Baaghi TV

Tag: امریکا

  • ڈونلڈ ٹرمپ کا دہشت گردی کے حامی غیر ملکیوں کیخلاف نیا صدارتی حکم نامہ

    ڈونلڈ ٹرمپ کا دہشت گردی کے حامی غیر ملکیوں کیخلاف نیا صدارتی حکم نامہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دہشت گردی کے حامی غیر ملکیوں کے خلاف ایک نیا صدارتی حکم نامہ جاری کر دیا ہے جس کا مقصد امریکی قومی سلامتی کو مزید مستحکم کرنا ہے۔ اس حکم نامے کا عنوان ’امریکا کو غیر ملکی دہشت گردوں اور دیگر قومی سلامتی و عوامی تحفظ کے خطرات سے محفوظ رکھنا‘ رکھا گیا ہے۔

    اس نئے حکم نامے کا بنیادی مقصد ایسے غیر ملکیوں کی شناخت اور جانچ پڑتال کرنا ہے جو امریکا کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ اس میں خاص طور پر ان افراد کو نشانہ بنایا گیا ہے جو حماس اور حزب اللّٰہ کی حمایت کرتے ہیں، اور ان افراد کے خلاف سخت اقدامات کی تجویز دی گئی ہے جو ان تنظیموں کے ساتھ وابستہ مظاہروں یا دیگر سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں۔ اس کے تحت ایسے افراد کو فوری طور پر ملک بدر کرنے کی کارروائی کی جا سکتی ہے۔صدارتی حکم نامے کے مطابق ہوم لینڈ سیکیورٹی، محکمۂ خارجہ اور انٹیلی جنس ایجنسیاں ایسے افراد کے بارے میں سخت نگرانی اور جانچ پڑتال کریں گی تاکہ ان خطرات کی فوری شناخت کی جا سکے جو امریکی قوم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس میں خاص طور پر ان غیر ملکیوں کو ہدف بنایا جائے گا جو پہلے ہی امریکا میں موجود ہیں اور امریکا مخالف نظریات رکھتے ہیں یا نفرت انگیز نظریات کی ترویج کر رہے ہیں۔

    یہ حکم نامہ خاص طور پر ان غیر ملکیوں کی سخت جانچ کا تقاضا کرتا ہے جو مشرقِ وسطیٰ، جنوبی ایشیاء اور شمالی افریقا جیسے دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں سے امریکا آتے ہیں۔ ان افراد کے ویزا کی جانچ بھی سختی سے کی جائے گی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ امریکا میں داخل ہونے والے افراد ملک کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ نہ بنیں۔

    مذہبی آزادی اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس حکم نامے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ حکم نامہ داخلی اور عالمی سطح پر ایک بڑا تنازعہ پیدا کرے گا اور اسے ٹرمپ کے گزشتہ دورِ اقتدار میں جاری کردہ ’مسلم بین‘ کے حکم نامے سے ملتا جلتا سمجھا جا رہا ہے، جس میں مسلمانوں اور ان ممالک کو نشانہ بنایا گیا تھا جہاں مسلمان بڑی تعداد میں آباد ہیں۔دوسری جانب ٹرمپ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام امریکا کی قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ غیر ملکی افراد کو امریکی آزادی کا غلط استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے تاکہ وہ نفرت یا تشدد کو فروغ نہ دے سکیں۔

    صدر ٹرمپ کے ناقدین، شہری حقوق کے ادارے اور مہاجرین کے حقوق کے لیے سرگرم گروہ نے اس حکم نامے پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ حکم نسلی امتیاز کو فروغ دے سکتا ہے، مسلمانوں کو نشانہ بنا سکتا ہے اور آزادیٔ اظہار پر قدغن لگانے کا باعث بن سکتا ہے۔اس حکم نامے پر آنے والے دنوں میں امریکا اور عالمی سطح پر مزید بحث اور تنازعات کی توقع کی جا رہی ہے

    انسانی اسمگلنگ،سدباب کیلئے وزیرِ اعظم کی سربراہی میں خصوصی ٹاسک فورس قائم

  • عافیہ صدیقی کی رحم کی اپیل مسترد،اسلام آباد ہائیکورٹ کو آگاہ کر دیا گیا

    عافیہ صدیقی کی رحم کی اپیل مسترد،اسلام آباد ہائیکورٹ کو آگاہ کر دیا گیا

    سابق امریکی صدر جو بائیڈن نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی امریکی جیل سے رہائی کے لیے کی گئی رحم کی اپیل کو مسترد کر دیا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کو آگاہ کر دیا گیا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی اور ان کے امریکی وکیل کلائیو اسمتھ ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے، جب کہ وکیل درخواست گزار عمران شفیق اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل بھی موجود تھے۔سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ سابق امریکی صدر جو بائیڈن نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رحم کی اپیل مسترد کر دی ہے۔ اس کے علاوہ، امریکا نے پاکستان کے ساتھ قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے کیے گئے معاہدے سے انکار کر دیا ہے۔ اس پر جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ریمارکس دیے کہ "امریکا ہمیں ہماری اوقات دکھا رہا ہے، سابق امریکی صدر نے اپنے بیٹے کی سزا تو معاف کر دی لیکن ہمارے قیدی کو رہا نہیں کیا۔”

    اس دوران عدالت میں وزیراعظم اور وزیر خارجہ کے بیرون ملک دوروں کی تفصیلات پر مشتمل رپورٹ پیش کی گئی، جبکہ امریکی سفیر کی ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے متعلق ملاقاتوں میں شرکت نہ کرنے پر بھی جواب جمع کرایا گیا۔ وزارت خارجہ نے عدالتی سوالات کے جوابات پر مشتمل ایک رپورٹ بھی عدالت میں جمع کرائی۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس کیس کی سماعت مزید دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی ہے تاکہ اس پر مزید غور کیا جا سکے اور پاکستان کی حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات پر بحث کی جا سکے۔

    یہ امر قابل ذکر ہے کہ سابق امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنی مدت صدارت کے آخری دنوں میں اپنے بیٹے سمیت کئی قیدیوں کی رہائی کے پروانے پر دستخط کیے تھے۔ تاہم، ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رحم کی اپیل کے باوجود، جو بائیڈن نے ان کی رہائی کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا۔اس پیشرفت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کی کوششیں مزید پیچیدہ ہو چکی ہیں

    امریکی صدر نے 5افراد کو معافی دیدی،عافیہ صدیقی کا نام نہیں

    عافیہ صدیقی کی رہائی، وطن واپسی کیس کی سماعت 24 جنوری تک ملتوی

    عافیہ صدیقی کی رہائی، وطن واپسی کیس کی سماعت 24 جنوری تک ملتوی

    عافیہ صدیقی کی بہن فوزیہ صدیقی حکومت پر پھٹ پڑیں

  • سعودی ولی عہد کا ٹرمپ سے رابطہ،600 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا فیصلہ

    سعودی ولی عہد کا ٹرمپ سے رابطہ،600 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا فیصلہ

    سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ایک اہم ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے۔ اس ملاقات میں سعودی ولی عہد نے امریکی صدر کو منصب سنبھالنے پر مبارکباد دی اور دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

    ٹیلی فونک گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد اور امریکی صدر نے باہمی سرمایہ کاری، دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی اور مشرق وسطیٰ میں قیام امن اور سلامتی پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا۔ دونوں رہنماؤں کا کہنا تھا کہ خطے میں امن و امان قائم کرنے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔

    قبل ازیں گزشتہ روز سعودی ولی عہد کی زیر صدارت سعودی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر ہونے والی تازہ ترین پیش رفت پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو آئینی حلف اٹھانے اور ریاستہائے متحدہ کی صدارت سنبھالنے پر مبارکباد دی گئی۔ سعودی کابینہ نے امید ظاہر کی کہ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کا معاہدہ اسرائیلی جنگ کے خاتمے اور فلسطینی عوام کے حقوق کے حصول میں مددگار ثابت ہوگا۔کابینہ نے یہ بھی کہا کہ فلسطینیوں کو ان کے حقوق، خاص طور پر مشرقی یروشلم اور 1967 کی سرحدوں کے ساتھ ایک آزاد ریاست کے قیام کا حق ملنا ضروری ہے تاکہ مشرق وسطیٰ میں مستقل امن قائم کیا جا سکے۔

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اس بات کا اظہار کیا کہ سعودی عرب امریکہ کے ساتھ اگلے چار سالوں میں 600 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے۔ روئٹرز کے مطابق، ولی عہد نے صدر ٹرمپ سے کہا کہ ان کی انتظامیہ کی متوقع اقتصادی اصلاحات سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان بے مثال اقتصادی خوشحالی کا باعث بن سکتی ہیں۔شہزادہ محمد بن سلمان نے اس بات پر زور دیا کہ اگر مزید مواقع پیدا ہوئے تو یہ سرمایہ کاری مزید بڑھ سکتی ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات میں مزید استحکام آئے گا۔ یہ قدم سعودی عرب کی ترقیاتی پالیسی اور امریکہ کے ساتھ تجارتی تعلقات کو مزید فروغ دینے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان یہ ٹیلی فونک رابطہ دونوں ممالک کے تعلقات میں نئے باب کا آغاز کر سکتا ہے، جس سے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام اور عالمی اقتصادی تعلقات میں مزید بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔

    جب سے موجودہ حکومت خیبر پختونخوا میں آئی ہے صوبہ تباہ ہو گیا ،عوام پھٹ پڑی

    پیسہ زندگی میں کتنی اہمیت کا حامل؟ مبشر لقمان کا یو ای ٹی میں طلبا سے خطاب

  • بگ میک اور ڈائیٹ کوک کے عادی ٹرمپ 78 سال کی عمر میں کیسے لڑ رہے ہیں؟

    واشنگٹن:ڈونلڈ جے ٹرمپ نے 78 برس کی عمر میں امریکہ کے 47 ویں صدر کا حلف اٹھا یا-

    باغی ٹی وی:ڈونلڈ ٹرمپ 78سال، سات ماہ اور چھ دن کی عمرمیں امریکہ کے صدر منتخب ہو کر سب سے عمر رسیدہ شخص بن گئے ہیں۔ جو بائیڈن، جنہوں نے 78 سال اور دو ماہ کی عمر میں حلف لیا، اپنے عہدے کی مدت ختم ہونے پر 82 سال کے ہو جائیں گے۔امریکہ کے سب سے کم عمر صدر بننے کا اعزاز تھیوڈور روزویلٹ کو حاصل ہے اس وقت ان کی عمر 42 سال اور 322 دن تھی،جمی کارٹر وہ صدر ہیں جن کی عمر سب سے طویل تھی، وہ حال ہی میں 100 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔

    2015 میں، نوخیز صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ڈاکٹر کو ایک خط لکھا جس میں اس بات کی گواہی دی گئی کہ، اگر وہ کامیاب ہوئے، تو وہ ‘صدارت کے لیے منتخب ہونے والے اب تک کے صحت مند ترین فرد’ ہوں گے۔

    تب سے، ان کے مخالفین نے ان کا مذاق اڑایا ہے (خط میں یہ بھی اعلان کیا گیا ہے کہ اس کی ‘جسمانی طاقت اور اسٹمینا غیر معمولی’ ہے) اور انتباہ جاری رکھتے ہوئے کہ ان کی عمر کا آدمی فاسٹ فوڈ اور ڈائیٹ کوک کے ساتھ، اور اس کا ورزش کا طریقہ (یا اس کی کمی) ممکنہ طور پر صحت مند نہیں ہو سکتا۔

    ان کے ناقدین کا یہ اصرار کہ نئے امریکی صدر ہارٹ اٹیک سے صرف ایک بگ میک کے فاصلے پر ہیں، ہو سکتا ہے کہ خواہش مندانہ سوچ کا ایک بہت بڑا ڈولپ ہو لیکن اس کے باوجود اسے برسوں سے مسلسل ختم کیا جا رہا ہے ٹرمپ کےڈاکٹر انہیں فاسٹ فوڈ کھانے سے منع کرتے ہیں-

    یہاں تک کہ ان کی بیوی بھی مبینہ طور پر پریشان ہے۔ گزشتہ نومبر میں، یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ میلانیا اور رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر، جو ان کے سیکرٹری صحت کے لیے نامزد ہیں، زیادہ صحت مند کھانے کے لیے ٹرمپ پر ‘گینگ اپ’ کر رہے ہیں فاسٹ فو ڈ کی جگہ کم پروٹین، سلاد اور سبزیوں کی جگہ لے رہے ہیں۔

    ٹرمپ کے دو سابق معاونین نے گواہی دی ہے کہ ٹرمپ میکڈونلڈ کا ایک عام آرڈر دو بگ میک، دو فائل-او-فش اور ایک چاکلیٹ ملک شیک تھا۔ مجموعی طور پر، 2,430 کیلوری اور پھر بھی اگر کوئی ایسا شعبہ ہے جہاں ٹرمپ نفی کرتے رہتے ہیں، تو یہ ان کی صحت ہے –

    یہ سچ ہے کہ ٹرمپ کو جو بائیڈن سے موازنہ کرنے سے فائدہ ہوا ہے، جو اب 82 سال کے ہیں، جن کی زوال پذیر ذہنی اور جسمانی صلاحیتیں حیران کن طور پر کم ہو چکی تھیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کے دوران اتوار کو فلاڈیلفیا کے مضافاتی قصبے کے میکڈونلڈز گئے اور فرنچ فرائز سٹیشن اور ڈرائیو تھرو ونڈو پر کام کیا، بکس کاؤنٹی میں میکڈونلڈز کے مالک کو بتایا کہ وہ ’ملازمت کی تلاش میں ہیں اور ہمیشہ سے اس فاسٹ فوڈ ریستوران میں کام کرنا چاہتے تھے۔‘

    میکڈونلڈز پہنچنے کے بعد ٹرمپ اپنی جیکٹ اتار کر روایتی ایپرن پہن کر فرنچ فرائز سٹیشن پر گئے کیمروں سے گھرے ہوئے ٹرمپ نے فرینچ فرائز کو گرم تیل میں ڈبویا اور ان کی نمک سے سیزننگ کے ڈرائیو تھرو ونڈو کے ذریعے گاہکوں کے حوالے کیا۔

    ریستوران کے سامنے سڑک پر ہزاروں لوگ یہ منظر دیکھنے کے لیے قطار میں کھڑے تھےٹرمپ نے اس موقعے پر کہا: ’یہ مزے کا کام ہے۔ میں یہ سارا دن کر سکتا تھا۔‘

  • صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط شدہ تمام 42 ایگزیکٹو حکمناموں کی فہرست جاری

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط شدہ تمام 42 ایگزیکٹو حکمناموں کی فہرست جاری

    واشنگٹن:نومنتخب امریکی ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کے 47ویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھانے کے فوراً بعد امیگریشن، ماحولیات اور ٹک ٹاک سے لے کر متعدد شعبوں سے متعلق ایگزیکٹو حکمنامے اور ہدایت نامے جاری کر دیئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : وائٹ ہاؤس میں منتقل ہوتے ہی ٹرمپ نے اپنے نئے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے بہت سی ایگزیکٹو سمریوں، صدارتی یادداشتوں اور پالیسی ترجیحات سے متعلق درجنوں حکمناموں پر دستخط کیے ہیں اگرچہ جاری ہونے والے اِن صدارتی ایگزیکٹو آرڈرز کی قانونی حیثیت بھی ہوتی ہے تاہم ان حکامات کو بعد میں عدالتیں یا آنے والے نئے صدور ختم کر سکتے ہیں۔

    قبل ازیں صدارت کا عہدے سنبھالتے ہی ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق امریکی صدر جو بائڈن کے دور اقتدار میں جاری کردہ 78 صدارتی حکمناموں کو منسوخ بھی کیا ہے،جس میں اظہار رائے کی آزادی اور سنسر شپ ختم کرنے کا ایگزیکٹو آرڈر پر بھی شامل ہے علاوہ ازیں، کیپٹل ہل حملے میں ملوث 15 سو افراد کو معافی دینے کے آرڈرز پر بھی دستخط کردیے گئے۔

    پنجاب میں اسکول ٹیچر انٹرنز بھرتی کرنے کا شیڈول جاری

    امریکہ میں کسی بھی نئے صدر کی جانب سے عہدہ سنبھالتے ہی ایگزیکٹو حکمناموں پر دستخط کرنا عام سی بات ہے لیکن امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں اپنے پہلے ہی دن 200 سے زیادہ حکمناموں پر دستخط کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، اور اگر ایسا ہی ہوتا ہے تو یہ کسی بھی امریکی صدر کی جانب سے منصب صدارت سنبھالنے کے پہلے ہی روز جاری کردہ حکمناموں کی سب سے بڑی تعداد ہو گی۔

    وائٹ ہاؤس میں دوسری دفعہ امریکی صدارت کا حلف اٹھانے کے بعد اپنے خطاب کے آغاز میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ آج سے امریکا کا نیا اور سنہرا دور شروع ہورہا ہے، ہم دنیا بھر میں امریکا کو نیا مقام اور عزت دلوائیں گے، ہم کسی بھی ملک کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ ہمارا فائدہ اٹھائیں، ٹرمپ انتظامیہ میں ہر ایک دن میں ’امریکا سب سے پہلے‘ کے نظریے پر کار بند رہیں گے۔

    پوسٹ مارٹم کے دوران مردہ زندہ ہوگیا،عملے کی دوڑیں

    ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ قانون کی بالادستی اور ملک کا تحفظ یقینی بنائیں گے، مزید کہا کہ ہماری ’اولین ترجیح‘ ایک آزاد، قابل فخر اور خوشحال قوم بنانا ہے، امریکا جلد ہی پہلے سے زیادہ طاقتور، مضبوط اور غیر معمولی ہو جائے گا پر امید ایوان صدر میں واپس آئے ہیں کہ ہم قومی کامیابی کے ایک سنسنی خیز نئے دور کے آغاز پر ہیں، مزید کہنا تھا کہ ملک میں تبدیلی کی لہر پھیل رہی ہے، امریکا کے پاس پوری دنیا میں فائدہ اٹھانے کا موقع ہے، جو پہلے کبھی نہیں تھا۔

    اپنے اوپر قاتلانہ حملے کی بابت بات کرتے ہوئے نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت کو اعتماد کے بحران کا سامنا ہے، کئی برسوں سے ایک بنیاد پرست اور بدعنوان اسٹیبلشمنٹ نے ہمارے شہریوں سے طاقت اور دولت چھین لی ہے جبکہ ہمارے معاشرے کے ستون ٹوٹ چکے ہیں اور بظاہر مکمل طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔

    اسرائیل کے آرمی چیف نے استعفیٰ دے دیا

    انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ حکومتیں امریکی شہریوں کی حفاظت کرنے میں ناکام رہیں، اور خطرناک مجرموں کو پناہ اور تحفظ فراہم کیا ہے، جو دنیا بھر سے ہمارے ملک میں غیرقانونی طریقے سے داخل ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے تباہی کے وقت ڈیلیور نہ کرنے اور تعلیمی نظام کے ساتھ ساتھ وسائل استعمال کرنے پر امریکی صحت عامہ کے نظام پر بھی تنقید کی۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ آج سب چیزوں کی تبدیلی شروع کرنے کا دن ہے ڈونلڈ ٹرمپ نے عہد کیا کہ اس لمحے سے امریکا کا زوال ختم ہو گیا ہے، گزشتہ 8 برسوں سے 250 سالہ تاریخ میں کسی بھی صدر سے زیادہ مجھے آزمایا اور چیلنج کیا گیا، اور میں نے اس سب سے بہت کچھ سیکھا ہے۔

    نو مئی مقدمات ،6پی ٹی آئی رہنمائوں کی ضمانت کی توثیق

    پینسلوینیا میں قاتلانہ حملے کا ذکر کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ’مجھے خدا نے بچایا تاکہ میں امریکا کو دوبارہ عظیم بناسکوں، جس پر حاضرین نے کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں،محب وطن امریکیوں کی ہر ’نسل، مذہب، رنگ‘ کے شہریوں کے لیے امید، خوشحالی اور تحفظ لائے گی، انہوں نے اعلان کیا کہ 20 جنوری 2025 آزادی کا دن ہے، قومی اتحاد اب امریکا واپس لوٹ رہا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی سرحدوں پر ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے غیر قانونی تارکین کو واپس بھیجنے کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ اس معاملے میں ہماری میکسیکو والی پالیسی ہے۔ ہم اپنے لوگوں کو انصاف، صحت کی سہولیات اور گھر کی دہلیز پر انصاف فراہم کریں گے،میں اپنے عوام کے ساتھ کھڑا ہوں اور اُن کے لیے لڑوں گا، اس لڑائی میں انہیں فتح دلواؤں گا۔

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 24 جنوری کو طلب

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط شدہ تمام 42 ایگزیکٹو آرڈرز، میمورنڈا اور اعلانات کی فہرست سامنے آ گئی ہے-

    1. جنوبی سرحد پر قومی ایمرجنسی کا اعلان کرنا

    2. میکسیکن ڈرگ کارٹلز کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کے طور پر نامزد کرنا

    3. ‘میکسیکو میں رہیں’ پالیسی کو بحال کرنا

    4. غیر قانونی تارکین وطن کے بچوں کے لیے پیدائشی حق شہریت کا خاتمہ

    5. صنفی نظریاتی انتہا پسندی سے خواتین کا دفاع

    6. وفاقی ایجنسیوں میں تنوع، مساوات، اور شمولیت (DEI) پروگراموں کو ختم کرنا

    7. پیرس موسمیاتی معاہدے سے دستبرداری

    8. قومی توانائی کی ایمرجنسی کا اعلان کرنا

    الیکٹرک وہیکل مینڈیٹ کو تبدیل کرنا

    10. وفاقی ملازمین کے لیے ‘شیڈول F’ کو نافذ کرنا

    11. یو ایس اسپیس کمانڈ ہیڈ کوارٹر کو الاباما منتقل کرنا

    12. 6 جنوری کے واقعات کے سلسلے میں سزا یافتہ افراد کو معاف کرنا

    13. اسقاط حمل کی خدمات کے لیے وفاقی فنڈنگ ​​کو روکنا

    14. ہنٹر بائیڈن اسکینڈل سے منسلک اہلکاروں کے لیے سیکیورٹی کلیئرنس معطل کرنا

    15. فیڈرل بٹ کوائن ریزرو کا قیام

    16. JFK، RFK، اور MLK کے قتل کے بارے میں خفیہ دستاویزات جاری کرنا

    17. اے آئی ریگولیشن پالیسیوں کو تبدیل کرنا

    18۔چین، میکسیکو اور کینیڈا سے درآمدات پر محصولات عائد کرنا

    19. ٹرانسجینڈر ملٹری سروس پر پابندی کو بحال کرنا

    20. ٹرانس جینڈر خواتین کو خواتین کے کھیلوں میں حصہ لینے سے روکنا

    21. سرکاری آف شور ونڈ لیز کو روکنا

    22. خلیج میکسیکو کا نام بدل کر خلیج امریکہ رکھنا

    23. ماؤنٹ ڈینالی کو ماؤنٹ میک کینلے پر واپس لانا

    24. فیڈرل ورک فورس کی بھرتی کو منجمد کرنا

    25. تیل اور گیس کی پیداوار سے متعلق ضوابط کو نرم کرنا

    26. امریکی خریدار کی تلاش کے لیے کانگریس کے TikTok پابندی کو روکنا

    27. بائیڈن دور کی امیگریشن پالیسیوں کو تبدیل کرنا

    28.عالمی صحت سے باہر نکالنا
    تنظیمیں

    29. DEI پروگراموں کے لیے وفاقی فنڈنگ ​​کو ختم کرنا

    30.محکمہ حکومتی کارکردگی (DOGE) کا قیام

    31. مسلم پابندی کو بحال کرنا

    32. پیدائشی حق شہریت کا خاتمہ

    33. فوجداری انصاف کے نظام کی اصلاح

    34. وفاقی ایجنسیوں میں کریٹیکل ریس تھیوری پر پابندی لگانا

    35. نیٹو کے تعاون میں اضافہ کا مطالبہ

    36. تجارتی طریقوں پر چین کا مقابلہ کرنا

    37. یوکرین میں جنگ کا خاتمہ

    38. قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حمایت کرنا

    39. اسکول کے انتخاب کو فروغ دینا

    40. پناہ گزینوں کے داخلے کو محدود کرنا

    41. Fentanyl اسمگلنگ پر وفاقی توجہ کو بڑھانا

    42.ایک قومی انفراسٹرکچر پلان کا آغاز

  • محسن نقوی کی واشنگٹن میں خصوصی عشائیہ میں شرکت

    محسن نقوی کی واشنگٹن میں خصوصی عشائیہ میں شرکت

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے واشنگٹن میں منعقد ہونے والے لنکن لبرٹی بال میں ایک خصوصی عشائیہ کی تقریب میں شرکت کی، جہاں انہوں نے امریکہ اور پاکستان کے تعلقات پر روشنی ڈالی۔

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کا واشنگٹن میں لنکن لبرٹی بال میں منعقدہ عشائیہ میں پرتپاک خیرمقدم کیا گیا،وزیر داخلہ محسن نقوی نے عشائیہ میں امریکی سینیٹرز، ممبرز کانگریس اور اہم شخصیات سے ملاقاتیں کیں،محسن نقوی نے اس موقع پر کہا کہ "آج امریکی عوام نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کو زبردست طریقے سے منایا ہے اور یہ ایک تاریخی لمحہ ہے جسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔”امریکی عوام ٹرمپ سے محبت کرتے ہیں، میں شاہد ہوں امریکی عوام نے ٹرمپ کی صدارت کو زبردست طریقے سے منایا، محسن نقوی کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کے دور میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کا نیا باب شروع ہوگا، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید بہتری اور مضبوطی آئے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان دو طرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے لیے مختلف اہم اقدامات کیے جائیں گے۔

    اس موقع پر محسن نقوی نے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان رابطوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں قوموں کے درمیان مضبوط دوستی اور تعاون عالمی سطح پر اہم کردار ادا کرے گا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان عالمی امن کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا اور امریکہ کے ساتھ مل کر خطے میں استحکام کی کوششیں تیز کرے گا۔

    ٹرمپ کے حلف اٹھاتے ہی عالمی ادارہ صحت کو بڑا دھچکا

    تقریب حلف برداری،ٹرمپ ہار گئے،میلانیا کوکوشش کے باوجود "بوسہ” نہ دے سکے

  • تقریب حلف برداری،ٹرمپ ہار گئے،میلانیا کوکوشش کے باوجود "بوسہ” نہ دے سکے

    تقریب حلف برداری،ٹرمپ ہار گئے،میلانیا کوکوشش کے باوجود "بوسہ” نہ دے سکے

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوسری بار بطور امریکی صدر عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے،

    ٹرمپ کی تقریب حلف برداری میں فوٹوگرافروں کے کیمرے ایک ایک سیکنڈ میں اس تاریخی لمحے کو محفوظ کر رہے تھے، اور اسی دوران ایک دلچسپ اور غیر متوقع منظر نے دنیا بھر کی توجہ حاصل کی ہے،ٹرمپ اور ان کی اہلیہ میلانیا کے درمیان یہ لمحہ ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گیا۔ نو منتخب صدر امریکا، ڈونلڈ ٹرمپ، جب کیپیٹل کی عمارت میں حاضرین کے سامنے اپنی اہلیہ میلانیا کو بوسہ دینے کی کوشش کر رہے تھے، تو ایک ہنسی مذاق کی صورتحال پیدا ہو گئی۔ٹرمپ نے اپنی اہلیہ کے گال پر بوسہ دینے کے لیے جب ان کی جانب بڑھنے کی کوشش کی، تو میلانیا کے سر پر موجود ہیٹ نے انہیں بوسہ دینے میں رکاوٹ ڈالی۔ اس وقت ان کے ارد گرد ان کے بچے بھی موجود تھے، جنہوں نے کامیابی اور فتح کی خوشی میں ٹرمپ کا ساتھ دیا تھا۔

    لیکن جب ٹرمپ نے اپنی اہلیہ کے گال پر بوسہ دینے کی کوشش کی، تو ہیٹ کی موجودگی کی وجہ سے وہ یہ نہ کر پائے۔ اس پر ٹرمپ نے فوراً صورتحال کو سنبھالا اور خود کو شرمندگی سے بچاتے ہوئے اپنی اہلیہ کو ہوا میں بوسہ (Flying Kiss) دے کر مطمئن ہو گئے۔یہ منظر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا اور صارفین نے اس "ادھورے بوسے” پر دلچسپ تبصرے کیے۔ سوشل میڈیا پر لوگوں نے اس منظر پر قہقہے لگائے اور اس کو ایک منفرد اور غیر متوقع واقعہ قرار دیا۔

    یہ لمحہ نہ صرف ہال میں موجود افراد کے لیے یادگار بن گیا، بلکہ سوشل میڈیا پر بھی اس نے اپنی جگہ بنا لی، جہاں پر صارفین نے اس کو مختلف انداز میں شیئر کیا۔ ٹرمپ کی شخصیت اور اس منفرد لمحے نے ایک بار پھر سوشل میڈیا پر اپنی دھاک بٹھا لی۔

    ٹرمپ کی سعودی اسرائیل تعلقات میں بہتری کی امید

    ٹرمپ نے حلف اٹھاتے وقت بائبل پر ہاتھ نہ رکھا

    جوبائیڈن کے 78 صدارتی اقدامات منسوخ،ٹرمپ نے اہم ایگریکٹو آرڈر پر کئے دستخط

  • ٹرمپ کی سعودی  اسرائیل  تعلقات میں بہتری  کی امید

    ٹرمپ کی سعودی اسرائیل تعلقات میں بہتری کی امید

    امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ابراہام معاہدے میں شمولیت کے امکان کا اظہار کیا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی صدرات سنبھالنے کے بعد وائٹ ہاؤس میں بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ سعودی عرب بالآخر ابراہام معاہدے میں شامل ہو جائے گا۔ اس معاہدے کا مقصد اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان تعلقات کو مستحکم کرنا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب کی اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں بہتری آنے کی امید ہے، جس سے مشرق وسطی میں امن اور استحکام کی راہیں ہموار ہوں گی۔

    پیر کے روز ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کے 47 ویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھایا اور اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ اب امریکا ترقی کرے گا اور وہ اپنے دور میں امریکا کو "پہلے رکھوں گا”۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا بہت جلد ایک مضبوط، عظیم، اور پہلے سے زیادہ کامیاب ملک بنے گا۔اپنے خطاب میں ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ان کی اولین ترجیح ایک ایسا ملک قائم کرنا ہے جو آزاد اور مضبوط ہو۔ انہوں نے اپنی صدارت کے دوران درپیش مشکلات کا ذکر کیا اور کہا کہ انھیں جن مشکلات کا سامنا ہوا وہ امریکی تاریخ میں کسی اور کو نہیں ہوئیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ امریکا کو پھر سے عظیم بنانے کے لیے کام کریں گے اور یہ دن امریکی شہریوں کی آزادی کا دن ہے۔ انہوں نے سیاہ فام اور لاطینی امریکی کمیونٹیز کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ ان کے مسائل کو سن کر ان کے لیے کام کریں گے۔ اس موقع پر انہوں نے مارٹن لوتھر کنگ ڈے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا اور اس دن کے موقع پر سیاہ فام کمیونٹی کے حقوق کے لیے کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

    نماز کی مبینہ بے حرمتی کا مقدمہ،رجب بٹ کی حفاظتی ضمانت منظور

    ٹرمپ نے حلف اٹھاتے وقت بائبل پر ہاتھ نہ رکھا

    جوبائیڈن کے 78 صدارتی اقدامات منسوخ،ٹرمپ نے اہم ایگریکٹو آرڈر پر کئے دستخط

  • ٹرمپ نے  حلف اٹھاتے وقت بائبل پر ہاتھ نہ رکھا

    ٹرمپ نے حلف اٹھاتے وقت بائبل پر ہاتھ نہ رکھا

    امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز اپنی صدارت کا حلف اٹھایا، جس کے ساتھ ہی وہ امریکا کے 47 ویں صدر بن گئے۔ اس موقع پر امریکی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جان رابرٹس نے صدر ٹرمپ سے عہدہ صدارت کا حلف لیا۔

    حلف برداری کی تقریب میں ایک حیران کن بات یہ تھی کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس موقع پر بائبل پر ہاتھ نہیں رکھا۔ جہاں ایک طرف ٹرمپ کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ دو بائبلز تھامے کھڑی تھیں، وہیں صدر ٹرمپ نے اپنا سیدھا ہاتھ بلند کیا لیکن کسی بھی بائبل پر ہاتھ نہیں رکھا۔اگرچہ امریکی دستور کے تحت صدر کے لیے بائبل پر ہاتھ رکھنا قانونی طور پر ضروری نہیں ہے، مگر یہ ایک قدیم روایت ہے کہ امریکی صدر اپنے عہدے کا حلف ایک ہاتھ بائبل پر رکھ کر لیتا ہے۔ یہ روایت امریکا کی صدارت کی تاریخ میں صدیوں سے جاری ہے، تاہم ٹرمپ کا یہ غیر متوقع اقدام لوگوں کے لیے حیرانی کا باعث بن گیا۔

    یاد رہے کہ 20 جنوری 2017 کو اپنے پہلے دور صدارت کی حلف برداری کے دوران، ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دائیں ہاتھ کو دو بائبلز پر رکھا تھا، لیکن اس بار ایسا کچھ نہیں کیا۔ اس عجیب و غریب صورتحال نے ملکی اور عالمی سطح پر بحث و مباحثہ کو جنم دیا ہے۔

    جوبائیڈن کے 78 صدارتی اقدامات منسوخ،ٹرمپ نے اہم ایگریکٹو آرڈر پر کئے دستخط

    کمیٹی چلتے ہوئے کیسز واپس لے تو عدلیہ کی آزادی تو ختم ،جسٹس منصور علی شاہ

  • ٹرمپ کی حلف برداری سے قبل بٹ کوائن ریکارڈ بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

    ٹرمپ کی حلف برداری سے قبل بٹ کوائن ریکارڈ بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

    واشنگٹن: نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری سے قبل بٹ کوائن ریکارڈ بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔

    باغی ٹی وی : فرانسیسی خبر ایجنسی کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریب حلف برداری سے قبل پیر کو بٹ کوائن کی قیمت $109,241 کی ریکارڈ بلند ترین سطح پر پہنچ گئی نومبر میں ٹرمپ کے صدارتی انتخاب جیتنے کے بعد سے دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی کی قیمت میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، دسمبر کے اوائل میں پہلی بار بٹ کوائن نے $100,000 کی سطح کو عبور کیا تھا۔

    واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کرپٹو کرنسی سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے کے منصوبے کا اشارہ دے چکے ہیں، ٹرمپ نے کرپٹو کرنسی کے حمایتی پال اٹکنز کو امریکی سیکیورٹیز ریگولیٹر کا سربراہ نامزد کیا ہے جس سے اس امید کو تقویت ملی کہ نئے صدر اس شعبے کو ڈی ریگولیٹ کر دیں گے۔

    ٹرمپ کے بعد ملانیا ڈالر کرنسی بھی لانچ

    ماضی میں کرپٹو کرنسی کو "scam” قرار دینے کے باوجود ٹرمپ نے اس ہفتے کے آخر میں اپنی خود کی کرپٹو کرنسی بھی لانچ کی تھی جسے ٹرمپ ڈالر کہا جاتا ہے، اس کرپٹو کرنسی کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن کئی ارب ڈالر تک بڑھ گئی ہے۔

    اس سے قبل بٹ کوائن کے تاریخی $100,000 کی سطح پر پہنچنے پر ٹرمپ نے اپنے ٹرتھ سوشل پلیٹ فارم پر لکھا تھا کہ مبارک ہو بٹ کوائنرز!!! $100,000!!! آپ کا استقبال ہے!!! مل کر ہم امریکا کو ایک بار پھر عظیم بنائیں گے-

    ڈھاکہ یونیورسٹی میں شیخ مجیب کی تصویر بناکر اسے نفرت کا مینار قرار دیدیا گیا