Baaghi TV

Tag: امریکا

  • امریکا نے تائیوان کو اسلحہ فروخت کرنے کی منظوری دے دی

    امریکا نے تائیوان کو اسلحہ فروخت کرنے کی منظوری دے دی

    واشنگٹن: امریکا کے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے تائیوان کو 385 ملین ڈالر مالیت کے ایف-16 جنگی طیاروں کے پارٹس اور ریڈارز کی فروخت کی منظوری دے دی ہے،جس کی لاگت 385 ملین ہے۔

    باغی ٹی وی :عالمی میڈیا کے مطابق پینٹاگون کی ڈیفنس سیکیورٹی کوآپریشن ایجنسی نے کہا کہ اسلحے کی فروخت 320 ملین ڈالر پر مشتمل ہے، جس میں اسپیئرپارٹس اور ایف-16 جنگی جہازوں کے لیے مدد اور ایکٹیو الیکٹرونیکلی اسکینڈ ایرے رایڈارز اور اس سے منسلک اشیا شامل ہیں،اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے تائیوان کو جدید موبائل سبسکرائیبرآلات کی فراہمی کی اجازت بھی دے دی ہے جس کی لاگت کا تخمینہ 65 ملین ڈالر لگایا گیا ہے اور اس معاہدے کا ٹھیکا جنرل ڈائنامکس کو دیا گیا ہے۔

    تائیوان کی وزارت دفاع نے بیان میں کہا کہ انہیں توقع ہے کہ مذکورہ اسلحے کی فراہمی ایک ماہ کے اندر شروع ہوجائے گی اور ان آلات سے ایف-16 طیاروں کو بحال رکھنے اور قابل اعتماد دفاعی فورسز تشکیل دینے میں مدد ملے گی تائیوان اور امریکا ایک دوسرے کے ساتھ سیکیورٹی شراکت داری مضبوط بنانے کی کوششیں جاری رکھیں گے، آبنائے تائیوان اور پورے خطے میں امن اور استحکام برقرار رکھنے کے لیے مل کر کام کریں گے

    امریکا کی جانب سے تائیوان کو باقاعدہ سفارتی تعلقات نہ ہونے کے باوجود اسلحے کی فروخت کے معاہدے کیے جا رہے ہیں، جس پر چین کا سخت ردعمل ہوتا ہے کیونکہ چین کا ماننا ہے کہ تائیوان ان کی ریاست کا ایک حصہ ہےتائیوان آزادی ریاست کا دعویٰ کرتے ہوئے چین کے مؤقف کو مسترد کر رہا ہے،چین نے جمعے کو ایک بیان میں امریکا پر زور دیا تھا کہ وہ تائیوان کے ساتھ اپنے تعلقات پر احتیاط برتیں۔

    واضح رہے کہ امریکا نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ تائیوان کو ممکنہ طور پر دو ارب ڈالر مالیت کا اسلحہ فراہم کیا جائے گا، جس میں تائیوان کو پہلی مرتبہ ایڈوانسڈ ڈیفنس میزائل سسٹم فراہم کیا جائے گا جو یوکرین میں جنگ کے دوران آزمایا گیا ہے۔

  • امریکی اور فرانسیسی صدور جلد ہی اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کا اعلان کریں گے

    امریکی اور فرانسیسی صدور جلد ہی اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کا اعلان کریں گے

    واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن اور ان کے فرانسیسی ہم منصب عمانویل میکروں کی جانب سے 36 گھنٹوں کے اندر لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا اعلان متوقع ہے۔

    باغی ٹی وی : ایک امریکی اہلکار نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ صدر بائیڈن منگل کو یہ اعلان کریں گے کہ امریکہ اور فرانس نے لبنان میں جنگ بندی کر دی ہے، جس سے وہاں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لڑائی ختم ہو جائے گی۔

    وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ "ہم جنگ بندی کے قریب ہیں، لیکن سب کچھ طے ہونے تک کسی چیز کا اعلان نہیں کیا جائے گا”۔

    فرانسیسی ایوان صدر نے کہا کہ جنگ بندی پر بات چیت میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے یروشلم میں ایک سینیر اسرائیلی اہلکار نے کہا کہ حکومت حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے کی منظوری کے لیے آج منگل کو اہم اجلاس منعقد کررہی ہے۔

    سفارتی حل کے قریب ہونے کے ساتھ اسرائیل نے دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے پر اپنے فضائی حملے تیز کردیے ہیں،اقوام متحدہ میں اسرائیل کے ایلچی ڈینی ڈینن نے کہا کہ اسرائیل کسی بھی معاہدے کے تحت جنوبی لبنان پر حملہ کرنے کی صلا حیت برقرار رکھے گا۔ لبنان نے پہلے بھی زبانی طورپر اسرائیل کو یہ حق دینے پر اعتراض کیا تھا۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے کہا کہ دونوں فریقوں کے درمیان خلیج کافی حد تک کم ہو گئی ہے لیکن معاہدے تک پہنچنے کے لیے ابھی بھی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے بہت سے معاملات معاہدے کے آخری مراحل سب سے مشکل ہوتے ہیں کیونکہ کانٹے دار معاملات آخر تک رہ جاتے ہیں۔ ہم اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں”۔

    سفارتی دباؤ کا مقصد حزب اللہ کو مجبور کرنا ہے جسے ایران کی حمایت حاصل ہےاس نے اکتوبر 2023ء میں غزہ میں اسرائیلی جنگ شروع ہونے کے بعد حماس کی حمایت میں شمالی اسرائیل پر حملے شروع کردیے تھے-

    اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر نے ان اطلاعات پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا کہ اسرائیل اور لبنان نے جنگ بندی معاہدے کے متن پر اتفاق کیا ہے لیکن سینیر اسرائیلی اہلکار نے روئٹرز کو بتایا کہ کابینہ کے منگل کو ہونے والے اجلاس کا مقصد معاہدے کی منظوری دینا ہے۔

    لبنانی پارلیمنٹ کے ڈپٹی سپیکر الیاس بو صعب نے روئٹرز کو بتایا کہ اسرائیل کے ساتھ امریکہ کی طرف سے تجویز کردہ جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد کے آغاز میں اب کوئی "سنگین رکاوٹیں”باقی نہیں ہیں البتہ اگرنیتن یاہو نے اپنے سوچ بدل دی تو معاہدہ نہیں ہوگا، اس تجویز میں جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوج کے انخلاء اور سرحدی علاقے میں لبنانی فوج کی باقاعدہ افواج کی تعیناتی کی شرط رکھی گئی ہے، جنگ بندی کی نگرانی کون کرے گا اس پر اختلاف کا ایک نکتہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران فرانس سمیت 5 ممالک کی ایک کمیٹی بنانے پر اتفاق کرتے ہوئے حل کیا گیا جس کی سربراہی امریکہ کر رہا ہے۔

  • جیل میں جنسی زیادتی،تشدد،عافیہ صدیقی کا جیل حکام کیخلاف مقدمہ

    جیل میں جنسی زیادتی،تشدد،عافیہ صدیقی کا جیل حکام کیخلاف مقدمہ

    امریکہ میں 86 سال کی سزا کاٹنے والی پاکستانی نیوروسائنٹسٹ ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے امریکی حکومت، فیڈرل بیورو آف پریزنس اور متعدد جیل حکام کے خلاف وفاقی عدالت میں ایک جامع مقدمہ دائر کیا ہے۔

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی جانب سے دائر کیا گیا یہ مقدمہ 61 صفحات پر مشتمل ہے اور تقریباً دو ماہ قبل امریکی ڈسٹرکٹ کورٹ، شمالی ٹیکساس میں دائر کیا گیا۔ اس کی کاپی پاکستانی میڈیا نے حاصل کر لی ہے۔ مقدمے میں ڈاکٹر عافیہ نے جیل کے عملے پر آئینی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے ہیں۔ ان میں جنسی زیادتی، تشدد، طبی سہولتوں کی عدم فراہمی اور مذہبی امتیاز شامل ہیں۔

    ڈاکٹر عافیہ کے وکلاء نعیم ہارون سکھیا، ماریا کری اور کلائیو اسٹافورڈ اسمتھ نے شکایت میں ان کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کی تفصیلات درج کی ہیں۔ شکایت کے مطابق 2010 میں ایف ایم سی کارسویل میں قید کے آغاز سے ہی انہیں جیل کے عملے اور دیگر قیدیوں کی جانب سے بار بار جنسی حملوں اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔شکایت میں دعویٰ کیا گیا کہ مرد محافظ انہیں تلاشی کے بہانے ہراساں کرتے اور جنسی زیادتی کا نشانہ بناتے تھے۔ ایک واقعے میں تشدد کی شکایت کرنے پر جیل کے عملے نے ان پر تیزاب پھینکنے کا الزام بھی عائد کیا گیا۔

    مقدمے کے مطابق ڈاکٹر عافیہ کو ان کے مذہبی حقوق سے بھی محروم رکھا گیا۔ انہیں جمعے کی نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی اور مذہبی اشیاء ضبط کی گئیں۔ جیل حکام نے ان کے امام سے ملاقات کی درخواستیں بھی مسترد کر دیں۔ ڈاکٹر عافیہ کی شکایت میں ان کے دستاویزی PTSD اور جسمانی بیماریوں کی موجودگی کے باوجود مناسب طبی سہولت فراہم نہ کرنے کو اجاگر کیا گیا۔ وکلاء کے مطابق، یہ امریکی آئین کی آٹھویں ترمیم کی خلاف ورزی ہے۔مقدمے میں ایف ایم سی کارسویل جیل کے عملے کی وسیع پیمانے پر بدعنوانی اور خواتین قیدیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے دیگر واقعات کا حوالہ دیا گیا۔

    ڈاکٹر عافیہ کی قانونی ٹیم نے جیوری ٹرائل کا مطالبہ کیا ہے اور ان کے لیے فوری تحفظ، مذہبی رہنمائی تک رسائی اور آزاد طبی دیکھ بھال کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مقدمہ عالمی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور پاکستان کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔

    وکیل نعیم ہارون سکھیا کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ ڈاکٹر عافیہ کے لیے انصاف کا ذریعہ ہے، جبکہ ماریا کری نے کہا کہ یہ تمام مظلوم خواتین کے لیے امید کی کرن ہے۔ کلائیو اسٹافورڈ اسمتھ نے اس کیس کے بین الاقوامی اثرات کو اجاگر کیا۔امریکی فیڈرل بیورو آف پریزنس نے اس زیرِ التواء مقدمے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

    عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے امریکا کون کون جائے گا؟رپورٹ عدالت پیش

    ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کی چابی اسلام آباد میں بیٹھے حکمرانوں کے پاس ہے،مشتاق احمد

    عافیہ کی جان خطرے میں،حکومت واپسی کے اقدامات کرے،ڈاکٹر فوزیہ

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کروائی جائے، اہلخانہ عدالت پہنچ گئے

    نئی حکومت ڈاکٹرعافیہ صدیقی کو رہا کرائے،مولانا عبدالاکبر چترالی کا مطالبہ

     ایک ماہ کے بعد دوسری رپورٹ آئی ہے جو غیر تسلی بخش ہے ،

    عالمی یوم تعلیم امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے نام منسوب

    امریکی جیل میں ڈاکٹرعافیہ صدیقی پرحملہ:پاکستان نے امریکہ سے بڑا مطالبہ کردیا ،

    ڈاکٹرعافیہ کی رہائی کی چابی واشنگٹن نہیں اسلام آباد میں پڑی ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف سے امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کی ملاقات،ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ

    عافیہ صدیقی کیلئے رحم کی اپیل کرتے ہوئے حکومت اتنا ڈر کیوں رہی ہے؟ عدالت

  • امریکہ میں اڈانی کے وارنٹ،وائٹ ہاؤس کا ردعمل

    امریکہ میں اڈانی کے وارنٹ،وائٹ ہاؤس کا ردعمل

    اڈانی گروپ کے سربراہ گوتم اڈانی ایک بار پھر تنازعات کی زد میں آئے ہوئے ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اربوں ڈالر کی رشوت دی اور سرکاری افسران کے ساتھ ساتھ امریکی سرمایہ کاروں کو دھوکہ دیا۔ اس حوالے سے ان کے خلاف امریکی عدالت میں مقدمہ درج کیا گیا ہے، اور گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری ہو چکے ہیں۔

    اڈانی کے وارنٹ جاری ہونے پر وائٹ ہاؤس کا ردعمل بھی سامنے آیا ہے،وائٹ ہاؤس کی ترجمان، کرائن جین پیئر نے کہا ہے کہ "ہم اڈانی پر لگائے گئے الزامات سے آگاہ ہیں۔ ان الزامات کی مزید تفصیلات جاننے کے لیے ہمیں امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن اور محکمہ انصاف سے رجوع کرنا ہوگا۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات مضبوط ہیں اور یہ تعلقات مستقبل میں بھی برقرار رہیں گے۔

    نیویارک کی فیڈرل کورٹ میں ہونے والی سماعت میں گوتم اڈانی سمیت آٹھ افراد پر اربوں روپے کے فراڈ اور رشوت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ریاستہائے متحدہ کے اٹارنی کے دفتر کا کہنا ہے کہ اڈانی نے ہندوستان میں شمسی توانائی سے متعلق ایک معاہدہ حاصل کرنے کے لیے حکام کو 265 ملین ڈالر (تقریباً 2200 کروڑ روپے) کی رشوت دی۔

    اڈانی گروپ نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف الزامات ہیں اور جرم ثابت ہونے تک ملزمان بے گناہ تصور کیے جاتے ہیں۔ گروپ کے مطابق، امریکی محکمہ انصاف اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے الزامات حقائق پر مبنی نہیں ہیں۔

    یہ مقدمہ اڈانی گرین انرجی لمیٹڈ اور ایک دیگر کمپنی سے متعلق ہے، جو 24 اکتوبر 2024 کو درج کیا گیا تھا۔ بدھ کو ہونے والی سماعت میں گوتم اڈانی اور ان کے بھتیجے ساگر اڈانی سمیت دیگر افراد پر الزامات کی تفصیلات پیش کی گئیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے امریکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو جھوٹ بول کر فنڈز اکٹھے کیے۔ عدالت نے گوتم اڈانی اور ساگر اڈانی کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے ہیں۔

    امریکا میں کاروائی،اڈانی گروپ کا مؤقف بھی آ گیا

    راہول گاندھی کا اڈانی کی فوری گرفتاری کا مطالبہ

  • اسرائیلی وزیراعظم کے وارنٹ جاری،عدالتی فیصلے کا احترام کرنا چاہیے، یورپی یونین

    اسرائیلی وزیراعظم کے وارنٹ جاری،عدالتی فیصلے کا احترام کرنا چاہیے، یورپی یونین

    یورپی یونین خارجہ پالیسی چیف جوزف بوریل نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری پر کہا ہے کہ عدالت کے فیصلے کا احترام کرنا چاہیے۔

    باغی ٹی وی: جوزف بوریل نے کہا کہ عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کا اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور سابق اسرائیلی وزیر دفاع یواف گیلنٹ کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا فیصلہ سیاسی نہیں ہے عدالتی فیصلے کا نفاذ یورپی یونین کے تمام ممالک پر لازم ہے۔

    اسرائیلی وزیر اعظم کے وارنٹ جاری ہونے پر فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے بھی اپنے بیان میں عالمی فوجداری عدالت کی فیصلے کاخیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت احتساب کا دائرہ اسرائیل کے تمام مجرم رہنماؤں تک بڑھائے۔

    نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری پر فرانس کی وزارت خارجہ کی جانب سے کہا گیا کہ فرانس کا ردعمل عدالت کےاصولوں کےمطابق ہوگا،جبکہ اردن کے وزیر خارجہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو اور گیلنٹ کی گرفتاری کے آئی سی سی کے فیصلے پر عمل اور اس کا احترام ہونا چاہیے، فلسطین کے لوگ انصاف کے حق دار ہیں۔

    دوسری جانب امریکا نے عالمی عدالت کی جانب سے اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو اور سابق وزیردفاع یوو گیلنٹ کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے فیصلے کو مسترد کردیا ہے۔

    روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کے ترجمان نے بیان میں کہا کہ عالمی عدالت کی جانب سے اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو اور سابق وزیردفاع یوو گیلنٹ کے جاری کیے گئے وارنٹ گرفتاری کو امریکا نے مسترد کردیا ہے امریکا بنیادی طور پر عالمی عدالت کے فیصلے کو مسترد کرتا ہے، جس میں اسرائیل کے اعلیٰ حکام کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں ہمیں گہری تشویش ہے کہ پروسیکیوٹر فوری طور پر وارنٹ گرفتاری چاہتے ہیں اور اس فیصلے کا باعث بننے والے عمل کی غلطیوں کو پیچیدہ کر رہے ہیں، امریکا اپنے شراکت داروں کے ساتھ اگلے لائحہ عمل کے حوالے سے تبادلہ خیال کر رہا ہے۔

    خیال رہے کہ عالمی فوجداری عدالت نے آج اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے ہیں۔

  • بھارتی بزنس ٹائیکون گوتم اڈانی پر امریکا میں فرد جرم عائد

    بھارتی بزنس ٹائیکون گوتم اڈانی پر امریکا میں فرد جرم عائد

    بھارتی معروف بزنس ٹائیکون، امیر ترین شخصیت گوتم اڈانی، ان کے بھتیجے ساگر اڈانی اور دیگر پر امریکی پراسیکیوٹرز نے بھارتی سرکاری اہلکاروں کو رشوت دینے اور سرمایہ کاروں کو گمراہ کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ امریکی شہر بروکلین، نیویارک میں درج مقدمے میں اڈانی اور ان کے ساتھیوں پر الزام ہے کہ انہوں نے بھارتی حکومت سے شمسی توانائی کے ٹھیکے حاصل کرنے کے لیے دو سو پچاس ملین ڈالر رشوت دی۔

    امریکی ڈسٹرکٹ کورٹ برائے مشرقی نیویارک کے دفتر میں ایک اہم کیس سامنے آیا جس میں بھارتی کاروباری گروپ سے تعلق رکھنے والی متعدد شخصیات پر الزامات عائد کیے گئے ہیں۔امریکی گرینڈ جیوری نے گوتم ایس اڈانی، ساگر آر اڈانی، وینیت ایس جین، رنجیت گپتا، سائریل کابانیز، سوربھ اگروال، دیپک ملہوترا، اور روپیش اگروال کے خلاف فرد جرم پیش کی ہے۔الزامات میں بھارتی حکومتی اہلکاروں کو رشوت دے کر قابل منافع شمسی توانائی کے معاہدے حاصل کرنا۔ امریکی سرمایہ کاروں اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کو کمپنی کی انسداد رشوت پالیسیوں کے حوالے سے گمراہ کرنا۔امریکی حکومت کی تحقیقات کو متاثر کرنے کی کوشش شامل ہیں،الزامات امریکی قوانین کے مختلف دفعات سیکیورٹیز فراڈ،منی لانڈرنگ،تحقیقات میں رکاوٹ ڈالنا،رشوت ستانی کے الزامات کے تحت عائد کیے گئے ہیں،

    یہ کیس بھارت میں ایک قابل تجدید توانائی کمپنی اور اس کی کینیڈین شراکت دار کے مبینہ غیر قانونی کاموں پر مبنی ہے، جس میں بھارتی حکومتی اہلکاروں سے شمسی توانائی کے بڑے معاہدے حاصل کرنے کے لیے رشوت دی گئی۔ مزید برآں، کمپنی نے اپنے مالی معاملات کے حوالے سے امریکی سرمایہ کاروں کو گمراہ کیا اور تحقیقات میں رکاوٹ ڈالی۔ اگر یہ الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو ملزمان کو بھاری مالی جرمانوں، جائداد ضبطی، اور طویل مدتی قید کا سامنا ہو سکتا ہے۔یہ کیس بھارت اور امریکہ کے درمیان کاروباری تعلقات پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے، خاص طور پر قابل تجدید توانائی کے شعبے میں۔

    امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق اڈانی گروپ نے 3 بلین ڈالر کے قرضے اور بانڈز حاصل کرنے کے لیے اپنی بدعنوانی کو چھپایا۔ کیس کی تفصیلات میں کہا گیا کہ ملزمان نے امریکی سرمایہ کاروں کو جھوٹے دعوؤں کے ذریعے راغب کیا اور رشوت کی ادائیگی کو پوشیدہ رکھا،نیویارک کے بروکلین میں پراسیکیوٹرز نے بدھ کے روز الزام عائد کیا کہ اڈانی اور دیگر ملزمان نے امریکی سرمایہ کاروں سے فنڈز اکٹھا کرنے کے منصوبے کے بارے میں جھوٹ بولا۔ پانچ نکاتی فرد جرم میں ساگر آر اڈانی، وینیت ایس جین اور دیگر افراد، جو امریکہ، سنگاپور اور ہندوستان میں مقیم ہیں، ایک آسٹریلوی شہری اور آندھرا پردیش کے ایک سرکاری اہلکار، جن کی عدالتی دستاویزات میں ’فارن آفیشل 1‘ کے طور پر شناخت کی گئی ہے، پر امریکی وفاقی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام لگایا گیا ہے۔ایسٹ ڈسٹرکٹ آف نیویارک کے امریکی اٹارنی بریون پیس نے بیان میں کہا، ملزمان نے ہندوستانی سرکاری حکام کو رشوت دینے کے لیے ایک پیچیدہ منصوبہ تیار کیا تاکہ اربوں ڈالر کے معاہدے حاصل کیے جا سکیں۔

    بلومبرگ کے مطابق، امریکی حکام اس بات کی تحقیقات کر رہے تھے کہ آیا اڈانی گروپ نے رشوت دی اور کمپنی کے ارب پتی بانی کے طرزِ عمل میں بھی بدعنوانی شامل تھی۔ ملزمان نے انصاف میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے الیکٹرانک شواہد مٹا دیے اور جسٹس ڈیپارٹمنٹ، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی) اور ایف بی آئی کے نمائندوں سے جھوٹ بولا۔ ایس ای سی نے ایک علیحدہ دیوانی مقدمہ بھی دائر کیا۔پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ اڈانی خاندان اور اڈانی گرین انرجی کے سابق سی ای او وینیت جین نے قرضوں اور بانڈز کی شکل میں 3 بلین ڈالر سے زیادہ رقم اکٹھی کی، جبکہ اپنی بدعنوانی کو قرض دہندگان اور سرمایہ کاروں سے چھپایا۔فرد جرم کے مطابق، کچھ سازشی افراد نے نجی طور پر گوتم اڈانی کے لیے ’نومرو اونو‘ اور ’بِگ مین‘ جیسے کوڈ نام استعمال کیے، جبکہ ساگر اڈانی مبینہ طور پر اپنے موبائل فون کے ذریعے رشوت سے متعلق تفصیلات کا پتہ لگاتے رہے۔

    کیس اڈانی گرین انرجی لمیٹڈ اور ایک دوسری کمپنی کے درمیان 12 گیگا واٹ شمسی توانائی ہندوستانی حکومت کو فروخت کرنے کے معاہدے کے گرد گھومتا ہے۔ امریکی فرد جرم کے مطابق، انہوں نے وال اسٹریٹ کے سرمایہ کاروں کو کئی ارب ڈالر کے اس منصوبے میں شامل کرنے کے لیے جھوٹے ریکارڈز بنائے، جبکہ بھارت میں حکومتی عہدیداروں کو 26 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی رشوت دی یا دینے کا منصوبہ بنایا۔اسی دوران، ایک دیگر دیوانی کارروائی میں امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن نے اڈانی اور دو دیگر ملزمان پر امریکی سیکیورٹیز قوانین کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔ ریگولیٹر مالی جرمانے اور دیگر پابندیوں کا مطالبہ کر رہا ہے۔ ایس ای سی کے انفورسمنٹ ڈویژن کے قائم مقام ڈائریکٹر سنجے وادھوا نے اے پی کو بتایا کہ گوتم اور ساگر اڈانی پر الزام ہے کہ انہوں نے سرمایہ کاروں کو یہ یقین دلا کر اپنی کمپنی کے بانڈ خریدنے پر آمادہ کیا کہ نہ صرف اڈانی گرین کے پاس ایک مضبوط اینٹی برائبری کمپلائنس پروگرام موجود تھا بلکہ کمپنی کی اعلیٰ انتظامیہ نے کبھی رشوت دینے کا وعدہ نہیں کیا اور نہ کرے گی۔

    ایس ای سی نے گوتم اڈانی اور ساگر اڈانی کے خلاف مقدمہ اینٹی فراڈ قوانین کی خلاف ورزی پر دائر کیا ہے، جس میں مستقل پابندیاں، جرمانے، اور افسران و ڈائریکٹرز کے عہدوں پر پابندیاں شامل ہیں۔ اسی طرح، سائریل کبینیس کے خلاف مقدمہ FCPA کی خلاف ورزی پر دائر کیا گیا ہے۔اس مقدمے کی تحقیقات میں امریکی محکمہ انصاف، ایف بی آئی، اور دیگر اداروں کی مدد شامل ہے۔ مقدمات امریکی ریاست نیویارک کے مشرقی ڈسٹرکٹ کی عدالت میں دائر کیے گئے ہیں، جبکہ متعلقہ افراد پر کریمنل چارجز بھی عائد کیے گئے ہیں۔یہ مقدمہ اس بات کا ثبوت ہے کہ SEC اور امریکی حکام عالمی سطح پر کارپوریٹ شفافیت اور قانون کی حکمرانی کے تحفظ کے لیے سرگرم ہیں۔

  • امریکا نے غزہ میں سیزفائر کی قرارداد چوتھی مرتبہ ویٹو کردی

    امریکا نے غزہ میں سیزفائر کی قرارداد چوتھی مرتبہ ویٹو کردی

    نیویارک: امریکا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غزہ جنگ بندی کی قرارداد چوتھی مرتبہ ویٹو کردی۔

    باغی ٹی وی : سلامتی کونسل کے 10 منتخب ممالک نے غزہ جنگ بندی کی قرارداد پیش کی تھی جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ غزہ میں غیر مشروط، فوری اور مستقل جنگ بندی کی جائے،غزہ میں غیر مشروط جنگ بندی کی قرارداد کے حق میں 10 منتخب ممالک کے علاوہ 4 مستقل ممالک نے بھی ووٹ دیا تاہم امریکا نے قرار داد کو ویٹو کردیا-

    اقوام متحدہ میں امریکا کے مستقل مندوب رابرٹ وُڈ نے کہا کہ ہم ایسی کسی بھی قرارداد کی حمایت نہیں کرسکتے جس کے ذریعے اسرا ئیلی یرغمالیوں کی رہائی یقینی نہ بنائی گئی ہو،سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی قرارداد کو مسترد کرتے ہوئے امریکی مندوب نے کہا کہ اس قرارداد کی منظوری سے حماس کے حوصلے بلند ہوتے امریکا پہلے ہی وضاحت کرچکا ہے کہ وہ غزہ میں جنگ بندی کی کسی بھی غیر مشروط قرارداد کی کسی صورت حمایت نہیں کرے گا۔

    واضح رہے کہ امریکا 7 اکتوبر 2023 سے غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کے دوران پہلےبھی 3 بار جنگ بندی کی قراردادوں کو ویٹو کر چکا ہے، غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے سلامتی کونسل میں جنگ بندی کی قرارداد 11 بار پیش کی جاچکی ہے۔

    غزہ میں 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی جارحیت میں اب تک تقریباً 44 ہزار فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جن میں 17 ہزار 400 سے زائد بچے ہیں یوں گزشتہ ایک سال کے دوران غزہ میں ہر 30 منٹ میں ایک بچہ اسرائیلی حملوں کی زد میں آکر شہید ہوا۔

  • ہمارے شہریوں کو قتل اور یرغمال بنانے میں ملوث حماس رہنما ہمارے حوالے کئے جائیں،امریکا

    ہمارے شہریوں کو قتل اور یرغمال بنانے میں ملوث حماس رہنما ہمارے حوالے کئے جائیں،امریکا

    واشنگٹن:امریکی ترجمان میتھیو ملر نے کہا ہے کہ حماس امریکی شہریوں کے قتل اور یرغمال بنانے کے جرم میں ملوث ہے اس لیے یہ رہنما جہاں بھی ہوں، ہمارے حوالے کیے جائیں۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی ترجمان میتھیو ملر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وہ حماس کے رہنماؤں کی قطر سے ترکیہ منتقلی کی تردید کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں،تاہم امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے حماس رہنماؤں کی قطر سے ترکیہ منتقل ہونے کی خبر کی تصدیق سے بھی گریز کیا۔

    میتھیو ملر نے مزید کہا کہ حماس ایک دہشتگرد تنظیم ہے جس نے کئی امریکیوں کو قتل کیا اور اب بھی 7 امریکیوں کو یرغمال بنایا ہوا ہے تو جہاں تک یہ بات ہے کہ حماس کے رہنما ترکی میں ہیں یا کسی اور ملک میں ہیں تو دیکھیں ان میں سے کئی لوگوں پر امریکا نے فرد جرم عائد کر رکھی ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ ان لوگوں کو امریکا کے حوالے کیا جانا چاہئیے، امریکا نے ترک حکومت پر واضح کر دیا ہے کہ حماس کے ساتھ مزید اس طرح معاملات نہیں چل سکتے، جیسے چل رہے تھے ہم اس پر یقین نہیں رکھتے کہ ایک دہشتگرد تنظیم کے رہنما کہیں بھی آرام سے رہ رہے ہوں۔

    ہم نے مل کر پولیو جیسے چیلنج کو شکست دینی ہے، وزیراعظم

    دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے غزہ میں حماس کی فوجی طاقت ختم کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں حماس کی فوجی طاقت ختم کردی، جنگ ختم ہونے کے بعد غزہ میں حماس کی حکمرانی نہیں ہوگی ہمارے یرغمالیوں کو نقصان پہنچانے والوں سے بدلہ ضرور لیں گے،نیتن یاہو نے یرغمالیوں کو بحفاظت نکال لانے پر ہر یرغمالی کے عوض 50 لاکھ ڈالر دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔

    جو بائیڈن کا یوکرین کو روس کیخلاف اینٹی پرسنل لینڈ مائنز استعمال …

  • جو بائیڈن  کا یوکرین کو روس کیخلاف اینٹی پرسنل لینڈ مائنز   استعمال کرنے کا اجازت کا امکان

    جو بائیڈن کا یوکرین کو روس کیخلاف اینٹی پرسنل لینڈ مائنز استعمال کرنے کا اجازت کا امکان

    واشنگٹن: امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے بدھ کے روز کہا کہ بائیڈن انتظامیہ یوکرین کو امریکی فراہم کردہ اینٹی پرسنل لینڈ مائنز استعمال کرنے کی اجازت دے گی تاکہ وہ روسی افواج کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھ سکے۔

    باغی ٹی وی : لاوس کے دورے کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، آسٹن نے کہا کہ یہ پالیسی میں تبدیلی روس کی بدلتی ہوئی جنگی حکمت عملی کے پیش نظر کی گئی ہے روسی زمینی افواج اب میدان جنگ میں زیادہ سرگرم ہیں، جو پہلے سے محفوظ بکتر بند گاڑیوں کے بجائے میدان میں براہ راست موجود ہیں، اس صورت حال میں یوکرین کو ایسے ہتھیاروں کی ضرورت ہے جو روسی افواج کی پیش قدمی کو سست کر سکیں۔

    آسٹن نے مزید کہا کہ وہ بارودی سرنگیں جو ہم فراہم کرنے پر غور کر رہے ہیں، وہ ایسی ہوں گی جنہیں مستقل نہیں سمجھا جا سکتا، ہم ان کے خود کار طریقے سے فعال یا تباہ ہونے کے وقت کو کنٹرول کر سکتے ہیں، جو انہیں آخرکار زیادہ محفوظ بناتا ہے بجائے ان ہتھیاروں کے جو وہ خود تیار کر رہے ہیں۔

    روس کیخلاف امریکی میزائل استعمال کرنے کی یوکرین کی درخواست منظور

    اینٹی پرسنل لینڈ مائنز کیا ہیں؟

    لینڈ مائن یا بارودی سرنگ ایسا دھماکا خیز مواد ہوتا ہے جو زمین کے نیچے چھپا ہوتا ہے اور دشمن کی فوج کے قریب آنے پر پھٹتا ہے ان میں سے کچھ مائنز ٹینکوں کو تباہ کرنے کے لیے بنائی جاتی ہیں جو اینٹی ٹینک مائنز کہلاتی ہیں جبکہ فوجیوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہونے والی مائنز کو اینٹی پرسنل مائنز کہا جاتا ہے۔

    روس پر یوکرائنی حملوں کی امریکی منظوری تیسری عالمی جنگ کا باعث بن سکتی …

    ان بارودی سرنگوں کا استعمال مختلف مقاصد کے لیے کیا جاتا ہے جن میں فوجی تنصیبات کی حفاظت، دشمن پر گھات لگانا اور دشمن کی پیش قدمی کے راستوں کو محدود کرنا شامل ہےکچھ لینڈ مائنز کا آپریشن محدود وقت کے لیے ہوتا ہے اور ایک خاص مدت کے بعد وہ کام کرنا بند کر دیتی ہیں، لیکن کچھ مائنز کئی دہائیوں تک خطرہ بنی رہتی ہیں۔

    کیا بارودی سرنگوں کا استعمال قانونی ہے؟

    1997 میں منظور ہونے والے اینٹی پرسنل مائن بین کنونشن (اوٹاوا معاہدہ) کے تحت 150 سے زائد ممالک نے لینڈ مائنز کے استعمال، پیداوار، ذخیرہ کرنے اور منتقلی پر پابندی عائد کرنے کا عہد کیا ہے تاہم، امریکا، روس اور چین جیسے کچھ بڑے طاقتور ممالک اس معاہدے کے دستخط کنندہ نہیں ہیں، یوکرین اگرچہ اس معاہدے کا دستخط کنندہ ہے مگر جنگی ضروریات کے پیش نظر یوکرین اس معاہدے سے نکل سکتا ہے۔

    امریکا کا یوکرین کو میزائل کے استعمال کی اجازت،روس کا سخت ردعمل

  • روس کے بڑے حملے کا خطرہ،امریکا کا یوکرین میں سفارتخانہ بند کرنے کا اعلان

    روس کے بڑے حملے کا خطرہ،امریکا کا یوکرین میں سفارتخانہ بند کرنے کا اعلان

    کیف: امریکا نے یوکرین کے دارالحکومت کیف پر بڑے حملے کے خطرے کے پیش نظر اپنا سفارت خانہ بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: امریکا سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے استعمال کی اجازت ملنے کے بعد ایک طرف روس نے اپنی نیوکلئیر ڈاکٹر ا ئن تبدیل کرلی ہے تو دوسری جانب اجازت ملتے ہی یوکرین نے روس پر امریکی ساختہ میزائلوں سے حملہ کردیا، روس نے چھ میزائلوں میں سے پانچ کو تباہ کردیا۔

    روس کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ جنگ کے ایک ہزار دن پورے ہونے پر یوکرین نے روس کے برائنسک علاقے میں امریکی ساختہ ATACMS میزائل داغے ہیں،یہ حملہ بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے کیف کو روس کے اندر اہداف کے خلاف طویل فاصلے تک مار کرنے والے امریکی ہتھیاروں کے استعمال کے لیے گرین لائٹ دیے جانے کے صرف دو دن بعد ہوا۔

    پاکستان اور چین کی مشترکہ تربیتی فوجی مشقوں کا آغاز ہوگیا

    یہ پہلا موقع ہے جب یوکرین نے روس کے اندر گہرائی میں اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے طویل فاصلے تک مار کرنے والے امریکی ہتھیاروں کا استعمال کیا، روسی وزارت دفاع نے بتایا کہ منگل کو مقامی وقت کے مطابق رات 3:25 بجے یوکرین نے برائنسک میں ایک تنصیب پر چھ بیلسٹک میزائل فائر کیے، حملے میں امریکی ساختہ ATACMS میزائل استعمال کیے گئے تھے۔

    روسی فضائی دفاع نے کہا کہ انہوں نے پانچ میزائلوں کو مار گرایا اور ایک سے معمولی نقصان پہنچا، تباہ شدہ میزائل کے ٹکڑے فوجی تنصیب کی سرزمین پر گرے، جس سے آگ لگ گئی جسے اب تک بجھا دیا گیا ہے اور کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔

    یوکرین کا روس پر امریکی ساختی میزائل سے پہلا حملہ، تیسری جنگ عظیم کا خدشہ

    یوکرین کو طویل فاصلے تک وار کرنےوالے امریکی میزائل روس پر داغنے کی اجازت دیئےجانے کے بعد اب روس کی طرف سے بھی بھرپور کارروائی کا امکان ظاہر کیا جارہا ہےروس کے صدر ولادیمیر پوٹن کہہ چکے ہیں کہ اگر امریکا اور فرانس کے جدید ترین ہتھیاروں سے روس میں بہت اندر تک حملے کیے گئے تو بھرپور جوابی کارروائیاں کی جائیں گی۔