Baaghi TV

Tag: امریکا

  • امریکی وزیر خارجہ کی ریاض میں سعودی ہم منصب سے ملاقات

    امریکی وزیر خارجہ کی ریاض میں سعودی ہم منصب سے ملاقات

    ریاض: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو مشرق وسطیٰ کے اپنے پہلے دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق دارا لحکو مت ریاض میں امریکی ہم منصب کی سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ملاقات میں دونوں کے درمیان دو طرفہ تعلقات اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان علاقائی اور عالمی امور پر بھی گفتگو کی گئی.

    واضح رہے کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو پیر کے روز ریاض پہنچےجو ان کے 13 سے 18 فروری تک یورپ اور مشرق وسطیٰ کے دورے کا حصہ ہے،امریکی وزیر خارجہ کے ہمراہ امریکی قومی سلامتی کے مشیر مائک والٹز بھی ہیں اسی طرح مشرق وسطی کے لیے امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف بھی ریاض پہنچیں گے امریکی عہدے داران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے اہم ملاقات کریں گے۔

    طالبان حکومت کا پہلا سفارتی وفد دورے پر جاپان پہنچ گیا

    ان کی آمد روسی حکام کے ساتھ متوقع مذاکرات سے قبل ہوئی ہے جن کا مقصد یوکرین میں ماسکو کی تقریباً تین سال سے جاری جنگ کو ختم کرنا ہے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ ہفتے روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے فون پر بات کی اور اعلیٰ حکام کو روس-یوکرین جنگ پر مذاکرا ت شروع کرنے کا حکم دیا جسے ختم کرنے کا انہوں نے اپنی صدارتی مہم کے دوران بار بار عہد کیا تھا۔ اس پیش رفت کے بعد روبیو کی آمد ہوئی ہے۔

    ریاض نے 20 جنوری کو اقتدار سنبھالنے والی ٹرمپ انتظامیہ اور ماسکو کے درمیان ابتدائی روابط میں کردار ادا کیا ہے جس سے گذشتہ ہفتے قیدیوں کے تبادلے کو محفوظ بنانے میں مدد ملی۔

    حزب اللہ کی اسرائیلی فوج کو 18 فروری تک لبنان خالی کرنے کی ڈیڈلائن

    امریکی اعلیٰ سفارت کار روبیو نے ہفتے کے روز اپنے روسی ہم منصب وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف کے ساتھ فون پر بات کی ایک امریکی قانون ساز اور ایک اور ذریعے نے روئٹرز کو بتایا کہ روبیو ٹرمپ کے قومی سلامتی کے مشیر مائیک والٹز اور شرقِ اوسط کے لیے وائٹ ہاؤس کے ایلچی سٹیو وٹ کوف کے ساتھ سعودی عرب میں روسی حکام سے ملاقات کریں گے۔ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ وہ روس سے کس شخصیت سے ملاقات کریں گے۔

    روسی اخبار کومرسنٹ نے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ یہ مذاکرات منگل کو سعودی دارالحکومت ریاض میں ہوں گے یہ روسی اور امریکی حکام کے درمیان برسوں میں پہلی مرتبہ اعلیٰ سطحی ذاتی مذاکرات ہوں گے اور یہ امریکی اور روسی صدور کے درمیان ملاقات سے قبل ہوں گے۔

    پاکستان نے عالمی بینک کے ساتھ شراکت داری سے استفادہ کیا،وزیراعظم

    روبیو نے اتوار کو کہا کہ آئندہ ہفتوں اور دنوں میں اس بات کا تعین ہو جائے گا کہ آیا پیوٹن امن قائم کرنے میں سنجیدہ ہیں یا نہیں۔

    اتوار کو متحدہ عرب امارات پہنچنے والےیوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ وہ سعودی عرب اور ترکی کا بھی دورہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن کوئی تاریخ نہیں دی گئی انہوں نے کہا کہ ان کا روسی یا امریکی حکام سے ملاقات کا کوئی ارادہ نہیں تھا اور ان کا خیال ہے کہ سعودی میزبانی میں ہونے والے مذاکرات میں یوکرین کو مدعو نہیں کیا جائے گا۔

    پی ٹی آئی میں کسی کا مستقبل محفوظ نہیں، شیر افضل مروت

    واضح رہے کہ روس نے لگ بھگ تین برس قبل فروری 2022 میں یوکرین پر حملہ کیا تھا اور فریقین کے درمیان اب بھی لڑائی جاری ہے،اس جنگ کے دوران ہزاروں افراد کی اموات ہوئی ہیں جب کہ یوکرین میں بڑی تعداد میں آبادی کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا ہے۔

  • ایٹمی پروگرام سے متعلق بیان،ایران نے اسرائیل اور امریکہ کو خبردار کر دیا

    ایٹمی پروگرام سے متعلق بیان،ایران نے اسرائیل اور امریکہ کو خبردار کر دیا

    تہران: ایٹمی پروگرام سے متعلق بیان دینے پر ایران نے اسرائیل اور امریکہ کو خبردار کر دیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ نے بیان میں کہا کہ ایران نے اپنے ایٹمی پروگرام کا دفاع کیا ہے اور وہ اسے جاری رکھنے میں کوئی خوف محسوس نہیں کرے گا ایران کا پرامن ایٹمی پروگرام جاری ہے اور یہ تین دہائیوں سے پرامن ہے جب کہ این پی ٹی ممبر ہونے کی بنیاد پر ایران کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی صورت اپنے ایٹمی پروگرام پر کمزوری واضح نہ کرے۔

    واضح رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اتوار کو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کے بعد کہا تھا کہ امریکا اور اسرائیل ایران کے ایٹمی مقاصد کو روکنے کے لیے پرعزم ہیں،جبکہ امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہردہشتگرد گروپ کے پیچھے، ہر تشدد کے پیچھے، ہر عدم استحکام کی سرگرمی کے پیچھے اور خطے میں کروڑوں لوگوں کے امن کو لاحق خطرے کے پیچھے ایران ملوث ہے۔

    مفتی قوی مجھے نہیں سنبھال پائیں گے،راکھی ساونت

    لوئر کرم:قافلے پر حملہ، شدید فائرنگ،امدادی گاڑیوں میں لوٹ مار

    سندھ نے ہمیشہ ن لیگ اور پی ٹی آئی کو مسترد کیا ہے،شرجیل میمن

  • ٹرمپ کی پالیسیوں کو روکنے والے  ججز کیخلاف مواخذے کی کارروائی کا اعلان

    ٹرمپ کی پالیسیوں کو روکنے والے ججز کیخلاف مواخذے کی کارروائی کا اعلان

    واشنگٹن: امریکی ریپبلکن اراکینِ کانگریس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کو روکنے والے دو وفاقی ججز کے خلاف مواخذے کی کارروائی کا اعلان کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی :امریکی میڈیا کے مطابق ریپبلکن رہنما اینڈریو کلائیڈ نے امریکی ضلعی جج جان جے میک کونل جونیئر کے خلاف مواخذے کی تحریک پر کام شروع کر دیا ہے میک کونل نے ٹرمپ حکومت کے وفاقی اخراجات منجمد کرنے کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا تھا، میک کونل نے ٹرمپ انتظامیہ کو حکم دیا تھا کہ وہ حکومتی اخراجات پر عائد پابندی کو ختم کرے، جسے ریپبلکن اراکین “سیاسی انتقام” قرار دے رہے ہیں۔

    اسی طرح، ریپبلکن رکنِ کانگریس ایلی کرین نے جج پال اینگلمائر کے خلاف بھی مواخذے کی تیاری شروع کر دی ہے، جنہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کو محکمہ خزانہ کے ریکارڈ تک رسائی دینے سے روک دیا تھا جس پر ریپبلکن حلقوں میں شدید برہمی پائی جاتی ہے۔ تاہم، ان فیصلوں کے حوالے سے میک کونل اور اینگل مائر نے کسی قسم کا ردعمل دینے سے گریز کیا ہے۔

    یوٹیلیٹی اسٹورز یونین کا 17 فروری کو ملک گیر احتجاج کا اعلان

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران وفاقی ججز کے فیصلوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ شاید ان ججز کو بھی “دیکھنے کی ضرورت ہے” کیونکہ یہ ایک “سنگین خلاف ورزی” ہے،اس موقع پر ان کے ہمراہ ڈپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی (DOGE) کے سربراہ ایلون مسک بھی موجود تھے، انہوں نے بھی عدلیہ کے فیصلوں پر برہمی کا اظہار کیا تھا ،سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا کہ صرف ایک نہیں، بلکہ متعدد ججز کے خلاف فوری مواخذے کی ضرورت ہے۔

    اس حوالے سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ججز کے خلاف مواخذے کی تحریک کو ایوان نمائندگان میں تو اکثریتی ووٹ سے منظور کیا جا سکتا ہے، لیکن سینیٹ میں اس کی منظوری کے امکانات نہایت کم ہیں موجودہ سینیٹ میں ریپبلکن اراکین کی تعداد صرف 53 ہے، جبکہ کسی بھی جج کو ہٹانے کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔

    امریکا سے مزید 120 بھارتیوں کی ملک بدری،زنجیروں اور ہتھکڑیوں میں جکڑ کر بھارت بھیجا گیا

    مریکہ میں عدالتی مواخذے کے کیسز نایاب ہوتے ہیں اور عام طور پر انہیں بدعنوانی، جھوٹی گواہی یا سنگین ذاتی بدعملی کی بنیاد پر لایا جاتا ہے۔ آخری بار 2010 میں کسی جج کو مواخذے کے ذریعے برطرف کیا گیا تھا جبکہ گزشتہ 120 سالوں میں صرف 15 وفاقی ججز کے خلاف مواخذے کی کارروائی ہوئی ہے، جن میں سے 8 کو عہدے سے ہٹایا گیا۔

    اس پیشرفت نے امریکہ میں عدلیہ اور ایگزیکٹو برانچ کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے مبصرین کے مطابق، یہ معاملہ ریپبلکن پارٹی اور وفاقی عدلیہ کے درمیان کھلی جنگ کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔

    ٹرمپ اور ایلون مسک نے 9500 سرکاری ملازمین کو برطرف کر دیا

    نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی ان عدالتی فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ججز کو انتظامیہ کے قانونی اختیارات پر کنٹرول کا حق نہیں دیا جا سکتا،” وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے بھی ان ججز کو “سیاسی سرگرم کارکن” قرار دیاد جبکہ اٹارنی جنرل پم بونڈی نے عندیہ دیا کہ محکمہ انصاف ایلون مسک اور ٹرمپ انتظامیہ کی مکمل حمایت کرے گا، لیکن انہوں نے واضح کیا کہ فوری طور پر ججز کے خلاف مواخذے کا امکان نہیں ہے۔

    دوسری جانب،ریپبلکن سینیٹرز کا اس معاملے پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے، سینیٹر چک گراسلی نے کہا کہ “ہمارا آئینی نظام چیکس اینڈ بیلنس پر مبنی ہے، اور ہمیں اسی اصول پر چلنے دینا چاہیے ،جبکہ سینیٹر جان کینیڈی نے کہا کہ “میں عدالتوں کے ہر فیصلے سے اتفاق نہیں کرتا، لیکن میں عدلیہ کی خودمختاری پر حملہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔”

    امریکا سے مزید 120 بھارتیوں کی ملک بدری،زنجیروں اور ہتھکڑیوں میں جکڑ کر بھارت بھیجا گیا

    برینن سینٹر فار جسٹس کے سینئر وکیل ڈگلس کیتھ کے مطابق اگر کانگریس ججز کو ہٹانے کے عمل کو سیاسی مقصد کے لیے استعمال کرتی ہے، تو ججز حکومتی فیصلوں کے خلاف فیصلہ سنانے میں ہچکچاہٹ محسوس کر سکتے ہیں، جو جمہوریت کے لیے خطرناک ہوگا۔

  • ٹرمپ اور ایلون مسک نے 9500 سرکاری ملازمین کو برطرف کر دیا

    ٹرمپ اور ایلون مسک نے 9500 سرکاری ملازمین کو برطرف کر دیا

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے مشیر ایلون مسک کی جانب سے سرکاری ملازمتوں میں کٹوتی کی مہم کے تحت 9500 سے زائد وفاقی ملازمین کو برطرف کر دیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : "روئٹرز” کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے مشیر ایلون مسک کی جانب سے امریکی بیوروکریسی کو یکسر کم کرنے کی مہم جمعہ کو پھیل گئی، جس میں 9,500 سے زائد کارکنوں کو برطرف کر دیا گیا جنہوں نے وفاقی زمینوں کے انتظام سے لے کر فوجی سابق فوجیوں کی دیکھ بھال تک سب کچھ سنبھالا۔

    اس برطرفی مہم میں وزارت داخلہ، توانائی، ویٹرنز افیئرز، زراعت اور صحت کے محکمے متاثر ہوئے، جبکہ امریکی فاریسٹ سروس، نیشنل پارک سروس، اور انٹرنل ریونیو سروس میں بھی ہزاروں نوکریاں ختم ہونے کا امکان ہے،اپنے پہلے سال میں پروبیشنری ملازمین کو نشانہ بنایا گیا ہے جن کے پاس ملازمت کے تحفظات کم ہیں۔

    امریکا سے 2 ہزار ٹن وزنی بموں کی کھیپ اسرائیل پہنچ گئی

    روئٹرز اور دیگر بڑے امریکی میڈیا آؤٹ لیٹس کی طرف سے اطلاع دی گئی فارغ کئے گئے تقریباً 75,000 کارکنوں کے علاوہ ہیں جنہوں نے بتایا ہے کہ ٹرمپ اور مسک نے انہیں رضاکارانہ طور پر چھوڑنے کی پیشکش کی ہے، وائٹ ہاؤس کے مطابق۔ یہ 2.3 ملین افراد شہری افرادی قوت کے تقریباً 3 فیصد کے برابر ہے۔

    صدر ٹرمپ کے مطابق امریکی حکومت غیر ضروری اخراجات میں جکڑی ہوئی ہے اور اور بہت زیادہ رقم ضائع اور دھوکہ دہی میں ضائع ہو گئی ہے حکومت 36 ہزار ارب ڈالر کے قرضے میں ڈوبی ہوئی ہے۔ گزشتہ سال 1800 ارب ڈالر کا خسارہ ہوا تھا، جسے کم کرنے کے لیے اصلاحات ضروری ہیں۔

    امریکا سے 2 ہزار ٹن وزنی بموں کی کھیپ اسرائیل پہنچ گئی

    ایلون مسک کی پالیسیوں اور اثر و رسوخ پر کئی حلقے سوال اٹھا رہے ہیں، کیونکہ ان کے فیصلوں سے سرکاری محکمے اور عوامی خدمات متاثر ہو رہی ہیں بعض رپورٹس کے مطابق، یو ایس ایڈ اور کنزیومر فنانشل پروٹیکشن بیورو جیسے اداروں کو تقریباً مکمل طور پر بند کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    ڈیموکریٹس نے ٹرمپ پر الزام لگایا ہے کہ وہ وفاقی اخراجات پر کانگریس کے اختیار میں مداخلت کر رہے ہیں، جبکہ ریپبلکنز کی اکثریت نے اس فیصلے کی حمایت کی ہے ناقدین کا کہنا ہے کہ ملازمتوں میں کمی سے اہم سرکاری خدمات متاثر ہوں گی، خاص طور پر ٹیکس جمع کرنے، جنگلاتی آگ پر قابو پانے اور صحت عامہ سے متعلق پروگراموں میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔

    ٹرمپ کا غزہ پر حملےکامنصوبہ: 390 یہودی ربیوں نے اسرائیل کیخلاف مذمتی اشتہار دے دیا

    یہ معاشی اصلاحات امریکہ کی وفاقی بیوروکریسی میں ہلچل مچا چکی ہیں، اور مستقبل میں مزید سخت اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

  • امریکا سے 2 ہزار ٹن وزنی بموں کی کھیپ اسرائیل پہنچ گئی

    امریکا سے 2 ہزار ٹن وزنی بموں کی کھیپ اسرائیل پہنچ گئی

    یروشلم: امریکا سے 2 ہزار ٹن وزنی بموں کی کھیپ اسرائیل پہنچ گئی۔

    باغی ٹی وی : خبر ایجنسی "روئٹرز” کے مطابق وزارت دفاع نے اتوار کو کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیشرو جو بائیڈن کی انتظامیہ کی طرف سے اسلحہ کی برآمد پر عائد پابندی ہٹانے کے بعد اسرائیل کو امریکہ سے بھاری ایم کے 84 بموں کی کھیپ موصول ہوئی ہے۔

    اسرائیلی وزارت دفاع کے مطابق گزشتہ رات کو پہنچنے والے جہاز سے 2,000 پاؤنڈ وزنی بموں کی بڑی مقدار اشدود پورٹ پر اتاری گئی بموں کو درجنوں ٹرکوں پر لوڈ کرکے اسرائیلی ایئر بیسز کی طرف روانہ کر دیا گیا ہے، اکتوبر 2023 میں جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک 76,000 ٹن سے زائد فوجی ساز و سامان اسرائیل پہنچ چکا ہے، جس میں سے زیادہ تر سامان امریکہ سے آیا ہے

    امریکا سے مزید 120 بھارتیوں کی ملک بدری،زنجیروں اور ہتھکڑیوں میں جکڑ کر بھارت بھیجا گیا

    اسرائیلی میڈیاکے مطابق دفاعی وزیر اسرائیل کٹز نے بموں کی آمد پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کھیپ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے جاری کی گئی جو دونوں ملکوں کے درمیا ن مضبوط اتحادی تعلقات کا ثبوت ہے۔

    لبنان میں اقوام متحدہ کے قافلے پر حملہ، 25 سے زائد افراد گرفتار

    واضح رہے کہ سابق امریکی صدر جوبائیڈن نے اسرائیل کو جنگی سامان بھیجنے پر روک لگا دی تھی تاہم ٹرمپ نے صدارت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اسرائیل کو جنگی سامان کی ترسیل دوبارہ شروع کردی،MK-84 ایک 2,000 پاؤنڈ وزنی بم ہے، جو موٹے کنکریٹ اور دھات کو چیر سکتا ہے، جس سے دھماکے کا ایک وسیع رداس پیدا ہوتا ہے بائیڈن انتظامیہ نے غزہ کی پٹی کے گنجان آباد علاقوں پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں تشویش کی وجہ سے انہیں اسرائیل کو برآمد کرنے کے لیے کلیئر کرنے سے انکار کر دیا۔

    ایلون مسک کے وائٹ ہاؤس میں بڑھتے اختیارات ،ٹرمپ نے میڈیا کو نشانے پر لے لیا

  • امریکا سے مزید 120 بھارتیوں کی ملک بدری،زنجیروں اور ہتھکڑیوں میں جکڑ کر بھارت بھیجا گیا

    امریکا سے مزید 120 بھارتیوں کی ملک بدری،زنجیروں اور ہتھکڑیوں میں جکڑ کر بھارت بھیجا گیا

    نئی دہلی: امریکا میں غیر قانونی طور پر مقیم 120 بھارتی شہریوں کو ملک بدر کر دیا گیا، جو خصوصی پرواز کے ذریعے بھارت پہنچ گئے-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق امیگریشن کریک ڈاؤن کے تحت ان افراد کو امریکا سے بےدخل کیا گیا امیگریشن کریک ڈاؤن کے تحت نکالے گئے مزید 120 بھارتی شہری خصوصی پرواز کے زریعے بھارتی شہر امرتسر پہنچ گئے ہیں یہ ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کے سخت امیگریشن قوانین کے تحت بےدخل کیے جانے والے بھارتی شہریوں کا دوسرا گروپ ہے۔

    ڈی پورٹ کیے گئے بھارتی شہریوں کے مطابق امریکی حکام نے انہیں زنجیروں اور ہتھکڑیوں میں جکڑ کر بھیجا، جس پر وطن واپس پہنچنے پر ان کے اہل خانہ نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا زیادہ تر بےدخل کیے گئے افراد غیر قانونی طریقے، خاص طور پر "ڈنکی روٹس” کے ذریعے امریکا میں داخل ہوئے تھے۔

    لبنان میں اقوام متحدہ کے قافلے پر حملہ، 25 سے زائد افراد گرفتار

    بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایک اور پرواز میں 157 مزید بھارتیوں کو ملک بدر کر کے بھارت بھیجا جائے گا جبکہ اس سے قبل بھی 5 فروری کو 104 بھارتی شہریوں کو امریکا سے بےدخل کیا گیا تھا، اور امیگریشن حکام کے مطابق مزید سخت اقدامات متوقع ہیں۔

    ایلون مسک کے وائٹ ہاؤس میں بڑھتے اختیارات ،ٹرمپ نے میڈیا کو نشانے پر لے لیا

  • 144 سال بعد اے پی کو اوول آفس اور ایئر فورس ون تک رسائی سے روک دیا گیا

    144 سال بعد اے پی کو اوول آفس اور ایئر فورس ون تک رسائی سے روک دیا گیا

    واشنگٹن:ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کو غیر معینہ مدت کے لیے اوول آفس اور ایئر فورس ون تک رسائی سے روک دیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : امریکی میڈیا کے مطابق یہ اعلان ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس انتظامیہ نے جمعہ کو کیا،یہ اقدام ”گلف آف میکسیکو“ کے ذکر پر اٹھایا گیا، جب کہ صدر ٹرمپ نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ امریکی حکومت اس آبی علاقے کو ”گلف آف امریکہ“ کے نام سے پکا رے گی۔

    امریکی سرکاری ادارے اس تبدیلی کو اپنانے لگے ہیں، مگر بین الاقوامی سطح پر اسے قبول نہیں کیا گیا چونکہ اے پی کے قارئین دنیا بھر میں موجود ہیں، اس لیے وہ اب بھی ”گلف آف میکسیکو“ کا ذکر کر رہی ہے، ساتھ ہی ٹرمپ کے اعلان کو بھی تسلیم کر رہی ہے۔

    سپریم کورٹ میں آئندہ ہفتے کا ججز روسٹر اور کاز لسٹ جاری

    دیگر عالمی میڈیا اداروں نے بھی اسی طرح کا فیصلہ کیا ہے، مگر اس ہفتے وائٹ ہاؤس نے خاص طور پر اے پی کو نشانہ بنایا اور اس کے صحافیوں کو صدارتی تقریبات میں شرکت سے روک دیااے پی کے فوٹوگرافرز کو اب بھی شرکت کی اجازت دی گئی، تاہم جب جمعہ کو ٹرمپ وائٹ ہاؤس سے مار-اے-لاگو روانہ ہونے والے تھے، انتظامیہ نے تصدیق کی کہ اے پی کے نمائندے ایئر فورس ون میں سفر نہیں کر سکیں گے۔

    وائٹ ہاؤس کے نائب چیف آف اسٹاف، ٹیلر بڈووک نے ایک بیان میں کہا کہ اے پی کی جانب سے ”گلف آف میکسیکو“ کا استعمال ’تقسیم پیدا کرنے والا اقدام ہے اور اس سے ان کی گمراہ کن رپورٹنگ کا عزم ظاہر ہوتا ہے پہلی ترمیم کے تحت انہیں غیر ذمہ دارانہ اور غیر دیانت دار رپورٹنگ کا حق حاصل ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں اوول آفس اور ایئر فورس ون جیسے محدود مقامات تک رسائی دی جائے یہ جگہ اب دیگر ان ہزاروں صحافیوں کے لیے کھولی جائے گی جو اب تک ان تقریبات سے محروم رہے ہیں۔

    عرب ممالک میں پہلے روزے کی متوقع تاریخ کا اعلان

    انہوں نے واضح کیا کہ اے پی کے صحافیوں کو وائٹ ہاؤس کے احاطے میں داخلے کی اجازت برقرار رہے گی، تاہم انہیں ”پولڈ“ ایونٹس، جیسے ایئر فورس ون کے سفر، سے باہر رکھنے سے ان کی رپورٹنگ کی صلاحیت متاثر ہوگی۔

    ایسوسی ایٹڈ پریس نے فوری طور پر وائٹ ہاؤس کے اس فیصلے پر کوئی ردعمل نہیں دیا، مگر اطلاعات ہیں کہ ادارہ قانونی چارہ جوئی کی تیاری کر رہا ہے ایک اے پی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر سی این این کو بتایا کہ ’یہ نقطہ نظر کی بنیاد پر امتیازی سلوک کی ایک واضح مثال ہے۔

    سوشل میڈیا انفلوئنسر کا ایلون مسک کا بچہ جنم دینے کا دعویٰ

    وائٹ ہاؤس پریس کارسپانڈنٹس ایسوسی ایشن (WHCA)، جو وائٹ ہاؤس کے پریس کارسپانڈنٹس کی نمائندہ تنظیم ہے، نے اس اقدام کو ”پہلی ترمیم کی خلاف ورزی“ اور ”آزادی اظہار پر صدر کے اپنے ایگزیکٹو آرڈر کے برعکس“ قرار دیا۔ ایسوسی ایشن نے اشارہ دیا کہ اے پی کی پول میں شمولیت کے حوالے سے دوبارہ جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

    واضح رہے کہ ”پریس پول“ کا نظام صدر کے ہمراہ سفر کرنے اور معلومات کو تمام صحافیوں تک پہنچانے کے لیے قائم کیا گیا تھا، اور اے پی اس سسٹم کا ایک اہم حصہ رہی ہے 1881 میں، جب صدر جیمز اے گارفیلڈ کو گولی ماری گئی تھی، تو ایک اے پی رپورٹر وائٹ ہاؤس کے باہر ان کی سانسیں سنتے رہے اور میڈیا کو اپ ڈیٹ فراہم کرتے رہے تب سے لے کر آج تک، اے پی پریس پول کا رکن رہا ہے۔

    سابق سعودی انٹیلیجنس چیف نے غزہ کیلئے مارشل پلان کی تجویز دیدی

  • ٹرمپ کی روئٹرز، پولیٹیکو، نیویارک ٹائمز سمیت دیگر اداروں  کو لاکھوں ڈالر واپس کرنے کا مطالبہ

    ٹرمپ کی روئٹرز، پولیٹیکو، نیویارک ٹائمز سمیت دیگر اداروں کو لاکھوں ڈالر واپس کرنے کا مطالبہ

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیوز ایجنسی روئٹرز، پولیٹیکو، نیویارک ٹائمز سمیت دیگر اداروں پر سخت تنقید کرتے ہوئے میڈیا اداروں سے لاکھوں ڈالر واپس کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی صدر نے کہا کہ جو بائیڈن حکومت میں پریس کو خریدنے کے لیے عوامی فنڈز کا استعمال کیا گیا، میڈیا کے ادارے حکومت سے وصول کیے جانے والے لاکھوں ڈالر واپس کریں ٹرمپ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیٹیکو کو لاکھوں ڈالر بغیر کسی وجہ کے کیوں ادا کیے گئے؟ کیا پریس کو خریدنا تھا؟،تمام میڈیا ادارے ٹیکس دہندگان کی رقم لوٹائیں، ناکام نیو یارک ٹائمز نے کتنی رقم واپس کی؟ کیا اسی وجہ سے ابھی تک چل رہا ہے؟ ایسا لگتا ہے کہ ریڈیکل لیفٹ روئٹرز کو دھوکا دہی کے لیے 90 لاکھ ڈالر دیئے گئے، اب یہ تمام ادارے امریکی حکومت سے لیے گئے پیسے واپس کر دیں۔

    ٹی ٹی پی کیلئے چندہ اکٹھا کرنے کے مجرموں کو 5، 5 سال قید کی سزا

    واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ان 9 ملین ڈالرز کو لے کر برہم ہیں، جو روئٹرز کو ’’بڑے پیمانے پر سماجی دھوکا دہی‘‘ کے مسئلے پر مطالعہ کیلئے دیئے گئے تھے، حالاںکہ یہ رقم خود ٹرمپ کے پہلے دور میں ایک کمپنی کو دی گئی تھی جو روئٹرز نیوز ایجنسی سے الگ سے کام کرتی ہے۔

    وینا ملک کی حالیہ تصاویر نے انٹرنیٹ پر ہلچل مچا دی

    قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے نیویارک ٹائمز سمیت چار میڈیا اداروں کو پینٹاگون میں موجود اپنے دفاتر سے ہٹانے کا حکم دیا گیا تھا اس فیصلے کے تحت نیشنل پبلک ریڈیو، این بی سی نیوز (کامکاسٹ کارپور یشن کی ملکیت) اور پولیٹیکو کو بھی 14 فروری تک پینٹاگون چھوڑنے کی ہدایت دی گئی تھی۔

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کا امکان

  • امریکا سے مزید 277 بھارتی ڈی پورٹ

    امریکا سے مزید 277 بھارتی ڈی پورٹ

    امریکا نے مزید بھارتی غیر قانونی تارکینِ وطن کو ڈی پورٹ کردیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق 120 بھارتی غیر قانونی تارکین وطنِ کو لے کر خصوصی پرواز آج رات بھارت پہنچے گی جبکہ 16 فروری کو تیسری پرواز مزید 157 بھارتی تارکینِ وطن کو لے کر بھارت پہنچے گی۔

    اس سے قبل 5 فروری کو 104غیر قانونی تارکینِ وطن امریکی طیارے میں بھارت پہنچے تھےبھارتی میڈیا کے مطابق زیادہ تر ڈی پورٹ افراد غیر قانونی طور پر ڈنکی روٹس کے ذریعے امریکا میں داخل ہوئے تھے، اپوزیشن کی جانب سے حکومت کے خلاف ہنگامہ برپا تھا جس کے بعد بھارتی وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے جمعرات کو بتایا تھا کہ امریکی حکام کی طرف سے اس طرح کے اقدامات نئے نہیں ہیں۔

    وینا ملک کی حالیہ تصاویر نے انٹرنیٹ پر ہلچل مچا دی

    بھارتی وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے بتایا تھا کہ 2009ء سے اب تک کُل 15 ہزار 756 غیر قانونی بھارتی تارکینِ وطن کو امریکا سے بھارت بھیجا جا چکا ہے امریکا کی طرف سے ملک بدری کا عمل کوئی نیا نہیں ہے، یہ کئی سال سے جاری ہے اور امریکا کی یہ پالیسی صرف ایک ملک پر لاگو نہیں ہوتی۔

    لاہور ہائیکورٹ میں ججز کی تقرریوں کیلئے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 28 فروری کو طلب

    بھارتی وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے بتایا کہ ہماری توجہ غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف کریک ڈاؤن پر ہونی چاہیے، ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے امریکا کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں کہ ملک بدر کیے جانے والوں کے ساتھ بدسلوکی نہ ہو، امریکا سے سب سے زیادہ بھارتیوں کو 2019ء میں ڈی پورٹ کیا گیا تھا جن کی تعداد 2 ہزار 42 تھی جبکہ 2020ء میں یہ تعداد 1 ہزار 889 تھی۔

    چین نے تاریخ میں کبھی بھی قابض ملک کا کردار ادا نہیں کیا، آصف علی زرداری

  • دنیا کے کسی بھی آزاد ملک کی حریت کے لیے ہم لڑیں گے،فضل الرحمان

    دنیا کے کسی بھی آزاد ملک کی حریت کے لیے ہم لڑیں گے،فضل الرحمان

    جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ آج بھی ٹرمپ کہتا ہے میں غزہ کو خرید لوں گا، یہ ایک مرتبہ پھر نوآبادیاتی نظام کا آغاز ہے، دنیا کے کسی بھی آزاد ملک کی حریت کے لیے ہم لڑیں گے۔

    باغی ٹی وی : قادیانیت سے تائب ہوکر اسلام قبول کرنیوالی بچی کی تصنیف کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ یہ کتاب ایک ایسی بہن کی روداد ہے جو خانوادہ کفر چھوڑ کر دائرہ اسلام میں داخل ہوئی، اس بچی کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، دین اسلام ہی آخری راستہ ہے جو حق کا راستہ ہے،اس بچی کو جن لوگوں نے سہارا دیا میں انہیں بھی خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

    انہوں نے کہا کہ دنیا اور بالخصوص برصغیر میں قادیانیت برطانیہ کا خود ساختہ پودا ہے، اس کا اعتراف مرزا غلام احمد نے خود اپنی کتابوں میں کیا ہے، یہ مسلمانوں کو گمرذہ کرنے کی ایک تحریک ہے، ہمارے اکابر نے اس فتنے کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کیا، تمام مسالک کے علماء نے متفقہ طور پر قرار دیا کہ یہ مسلمان نہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ آج مسلمانوں سے سوال کیا جاتا ہے کہ تم قادیانیوں کو کافر کیوں قراردیتے ہیں، قادیانیوں سے کوئی نہیں پوچھتا کہ وہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو کافر کیوں قرار دیتے ہیں، مصنفہ خنسہ محمد امین نے مشکل سفر کا انتخاب کیا، اسلام میں انسانیت کی آزادی کا پیغام ہے، یہ حق کا راستہ ہے لیکن مشکل راستہ بھی ہے۔

    انہوں نے کہا ہے کہ ٹرمپ کہتا ہے میں غزہ کو خرید لوں گا، یہ ایک مرتبہ پھر نو آبادیاتی نظام کا آغاز ہے، دنیا کے کسی بھی آزاد ملک کی حریت کے لیے ہم لڑیں گے، عقیدہ اور کردار میں یکسانیت ہونی چاہیے، ظالم حکمراں باطل ہوتا ہے، ظالم حکمران کے خلاف حق آواز بلند کرنا چاہیے، ملک میں عام آدمی کو ہمیشہ مشکلات کا سامنا رہا ہے۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ امریکی صدر کا غزہ کو خریدنے کا بیان قابل مذمت ہے، دنیا کے کسی بھی آزاد ملک کی حریت کیلئے ہم لڑیں گے، ہم نے پاکستان میں اس لابی کی مخالفت کی ہے جو اسرائیل کو تسلیم کرنا چاہتے تھےہم نے اس لابی کیخلاف جنگ لڑی ہے، جو قادیانیوں کو دوبارہ مسلمان قرار دلوانا چاہتے تھے، تلواروں کے سائے میں جنت ہے، چیف جسٹس نے کہا ہم بھی انسان ہیں ہم سے بھی غلطی ہوسکتی ہے۔

    جنرل سیکریٹری جے یو آئی مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ قادیانیت سے تائب ہونیوالی بچی کی تربیت بڑا کام ہے، اگر قادیانیت ترک کرکے اسلام قبول کرنیوالوں کی رہنمائی بہت ضروری ہوتی ہے، ہمارے اکابرین نے پاکستان کو متفقہ آئین دیا، اکابرین کی کوششوں سے قذدیانیت کو دائرہ اسلام سے خارج قراردیا گیا، آئین میں ہمارے اکابرین کی کوششوں سے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا۔

    بعد ازاں مولانا فضل الرحمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن کا آپس میں بات چیت کا سلسلہ جاری رہے گا، محمودخان اچکزئی کی طرف سے کھانے کی دعوت پر گئے تھے ججز کی تقرری میں پہلے بھی پارلیمنٹ کا کردار تھا، اب دوبارہ لیا گیا، ہماری رائے میں آئینی عدالت کی تشکیل تھی لیکن آئینی بنچ کا بننا براآغازنہیں، آئینی بنچ کو چلنے دیا جائے تو بہتر نتائج آئیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے حکومت کی طرف سے پیشرفت نہیں ہورہی، وفاق اور صوبوں کو اپنی ذمہ داری بغیر دباؤ کے پوری کرنا چاہیے، طریقہ کار یہی ہے جو وفاق قانون سازی کرے صوبے بھی یہی کریں، چیف الیکشن کمشنرنے اپنی ذمہ داریاں ٹھیک طرح سے نہیں نبھائیں، الیکشن کمیشن نے اسٹیبلیشمنٹ کی کٹھ پُتلی کا کردار ادا کیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ مکمل ناکام ہوئے ہیں، ان سے آئندہ منصفانہ الیکشن کی امید رکھنا حماقت ہوگی ، انہیں چلے جانے چاہیے تاکہ نئے لوگ آئیں،آئی ایم ایف وفد کی پاکستانی اداروں سے ملاقات ملکی تاریخ میں منفرد واقعہ ہے، بہترین معیشت کا تعلق عدل و انصاف سے ہے، لگتا ہے آئی ایم ایف کو ہمارے عدل وانصاف کے نظام پرتحفظات ہیں۔