Baaghi TV

Tag: امریکا

  • ہم جنس پرست جوڑے کو گود لیے بچوں سے جنسی زیادتی پر 100 سال قید کی سزا

    ہم جنس پرست جوڑے کو گود لیے بچوں سے جنسی زیادتی پر 100 سال قید کی سزا

    جارجیا: امریکی ریاست جارجیا میں ایک ہم جنس پرست جوڑے نے دو گود لیے بچوں کو 10 اور 12 سال کے ہونے پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔

    باغی ٹی وی : نیویارک پوسٹ نے والٹن کاؤنٹی ڈسٹرکٹ اٹارنی کے دفتر کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ہم جنس پرست جوڑے 34 سالہ ولیم اور 36 سالہ زچری زولک نے پہلے دو بھائیوں کو ”کرسچن اسپیشل نیڈز ایجنسی“ سے گود لیا،اور بچوں کی پرورش اٹلانٹا کے ایک متمول مضافاتی علاقے میں ایک خوش کن خاندان کی آڑ میں کی، اس کے بعد ان بچوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا اور اس جرم میں اب یہ جوڑا اپنی بقیہ زندگی پیرول کے بغیر جیل میں گزارے گا۔

    نیو یارک پوسٹ کے مطابق ڈسٹرکٹ اٹارنی رینڈی میک گینلی نے کہا کہ انسانی حقوق کی آڑ میں انہوں نے بچوں کا جو استحصال کیا ہے وہ انتہائی دردناک جرم ہے، قانون نے انہیں 100 سال قید کی سزا سنائی ہے ولیم اور زچری نے حقیقت میں ایک خوفناک کھیل کھیلا ہے اور اپنی بدترین خواہشا ت کو ہر چیز سے بالاتر رکھا، مجرم خواہ کتنا ہی گھناؤنا کھیل کیوں نا کھیلے، انصاف کے لیے لڑنے والوں کے عزم اور طاقت سے اوپر نہیں ہے۔
    کم عمری کی شادیاں اور چائلڈ لیبر ، محکمہ اسکول ایجوکیشن سندھ کے حیران کن اعدادو شمار جاری
    ڈسٹرکٹ اٹارنی نے کہا کہ پچھلے دو سال کے دوران جوڑے کو ان دونوں بچوں کے خلاف جو برائی اور ظلم پر عمل پیرا دیکھا ہے وہ واقعی حیران کن اور نہایت افسوسناک ہے مجرم زچری بینکنگ سیکٹر میں کام کرتا ہے اور ولیم ایک سرکاری ملازم کے طور پر کام کرتا ہے۔

    یہ ہم جنس پرست جوڑا اپنی بہترین زندگی گزار رہا تھا، اس کے باوجود دونوں نے نوجوان بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی اور یہی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ پیڈو فائل پورنوگرافی بھی فلمائی،ولیم اور زچری کو 2022 میں گرفتار کیا گیا تھا۔
    چیمپئینز ٹرافی،برطانوی اخبار نے انڈیا کرکٹ بورڈ کا پول کھول دیا
    جوڑے کے دوستوں میں سے ایک نے پولیس کو بتایا کہ زچری نے ایک بار سنیپ چیٹ پر ایک لڑکے کے ساتھ بدسلوکی کرتے ہوئے اپنی تصاویر شیئر کیں اور لکھا کہ میں آج رات اپنے بیٹے کو ریپ کرنے جا رہا ہوں، دیکھتے رہو۔

    نیو یارک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق، اس ہم جنس پرست جوڑے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال کرتے ہوئے بھائیوں کو ایک مقامی پیڈو فائل سیکس رِنگ کے کم از کم دو مردوں کے ساتھ جسم فروشی میں کے لیے بھرتی بھی کیا،گینگ کے ایک مبینہ رکن کو پولیس نے چائلڈ پورنوگرافی ڈاؤن لوڈ کرتے ہوئے گرفتار کیا اور اس جوڑے تک پہنچ گئے، گرفتار شخص نے بعد میں تفتیش کاروں کویہ بھی بتایا کہ ولیم اور زچری اپنے گھر میں رہنے والے اپنے دو نوجوان گود لیے ہوئے بچوں کے ساتھ کس طرح اکثر فحش ویڈیوز بناتے تھے،عدالت میں، دونوں مجرموں نے بچوں کے جنسی استحصال کا جرم قبول کیا۔
    غزہ میں اسرائیلی فوج کے 2 افسر اور ایک سپاہی ہلاک

  • ٹرمپ کا اعلان، خواجہ سراؤں کے لئے مشکلات

    ٹرمپ کا اعلان، خواجہ سراؤں کے لئے مشکلات

    امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد اہم فیصلے کرنے کا اعلان کیا ہے جن میں اسکولوں اور مسلح افواج سے خواجہ سراؤں کو نکالنے کا احکام بھی شامل ہیں۔

    ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ سب سے پہلے وہ بچوں کے جنسی استحصال کے خلاف اقدامات اٹھائیں گے اور خواجہ سراؤں کو ایلیمنٹری، مڈل اور ہائی اسکولوں سے نکالنے کے ساتھ ساتھ امریکی فوج میں بھی ان کی بھرتیوں کو روک دیں گے۔ٹرمپ نے کہا کہ "بطور امریکی صدر، اپنے دفتر میں پہلے دن بچوں کے جنسی استحصال کو ختم کرنے، خواجہ سراؤں کو فوج اور اسکولوں سے باہر نکالنے کے انتظامی احکامات پر دستخط کروں گا۔” ان کا یہ اعلان ان کے حامیوں کے لئے خوش آئند اور مخالفین کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔

    اس کے علاوہ، ٹرمپ نے منشیات فروشوں کے خلاف اپنی حکمت عملی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ منشیات کے عالمی کارٹیلز کو "غیرملکی دہشت گردی تنظیم” قرار دیں گے۔ اس کا مقصد ان کے خلاف سخت کارروائی کرنا اور منشیات کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔ٹرمپ نے ایک اور اہم مسئلہ پر بھی اپنے موقف کا اظہار کیا، اور کہا کہ وہ امریکی حکومت کے زیر اہتمام خواتین کے کھیلوں میں مردوں کو حصہ لینے سے روکنے کے لئے اقدامات کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ "امریکی حکومت باضابطہ طور پر صرف دو جنسوں کو تسلیم کرے گی، یعنی مرد اور عورت، اور ان کی بنیاد پر ہی پالیسیاں مرتب کی جائیں گی۔”

    ٹرمپ نے اپنے قریبی ساتھیوں اور مشیروں میں سے بھارتی نژاد امریکی کاروباری شخصیت سری رام کرشنن کو وائٹ ہاؤس کے سینئر پالیسی مشیر برائے مصنوعی ذہانت نامزد کیا ہے۔ سری رام کرشنن ٹیکنالوجی کے میدان میں اہم تجربہ رکھتے ہیں اور اس عہدے کے لئے ان کی تقرری کو ایک اہم فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔

    ٹرمپ کی صدارتی مہم کے دوران لاکھوں ویوز حاصل کرنے پر انہوں نے ٹک ٹاک پر مزید سرگرم رہنے کا عندیہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی مہم کو سوشل میڈیا کے ذریعے مزید پھیلائیں گے اور ٹک ٹاک کا استعمال جاری رکھیں گے تاکہ عوام تک اپنے پیغامات پہنچا سکیں۔

    امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یہ فیصلے نہ صرف امریکی عوام بلکہ دنیا بھر میں سیاسی اور سماجی حلقوں میں ایک نیا بحث کا آغاز کر سکتے ہیں۔ ٹرمپ کے ان اقدامات کا مقصد امریکی معاشرتی ڈھانچے کو مضبوط بنانا اور اپنے حامیوں کے ساتھ وعدے پورے کرنا ہے، تاہم مخالفین کا خیال ہے کہ ان اقدامات سے مختلف اقلیتی گروپوں کے حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس دوران عالمی سطح پر ان کے فیصلوں کے اثرات کا بھی بغور جائزہ لیا جائے گا۔

    لیہ: جعلی پیر نے خاتون کے پاؤں جلا ڈالے، ملزم گرفتار

    داؤد ابراہیم کے بھائی اقبال کاسکر کا فلیٹ قبضے میں لے لیا گیا

    ہاں اسماعیل ہنیہ کو ہم نے مارا،اسرائیل کا کھل کر اعتراف

  • امریکا نے بحیرہ احمر میں اپنا ہی لڑاکا طیارہ مار گرایا

    امریکا نے بحیرہ احمر میں اپنا ہی لڑاکا طیارہ مار گرایا

    امریکا نے غلطی سے بحیرہ احمر میں اپنا ہی لڑاکا طیارہ مار گرایا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ غلطی سے گرائے گئے امریکی طیارے کے دونوں پائلٹ بچ گئے ہیں تاہم ایک کو معمول زخم آئے ہیں، ایف اے 18 ہارنیٹ طیارہ بحیرہ احمر میں امریکی جہاز کے قریب سے گزر رہا تھا ، میزائل کروز گیٹس برگ نے غلطی سے میزائل مار کر طیارے کو نشانہ بنایا، امریکی حکام نے اس ”فرینڈلی فائرنگ“ کی تحقیقات کا آغاز کر دیا۔

    واضح رہے کہ بحیرہ احمر گزشتہ ایک برس سے ملٹری حب بنا ہوا ہے اور امریکی فورسز یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کو روکنے کے لیے حوثیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، جس نے خطے میں جہاز رانی کے خلاف متعدد حملے کیے ہیں۔

  • امریکا نے شامی باغی رہنما کی گرفتاری پر  10 ملین ڈالر کا انعام ختم کر دیا

    امریکا نے شامی باغی رہنما کی گرفتاری پر 10 ملین ڈالر کا انعام ختم کر دیا

    دمشق:امریکہ کے ایک سینئر سفارتکار نے اعلان کیا ہے کہ شام کے نئے رہنما احمد الشرع کی گرفتاری پر 10 ملین ڈالر کا انعام ختم کر دیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی:الجزیرہ کے مطابق یہ اعلان ایک ایسی بغاوت کے بعد کیا گیا ہے جس نے صدر بشار الاسد کو اقتدار سے ہٹا دیا محکمہ خارجہ کی معاون وزیر برائے مشرق قریب باربرا لیف اور دیگر امریکی حکام نے شامی دارالحکومت دمشق کا دورہ کیا اور نئی شامی حکومت کے ساتھ بات چیت کی، جس کے بعد امریکہ کی طرف سے مقرر کیا گیا انعام ہٹانے کا اعلان کیا گیا۔

    الجزیرہ کے مطابق یہ امریکی سفارتکاروں کا شام کا پہلا دورہ تھا، جو اس وقت کیا گیا جب بشار الاسد کو رواں ماہ کے شروع میں ھیئۃ تحریر الشام (ایچ ٹی ایس) گروپ کی قیادت میں ہونے والے تیز حملے کے نتیجے میں اقتدار سے ہٹایا گیا تھا، امریکہ نے 2018 میں ایچ ٹی ایس کو ایک "دہشت گرد” تنظیم قرار دیا تھا، الشرع جو ابو محمد الجولانی کے نام سے بھی مشہور ہیں، اس گروپ کے رہنما ہیں ، وہ پہلے القاعدہ سے وابستہ تھے۔

    باربرا لیف نے بتایا کہ الشرع کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں مثبت پیغامات ملنے کے بعد انعام ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جن میں یہ وعدہ بھی شامل تھا کہ "دہشت گرد” گروہ خطرہ پیدا نہیں کر سکیں گے انہوں نے کہا، "میں نے انہیں بتایا کہ ہم وہ انعام واپس لے رہے ہیں جو کئی سالوں سے نافذ العمل تھا۔”

    رپورٹ کے مطابق دمشق کے دورے میں لیف کے ساتھ سابق خصوصی ایلچی ڈینیئل روبنسٹین اور یرغمالیوں کے معاملات کے امریکی ایلچی راجر کارسٹنز بھی شامل تھے امریکی حکومت اور دیگر مغربی ممالک ایچ ٹی ایس کی "دہشت گرد” تنظیم کے طور پر درجہ بندی ختم کرنے پر غور کر رہے ہیں، یہ شام کے نئے سیاسی ماحول کے پیش نظر ایک اہم اقدام ہو سکتا ہے۔

  • امریکا کے ساتھ میزائل مقابلے کےلیے تیار ہیں،روسی صدر

    امریکا کے ساتھ میزائل مقابلے کےلیے تیار ہیں،روسی صدر

    ماسکو: روسی صدر ولاد یمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ روس اور چین بین الاقوامی سطح پر اپنے تعلقات بڑھا رہے ہیں اور بڑھاتے رہیں گے، امر یکا کے ساتھ میزائل مقابلے کےلیے تیار ہیں۔

    باغی ٹی وی : صدر پیوٹن نے کہا کہ روسی افواج یوکرین میں بنیادی مقاصد حاصل کرنے کے قریب ہیں روس یوکرینی فوج کو روسی علاقے سے باہر نکال دے گا، امریکا کے ساتھ میزائل مقابلے کےلیے تیار ہیں، نیا روسی ہائپر سونک بیلسٹک میزائل کسی بھی امریکی میزائل دفاعی نظام کو شکست دے سکتا ہے، نیا میزائل اور شنیک جدید ہتھیار ہے۔

    پیوٹن نے کہا کہ شام کے بشارالاسد کے ساتھ گفتگو کا منصوبہ ہے ان سے شام میں لاپتا امریکی صحافی کے بارے میں دریافت کروں گا نو منتخب امریکی صدر ٹرمپ سے 4 سال سے بات نہیں کی،نو منتخب امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ بات کرنے کیلئے تیار ہوں، عملی طور پر تمام نیٹو ممالک روس کے خلاف لڑ رہے ہیں، چین سے تعلقات زیادہ بلند سطح پر پہنچ چکے ہیں روس اور چین بین الاقوامی سطح پر اپنے تعلقات بڑھا رہے ہیں اور بڑھاتے رہیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ روس کو شام میں شکست نہیں ہوئی، اپنے مقاصد حاصل کیے ہیں روس نے شام سے 4 ہزار ایرانی جنگجوؤں کا انخلا کرایا شام میں تمام گروپوں سے تعلقات ہیں شراکت داروں کو شام میں روسی ایئر، نیول بیس کو انسانی مقاصد کےلیے استعمال کرنے کی تجویز دی۔

    انہوں نے ماسکو میں روسی جنرل ایگو کے قتل کے معاملے پر بھی گفتگو کی اور کہا یوکرینی حکومت روسی شہریوں کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں کا ارتکاب کررہی ہے یوکرین کے معاملےپر بات چیت کیلئےتیار ہیں، دوسری جانب کے تیار ہونےکی ضرورت ہے۔

  • ایران کو اپنی خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کی ضرورت ہے،امریکا

    ایران کو اپنی خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کی ضرورت ہے،امریکا

    واشنگٹن:امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ ایران کو اپنی خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کی ضرورت ہے-

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا کے وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ اسرائیل نے نہ صرف ایران کی پراکسیز حزب اللہ اور حماس کو ختم کیا بلکہ اس کی فوجی طاقت کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہےاس میں کوئی شک نہیں کہ ایران کے لیے یہ سال نہایت برا رہا ہے اور ہم روزانہ کی بنیاد پر اسے میدان سے باہر ہوتا دیکھ رہے ہیں۔

    امریکی وزیر خارجہ نے کہ اب ایران کے پاس صرف دو راستے بچتے ہیں وہ اپنی خارجہ پالیسی پر نظرِثانی کرتے ہوئے خطے میں منفی مہم جوئی بند کرےدوسرا راستہ یہ ہے کہ ایران اپنے کردار پر غور کرے اور تمام تر توجہ اپنے عوام کی بہبود پر صرف کرے اور خود کو ایک بہتر اور کامیاب ملک بنائےایران نے خطے میں منفی سرگرمیوں سے اپنے ملک اور اپنے عوام کا بہت نقصان کیا ہے۔

  • پاکستانی وزرا کی تنخواہوں میں بے پناہ اضافہ،امریکا کا ردعمل

    پاکستانی وزرا کی تنخواہوں میں بے پناہ اضافہ،امریکا کا ردعمل

    واشنگٹن: پاکستان میں صوبائی وزرا اور مشیروں کی تنخواہوں میں 900 فیصد اضافے پر امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان کا ردعمل سامنے آگیا۔

    باغی ٹی وی : امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان کی معمول کی پریس بریفنگ میں ایک صحافی نے پوچھا کہ پاکستان میں وزرا کی تنخواہوں میں 900 فیصد تک اضافہ ہوا ہےابھی ایک ماہ قبل ہی میں نے واشنگٹن ڈی سی میں پاکستانی وزیر خزانہ سے پوچھا تھا کہ ایک ایسے ملک میں یہ اضافہ بالکل ناقابل قبول ہے جہاں اتنی غربت ہو اور پھر آپ یہاں فنڈز یا قرضے مانگنے آتے ہیں۔

    جس پر امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے مبہم انداز میں کہا کہ مجھے پتا ہے کہ یہ سوال کہیں نہ کہیں ہے مجھے امید ہے کہ ہم جلدی اس تک پہنچیں گے،صحافی نے کہا کہ مجھے بھی امید ہے لیکن اس بارے میں آپ کا کیا تبصرہ ہے۔

    امریکی ترجمان میتھیو ملر نے سوال کیا کہ کس پر؟ تنخواہوں میں اضافے کے معاملے پر؟صحافی نے اپنے سوال کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے اس مشکل وقت پاکستان کی مدد کی لیکن وہاں کے حکمرانوں نے اپنی تنخواہوں میں 900 فیصد اضافہ کرلیا۔

    امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان میتھیوملر نے جواب دیا کہ میرے خیال میں تنخواہوں میں اضافے کا سوال پاکستان کے عوام اور وہاں حکومت کا اپنا معاملہ ہے نہ کہ امریکا کا مسئلہ ہے، اس لیے سوال بھی پاکستانی حکومت سے ہونا چاہیے، امریکا سے نہیں، ہم دنیا بھر میں کسی بھی ملک کے حکومتی ملازمین کی تنخواہوں پر اپنی رائے نہیں دیتے اور ہماری یہ پالیسی پاکستان کے لیے بھی ہوگی۔

    واضح رہے کہ آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی اسمبلی نے ایک بل منظور کیا ہے جس کے بعد صوبے کے اراکین اسمبلی، وزرا اور اسمبلی عہدیداران کی تنخواہوں میں 5 سے 10 گنا اضافہ کر دیا گیا ہےپنجاب اسمبلی سے پیر کے روز عوامی نمائندگان کی تنخواہوں پر نظر ثانی کے بل کی منظوری کے بعد رکن اسمبلی کی تنخواہ 76 ہزار روپے سے بڑھ کر چار لاکھ روپے ہو گئی ہے۔

    سب سے زیادہ اضافہ وزرا اور دیگر عہدیداران کی تنخواہوں میں کیا گیا ہے اس سے قبل پنجاب کے صوبائی وزیر کی ماہانہ تنخواہ ایک لاکھ روپے تھی جو بل کی منظوری کے بعد نو لاکھ 60 ہزار روپے ماہانہ کر دی گئی ہے وزرا کی تنخواہ میں لگ بھگ 10 گنا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    اسی طرح پنجاب اسمبلی کے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کی تنخواہوں میں بھی لگ بھگ8سے10 گنا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے سپیکر کی تنخواہ ایک لاکھ 25 ہزار سے بڑھا کر نو لاکھ 50 پچاس ہزار روپے کر دی گئی ہے اور ڈپٹی سپیکر کی تنخواہ کو ایک لاکھ بیس ہزار روپے سے بڑھا کر سات لاکھ 75 ہزار روپے کر دیا گیا ہے۔

    پارلیمانی سیکرٹری کی تنخواہ جو پہلے 83 ہزار روپے ماہانہ تھی اب چار لاکھ 51 ہزار روپے ہو گئی ہے۔ اسی طرح وزیر اعلیٰ کے مشیروں کی تنخواہ بھی ایک لاکھ روپے سے بڑھا کر چھ لاکھ 65 ہزار روپے کر دی گئی ہے۔

    نظر ثانی بل کی منظوری کے بعد وزیر اعلیٰ کے سپشل اسسٹنٹ کی تنخواہ بھی ایک لاکھ روپے ماہانہ سے بڑھا کر چھ لاکھ 65 ہزار روپے کر دی گئی ہے، اراکین اسمبلی اور وزرا کی تنخواہوں میں یہ اضافہ ان کی بنیادی ماہانہ تنخواہ پر کیا گیا ہے ان کو ملنے والا ٹی اے ڈی اے، فری میڈیکل، رہائش اور دیگر مراعات اس کے علاوہ ہیں۔

    تنخواہوں پر نظر ثانی کے اس بل کی منظوری پر پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ کی اکثریتی حکومت کو حزبِ اختلاف کی جماعتوں اور سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے تنقید کا سامنا ہے۔

  • اسرائیل کو امداد دینے پر امریکی حکومت پر مقدمہ

    اسرائیل کو امداد دینے پر امریکی حکومت پر مقدمہ

    فلسطینیوں نے اسرائیلی فوج کو امداد دینےپر اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا۔

    غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اس مقدمے کا باضابطہ اعلان منگل کو کیا گیا جس میں محکمہ خارجہ پر ایک وفاقی قانون پر عمل درآمد کرنے میں ناکام ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔وفاقی قانون کے تحت ماورائے عدالت قتل اور تشدد جیسی سنگین خلاف ورزیوں میں مصروف غیرملکی فوجی یونٹوں کو رقوم کی منتقلی پر پابندی عائد ہے۔غزہ، مقبوضہ مغربی کنارے اور امریکا میں پانچ فلسطینیوں نے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے پر اسرائیلی فوج کی امریکی امداد کو روکنے کے لیے امریکی حکومت پر مقدمہ دائر کر رکھا ہے۔مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ محکمہ خارجہ کی لیہی قانون کو لاگو کرنے میں ناکامی خاص طور پر غزہ جنگ کے 7 اکتوبر 2023 کو شروع ہونے کے بعد سے اسرائیلی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں نے غیر معمولی اضافے کے پیش نظر حیران کن ہے۔غزہ میں اسرائیل کی بمباری اور زمینی کارروائیوں میں اکتوبر 2023 کے اوائل سے اب تک 45,000 سے زیادہ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، اور اقوام متحدہ اور دنیا کے معروف حقوق گروپوں نے اسرائیلی فوج پر نسل کشی سمیت جنگی جرائم کا الزام لگایا ہے۔اس مقدمے کی مرکزی مدعی، غزہ کی ایک ٹیچر ہے جس کا نام امل غزہ ہے جو جنگ شروع ہونے کے بعد سے سات بار جبری طور پر بے گھر ہو چکی ہے اور اس کے خاندان کے 20 افراد اسرائیلی حملوں میں مارے جا چکے ہیں۔انہوں نے مقدمے کے ساتھ ایک بیان میں کہا کہ میرے مصائب اور میرے خاندان کو جو ناقابل تصور نقصان برداشت کرنا پڑا ہے اس میں نمایاں کمی آئے گی اگر امریکہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا ارتکاب کرنے والے اسرائیلی یونٹوں کو فوجی امداد فراہم کرنا بند کر دیتا ہے۔

    دولہا نئی نویلی دلہن جنگل میں چھوڑ کر فرار

    جاپان صحت، سیلاب متاثرہ علاقوں کیلئے 2 کروڑ 80 لاکھ ڈالر دے گا

    سندھ کے اکنامک زونز چینی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بن گئے

    پاک بحریہ کی ترکیہ میں مشق ماوی بلینہ 2024 میں شرکت

  • امریکا: 15 سالہ طالبہ کی اسکول میں فائرنگ، ٹیچر اور طالبعلم ہلاک،متعدد زخمی

    امریکا: 15 سالہ طالبہ کی اسکول میں فائرنگ، ٹیچر اور طالبعلم ہلاک،متعدد زخمی

    امریکا کے سکول میں فائرنگ کا ایک اور واقعہ سامنے آیا ہے، امریکی ریاست وسکونسن کے اسکول میں 15 سالہ طالبہ کی فائرنگ سے ٹیچر اور نوجوان طالب علم ہلاک ہوگئے۔

    باغی ٹی وی: امریکی میڈیا کے مطابق وسکونسن کے ایک اسکول میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا جس میں اب تک ایک ٹیچر اور ایک طالب علم کی موت ہوچکی ہے جب کہ 6 زخمی افراد ہیں پولیس چیف کے مطابق ریاست وسکونسن کےاسکول میں فائرنگ کرنے والی اسکول طالبہ نکلی، 15 سالہ حملہ آور اسی اسکول کی طالبہ ہے جس نے بعد میں خود کو بھی گولی مارکر خودکشی کرلی۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ 15 سالہ طالبہ نٹالی رپناؤ نے اسکول ہال میں داخل ہو کر اچانک فائرنگ کردی، حملہ آور طالبہ نے خود کو بھی گولی مار کر خود کشی کرلی، پولیس نٹالی رپناؤ کے والد سے رابطے میں ہے اور واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق پولیس نے میڈیسن شہرکے اسکول میں فائرنگ کی جگہ سےہینڈگن برآمدکی ہے جب کہ قتل کی وجہ جاننے کے لیے تحقیقات اور حملہ آور کے خاندان سے بھی تفتیش جاری ہے، زخمیوں میں شامل 2 طلبہ کی حالت تشویشناک ہے اور 2کو اسپتال سےڈسچارج کردیاگیا۔

    امریکی صدر جو بائیڈن نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے’”ناقابل قبول‘ قرار دیا اور گن کنٹرول قوانین کو مزید سخت کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

  • امریکا کے مختلف حصوں میں پراسرار ڈرونز  کی اصل حقیقت کیا؟

    امریکا کے مختلف حصوں میں پراسرار ڈرونز کی اصل حقیقت کیا؟

    امریکا کے مختلف حصوں میں پراسرار ڈرونز نے کئی سازشی نظریات کو جنم دیا ہےجبکہ ایف بی آئی اور امریکی حکومت نے ان ڈرون سائٹنگز کو خطرناک قرار دینے سے انکار کردیا ہے-

    باغی ٹی وی: ڈیلی میل نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ حال ہی میں ڈرونز کے ایک گروپ کو برطانیہ میں قائم امریکی ایئر بیس پر پرواز کرتے دیکھا گیا، جہاں امریکی جوہری ہتھیاروں کا ذخیرہ شروع ہونا ہے ایک ویڈیو میں دکھایا گیا کہ چار چمکتے ڈرونز کو شمالی برطانیہ کے شہر سفوک میں شام کے وقت پرواز کرتے دیکھا گیا۔ ابھی تک ان پراسرار پروازوں کی حقیقت سے پردہ نہیں اٹھ سکا جس کی وجہ سے عوام میں خوف ہ ہراس پایا جاتا ہےاُسی ویڈیو میں بائیں جانب دو ڈرون ایک ہی جگہ پر ٹھہرے دیکھے گئے، جبکہ باقی دو ڈرونز 28 نومبر کی رات کو مختلف سمت میں اڑتے دکھائی دیئے-

    ہمارے نظام شمسی کے روشن ترین سیارے کو اکثر طیارہ یا راکٹ سمجھ لیا جاتا ہے امریکی فضائیہ نے گزشتہ ماہ ایک بیان میں کہا تھا کہ ڈرونز نے برطانیہ میں اس کے تین اڈوں پر پرواز کی تھی جن میں آر اے ایف ملڈن ہال، آر اے ایف لیکن ہیتھ اور آر اے ایف فیلٹ ویل شامل تھے۔

    رائل ایئرفورس ملڈن ہال امریکی فضائیہ کا ری فیولنگ کا بنیادی طورپر 100 واں بیس ہے جبکہ رائل ایئرفورس لیکن ہیتھ امریکی فضائیہ کے F-35A اور F-15E کے اڈے ہیں رائل ایئرفورس فیلٹ ویل میں لاجسٹکس کی سہولتیں ہیں جبکہ فضائیہ کے افسران کی رہائش بھی اسی جگہ موجود ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ20 نومبر سے کئی روز تک ڈرون فضائی اڈوں کے اوپر گھومتے دکھائی دئیے یہ نیو جرسی میں ہونے والے دیگر ڈرون نظاروں سے ملتے جلتے ہیں امریکی ریاست نیو جرسی میں Picatinny Arsenal کے ارد گرد پراسرار اشیاء کو اڑتے دیکھا گیا، یہ وہ جگہ ہے جہاں امریکی فوج ہتھیار بناتی اور جانچتی ہے، جن میں سے کچھ اسلحہ یوکرین کو بھی بھیجا جاتا ہے،پراسرار ڈرونز کے یہ نظارے سب سے پہلے نومبر میں مورس کاؤنٹی، نیو جرسی کے قریب شروع ہوئے تھے لیکن اس کے بعد دیگر ریاستوں کے علاوہ میساچوسٹس، ورجینیا، پنسلوانیا اور نیویارک تک پھیل چکے ہیں۔

    چند میڈیا رپورٹس میں انکشاف کیا گیا کہ نومبر کے وسط سے نیو جرسی میں دکھائی دینے والے خلائی جہازوں کا حجم گاڑیوں کے سائز جتنا تھا، بعض اوقات انہیں ایک گروپ کی شکل میں ظاہر ہوتے دیکھا گیا تو کچھ گھنٹوں تک ایک ہی جگہ پر رکے دکھائی دئیے نیویارک، ٹیکساس اور اوکلاہوما میں بھی اسی طرح کے مناظر دیکھنے کی کی اطلاع ملی ہے۔

    امریکی فضائیہ کے ترجمان کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ مسلسل ڈرون پروازیں دیکھی جارہی ہیں جو ہماری تنصیبات کے لیے خطرہ ہو سکتی ہیں۔

    تاہم اب فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) اور امریکی حکومت نے ان ڈرون سائٹنگز کو خطرناک قرار دینے سے انکار کردیا ہے، امریکی حکومت نے کہا کہ پراسرار اشیاء ”انسان بردار طیارے“ تھے جو قانونی طور پر چلائے جا رہے تھے۔

    وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے کمیونیکیشن ایڈوائزر جان کربی نے کہا، ’دستیاب تصویروں کا جائزہ لینے پر، یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بہت سے اطلاع دیئے گئے ہوائی جہاز درحقیقت انسان بردار طیارے ہیں جو قانونی طور پر چلائے جا رہے ہیں، محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی اور ایف بی آئی نے مزید کہا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ یہ نظارہ قومی سلامتی یا عوامی حفاظت کو خطرہ لاحق ہے۔

    جبکہ نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں اس مسئلے پر یہ مشورہ دیا کہ پراسرار ڈرون کو فوری طور پر مار گرایا جائے، ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’پورے ملک میں پراسرار ڈرون کا نظارہ، کیا یہ واقعی ہماری حکومت کے علم کے بغیر ہو سکتا ہے؟ مجھے ایسا نہیں لگتا‘،’عوام کو ابھی بتائیں، بصورت دیگر، انہیں گولی مار کر تباہ کریں‘۔

    دوسری جانب سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ان پراسرار پروزاوں کو ”پروجیکٹ بلیو بیم“ نامی دہائیوں پرانی سازشی تھیوری سے جوڑا جا رہا ہے۔

    1990 کی دہائی میں کینیڈا کے صحافی سرج موناسٹ نے ”پروجیکٹ بلیو بیم“ کے بارے میں بات کی، ان کا کہنا تھا کہ عالمی اشرافیہ ایک مطلق العنان عالمی حکومت قائم کرنے کیلئے ایک خفیہ آپریشن میں جعلی مافوق الفطرت واقعات یا خلائی مخلوق حملوں کا منصوبہ بنا رہے ہیں، جو لوگ اس سازش پر یقین رکھتے ہیں ان کا خیال ہے کہ جدید ہولوگرافک ٹیکنالوجی کا استعمال مذہبی شخصیات کی تصاویر یا آسمان پر ماورائے ارضی حملوں کے لیے کیا جائے گا۔

    اس سازشی نظریے میں یہ بھی شامل ہے کہ اس پوری مشق کا مقصد انسانی خیالات کو جوڑنا ہے جو آمرانہ کنٹرول کا جواز پیش کرنے کیلئے دیوتاؤں کے ساتھ براہ راست رابطے کا بھرم پیدا کرتا ہے