Baaghi TV

Tag: امریکا

  • امریکا نے پاکستانیوں کے لیے ویزہ شرائط مزید سخت کر دیں

    امریکا نے پاکستانیوں کے لیے ویزہ شرائط مزید سخت کر دیں

    امریکی حکومت نے پاکستانی شہریوں کے لیے اسٹوڈنٹ اور تبادلہ پروگرام کیٹیگریز کی درخواست دینے والوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو "پبلک” کریں تاکہ امریکی حکام ان کی شناخت اور سکیورٹی ویٹنگ کر سکیں۔

    یہ ہدایات امریکی قونصل خانوں کراچی اور لاہور کی جانب سے انسٹاگرام پر جاری کی گئیں، جو اس ہفتے دہلی میں امریکی سفارتخانے کی جانب سے جاری کی گئی ہدایات کی توسیع ہیں، بیان کے مطابق "تمام افراد جو F، M یا J کیٹیگری کے غیر امیگریشن ویزا کے لیے درخواست دے رہے ہیں، وہ اپنے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے پرائیویسی سیٹنگز کو ‘پبلک’ پر سیٹ کریں تاکہ ان کی شناخت اور امریکہ میں داخلے کے اہل ہونے کی تصدیق کی جا سکے۔”

    واضح رہے کہ 2019 سے امریکہ تمام ویزہ درخواست دہندگان سے سوشل میڈیا کی معلومات (اکاؤنٹ ہینڈلز) طلب کرتا رہا ہے، لیکن اب یہ شرط سختی سے لاگو کی جا رہی ہے حکام کے مطابق، سوشل میڈیا معلومات نہ دینا یا جھوٹی معلومات فراہم کرنا ویزہ انکار اور مستقبل میں نااہلی کا سبب بن سکتا ہےF اور M ویز ے امریکی تعلیمی اداروں میں داخلے کے لیے جاری کیے جاتے ہیں، جبکہ J ویزا تبادلہ پروگرامز میں شامل افراد کے لیے مخصوص ہے۔

    یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے اسٹوڈنٹ ویزہ سسٹم کی بحالی اور سکیورٹی چیکنگ کو سخت بنانے کی پالیسی کے تحت سامنے آیا ہے۔

  • امریکا اور چین کے درمیان نایاب معدنیات کی ترسیل کا معاہدہ

    امریکا اور چین کے درمیان نایاب معدنیات کی ترسیل کا معاہدہ

    امریکا نے چین کے ساتھ نایاب معدنیات (ریئر ارتھ میٹلز) کی امریکا کو ترسیل تیز کرنے کامعاہدہ کر لیا-

    ’روئٹرز‘ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا تھا کہ امریکا نے چین کے ساتھ گزشتہ روز ایک معاہدہ کیا ہے تاہم انہوں نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں، انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایک الگ معاہدہ بھارت کے حوالے سے ہو سکتا ہے، جس سے بھارت کھل جائے گا۔

    مئی میں جنیوا میں ہونے والے امریکا-چین تجارتی مذاکرات کے دوران چین نے ان نان ٹیرف اقدامات کو واپس لینے پر آمادگی ظاہر کی تھی جو اس نے 2 اپریل سے امریکا کے خلاف عائد کیے تھے، تاہم یہ واضح نہیں کہ ان اقدامات کو مکمل طور پر کیسے ختم کیا جائے گا ،چین نے امریکا کی جانب سے نئے ٹیرف کے جواب میں نایاب معدنیات اور میگنٹس کی برآمدات معطل کر دی تھیں جس سے دنیا بھر میں آٹوموبائل، ہوابازی، سیمی کنڈکٹر اور دفاعی صنعتوں کی سپلائی چین متاثر ہوئی۔

    جمعرات کو اس پیشرفت کی تصدیق کی ، اہلکار نے کہا کہ امریکی انتظامیہ اور چین نے جنیوا معاہدے پر عملدرآمد کے لیے ایک اضافی فریم ورک پر اتفاق کیا ہے،یہ معاہدہ نایاب معدنیات کی امریکا کو تیز تر فراہمی کے طریقہ کار سے متعلق ہے جبکہ ایک اور سرکاری اہلکار نے بتایا کہ امریکا اور چین کے درمیان یہ معاہدہ رواں ہفتے کے آغاز میں طے پایا۔

    امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹ نک نے ’بلومبرگ‘ کو بتایا کہ ’وہ ہمیں نایاب معدنیات فراہم کریں گے اور جب وہ ایسا کریں گے، ہم اپنی جوابی کارروائیاں ختم کر دیں گے،تاہم واشنگٹن میں چینی سفارت خانے نے اس پر فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

    خامنہ ای کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، اسرائیلی وزیر دفاع

    صنعتی ذرائع کے مطابق چین نے ان نایاب معدنیات پر دہرے استعمال کی پابندیوں کو بہت سنجیدگی سے لیا ہے اور وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے خریداروں کی جانچ کر رہا ہے کہ یہ مواد امریکی فوجی مقاصد کے لیے استعمال نہ ہو، اس عمل نے برآمدی لائسنسز کے اجرا کو سست کر دیا ہے۔

    جنیوا معاہدے پر عملدرآمد چین کی جانب سے اہم معدنیات کی برآمدات پر عائد پابندیوں کی وجہ سے رکا ہوا تھا، جس پر ردعمل میں ٹرمپ انتظامیہ نے بھی چین کو سیمی کنڈکٹر ڈیزائن سافٹ ویئر، ہوائی جہاز اور دیگر مصنوعات کی برآمد پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

    رواں ماہ کے آغاز میں ’روئٹرز‘ نے خبر دی تھی کہ چین نے امریکا کی تین بڑی آٹو کمپنیوں کے نایاب معدنیات کے سپلائرز کو عارضی برآمدی لائسنس جاری کیے ہیں، کیونکہ پابندیوں کے باعث سپلائی چین میں خلل پڑنا شروع ہو چکا تھاامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ چین کے ساتھ ایک معاہدہ طے پایا ہے جس کے تحت بیجنگ امریکا کو نایاب معدنیات اور میگنٹس فراہم کرے گا، جبکہ امریکا چینی طلبہ کو اپنی جامعات میں داخلے کی اجازت دے گا۔

    محرم الحرام میں نفرت انگیز مواد، اور اشتعال انگیزی کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ

  • ایرانی پارلیمنٹ کا عالمی جوہری توانائی ایجنسی سے تعاون  معطل کرنے پر غور

    ایرانی پارلیمنٹ کا عالمی جوہری توانائی ایجنسی سے تعاون معطل کرنے پر غور

    ایرانی پارلیمنٹ کا عالمی جوہری توانائی ایجنسی سے تعاون ختم کرنے کے بل پر غور

    مہر نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق پیر کے روز پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محمد باقر قالیباف نے ایران کے جوہری پروگرام کی پُرامن نوعیت کا اعادہ کیاانہوں نے سپریم لیڈر کی طرف سے ایٹمی ہتھیاروں کی ممانعت کے بارے میں جاری کردہ فتوے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کا کوئی غیر پُرامن سرگرمیوں کا منصوبہ نہیں، لیکن دنیا نے واضح طور پر دیکھا کہ آئی اے ای اے نے اپنے کسی بھی وعدے کا احترام نہیں کیا اور وہ ایک سیاسی آلہ بن چکی ہے۔

    محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایرانی پارلیمنٹ ایک ایسے بل پر غور کر رہی ہے، جس کے تحت ایران کا آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون اس وقت تک معطل کر دیا جائے گا، جب تک تہران کو اقوام متحدہ کی جوہری ایجنسی کے پیشہ ورانہ رویے کی قابلِ فہم ضمانتیں نہیں دی جاتیں۔

    اسرائیل کا تہران پر بڑا حملہ

    امریکا کے ایران کے جوہری مقامات پر فوجی حملوں کو ایران کے خلاف براہِ راست امریکی جنگ کے اعلان کے مترادف قرار دیتے ہوئے، قالیباف نے کہا کہ اگرچہ ہم امریکی حملے کو اسرائیلی حکومت کی اپنے مقاصد حاصل کرنے میں اسٹریٹجک ناکامی کا نتیجہ سمجھتے ہیں، لیکن ہم اسے برداشت نہیں کریں گے، ہم ضرور ایسا جواب دیں گے جس سے جواری ٹرمپ کو ہمارے پیارے ملک پر جارحیت کرنے پر پچھتانا پڑے۔

    واضح رہے کہ 13 جون کو اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ چھیڑ دی تھی، اور ایران کے فوجی اور جوہری مراکز کو نشانہ بنا رہی ہے، جب کہ امریکا نے مداخلت کرتے ہوئے اتوار کی صبح ایران کے نطنز، فردو اور اصفہان میں واقع تین جوہری مراکز پر حملے کردیے تھے۔

    وزیراعظم سے ایرانی سفیر کی ملاقات ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

  • جنگ آپ نے شروع کی لیکن ختم ہم کریں گے،پاسداران انقلاب کی ٹرمپ کو دھمکی

    جنگ آپ نے شروع کی لیکن ختم ہم کریں گے،پاسداران انقلاب کی ٹرمپ کو دھمکی

    پاسداران انقلاب نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ جنگ آپ نے شروع کی لیکن ختم ہم کریں گے امریکا براہ راست جنگ میں شامل ہو گیا ہے۔

    ایرانی فوج کے خاتم الانبیا یونٹ کے ترجمان نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کو ایران کی 3 بڑی جوہری تنصیبات پر بمباری کے بعد سنگین نتائج کے حامل طاقت ور حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا، جنگ جواری ٹرمپ نے شروع کی، ختم ہم کریں گے۔

    پاسداران انقلاب کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری کا کہنا ہے کہ امریکا نے ایرانی سرزمین کی خلاف ورزی کی ہے، امریکا کیخلاف طاقتور،ٹارگٹڈ آپریشنز کیے جائیں گے، امریکا کوبھاری، افسوسناک، غیرمتوقع نتائج کاسامنا کرنا پڑے گا،یہ جارحانہ اقدام ایک دم توڑتی صہیونی حکومت کو زندہ کرنے کے مقصد سے کیا گیا ہے۔

    کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے کہا کہ امریکا سخت آپریشنز اورشدید نتائج کاانتظار کرے، اللہ کاحکم ہے دشمن کے مقابلے کے لیے جو ہو سکے تیاری کرو، اللہ نے حکم دیا کہ قوت تیارکروجس سے تم دشمن کو ڈرا سکو امریکا ایران کے ساتھ براہ راست جنگ میں کود چکاہے، امریکا اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا، امریکی اقدام سے خطے میں جنگ کے پھیلاؤ کی راہ ہموار ہوگئی جنگ امریکا کیلیے ہرگز فائدہ مند ثابت نہیں ہوگی، مجاہدین کے جوابی آپریشنز سے دشمن کوسرپرائز ملے گا،جنگ جواری ٹرمپ نے شروع کی، ختم ہم کریں گے۔

    ایرانی میڈیا کی کمانڈر ان چیف امیر حاتمی کے خطاب کی ویڈیو جاری کی گئی جس میں انہوں نے کہا کہ ماضی میں امریکا نے مجرمانہ کارروائیاں کیں، ایران نے’فیصلہ کن جواب دیا،اس بار بھی ایسا ہی ہو گا امریکی فوجیوں کیخلاف کارروائی کاامکان پیدا ہوگیا ایران کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا ماضی میں جب بھی امریکہ نے ایران کے خلاف ’مجرمانہ کارروائی‘ کی تو انہیں اس کا ’فیصلہ کن جواب ملا ہے، اور اس بار بھی ایسا ہی ہو گا۔

    ایرانی فوجی یونٹ خاتم الانبیاء کے ترجمان نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ امریکا طاقتور جواب کا انتظار کرے، امریکی حملے ایران کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں۔

    ایرانی فوج کے چیف آف اسٹاف عبدالرحیم موسوی نے ایک بیان کہا کہ امریکی حملے کے بعد ان کی افواج کی جانب سے امریکی فوجیوں کے خلاف ’کسی بھی قسم کی کارروائی‘ کا امکان پیدا ہو گیا ہے، ایران ’کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔

    واضح رہے کہ امریکا کی جانب سے اتوار کی صبح ایران میں تین نیوکلیئر تنصیبات پر براہ راست فضائی حملے کیے گئے تھے، امریکی فضائیہ نے ایران کی تین اہم جوہری تنصیبات فردو، نطنز اور اصفہان پر حملے کے دوران دنیا کے طاقتور ترین بموں میں شمار کیے جانے والے ”بنکر بسٹر“ بم “GBU-57A/B “Massive Ordnance Penetrator (MOP) استعمال کیے تھے۔

  • ایران اپنی آزادی اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتا نہیں کرے گا ،عباس عراقچی

    ایران اپنی آزادی اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتا نہیں کرے گا ،عباس عراقچی

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اعلان کیا ہے کہ وہ صدر پیوٹن سے ملاقات کے لیے آج روس کا دورہ کر رہے ہیں ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق عراقچی کل روسی صدر سے ماسکو میں باضابطہ ملاقات کریں گے تاکہ حالیہ بحران اور خطے کی صورتحال پر سنجیدہ مشاورت کی جا سکے۔

    عباس عراقچی نے استنبول میں ایک ہنگامی میڈیا بریفنگ میں کہا کہ روس ایران کا دیرینہ دوست ہے، اور دونوں ممالک ہمیشہ ایک دوسرے سے مشورے کرتے رہے ہیں،’ہم ایک دوسرے کے ساتھ کام جاری رکھیں گے‘۔

    سفارتی کوششوں کے ضمن میں عراقچی نے مذاکرات کے مستقبل پر بھی روشنی ڈالی انہوں نے کہا کہ ’ہم مذاکرات کی میز پر کیسے واپس آئیں جب ہم وہاں سے گئے ہی نہیں انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ ہفتے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری سفارتی کوششوں کو اسرائیل نے جان بوجھ کر سبوتاژ کیا، جب کہ رواں ہفتے ایران اور یورپی نمائندوں کے درمیان مذاکرات ہو چکے تھے۔

    عباس عراقچی نے امریکہ پر الزام عائد کیا کہ اس نے ایران اور یورپی عہدیداروں کے درمیان سفارتکاری کے اس نازک موقع کو ضائع کیاان کے بقول، ایران کسی ایسی جگہ کیسے لوٹ سکتا ہے جہاں سے وہ گیا ہی نہیں۔

    عباس عراقچی نے کہا کہ امریکی فورسز نے ایران کے پرامن جوہری پروگرام کو نشانہ بنایا، جو عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ایران اپنی آزادی اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتا نہیں کرے گا اور امریکی جارحیت کے تباہ کن نتائج برآمد ہوں گےامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں وعدہ کیا تھا کہ وہ جنگوں کو ختم کریں گے، لیکن حملہ کرکے وہ اپنے ہی عوام سے کیے گئے وعدے سے منحرف ہو گئے ہیں۔

    ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا رکن ہوتے ہوئے عالمی امن کو نقصان پہنچا رہا ہے ایران عالمی ایٹمی عدم پھیلاؤ کی تنظیم (IAEA) سے اس حملے کی تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہے،امریکا نے براہ راست ایران پر حملہ کیا ہے اور اب سفارتی کوششوں کا کوئی مطلب باقی نہیں رہادنیا کو نہیں بھولنا چاہیے کہ امریکا نے سفارتکاری کے راستے کو خود مسترد کیا ہے اور اب اس کے نتائج کی ذمہ داری بھی امریکا پر عائد ہوگی۔

    انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ایرانی عوام اپنے دفاع پر کبھی سمجھوتا نہیں کریں گے اور اقوام متحدہ کا چارٹر ایران کو جواب دینے کا مکمل حق دیتا ہےعباس عراقچی نے زور دے کر کہا کہ خطے میں امن کے لیے یکطرفہ الزام تراشی یا طاقت کا استعمال نہیں، بلکہ سنجیدہ اور نتیجہ خیز سفارتکاری کی ضرورت ہے۔

  • روس کا ایران پر امریکی حملے پر محتاط ردعمل

    روس کا ایران پر امریکی حملے پر محتاط ردعمل

    کریملن نے واضح کیا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے فوری طور پر بات کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے، تاہم اس اہم معاملے پر جلد ہی فون کال متوقع ہے۔

    جبکہ روسی صدارتی معاون یوری اوشاکوف نے کہا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے امریکا کے دورے یا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے روس کے دورے فی الحال ایجنڈے میں شامل نہیں ہیں،اوشاکوف نے روسی خبر رساں ادارے ’تاس‘ کے ایک سوال کے جواب میں کہ آیا ایسے دورے ممکن ہیں، جواب دیا ’فی الحال نہیں‘۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا دونوں رہنماؤں کی ممکنہ ملاقات کسی تیسرے ملک میں ہو سکتی ہے، تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ ابھی واضح نہیں ہے، یہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ فریقین کیا طے کرتے ہیں، لیکن فی الحال اس حوالے سے کوئی بات چیت بھی نہیں ہو رہی۔

    سال کے آغاز اور صدر ٹرمپ کی حلف برداری کے بعد سے، روسی اور امریکی صدور کے درمیان 5 بار ٹیلیفونک بات چیت ہو چکی ہے، اپنی پہلی گفتگو کے دوران ہی دونوں رہنماؤں نے براہ راست رابطے برقرار رکھنے اور ذاتی ملاقاتوں کی منصوبہ بندی پر اتفاق کیا تھا۔

    کریملن کی جانب سے زور دیا گیا ہے کہ ایک سربراہی اجلاس ضروری ہوگا تاکہ اعلیٰ سطح کی کوششوں کے ذریعے حاصل شدہ نتائج کو باقاعدہ شکل دی جا سکےجب تک ان نتائج کو واضح طور پر قائم نہ کر لیا جائے، ماسکو کے نزدیک ملاقات کے امکان پر بات کرنا قبل از وقت ہوگا۔

  • ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملے کے بعد ایران کا ردعمل

    ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملے کے بعد ایران کا ردعمل

    امریکہ نے ایران میں تین جوہری تنصیبات پر حملے کیے ہیں-

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ نے ایران میں تین جوہری تنصیبات پر حملے مکمل کر لیے ہیں جن میں فردو، نطنز اور اصفہان شامل ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ یہ امریکہ، اسرائیل اور دنیا کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے۔ ایران کو اب اس جنگ کو ختم کرنے پر رضامند ہونا چاہیے،عظیم امریکی مسلح افواج کو مبارک ہو، دنیا کی کوئی دوسری فوج ایسا نہیں کر سکتی، اب امن کا وقت ہے!

    ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے ایران کے تین جوہری تنصیبات پر بہت کامیاب حملہ مکمل کر لیا ہے جن میں فردو، نطنز اور اصفہان شامل ہیں تمام طیارے اب ایران کی فضائی حدود سے باہر ہیں، فردو پر ’بموں کا پورا پے لوڈ‘ گرایا گیا تھا اور تمام طیارے امریکہ واپس جا رہے ہیں۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے کہا ہے کہ بی ٹو بمبار طیارے ایران پر امریکی حملوں میں ملوث تھے۔جیسا کہ ہم نے پہلے اطلاع دی تھی، امریکی بی ٹو سٹیلتھ بمبار طیاروں کو مبینہ طور پر امریکی جزیرے گوام کے علاقے میں منتقل کردیا گیا تھا جس سے قیاس آرائیاں شروع ہوگئی تھیں کہ طیارہ ایران پر امریکی حملے میں ملوث ہوسکتا ہے۔

    ایرانی ایٹمی توانائی ادارے نے جوہری سائٹس پر حملوں کی تصدیق کردی ہے۔

    ایرانی ایٹمی توانائی ادارے نے ایک بیان میں جوہری سائٹس پر امریکی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ دشمن نے فردو، نطنز اور اصفہان جوہری سائٹس کا نشانہ بنایا جوہری تنصیبات پر حملہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، ایران اپنےقومی صنعت کی ترقی روکنےکی اجازت نہیں دےگا، اہم تنصیبات پر امریکی حملےکے باوجود ایران پرامن ایٹمی سرگرمیاں جاری رکھےگا۔

    تنظیم نے عالمی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ اس معاملے میں لاپرواہ اور یہاں تک کہ معاون ثابت ہوئی ہے۔

    ایران کی جوہری توانائی تنظیم نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان حملوں کی مذمت کرے اور ایران کی جائز پوزیشن کی حمایت کرے دشمنوں کے منفی منصوبوں کے باوجود ایران کے سائنسدان اور ماہرین ملک کی جوہری صنعت کو آگے بڑھانے کا عمل جاری رکھیں گے اس حملے کے بعد ایران ضروری اقدامات کرے گا، جن میں قانونی کارروائیاں بھی شامل ہوں گی۔

    امریکی طیاروں کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کے بعد ایران کا ردعمل آگیا-

    ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ا مر یکہ نے ایران کی پُرامن جوہری تنصیبات پر حملہ کر کے اقوامِ متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قانون اور این پی ٹی (NPT) کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔

    عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر جاری کردہ اپنے بیان میں کہا کہ آج صبح کے واقعات نہایت افسوسناک اور قابلِ مذمت ہیں اور ان کے دیرپا نتائج ہوں گے اقوامِ متحدہ کے ہر رکن کو اس انتہائی خطرناک، غیر قانونی اور مجرمانہ طرزِ عمل پر تشویش میں مبتلا ہونا چاہیے، اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت ایران اپنی خودمختاری، مفادات اور عوام کے دفاع کے لیے تمام آپشنز محفوظ رکھتا ہے۔

    https://x.com/araghchi/status/1936638107169722536

    اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے ایرانی جوہری تنصیاب پر امریکی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ مشرق وسطیٰ میں یہ تنازع بہت تیزی سے بے قابو ہوسکتا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے رد عمل میں سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ نے ایران پر امریکا کے حالیہ فضائی حملوں کو ’انتہائی تشویشناک‘ اور ’خطرنا ک‘ قرار دیا،انہوں نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں یہ تنازع بہت تیزی سے قابو سے باہر ہو سکتا ہے، جس کے عام شہریوں، خطے اور دنیا کے لیے تباہ کن نتائج ہو سکتے ہیں، میں ایران کے خلاف آج امریکا کے طاقت کے استعمال پر شدید تشویش میں مبتلا ہوں، یہ بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔

    https://x.com/antonioguterres/status/1936603735330898368

    انہوں نے کہا کہ میں اقوام متحدہ کے رکن ممالک سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ کشیدگی کو کم کریں اور اقوام متحدہ کے چارٹر اور دیگر بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو نبھائیں، اس نازک لمحے میں ضروری ہے کہ افراتفری کے چکر کو روکا جائے اور اس مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے بلکہ آگے کا واحد راستہ سفارتکاری ہے اور واحد امید امن ہے۔

    سعودی حکام نے ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کے بعد کسی قسم کی تابکاری نہ پھیلنے کی تصدیق کردی۔

    الجزیرہ کے مطابق سعودی عرب کے نیوکلیئر اور ریڈیولوجیکل ریگولیٹری کمیشن کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر کیے گئے حملوں کے بعد سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے ماحول میں کسی قسم کی تابکار اثرات کی موجودگی کا کوئی سراغ نہیں ملا۔

    حماس کی ایران پر امریکی حملوں کی شدید مذمت

    فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس نے امریکی کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر کیے جانے والے حملوں کی شدید مذمت کی ہے حماس نے امریکی حملوں پر شدید مذمت کرتے ہوئےکہا کہ یہ وحشیانہ جارحیت کشیدگی میں خطرناک اضافے کا باعث بن سکتی ہے ایران پر امریکی حملہ بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے، ایران پر امریکی حملہ بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ ہے

    ایران نے جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کردیا۔

    قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ نے ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس نیوز کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ اقوام متحدہ میں ایران کے مشن نے امریکا کے جانب سے اس کی جوہری تنصیبات پر کیے گئے حملوں کے بعد سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے ایرانی مشن نے امریکی بمباری کو کھلی اور غیرقانونی جارحیت قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ اس کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی جائے۔

    مشن نے کہا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت سلامتی کونسل کی ذمہ داریوں کے دائرہ کار میں تمام ضروری اقدامات کیے جائیں تاکہ ان سنگین جرائم کے مرتکب کو مکمل طور پر جوابدہ ٹھہرایا جائے اور وہ سزا سے بچ نہ سکے۔

    واضح رہے کہ اتوار کی صبح ا مر یکہ نے ایران کی فردو، نطنز اور اصفہان جوہری سائٹس کو نشانہ بنایا جس سے متعلق ٹرمپ نے سوشل میڈیا سائٹ ٹرتھ سوشل پر بیان جاری کیا،اس کے علاوہ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی حملے سے قبل ہی جوہری تنصیات کو خالی کرالیا گیا تھا۔

  • سیاسی رہنما ذرا اپنے گریبان میں جھانکیں، تجزیہ: شہزاد قریشی

    سیاسی رہنما ذرا اپنے گریبان میں جھانکیں، تجزیہ: شہزاد قریشی

    تبصروں، افواہوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے، اس خصوصی ملاقات کا مقصد اور نتیجہ دیکھنے کے لئے کچھ انتظار کرنا پڑے گا۔ آرمی چیف 14 جون سے امریکہ کے دورے پر تھے امریکی صدر سے ان کی ملاقات پہلے ہی سے طے شدہ تھی وائٹ ہائوس کے کیبنٹ روم میں ظہرانہ دیا گیا وہاں صحافیوں کو داخلےکی اجازت نہیں تھی۔ ہمارے سیاستدان اس ملاقات کو لے کر اندر کی خبروں کی تلاش میں کیوں ہیں؟ کچھ ہمارے دانشور بھی اس ملاقات کو لے کر تبصرے کر رہے ہیں جبکہ جمہوریت کو لے کر اگر بات کی جائے توملکی جمہوریت سیاستدانوں کی تلاش میں ہے جمہوریت کو مستحکم کرنے، قانون کی حکمرانی، پارلیمنٹ کی بالادستی اور آئین کا نعرہ لگانے والوں کی تلاش میں ہے۔ جبکہ جمہور بنیادی مسائل کو لے کر سیاستدانوں کی تلاش میں ہے۔ خود کو ذہین و فطین اور بہت قابل انسان اور سیاستدان سمجھنے والوں سے جمہوریت سوال کر رہی ہے جمہور گرمی کے اس موسم میں لوڈشیڈنگ کی وجہ پوچھ رہی ہے۔ سیاسی گلیاروں میں اور صحافتی گلیاروں میں وہ بھی ’’میں میں‘‘ کی رٹ لگا رہے ہیں ہم کہنا تو جیسے اس کی شان کے خلاف ہے خود کو برتر سمجھنے کے خطرناک مرض میں مبتلا ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں آگ اور خون کا کھیل جاری ہے خدا کرے امریکہ جنگ بندی کروانے میں کردار ادا کرے اور کامیاب ہو جائے اگر امریکہ اس جنگ کا حصہ بنا تو خطرہ اس بات کا ہے کہ ایران کا بھی وہی حال ہوگا جو حال ماضی میں عراق کا ہو چکا ہے ایران اسرائیل کی جنگ اسلامی ممالک سمیت دنیا کے دیگر ممالک کردار اداکریں ایران کے حملوں میں شدت محسوس کی جانے لگی ہے اب تو عالم یہ ہے کہ تل ابیب دھماکوں کی گونج سے لرزہ بر اندام ہے۔ مشرق وسطیٰ کے حالات کے پیش نظر افواہوں سے اور خود ساختہ تبصروں سے باز رہا جائے۔ پاکستان اور اس کی حفاظت پر مامور پاک فوج اور جملہ ادارے مشرق وسطیٰ پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ سیاسی گلیاروں میں موجود سیاستدان اپنے کردار پر نظر رکھیں وہ جمہوریت اور جمہور کے لئے کیا کر رہے ہیں سیاسی جماعتوں اور رہنمائوں کو وائٹ ہائوس کے کیبنٹ روم میں جھانکنے کے بجائے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے۔ دنیا گول ہے جمہوریت کو خطرات لاحق نہیں تاہم جمہوریت کو سیاستدانوں سے خطرہ لاحق ہے۔ ایمانداری اور دیانتداری سے قومی فریضہ ادا کریں تکبر اور غرور سے نکل کر عاجزی اور انکساری کا سبق پڑیں۔

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر  کی امریکی تھنک ٹینکس، تجزیہ کاروں، پالیسی ماہرین اور بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں سے ملاقاتیں

    فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی تھنک ٹینکس، تجزیہ کاروں، پالیسی ماہرین اور بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں سے ملاقاتیں

    فیلڈ مارشل عاصم منیر نے دورہ امریکا کے دوران واشنگٹن ڈی سی میں معروف امریکی تھنک ٹینکس، تجزیہ کاروں، پالیسی ماہرین اور بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں،آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان نے محفوظ اور پرامن دنیا کی خاطر بھاری جانی و مالی قربانیاں دی ہیں-

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق امریکا کے سرکاری دورے کے دوران چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے واشنگٹن ڈی سی میں سینئر اسکالرز، تجزیہ کاروں، پالیسی ماہرین اور بین الاقوامی میڈیا کے نمائندہ اداروں کے ساتھ تفصیلی اور بے لاگ تبادلہ خیال کیا۔

    امریکا کے ممتاز تھنک ٹینکس اور اسٹریٹجک امور کے اداروں کے نمائندوں کے ساتھ اس ملاقات نے پاکستان کے اصولی موقف کو اہم علاقائی و عالمی امور پر اجاگر کرنے اور پاکستان کے اسٹریٹجک وژن کو بہتر طور پر سمجھانے کا موقع فراہم کیا۔

    آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنے خطاب میں علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم اور قانون پر مبنی بین الاقوامی نظام کے فروغ میں ملک کے تعمیری کردار کو اجاگر کیا، فیلڈ مارشل نے معرکۂ حق اور آپریشن بنیان مرصوص کی تفصیلات اور تجزیے کا حوالہ دیتے ہوئے دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کے نقطۂ نظر کی وضاحت کی۔

    فیلڈ مارشل نے بعض علاقائی عناصر کی جانب سے دہشت گردی کو ہائبرڈ وارفیئر کے آلہ کار کے طور پر استعمال کرنے کے منفی کردار پر روشنی ڈالی،آرمی چیف نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان دہشت گردی کی خلاف عالمی جنگ کی صفِ اول میں رہا ہے اور اس نے ایک محفوظ اور پرامن دنیا کی خاطر بھاری جانی و مالی قربانیاں دی ہیں۔

    فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پاکستان کی بے پناہ صلاحیتوں پر بھی روشنی ڈالی، خاص طور پر انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت، اور کان کنی و معدنیات کے شعبوں میں جو اب تک پوری طرح بروئے کار نہیں لائی گئیں، انہوں نے بین الاقوامی شراکت داروں کو ان شعبوں میں تعاون کے مواقع دریافت کرنے کی دعوت دی تا کہ مشترکہ خوشحالی کے امکانات کو کھولا جا سکے۔

    آرمی چیف نے علاقائی و عالمی تنازعات پر پاکستان کے متوازن مؤقف کی تفصیلی وضاحت پیش کی اور مذاکرات، سفارت کاری، اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا فیلڈ مارشل نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان ایک ذمہ دار اور فعال کردار ادا کرتا رہا ہے تاکہ علاقائی کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور باہمی سلامتی کے فریم ورک کو فروغ ملے۔

    بات چیت کے دوران پاکستان–امریکا شراکت داری کا بھی جائزہ لیا گیا، آرمی چیف نے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی اشتراکِ عمل کو اجاگر کیا، خصوصاً انسداد دہشت گردی، علاقائی سلامتی، اور اقتصادی ترقی کے شعبوں میں، انہوں نے زور دیا کہ باہمی احترام، مشترکہ اسٹریٹجک مفادات، اور اقتصادی انحصار کی بنیاد پر ایک وسیع تر اور کثیرالجہتی تعلق قائم کیا جا سکتا ہے۔

    شرکا نے آرمی چیف کے مؤقف کی وضاحت اور شفافیت کو سراہا اور پاکستان کی مستقل و اصولی پالیسیوں کی تعریف کی، اس مکالمے کو دوطرفہ اسٹریٹجک گفتگو کو فروغ دینے کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا گیا، یہ ملاقات پاکستان کی شفاف سفارت کاری، عالمی روابط، اور اصولی و فعال مکالمے کے ذریعے پرامن بقائے باہمی کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر اور صدر ٹرمپ کی ملاقات پاک امریکا تعلقات میں ایک سنگ میل ہے،خواجہ آصف

    فیلڈ مارشل عاصم منیر اور صدر ٹرمپ کی ملاقات پاک امریکا تعلقات میں ایک سنگ میل ہے،خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات پاک امریکا تعلقات کی 78 سالہ تاریخ کا سب سے اہم موڑ ہے-

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور صدر ٹرمپ کی ملاقات پاک امریکا تعلقات میں ایک سنگ میل ہے، اس سے پہلے امریکی صدر کی پاکستانی آرمی چیف کی دعوت اور ملاقات کی مثال نہیں ملتی، یہ تعلقات کی 78 سال کی تاریخ سب سے اہم موڑ ہے۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ اس ملاقات میں جس طرح بین الاقوامی اور خطے کے معاملات زیر بحث آئے اس سے وطن عزیز کی اہمیت اجاگر ہوئی، پاکستان معاملات کو حل کرنے میں جس طرح مدد کرسکتا ہے اس اہمیت کو تسلیم کیا گیا، پاک بھارت تنارعات کی دوبارہ بین الاقوامی حثیت اجاگر ہوئی۔

    ایران کو اسپتال پرحملےکی بھاری قیمت چکانا پڑےگی، اسرائیلی وزیراعظم

    انہوں نے کہا کہ یہ موجودہ حکمرانی کے ہائبرڈ ماڈل کی کامیابی ہے، معیشت کی بحالی،ہندوستان کی شکست، امریکا کے ساتھ تعلقات آبرومندانہ اور نہایت کامیاب بہتری، یہ سار ی انقلابی تبدیلیاں وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے تعاون سے اسلام آباد اور راولپنڈی کے بہترین تعلق سے ممکن ہو سکیں اللہ ہم سب کو ذاتی و گروہی مفادات سے بالا ہو کر قوم کی خد مت کرنے توفیق دے۔

    https://x.com/KhawajaMAsif/status/1935616004857499862

    ایران اسرائیل کشیدگی:چینی اور روسی صدور کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ