Baaghi TV

Tag: امریکا

  • ناسا کا عملہ  کس طرح ووٹ ڈالے گا؟

    ناسا کا عملہ کس طرح ووٹ ڈالے گا؟

    واشنگٹن: امریکا میں نومبر کو ہونے والے عام انتخابات میں 46 کلومیٹر کی اونچائی پر خلا میں موجود ناسا کا عملہ اسپیس کمیونیکیشن اینڈ نیویگیشن (SCaN) پروگرام کے ذریعے ووٹ ڈالے گا-

    باغی ٹی وی: بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) پر ناسا کے خلابازوں کو امریکا میں حالیہ عام انتخابات میں absentee ballot یا ابتدائی ووٹنگ کے ذریعے کاؤنٹی کلرک کے دفتر کے تعاون سے ووٹ ڈال سکے گاخلا سے ووٹنگ ناسا کے اسپیس کمیونیکیشن اینڈ نیویگیشن (SCaN) پروگرام کے ذریعے ممکن بنائی گئی ہے۔

    ناسا کے نیئر اسپیس نیٹ ورک کے ذریعے خلائی سفر میں ڈالے گئے ووٹ کا عمل، جس کا انتظام میری لینڈ میں گوڈارڈ اسپیس فلائٹ سینٹر میں ناسا کے گرین بیلٹ کے ذریعے کیا جاتا ہے، خلائی اسٹیشن اور ہیوسٹن میں ناسا کے جانسن اسپیس سینٹر میں مشن کنٹرول سینٹر کے درمیان منتقل ہونے والے ڈیٹا جیسا ہے۔

    اسرائیل بہت احتیاط سے ایرانی حملےکے جواب کا سوچ رہا ہے،سی آئی اے سربراہ

    اس کے علاوہ یہ نیٹ ورک زمین کے 1.2 ملین میل کے فاصلے پر موجود خلائی مشنوں کو مواصلات اور نیویگیشن خدمات کو بشمول خلائی اسٹیسشن کے ایک ساتھ جوڑتا ہے خلاباز امریکا میں اپنے گھر سے دور رہنے والے کسی دوسرے امریکی کی طرح ہی ایبسنٹی بیلٹ کی درخواست کرنے کے لیے فیڈرل پوسٹ کارڈ کی درخواست بھرتے ہیں جس کے بعد وہ ووٹ کے اہل ہوجاتے ہیں۔

    شنگھائی تنظیم پر منظم طریقے سے کھیل کھیلا جا رہا ہے،جاوید لطیف

  • امریکا کی 6 ریاستوں میں طوفان اور سیلاب سے تباہی،ہلاک افراد کی تعداد 223 تک جا پہنچی

    امریکا کی 6 ریاستوں میں طوفان اور سیلاب سے تباہی،ہلاک افراد کی تعداد 223 تک جا پہنچی

    امریکا کی 6 ریاستوں میں طوفان اور سیلاب سے سینکڑوں افراد لاپتا ہوگئے،ہلاک افراد کی تعداد 223 تک جا پہنچی ہے-

    باغی ٹی وی : امریکی میڈیا کے مطابق سیلاب نے سب سے زیادہ تباہی شمالی کیرولائنا میں مچائی جہاں 106 افراد ہلاک ہوگئےشمالی کیرو لائنا میں سیلاب کے باعث سینکڑوں افراد لاپتا ہوچکے ہیں سیلاب کے باعث 7 لاکھ افراد بجلی سے محروم ہیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی ریاستوں میں لوگ صاف پانی اور دیگر بنیادی اشیاء سے بھی محروم ہوگئے تقریباً 300 لاپتا افراد کی تلاش میں کارروائی کی گئی ہے اور ان میں سے 270 افراد کی حالت ٹھیک بتائی گئی ہے، پولیس ایف بی آئی اور ہوم لینڈ سیکیورٹی انویسٹی گیشنز کی مدد سے 75 لاپتا افراد کے معاملے پر کام جاری رکھی ہوئی ہے، جو سینکڑوں افراد تاحال لاپتا ہیں ان میں شمالی کیرولائنا کے علاقے ایشول سے تعلق رکھنے والے عمر خان بھی ہیں شامل ہیں جو سیلاب کے سبب گھر کی بالکونی پر پناہ لیے ہوئے تھے مگر ریلہ ان کا گھر بہا لے گیا۔

    وزیر داخلہ محسن نقوی کا کنٹرول روم کا دورہ: امن و امان کی بحالی اور …

    گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے گورنر راج کی افواہیں مسترد کر دی

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کا ملک گیر ممبر سازی مہم کا باقاعدہ آغاز

  • امریکا کا  ایران کی جوہری تنصیبات پر اسرائیلی حملوں کی حمایت سے انکار

    امریکا کا ایران کی جوہری تنصیبات پر اسرائیلی حملوں کی حمایت سے انکار

    واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیل پر ایرانی میزائل حملوں کے جواب میں ایران کی جوہری تنصیبات پر اسرائیلی حملوں کی حمایت سے انکار کردیا۔

    باغی ٹی وی : امریکی صدر جوبائیڈن کا کہنا ہے کہ اسرائیل پر واضح کردیا ہے کہ ایران کی جوہری تنصیبات پر اسرائیلی حملوں کی حمایت نہیں کرتے،اسرائیلی فوجی تنصیبات پر ایرانی میزائل حملوں کے بعد جو بائیڈن نے زور دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اسرائیل کی مکمل حمایت جاری رکھے گا، میزائل حملوں کے جواب میں ایران پر مزید اقتصادی پابندیاں لگائی جائیں گی۔

    اسرائیل پر ایرانی میزائل حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر اتحادی ممالک کے سربراہان سے تبادلہ خیال کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان اور برطانیہ سمیت جی سیون ممالک نے اتفاق کیا ہے کہ ایران کے جوہری تنصیبات پر حملوں کی حمایت نہیں کی جائے گی تاہم اسرائیل کی جوابی کارروائی متناسب ہونی چاہیے پورا مشرق وسطیٰ کا خطہ اس وقت خطرے میں ہیں، جی سیون ممالک نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کرنے پر بھی اتفاق کر لیا ہے۔

    دوسری جانب امریکا نے اسرائیل پر واضح کردیا ہے کہ لبنان میں شہریوں کو نشانہ نہ بنایا جائے،امریکہ محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل سے کہاہے کہ لبنان میں شہریوں پر حملے بند کیے جائیں-

    ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ امریکا لبنان میں شہریوں یا انفرااسٹرکچر پر حملے نہیں دیکھنا چاہتا، مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے مکمل طور پر آگاہ ہیں، مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے کوششیں کررہے ہیں، حماس نے غزہ جنگ بندی معاہدے سے انکار کیا،جی سیون ممالک جلد ایران پر پابندیاں عائد کریں گے۔

    ایک سوال کے جواب میں میتھو ملر نے کہا کہ کسی بھی ملک میں امریکی امداد میں بدعنوانی کو سنجیدگی سے لیتے ہیں، امریکی امداد کے استعمال کی نگرانی کا سخت نظام ہے، پاکستان سمیت کسی بھی ملک کو دی گئی امداد پر نگرانی رکھتے ہیں، امداد کے غلط استعمال پر فراہمی روک دیتے ہیں۔

    واضح رہے کہ دو روز قبل حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ اور حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کی اسرائیلی حملوں میں شہادت کا بدلہ لینے کیلئے ایران کی جانب سے اسرائیل پر براہ راست 200 سے زائد میزائل فائر کیے گئے تھے۔

    ایران کا کہنا تھا کہ ایران نے صرف اسرائیلی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، کسی بھی عوامی مرکز کو نشانہ نہیں بنایا گیا تھا، ایران نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیل جوابی کارروائی کرتا ہے تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا،ایرانی حملے کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل کو ان حملوں کی قیمت چکانا پڑے گی۔

  • امریکا نے 19 بھارتی کمپنیوں پر پابندیاں عائد  کر دیں

    امریکا نے 19 بھارتی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دیں

    امریکا نے روس کو جنگی سازوسامان فراہم کرنے والی 19 بھارتی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کردی ہیں۔

    باغی ٹی وی:غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکا کی جانب سے دنیا بھر کی تقریباً 400 کمپنیوں اور افراد پر پابندیاں عائد کرنےکا اعلان کیا گیا ہے امریکی وزارت خزانہ کے مطابق یہ پابندیاں روسی فوج کو جدید ٹیکنالوجی اور سامان فراہم کرنے پر عائد کی گئی ہیں، روس کی جانب سے یوکرین کے خلاف غیر قانونی اور غیر اخلاقی جنگ لڑنے میں مدد فراہم کرنے والوں کے خلاف امریکا اور اس کے اتحادی ایسے اقدامات کرتے رہیں گے۔

    بھارت، چین، سوئٹزر لینڈ، تھائی لینڈ اور ترکی کے کاروباری اداروں نے روس کی وار مشین کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجیز پر مشتمل اشیا اور ٹیکنالوجیز فراہم کی ہیں ،امریکی محکمہ خزانہ نے روسی وزارتِ دفاع کے اعلیٰ حکام اور روس کی مستقبل کی انرجی پروڈکشن اور برآمدات سے متعلق اداروں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

    امریکا کے نائب وزیرِخزانہ ویلی ایڈییمو نے کہا کہ امریکا اور اس کے اتحادی دنیا بھر میں اُن ممالک اور اداروں پر نظر رکھے ہوئے ہیں جو روس کو جنگ میں قدم جمانے کے لیے درکار ٹیکنالوجیز، ہتھیار اور مشینری فراہم کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق امریکی پابندیوں کی زد میں 19 بھارتی کمپنیاں اور 2 بھارتی شخصیات آئی ہیں بھارتی کمپنیاں روس کو الیکٹرانک، کمپیوٹر اور ایوی ایشن سے متعلق آلات فراہم کر رہی تھیں۔

    امریکی پابندیوں پر ردعمل دیتے ہوئے بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نےکہا ہےکہ ان کمپنیوں نے بھارتی قوانین کی خلاف ورزی نہیں کی، معاملے پر امریکی حکام سے رابطے میں ہیں تاکہ مسئلہ حل کیا جاسکے۔

    مغربی میڈیا کے مطابق چین، قازقستان، ترکی اور متحدہ عرب امارات دُہرے استعمال والی ٹیکنالوجیز اور اشیا کی سپلائی کے حوالے سے اہم ممالک گردانے جارہے ہیں،ان ملکوں کی مدد سے روس اپنی جنگی استعداد کو برقرار رکھنے میں بہت حد تک کامیاب ہے۔ امریکا اور یورپ یوکرین جنگ کو ختم کرنے اور اُسے یورپ کے کسی ملک تک پھیلنے سے روکنے کے لیے دو سال سے کوشاں رہے ہیں۔ یورپ اس معاملے میں نیم دلانہ کوششیں کرتا رہا ہے جبکہ امریکا نے زیادہ جوش و خروش دکھایا ہے۔

  • اسرائیل حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر رہا ہے،امریکا

    اسرائیل حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر رہا ہے،امریکا

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیوملر کا کہنا ہے کہ امریکا اب بھی لبنان کے بارے میں اسرائیل سے بات چیت کر رہا ہے، اسرائیل حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر رہا ہے۔

    باغی ٹی وی :لبنان پر اسرائیل نے زمینی حملہ شروع کردیا ہے، جنوبی لبنان پر اسرائیلی ٹینک اور آرٹیلری کے حملے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، اسرائیلی فوج کابینہ کی منظوری کے بعد زمینی پیش قدمی شروع کردے گی، اسرائیلی سرحد کے ساتھ لبنانی آرمی نے اپنے اڈے چھوڑ دیے ہیں-

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھو ملر نے اسرائیلی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے محدود پیمانے پر لبنان میں کارروائیوں کے بارے میں آگاہ کیا ہے اور وہ اس حوالے سے سامنے آنے والی خبروں سے متعلق بھی آگاہی رکھتے ہیں، اسرائیلی حکام سے اس حوالے سے کچھ امور پر بات بھی ہو گئی ہے امریکا اب بھی لبنان کے بارے میں اسرائیل سے بات چیت کر رہا ہے، اسرائیلی حق دفاع کی حمایت کرتے ہیں، اسرائیل سرحد کے قریب حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے لیے محدود کارروائیاں کررہا ہے۔

    دوسری جانب وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ جنگ بندی چاہتے ہیں مگر اسرائیلی فوج کے لبنان میں اسٹریٹیجک مقاصد کو سمجھتے ہیں۔

  • لبنان و فلسطین کا انتقام لینے کیلئے یمنی افواج کا  امریکی بحریہ کے جہازوں پر بڑا حملہ

    لبنان و فلسطین کا انتقام لینے کیلئے یمنی افواج کا امریکی بحریہ کے جہازوں پر بڑا حملہ

    لبنان اور فلسطین پر جاری اسرائیلی بمباری کا انتقام لیتے ہوئے یمنی افواج نے بحیرہ احمر میں امریکی بحریہ کے جنگی جہازوں پر بڑا حملہ کردیا۔

    باغی ٹی وی :یمنی افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحیٰ ساری نے کہا ہے کہ تازہ حملے میں 3 امریکی ڈسٹرائیر کو نشانہ بنایا گیا ہے جو اسرائیل کی مدد کیلئے مقبوضہ علاقوں کی جانب بڑھ رہے تھے حملے میں بحریہ، فضائیہ اور بری فوج نے حصہ لیا، 23 بیلسٹک اور ونگڈ میزائل داغے گئے اور ڈرونز سے بھی مدد لی گئی یہ حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک تل ابیب، غزہ پر حملے بند نہیں کرتا اور فلسطینیوں کو امداد نہیں پہنچائی جاتی۔

    دوسری جانب مزاحمتی فورسز کی جانب سے عراق سے بھی مقبوضہ علاقوں میں ایک اہم ہدف کو ڈرون سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

    ادھر اسرائیل نے لبنان کے دارالحکومت بیروت میں حزب اللہ کے ہیڈ کوارٹر پر دو ہزار پاؤنڈز وزنی بم برسا دیے جس سے چھ عمارتیں تباہ ہوگئیں جبکہ حملے میں اہم کمانڈروں سمیت 8 افراد شہید اور 100 کے قریب زخمی ہوگئے، حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ حزب اللہ ایگزیکٹو کونسل کے سربراہ ہاشم صفی الدین محفوظ ہیں۔ لوگ دشمن کے پھیلائے ہوئے جھوٹ کے جال میں نہ پھنسیں۔ واضح رہے کہ ہاشم صفی الدین حزب اللہ چیف کے رشتہ دار ہیں۔

    لبنانی وزارتِ صحت نے ہلاکتوں کی حتمی تعداد تو نہیں بتائی تاہم اتنا ضرور بتایا کہ چند لاشیں نکالی گئی ہیں۔ حزب اللہ کے المنار ٹی وی نے بتایا کہ چار عمارتیں تباہ ہوئی ہیں اور کئی ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔ اے پی نیوز کے مطابق یہ حملہ اس قدر شدید تھا کہ عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں اور شمالی بیروت میں 30 کلومیٹر کے فاصلے پر مکانات کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان نے دعوی کیا کہ اپریشن حزب اللہ کے ہیڈ کوارٹرز کے خلاف کیا گیا جو کئی ریائشی عمارتوں کے نیچے بنایا گیا تھا۔ حزب اللہ کے المنار ٹیلی ویژن نے بتایا کہ اسرائیلی حملوں میں کم از کم چار ریائشی عمارتیں تباہ ہو گئی ہیں۔

    اس حملے سے پہلے خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ اسرائیل کسی بھی وقت جنوبی لبنان پر زمینی حملہ کرسکتا ہے۔ اسرائیلی فوج نے درجنوں ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور دیگر ساز و سامان لبنانی سرحد پر پہنچادیا ہے۔ فوج کو واضح احکامات بھی دیے جاچکے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی حصے میں حزب اللہ ملیشیا کے سینٹرل ہیڈ کوارٹرز پر بڑا حملہ کیا ہے۔ بیروت پر حملے کے تناظر میں اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو اپنا امریکا کا دورہ مختصر کرکے وطن واپس پہنچ رہے ہیں۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق حملے میں حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ کو نشانہ بنایا گیا ان کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، ادھر امریکا نے مشرق وسطی میں بگڑھی زمینی صورتحال کے بعد اسرائیلی حملے سے لاعلم ہونے کا دعویٰ کردیا جبکہ امریکی صدر نے مشرق وسطیٰ کو ’ضرورت کے مطابق‘ خود کو تیار رکھنے کی ہدایت جاری کردیں۔

    دوسری جانب ترجمان پینٹاگون سبرینا سنگھ نے کہا حزب اللہ کے ہیڈ کوارٹر پر حملے میں امریکا ملوث نہیں، اسرائیل نے حملے کی پیشگی اطلاع نہیں دی امریکی ڈیفنس سیکرٹری لائیڈ آسٹن نے اسرائیلی وزیردفاع سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے تاہم اسرائیل نے آپریشن سے متعلق مزید کوئی معلومات فراہم نہیں کیں۔

    قبل ازیں صدر بائیڈن نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ امریکہ کو (اسرائیلی) کارروائی کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا اور نہ ہی وہ اس میں شریک تھا۔ انہوں نے صحافیوں کے سوالات پر مزید کہا کہ ’ہم معلومات اکٹھی کر رہے ہیں، علاوہ ازیں امریکی صدر جوبائیڈن نے مشرق وسطٰی میں موجود امریکی افواج کو حکم دیا ہے کہ وہ ’ضرورت کے مطابق‘ خود کو تیار رکھیں۔

    وائٹ ہاؤس سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ امریکی صدر نے پینٹاگون کو ہدایت کی ہے کہ وہ خطے میں ضروری امریکی فورس کی پوزیشن کا جائزہ لے اور اسے ضرورت کے مطابق ہم آہنگ کرے تاکہ ڈیٹرنس کو بڑھایا جائے، فورس کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور امریکی مقاصد کا مکمل احاطہ کیا جائے۔

  • پاکستان میں افغانستان سے دہشتگردی  گہری تشویش کا باعث ہے،امریکا

    پاکستان میں افغانستان سے دہشتگردی گہری تشویش کا باعث ہے،امریکا

    واشنگٹن: امریکہ کی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ترجمان جان کربی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں افغانستان سے دہشت گردی ہمارے لیے گہری تشویش کا باعث ہے۔

    باغی ٹی وی: معمول کی پریس کانفرنس کے دوران ایک سوال کے جواب میں جان کربی نے کہا کہ پاکستان میں افغانستان سے دہشت گردی ہمارے لیے گہری تشویش کا باعث ہے اور پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں سے ایک مہلک خطرہ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بائیڈن نے افغان جنگ کے خاتمے کے بعد انسداد دہشت گردی صلاحیت برقرار رکھنے کو ترجیح دی، ہم نے کافی حد تک ثابت کیا انسداد دہشت گردی صلاحیت امریکا کے پاس موجود ہے اور یہ صلاحیت خطرے سے نمٹنے کے لیے کافی بہتر اور کارآمد ہے۔

    جب جان کربی سے بھارتی ایجنٹس کے امریکا میں سکھ رہنما کی قاتلانہ سازش پر سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ بھارت اہم پارٹنر ہے، ہم ہندوستان کے اچھے دوست اور اچھے شراکت دار ہیں پر اس کے باوجود ہمیشہ اپنے خدشات کا اظہار کیا ،بھارت کے ساتھ تمام معاملات پر صاف گوئی سے بات کی ہے، سکھ رہنما قاتلانہ سازش پر بات کرنے سے کبھی کنارہ کشی اختیار نہیں کی۔

  • امریکا کا متحدہ عرب امارات کو اہم دفاعی شراکت دار  ملک کا درجہ دینے کا اعلان

    امریکا کا متحدہ عرب امارات کو اہم دفاعی شراکت دار ملک کا درجہ دینے کا اعلان

    متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النیہان کی امریکہ میں امریکی صدر جوبائیڈن اور نائب امریکی صدر سے ملاقاتیں ہوئی ہیں

    امریکی صدر جوبائیڈن اور متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان کی واشنگٹن ڈی سی میں ملاقات ہوئی ہے، ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ اور سوڈان کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا ،تیل کے وسیع ذخائر رکھنے والے ملک یو اے ای کے صدر کا یہ پہلا دورہ امریکا ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے یو اے ای کو اہم دفاعی شراکت دار ملک کا درجہ دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔امریکی اور متحدہ عرب کے صدر کے درمیان گفتگو کا اہم موضوع غزہ جنگ بھی تھا کیوں کہ اس جنگ کے خاتمے کے بعد متحدہ عرب امارات ممکنہ طور پر غزہ کی تعمیرِ نو میں اہم کردار ادا کرنے والے ممالک میں شامل ہوگا،امریکی صدر جو بائیڈن نے اماراتی صدر شیخ محمد بن زید النہیان سے مصافحہ کرنے کے بعد کہا کہ وہ غزہ میں جنگ کے خاتمے کی کوششوں سمیت کئی موضوعات پر تبادلۂ خیال کرنے والے ہیں، وہ لبنان میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ ہیں اور وہ کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    امریکی صدر جو بائیڈن اور شیخ محمد بن زید النہیان کی یہ ملاقات امریکا کے شہر نیو یارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل ہوئی ،امریکی صدر جو بائیڈن نے امریکا کے یو اے ای سے تعلقات کو بھی سراہا اور کہا کہ اماراتی نئی راہیں تلاش کرنے والی قوم ہے جو ہمیشہ مستقبل اور بڑے اہداف پر نظر رکھتی ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا نے اب تک صرف بھارت کو اہم دفاعی شراکت دار ملک کا درجہ دے رکھا ہے،کسی بھی ملک کو یہ درجہ دینے کے بعد امریکہ اس کے ساتھ قریبی فوجی تعاون بڑھاتا ہے جس میں اس ملک کی فوج کی تربیت، مشترکہ جنگی مشقیں اور دیگر مشترکہ کوشش شامل ہیں، یہ ایک ایسا قدم ہے جو اسے مزید جدید ترین امریکی ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی کی خریداری کا اہل بنا سکتا ہے، کیونکہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ متحدہ عرب امارات ہندوستان کے علاوہ واحد دوسری ریاست ہے جس نے یہ درجہ حاصل کیا ہے،وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا کہ یہ اقدام "امریکہ، متحدہ عرب امارات اور ہندوستان کی فوجی قوتوں کے درمیان مشترکہ تربیت، مشقوں اور ملٹری ٹو ملٹری تعاون کے ذریعے بے مثال تعاون کی اجازت دے گا۔
    یہ عہدہ سوڈانی خانہ جنگی میں اس کے کردار، روس سے اس کے اقتصادی روابط اور چین کے ساتھ فوجی تعلقات پر کشیدگی کے باوجود متحدہ عرب امارات کو اپنے کیمپ میں رکھنے کی امریکہ کی خواہش کی عکاسی کرتا ہے۔امریکہ متحدہ عرب امارات پر زور دے رہا ہے کہ وہ سوڈان میں ریپڈ سپورٹ فورسز کے لیے اپنی فوجی مدد کو کم کرے،

    توقع ہے کہ وائٹ ہاؤس کے مشرق وسطیٰ کے اعلیٰ عہدیدار، بریٹ میک گرک اس ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر اماراتی حکام کے ساتھ ایک میٹنگ کریں گے تاکہ گروپ کے لیے متحدہ عرب امارات کی فوجی مدد پر تبادلہ خیال کیا جا سکے،

    صرف دو سال پہلے، متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ نہیان نے بائیڈن کے ساتھ بات کرنے سے انکار کر دیا تھا کہ امریکہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے قریب پہنچ رہا ہے اور یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کو لگام دینے میں ناکام ہو رہا ہے۔ اپنی طرف سے، امریکہ نے متحدہ عرب امارات پر الزام لگایا کہ روس کو امریکی پابندیوں کو پس پشت ڈالنے اور فوجی طور پر چین کے قریب آنے کی اجازت دی گئی۔متحدہ عرب امارات کا سب سے بڑا ہدف امریکہ کے ساتھ گہرے سیکورٹی تعلقات اور اقتصادی تعاون میں توازن پیدا کرنا ہے جبکہ سوڈان جیسے مقامات پر کام کرنے کے لیے اپنی خودمختاری کو مستحکم کرنا ہے۔

    امریکی صدر بائیڈن اور اماراتی صدر شیخ محمد بن زید النہیان کے درمیان ملاقات کے بعد جاری ہونے والے بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے غزہ میں جلد اور بلا رکاوٹ امداد کی فراہمی پر زور دیا اور اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدے کے عزم کو دہرایا، دونوں رہنماؤں نے سوڈان کے جنگ زدہ علاقے دارفور کی صورتِ حال پر تشویش کا بھی اظہار کیا ، دونوں رہنماؤں نے سوڈان کی فوج اور نیم فوجی دستوں ’ریپڈ سپورٹ فورسز‘ کے درمیان ہلاکت خیز لڑائی فوری بند کرنے اور سیاسی عمل شروع کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

    امریکا کی نائب صدر اور ری پبلکن پارٹی کی صدارتی امیدوار کاملا ہیرس نے بھی شیخ محمد بن زید النہیان سے ملاقات کی ہے،کاملا ہیرس نے شیخ محمد بن زید النہیان سے علیحدہ ملاقات کی، ان کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کاملا ہیرس نے ملاقات میں سوڈان کے تنازع پر اپنے شدید خدشات کا اظہار کیا۔کاملا ہیرس نے ایکس پر پوسٹ کرتےہوئے کہا کہ میں نے آج متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد سے ملاقات کی۔ ہم ایک ساتھ مل کر اپنی سیکیورٹی، ٹیک، اور اقتصادی شراکت داری کو بڑھا رہے ہیں ہم علاقائی استحکام کو مضبوط بنانے اور غزہ اور سوڈان میں سنگین انسانی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔

  • امریکا میں متعدد حملہ آوروں کا شہریوں پر حملہ،4 افراد ہلاک درجنوں زخمی

    امریکا میں متعدد حملہ آوروں کا شہریوں پر حملہ،4 افراد ہلاک درجنوں زخمی

    واشنگٹن: امریکہ میں متعدد حملہ آوروں نے شہریوں پر گولیاں برسا دیں جس کے نتیجے میں 4 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔

    باغی ٹی وی :امریکی میڈیا کے مطابق پولیس کے مطابق یہ واقعہ ریاست الاباما میں برمنگھم کے فائیو پوائنٹس ساؤتھ ڈسٹرکٹ میں رات گئے پیش آیا، فائرنگ کرنے والوں کی تعداد 2 یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے جائے وقوعہ پر پہنچتے ہی ہمیں 2 بالغ مرد اور ایک بالغ خاتون کی گولیاں لگی لاشیں ملیں جب کہ درجنوں زخمیوں میں سے ایک بچے نے اسپتال میں دم توڑ دیا۔

    پولیس کے مطابق حملہ آور اس کارروائی کے بعد فرار ہوگئے جن کی تلاش جاری ہے شہریوں سے حملہ آوروں کی شناخت کی مدد کرنے کی اپیل کی گئی ہے واقعے کی تحقیقات میں متعدد ایجنسیاں شامل ہیں جن میں فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن اور بیورو آف الکوحل، ٹوبیکو، آتشیں اسلحہ اور دھماکا خیز مواد شامل ہیں،تاحال واقعے کے محرک کا سراغ نہیں لگایا جا سکا اور نہ ہی حملہ آوروں سے متعلق کوئی ابتدائی معلومات مل سکی ہے۔

    واضح رہے کہ امریکا میں رواں برس 403 بڑے پیمانے پر فائرنگ کے واقعات ہوئے جن میں 12 ہزار سے زائد افراد مارے گئے جب کہ زخمیوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔

  • وزیراعظم شہباز شریف جنرل اسمبلی سے خطاب کیلئے امریکا روانہ

    وزیراعظم شہباز شریف جنرل اسمبلی سے خطاب کیلئے امریکا روانہ

    وزیر اعظم شہباز شریف لاہور سے لندن کے لئے روانہ ہوگئے

    وزیر اعظم شہباز شریف لندن میں ایک رات قیام کریں گے،وزیر اعظم 23 ستمبر کی شام کو لندن سے امریکا روانہ ہو جائیں گے،وزیراعظم شہباز شریف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کریں گے، شہباز شریف کے ہمراہ خواجہ آصف، احسن اقبال، وزیراعظم اسسٹنٹ برائے خارجہ امور طارق فاطمی بھی نیویارک پہنچ رہے ہیں۔وزیراعظم کی امریکا میں ایم ڈی آئی ایم ایف سے ملاقات کا امکان ہے۔وزیراعظم کے وفد میں جوائنٹ سیکرٹری سمیراحمد سید ودیگرسینئر افسر بھی شامل ہیں وزیراعظم اقوام متحدہ اجلاس سے خطاب کریں گے وزیراعظم شہباز شریف دیگر ممالک کی اعلیٰ شخصیات سمیت اعلیٰ عہدے داروں سے بھی ملاقات کریں گے ۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی امریکا میں بنگلہ دیش کے عبوری وزیراعظم سے ملاقات ہو گی،وزیراعظم کی دورہ امریکہ کے دوران بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائرز محمد یونس اورمالدیپ کے صدر محمد معیزوسے ملاقات طے پاگئی ہے پاکستان اور بنگلہ دیش حکمرانوں کی نیویارک میں پہلی ملاقات ہوگی ،وزیراعظم 27ستمبر کو پاکستانی وقت کے مطابق شام سوا 6بجے ا قوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب کریں گے ،وزیراعظم کاجنرل اسمبلی سے کلیدی خطاب چیدہ چیدہ نکات پر مشتمل ہوگا ،وزیراعظم خطاب میں پاکستان کودرپیش اقتصادی مسائل ودیگرمشکلات پر بات کریں گے ،وزیراعظم خطاب میں افغان مہاجرین ،سیلاب کے دوران کئے گئے عالمی وعدوں پربات کریں گے،وزیراعظم خطاب میں مقبوضہ کشمیر سمیت مسئلہ فلسطین وغزہ پرجاری اسرائیلی جارحیت پر بات کریں گے ،

    وزیراعظم نیویارک آمد کے بعد امریکی صدر جوبائیڈن کی جانب سے جنرل اسمبلی اجلاس میں شریک ممالک کے سربراہان کے اعزاز میں دیئے گئے استقبالیہ میں شرکت کریں گے ،وزیراعظم27ستمبر کو اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے خطاب کے بعد براستہ لندن 29ستمبر کو واپس پاکستان پہنچیں گے

    پانچ پانچ ہزار دیہاڑی پر مہاجر کیمپوں میں جلسے کیلئے لوگ لائے جا رہے،انکشاف

    پی ٹی آئی لاہور جلسہ کا وقت شروع،خالی کرسیاں،قیادت نہ پہنچی

    لاہور جلسہ کی اجازت نہ ملنے پر عمران خان نے "پلان بی” بتا دیا

    لاہور جلسہ،پی ٹی آئی اجازت کی منتظر،علی امین گنڈاپور کی حکمت عملی تیار

    اجازت دیں یا نہ دیں ہم جلسہ کریں گے،شعیب شاہین

    پی ٹی آئی کا لاہور جلسہ روکنے کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست

    ہم پر کربلا بنا دیں جلسہ تو ہر صورت کریں گے،علیمہ خان

    تحریک فتنہ فساد کا جلسہ،سب راستے کھلے ہیں،عظمیٰ بخاری