Baaghi TV

Tag: انتخابات

  • انتخابات میں دھاندلی کا مقدمہ: ڈونلڈ ٹرمپ کا براہ راست نشریات کا مطالبہ

    انتخابات میں دھاندلی کا مقدمہ: ڈونلڈ ٹرمپ کا براہ راست نشریات کا مطالبہ

    نیویارک:سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابات میں دھاندلی کے مقدمے کی براہ راست نشریات کا مطالبہ کردیا –

    باغی ٹی وی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وکلا نے 2020 کے صدارتی انتخابات میں شکست کو تبدیل کرنے کی سازش کرنے کے الزام میں ان کےمقدمے کی براہ راست اورکمرہ عدالت میں ٹیلیویژن کوریج کی اجازت کی درخواست کردی ہےتاکہ سابق صدر عوامی سطح پر یہ دلیل دے سکیں کہ یہ کارروائی غیر منصفانہ ہے۔

    دوسری جانب امریکا میں کئی دہائیوں سے یہ قانون نافذ ہے کہ وفاقی عدالت میں فوجداری اور دیوانی کارروائیوں کی براہ نشریات نہیں دکھائی جاسکتیں، جس میں عام طور پر عوام ذاتی طور پر شرکت کر سکتے ہیں اور ٹرمپ کے وکلا کی جانب سے جمع کرائی گئی 5 صفحات پر مشتمل درخواست میں اس اصول کا ذکر نہیں کیا گیا تاہم ٹرمپ نے مطالبہ کیا کہ امریکا اور اس سے باہر ہر شخص کو اس کیس کا براہ راست مطالعہ کرنے اور یہ دیکھنے کا موقع ملنا چاہئے۔

    کینیڈا میں سکھ شہری نامعلوم افراد کی فائرنگ سے 11 سالہ بیٹے سمیت قتل

    امریکی خبر رساں اداروں نے بھی مقدمے کی سماعت براہ راست ٹیلی ویژن پر دکھانے کی حمایت کی، جس پر استغاثہ نے میڈیا اداروں کی کوششوں کے جواب میں نشریات کے خلاف وفاقی عدالت سے رابطہ کرلیا ہے، اور حکومت نے یہ دلیل دی کہ مقدمے کی ٹیلی ویژن نشریات سے کارروائی کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں، جس میں گواہوں اور جیوری کو ممکنہ طور پر ڈرانے دھمکانے کی سہولت بھی شامل ہے۔

    سابق صدر ٹرمپ 4 مجرمانہ مقدمات اور متعدد دیوانی مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں، اور 2024 میں ریپبلکن پارٹی کی وائٹ ہاؤس نامزدگی کے مقابلے سے قبل قانونی خطرے کو ووٹروں کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں امریکا میں ٹرمپ کو آئندہ سال کے لیے ریپبلکن صدارتی امیدوار کے طور پر پسندیدہ قرار دیا جارہا ہے، تاہم ایک حکم نامے کے تحت پر انہیں اسیکیوٹرز، ممکنہ گواہوں اور عدالتی عملے کی مذمت کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارم استعمال کرنے سے روک دیا گیا ہے۔

    عرب لیگ،اسرائیل کو تیل ،فضائی حدود کی بندش کی تجاویز مسترد

    دوسری جانب امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اگر دوبارہ امریکا کے صدر بنے تو غیرقانونی تارکین وطن کے خلاف تاریخی آپریشن ہوگا ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے کی صورت میں غیرقانونی تارکین کو کیمپوں میں رکھ کر بے دخل کیا جائے گا ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ صدر بنے تو ہر سال لاکھوں افراد کو ملک بدر کیا جائے گا، عشروں سے امریکا میں غیرقانونی طور پر مقیم افراد بھی بے دخل کیے جائیں گے،ڈونلڈ ٹرمپ بعض مسلم ممالک کے شہریوں کے امریکا آنے پر پھر سے پابندی لگانا چاہتے ہیں،ڈونلڈ ٹرمپ متعدد بیماریوں کو بنیاد بناکر بھی لوگوں کے امریکا آنے پر پابندی لگائیں گے۔

    نیو ہیمپشائر میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم اپنی جنوبی سرحد پر حملے روکیں گے، اس کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔

    حماس کا مقصد اسرائیل کی طرف سے پرتشدد اور مبالغہ آمیز ردعمل کو ہوا دینا …

  • حکومت صاف شفاف انتخابات کے انعقاد کیلئے ہر قسم کا تعاون کرے گی،نگران وزیراعظم

    حکومت صاف شفاف انتخابات کے انعقاد کیلئے ہر قسم کا تعاون کرے گی،نگران وزیراعظم

    اسلام آباد: نگران وزیراعظم ا نوارالحق کاکڑ سے چیف الیکشن کمشنر سکندرسلطان راجہ نے اہم ملاقات کی ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق چیف الیکشن کمشنر نے عام انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے کمیشن کی تیاریوں پر بریفنگ دی،چیف الیکشن کمشنر نے وزیراعظم کو انتخابات کی تیاریوں کا جائزہ لینے کیلئے الیکشن کمیشن کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی ۔

    چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے وزیر اعظم کو بتایا کہ الیکشن کمیشن نے 8 فروری 2024 کے عام انتخابات کیلئے تمام ضروری تیاری کرلی ہے، پولنگ اسٹیشنز، پولنگ اسٹاف کی فہرستیں بھی تیار کرلی گئی ہیں؛چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ الیکشن مٹیریل کی پرنٹنگ کا کام بھی آخری مراحل میں ہے جبکہ انتخابی فہرستیں اپ ڈیٹ کرنے کا کام بھی تکمیل کے مراحل میں ہے؛ جلد ہی تمام اضلاع میں انتخابی فہرستیں پہنچا دی جائیں گی، الیکشن کمیشن بروقت انتخابات کے انعقاد، انتخابی شیڈول جاری کرنے کا پابند ہے، الیکشن کمیشن آئینی ذمہ داریوں کو خوش اسلوبی سے انجام دے گا۔

    نگران وزیراعظم نے کہا حکومت الیکشن کمیشن کوصاف شفاف انتخابات کے انعقاد کیلئے ہر قسم کا تعاون کرے گی،آزادانہ اورصاف شفاف الیکشن کیلئے تمام ضروری وسائل کی فراہمی یقینی بنائیں گے۔

    سونے کی قیمت میں معمولی کمی

    دوسری جانب الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹر لسٹیں منجمد کردی گئیں ہیں،الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹر لسٹوں کو منجمد کرنے کے بعد آئندہ عام انتخابات کے لیے ووٹر لسٹوں کی تیاری پر کام جاری ہے،الیکشن کمیشن نے ووٹر لسٹوں کو منجمد کردیا ہے، جس کے بعد اب ووٹرز کا اندراج یا اخراج نہیں ہوگا بلکہ الیکشن کمیشن رواں ماہ کی 25 تاریخ تک ووٹر لسٹوں کو فائنل کردے گا، اور 25 نومبر تک ہی ووٹر لسٹوں کی اشاعت مکمل کر لی جائے گی۔

    ڈی جی خان :ڈسٹرکٹ کوالٹی کنٹرول بورڈ اجلاس،36کیسز کی سماعت کی گئی

    قبل ازیں چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ نگران حکومت بنانا الیکشن کمیشن کا کام نہیں تاہم نگران حکومت کو چیک کرنا الیکشن کمیشن کا کام ہے اٹارنی جنرل بھی الیکشن کمیشن کے خاندان کا حصہ ہیں سی ڈی اے اراکین کا جھگڑا بنا لیکن میں کسی کو نہیں جانتا اور ہم نے 2 اراکین سی ڈی اے کے تبدیل کیے جو سب سے دیکھا، ہم نے خیبرپختونخوا کی کابینہ تبدیل کروائی اور الیکشن کمیشن نے وفاقی کابینہ پر بھی نوٹسز لیے جبکہ ہم نے تمام فیصلے مشاورت سے کیے۔

    سیالکوٹ :تھانہ سمبڑیال کے علاقہ میں کھیت سے 2 نوجوانوں کی لاشیں برآمد

  • انتخابات کے آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انعقاد کا چیلنج الیکشن کمیشن کو درپیش ہے،پی ٹی آئی

    انتخابات کے آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انعقاد کا چیلنج الیکشن کمیشن کو درپیش ہے،پی ٹی آئی

    لاہور: پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) نے مطالبہ کیا ہے کہ الیکشن کمیشن انتخابات کے لیے لیول پلیئنگ فیلڈ کی دستیابی یقینی بنائے –

    باغی ٹی وی: پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کا اجلاس ہوا،جس میں انتخابات سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا جائزہ لیا گیا،کور کمیٹی کے اعلامیے میں کہا گیا کہ ملک میں انتخابی عمل کے آغاز پر سپریم کورٹ کے شکر گزار ہیں ، انتخابات کے آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انعقاد کا چیلنج الیکشن کمیشن کو درپیش ہے ،انتخابی نشان ”بلّے“ کی فوری فراہمی سمیت زیر التوا معاملات پر بلا تاخیر فیصلے کیے جائیں۔

    اعلامیے میں کہا گہا کہ الیکشن کمیشن انتخابات کے لیے لیول پلیئنگ فیلڈ کی دستیابی یقینی بنائے ، اللہ کی رضا سے چیئرمین پی ٹی آئی بطور منتخب وزیراعظم ملک کی باگ ڈور سنبھالیں گے ۔

    عرب مانیٹری فنڈ اور سٹیٹ بینک کے مابین ترسیلات زر میں سہولت کیلئے مفاہمتی یادداشت …

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو 8 فروری 2024 کو ملک میں انتخابات کا انعقاد یقینی بنانے کا حکم دیا ہے ملک میں 90 روز میں انتخابات سے متعلق کیس میں صدر مملکت کی جانب سے 8 فروری 2024 کو عام انتخابات سے متعلق دستاویز پر دستخط کے بعد سپریم کورٹ نے کیس نمٹا دیا۔

    حماس کا اسرائیلی فوج پر حملہ، 6 ٹینکوں سمیت 9 فوجی گاڑیاں تباہ

  • 8 فروری کو پاکستان میں عام انتخابات ہوں گے،سپریم کورٹ کا حکمنامہ

    8 فروری کو پاکستان میں عام انتخابات ہوں گے،سپریم کورٹ کا حکمنامہ

    سپریم کورٹ میں انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    اٹارنی جنرل روسٹرم پر آگئے،اور کہا کہ صدر مملکت سے ہونے والی ملاقات کے منٹس عدالت کو پیش کرنے ہیں ،
    ہم نے منٹس فائل کردیئے ہیں،جواب کے صفحہ دو پر صدر کو لکھا گیا خط ہے،عدالت کے حکم پر اٹارنی جنرل نے لکھے گئے خط پڑھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خط میں یہ آگسٹ کا لفظ سپریم کورٹ کےلئے کیوں لکھا ہے،آئین میں ایسا کچھ نہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ممبران میں نثار درانی سندھ سے، شاھد جتوئی بلوچستان سے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے جواب میں صدر کے دستخط کہاں ہیں؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ صدر نے مجھے خط لکھا ہے، وہ تھوڑی دیر میں میرے پاس آجائیگا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم نے آج آپ کو اتنا وقت دیا ہے ،دیکھیں آپ حکومت کے نمائندے ہیں،صدر نے ابھی تک یہ نہیں لکھا کہ میں راضی ہوں یا کچھ اور، آپ کو صدر کی جانب سے جو بھی دستاویز آئے وہ ہمیں بھجوا دیجئے گا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اس کیس میں کوئی آئینی تشریح کی ضرورت نہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ صدر مملکت کی جانب سے کل کی ملاقات کی ایک پریس ریلیز جاری کی گئی تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہمیں اس معاملے میں مثبت سوچ رکھنی چاہیئے، ہمیں بہتری کی کوشش کرنی چاہیئے،آپ کے پاس جب صدر کا جواب آئے تو بتائیے گا، ہم اٹھ کر جارہے ہیں پھر واپس آئیں گے، صدر کے جواب آنے تک کیس کی سماعت میں وقفہ کردیا گیا

    سپریم کورٹ میں انتخابات کیس کی دوبارہ سماعت ہوئی،اٹارنی جنرل پاکستان ایوان صدر سے سپریم کورٹ کے کمرہ عدالت پہنچ گئے،سماعت سے قبل اٹارنی جنرل کی چیف جسٹس سے ملاقات ہوئی،اٹارنی جنرل نے صدر مملکت کا خط چیف جسٹس کو دیا، چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کمرہ عدالت پہنچ گیا،اٹارنی جنرل روسٹرم پر آگئے،اٹارنی جنرل نے صدر مملکت کا خط سپریم کورٹ میں پیش کردیا،صدر مملکت کی جانب سے 8 فروری 2024 کی انتخابات کی تاریخ دینے پر رضامندی ظاہر کی گئی، الیکشن کمیشن نے جواب میں کہا کہ الیکشن کمیشن 8 فرروری کو قومی اور صوبائی اسمبلی کے انتخابات کرائیگا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا اس پر کسی کو اعتراض ہے؟ اس پر صدر اور الیکشن کمیشن کے ممبران بھی مطمئن ہیں؟ کیا آپ سب خوش ہیں، کسی کو کوئی اعتراض تو نہیں؟کمرہ عدالت میں موجود پی ٹی آئی کے وکیل سمیت کسی درخواست گزار نے اعتراض نہیں کیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہر کوئی اس ملک میں انتخابات چاہتا ہے، سب لوگ بیٹھ جائیں آرڈر لکھوانے میں وقت لگے گا

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی نے بھی آئینی شق کا حوالہ نہیں دیا، اس نقطے پر بحث پھر کبھی کریں گے، عدالت نے تحریری حکمنامہ شروع کردیا،حکمنامہ میں کہا گیا کہ 2 نومبر 2023 کی ملاقات کے بعد انتخابات کی تاریخ پر اتفاق کیا گیا ، قومی اسمبلی وزیراعظم کی ایڈوائس پر 9 اگست کو تحلیل ہوئی ، یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے، قومی اسمبلی کی تحلیل کے بعد انتخابات کی تاریخ پر الیکشن کمیشن اور صدر مملکت میں اختلاف ہوا، وکیل تحریک انصاف علی ظفر کے مطابق صدر مملکت نے 13 ستمبر کو الیکشن کمیشن کو خط لکھا، صدر نے خط میں لکھا کہ الیکشن کمیشن صوبائی حکومتوں سے مشاورت کر کے تاریخ کا اعلان کرے، صدر کے اس خط پر الیکشن کمیشن کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا، سپریم کورٹ کا تاریخ دینے کے معاملے پر کوئی کردار نہیں، صدر مملکت ملک کا اعلی عہدہ ہے، حیرت ہے کہ صدر مملکت اس نتیجے پر کیسے پہنچے، تاریخ دینے کا معاملہ سپریم کورٹ یا کسی اور عدالت کا نہیں، صدر مملکت کو اگر رائے چاہیے تھی تو 186آرٹیکل کے تحت رائے لے سکتے تھے،

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ تمام ایڈووکیٹ جنرلز کمرہ عدالت میں موجود ہین؟ ایڈووکیٹ جنرلز روسٹرم پر آگئے،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کسی کو انتخابات کی تاریخ پر اعتراضات تو نہیں؟ایڈوکیٹ جنرلز نے جواب دیا کہ انتخابات کی تاریخ پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں، حکمنامہ میں کہا کہ کسی ایڈووکیٹ جنرل نے انتخابات کی تاریخ پر اعتراض نہیں کیا، سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ صدر مملکت اور الیکشن کمیشن اپنے اپنے دائرہ اختیار میں رہی، اعلیٰ آئینی عہدہ ہونے کے ناطے صدر مملکت کی ذمہ داری زیادہ بنتی ہے،پورا ملک اس شش و پنج میں تھا کہ ملک میں عام انتخابات نہیں ہو رہے، آئین اور قانون پر عملدرآمد ہر شہری پر فرض ہے،ہر آئینی ادارہ بشمول الیکشن کمیشن اور صدر آئین کے پابند ہیں، آئین کی خلاف ورزی کے سنگین نتائج ہوتے ہیں، آئین پر علمداری اختیاری نہیں صدر مملکت اور الیکشن کمیشن کی وجہ سے غیر ضروری طور پر معاملہ سپریم کورٹ آیاسپریم کورٹ آگاہ ہے ، صدر اور الیکشن کمیشن کے انتحابات کی تاریح نہ دینے سے پورا ملک بے چینی کا شکار ہوا،یہ خدشہ پیدا ہوا کہ شاید انتحابات ہوں گے ہی نہیں۔ عدالت کو اداروں کا کردار نہیں اپنانا چاہییے،عدالت نے صدر اور ای سی پی کو کسی نتیجے تک پہنچنے میں سہولت فراہم کی جس کے پاس جتنا بڑا عہدہ ہوتا ہے اسکی ذمہ داری بھی،آئین میں صدر اور الیکشن کمیشن ممبران کے حلف کا ذکر موجود ہے۔آئین کو بنے ہوئے پچاس سال ہو چکے ہیں۔حکمنامہ یہ باتیں کی گئیں کہ ملک میں انتخابات کبھی نہیں ہوں گے یہ آئین کی سکیم ہے کہ سپریم کورٹ کو یہ اختیار نہیں ہے،سپریم کورٹ صرف سہولت کار کے طور پر صدر مملکت اور الیکشن کمیشن کے درمیان مشاورت کا کہہ سکتی ہے،یہ عدالت صرف یہ کہہ سکتی ہے کہ ہر ادارے اپنی حدود میں رہ کر کام کریں،

    سپریم کورٹ نے حکمنامہ میں کہا کہ آئین سے انحراف کا کوئی آپشن کسی آئینی ادارے کے پاس موجود نہیں، آئین کو بنے 50 سال گزر چکے، اب کوئی ادارہ آئین سے لاعلم ہونے کا نہیں کہہ سکتا، 15 سال قبل آئین کو پامال کیا گیا، انتخابات کے سازگار ماحول پر بہتری ہر شہری کا بنیادی حق ہے یہ ذمہ داری اُن پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے یہ حلف اُٹھا رکھا ہے چیف الیکشن کمشنر، ممبران اور صدرمملکت حلف لیتے ہیں عوام کو صدر یا کمیشن آئین کی عملداری سے دور نہیں رکھ سکتے.حادثاتی طور پر پاکستان کی تاریخ میں پندرہ سال آئینی عملداری کا سوال آیا اب وقت آ گیا ہے کہ ہم نہ صرف آئین پر عمل کریں بلکہ ملکی آئینی تاریخ کو دیکھیں ،آئینی خلاف ورزی کا خمیازہ ملکی اداروں اور عوام کو بھگتنا پڑتا ہے ،عدالتوں کو ایسے معاملات کا جلد فیصلہ کرنا پڑے گا ،قومی اسمبلی اس وقت تحلیل ہوئی جب وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد آئی ،وزیراعظم کو قومی اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار نہیں تھا،اس وقت کے وزیراعظم نے اسمبلی تحلیل کر کے آئینی بحران پیدا کر دیا ،تحریک عدم اعتماد کے بعد ملک میں سیاسی بحران پیدا ہوا،عدالت نے سیاسی معاملے پر از خود نوٹس لیا، صدر مملکت نے تحریک عدم اعتماد کے بعد قومی اسمبلی تحلیل کی جو غیر آئینی عمل تھا، تحریک عدم اعتماد کے بعد صدر، وزیراعظم کی ہدایت پر اسمبلی تحلیل نہیں کر سکتے،سپریم کورٹ نے متفقہ فیصلہ کیا کہ پی ٹی آئی دور میں قومی اسمبلی کی تحلیل کا فیصلہ غیر آئینی تھا،اس وقت کے وزیر اغظم اور صدر مملکت نے جو کیا وہ ان کے اختیار میں نہیں تھااس فیصلے میں دو ججز نے صدر مملکت کے نتائج پر بات کی، اس فیصلہ میں کہا گیا کہ عوامی منتخب نمائندوں کو عدم اعتماد پر ووٹ ڈالنے سے روکا گیا، چیف جسٹس نے حکمنامہ میں تین نومبر کی ایمرجنسی کا ذکر بھی کر دیا اور کہا کہ آج سے پندرہ سال پہلے آج ہی کے دن آئین پامال ہوا،آئین کی پامالی کا خمیازہ ملک اور عوام کو بھگتنا پڑا۔اسمبلی تحلیل کیس میں ایک جج نے کہا کہ صدر مملکت پر پارلیمنٹ آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کرے،عجیب بات ہے صدر مملکت نے وہ اختیار استعمال کیا جو ان کا نہیں تھا،عجیب بات ہے صدر مملکت نے وہ اختیار استعمال نہیں کیا جو انہیں کرنا چاہیے تھا،آئین پر شب خون مارنے کی تاریخ سے سیکھنا ہوگا کہ اِس کے عوام اور ملکی جغرافیائی حدود پر منفی اثرات پڑے،غیر آئینی طور پر اسمبلی تحلیل کرنا غداری کے زمرے میں آتا ہے، صرف عوام کے مفاد میں آئینی ادارے اہم فیصلے کر سکتے ہیں، امید کرتے ہیں تمام آئینی ادارے مستقبل میں سمجھداری کا مظاہرہ کریں گے،

    سپریم کورٹ نے حکمنامہ میں کہا کہ انتخابات کی تاریخ پر اتفاق ہوا ہے ،وقت پر ہوجانے چاہئیں،اس پر منیر احمد نامی شخص کو پریشانی ہوسکتی ہے،منیر احمد ایسے شخص ہیں جس کے لئے وکلا پیش ہونا چاہتے ہیں،منیر احمد ایک پُراسرار شخص ہیں، ہم نے انتخابات کے انعقاد کیلئے سب کو پابند کر دیا،کوئی رہ تو نہیں گیا،میڈیا پر انتخابات سے متعلق مایوسی پھیلانے پر اٹارنی جنرل پیمرا کے ذریعے کارروائی کروائیں،اگر کسی سے فیصلے نہیں ہو پا رہے تو وہ گھر چلا جائے،جس اینکر کو بھی انتخابات وقت پر نہ ہونے کا خدشہ ہے وہ ذاتی محفلوں یا اہلیہ کے ساتھ بیٹھ کر گفتگو کریں ،اگر میڈیا نے شکوک شبہات پیدا کیے تو وہ بھی آئینی خلاف ورزی ہوگی، آزاد میڈیا ہے ہم ان کو بھی دیکھ لیں گے،کسی اینکر یا رپورٹر کو اجازت نہیں کہ مائیک پکڑ کر عوام کو گمراہ کرے، میڈیا انتخابات پر اثرانداز ہوا تو یہ آئین کی خلاف ورزی ہوگی،میڈیا کو منفی کردار ادا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے،انشاء اللہ انتخابات آٹھ فروری کو ہی ہوں گے آپ نظر رکھیں الیکشن کے حوالے سے کوئی منفی خبر چلائے تو ان کے خلاف ایکشن لیں ،یہ کوئی نہ سوچے کہ انتخابات کی تاریخ عدالت نے دی ہے،ہمیں مثبت سوچ رکھتے ہوئے آگے بڑھنا ہوگا،لائیٹر نوٹ پر سماعت ختم کررہا ہوں کہ انتخابات بخیر و عافیت سے ہونگے،اٹارنی جنرل نے بھی 8 فروری کو عام انتخابات کے انعقاد پرکوئی اعتراض نہیں کیا، صدر مملکت اور الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کیلئے پورے ملک کی تاریخ دے دی، وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں نے اتفاق کیا کہ انتخابات کا انعقاد بغیر کسی خلل کے ہو گا،اُمید ہے تمام تیاریاں مکمل کرکے الیکشن کمیشن شیڈول جاری کرے گا،8 فروری کو پاکستان میں عام انتخابات ہوں گے،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عدالت آئین و قانون کی کسی خلاف ورزی کی توثیق نہیں کر رہی،الیکشن کمیشن یقینی بنائے کہ 8 فروری کو انتخابات ہر صورت ہوں، الیکشن کمیشن ہر قدم قانون کے مطابق اٹھائے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے عدالت کا دوستانہ چہرہ دیکھا ہے دوسرا چہرا ہم دکھانا نہیں چاہتے،

    سپریم کورٹ نے حکمنامہ کیساتھ تمام درخواستیں نمٹا دیں

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نےسماعت کی،جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ بنچ میں شامل ہیں،سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو صدر مملکت سے مشاورت کرنے کی ہدایت کی تھی ،الیکشن کمیشن صدر سے مشاورت کے بعد انتخابات کی تاریخ کے حوالے عدالت کو آگاہ کرے گا ،الیکشن کمیشن نے گزشتہ روز عدالت کوگیارہ فروری کے روز انتخابات کرانے کی تاریخ دی ہے ،رات گئے الیکشن کمیشن اور صدر مملکت کے درمیان عدالتی حکم پر ملاقات ہوئی

  • صدر مملکت اور چیف الیکشن کمشنر  عام انتخابات 8 فروری  کو کرانے پر متفق

    صدر مملکت اور چیف الیکشن کمشنر عام انتخابات 8 فروری کو کرانے پر متفق

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کے درمیان 8 فروری 2024 کو عام انتخابات کرانے پر اتفاق ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ کی ہدایت پر اٹارنی جنرل اور الیکشن کمیشن کے وفد نے صدر مملکت سے علیحدہ علیحدہ طویل ملاقاتیں کیں جس میں عام انتخابات کی تاریخ کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ایوان صدر کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم پر چیف الیکشن کمشنر آف پاکستان سکندر سلطان راجہ کی اٹارنی جنرل برائے پاکستان منصور عثمان اعوان اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے چار ممبران کے ہمراہ ایوان صدر میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے ملاقات کی جس میں آئندہ عام انتخابات کے انعقاد کیلئے تاریخ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    نگران وزیراعظم اور شاہد آفریدی کے مابین ملاقات

    اعلامیے کے مطابق صدر مملکت نے الیکشن کمیشن کی جانب سے حلقہ بندیوں اور انتخابات کے حوالے سے کی گئی پیش رفت کو سنا اور تفصیلی بحث کے بعد اجلاس نے متفقہ طور پر ملک میں عام انتخابات 8 فروری 2024 کو کرانے پر اتفاق کیا۔

    دوسری جانب الیکشن کمیشن کے ترجمان کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سرابرہی میں ممبران صدر پاکستان سے ایوان صدر میں میں الیکشن کی تاریخ کے سلسلے میں ملاقات کی اعلامیے کے مطابق متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ الیکشن مورخہ 8 فروری بروز جمعرات منعقد ہوں گے ۔

    سری لنکا کو شکست ،بھارت نےسیمی فائنل کیلئے کوالیفائی کرلیا

    خیال رہےکہ آج ملک میں 90 روز میں انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کے وکیل سپریم کورٹ میں پیش ہوئے اور بتایا کہ الیکشن کمیشن 11 فروری 2024 کو ملک میں الیکشن کروانے کے لیے تیار ہےعدالت نے الیکشن کمیشن کو حکم دیا کہ صدر مملکت سے آج ہی مشاورت کر کے کل عدالت میں الیکشن کی تاریخ سے متعلق آگاہ کیا جائےسپریم کورٹ کے حکم پر صدر عارف علوی سے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ اور اٹارنی جنرل منصور عثمان نے ملاقات کی جس میں الیکشن کمیشن کے ارکان بھی موجود تھے۔

    واٹس ایپ میں نیا فیچر متعارف

    ذرائع کے مطابق صدر سے چیف الیکشن کمشنر اور اٹارنی جنرل کی ملاقات ایک گھنٹے سے زائد جاری رہی جس میں عام انتخابات کے لیے صدر مملکت کے سامنے 3 تاریخیں رکھی گئیں الیکشن کمیشن نے 28 جنوری ، 4 فروری اور 11 فروری کی تاریخوں پر رائے دی، تاہم الیکشن کمیشن کی جانب سے 11 فروری کو انتخابات کے لیے موزوں قرار دیا گیا،ملاقات کے بعد ایوان صدر سے روانہ ہوکر الیکشن کمیشن پہنچے جہاں انہوں نے صدر مملکت کو خط لکھتے ہوئے ملک میں 11 فروری کو الیکشن کرانے کی تجویز دی۔

    حج 2024 کی پروازوں سے متعلق شیڈول جاری

    الیکشن کمیشن نے کہا کہ سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے 11 فروری کو عام انتخابات کی تاریخ تجویز کرتے ہیں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کے درمیان ملاقات میں الیکشن کی تاریخ پر اتفاق نہ ہوسکا جس کے بعد اٹارنی جنرل صدر مملکت کا پیغام لے کر چیف الیکشن کمشنر کے پاس گئے اور صدر مملکت کا مؤقف چیف الیکشن کمشنر کے سامنے رکھا بعد ازاں 8 فروری کو انتخابات کرنے پر اتفاق رائے ہوگیا-

    نگران وزیراعظم اور شاہد آفریدی کے مابین ملاقات

  • انتخابات کا وقت قریب ہے،چیف الیکشن کمشنر

    انتخابات کا وقت قریب ہے،چیف الیکشن کمشنر

    لاہور،وزیراعلیٰ ہاؤس میں چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ اور نگران وزیراعلیٰ محسن نقوی کی زیر صدارت اہم اجلاس ہوا

    اجلاس میں الیکشن کمیشن کے چاروں صوبائی ممبران اور پنجاب کی نگران کابینہ نے شرکت کی ،اجلاس میں عام انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کے انتظامات اور پنجاب حکومت کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا،اجلاس میں عام انتخابات کے لیے سکیورٹی انتظامات پر بھی بریفنگ دی گئی اور اس دوران عام انتخابات کےپرامن، آزادانہ اور منصفانہ انعقاد یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا،عام انتخابات کے سلسلے میں نگران پنجاب حکومت الیکشن کمیشن کے ساتھ کوآرڈینیشن کے لیے فوکل پرسن مقرر کرے گی

    اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر راجہ سلطان سکندر کا کہنا تھا کہ عام انتخابات مقررہ وقت پر ہوں گے انتخابات کا وقت قریب ہے سب کو مل کر منصفانہ اور شفاف الیکشن یقینی بنانا ہے جس کے لیے الیکشن کمیشن تیار ہے نگران پنجاب حکومت کو فری اینڈ فیئر الیکشن کے لیے مکمل سپورٹ کریں گے، پنجاب حکومت کے اب تک کے اقدامات سے مکمل طور پر مطمئن ہیں30 نومبر تک حلقہ بندیوں کا مرحلہ مکمل ہو جائے گا

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

  • سپریم کورٹ، فیض آباد دھرنا کیس،عام انتخابات،نیب ترامیم کیس،اگلے ہفتے مقرر

    سپریم کورٹ، فیض آباد دھرنا کیس،عام انتخابات،نیب ترامیم کیس،اگلے ہفتے مقرر

    سپریم کورٹ پرنسپل سیٹ اسلام آباد کیلئے آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ اور ججز روسٹر جاری کر دیا گیا،

    آئندہ ہفتے پرنسپل سیٹ پر پانچ بنچ مقدمات کی سماعت کریں گے ،بنچ ایک چیف جسٹس قاضی فائز عیسی،جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس امین الدین پر مشتمل ہوگا ،بنچ دو میں جسٹس سردار طارق مسعود،جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس عائشہ ملک ہونگے ،بنچ تین جسٹس اعجاز الاحسن،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس محمد علی مظہر پر مشتمل ہوگا ،بنچ چار میں جسٹس منصور علی شاہ،جسٹس جمال خان اور جسٹس حسن اظہر رضوی شامل ہونگے ،بنچ پانچ جسٹس منیب اختر،جسٹس شاہد وحید اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل ہوگا

    نیب ترامیم فیصلے کیخلاف وفاقی حکومت کی انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت منگل کو ہوگی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ سماعت کرے گا،جسٹس امین الدین،جسٹس جمال خان اور جسٹس اطہر من اللہ بنچ میں شامل ہونگے ،جسٹس حسن اظہر رضوی بھی لارجر بنچ کا حصہ ہونگے

    فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس کی سماعت بدھ کو ہوگی،چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ سماعت کرے گا ,90 روز میں انتخابات کرانے سے متعلق کیس کی سماعت جمعرات کو ہوگی،چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ سماعت کرے گا

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پہلے تو کہا تھا کہ فیصلے میں کئی غلطیاں ہیں

    فیض آباد دھرنا نظر ثانی کیس میں التواء کی درخواست

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

    فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس، شیخ رشید نے بھی درخواست واپسی کی استدعا کر دی
    دوسری جانب سپریم کورٹ،فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس،چیئرمین عوامی مسلم لیگ شیخ رشید نے اپنا تحریری جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا، شیخ رشید نے جواب میں کہا کہ میرا تحریکِ لبیک یا ان کے شرکاء سے کوئی تعلق نہیں ہےمیرا تحریک لبیک کیساتھ کوئی رابطہ نہیں،سپریم کورٹ نے درخواست گزار کے خلاف کوئی آرڈر جاری نہیں کیا، میں اپنی نظرثانی درخواست واپس لینا چاہتا ہوں

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس سماعت کے لیے مقرر کر دیا گیا،چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ یکم نومبر کو سماعت کرے گا،رجسٹرار سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل سمیت تمام فریقین کو نوٹسز جاری کر دیئے،عدالت نے گزشتہ سماعت پر تمام فریقین سے تحریری جواب طلب کیا تھا،پی ٹی آئی، ایم کیو ایم، الیکشن کمیشن، آئی بی سمیت دیگر نے نظرثانی درخواستیں واپس لینے کی استدعا کر رکھی ہے

  • انتخابات کی درخواست اور سپریم کورٹ کے سوالات

    انتخابات کی درخواست اور سپریم کورٹ کے سوالات

    انتخابات کی درخواست اور سپریم کورٹ کے سوالات
    چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عام انتخابات کے انعقاد سے متعلق کیس میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر عابد زبیری، اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی نمائندگی کرنے والے وکیل علی ظفر کی درخواست سے متعلق سوالات اٹھائے۔ انہوں نے بیان بازی پر توجہ دینے کے بجائے، درست طور پر نشاندہی کی کہ 90 دن کے اندر انتخابات کرانے کے تصور کو عملی تجاویزکودیکھنے کی ضرورت ہے۔

    سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ کی سربراہی چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کر رہے ہیں۔ بنچ جسٹس اطہر من اللہ، اور جسٹس امین الدین خان پر مشتمل ہے۔دوران سماعت سپریم کورٹ کے بینچ میں شامل معزز ججوں کی طرف سے کچھ بہت اہم سوالات اٹھائے گئے تھے،
    جسٹس امین الدین خان نے استفسار کیا کہ آئین میں یہ کیوں نہیں بتایا گیا کہ مردم شماری اگر ہو چکی ہے تو انتخابات کب ہونے چاہئیں؟
    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آئین نے نئی مردم شماری کا حکم دیا ہے۔ وہ جاننا چاہتے تھے کہ اتنی تاخیر کیوں ہوئی؟ ہ کیا یہ آئینی شق ہے کہ انتخابات 2017 سے 2021 تک مردم شماری کے بعد ہونے چاہئیں؟ اس سوال پر عابد زبیری نے کہا کہ حالات سے قطع نظر 90 دن کے اندر انتخابات کا مطالبہ ہے۔
    جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ یہ کیوں نہیں بتایا گیا کہ مردم شماری مکمل ہونے کے بعد الیکشن کرانے کے لیے آئین میں کیا مقررہ مدت درکار ہے۔
    علی ظفرسے بھی سوال کیا گیا کہ یہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے بروقت مردم شماری کرائی، "مردم شماری کی منظوری میں چار سال کیوں لگے؟ لگتا ہے آپ تاخیر کا الزام کسی اور پر لگا رہے ہیں،بتائیں کہ مردم شماری میں تاخیر کا ذمہ دار کون تھا؟ اگر 2017 میں مردم شماری کی منظوری دی گئی تھی تو جلد کیوں نہیں کرائی گئی؟ آدھا سچ کیوں پیش کرتے ہیں؟ پچھلی حکومت نے مردم شماری نہیں کروائی اور جب نئی حکومت نے کرائی تو آپ اسے غلط کہتے ہیں۔ آپ نے اس وقت مردم شماری کو چیلنج کیوں نہیں کیا؟” [ہم نیوز ویب ڈیسک 23 اکتوبر 2023]
    جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ اگر آئینی طور پر مردم شماری کی ضرورت ہے تو اس کا فیصلہ الیکشن کمیشن کو کرنا ہے۔ [ہم نیوز ویب ڈیسک 23 اکتوبر 2023]
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جنہوں نے اپنی آئینی ذمہ داریاں بروقت ادا نہیں کیں وہ اب تاخیر، حلقہ بندیوں، اور متعلقہ مسائل پر سوال نہیں اٹھا سکتے۔

    نوے دن میں انتخابات کے حوالہ سے کیس کی سماعت کے دوران یہ اٹھائے گئے چند اہم سوالات ہیں۔ ایک چیز جو ظاہر تھی وہ یہ تھی کہ عدالت کی طرف سے بنیادی مسائل کو حل کرنے کی خواہش تھی ،بیان بازی پر پابندی لگانے کے بجائے "قابل عمل” پر توجہ مرکوز کی گئی تھی، یہ مختلف اسٹیک ہولڈرز کو اپنے آئینی فرائض کی انجام دہی میں تاخیر کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔

    اندرون خانہ مسائل کو حل کرنے کے بعد حتمی تاریخ دینے کے لیے معاملہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف موڑ دیا جائے گا۔ تاہم، نہ صرف ابھی کے لیے بلکہ مستقبل کی نظیر کے طور پر بھی، قانون کے سوالات کو طے کرنا ہے بلکہ طے کیا جائے گا۔

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

     نوازشریف کی ضبط شدہ پراپرٹی واپس کرنے کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری

  • صدر کے پاس اختیار تھا تو  انتخابات کی تاریخ کیوں نہیں دی؟چیف جسٹس

    صدر کے پاس اختیار تھا تو انتخابات کی تاریخ کیوں نہیں دی؟چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں 90دنوں میں عام انتخابات کے انعقاد سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی ،بنچ میں جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ شامل ہیں،صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن عابد زبیری روسٹرم پر آ گئے، درخواست گزار عبادالرحمان لودھی بھی ویڈیو لنک پر پیش ہوئے،پی ٹی آئی کی جانب سے بیرسٹرعلی ظفر ویڈیو لنک پر پیش ہوئے،

    وکیل علی ظفر نے کہا کہ میری بھی ایک اپیل سماعت کے لئے مقرر ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی درخواست پر رجسٹرار افس نے اعتراضات عائد کیے تھے،اعتراضات کے خلاف تو جج چیمبر اپیل سنتا ہے،چلیں ہم اس معاملے کو دیکھ لیتے ہیں ،صدر سپریم کورٹ بار عابد زبیری کے دلائل شروع ہو گئے، عابد زبیری نے کہا کہ ہم نے 16 اگست کو سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی ،درخواست پر نمبر لگ گیا،جلد کیس مقرر کرنے کی درخواست کے باوجود کیس نہیں سنا گیا،چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجھے ابھی آفس کی طرف سے ایک نوٹ بھیجا گیا ہے،اس میں تو لکھا ہےاپ نے کبھی کیس کی جلد سماعت کی درخواست ہی دائر نہیں کی،آپ صدر سپریم کورٹ بار ہو کر عدالت سے غلط بیانی کر رہے ہیں،عام انتخابات سے متعلق درخواست تو انتہائی اہمیت کا حامل مقدمہ ہے،عام انتخابات کیس تو بہت اہم مقدمہ ہے فوری سماعت ہونی چاہیئے تھی،اب تک تو اس کیس کا فیصلہ ہو چکا ہوتا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ آرٹیکل 19اے سے متعلق فیصلہ سنا چکی ہے، اب آپ ایک چٹھی لکھتے آپ کو مشترکہ مفادات کونسل کا ریکارڈ مل جاتا،آپ کے مطابق مردم شماری کا آغاز 18 ماہ پہلے ہوا تھا، عابد زبیری نے کہا کہ پانچ اگست کو مشترکہ مفادات کونسل نے مردم شماری جاری کرنے کی منظوری دی، سات اگست کو اس کا نوٹیفکیشن جاری ہوا، جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ مردم شماری کب ہوگی کیا اس کا کوئی طے شدہ ضابطہ ہے؟ کیا مردم شماری کا تعلق الیکشن کے انعقاد سے ہوتا ہے؟ مردم شماری کا آئینی تقاضہ کیا ہے اور کب ہوتی ہے؟ عابد زبیری نے کہا کہ آئین میں اس کی پالیسی سازی کے لیے لکھا ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ سوال اب بھی یہی ہے کہ اس کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عابد زبیری سے استفسار کیا کہ آخری مردم شماری کب ہوئی؟ عابد زبیری نے کہا کہ گزشتہ مردم شماری 2017 میں ہوئی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس میں تو لکھا تھا وہ عبوری مردم شماری ہوگی، چکیا اس کے بعد کوئی حتمی مردم شماری بھی ہوئی؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کیا یہ آئینی ضرورت ہے کہ ہر الیکشن سے قبل مردم شماری لازمی ہوگی؟عابد زبیری نے کہا کہ نہیں یہ لازم نہیں ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر موجودہ مردم شماری کو کالعدم قرار دے دیا جائے تو الیکشن 2017 کی مردم شماری کے تحت ہوں گے؟ 2017 کی مردم شماری تو عبوری تھی اور صرف 2018 کے الیکشن کے لیے تھی،ہمیں صرف اس سوال کا جواب دے دیں نئی مردم شماری کالعدم قراردیں تو انتخابات کس مردم شماری کے تحت ہونگے،عابد زبیری نے کہا کہ میں ایک عدالتی فیصلہ بطور نظیر پیش کرنا چاہتا ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہم نے عدالتی فیصلوں پر ہی انحصار کرنا ہے تو آپکو کیوں سن رہے ہیں،پھر ہم عدالتی فیصلہ دیکھ کر خود ہی حکم جاری کردیتے ہیں،عابد زبیری نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل میں کے پی اور پنجاب کے نگران وزرائے اعلیٰ کا شرکت کرنا غیر آئینی تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں بتائیں آئین میں کہاں لکھا ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل میں نگران وزرائے اعلیٰ شریک نہیں ہوسکتے، آپ جذباتی نہیں آئین کے مطابق دلائل دیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نوے دنوں میں انتخابات کے انعقاد کے آئینی شق کی خلاف ورزی تو ہوچکی،کیا آپ اپنی درخواست پر اب بھی چاہتے ہیں کہ کاروائی ہو، عابد زبیری نے کہا کہ نوے دن گزر جانے کے باوجود دو نگران صوبائی حکومتیں ابھی بھی کام کرہی ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ اس کے لئے الگ سے کوئی درخواست دائر کریں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اگر ہم مردم شماری کے معاملے میں پڑے تو انتخابات مزید تاخیر کا شکار ہو سکتے ہیں، چیف جسٹس قاضٰی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بنیادی سوال ایک ہی ہے، کیا آپ چاہتے ہیں کہ انتخابات 2017 کی مردم شماری ہے مطابق ہوں،ہم مختصر وقفے کے بعد آرہے ہیں، آپ اس معاملے پر تیاری کرلیں،عابد زبیری نے کہا کہ بارہ اپریل کو مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس ہوا تھا جس میں مردم شماری کا فیصلہ ہوا ،اس اجلاس میں سندھ کے وزیر اعلی نے کونسل کے فیصلے سے اختلاف کیا، مردم شماری کا سلسلہ 2021 میں شروع ہوا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ جب مردم شماری کرنے کا فیصلہ ہوا تھا تو اس وقت کس کی حکومت تھی؟ وکیل نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت تھی،مردم شماری کا فیصلہ 2017 میں ہوا، لیکن تاخیر ہوئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 2017 کے فیصلے پر عمل 2021 میں ہوا، میں اس بارے میں اس لئے جانتا ہوں کہ بلدیاتی انتخابات سے متعلق مقدمات کی سماعت کی،جس نے تاخیر کی اس شخصیت کا نام لیں نا وکیل صاحب، جب مردم شماری کا فیصلہ 2017 میں ہوا اس وقت آپ نے بطور وکیل کیوں نہیں درخواست دائر کی، وکیل صاحب اگر اپ سیاسی دلائل دینا چاہتے ہیں تو آپ کے لئے یہ عدالت موزوں فورم نہیں، بظاہر ایسا لگتا ہے کہ مردم شماری کی پر فیصلہ کرنا ناممکن نہیں تھا ،ایک وزیر اعظم اور چار وزرا اعلی بیٹھتے ہیں ،مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس ہوتا ہے،ملک میں اس وقت صرف ایک صوبے میں بلدیاتی حکومتیں موجود تھیں وہ صرف بلوچستان تھا

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صدر مملکت نے انتخابات کی تاریخ نہیں دی تو ہم کیا کریں؟کیا ہم صدر مملکت کو تاریخ نہ دینے پر نوٹس دیں؟عابد زبیری نے کہا کہ صدر مملکت کو استثنی حاصل ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ صدر مملکت کیخلاف ہم کیا کرسکتے ہیں ؟اپنی رٹ بحال کرنے کیلئے حکم جاری کرسکتے ہیں،اگر کوئی آئین کی خلاف ورزی کررہا ہے تو آرٹیکل 6 لگے گا،تاریخ دینے کے حوالے سے قانون میں ترمیم ہوگئی تھی، کیا آپ کہہ رہے ہیں کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم آئین کے آرٹیکل 48 سے متصادم ہے؟الیکشن کی تاریخ کس نے دینی ہے؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ انتخابات میں تاخیر چاہتے ہیں؟انتخابات تو ہونے ہیں ، چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے استفسار کیا کہ صدر مملکت کو ایک وکیل نے خط لکھا ، اسکا کیا جواب ملا؟ درخواست گزار منیر احمد نے کہا کہ صدر مملکت نے کوئی جواب نہیں دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ تو تاخیر کا زمہ دار صدر مملکت کو ٹھہرا رہے ہیں،کیا ہم صدر مملکت کو تاریخ نہ دینے پر نوٹس دیں؟ چاس مقدمے میں درخواست گزار ایسے ہیں جو سنجیدہ نہیں، ایک درخواست گزار ہیں جنہوں نے سماعت کے بعد وکیل تبدیل کیا، اگر ہم مقدمات مقرر نہ کریں تو پھر کہا جاتا ہے کہ مقدمات مقرر نہیں کئے جاتے،میڈیا پر جاکر باتیں کی جاتی ہیں، سپریم کورٹ رولز پروسیجر کیس میں جلدی فیصلہ ہوسکتا تھا لیکن اس کیس کو لمبا کیا گیا، ہم پر دل کھول کرتنقید کریں، لیکن یہاں آکر کیس میں دلائل دیں،لوکل گورنمنٹ انتخابات کیس میں سپریم کورٹ کے کہنے پر مردم شماری کا فیصلہ کیا گیا،ہم تاریخ کو فراموش نہیں کر سکتے،گزشتہ حکومت نے مردم شماری کرانے کے فیصلے کیلئے چار سال لگا دیئے،عابد زبیری نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور پنجاب میں انتخابات کے انعقاد کا حکم بھی اسی عدالت نے دیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی‌ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی فیصلے پر عمدرآمد نہیں ہوا لیکن کیا دو صوبوں میں انتخابات کا کیس زیر سماعت ہے؟آپ وکیل ہیں لے آئیں ناں کوئی توہیں عدالت کی درخواست، کس نے روکا ہے؟ جب میں بلوچستان کا چیف جسٹس تھا صرف بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات ہوئے تھے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار منیر احمد نے بھی جلد سماعت کی درخواست نہیں دی، میڈیا پر انتخابات کیس پر لمبی لمبی بحث ہوتی ہے، ہم کیس لگائیں تو الزام، کیس نہ لگائیں تو بھی ہم پر الزام ، یہ ایسا مقدمہ ہے جو ہر صورت لگنا چاہیے تھا،آج وکلاء کے پاس مقدمے کی فائل ہی نہیں ہے، پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے فیصلے کے بعد ہم نے اہم مقدمات لگانا شروع کر دیئے ، میڈیا پر لمبی لمبی تقریریں اور کمرہ عدالت میں وکیل کے پاس کچھ نہیں ہوتا، اگر ہم نے تاخیر کرنا ہوتی تو فوجی عدالتوں کا نیا بینچ بنا دیتے،میڈیا ہم پر انگلی اٹھائے اگر ہم غلطی پر ہیں، کیس عدالت میں چلانا ہے یا ٹی وی پر چلانا ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اپنا مقدمہ صرف 90 دن میں انتخابات پر رکھیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ 90 دنوں والی بات ممکن نہیں ، وہ بات بتائیں جو ممکن ہو، آپکا سارا مقدمہ ہی صدر مملکت کے اختیارات کا ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اگر تاریخ دینا صدر مملکت کا اختیار ہے تو پھر تاخیر کا زمہ دار کون ہے؟ آئینی کام میں تاخیر کے نتائج ہونگے،وکیل انور منصور نے کہا کہ صدر مملکت کے خط کے بعد تاریخ دینا الیکشن کمیشن کا کام تھا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا صدر مملکت نے آئینی مینڈیٹ کی خلاف ورزی کی؟آپ ایک وقت میں دو مختلف دلائل نہیں دے سکتے، آرٹیکل 48 پر انحصار کریں یا الیکشن ایکٹ کے سیکشن 57 پر؟ صدر کے جس ٹوئیٹ کا حوالہ دیا جارہا ہے اس میں صدر مملکت خود رائے مانگ رہے ہیں، ہم نہیں جانتے کہ وہ ٹوئیٹ بھی صدر کا ہے یا نہیں ،کیا سپریم کورٹ ایک ٹویٹ پر فیصلے دے؟ ٹویٹس میں صدر مملکت نے اپنے آئینی اختیارات کی بات نہیں کی، صدر حکم دے دیتے،انور منصور صاحب آپ ایسے صدر کے اٹارنی جنرل بھی رہ چکے ہیں ،بہت اخلاق والے صدر ہیں آپ فون بھی کرتے توآپکو بتا دیتے،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ وضاحت کریں تاخیر پر نتائج کا سامنا کسے کرنا چاہیے ؟صدر مملکت نے کونسی اور کب تاریخ دی؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صدر بار کے مطابق 3 نومبر کو انتخابات ہونے چاہئےتھے ، صدر مملکت نے 6 ستمبر کی تاریخ دے دی تو خود خلاف ورزی کردی،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ اپنے دلائل آرٹیکل 224 تک محدود رکھیں ،وہ الگ بات ہے کہ تاخیر کا ذمہ دار کون ہے،انور منصور نے کہا کہ ہم ذمہ داروں کے تعین کی بات نہیں کرہے، ہم تو انتخابات چاہتے ہیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 23 اگست کو صدر مملکت نے انتخابات کی تاریخ نہیں دی صرف خط لکھا اور کہا کہ آئیں بات کرتے ہیں۔جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ لگتا ہے انور منصور صاحب آپ نے اپنی درخواست خود نہیں لکھی،آپ انتخابات کے معاملے کو کنفیوژ کرہے ہیں ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے انور منصور سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کی خدمات پروفیشنلی حاصل کی گئی ہیں؟ایک سوال یہ ہے کہ انتخابات کون اعلان کرسکتا ہے۔دوسرا سوال یہ ہے کیا اس وقت نوے دنوں میں الیکشن ہوسکتے ہیں۔ ؟

    عابد زبیری نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا اختیار ہے کہ تاریخ دے، کچھ اختیارات آئین سے مشروط ہیں،90 دنوں میں انتخابات کروانا آئینی مینڈیٹ ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 90 دونوں میں انتخابات کی تاخیر کس نے کی، اس پر آپ انگلی نہیں اٹھاتے؟ آپ کہتے ہیں صدر مملکت نے تاریخ دینی تھی،آپ کہہ رہے ہیں کہ تاریخ دینے کا اختیار صدر مملکت کا ہے،اسکا مطلب ہے آپ الیکشن ایکٹ کی سیکشن 57 کو چیلنج نہیں کررہے،
    اگر صرف انتخابات کی بات کریں تو ہم فیصلہ کرسکتے ہیں،اگر آپ آئینی تشریح کی بات کریں گے تو ہمیں پانچ رکنی بینچ بنانا پڑے گا، دنیا کے سارے مسائل اس درخواست میں نہ لائیں ،صرف انتخابات کی بات ہے تو ہم ابھی نوٹس کردیتے ہیں

    جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ عدالت میں ایسی باتیں نہ کی جائیں جن کو پھر ثابت نہ کیا جاسکے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مسئلہ یہی ہوتا ہے جب کوئی آئینی ادارہ کام نہ کرے اور دوسرے پر ڈال دے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عابد زبیری سے استفسار کیا کہ آپ اتنا بتا دیں کہ انتخابات کی تاریخ دینا کس کا اختیار ہے،عابد زبیری نے کہا کہ ترمیم کے بعد الیکشن کمیشن کے پاس تاریخ دینے کا اختیار ہے،آئین کے مطابق صدر مملکت نے تاریخ دینا ہوتی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ پھر بات کو گھما رہے ہیں صدر کے پاس اختیار تھا تو تاریخ کیوں نہیں دی؟کوئی تو ذمہ دار ہے کیا آپ صدر مملکت کے خلاف کارروائی چاہتے ہیں؟وکیل علی ظفر صاحب آپ کا کیس الیکشن 60 دنوں میں کرانے کا ہے یا 90 دنوں کا ہے ،وکیل علی ظفر نے کہا کہ میرا کیس 90 دنوں میں الیکشن کرانے کا ہے، نوے دنوں میں الیکشن کرانے کے عمل کو کوئی تبدیل نہیں کرسکتا،آئین کا ارٹیکل 48 کہتا ہے کہ اگر صدر مملکت اسمبلی توڑتا ہے تو وہ انتخابات کی تاریخ دے گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ اپنے دلائل میں صدر کو تحفظ دینے کی بات کرتے ہیں، اگر صدر نے تاریخ دینی تھی اور نہیں دی توپھرکیوں ان کا نام نہیں لیتے؟آپ کا کیس یہ ہے کہ صدر تاریخ کا اعلان کرسکتا ہے ، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ یہ بتائیں علی ظفر صدر نے اپنے اختیارات کا استعمال کیوں نہیں کیا؟ صدر نے الیکشن کمیشن کو تاریخ دینے کے لئے بلایا تھا تاریخ نہیں دی تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ آپ کے کیس میں درخواست گزارکون ہے؟ وکیل علی ظفر نے کہاکہ میں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے پیش ہورہا ہوں، میرا موکل پارٹی کا جنرل سیکریٹری عمر ایوب ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ درخواست گزار کس کے پوتے ہیں آپ کو علم ہے ؟ وکیل علی ظفر نے کہا کہ جی ان کے دادا پاکستان کے صدر رہ چکے ہیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا آپ یہ کہنا چاہیں گے کہ درخواست گزارکے دادا نے ملک میں آئین کے استعمال کو روکا،کیا آپ کو اس ملک کی تاریخ کا علم نہیں ؟ علی ظفر نے کہا کہ جی بلکل یہ ملک کی ایک تاریخ ہے ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ دادا کے کاموں کا ذمہ دارپوتا ہوتا ہے، اب ان کا پوتا جمہوریت پسند ہے،پہلے انتخابات کی تاریخ اعلان کرنے کا اختیار صدر کے پاس تھا،ترمیم کے بعد الیکشن کمیشن کے پاس اختیار ہے،پی ٹی ائی کے وکیل علی ظفر کے دلائل مکمل ہو گئے،

    درخواست گزار عبادالرحمان نے دلائل کا آغاز کردیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا آپ کسی سیاسی جماعت کی نمائندگی کررہے ہیں، درخواست گزار نے کہا کہ میں پاکستان کا شہری ہوں کسی سیاسی جماعت کی نمائندگی نہیں کررہا،صدر کے پاس اختیار ہے انتخابات کرانے کا، اس آئین کی ذمہ داری صدر نے پوری نہیں کی ،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو علم ہے کہ اگر کسی نے آئین پر عمل نہیں کیا تو پھر اس کو نتائج بھگتنا چاہئیں،بظاہر لگ رہا ہے کہ آئین کی خلاف ورزی ہوئی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ علی ظفر نے دلائل میں کہا کہ اب نوے دنوں میں الیکشن نہیں ہوسکتے لیکن انہوں نے حل دیا آرٹیکل 224 کا،اب اس کیس میں عدالت کس کو بلائے ، صدر کو پھر الیکشن کمیشن کو؟ علی ظفر نے کہا کہ میں نے کہا تھا کہ وقت دوبارہ نہیں آسکتا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اب آپ دلائل مکمل کریں ہم اس پر نوٹس کرتے ہیں.

    نوے دنوں میں عام انتخابات کیس، سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کردیا۔ عدالت نے حکم میں کہا کہ درخواستوں میں مختلف نوعیت کی استدعائیں کی گئیں، درخواستوں میں صدر اور دیگر کو فریق بنایا گیا،آئین میں صدر کے خلاف حکم کی استثنی حاصل ہے،ہم نے درخواست گزاروں کے وکلا کو تفصیل سے سنا،وکلا نے عدالت کو بتایا کہ عام انتخابات ملک میں نہیں ہوسکے جس کی وجہ ساتویں ڈیجیٹل مردم شماری ہے،عدالت کو بتایا گیا کہ 15 جنوری کو سی سی آئی نے مردم شماری کرنے کا فیصلہ کیا،سی سی آئی کے فیصلے پر ادارہ شماریات نے مردم شماری کی اور پانچ اگست کو اس کے نتائج کو سی سی آئی نے منظور کیا،الیکشن کمیشن کا حلقہ بندیاں کرنے کا نوٹیفیکیشن آرڈر کا حصہ بنادیا گیا،دلائل کے دوران اس بات پر سارے متفق تھے کہ اسمبلی توڑنے سےلے کر آج تک نوے دنوں میں انتخابات ممکن نہیں،علی ظفر نے آرٹیکل 244 کا حوالہ دیا ۔ آرٹیکل 244 کو ارڈر کا حصہ بنا دیا گیا

    90روز میں انتخابات سے متعلق کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت ملتوی کر دی گئی،عدالت نے سماعت دو نومبر تک ملتوی کردی،تاہم عدالت نے کہا کہ تمام وکلا عدالت میں پیش ہوں ویڈیو لنک کی سہولت نہیں ہوگی

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

  • ن لیگ کے اتحادی تھے، آ ئندہ بھی ساتھ مل کر چلیں گے۔ بلوچستان عوامی پارٹی

    ن لیگ کے اتحادی تھے، آ ئندہ بھی ساتھ مل کر چلیں گے۔ بلوچستان عوامی پارٹی

    ترجمان بلوچستان عوامی پارٹی سینیٹر کہدہ بابر کا اپنے ایک بیان میں کہنا ہے کہ ہم ن لیگ کے اتحادی تھے.آنے والے وقت میں بھی ساتھ مل کر چلیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف کی وطن واپسی کا خیرمقدم کرتے ہیں، ان کی واپسی ملک کے لیے خوش آئند ہے. اب ملک سیاسی و معاشی استحکام کی طرف بڑھے گا۔

    دوسری طرف عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما غلام احمد بلور جاتی امرا پہنچے جہاں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر اداروں نے نوازشریف کا ساتھ دیا تو نوازشریف ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرسکیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن وقت پر ہونے چاہییں آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ ن کے ساتھ بات چیت ہوگی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    انگلش ٹیم کے اہم بولر کرکٹ ورلڈکپ سے باہر
    عون چودھری کی نواز شریف کے استقبال کرنے پر وضاحت
    ایوارڈ شوز میں‌ریما ریشم نرگس سے گانوں پر پرفارم کروانا چاہیے یاسر حسین
    ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں ملک میں بہتری ہو اور معیشت بھی بہتر ہو لہذا اسی لیئے میاں صاحب واپس آگئے ہیں اور امید ہے کہ وہ ملک کو بہتری کی طرف لے جائیں گے اور اتحادیوں کے ساتھ مل کر چلیں گے