Baaghi TV

Tag: اومی کرون

  • مساجد میں داخلے کے لیے مکمل ویکسینیشن ضروری ہوگی:این سی او سی کے بڑے فیصلے

    مساجد میں داخلے کے لیے مکمل ویکسینیشن ضروری ہوگی:این سی او سی کے بڑے فیصلے

    اسلام آباد:مساجد میں داخلے کے لیے مکمل ویکسینیشن ضروری ہوگی:این سی او سی کے بڑے فیصلے،اطلاعات کے مطابق این سی او سی اجلاس میں بڑے اہم فیصلے کیئے گئے ہیں جن کے مطابق مساجد میں داخلے کے لیے مکمل ویکسینیشن کی شرط عائد کر دی گئی،

    یہ بھی اطلاعات ہیں کہ عوامی مقامات پر ماسک کے استعمال اور سماجی فاصلوں کو برقرار رکھنا لازمی قرار دیا گیا ہے

    اسلام آباد این سی او سی ہیڈآفس سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہےکہ اس اجلاس میں ملک میں بیماریوں کی موجودہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس دوران ملک بھر سے آمدہ رپورٹ کے مطابق کچھ متفقہ فیصلے کیے گئے جن کے مطابق :

    اس اہم اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ مساجد / عبادت گاہوں میں صرف مکمل ویکسین شدہ افراد کو نماز کی اجازت ہے۔جس نے ویکسینیشن نہیں کروائی ہوگی اس سے مسجد میں داخل ہونے کے حوالے سے معذرت کی جائے گی

    اس اہم اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ ویکسینیشن کے ساتھ ساتھ تمام افراد کےلیے ماسک پہننا لازمی قراردیا گیا ہے

    اس حوالے سے مزید یہ معلوم ہوا ہے کہ قالین وغیرہ کو ہٹایا جائے گا اور صاف فرش پر نمازیں ادا کی جائیں گی ، اس کے ساتھ ساتھ مساجد میں بھی نمازیوں کے درمیان 6 فٹ سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے

    این سی او سی کے اس اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ بوڑھے اور مریض ان دنوں میں مساجد میں داخل نہیں ہوسکیں‌ گے، اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ کورونا اور دیگر بیماریوں سےمحفوظ رہنے کےلیے بار بار ہاتھ کی صفائی ضروری ہے

    اس اجلاس میں یہ بھی طئے کیا گیا ہےکہ کوشش کی جائے کہ مساجد میں رش کم سے کم رکھا جائے تاکہ کورونا اور دیگر ملتے جلتے وائرسز سے محفوظ رہا جاسکے

    اسلام آباد میں ہونے والے اس اجلاس میں یہ بھی بات طئے ہوئی کہ نمازی حضرات کوشش کریں کہ وہ اپنے اپنے گھروں سے وضوکرکے آیا کریں‌، اس کے ساتھ ساتھ وینٹیلیشن کے لیے دروازے/کھڑکیاں کھولنا؛ ترجیحاً کھلے میں نماز کا اہتمام کرنا بھی ضروری قراردیا گیا ہے

    این سی او سی کے اس اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہےکہ نمازجمعہ کےلیے کم سے کم وقت رکھا جائے تاکہ کورونا کے پھیلاوسے محفوظ رہ سکیں‌

  • کراچی:نیشنل اسٹیڈیم کا 10 فیصد عملہ کورونا کا شکار

    کراچی:نیشنل اسٹیڈیم کا 10 فیصد عملہ کورونا کا شکار

    کراچی :نیشنل اسٹیڈیم ،کراچی کا 10فیصد عملہ کورونا وائرس کا شکار ہوگیا ہے۔ ترجمان پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ ملازمین کے ٹیسٹ 2 روز قبل لیے گئے تھے۔ پی سی بی کے ترجمان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کورونا مثبت آنے والے عملے کو آئسولیٹ کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) اور گراؤنڈ کے کام جاری رہیں گے۔

    خیال رہے کہ پی ایس ایل کے سربراہ عثمان و اہلیہ اور سینئر افسر عون زیدی کا بھی کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد دونوں 10 روزہ آئسولیشن میں ہیں۔ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے 5 غیر ملکی پاکستان آنے سے قبل کورونا کا شکار تھے اب کپتان سرفراز احمد کی والدہ اور اہلیہ بھی کورونا سے متاثر ہیں۔

    ادھر ملک میں کورونا کے پھیلاؤ نے پھر خطرے کی گھنٹی بجا دی، چوبیس گھنٹے کے دوران مثبت کیسز کی شرح گیارہ اعشاریہ پانچ پانچ فیصد ریکارڈ کی گئی۔ کورونا وائرس سے 5 افراد جاں بحق ہوگئے، جس کے بعد اموات کی تعداد 29 ہزار 42 ہوگئی۔ پاکستان میں کورونا کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 13 لاکھ 45 ہزار 801 ہوگئی۔

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 6 ہزار 808 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، پنجاب میں 4 لاکھ 56 ہزار 992، سندھ میں 5 لاکھ 13 ہزار 46، خیبرپختونخوا میں ایک لاکھ 82 ہزار 950، بلوچستان میں 33 ہزار 780، گلگت بلتستان میں 10 ہزار 461، اسلام آباد میں ایک لاکھ 13 ہزار 688 جبکہ آزاد کشمیر میں 34 ہزار 884 کیسز رپورٹ ہوئے۔

    ملک بھر میں اب تک 2 کروڑ 43 لاکھ 56 ہزار 373 افراد کے ٹیسٹ کئے گئے، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 58 ہزار 943 نئے ٹیسٹ کئے گئے، اب تک 12 لاکھ 65 ہزار 665 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں جبکہ 918 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔

    پاکستان میں کورونا سے ایک دن میں 5 افراد جاں بحق ہوئے، جس کے بعد وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 29 ہزار 42 ہوگئی۔ پنجاب میں 13 ہزار 93، سندھ میں 7 ہزار 710، خیبرپختونخوا میں 5 ہزار 967، اسلام آباد میں 969، بلوچستان میں 367، گلگت بلتستان میں 187 اور آزاد کشمیر میں 749 مریض جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

  • دہلی میں کرفیوکے نفاذ کا اعلان:بھارتی مسلمان پریشان

    دہلی میں کرفیوکے نفاذ کا اعلان:بھارتی مسلمان پریشان

    دہلی :دہلی میں کرفیوکے نفاذ کا اعلان:بھارت پریشان،اطلاعات کے مطابق دہلی کے جامعہ نگر کے مسلم اکثریتی علاقہ شاہین باغ میں کئی افراد پانی فروخت کرکے اپنا گزر بسر کرتے ہیں۔ لیکن ویک اینڈ کرفیو اور پھر ٹھنڈ کی وجہ سے پانی کا استعمال کم ہورہا ہے گرمی میں جس گھر میں دو سے تین کین پانی جاتا تھا آج وہاں صرف ایک کین پر ہی لوگ اکتفا کررہے ہیں۔

    عالمی وبا کورونا وائرس کی وجہ سے بندشیں اور پھر قہر ڈھانے والی ٹھنڈ سے ہر طبقہ پریشان ہے۔ اس کا سب سے زیادہ اثر یومیہ مزدوری کرنے والوں پر پڑا ہے جو روزانہ محنت مزدوری کرکے اپنا گزربسر کرتے ہیں اور اپنے گھر والو ں کو کچھ بچاکر بھیجتے ہیں۔

    ویک اینڈ کرفیوجامعہ نگر کے مسلم اکثریتی علاقہ شاہین باغ میں کئی لوگ پانی فروخت کرکے اپنا گزر بسر کرتے ہیں لیکن ویک اینڈ کرفیو اور پھر ٹھنڈ کی وجہ سے پانی کا استعمال کم ہورہا ہے۔ گرمی میں جس گھر میں دو سے تین کین پانی جاتا تھا آج وہاں صرف ایک کین پر ہی لوگ اکتفا کررہے ہیں۔

    شاہین باغ کے ایک مسلمان شہری کا کہنا ہے کہ کمائی نہیں ہوپارہی ہے، مجبوراً مسجد کے پاس کھڑا ہوجاتا ہوں شاید کوئی پانی لے لے۔ کیوں کہ کورونا کی وجہ سے دہلی میں ویک اینڈ کرفیو لگادیا گیا ہے ساتھ ہی ٹھنڈ کا قہر جاری ہے۔ اس لئے پانی نہ کے برابر فروخت ہورہا ہے۔ انہو ں نے کہا کہ ہماری مجبوری کوئی سننے والا نہیں ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ایک دن میں 30 سے 40 کین پانی فروخت ہوپاتاہے۔ لیکن گرمی کے موسم میں 70 سے 80 کین فروخت ہوتے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ بڑی مشکل سے دن میں 300 سے 350 روپے مزدوری ہوپاتی ہے۔ مہنگائی اتنی زیادہ ہے کہ اس میں کرایہ اور کھانا کے علاوہ پیسہ نہیں بچ پاتا ہے۔

  • بھارت میں کورونا،ڈیلٹا کےبعد اومی کرون نے تباہی پھیلادی: بین الاقوامی تجارتی پروازوں پر پابندی

    بھارت میں کورونا،ڈیلٹا کےبعد اومی کرون نے تباہی پھیلادی: بین الاقوامی تجارتی پروازوں پر پابندی

    نئی دہلی: بھارت میں کورونا،ڈیلٹا کےبعد اومی کرون نے تباہی پھیلادی: بین الاقوامی تجارتی پروازوں پر پابندی ،اطلاعات کے مطابق بھارت میں کورونا وائرس کی نئی شکل اومیکرون کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہےج،اطلاعات ہیں‌ کہ بھارت میں پھر سے ایک بار تباہی اپنے پنجے گاڑھ رہی ہے ،ادھراس کی وجہ سے بھارت نے بین الاقوامی تجارتی پروازوں پر پابندی میں توسیع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (DGCA) نے تجارتی بین الاقوامی مسافر پروازوں پر پابندی کو 28 فروری تک بڑھا دیا۔ ڈی جی سی اے کے ذریعہ جاری کردہ ایک سرکلر میں کہا گیا ہے کہ اتھارٹی نے 28 فروری 2022 تک بین الاقوامی کمرشیل پروازوں کی معطلی کو بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    اس میں مزید لکھا گیا ہے کہ یہ پابندی انٹرنیشنل آل کارگو آپریشنز اور خاص طور پر ڈی جی سی اے کی طرف سے منظور شدہ پروازوں پر نافذ نہیں ہوگی۔ اس کے علاوہ فضائی ببل کے انتظام کے تحت جاری پروازوں پر بھی اس پابندی کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔تمام متعلقہ حکام سے کہا گیا ہے کہ وہ سرکلر پر سختی سے تعمیل کو یقینی بنائیں۔

    واضح رہے کہ کورونا وائرس وبائی امراض کی وجہ سے، 23 مارچ 2020 سے بھارت میں بین الاقوامی مسافر پروازیں معطل ہیں۔ اس سے قبل، 9 دسمبر کو، ڈی جی سی اے نے پابندی کو 31 جنوری تک بڑھا دیا تھا۔

  • بھارت پھرتباہی کے دہانے پر پہنچ گیا:ایک دن میں کورونا وائرس کے تین لاکھ کیسز:مودی حکومت بے بس ہوگئی

    بھارت پھرتباہی کے دہانے پر پہنچ گیا:ایک دن میں کورونا وائرس کے تین لاکھ کیسز:مودی حکومت بے بس ہوگئی

    نئی دہلی: بھارت پھرتباہی کے دہانے پر پہنچ گیا:ایک دن میں کورونا وائرس کے تین لاکھ کیسز:مودی حکومت بے بس ہوگئی ،اطلاعات کے مطابق مسلسل چار دنوں سے کووڈ19 کی تیسری لہر سے گزر رہے ملک میں کورونا وائرس کے دو لاکھ سے زیادہ نئے کیسز سامنے آئے ہیں، جس سے ایکٹیو کیسز کی تعداد 15 لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے

    اسی دوران ملک میں ہفتہ کے روز 66 لاکھ 21 ہزار 395 افراد کو کووڈ ویکسین لگائی ی ،اتوار کی صبح 7 بجے تک موصول ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق اب تک ایک ارب 56 کروڑ 76 لاکھ 15 ہزار 454 افراد کو کووڈ ویکسین دی جا چکی ہے

    اتوار کی صبح مرکزی وزارت صحت کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 16 لاکھ 65 ہزار 404 کووڈ ٹسٹ کیے گئے جن میں دو لاکھ 71 ہزار 202 افراد کی رپورٹ مثبت آئی ہے جس سے متاثرین کی مجموعی تعداد بڑھ کر تین کروڑ 71 لاکھ 22 ہزار 164 ہو گئی ہے۔

    اس سے قبل جمعرات کو دو لاکھ 47 ہزار 417، جمعہ کو دو لاکھ 64 ہزار 202 اور ہفتہ کو دو لاکھ 68 ہزار 833 کیسز درج کیے گئے تھے۔

    اس کے ساتھ ہی ایکٹیو کیسز کی تعداد بڑھ کر 15 لاکھ 50 ہزار 377 ہو گئی ہے۔ اسی عرصے میں مزید 314 مریضوں کی موت کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 4,86,066 ہو گئی ہے۔

    دنیا بھر میں کرونا سے متاثرین کی تعداد326,885,054ہو چکی ہے اور اس سے اموات کی تعداد 55 لاکھ چون ہزار سے تجاوز کرچکی ہے

    دنیا بھر میں پھیلی وبا کورونا کے دو نئے علاج کی منظوری دے دی گئی ہے۔برٹش میڈیکل جرنل کے ماہرین کہتے ہیں جوڑوں کے درد کی دوا باریسیٹی نیب (baricitinib) کورٹیکو اسٹیرائیڈز (corticosteroids) کے ساتھ کورونا سے شدید متاثر مریضوں کے علاج کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے جس سے زندہ رہنے کے امکانات میں اضافہ اور وینٹی لیٹر کی ضرورت کم ہوتی ہے۔

    ماہرین نے کم مدافعت رکھنے والےافراد کے لیے مصنوعی اینٹی باڈی ٹریٹمنٹ سوٹرو ویمیب (Sotrovimab) کی بھی سفارش کی ہے۔

    تاہم ڈبلیو ایچ او کے حکام کا کہنا ہے کہ اومی کرون کے خلاف اس علاج کی تاثیر ابھی تک غیر یقینی ہے

  • اسرائیل میں اومی کرون کی نئی قسم سامنے آگئی:یہودیوں پرخوف کے سائے منڈلانے لگے

    اسرائیل میں اومی کرون کی نئی قسم سامنے آگئی:یہودیوں پرخوف کے سائے منڈلانے لگے

    تل ابیب :اسرائیل میں اومی کرون کی نئی قسم سامنے آگئی:یہودیوں پرخوف کے سائے منڈلانے لگے ،اطلاعات کے مطابق رپورٹ کے مطابق اسرائیل میں کووڈ 19 کے ویرئنٹ اومی کرون کی جدید شکل کے 20 مریض پائے گئے ہیں۔ اس نئے ویرئنٹ کو ” بی اے ٹو” کا نام دیا گیا ہے۔

    ریسرچرزکا کہنا ہے کہ کووڈ 19” بی اے ٹو” وائرس میں اورجنل اومیکرون کی نسبت زیادہ میوٹیشنز پائی گئی ہیں اور یہ ممکنہ طور پر زیادہ مہلک ہوسکتا ہے۔ تاہم اسرائیل کی وزارت صحت کاکہنا ہے کہ ابھی اس کا کوئی ثبوت نہیں کہ ” بی اے ٹو” ویرئنٹ کورونا وائرس کی مہلک شکل ہے۔

    جے پوسٹ کے مطابق ” بی اے ٹو” کا سب سے پہلے چین میں انکشاف ہوا تھا جہاں یہ ممکنہ طور پر بھارت سے آیا تھا۔ یاد رہے گذشتہ دس دنوں سے اسرائیل میں روزانہ 12 ہزار سے 48 ہزار کوروناکے مریض سامنے آرہے ہیں جبکہ خطرناک حالت کے مریضوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہورہاہے۔

    اسرائیلی محکمہ صحت کے حکام کا کہناہے کہ کورونا کی پہلی، دوسری اور تیسری لہروں کے مقابلے میں موجودہ لہر سے متاثرہ مریضوں کی حالت بہتر ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے اسرائیل میں کرونا وائرس نے ایک اور شکل اختیار کر لی ہے جو کووِڈ نائٹین اور عام فلو کے وائرس کے امتزاج سے چند دن قبل سامنے آئی تھی

    تفصیلات کے مطابق ایک ایسے وقت میں جب دنیا کرونا کی مختلف اقسام ڈیلٹا اور اومیکرون سے نبرد آزما ہے، اسرائیل میں کرونا وائرس اور فلو انفیکشن کے پہلے مشترکہ ‘فلورونا’ کیس کی تصدیق ہوئی ۔

    ڈیلٹا اور اومیکرون کے امتزاج کو ‘ڈیلمیکرون’ کہا جاتا ہے، اس کے کیسز بھی اسرائیل میں سامنے آئے، جب کہ اسرائیل میں سامنے آنے والے کرونا وائرس اور فلو انفیکشن کے امتزاج کو ‘فلورونا’ کا نام دیا گیا ہے۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق پہلا ‘فلورونا’ وائرس ایک خاتون میں پایا گیا، جس نے حال ہی میں وسطی اسرائیل کے شہر پیتاہ تکوا کے ایک اسپتال میں بچے کو جنم دیا تھا۔

    نوجوان خاتون کو ویکسین نہیں لگائی گئی تھی اور اسپتال کی رپورٹس میں فلو اور کرونا وائرس دونوں پیتھوجینز کی مشترکہ موجودگی کا پتا چلا تھا۔خاتون میں بیماری کی نسبتاً ہلکی علامات ہیں اور اسے جلد ہی ڈسچارج کر دیا جائے گا۔

  • بھار ت میں کورونا وائرس سے دوسری لہر جیسی تباہی اوربڑے پیمانےپراموات کا خدشہ:اقوام متحدہ

    بھار ت میں کورونا وائرس سے دوسری لہر جیسی تباہی اوربڑے پیمانےپراموات کا خدشہ:اقوام متحدہ

    نئی دلی:بھارت میں کورونا وائرس سے دوسری لہرجیسی تباہی اوربڑے پیمانےپراموات کاخدشہ،اطلاعات کےمطابق اقوام متحدہ نے بھارت کیلئے کورونا وائرس کے حوالے سے وارننگ جاری کرتے ہوئے کہاہے کہ بھارت میں کورونا وائرس کی مہلک قسم اومی کرون تیزی سے پھیلنے کی وجہ سے وبا کی دوسری لہر جیسی تباہی اور بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا خدشہ ہے ۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق اقوام متحدہ کی عالمی اقتصادی صورتحال اور امکانات کے بارے میں ڈبلیو ای ایس پی2022 رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ بھار ت میں کورونا کی دوسری لہر یعنی ڈیلٹا ویرینٹ کی وجہ سے اپریل سے جون کے درمیان دو لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے اور معیشت کی بحالی شدید متاثر ہوئی تھی۔

    رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ بھارت میںاومی کرون تیزی سے پھیلنے کی وجہ سے آنے والے وقت میں جلد ہی پھر سے ویسی ہی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھار ت میںگزشتہ سال اپریل سے جون تک مہلک ڈیلٹا ویرینٹ کی لہر کے دوران 2لاکھ 40ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

    رپورٹ کے مطابق بھارت کو اومیکرون کے کیسز کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے کورونا کی تیسری لہر کا سامنا ہے۔بھارت میں کورونا کی دوسری لہر نے بڑے پیمانے پرتباہی مچائی تھی اور انفیکشن اور اموات میں تیزی سے اضافہ ہوا تھا۔ اس کی وجہ سے ملک کا نظام صحت بھی درہم برہم ہو گیا تھا۔

    رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ اومیکرون ویرینٹ کی وجہ سے انفیکشن کی نئی لہریں پیدا ہو رہی ہیں اور معیشتوں پر اس کے اثرات میں اضافہ ہونا طے ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر کورونا وائرس کے پھیلا ئوکو روکنے کیلئے لوگوں کی ویکسین تک رسائی سمیت عالمی نقطہ نظر نہ اپنایا گیا تو یہ وبا پوری دنیا کی معیشت کیلئے خطرہ بن سکتی ہے اور جنوبی ایشیا کو بڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

  • کورونا شاید اب کورونا نہ رہے:یورپین ممالک میں‌ ایک بحث:ماسک کی پابندی ختم

    کورونا شاید اب کورونا نہ رہے:یورپین ممالک میں‌ ایک بحث:ماسک کی پابندی ختم

    لندن:کورونا شاید اب کورونا نہ رہے:یورپین ممالک میں‌ ایک بحث:ماسک کی پابندی ختم،اطلاعات کےمطابق اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے اس سیزن کے وائرل فلو کی طرح COVID-19 کو ایک عام بیماری قرار دیتےہوئے اس کے حوالے سے یورپین برادری کی ایک متفقہ رائے لینے کے لیے رابطے شروع کردیئے ہیں‌

    "صورتحال وہ نہیں ہے جس کا ہم نے ایک سال پہلے سامنا کیا تھا،” سانچیز نے اسپین کے کیڈینا ایس ای آر کے ساتھ ایک ریڈیو میٹنگ میں کہا۔ "میرے خیال میں ہمیں اب تک جس وبائی بیماری کا سامنا کرنا پڑا ہے اس سے ہمیں COVID کے ارتقاء کا ایک مقامی بیماری کی طرف جائزہ لینا ہوگا۔”

    ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اقدامات اٹھانے سے اس بات کو سمجھنے میں مدد ملے گی کہ کورونا اب وبائی مرض نہیں بلکہ موسمیاتی اور عارضی بیماری کے طور پردیکھا جائے گا، جیسا کہ یہ اس وقت موسمی انفلوئنزا کا سراغ لگاتا ہے،

    اسپین کی طرف سے دباؤ اسی طرح یوروپی ممالک کی طرف سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے جو اس بیماری میں بُری طرح مبتلاہیں‌ ، جیسا کہ جرمنی جو ایک شدید حفاظتی ٹیکوں کا آرڈر پیش کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے ، اور فرانس ، جہاں صدر ایمانوئل میکرون نے کہا کہ انہیں غیر ویکسین شدہ افراد کو "پریشان” کرنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ وہ ویکسین لگوا کر دوسروں کے لیے مسائل پیدا کرنے سے دور رہیں‌

    اسپین کی اس تنظیم کی طرف سے کیے گئے اقدامات اس فریم ورک اس کی عکاسی کرتا ہے جو ملک میں انفلوئنزا کے بھڑک اٹھنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ یہ بیماری کی لہروں کا اندازہ لگانے اور ان پر رد عمل ظاہر کرنے کے لیے منتخب ماہرین سے ٹیسٹ کی معلومات کا استعمال کرتا ہے

    اسپینی حکام کا کہنا ہے کہ اس کو فلو کی حیثیت سے ڈیل کیا جائے گا اور ملک میں جو سخت پابندیاں ہیں ان کو ختم کردیا جائے گا تاکہ عوام الناس آزادانہ چل پھر سکیں اور اس سلسلے میں ماسک کی پابندی کو بالکل ختم کردیا جائے گا لیکن اس کےلیے پہلے یورپین ممالک کے ساتھ مشاورت ضروری ہے

  • اومی کرون: عالمی ترقی میں سست روی، غریب ممالک میں معاشی ابتری ،ورلڈ بینک کی تہلکہ خیز رپورٹ

    اومی کرون: عالمی ترقی میں سست روی، غریب ممالک میں معاشی ابتری ،ورلڈ بینک کی تہلکہ خیز رپورٹ

    عالمی بینک نے امریکا، یورو کے خطے اور چین میں اقتصادی ترقی میں سست روی کی پیشین گوئی کی ہے-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق ورلڈ بینک نے منگل کے روز خبردار کیا ہے کہ قرضوں کی بلند سطح، آمدن اور اخراجات میں بڑھتی ہوئی عدم مساوات اورکرونا وائرس کی نئی اقسام سے ترقی پذیرمعیشتوں کی بحالی کو خطرہ لاحق ہےعالمی بینک نے اپنی ایک نئی رپورٹ میں کہا ہے کہ 2022 میں عالمی معیشت کی شرح نمو گذشتہ سال کے 5.5 فی صد سے واضح طور پرکم ہوکر 4.1 فی صد تک پہنچنے کی توقع ہے اور 2023 میں مزید کم ہو کر 3.2 فی صد رہ جائے گی کیونکہ تب حکومتیں وبا کے آغاز میں مہیا کی جانے والی بڑے پیمانے پرمالی امداد کو ختم کرچکی ہوں گی۔

    "العربیہ ڈاٹ نیٹ” کے مطابق عالمی بینک نے اقتصادی منظرنامے کی یہ پیشین گوئی 2021ء اور 2022ءکے لیے کی ہے یہ کسی بڑے بین الاقوامی ادارے کی طرف سے کرونا وائرس کی وبا کے دوران میں پہلی پیشین گوئی تھی جس میں 2020ء میں معیشتوں میں سکڑاؤ کے بعد2021 میں ترقی یافتہ اور ترقی پذیر معیشتوں میں اقتصادی سرگرمیوں میں بڑی تیزی کا حوالہ دیا گیا تھا لیکن خبردارکیا گیا تھا کہ طویل عرصے تک افراطِ زر،سپلائی چین اورافرادی قوت کے مسائل اور کرونا وائرس کی نئی اقسام کی وجہ سے دنیا بھر میں ترقی میں کمی کا امکان ہے۔

    وژن2030: سعودی عرب نے غیر ملکی ملازمین کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی

    ورلڈ بینک کے صدر ڈیوڈ مالپاس نے غربت، غذائیت اور صحت کے اعدادوشمارمیں پریشان کن الٹ پھیر اور اسکولوں کی بندش سے مستقل اثرات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ترقی پذیر ممالک کو ویکسی نیشن کی کم شرح، عالمی میکروپالیسیوں اور قرضوں کے بوجھ سے متعلق شدید طویل مدتی مسائل کا سامنا ہے۔انھوں نے کہا کہ کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں 10 سال کی عمر تک کے سترفی صد بچے بنیادی کہانی نہیں پڑھ سکتے یہ شرح پہلے 53 فی صد تھی۔

    رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہےکہ ترقی یافتہ معیشتوں میں شرح نمو 2022 میں کم ہوکر 3.8 فی صد رہ جائے گی یہ 2021 میں 5 فی صد تھی اور2023 میں یہ شرح مزید کم ہو کر 2.3 فی صد ہو جائے گی تاہم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان کی پیداوار اور سرمایہ کاری اب بھی 2023 تک اپنے وبا سے پہلے کے رجحان میں واپس آ جائے گی۔

    اسرائیل میں ایرانی بھرتی کی کوشش دہشت گردی، عوام ہوشیاررہیں، بینیٹ

    ورلڈ بینک نے 2021 میں امریکا کی مجموعی ملکی پیداوار کی نمو میں 1.2 فی صد پوائنٹس کی کمی کرکے 5.6 فی صد کردی ہے اور2022 میں 3.7 فی صد اور 2023 میں 2.6 فی صد کی تیزی سے کم نمو کی پیشین گوئی کی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ جاپان کی جی ڈی پی میں نمو 2021 میں 1.7 فی صد تک پہنچ گئی تھی۔ یہ جون میں پیشین گوئی سے 1.2 فی صد پوائنٹس کم ہے جو 2022 میں بڑھ کر 2.9 فی صد ہو جائے گی۔

    توقع کی جارہی تھی کہ 2021 میں چین کی جی ڈی پی کی شرح میں 8 فی صد اضافہ ہوگا جو پہلے کی پیشین گوئی سے قریباً 0.5 فی صد پوائنٹ کم ہے، 2022 میں شرح نمو کم ہوکر 5.1 فی صد اور 2023 میں 5.2 فی صد رہے گی۔

    چین کو سبق سکھا دیا ہے،اب شاید وہ دوبارہ غلطی نہ کرے:بھارتی آرمی چیف

    جبکہ ابھرتی ہوئی اور ترقی پذیرمعیشتوں میں ترقی کی شرح 2022 میں کم ہوکر 4.6 فی صد رہ جائے گی یہ 2021 میں 6.3 فی صد تھی جو 2023 میں کم ہو کر 4.4 فی صد رہ جائےگی اس کا مطلب ہےکہ ان کی پیداوار وبا سےپہلےکے رجحان سے 4 فی صد کم رہے گی نازک اور تنازعات سےمتاثرہ معیشتیں وباسےپہلے کے رجحان سے 7.5 فی صد کم رہیں گی جبکہ سیاحت کے خاتمے سے لرزتی چھوٹے چھوٹے جزیرے پر مشتمل ریاستوں میں شرح نمو 8.5 فی صد کم رہےگی۔

    عالمی بنک کے مطابق افراطِ زرکی بڑھتی ہوئی شرح کم آمدنی والے کارکنوں کو خاص طور پر سخت نقصان پہنچاتی ہے یہ شرح ترقی یافتہ معیشتوں میں 2008 کے بعد سب سے زیادہ ہے اور ابھرتی ہوئی اور ترقی پذیر معیشتوں میں2011 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔

    بھارت:جنسی زیادتی کے واقعات ہر10 منٹ بعد رپورٹ ہونے لگے:تازہ واقعہ نے حقیقت کھول…

    "روئٹرز” کو عالمی بنک کی رپورٹ کے مصنف ایہان کوسے نے بتایا کہ کرونا وائرس کے انتہائی متعدی اومی کرون متغیّر کے تیزی سے پھیلنے سے ترقی کے عمل میں مسلسل رکاوٹ کا پتا چلتا ہے اورکہا گیا ہے کہ صحت کی دیکھ بھال کے نظام کو مغلوب کرنے والا اضافہ عالمی پیشین گوئی سے مزید 0.7 فی صد پوائنٹ تک دستک دے سکتا ہے۔

    کوسے نے کہا کہ شرح سود میں اضافے سے مزید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں اور اس سے ترقی کی پیشین گوئیوں کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے، خاص طور پر اگر امریکا اور دیگر بڑی معیشتیں اس موسم بہار میں شرح سود میں اضافہ کرنا شروع کردیتی ہیں تو اس سے نقصان ہوگا اس وبا نے مجموعی عالمی قرضوں کو نصف صدی کی بلند ترین سطح پرپہنچادیا ہے۔قرضوں کی پریشانی کا سامنا کرنے والے ممالک کے لیے قرضوں کی تنظیم نو کی کوششوں میں تیزی لانے اور نجی شعبے کے قرض دہندگان کو مشغول کرنے کے لیے ٹھوس کوششوں کی ضرورت ہے۔

    چین میں تعینات افغان سفیر نے کئی ماہ سے تنخواہ نہ ملنے پر استعفیٰ دے دیا

  • بیرون ملک سے آنے والوں کیلئے سنٹرل قرنطینہ پالیسی منسوخ:توپھرہوگا کیا؟اس کے متعلق بھی تفصیلات آگئیں

    بیرون ملک سے آنے والوں کیلئے سنٹرل قرنطینہ پالیسی منسوخ:توپھرہوگا کیا؟اس کے متعلق بھی تفصیلات آگئیں

    اسلام آباد:بیرون ملک سے آنے والوں کیلئے سنٹرل قرنطینہ پالیسی منسوخ:توپھرہوگا کیا؟اس کے متعلق بھی تفصیلات آگئیں ،اطلاعات کے مطابق بیرون ملک سے آنے والوں کیلئے سنٹرل قرنطینہ پالیسی منسوخ کردی گئی ہے۔

    بیرون ملک سے پاکستان پہنچنے والے کرونا پازیٹو افراد کیلئے نئی ہدایات تیار کرلی گئی ہیں جس کے مطابق چاروں صوبوں، پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کو کہا گیا ہے کہ بیرون ملک سے پہنچنے والے کورونا پازیٹو مسافر گھر پر قرنطینہ کریں گے ۔

    ہدایات کے مطابق بیرون ملک سے آئے کورونا پازیٹو مسافر گھر پر 10 روز قرنطینہ کریں گے جبکہ سرکاری قرنطینہ سنٹرز میں موجود مسافروں کو گھر منتقل کیا جائے گا ۔

    اُدھر پاکستان میں بڑھتے ہوئے کورونا کیسز کے پیش نظر وفاقی وزارت تعلیم نے صوبائی وزرائے تعلیم کا اجلاس طلب کرلیا ہے۔ اجلاس میں سکولوں کی بندش کا جائزہ لیا جائے گا۔

    وفاقی وزارت تعلیم کے نوٹی فیکیشن کے مطابق صوبائی وزرائے تعلیم کے ساتھ کانفرنس 11 بجے ہوگی، جس میں کورونا وائرس کے پیش نظر سکولوں کی ممکنہ بندش سے متعلق صورت حال کا جائزہ لیا جائے گا۔

    اجلاس میں وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کو مختلف امور پر بریفنگ دی جائے گی۔ اس کے علاوہ تعلیمی اداروں میں حفاظتی اقدامات کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔

    خیال رہے کہ ایک ہفتہ قبل وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا تھا کہ کورونا وائرس کا اومی کرون ویریئنٹ پاکستان میں تیزی سے پھیلنا شروع ہو گیا ہے، مثبت کیسز کی شرح 1.8 فیصد ہو گئی ہے۔ اومی کرون کے حوالے سے اس غلط فہمی میں نہ رہیں کہ یہ زیادہ مہلک نہیں ہے۔

    انہوں نے پاکستانی عوام پر زور دیا تھا کہ اگر کسی وجہ سے ویکسین نہیں لگوائی تو فوری طور پر لگوائیں۔ پاکستان میں بھی شواہد ملے ہیں کہ 12، 14 اور 15 سال کے بچوں میں بھی اومی کرون پایا گیا ہے۔

    دوسری جانب ملک میں کورونا تیزی سے بڑھنے لگا، مہلک وائرس کی شرح پانچ ماہ بعد 4.7 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ کورونا وائرس سے 13 افراد جاں بحق ہوگئے، جس کے بعد اموات کی تعداد 28 ہزار 987 ہوگئی۔ پاکستان میں کورونا کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 13 لاکھ 9 ہزار 248 ہوگئی۔

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دو ہزار 74 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، پنجاب میں 4 لاکھ 48 ہزار 924، سندھ میں 4 لاکھ 90 ہزار 10، خیبر پختونخوا میں ایک لاکھ 81 ہزار 842، بلوچستان میں 33 ہزار 664، گلگت بلتستان میں 10 ہزار 433، اسلام آباد میں ایک لاکھ 9 ہزار 660 جبکہ آزاد کشمیر میں 34 ہزار 715 کیسز رپورٹ ہوئے۔

    ملک بھر میں اب تک 2 کروڑ 39 لاکھ 35 ہزار 232 افراد کے ٹیسٹ کئے گئے، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 44 ہزار 120 نئے ٹیسٹ کئے گئے، اب تک 12 لاکھ 59 ہزار 699 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں جبکہ 628 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔

    پاکستان میں کورونا سے ایک دن میں 13 افراد جاں بحق ہوئے، جس کے بعد وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 28 ہزار 974 ہوگئی۔ پنجاب میں 13 ہزار 83، سندھ میں 7 ہزار 691، خیبرپختونخوا میں 5 ہزار 945، اسلام آباد میں 967، بلوچستان میں 367، گلگت بلتستان میں 186 اور آزاد کشمیر میں 748 مریض جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔