Baaghi TV

Tag: امریکا

  • ایران کو اپنی خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کی ضرورت ہے،امریکا

    ایران کو اپنی خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کی ضرورت ہے،امریکا

    واشنگٹن:امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ ایران کو اپنی خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کی ضرورت ہے-

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا کے وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ اسرائیل نے نہ صرف ایران کی پراکسیز حزب اللہ اور حماس کو ختم کیا بلکہ اس کی فوجی طاقت کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہےاس میں کوئی شک نہیں کہ ایران کے لیے یہ سال نہایت برا رہا ہے اور ہم روزانہ کی بنیاد پر اسے میدان سے باہر ہوتا دیکھ رہے ہیں۔

    امریکی وزیر خارجہ نے کہ اب ایران کے پاس صرف دو راستے بچتے ہیں وہ اپنی خارجہ پالیسی پر نظرِثانی کرتے ہوئے خطے میں منفی مہم جوئی بند کرےدوسرا راستہ یہ ہے کہ ایران اپنے کردار پر غور کرے اور تمام تر توجہ اپنے عوام کی بہبود پر صرف کرے اور خود کو ایک بہتر اور کامیاب ملک بنائےایران نے خطے میں منفی سرگرمیوں سے اپنے ملک اور اپنے عوام کا بہت نقصان کیا ہے۔

  • پاکستانی وزرا کی تنخواہوں میں بے پناہ اضافہ،امریکا کا ردعمل

    پاکستانی وزرا کی تنخواہوں میں بے پناہ اضافہ،امریکا کا ردعمل

    واشنگٹن: پاکستان میں صوبائی وزرا اور مشیروں کی تنخواہوں میں 900 فیصد اضافے پر امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان کا ردعمل سامنے آگیا۔

    باغی ٹی وی : امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان کی معمول کی پریس بریفنگ میں ایک صحافی نے پوچھا کہ پاکستان میں وزرا کی تنخواہوں میں 900 فیصد تک اضافہ ہوا ہےابھی ایک ماہ قبل ہی میں نے واشنگٹن ڈی سی میں پاکستانی وزیر خزانہ سے پوچھا تھا کہ ایک ایسے ملک میں یہ اضافہ بالکل ناقابل قبول ہے جہاں اتنی غربت ہو اور پھر آپ یہاں فنڈز یا قرضے مانگنے آتے ہیں۔

    جس پر امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے مبہم انداز میں کہا کہ مجھے پتا ہے کہ یہ سوال کہیں نہ کہیں ہے مجھے امید ہے کہ ہم جلدی اس تک پہنچیں گے،صحافی نے کہا کہ مجھے بھی امید ہے لیکن اس بارے میں آپ کا کیا تبصرہ ہے۔

    امریکی ترجمان میتھیو ملر نے سوال کیا کہ کس پر؟ تنخواہوں میں اضافے کے معاملے پر؟صحافی نے اپنے سوال کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے اس مشکل وقت پاکستان کی مدد کی لیکن وہاں کے حکمرانوں نے اپنی تنخواہوں میں 900 فیصد اضافہ کرلیا۔

    امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان میتھیوملر نے جواب دیا کہ میرے خیال میں تنخواہوں میں اضافے کا سوال پاکستان کے عوام اور وہاں حکومت کا اپنا معاملہ ہے نہ کہ امریکا کا مسئلہ ہے، اس لیے سوال بھی پاکستانی حکومت سے ہونا چاہیے، امریکا سے نہیں، ہم دنیا بھر میں کسی بھی ملک کے حکومتی ملازمین کی تنخواہوں پر اپنی رائے نہیں دیتے اور ہماری یہ پالیسی پاکستان کے لیے بھی ہوگی۔

    واضح رہے کہ آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی اسمبلی نے ایک بل منظور کیا ہے جس کے بعد صوبے کے اراکین اسمبلی، وزرا اور اسمبلی عہدیداران کی تنخواہوں میں 5 سے 10 گنا اضافہ کر دیا گیا ہےپنجاب اسمبلی سے پیر کے روز عوامی نمائندگان کی تنخواہوں پر نظر ثانی کے بل کی منظوری کے بعد رکن اسمبلی کی تنخواہ 76 ہزار روپے سے بڑھ کر چار لاکھ روپے ہو گئی ہے۔

    سب سے زیادہ اضافہ وزرا اور دیگر عہدیداران کی تنخواہوں میں کیا گیا ہے اس سے قبل پنجاب کے صوبائی وزیر کی ماہانہ تنخواہ ایک لاکھ روپے تھی جو بل کی منظوری کے بعد نو لاکھ 60 ہزار روپے ماہانہ کر دی گئی ہے وزرا کی تنخواہ میں لگ بھگ 10 گنا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    اسی طرح پنجاب اسمبلی کے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کی تنخواہوں میں بھی لگ بھگ8سے10 گنا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے سپیکر کی تنخواہ ایک لاکھ 25 ہزار سے بڑھا کر نو لاکھ 50 پچاس ہزار روپے کر دی گئی ہے اور ڈپٹی سپیکر کی تنخواہ کو ایک لاکھ بیس ہزار روپے سے بڑھا کر سات لاکھ 75 ہزار روپے کر دیا گیا ہے۔

    پارلیمانی سیکرٹری کی تنخواہ جو پہلے 83 ہزار روپے ماہانہ تھی اب چار لاکھ 51 ہزار روپے ہو گئی ہے۔ اسی طرح وزیر اعلیٰ کے مشیروں کی تنخواہ بھی ایک لاکھ روپے سے بڑھا کر چھ لاکھ 65 ہزار روپے کر دی گئی ہے۔

    نظر ثانی بل کی منظوری کے بعد وزیر اعلیٰ کے سپشل اسسٹنٹ کی تنخواہ بھی ایک لاکھ روپے ماہانہ سے بڑھا کر چھ لاکھ 65 ہزار روپے کر دی گئی ہے، اراکین اسمبلی اور وزرا کی تنخواہوں میں یہ اضافہ ان کی بنیادی ماہانہ تنخواہ پر کیا گیا ہے ان کو ملنے والا ٹی اے ڈی اے، فری میڈیکل، رہائش اور دیگر مراعات اس کے علاوہ ہیں۔

    تنخواہوں پر نظر ثانی کے اس بل کی منظوری پر پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ کی اکثریتی حکومت کو حزبِ اختلاف کی جماعتوں اور سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے تنقید کا سامنا ہے۔

  • اسرائیل کو امداد دینے پر امریکی حکومت پر مقدمہ

    اسرائیل کو امداد دینے پر امریکی حکومت پر مقدمہ

    فلسطینیوں نے اسرائیلی فوج کو امداد دینےپر اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا۔

    غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اس مقدمے کا باضابطہ اعلان منگل کو کیا گیا جس میں محکمہ خارجہ پر ایک وفاقی قانون پر عمل درآمد کرنے میں ناکام ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔وفاقی قانون کے تحت ماورائے عدالت قتل اور تشدد جیسی سنگین خلاف ورزیوں میں مصروف غیرملکی فوجی یونٹوں کو رقوم کی منتقلی پر پابندی عائد ہے۔غزہ، مقبوضہ مغربی کنارے اور امریکا میں پانچ فلسطینیوں نے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے پر اسرائیلی فوج کی امریکی امداد کو روکنے کے لیے امریکی حکومت پر مقدمہ دائر کر رکھا ہے۔مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ محکمہ خارجہ کی لیہی قانون کو لاگو کرنے میں ناکامی خاص طور پر غزہ جنگ کے 7 اکتوبر 2023 کو شروع ہونے کے بعد سے اسرائیلی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں نے غیر معمولی اضافے کے پیش نظر حیران کن ہے۔غزہ میں اسرائیل کی بمباری اور زمینی کارروائیوں میں اکتوبر 2023 کے اوائل سے اب تک 45,000 سے زیادہ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، اور اقوام متحدہ اور دنیا کے معروف حقوق گروپوں نے اسرائیلی فوج پر نسل کشی سمیت جنگی جرائم کا الزام لگایا ہے۔اس مقدمے کی مرکزی مدعی، غزہ کی ایک ٹیچر ہے جس کا نام امل غزہ ہے جو جنگ شروع ہونے کے بعد سے سات بار جبری طور پر بے گھر ہو چکی ہے اور اس کے خاندان کے 20 افراد اسرائیلی حملوں میں مارے جا چکے ہیں۔انہوں نے مقدمے کے ساتھ ایک بیان میں کہا کہ میرے مصائب اور میرے خاندان کو جو ناقابل تصور نقصان برداشت کرنا پڑا ہے اس میں نمایاں کمی آئے گی اگر امریکہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا ارتکاب کرنے والے اسرائیلی یونٹوں کو فوجی امداد فراہم کرنا بند کر دیتا ہے۔

    دولہا نئی نویلی دلہن جنگل میں چھوڑ کر فرار

    جاپان صحت، سیلاب متاثرہ علاقوں کیلئے 2 کروڑ 80 لاکھ ڈالر دے گا

    سندھ کے اکنامک زونز چینی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بن گئے

    پاک بحریہ کی ترکیہ میں مشق ماوی بلینہ 2024 میں شرکت

  • امریکا: 15 سالہ طالبہ کی اسکول میں فائرنگ، ٹیچر اور طالبعلم ہلاک،متعدد زخمی

    امریکا: 15 سالہ طالبہ کی اسکول میں فائرنگ، ٹیچر اور طالبعلم ہلاک،متعدد زخمی

    امریکا کے سکول میں فائرنگ کا ایک اور واقعہ سامنے آیا ہے، امریکی ریاست وسکونسن کے اسکول میں 15 سالہ طالبہ کی فائرنگ سے ٹیچر اور نوجوان طالب علم ہلاک ہوگئے۔

    باغی ٹی وی: امریکی میڈیا کے مطابق وسکونسن کے ایک اسکول میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا جس میں اب تک ایک ٹیچر اور ایک طالب علم کی موت ہوچکی ہے جب کہ 6 زخمی افراد ہیں پولیس چیف کے مطابق ریاست وسکونسن کےاسکول میں فائرنگ کرنے والی اسکول طالبہ نکلی، 15 سالہ حملہ آور اسی اسکول کی طالبہ ہے جس نے بعد میں خود کو بھی گولی مارکر خودکشی کرلی۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ 15 سالہ طالبہ نٹالی رپناؤ نے اسکول ہال میں داخل ہو کر اچانک فائرنگ کردی، حملہ آور طالبہ نے خود کو بھی گولی مار کر خود کشی کرلی، پولیس نٹالی رپناؤ کے والد سے رابطے میں ہے اور واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق پولیس نے میڈیسن شہرکے اسکول میں فائرنگ کی جگہ سےہینڈگن برآمدکی ہے جب کہ قتل کی وجہ جاننے کے لیے تحقیقات اور حملہ آور کے خاندان سے بھی تفتیش جاری ہے، زخمیوں میں شامل 2 طلبہ کی حالت تشویشناک ہے اور 2کو اسپتال سےڈسچارج کردیاگیا۔

    امریکی صدر جو بائیڈن نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے’”ناقابل قبول‘ قرار دیا اور گن کنٹرول قوانین کو مزید سخت کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

  • امریکا کے مختلف حصوں میں پراسرار ڈرونز  کی اصل حقیقت کیا؟

    امریکا کے مختلف حصوں میں پراسرار ڈرونز کی اصل حقیقت کیا؟

    امریکا کے مختلف حصوں میں پراسرار ڈرونز نے کئی سازشی نظریات کو جنم دیا ہےجبکہ ایف بی آئی اور امریکی حکومت نے ان ڈرون سائٹنگز کو خطرناک قرار دینے سے انکار کردیا ہے-

    باغی ٹی وی: ڈیلی میل نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ حال ہی میں ڈرونز کے ایک گروپ کو برطانیہ میں قائم امریکی ایئر بیس پر پرواز کرتے دیکھا گیا، جہاں امریکی جوہری ہتھیاروں کا ذخیرہ شروع ہونا ہے ایک ویڈیو میں دکھایا گیا کہ چار چمکتے ڈرونز کو شمالی برطانیہ کے شہر سفوک میں شام کے وقت پرواز کرتے دیکھا گیا۔ ابھی تک ان پراسرار پروازوں کی حقیقت سے پردہ نہیں اٹھ سکا جس کی وجہ سے عوام میں خوف ہ ہراس پایا جاتا ہےاُسی ویڈیو میں بائیں جانب دو ڈرون ایک ہی جگہ پر ٹھہرے دیکھے گئے، جبکہ باقی دو ڈرونز 28 نومبر کی رات کو مختلف سمت میں اڑتے دکھائی دیئے-

    ہمارے نظام شمسی کے روشن ترین سیارے کو اکثر طیارہ یا راکٹ سمجھ لیا جاتا ہے امریکی فضائیہ نے گزشتہ ماہ ایک بیان میں کہا تھا کہ ڈرونز نے برطانیہ میں اس کے تین اڈوں پر پرواز کی تھی جن میں آر اے ایف ملڈن ہال، آر اے ایف لیکن ہیتھ اور آر اے ایف فیلٹ ویل شامل تھے۔

    رائل ایئرفورس ملڈن ہال امریکی فضائیہ کا ری فیولنگ کا بنیادی طورپر 100 واں بیس ہے جبکہ رائل ایئرفورس لیکن ہیتھ امریکی فضائیہ کے F-35A اور F-15E کے اڈے ہیں رائل ایئرفورس فیلٹ ویل میں لاجسٹکس کی سہولتیں ہیں جبکہ فضائیہ کے افسران کی رہائش بھی اسی جگہ موجود ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ20 نومبر سے کئی روز تک ڈرون فضائی اڈوں کے اوپر گھومتے دکھائی دئیے یہ نیو جرسی میں ہونے والے دیگر ڈرون نظاروں سے ملتے جلتے ہیں امریکی ریاست نیو جرسی میں Picatinny Arsenal کے ارد گرد پراسرار اشیاء کو اڑتے دیکھا گیا، یہ وہ جگہ ہے جہاں امریکی فوج ہتھیار بناتی اور جانچتی ہے، جن میں سے کچھ اسلحہ یوکرین کو بھی بھیجا جاتا ہے،پراسرار ڈرونز کے یہ نظارے سب سے پہلے نومبر میں مورس کاؤنٹی، نیو جرسی کے قریب شروع ہوئے تھے لیکن اس کے بعد دیگر ریاستوں کے علاوہ میساچوسٹس، ورجینیا، پنسلوانیا اور نیویارک تک پھیل چکے ہیں۔

    چند میڈیا رپورٹس میں انکشاف کیا گیا کہ نومبر کے وسط سے نیو جرسی میں دکھائی دینے والے خلائی جہازوں کا حجم گاڑیوں کے سائز جتنا تھا، بعض اوقات انہیں ایک گروپ کی شکل میں ظاہر ہوتے دیکھا گیا تو کچھ گھنٹوں تک ایک ہی جگہ پر رکے دکھائی دئیے نیویارک، ٹیکساس اور اوکلاہوما میں بھی اسی طرح کے مناظر دیکھنے کی کی اطلاع ملی ہے۔

    امریکی فضائیہ کے ترجمان کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ مسلسل ڈرون پروازیں دیکھی جارہی ہیں جو ہماری تنصیبات کے لیے خطرہ ہو سکتی ہیں۔

    تاہم اب فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) اور امریکی حکومت نے ان ڈرون سائٹنگز کو خطرناک قرار دینے سے انکار کردیا ہے، امریکی حکومت نے کہا کہ پراسرار اشیاء ”انسان بردار طیارے“ تھے جو قانونی طور پر چلائے جا رہے تھے۔

    وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے کمیونیکیشن ایڈوائزر جان کربی نے کہا، ’دستیاب تصویروں کا جائزہ لینے پر، یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بہت سے اطلاع دیئے گئے ہوائی جہاز درحقیقت انسان بردار طیارے ہیں جو قانونی طور پر چلائے جا رہے ہیں، محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی اور ایف بی آئی نے مزید کہا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ یہ نظارہ قومی سلامتی یا عوامی حفاظت کو خطرہ لاحق ہے۔

    جبکہ نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں اس مسئلے پر یہ مشورہ دیا کہ پراسرار ڈرون کو فوری طور پر مار گرایا جائے، ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’پورے ملک میں پراسرار ڈرون کا نظارہ، کیا یہ واقعی ہماری حکومت کے علم کے بغیر ہو سکتا ہے؟ مجھے ایسا نہیں لگتا‘،’عوام کو ابھی بتائیں، بصورت دیگر، انہیں گولی مار کر تباہ کریں‘۔

    دوسری جانب سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ان پراسرار پروزاوں کو ”پروجیکٹ بلیو بیم“ نامی دہائیوں پرانی سازشی تھیوری سے جوڑا جا رہا ہے۔

    1990 کی دہائی میں کینیڈا کے صحافی سرج موناسٹ نے ”پروجیکٹ بلیو بیم“ کے بارے میں بات کی، ان کا کہنا تھا کہ عالمی اشرافیہ ایک مطلق العنان عالمی حکومت قائم کرنے کیلئے ایک خفیہ آپریشن میں جعلی مافوق الفطرت واقعات یا خلائی مخلوق حملوں کا منصوبہ بنا رہے ہیں، جو لوگ اس سازش پر یقین رکھتے ہیں ان کا خیال ہے کہ جدید ہولوگرافک ٹیکنالوجی کا استعمال مذہبی شخصیات کی تصاویر یا آسمان پر ماورائے ارضی حملوں کے لیے کیا جائے گا۔

    اس سازشی نظریے میں یہ بھی شامل ہے کہ اس پوری مشق کا مقصد انسانی خیالات کو جوڑنا ہے جو آمرانہ کنٹرول کا جواز پیش کرنے کیلئے دیوتاؤں کے ساتھ براہ راست رابطے کا بھرم پیدا کرتا ہے

  • ٹرمپ کا   امریکی تاریخ کی سب سے بڑی ملک بدری کرنے کا فیصلہ

    ٹرمپ کا امریکی تاریخ کی سب سے بڑی ملک بدری کرنے کا فیصلہ

    واشنگٹن: امریکا کے نومنتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے 20 جنوری 2025 کو منصب سنبھالنے کے بعد امریکی تاریخ کی سب سے بڑی ملک بدری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی امیگریشن اینڈ کسٹم انفورسمنٹ (آئی سی ای) نے ملک بدری کے لیے تقریباً 15 لاکھ افراد کی فہرست تیار کرلی ہےخاص بات یہ کہ اس فہرست میں تقریباً 18 ہزار ہندوستانی شہریوں کے نام بھی شامل ہیں جنھیں ممکنہ طور پر امریکا سے ملک بدر کردیا جائے گا۔

    آئی اسی ای کے مطابق امریکا میں بغیر مناسب دستاویزات کے رہنے والے تارکین وطن کو ملک سے باہر نکالنا ٹرمپ کا بارڈر سیکیورٹی ایجنڈا ہے۔

    دوسری جانب نیویارک کے 112ویں سالانہ نیو یارک ینگ ریپبلکن کلب گالا میں ایک حیران کن واقعہ پیش آیا، جب ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر ایلکس بروسوِٹز اسٹیج پر خطاب کرتے ہوئے اچانک گر پڑے۔ بروسوِٹز 27 سالہ سیاسی حکمتِ عملی کے ماہر ہیں، جو ٹرمپ کی 2024 کی انتخابی مہم کے دوران اہم کردار ادا کر چکے ہیں-

    ان کی حالت بگڑتے ہوئے دیکھ کر حاضرین میں ہلچل مچ گئی، اور فوراً لوگوں نے ان کی مدد کے لیے دوڑ لگا دی۔واقعے کے فوراً بعد بروسوِٹز کو اسٹیج سے ہٹا کر بیک اسٹیج منتقل کیا گیا، جہاں انہیں فوری طور پر طبی امداد فراہم کی گئی۔ اس دوران، کنزرویٹو انفلوانسر جیک پوزوبیک نے ٹویٹ کیا کہ اس نے بروسوِٹز سے بیک اسٹیج بات کی تھی اور اس نے بتایا کہ یہ ایک "غشی کا حملہ” تھا۔ تاہم، ابھی تک بروسوِٹز کی حالت اور اس کے باعث ہونے والے طبی مسئلے کی تفصیلات واضح نہیں ہو سکیں۔

  • عمران کی رہائی کا مطالبہ کرنیوالا،ہم جنس پرست رچرڈ گرینل ٹرمپ کا ایلچی مقرر

    عمران کی رہائی کا مطالبہ کرنیوالا،ہم جنس پرست رچرڈ گرینل ٹرمپ کا ایلچی مقرر

    امریکا کے نو منتخب صدر، ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے قریبی ساتھی ،ہم جنس پرست اور نیشنل انٹیلی جنس کے سابق قائم مقام ڈائریکٹر، رچرڈ گرینل کو "ایلچی برائے خصوصی مشنز” مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    رچرڈ گرینل، جو کہ ایک معروف ہم جنس پرست شخصیت ہیں، کچھ دن پہلے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی رہائی کا مطالبہ بھی کر چکے ہیں۔ 26 نومبر کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پی ٹی آئی کے احتجاج کے حوالے سے بلوم برگ کی ایک رپورٹ شیئر کرتے ہوئے رچرڈ گرینل نے لکھا کہ "عمران خان کو رہا کیا جائے”۔ ان کے اس مطالبے پر پی ٹی آئی کے رہنما زلفی بخاری نے شکریہ بھی ادا کیا تھا۔

    رچرڈ گرینل ماضی میں کئی تنازعات کا شکار رہے ہیں جن میں خواتین کے حوالے سے بے ہودہ ٹوئٹس، ان کی ہم جنس پرستی اور بعض سیاسی مخالفین پر ذاتی حملے شامل ہیں۔ ان کا سیاسی سفر خاصا متنازعہ رہا ہے۔ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی مدت صدارت کے دوران جرمنی میں امریکا کے سفیر رہے، اور اس دوران ان پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ انہوں نے اپنے عہدے کو یورپ میں دائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ اتحاد بڑھانے کے لیے استعمال کیا۔

    امریکی اخبار کے مطابق، رچرڈ گرینل وزیر خارجہ بننے کی امید رکھتے تھے اور انہیں ٹرمپ کی طرف سے وزارت خارجہ میں بڑی پوزیشن دینے کی توقع تھی۔ وہ اقوام متحدہ میں امریکی مشن کے ترجمان بھی رہ چکے ہیں، جہاں ان کے بیانات اور ٹوئٹس نے انہیں متعدد بار تنازعات میں گھیر لیا۔

    ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر لکھا کہ رچرڈ گرینل وینزویلا اور شمالی کوریا جیسے عالمی سطح پر اہم مقامات پر کام کریں گے۔ گرینل نے 2018 سے 2020 تک جرمنی میں امریکا کے سفیر کے طور پر خدمات انجام دیں، اور انہیں خاص طور پر مشرق وسطیٰ اور یورپ میں امریکا کے مفادات کو فروغ دینے کے لیے جانا جاتا ہے۔یاد رہے کہ گرینل کو وینزویلا کے لیے بطور ایلچی اہم ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں، خاص طور پر 2023 میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے تناظر میں، جنہیں وسیع پیمانے پر دھوکہ دہی پر مبنی سمجھا گیا تھا۔

    رچرڈ گرینل کے حوالے سے کئی تنازعات نے سر اٹھایا ہے، جن میں ان کی خواتین کے بارے میں کی جانے والی بے ہودہ ٹوئٹس شامل ہیں۔ 2012 میں جب وہ خارجہ پالیسی کے مشیر بنے، تو ان کی ٹوئٹس کی وجہ سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ ان ٹوئٹس میں خواتین خصوصاً ڈیموکریٹس اور لبرلز کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس پر ان کو بعد میں یہ ٹوئٹس ڈیلیٹ کرنا پڑے۔ان کے ہم جنس پرست ہونے کی وجہ سے قدامت پسند حلقوں میں شدید ردعمل بھی دیکھنے کو ملا، اور ان کی تقرری پر اعتراضات اٹھائے گئے۔ تاہم، گرینل نے ہمیشہ اپنی جنسیت کو کھل کر تسلیم کیا ہے اور اپنے موقف کا دفاع کیا ہے۔

    رچرڈ گرینل کی نئی ذمہ داریوں پر امریکی سیاست میں مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ بعض حلقے ان کی تقرری کو ٹرمپ کی جانب سے ایک اور متنازعہ قدم قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر ان کی سیاسی بصیرت اور تجربے کو سراہ رہے ہیں۔ڈیموکریٹک نیشنل سکیورٹی لیڈر سوزن ای رائس نے گرینل کو سب سے زیادہ "خراب بے ایمان” افراد میں سے ایک قرار دیا ہے، جو کہ ان کے سیاسی مخالفین کی نظر میں گرینل کے رویے کی عکاسی کرتا ہے۔

  • شامی باغیوں کے خلاف پابندیوں پر نظرثانی ان کی کارکردگی سے مشروط ہے،امریکا

    شامی باغیوں کے خلاف پابندیوں پر نظرثانی ان کی کارکردگی سے مشروط ہے،امریکا

    واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ شامی باغیوں کے خلاف پابندیوں پر نظرثانی ان کے رویے اور کارکردگی سے مشروط ہے۔

    باغی ٹی وی : اردن میں عرب رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں سعودی عرب، مصر، عراق، لبنان، قطر، امارات اور بحرین کے وزرائے خارجہ شریک ہوئےاجلاس میں شام میں تمام عسکری کارروائیاں روکنے اور ہر طبقہ فکر پر مشتمل جامع حکومت کی تشکیل پر زوردیا گیا جبکہ مقبوضہ گولان کو شام کا اٹوٹ انگ قرار دیا گیا۔

    اس حوالے سے اردن میں میڈیا سے گفتگو میں امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا کہ اسرائیل حماس کے خلاف ہدف حاصل کرچکا، اب یرغمالیوں کے لیے ڈیل کا لمحہ آگیا ہے۔

    شام کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہیئت تحریر الشام ملیشیا اور دیگر باغیوں سے رابطے میں ہیں، شامی باغیوں کے خلاف پابندیوں پر نظرثانی ان کے رویے اور کارکردگی سے مشروط ہے۔

    دوسری جانب ایرانی حمایت یافتی عسکری تنظیم حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم کا کہنا ہے کہ بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد گروپ اپنا سپلائی روٹ کھو چکا ہے،اسد کے دور میں، حزب اللہ نے شام کو ایران سے ہتھیار اور دیگر فوجی سازوسامان عراق اور شام کے راستے لبنان میں لانے کے لیے استعمال کیا لیکن 6 دسمبر کو، اسد مخالف جنگجوؤں نے عراق کے ساتھ سرحد پر قبضہ کر لیا اور اس راستے کو کاٹ دیا، اور دو دن بعد، باغیوں نے دارالحکومت دمشق پر قبضہ کر لیا۔

    نعیم قاسم نے ہفتے کو ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی ایک تقریر میں اسد کا نام لیے بغیر کہا، ’حزب اللہ اس مرحلے پر شام کے ذریعے فوجی سپلائی کا راستہ کھو چکی ہے، لیکن یہ نقصان مزاحمت کے کام میں وقتی رکاوٹ ہے، ’نئی حکومت کے آنے کے بعد یہ راستہ بحال ہوسکتا ہے اور ہم دوسرے بھی راستے تلاش کر سکتے ہیں۔‘

  • دنیا کے عمر رسیدہ پرندے نےتقریباً 74 سال کی عمر میں انڈا دیدیایا

    دنیا کے عمر رسیدہ پرندے نےتقریباً 74 سال کی عمر میں انڈا دیدیایا

    امریکی وائلڈ لائف حکام نے کہا ہے کہ دنیا کے عمر رسیدہ پرندے نے تقریباً 74 سال کی عمر میں انڈا دیا ہے۔

    باغی ٹی وی” امریکی میڈیا کے مطابق یو ایس فش اینڈ وائلڈ لائف سروس کے پیسفک ریجن نے کہا کہ وِزڈم نامی سمندری پرندہ لیسن الباٹراس امریکی ریاست ہوائی میں مڈ وے اٹول نیشنل وائلڈ لائف ریفیوج میں واپس آیا اور ماہرین کا اندازہ ہے کہ یہ اس کا 60 واں انڈا ہو سکتا ہے۔

    وائلڈ لائف حکام نے بتایا کہ وزڈم اور اس کا ساتھی اکاکامائی 2006 سے انڈے دینے کے لیے بحرالکاہل میں اٹول کے مقام پر واپس آئے تھے لیسن الباٹروس سال میں ایک انڈا دیتی ہے انہوں نے بتایا کہ لیکن اکاکامائی کو کئی سالوں سے نہیں دیکھا گیا اور جب وہ گذشتہ ہفتے واپس آئی تو وہ ایک دوسرے پرندے کے ساتھ دیکھی گئی۔

    مڈ وے اٹول نیشنل وائلڈ لائف ریفیوج کے نگران جنگلی حیات کے ماہر جوناتھن پلسنر نے ایک بیان میں کہا کہ ’ہم پر امید ہیں کہ انڈے سے بچہ نکلے گا،الباٹروس پرندے تقریباً سات ماہ تک ایک انڈے پر بیٹھتے ہیں، بچے انڈوں سے نکلنے کے تقریباً پانچ سے چھ ماہ بعد سمندر کی طرف اڑ جاتے ہیں۔ وہ اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ سمندر کے اوپر پرواز کرتے ہوئے اور سکویڈ اور مچھلی کے انڈوں کو کھاتے ہوئے گزارتے ہیں،وزڈم نے پہلی بار 1956 میں انڈے دینے شروع کیے تھے اور اس نے اب تک 30 کے قریب چوزے بچے دیئے ہیں لیسن الباٹراس کی اوسط عمر 68 سال ہے۔

  • جوبائیڈن کا امریکی تاریخ میں ایک دن میں سب سے بڑی معافی کا اعلان

    جوبائیڈن کا امریکی تاریخ میں ایک دن میں سب سے بڑی معافی کا اعلان

    واشنگٹن: امریکی صدر جوبائیڈن نے امریکی تاریخ میں ایک دن میں سب سے بڑی معافی کا اعلان کیا ہے،امریکی صدر جو بائیڈن نے غیر متشدد جرائم کے مرتکب 39 امریکیوں کو صدارتی معافی جاری کی ہے، اور تقریباً 1500 دیگر افراد کی سزاؤں میں کمی کی ہے-

    باغی ٹی وی :امریکی میڈیا کے مطابق وائٹ ہاؤس نے اسے ایک ہی دن میں جاری ہونے والی صدارتی معافی کی سب سے بڑی کارروائی قرار دیا، اس نے ملوث افراد کے نام نہیں بتائے ہیں،صدر جوبائیڈن نے 1500 مجرمان کی سزائیں تبدیل کردیں،امریکی آئین حکم دیتا ہے کہ صدر کے پاس "مواخذے کے معاملات کے علاوہ، امریکہ کے خلاف ہونے والے جرائم کے لیے معافی دینے کا وسیع اختیار ہے”۔

    اس ماہ کے شروع میں ، بائیڈن نے اپنے بیٹے ہنٹر کو ایک متنازعہ معافی جاری کی ، جس نے صدر کے اپنے قریبی لوگوں کو معاف کرنے کے حالیہ رجحان کو جاری رکھا اس اقدام کا اعلان کرتے ہوئے، بائیڈن نے کہا کہ معاف کیے جانے والوں نے "کامیاب بحالی کا مظاہرہ کیا ہے اور اپنی برادریوں کو مضبوط اور محفوظ بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے”۔ ان کی غیر متشدد سزاؤں میں منشیات کے جرائم شامل تھے۔

    جن مجرمان کی سزاؤں میں کمی ہوئی ان میں وہ قیدی شامل ہیں جو کورونا کےدوران اپنے گھروں میں کم از کم ایک سال قید رہےجبکہ معافی پانے والے 39 مجرمان وہ ہیں جو عدم تشدد کے جرائم کے مرتکب تھے،بائیڈن نے کہا کہ انہوں نے دکھایا ہے کہ وہ دوسرے موقع کے مستحق ہیں۔

    کورونا وبا کے دوران امریکا میں ہر 5 میں سے ایک قیدی کورونا کا شکار رہا، قیدیوں کی سزاؤں میں کمی اور معافی صدر جوبائیڈن کے اپنے بیٹے ہنٹر بائیڈن کو گن اور ٹیکس کیس میں معافی دینے کے دباؤ کے باعث ہے۔

    واضح رہے کہ جوبائیڈن انتقام سے بچنے اور ٹرمپ کے صدارت سنبھالنے سے پہلے کیپٹل ہل کے مجرمان کو بھی پیشگی معافی دینے پر غور کررہے ہیں۔