ نہیں ہے۔ جمی کارٹر کے دور میں بھی جب انہوں نے بھٹو کی پھانسی کی مخالفت کی تھی، امریکہ کے پاس پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لیے کوئی امدادی پیکیج یا پابندیاں نہیں تھیں جن کو وہ منسوخ کر سکتے۔ ان کے مطابق 2007 میں بے نظیر بھٹو کی پاکستان واپسی کے دوران امریکہ کو پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی قوت اس لئے تھی کہ پاکستان کو امریکہ سے سالانہ امداد ملتی تھی جو پاکستان کی معیشت اور مشرف حکومت کے لیے ضروری تھی۔

    حسین حقانی نے کہا کہ اس وقت امریکہ کے پاس پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لیے ایسا کوئی آلہ نہیں ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتا ہے کہ ٹرمپ آئی ایم ایف میں امریکہ کے ووٹ کے ذریعے پاکستان کے خلاف کچھ موقف اختیار کریں، لیکن وہ بھی بعید لگتا ہے کیونکہ ایسا ماضی میں کبھی نہیں ہوا۔انہوں نے اس بات کو واضح کیا کہ اس وقت پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں ایسا کوئی عنصر نہیں ہے جو عمران خان کی رہائی کے حوالے سے امریکہ کے کردار کو مؤثر بنائے۔

    طالبان کو کوئی پیسہ نہیں دیں گے ،ٹرمپ

    سیف علی خان حملہ،ملزم کی نمائندگی کیلئے عدالت میں وکلا لڑ پڑے

  • طالبان کو کوئی پیسہ نہیں دیں گے  ،ٹرمپ

    طالبان کو کوئی پیسہ نہیں دیں گے ،ٹرمپ

    نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء پر صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

    ٹرمپ نے کہا کہ "ہم طالبان کو کوئی پیسہ نہیں دیں گے جب تک وہ ہمارا فوجی سامان واپس نہیں کرتے۔” ٹرمپ نے بائیڈن انتظامیہ پر الزام لگایا کہ انہوں نے افغانستان سے انخلاء کے دوران طالبان کو ” اربوں ڈالر” مالیت کا فوجی سامان دے دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "انہوں نے طالبان کو یہ سامان دیا، اور ہمارے فوجی سامان کا ایک بڑا حصہ دشمن کو دے دیا۔”ٹرمپ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ افغانستان سے امریکی فوج کا انخلاء ایک غیر منظم اور بے ترتیب عمل تھا جس نے امریکا کی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ اس انخلاء کی وجہ سے طالبان کو جدید ترین فوجی سامان مل گیا، جو کہ ایک سنگین غلطی تھی۔

    ٹرمپ کی یہ تنقید اس وقت سامنے آئی ہے جب افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہونے کے بعد امریکی فوجی سامان کی بڑی مقدار طالبان کے ہاتھوں میں آئی۔ یہ سامان جدید ہتھیاروں، گاڑیوں اور دیگر فوجی آلات پر مشتمل تھا، جو افغان فورسز کے ہاتھوں سے چھن کر طالبان کے قبضے میں آیا۔اس بیانیے کے ذریعے ٹرمپ نے ایک بار پھر بائیڈن انتظامیہ پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے افغانستان سے غیر محفوظ طریقے سے انخلاء کیا اور اپنے فوجی وسائل دشمن کے حوالے کر دیے۔

    کرم ، آپریشن کے متاثرین کے لیے عارضی کیمپ قائم کرنے کا فیصلہ

    پالپا کا پائلٹ کی تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ

  • نواز شریف کو بچانے کیلیے بل کلنٹن کی واش روم جاتے ہوئے پاکستانی اہم شخصیت سے ملاقات ہوئی

    نواز شریف کو بچانے کیلیے بل کلنٹن کی واش روم جاتے ہوئے پاکستانی اہم شخصیت سے ملاقات ہوئی

    جنرل پرویز مشرف دور میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین اور قومی کمیشن برائے انسانی ترقی کے سابق سربراہ ڈاکٹر نسیم اشرف نے انکشاف کیا ہے کہ سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے سابق وزیر اعظم پاکستان نواز شریف کو پھانسی سے بچانے کیلئے اس وقت کے چیف جسٹس سے خفیہ ملاقات کی تھی۔اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے امریکی صدر بل کلنٹن کو دورہ پاکستان سے منع کر دیا تھا لیکن صدر بل کلنٹن نے محض اس لیے پاکستان جانے کا فیصلہ کیا کہ برطرف وزیراعظم میاں نواز شریف کو پھانسی سے بچایا سکیں۔ جنرل پرویز مشرف کی جانب سے یقین دہانی کے بعد وہ چند گھنٹوں کے لیے پاکستان آئے۔ امریکی صدر نے چیف جسٹس آف پاکستان سے بھی ایک خفیہ ملاقات کی تاکہ یہ یقین دہانی حاصل کی جا سکے کہ نواز شریف کو پھانسی نہیں دی جائے گی۔

    نجی ٹی وی جیو کے مطابق ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر نسیم اشرف نے اپنی کتاب رنگ سائیڈ میں کیا جس کی پشاور میں کل تقریب رونمائی ہو گی جبکہ پاکستان کے مختلف شہروں میں بھی کتاب کی رونمائی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا۔ بل کلنٹن کے دورہ پاکستان کے بارے میں انہوں نے انکشاف کیا کہ صدر پرویز مشرف کی یقین دہانی کے باوجود انہوں نے صدارتی ظہرانے کے دوران واش روم جانے کا فیصلہ کیا، اگلے ہی لمحہ پاکستان کے چیف جسٹس ارشاد حسن خان بھی واش روم چلے گئے جہاں دونوں کے درمیان ملاقات پانچ منٹ تک گفتگو جاری رہی۔صدر کلنٹن نے چیف جسٹس آف پاکستان سے استفسار کیا کہ نواز شریف کو پھانسی کی سزا تو نہیں ہو گی جس پر جسٹس ارشاد حسن خان نے انہیں یقین دلایاکہ ایسا نہیں ہو گا،یہ واقعہ اپنی نوعیت کا ایک تاریخی اور چشم کشا واقعہ قرار دیا جا سکتا ہے۔

    ڈاکٹر نسیم اشرف نے اپنی کتاب میں لکھا کہ شہباز شریف کابینہ میں شامل ڈاکٹر مصدق ملک نے ملک و قوم کی خاطر امریکا میں لاکھوں روپے ماہانہ کی ملازمت چھوڑ کر پاکستان آنے اور یہاں انسانی ترقی کے شعبہ میں کام کرنے کا فیصلہ کیا وہ ایک انتہائی محب وطن پاکستانی ہیں۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق انہوں نے لکھا ہے کہ جنرل مشرف کے دور میں اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق کام ہوا تھا اور مرحوم ڈاکٹر اسرار احمد نے بھی اسرائیل مکالمے کی حمایت کی تھی۔انہوں نے 2019 میں عمران خان کے دورہ امریکا کوکامیاب قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ اس دورہ کے نتیجے میں پاکستان اور امریکا کے تعلقات مستحکم ہوئے تھے۔

    ڈاکٹر نسیم اشرف کے مطابق جنرل پرویز مشرف کے دورہ ہندوستان کے موقع پر انہوں نے بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ سے ملاقات کی اور ان سے ایک واقعہ کے بارے میں استفسار کیا جس کے جواب میں منموہن سنگھ نے تصدیق کی کہ انہوں نے بھارتی بوئنگ طیارے میں دو ٹن سونا بنک آف برطانیہ کے لیے بھیجا تاکہ قرضہ حاصل کیا جا سکے، وہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کے حق میں نہیں تھے، بینک آف انگلینڈ سے لیے جانے والے قرض سے انہوں نے ہندوستان میں نئی اقتصادی پالیسی کا آغاز کیا۔ڈاکٹر نسیم اشرف نے عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائما خان کے بارے میں لکھا کہ انہوں نے اپنا سب کچھ پاکستان پر قربان کر دیا تھا، وہ ایک قابل فخر انسانی ہمدرد ہیں۔

    قومی کمیشن برائے انسانی ترقی کو ڈاکٹر نسیم اشرف اپنا ایک عظیم کارنامہ قرار دیتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ اس ادارے نے تعلیم کے فروغ اور لوگوں کو غربت کی لکیر سے نکانے میں قابل ذکر کردار ادا کیا تاہم انہیں چیئرمین کی حیثیت سے کئی محازوں پر شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور ایک بار تو انہوں نے استعفے کا فیصلہ بھی کر لیا تھا۔ پروگرام کی کامیابی کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ وزیراعظم برطانیہ ٹونی بلیئر کے صاحبزادے نکولس بلیئرخاص طور پر انٹرن شپ کے لیے پاکستان آئے۔

    پاک امریکا تعلقات کے حوالے سے ڈاکٹر نسیم اشرف نے کئی امور پر قلم کشائی کی، ان کے خیال میں نائن الیون کے واقعہ نے امریکا کو ہلا کر رکھ دیا، یہی وجہ تھی کہ امریکا نے افغانستان کو نشانہ بنایا تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ صدر پرویز مشرف نے امریکی صدر جارج بش کو ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا، البتہ 7 میں سے 5 مطالبات تسلیم کیے۔اگر پاکستان امریکی مطالبات نہ مانتا تو پاکستان کو معاشی طور پر تباہی سے دوچار ہونا پڑتا جو ملکی سلامتی کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوتا۔ڈاکٹر نسیم نے یہ بھی واضح کیا کہ امریکا میں مقیم پاکستانی جمہوریت کے داعی اور محب وطن پاکستانی ہیں جنہوں نے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا اور یہی وجہ تھی کہ جب نواز شریف کو ہٹایا گیا تو پاکستانیوں نے ان کی بحالی کے لیے مظاہرے کیے اور اخبارات میں اشتہارات بھی دیے جبکہ کانگرس اراکین سمیت امریکی صدر کو خط بھی لکھا جس کے نتیجہ میں صدر کلنٹن نے پاکستان کا دوہ بھی کیا۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ کی حیثیت سے مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، خوشی ہے کہ ملک بھر میں 19 اسٹیڈیم بنائے۔ڈاکٹر نسیم اشرف نے پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ میچ کے بائیکاٹ سے متعلق لکھا کہ اوول ٹیسٹ پہلے انضمام الحق نے کھیلنے سے انکار کیا، بعد میں وہ جنرل مشرف کی مداخلت پر راضی ہوئے تو امپائرز نے انکار کر دیا