Baaghi TV

Tag: امریکا

  • سائفردستاویز: بظاہر یہ کام بہت شرانگیز ہے، یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے،رانا ثنااللہ

    سائفردستاویز: بظاہر یہ کام بہت شرانگیز ہے، یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے،رانا ثنااللہ

    اسلام آباد: سابق وزیر داخلہ رانا ثنا اللّٰہ نے بین الاقوامی میڈیا پر سامنے آنے والی دستاویز سے متعلق کہا ہےکہ اس اطلاع کی تصدیق کے لیے تحقیقات ہونی چاہیے۔

    باغی ٹی وی: ایک بیان میں رانا ثنا اللّٰہ نےکہا کہ بظاہر یہ کام بہت شرانگیز ہے، یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ سائفر کی کاپی چیئرمین پی ٹی آئی کے پاس تھی جو انہوں نے واپس بھی نہیں کی،چیئرمین پی ٹی آئی یہ بات بھی ریکارڈ پر کہہ چکے ہیں کہ ان سے وہ سائفر کاپی گم ہوگئی ہے، اگر چیئرمین پی ٹی آئی اس سلسلےمیں قصوروار ثابت ہوتے ہیں تو ان کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔

    واضح رہے کہ امریکی ویب سائٹ نے سائفر لیک کر دیا ویب سائٹ دی انٹرسیپٹ دعوی کیا ہے کہ ان کو موصول ہونے والی خفیہ دستاویز کے مطابق امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے 7 مارچ 2022 کو ہونے والے ایک اجلاس میں عمران خان کو یوکرین پر روسی حملے پر غیر جانبداری پر وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹانے کے لیے پاکستانی حکومت کی حوصلہ افزائی کی-

    امریکی ویب سائٹ نے سائفر لیک کردیا؟

    امریکہ میں پاکستانی سفیر اور اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے دو عہدیداروں کے درمیان ہونے والی ملاقات گزشتہ ڈیڑھ سال سے پاکستان میں شدید چھان بین، تنازعات اور قیاس آرائیوں کا موضوع بنی ہوئی ہے، کیونکہ عمران خان اور ان کےمخالفین اقتدار کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ سیاسی کشمکش 5 اگست کو اس وقت شدت اختیار کر گئی جب عمران خان کو بدعنوانی کے الزام میں تین سال قید کی سزا سنائی گئی اور ان کی برطرفی کے بعد دوسری بار حراست میں لیا گیا۔ عمران خان کے حمایتی ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کرتے ہیں۔

    ویب سائٹ کے مطابق لیک ہونے والی دستاویز میں امریکی حکام کے ساتھ ملاقات کے ایک ماہ بعد پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کا ووٹ لیا گیا، جس کے نتیجے میں عمران خان کو اقتدار سے ہٹادیا گیا۔ خان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے امریکہ کی درخواست پر اقتدار سے ہٹانے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ پاکستانی کیبل کا متن، جو سفیر کی جانب سے اس ملاقات سے تیار کیا گیا تھا اور پاکستان منتقل کیا گیا تھا، اس سے قبل شائع نہیں کیا گیا تھا۔ اندرونی طور پر ‘سائفر’ کے نام سے جانی جانے والی اس کیبل میں ان گاجروں اور لاٹھیوں کو ظاہر کیا گیا ہے جو اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے عمران خان کے خلاف دباؤ ڈالنے کے لیے تعینات کی تھیں، جس میں وعدہ کیا گیا تھا کہ اگر عمران خان کو ہٹایا گیا تو تعلقات بہتر ہوں گے اور اگر ایسا نہ ہوا تو مشکل کا سامنا کرنا پڑے گا-

    اوورسیز پاکستانیوں کی ملک کے لیے بہت خدمات ہیں. وزیراعظم

    دوسری جانب ترجمان امریکی محکمہ خارجہ میتھیو ملر کا کہنا ہے کہ سفارتی سائفر کے مبینہ متن سے ثابت ہوگیا کہ کوئی سازش نہیں ہوئی تھی،سائفر کی بنیاد بننے والی پاکستانی سفیر سے امریکی وزارتِ خارجہ کے افسر کی گفتگو میں امریکی اہلکار کی باتوں کو سیاق و سباق سے ہٹ کر سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔

    واضح رہے کہ عمران خان نے 2022 میں صحافیوں کو بتایا تھا کہ سائفر میں امریکی معاون وزیر برائے جنوبی ایشیا ڈونلڈ لو اور پاکستانی سفیر اسد مجید کے درمیان ملاقات کی تفصیلات موجود ہیں اور ڈونلڈ لو نے سفیر کو متنبہ کیا تھا کہ اگر عمران خان اقتدار میں رہے تو اس کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    سائفر کیا ہوتا ہے؟
    سائفر کسی بھی اہم اور حساس نوعیت کی بات یا پیغام کو لکھنے کا وہ خفیہ طریقہ کار ہے جس میں عام زبان کے بجائے کوڈز پر مشتمل زبان کا استعمال کیا جاتا ہےکسی عام سفارتی مراسلے یا خط کے برعکس سائفر کوڈ کی زبان میں لکھا جاتا ہے۔ سائفر کو کوڈ زبان میں لکھنا اور اِن کوڈزکو ڈی کوڈکرنا کسی عام انسان نہیں بلکہ متعلقہ شعبےکے ماہرین کا کام ہوتا ہے۔ اور اس مقصد کے لیے پاکستان کے دفترخارجہ میں ایسے افسران ہیں ، جنھیں سائفر اسسٹنٹ کہا جاتا ہے۔ یہ سائفر اسسٹنٹ پاکستان کے بیرون ملک سفارتخانوں میں بھی تعینات ہوتے ہیں۔

    پاکستان تحریک انصاف کا آج یومِ تشکّر و نجات منا نے کا اعلان

  • پاکستان کے حوالے سےامریکا پر لگائے جانے والے الزامات جھوٹے ہیں،امریکی محکمہ خارجہ

    پاکستان کے حوالے سےامریکا پر لگائے جانے والے الزامات جھوٹے ہیں،امریکی محکمہ خارجہ

    سائفر کی بنیاد بننے والی پاکستانی سفیر سے امریکی وزارتِ خارجہ کے افسر کی گفتگو پر ترجمان امریکی محکمہ میتھیو ملر کا ردعمل آیا ہے،

    ترجمان امریکی محکمۂ خارجہ میتھیو ملر کا کہنا ہے کہ امریکی اہلکار کی باتوں کو سیاق و سباق سے ہٹ کر سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا ہے میں اس دستاویز کے مصدقہ ہونے پر بات نہیں کر سکتا جن باتوں کے بارے میں رپورٹ کی گئی وہ سو فیصد بھی درست نہیں جو باتیں رپورٹ کی گئیں کسی بھی طرح سے یہ ظاہر نہیں کرتیں کہ امریکہ نے یہ موقف اختیار کیا ہو کہ پاکستان میں قیادت کس رہنما کے پاس ہونی چاہیے امریکہ نے پاکستان کے ساتھ نجی اور سرکاری سطح پر عمران خان کی جانب سے روس کی یوکرین پر چڑھائی کے دن ماسکو کا دورہ کرنے پر اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا،امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر کہہ چکے ہیں کہ یہ الزامات درست نہیں

    ترجمان امریکی محکمۂ خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکی قیادت نے پاکستان کے داخلی فیصلوں میں دخل اندازی نہیں کی اور ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ یہ الزامات غلط ہیں اس مراسلے میں موجود باتوں کو اگر سیاق و سباق کے ساتھ دیکھا جائے تو ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی حکومت پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے پالیسی کے انتخاب پر اپنے خدشے کا اظہار کر رہی ہے اس مبینہ مراسلے سے یہ بھی واضح نہیں ہوتا کہ امریکی قیادت اپنی ترجیح بیان کر رہی ہے کہ پاکستان کا لیڈر کسے ہونا چاہیے میرے خیال میں بہت سے لوگوں نے (امریکی اہلکار) کے تبصرے کو سیاق و سباق سے ہٹ کر سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا ہے یہ دانستہ کوشش تھی یا نہیں اس بارے میں تبصرہ نہیں کر سکتا میں کسی کی نیت پر بات نہیں کر سکتا لیکن میرے خیال میں ایسا ہی ہوا ہے میں پہلی بات یہ کہوں گا کہ کس طرح سیاق و سباق سے ہٹ کر مطلب نکالا جا سکتا ہے دوسری بات یہ ہےکہ کچھ لوگوں کی خواہش ہو سکتی ہے کہ اسے سیاق و سباق سے ہٹ کر کسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال کریں :

    کوہ سلیمان پرشدید بارشیں،کار ندی میں بہہ گئی، 4 افراد جاں بحق

    غیر ملکی صحافی نے سوال کیا کہ آپ کا مطلب یہ ہے کہ امریکا نے یہ نہیں کہا کہ عمران خان کو جانا چاہیے؟ ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ قریب قریب یہی مطلب ہے،انہوں نے کہا کہ سامنے آنے والی دستاویزات بھی ثابت نہیں کرتیں کہ امریکا نے کسی پاکستانی رہنما کا انتخاب کیا یا نہیں۔ہم نے سابق وزیر اعظم پاکستان کےدورہ روس پر تشویش کا اظہار کیا تھا، سابق وزیر اعظم پاکستان نے روس کے یوکرین پر حملے والے دن دورہ کیا۔

    ترجمان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی متعلقہ جمہوری اصولوں، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کا مطالبہ کرتے ہیں، پاکستانی حکومت کے ساتھ براہ راست بات چیت جاری رکھیں گے۔

    اوچ شریف: دریائے چناب عبور کرتے ہوئے نوجوان ڈوب گیا

    واضح رہے کہ 16 ماہ پر محیط 13 جماعتی مخلوط حکومت ختم ہوگئی، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے قومی اسمبلی تحلیل کر دی ایوان صدر سے جاری اعلامیہ کے مطابق صدر مملکت نے 15 ویں قومی اسمبلی کی تحلیل وزیراعظم کی ایڈوائس پر آئین کے آرٹیکل 58 ایک کے تحت کی ۔ صدر مملکت نے اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری پر لاہور میں دستخط کیے۔

    قومی اسمبلی کی تحلیل کے بعد وفاقی کابینہ بھی تحلیل ہو گئی البتہ وزیر اعظم شہباز شریف نگران وزیر اعظم کی تقرری تک کام جاری رکھیں گے۔آئین کے مطابق اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر نگران وزیراعظم کے لیےمشاورت کریں گے اور نگران وزیراعظم کا نام فائنل کرنے کیلئے 3 دن کاوقت ہوگا، آئین کے آرٹیکل224 اے کے تحت نگران وزیراعظم کا تقرر ہوگا-

    تین دن میں نام فائنل نہ ہونے پر معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس چلا جائے گا اور وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر اپنے اپنے نام اسپیکر کی پارلیمانی کمیٹی کوبھیجیں گےپارلیمانی کمیٹی تین دن کےاندرنگران وزیراعظم کےنام کو فائنل کرےگی،پارلیمانی کمیٹی کےنگران وزیراعظم کا نام فائنل نہ کرنے پرمعاملہ الیکشن کمیشن کے پاس چلا جائے گا،الیکشن کمیشن دیےگئے ناموں میں سے دو دن کے اندر نگران وزیراعظم کا اعلان کرے گا۔

    13 جماعتی اتحادی حکومت 15 ماہ 28 روزقائم رہی،مدت مکمل ہونے سے تین روزپہلے توڑی گئی۔ آئین کے مطابق اگر اسمبلی مدت پوری ہونے سے پہلے توڑ دی جائے تو عام انتخابات 90 روز میں کرانا ہوتےہیں۔

  • ماں نے 7 ہفتوں کے بچے کو چپ کرانے کیلئے فیڈر میں شراب پلا دی

    ماں نے 7 ہفتوں کے بچے کو چپ کرانے کیلئے فیڈر میں شراب پلا دی

    امریکی ریاست کیلیفورنیا میں ایک خاتون نے اپنے روتے بچے کو چپ کروانے کیلئے فیڈر میں شراب بھر کر پلادی۔

    باغی ٹی وی : نیو یارک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق 7 ہفتے کا بچہ شراب پینے کے بعد مدہوش ہوگیا،کیلیفورنیا میں 37 سالہ ہونیسٹی ڈی لا نامی خاتون نے انتہائی غیر ذمہ دارانہ فعل سے اپنے ہی بچے کی زندگی خطرے میں ڈال دی۔

    خاتون نے پولیس کو بتایا کہ انہوں نے ڈرائیونگ کے دوران بچے کو چپ کروانے کیلئے فیڈر میں شراب بھر کر پلائی ڈیڑھ ماہ کا بچہ اسپتال میں زیر علاج ہے جب کہ پولیس نے بچے کی ماں کو حراست میں لے لیا۔

    سان برنارڈینو کاؤنٹی شیرف کے محکمہ نے پیر کو بتایا کہ 37 سالہ ہونسٹی ڈی لا پر بچوں کو خطرے میں ڈالنے کا الزام ہے نائبین کو ہفتہ کی صبح 12:45 بجے کے قریب لاس اینجلس سے 55 میل مشرق میں ریالٹو کے غیر مربوط علاقے میں بلایا گیا۔حکام نے بتایا کہ جب وہ وہاں پہنچے تو انہیں معلوم ہوا کہ بچہ نشے کی حالت میں پایا گیا ہے بچے کی حالت ظاہر نہیں کی گئی ڈی لا کو 60,000 ڈالر جرمانے کے ساتھ ویسٹ ویلی کے حراستی مرکز میں رکھا گیا ہے-

    پاکستان سے میچ کے بعد کھلاڑی پرسکون ہو جاتے ہیں، بھارتی کرکٹر

    دفتری اوقات جب ملازمین زیادہ غلطیاں کرتے ہیں

  • پاکستانی سیاست کا فیصلہ پاکستانی عوام کو اپنے آئین اور قوانین کے مطابق کرنا ہے،امریکا

    پاکستانی سیاست کا فیصلہ پاکستانی عوام کو اپنے آئین اور قوانین کے مطابق کرنا ہے،امریکا

    واشنگٹن: امریکا نے پاکستان میں اسمبلی کی تحلیل اور آئندہ انتخابات کے حوالے سے بیان جاری کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: ترجمان امریکی محکمہ خا رجہ نے پاکستان میں انتخابات اور اسمبلی کی تحلیل کے سوا ل پر جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی سیاست کا فیصلہ پاکستانی عوام کو اپنے آئین اور قوانین کے مطابق کرنا ہے ترجمان امریکی محکمہ خا رجہ نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ بہت سے معاملات پرکام کرنےکےلیے پر عزم ہیں دیگر ممالک کی طرح پاکستانی حکام پر زور دیتے ہیں کہ آئین اور قوانین کے مطابق عمل کریں-

    واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے آج صدر مملکت کو قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی ایڈوائس بھیجے جانے کا امکان ہے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ نگران وزیر اعظم کے لیے فی الحال کسی کو شارٹ لسٹ نہیں کیا گیا، ایک دو روز میں فیصلہ ہوجائے گا، جو نام سامنے آئے گا اس پر اپوزیشن لیڈر سے بات کروں گا موجودہ قومی اسمبلی کی مدت 12 اگست کی رات 12 بجے ختم ہو رہی ہے-

    سعودی عرب میں تمام الیکٹرونکس ڈیوائسزکیلئے یو ایس بی ٹائپ سی چارجنگ پورٹ کا استعمال …

    یاد رہے کہ قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے اتحادیوں کو قومی اسمبلی تحلیل کرنے کے لیے 9 اگست کی تاریخ دی تھی وزیراعظم شہباز شریف کا اتحادی رہنماؤں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا قومی اسمبلی توڑنےکی سمری 9 اگست کو صدر کو بھیج دیں گے۔

    دریں اثنا وفاقی وزیر برائے آبی وسائل خورشید شاہ نے بھی ایک بیان میں کہا تھا کہ 9 اگست کو قومی اور صوبائی اسمبلیاں تحلیل کرنے کی سمری صدر کو بھیج دیں گے دوسری جانب الیکشن کمیشن کا کہنا تھاکہ اگر 12 اگست تک اسمبلی تحلیل ہوئی تو 11 اکتوبر سے پہلے الیکشن کروا دیں گے۔

    بلوچستان اسمبلی الوداعی اجلاس: صوبے کی آبادی کم ظاہر کرنے پر مذمتی قرارداد پیش

  • خواتین میں پوسٹ پارٹم ڈپریشن کےعلاج کیلئے تیار گولی کی منظوری مل گئی

    خواتین میں پوسٹ پارٹم ڈپریشن کےعلاج کیلئے تیار گولی کی منظوری مل گئی

    امریکا میں ہیلتھ ریگولیٹرز کی جانب سے ہر سال پوسٹ پارٹم ڈپریشن (بچے کی پیدائش کے بعد ہونے والے ڈپریشن) کے علاج کے لیے پہلی گولی کی منظوری دے دی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : ماں بننے والی خواتین میں ڈپریشن کی علامات کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے بچے کی پیدائش کے بعد ماؤں میں ڈپریشن کے لیے پوسٹ پارٹم ڈپریشن کی اصطلاح کا استعمال کیا جاتا ہے جو ایک عام عارضہ ہے، صرف امریکا میں ہی ہر 7 میں سے ایک خاتون کو اس کا سامنا ہوتا ہے۔

    امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے کہا ہے کہ انہوں نے بائیوجن اور سیج تھراپیوٹکس کی تیار کردہ ”زرزووائی“ کو بچے کی پیدائش یا حمل سے متعلق خواتین میں شدید ڈپریشن کے علاج کے لیے منظورکیا ہے یہ گولی ہر سات میں سے ایک نئی ماں کے لیے لائف لائن ہے، کیونکہ اب تک امریکا میں پوسٹ پارٹم ڈپریشن کا علاج صرف ایک انجکشن سے کیا جاتا تھا س دوا کو Zurzuvae کے نام سے فروخت کیا جائے گا منہ کے ذریعے کھائے جانے والی اس دوا کو روزانہ ایک بار کھانا ہوگا جبکہ مجموعی طور پر اس کا کورس 14 دن کا ہوگا۔

    چین میں 5.5 شدت کا زلزلہ.عمارتئں منہدم متعدد افراد زخمی

    ایف ڈی اے کے مطابق پوسٹ پارٹم ڈپریشن ایک سنجیدہ اور ممکنہ طور پر جان لیوا مرض ہے، جس کے دوران خواتین کو اداسی، پچھتاوے اور اپنی شخصیت ناکارہ ہونے جیسے احساسات ہوتے ہیں جبکہ سنگین کیسز میں تو وہ خود کو نقصان پہنچانے کےبارے میں بھی سوچنے لگتی ہیں اس ڈپریشن کے باعث ماں اور بچے کے درمیان تعلق بھی متاثر ہوتا ہے جس سے بچے کی جسمانی اور جذباتی نشوونما پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، مگر یہ دوا ان نقصانات سے بچانے میں مددگار ثابت ہوگی۔

    ایف ڈی اے نے دوا کے حوالے سے ایک انتباہ بھی جاری کرتے ہوئے بتایا کہ اس دوا کو کھانے کے بعد کم از کم 12 گھنٹے تک ڈرائیونگ کرنے یا مشینری چلانے سے گریز کرنا بہتر ہوگااس دوا کو کھانے سے سر چکرانے، غنودگی طاری ہونے، ہیضے، تھکاوٹ، نزلہ زکام اور پیشاب کی نالی میں سوزش جیسے مضر اثرات کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔

    نیو یارک ٹائمزکی ایک رپورٹ کے مطابق ”بریکسینولون“ نامی اس دوا کے لیے اسپتال میں 60 گھنٹے تک انفیوژن کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کی قیمت 34 ہزار ڈالر ہے میساچوسٹس کے شہر کیمبرج میں واقع سیج تھراپیوٹکس اینڈ بائیوجن کا کہنا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ زرزووائی رواں سال دستیاب ہو جائے گی۔

    چئیرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری پر امریکا کا بیان

    سیج تھراپیوٹکس اینڈ بائیوجن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن کی جانب سے کنٹرولڈ شیڈولنگ کے بعد 2023 کی چوتھی سہ ماہی میں زرزووائی کو لانچ اوردستیاب کیا جائے گا۔

    ایف ڈی اے کی جانب سے یہ منظوری کمپنی کے دو مطالعات کے بعد سامنے آئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ جن خواتین نے یہ ادویات استعمال کیں ان میں چار سے چھ ہفتوں کے عرصے میں ڈپریشن کی علامات کم پائی گئیں، زرزووائی کے رپورٹ کردہ ضمنی اثرات میں غنودگی اور چکر آنا شامل ہیں تاہم 14 روز تک دن میں ایک بار لی جانے والی اس گولی کی قیمت کا اعلان ابھی تک اس کے مینوفیکچرر کی جانب سے نہیں کیا گیا ہے اس دوا کو 2 کمپنیوں Biogen اور Sage Therapeutics, Inc نے مل کر تیار کیا ہے جس کی منظوری کے لیے فروری میں ایف ڈی اے کو درخواست دی گئی تھی۔

    اس سے قبل 2019 میں ایف ڈی اے نے پوسٹ پارٹم ڈپریشن کے علاج کے لیے Zulresso نامی دوا کی منظوری دی تھی یہ دوا ایک آئی وی ڈرپ کے ذریعے دی جاتی ہے اور اس کے لیے 60 گھنٹوں کا وقت درکار ہوتا ہے، جس وجہ سے بیشتر خواتین اسے استعمال کرنے سے گریز کرتی ہیں اس نئی دوا کے حوالے سے ہونے والے کلینیکل ٹرائل کے تیسرے مرحلے میں دریافت کیا گیا تھا کہ 14 دن تک روزانہ 50 ملی گرام گولی کھانے سے خواتین کی ڈپریشن کی علامات میں 50 فیصد یا اس سے زیادہ کمی آتی ہے۔

    اے آئی ٹیکنالوجی،بل گیٹس نے لاکھوں اموات کی وجہ بننے والے نظام کی پیشگوئی کر …

  • چئیرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری پر امریکا کا بیان

    چئیرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری پر امریکا کا بیان

    ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور دیگر سیاست دانوں کے خلاف کیسز پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے۔

    باغی ٹی وی : چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری پر ردعمل دیتے ہوئے اپنے بیان میں امریکی ترجمان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی جمہوری اصولوں کے احترام اور قانون کی حکمرانی کا کہتے ہیں،عمران خان اور دیگر سیاست دانوں کے خلاف کیسز پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے،جمہوری اصولوں کا احترام لازم ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز توشہ خانہ کیس میں اسلام آباد کی سیشن کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کو تین سال قید کی سزا سنائی تھی اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کو تین سال قید کی سزا کے علاوہ ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا،عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگر عمران خان ایک لاکھ روپےجرمانہ نہیں دیں گے تو 6 ماہ مزید قید ہوگی عدالتی فیصلے کے بعد لاہور پولیس کی جانب سے چیئرمین پی ٹی آئی کو زمان پارک لاہور میں اپنی رہائش گاہ سے گرفتار کرکے اٹک جیل منتقل کردیا گیا تھا۔

    عمران خان نے پاکستان کو تباہ کرنے کی پوری کوشش کی،میجر گورو آریا

    قانونی ٹیم عمران خان سے ملاقات کیلئے اٹک جیل پہنچ گئی

    چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری حیران کن ہے،صدر سپریم کورٹ بار

  • امریکا کا باجوڑ حملےکی شدید مذمت

    امریکا کا باجوڑ حملےکی شدید مذمت

    امریکا نے باجوڑ حملےکی شدید مذمت کرتے ہوئے جانی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: ترجمان امریکی محکمہ خارجہ میتھیو ملر نے باجوڑ میں جے یو آئی (ف) کی کارنر میٹنگ میں خودکش دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے حملے تمام پر امن اور جمہوری معاشروں کی توہین ہیں انہوں نے دہشت گرد گروہوں کے مشترکہ خطرے سے نمٹنے کے لیے پاکستان سے مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    ایک سوال پر ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری مستحکم بنانے کے لیے پاکستان سے رابطے جاری رکھیں گے ہم نے طالبان پر واضح کیا ہے کہ افغانستان دہشت گردی کے اڈے کے طور پر استعمال نہ ہو۔

    زخمی کارکن مولانا فضل الرحمان سے ملاقات پر خوشی سے نہال

    واضح رہے کہ خیبرپختونخوا میں حالیہ دنوں میں دہشتگردی کا تازہ حملہ باجوڑ میں ہوا جہاں جے یو آئی (ف) کی کارنر میٹنگ میں خودکش دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں 54 افراد شہید اور 80 سے زائد زخمی ہوئےایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی شوکت عباس نے اس حوالے سے بتایا کہ جے یو آئی کا جلسہ دوپہر 2 بجے شروع ہوا اور دھماکا 4 بجکر 10 منٹ پر ہوا موقع سے بال بیرنگ وغیرہ ملے ہیں، دھماکا خود کش تھا اور حملہ آور گروپ کی شناخت ہوئی ہے، دھماکے میں کوئی خاص ٹارگٹ تھا۔

    ڈونلڈ ٹرمپ پر ایک اور فرد جرم عائد

    گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ باجوڑ حادثے میں جے یو آئی کے 60 کارکن شہید جبکہ 200 کے قریب زخمی ہوئے ہیں اور باجوڑ دھماکہ افسوسناک ہے، یہ حالات کا ایک جبر ہے اور تاریخ کا سیاہ واقعہ ہے، جبکہ آزمائشیں قوموں پر آتی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حادثے کے باوجود کارکنوں کے حوصلے بلند ہیں، اللہ تعالیٰ شہدا کو اعلیٰ مقام نصیب فرمائے، آزمائش کی گھڑی میں قوم کا شکر گزار ہوں۔

    بلوچستان میں بارشوں کے باعث 332 مکانات تباہ،پنجاب میں 7 اگست تک بارشیں متوقع

  • ڈونلڈ ٹرمپ پر ایک اور فرد جرم عائد

    ڈونلڈ ٹرمپ پر ایک اور فرد جرم عائد

    سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر 2020 کے صدارتی الیکشن پراثرانداز ہونے اور 6 جنوری 2021 کے کیپیٹل ہل حملے کے الزامات پر فرد جرم عائد کردی گئی۔

    باغی ٹی وی: امریکی میڈیا کے مطابق 2020 کے صدارتی الیکشن پراثرانداز ہونے کا کیس منطقی انجام کی جانب بڑھنے لگا،ڈونلڈ ٹرمپ پر امریکیوں کو دھوکا دینے اور انسانی حقوق پامال کرنے کی سازش کا بھی الزام ہے، ڈونلڈ ٹرمپ پر تیسری بار فرد جرم عائد کی گئی ہے۔

    سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو 6 جنوری حملہ کیس میں شامل تفتیش کیا گیا، ڈونلڈ ٹرمپ پر کیپیٹل ہل پر حملے کے لیے اکسانے کا الزام ہے اس سے قبل کیپٹل ہل حملے میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کے سرغنہ کو 18 سال قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔ سرغنہ اسٹیورٹ رہوڈز پر بغاوت کی سازش اور سیکیورٹی اداروں پر حملے، توڑ پھوڑ کی الزامات تھے۔

    آن لائن نیوز ایکٹ؛ میٹا نے کینیڈین صارفین کی خبروں تک رسائی ختم کردی

    فرد جرم عائد ہونے سے قبل سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ سنا ہے اسپیشل کونسل جیک اسمتھ آج مجھ پرجعلی فردجرم عائد کریں گے،جعلی فردجرم 2024 کے صدارتی الیکشن میں مداخلت ہے،تاہم فرد جرم عائد ہونے کے بعد اسپیشل کونسل جیک اسمتھ نے کہا کہ عدالت سے ٹرمپ کے خلاف صدارتی الیکشن پر اثر انداز ہونے کے کیس کی تیز سماعت کا کہیں گےٹرمپ کے حامیوں کو جھوٹ کی بنیاد پر کیپیٹل ہل پر حملے کیلئے اکسایا گیا تھا،صدر بائیڈن کی کامیابی کو تسلیم نہ کرنے کیلئے کیپیٹل ہل پر چڑھائی کی گئی۔

    کالے جادو ٹونے کیلئے مقتولہ خاتون کا سر قبر سے چوری

    واضح رہے کہ 6 جنوری 2021 کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں نےکیپیٹل ہل پر دھاوا بول دیا تھا اور سکیورٹی حصار توڑتے ہوئے عمارت کے اندر داخل ہوگئے تھے کیپیٹل ہل پر ہنگامہ آرائی کے دوران 4 افراد ہلاک اورمتعدد زخمی ہوئے تھے،کیپیٹل ہل پر حملے کے الزام میں ایک ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔

    یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا تھا کہ جب کیپیٹل ہل میں موجود کانگریس کی عمارت میں مشترکہ اجلاس ہو رہا تھا اور کانگریس کو نومبر 2020 میں انتخابات جیتنے والے نو منتخب صدر جوبائیڈن کی صدارتی فتح کی توثیق کرنی تھی تاہم ٹرمپ اور ان کے حامیوں کا خیال تھا کہ انتخابات میں ان کی فتح کو شکست میں تبدیل کیا گیا ہے۔

    جنوب مشرقی ایشیاء میں سالن بنانے کا طریقہ تقریباً 2000 سال پُرانا ہے،محققین

  • جوبائیڈن انتظامیہ کی پناہ گزینوں پر عائد کی گئی پابندیاں معطل

    جوبائیڈن انتظامیہ کی پناہ گزینوں پر عائد کی گئی پابندیاں معطل

    واشنگٹن: امریکی عدالت نے صدر جوبائیڈن انتظامیہ کی پناہ گزینوں پر عائد کی گئی پابندیوں کو معطل کر دیا۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی عدالت نے میکسیکو کی سرحد سے امریکہ میں داخلے کے منتظر افراد کے پناہ کی درخواست دینے پر عائد پابندیاں معطل کیں امریکی عدالت نے پابندیوں کو پناہ گزینوں سے متعلق ملکی قوانین سے متصادم قرار دیا۔ عدالت نے فیصلے میں جو بائیڈن انتظامیہ کو اپیل کے لیے 2 ہفتے کی مہلت دے دی جبکہ جو بائیڈن انتظامیہ نے اس فیصلے کے خلاف سرکٹ کورٹ آف اپیلز سے رجوع کر لیا۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن انتظامیہ نے رواں سال مئی میں پناہ گزینوں سے متعلق پابندی عائد کی تھیں جس کے تحت امریکہ میں پناہ لینے کے خواہش مندوں کی اکثریت درخواست دینے کی اہل نہیں رہی تھی جو بائیڈن انتظامیہ میکسیکو کی سرحد سے غیرقانونی طور پر امریکہ میں داخل ہونے والوں کی تعداد میں کمی کو اپنی اسی پالیسی کا ثمر قرار دے رہی ہے۔

    افسران کیلئے نئی گاڑیاں، نگران حکومت پنجاب سمیت دیگر کو نوٹسز جاری

    دریں اثنا انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک گروپ نے عدالتی فیصلے کو فتح سے تعبیر کیا ہے امریکن سول لبرٹیز یونین کی ڈپٹی ڈائریکٹر کترینا ایلینڈ کا کہنا ہے کہ عدالت کا یہ فیصلہ فتح کے مترادف ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی جزوی ہے اس غیرقانونی پابندی کے خلاف جنگ کو بائیڈن انتظامیہ جتنا طول دے گی، اتنا ہی میکسیکو کی سرحد پر موجود امریکا میں تحفظ کے متلاشی ہزاروں افراد اور ان کے اہل خانہ کے مصائب میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔

    بائیڈن انتظامیہ میکسیکو کی سرحد سے غیرقانونی طور پر امریکا میں داخل ہونے والوں کی تعداد میں کمی کو اپنی اسی پالیسی کا ثمر قرار دے رہی ہے۔ جون میں میکسیکو کی سرحد پر ایک لاکھ افراد کو حراست میں لیا گیا تھا جو فروری 2021 کے بعد سے کم ترین تعداد ہے۔

    50 ہزارجرمانہ اور تنخواہ بند،ہوم سیکرٹری ،آئی جی پنجاب،آئی جی جیل پہنچے عدالت

  • امریکا کےپاس خلائی طشتریاں اورخلائی مخلوق کی لاشیں موجود ہیں،سبق انٹیلیجنس افسر

    امریکا کےپاس خلائی طشتریاں اورخلائی مخلوق کی لاشیں موجود ہیں،سبق انٹیلیجنس افسر

    واشنگٹن: امریکی فضائیہ کے سابق انٹیلی جنس افسر ڈیوڈ گرش نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی حکومت کے پاس خلائی طشتریاں اور خلائی مخلوق کی لاشیں موجود ہیں۔

    باغی ٹی وی: "دی گارڈین” کے مطابق سابق امریکی افسر نے مذکورہ بیان واشنگٹن میں ایوان کی نگرانی کرنےوالی کمیٹی کے سامنے حلف لیتے ہوئے کہا تھا ان کو اظہارِ خیال کرنے کا موقع اس دعوے کے بعد دیا گیا، جب انہوں نے جون میں کہا تھا کہ امریکی حکومت نے اپنے پاس خلائی طشتری کو پناہ دے رکھی ہے۔


    ان سے سوال کیا کہ امریکی حکومت کے پاس تباہ ہونے والی خلائی طشتریوں کے پائلٹ موجود ہیں؟ سابق امریکی افسر نے جواب دیا کہ جائرہ لینے سے معلوم ہوا کہ حیاتیاتی اعتبارسے وہ غیر انسانی تھے، اس کی تشخیص ان افراد نے کی، جو اس کا علم رکھتے ہیں۔

    روس ایران کی مدد سے ڈرون فیکٹری تیار کر رہا ہے،امریکا

    سابق امریکی انٹیلی جنس افسر نے 2023 تک امریکی محکمہ دفاع کے ایک خٖفیہ ادارے کےتحت کیے جانے والے ایک تجزیے کی قیادت کی تھی ڈیوڈ گرش نے جون میں الزام عائد کیا تھا کہ حکومت امریکی کانگریس سے خلائی مخلوق کے ثبوت چھپا رہی ہے لیکن اس انکشاف کے بعد ریپبلکن کی زیرقیادت نگرانی کمیٹی نے ان دعوؤں کی تحقیقات شروع کردیں۔

    کمیٹی میں ڈیوڈ گرش نے قانون سازوں کو بتایا کہ حکومت نے ایک غیرانسانی حیات کو برآمد کیا ہے لیکن انہوں نے اس کو خود نہیں دیکھا ہے اور نہ ہی کسی خلائی طشتری کو دیکھا ہے،سماعت نے شدید عالمی دلچسپی کو اپنی طرف متوجہ کیا، اور قیاس آرائیاں اور دعوے فراہم کیے کہ امریکہ اجنبی زندگی اور ٹیکنالوجی کے شواہد چھپا رہا ہے – جس میں شکوک و شبہات کی بڑی مقدار شامل ہے۔

    ایف بی آر نے قومی ائیرلائن کے تمام بینک اکاؤنٹس منجمد کردیئے

    گرش نے 2022 میں ایک سیٹی بلوئر کی شکایت درج کروائی۔ اس نے کہا کہ حکومت میں ان کے کردار میں ان پر اس بات کی تحقیقات کا الزام عائد کیا گیا تھا کہ فوج، دفاع اور دیگر ایجنسیاں ایلین اور ایلین کرافٹ کے بارے میں کیا جانتی ہیں، لیکن الزام لگایا گیا کہ انہیں خفیہ سرکاری UFO پروگراموں تک رسائی سے روکا گیا تھا بدھ کو بات کرتے ہوئے، گرش نے کہا کہ انہیں اپنےالزامات کےنتیجے میں "انتہائی وحشیانہ” جوابی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    یہ دعوے اعلی سطح کے انٹیلی جنس اہلکاروں کے ساتھ وسیع انٹرویو پر مُبنی ہیں امریکی حکومت نے ایک ”کثیر دہائی“ پروگرام کا انعقاد کیا جس نے تباہ ہونے والی خلائی طشتریوں کو جمع کیا ہے۔ امریکی حکومت نے ثبوت چھپانے کے گرش کے دعووں کی تردید کی ہے-

    کسی کا راز تو پھر بھی پرائی بات ہوئی ،خود اپنے دل کو سمجھنا بھی …

    محکمہ دفاع کے ترجمان نے دی گارڈین کو بتایا کہ تفتیش کاروں نے دعوؤں کو ثابت کرنے کے لیے کوئی قابل تصدیق معلومات دریافت نہیں کی ہیں خلائی مخلوق کو قبضے رکھنے یا ریورس انجینئرنگ سے متعلق کوئی پروگرام ماضی میں موجود تھا یا فی الحال موجود ہے۔