Baaghi TV

Tag: اومی کرون

  • امریکہ میں اومی کرون سے پہلی موت

    امریکہ میں اومی کرون سے پہلی موت

    کرونا وائرس کی نئی قسم اومی کرون سے امریکا میں پہلی موت ریکارڈ ہوئی ہے۔

    باغی ٹی وی :امریکی میڈیا کے مطابق ریاست ٹیکساس میں زیر علاج اومی کرون کا مریض دم توڑ گیا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مرنے والا شہری 50 سال کا تھا اورویکسین شدہ نہیں تھا۔

    بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے مراکز کے اعداد و شمار نے صرف ایک ہفتے میں اومی کرون انفیکشن میں چھ گنا اضافہ ریکارڈ کیا ہے جبکہ نیویارک میں یہ 90 فیصد پھیل چکا ہے۔

    سربراہ ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ اومی کرون ڈیلٹا ویرینٹ تیزی سے پھیل رہا ہے، اور اس قسم سے ویکسین شدہ افراد بھی متاثر ہورہے ہیں عالمی ادارہ صحت کی جانب سے کمزور مدافعتی نظام کے لوگوں کو بوسٹر ڈوزلگانے پر زور دیا گیا ہے، ورنہ اس نتیجے پر پہنچا مشکل ہوگا کہ ویکسین کام نہیں کررہی

    افریقہ میں سائنسدانوں نے پہلی بار اومی کرون کے بارے میں ایک ماہ سے بھی کم وقت یعنی 26 نومبر کو خطرے کی گھنٹی بجائی تھی، جسے عالمی ادارہ صحت نے تشویشناک قرار دیا تھا۔ اس کے بعد سے اب تک یہ 90 ممالک میں پھیل چکا ہے۔

    اومی کرون: امریکہ اور کینیڈا ،اسرائیل کی ریڈ لسٹ میں شامل

    واضح رہے کہ جنوبی افریقا میں پہلی بار سامنے آنے والے کورونا کی نئی شکل اومی کرون ویرینٹ دنیا بھر میں تیزی سے پھیل رہی ہے اور عالمی ادارہ صحت نے بھی خبردار کیا ہے کہ یہ نئی شکل ڈیلٹا سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔

    جنوبی افریقا سے سامنے آنے والا کورونا کا انتہائی خطرناک ویرینٹ ’اومی کرون‘ امریکا، برطانیہ، بھارت اور جاپان سمیت بہت سے مغربی ممالک میں بھی سامنے آ چکا ہے جنوبی افریقا اور اس کے آس پاس موجود ممالک پر دنیا کے تقریباً تمام ممالک نے سفری پابندیاں عائد کردی ہیں تاکہ وائرس ان کے ملک میں نہ پہنچ جائے۔ عالمی ادارہ صحت نے عالمی سطح پر اومی کرون ویرینٹ کےممکنہ مزید پھیلاؤ کا امکان ظاہر کیا تھا اور کہا تھا کہ اومی کرون ویرینٹ کےسبب مستقبل میں کورونا کیسز میں اضافہ ہوسکتاہے جس کےسنگین نتائج ہوسکتےہیں۔

    اومیکرون، برطانیہ سے پاکستان آنیوالوں کی سخت چیکنگ ہوگی

    برطانیہ میں اومی کرون کے کیسز میں تین گنا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، دنیا کے کئی ممالک میں وائرس کی اس نئی قسم نے خوف پیدا کر دیا ہے. بھارت کے طبی ماہرین بھی پریشان ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال برطانیہ جیسی ہو گی تو بھارت کے حالات بہت ہی خراب ہوں گے، طبی ماہرین نے مودی سرکار کو مشورہ دیا ہے کہ اومی کرون سے نمٹنے کے لئے ابھی سے تیاری کرنی چاہئے-

    اومیکرون کا خدشہ ،برطانیہ سے پاکستان آنے والی پروازوں بارے نیا حکمنامہ

  • اومی کرون: امریکہ اور کینیڈا ،اسرائیل کی ریڈ لسٹ میں شامل

    اومی کرون: امریکہ اور کینیڈا ،اسرائیل کی ریڈ لسٹ میں شامل

    تل ابیب: اسرائیل نے اومی کرون کے پھیلاؤ کے پیش نظر امریکہ اور کینیڈا کو ریڈ لسٹ میں شامل کرلیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سرائیل نے امریکا اور کینیڈا میں کورونا کی نئی شکل اومیکرون کے تیزی سے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے دونوں ممالک کو سفری سے لحاظ ’ریڈ لسٹ‘ میں شامل کر لیا ہے۔

    اسرائیل کی سفری پابندیوں کی ریڈ لسٹ میں شامل ممالک میں جانے کے لیے اسرائیلی شہریوں کو خصوصی اجازت نامہ لینا ضروری ہوتا ہے اسی طرح ان ممالک سے ملک میں داخل ہونے والوں کو بھی کڑی نگرانی سے گزرنا ہوتا ہے۔

    اومیکرون کا خدشہ ،برطانیہ سے پاکستان آنے والی پروازوں بارے نیا حکمنامہ

    اسرائیلی صدر نفتالی بینیٹ کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا اور کینیڈا پر پابندیوں کا اطلاق منگل سے ہوگا دریں اثنا اسرائیل میں اومی کرون کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بوسٹر ڈوز لگائے جارہے ہیں۔

    واضح رہے کہ جنوبی افریقا میں پہلی بار سامنے آنے والے کورونا کی نئی شکل اومی کرون ویرینٹ دنیا بھر میں تیزی سے پھیل رہی ہے اور عالمی ادارہ صحت نے بھی خبردار کیا ہے کہ یہ نئی شکل ڈیلٹا سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔

    نیدر لینڈ اومی کرون کے باعث لاک ڈاؤن لگانے والا پہلا ملک

    خیال رہے کہ جنوبی افریقا سے سامنے آنے والا کورونا کا انتہائی خطرناک ویرینٹ ’اومی کرون‘ امریکا، برطانیہ، بھارت اور جاپان سمیت بہت سے مغربی ممالک میں بھی سامنے آ چکا ہے جنوبی افریقا اور اس کے آس پاس موجود ممالک پر دنیا کے تقریباً تمام ممالک نے سفری پابندیاں عائد کردی ہیں تاکہ وائرس ان کے ملک میں نہ پہنچ جائے۔ عالمی ادارہ صحت نے عالمی سطح پر اومی کرون ویرینٹ کےممکنہ مزید پھیلاؤ کا امکان ظاہر کیا تھا اور کہا تھا کہ اومی کرون ویرینٹ کےسبب مستقبل میں کورونا کیسز میں اضافہ ہوسکتاہے جس کےسنگین نتائج ہوسکتےہیں۔

    بچ جاو:بچا لو:احتیاط اپنالو:اومیکرون 89 ممالک کو متاثرکرچکا،کنٹرول نہیں ہورہا:عالمی ادارہ صحت

    برطانیہ میں اومی کرون کے کیسز میں تین گنا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، دنیا کے کئی ممالک میں وائرس کی اس نئی قسم نے خوف پیدا کر دیا ہے. بھارت کے طبی ماہرین بھی پریشان ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال برطانیہ جیسی ہو گی تو بھارت کے حالات بہت ہی خراب ہوں گے، طبی ماہرین نے مودی سرکار کو مشورہ دیا ہے کہ اومی کرون سے نمٹنے کے لئے ابھی سے تیاری کرنی چاہئے،بھارت میں اومی کرون کے اب تک 151 کیسز سامنے آ چکے ہیں-

  • نیدر لینڈ اومی کرون کے باعث لاک ڈاؤن لگانے والا پہلا ملک

    نیدر لینڈ اومی کرون کے باعث لاک ڈاؤن لگانے والا پہلا ملک

    ایمسٹرڈیم: نیدرلینڈ نے کورونا وائرس کے نئے ویریئنٹ اومی کرون کے باعث لاک ڈاؤن نافذ‌کر دیا-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق نیدرلینڈ حکومت نے دنیا بھر میں تیزی سے پھیلتے اومی کرون کی وجہ سے ملک بھر میں لاک ڈاؤن لگا دیا جو 19 دسمبر سے 14 جنوری تک نافذ رہے گا جس کے بعد نیدر لینڈ اومی کرون میں لاک ڈاؤن لگانے والا پہلا ملک بن گیا۔

    نیدرلینڈ حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن کے دوران غیر ضروری کاروبار، ہوٹلز، بارز اور عوامی مقامات کو بند رکھنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

    بچ جاو:بچا لو:احتیاط اپنالو:اومیکرون 89 ممالک کو متاثرکرچکا،کنٹرول نہیں ہورہا:عالمی ادارہ صحت

    حکومت کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق کسی بھی گھر میں ایک وقت میں صرف 2 مہمانوں کو داخلے کی اجازت ہو گی جبکہ کرسمس کے موقع پر 24 سے 26 دسمبر کے درمیان ایک وقت میں 4 مہمان گھر بلانے کی اجازت ہو گی اسکول کم سے کم 9 جنوری تک بند رہیں گے –

    نیدرلینڈ کے وزیر اعظم نے کہا کہ انسانی جانوں کو بچانے کے لیے یہ فیصلہ ضروری تھا یہ فیصلہ یورپ میں اومی کرون کے کیسز میں تیزی سے اضافے کے بعد کیا گیا۔

    نیدرلینڈ میں 85 فیصد افراد کو کورونا ویکسین لگ چکی ہے جبکہ 9 فیصد بوسٹر کی ویکسین بھی لگوا چکے ہیں۔

    برطانیہ:چند گھنٹوں میں‌ اومی کرون کے 93 ہزار سے زائد کیسز:ہرطرف خوف اوربے بسی کے ڈیرے

    دوسری جانب عالمی ادارہ صحت نے دعویٰ کیا ہے کہ اومی کرون ویریئنٹ 89 ممالک کو متاثر کرچکا ہے جبکہ امی کرون کے کیسز ہر ڈیڑھ سے تین دن میں دوگنا ہورہے ہیں‌عالمی ادارہ صحت نے آج ہفتے کے دن بتایا تھا کہ کورونا وائرس کے نئے تبدیل شدہ ویرینغ اومی کرون کی 89 ممالک ميں تصدیق ہو چکی ہے اومی کرون کےکیسزان ممالک ميں بھی تیزی سے پھیل رہے ہیں‌ جن ميں عوام کی بڑی اکثریت ویکسین لگوا چکی ہے۔

    فی الحال یہ واضح نہيں کہ آیا یہ اس وجہ سے ہے کہ یہ ویرینٹ ویکسینیشن کے باوجود لاحق ہو سکتا ہےیا محض اس ليے کہ یہ زیادہ مہلک ہے یا پھر اِن دونوں وجوہات کی وجہ سے پھیل رہا ہے طبی ماہرین نے اومی کرون وائرس کی ايک نئے ویریئنٹ کے طور پر باقاعدہ تصدیق چھبیس نومبر کو کی تھی اور یہی وجہ ہے کہ فی الحال اس نئی تبديل شدہ قسم کے بارے ميں زيادہ معلومات دستیاب نہیں عالمی ادارہ صحت کے بیان کے مطابق جس تیزی سے اومیکرون کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے اُس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ آئندہ دنوں میں برطانیہ اور جنوبی افریقا میں اسپتالوں پر بوجھ کافی بڑھ جائے گا۔

    انڈونیشیا اور نیوزی لینڈ میں اومی کرون کا پہلا کیس رپورٹ

  • بچ جاو:بچا لو:احتیاط اپنالو:اومیکرون 89 ممالک کو متاثرکرچکا،کنٹرول نہیں ہورہا:عالمی ادارہ صحت

    بچ جاو:بچا لو:احتیاط اپنالو:اومیکرون 89 ممالک کو متاثرکرچکا،کنٹرول نہیں ہورہا:عالمی ادارہ صحت

    نیویارک :بچ جاو:بچا لو:احتیاط اپنالو:اومیکرون 89 ممالک کو متاثر کرچکا،کنٹرول نہیں ہورہا:عالمی ادارہ صحت ،اطلاعات کےمطابق عالمی ادارہ صحت نے دعویٰ کیا ہے کہ اومیکرون ویریئنٹ 89 ممالک کو متاثر کرچکا ہے جبکہ امی کرون کے کیسز ہر ڈیڑھ سے تین دن میں دوگنا ہورہے ہیں‌

    عالمی ادارہ صحت نے آج ہفتے کے دن بتایا کہ کورونا وائرس کے نئے تبدیل شدہ ویرینغ اومی کرون کی 89 ممالک ميں تصدیق ہو چکی ہے۔

    ادارے کے مطابق اومی کرون کےکیسزان ممالک ميں بھی تیزی سے پھیل رہے ہیں‌ جن ميں عوام کی بڑی اکثریت ویکسین لگوا چکی ہے۔

    فی الحال یہ واضح نہيں کہ آیا یہ اس وجہ سے ہے کہ یہ ویرینٹ ویکسینیشن کے باوجود لاحق ہو سکتا ہےیا محض اس ليے کہ یہ زیادہ مہلک ہے یا پھر اِن دونوں وجوہات کی وجہ سے پھیل رہا ہے۔

    طبی ماہرین نے اومی کرون وائرس کی ايک نئے ویریئنٹ کے طور پر باقاعدہ تصدیق چھبیس نومبر کو کی تھی اور یہی وجہ ہے کہ فی الحال اس نئی تبديل شدہ قسم کے بارے ميں زيادہ معلومات دستیاب نہیں۔

    عالمی ادارہ صحت کے بیان کے مطابق جس تیزی سے اومیکرون کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے اُس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ آئندہ دنوں میں برطانیہ اور جنوبی افریقا میں اسپتالوں پر بوجھ کافی بڑھ جائے گا۔ی

    ادھرغیر ملکی میڈیا کے مطابق ایک دن پہلے انگلینڈ میں 93ہزار کیسز سامنے آئے تھے ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق انگلینڈ میں اب تک کورونا سے متاثر افراد کی مجموعی تعداد ایک کروڑ ایک لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے،عالمی موذی مرض سے برطانیہ میں ایک لاکھ 47ہزار افراد موت کو گلے لگا چکے ہیں ۔

    سکاٹ لینڈ کے وزیر نکولا اسٹور جیون نے کہا ہے کہ اومیکران ویریئنٹ اب ملک میں موثر ویریئنٹ بن چکا ہے۔ ایک ہفتے پہلے جس سونامی کو لے کر میں نے وارننگ دی تھی، وہ اب آچکا ہے۔ دوسری طرف اومیکرون کی حالیہ تباہی کو دیکھتے ہوئے برطانیہ بھر میں 26 دسمبر کے بعد نائٹ کلبوں کو بند کرنے کے احکامات جاری کردیئے گئے ہیں۔

    ادھر دوسری طرف ان خطرات کے پیش نظر جان لیوا عالمی وبا کورونا وائرس کے نئے ویرینٹ اومیکرون کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے برطانیہ میں حکومتی اقدامات کو پارلیمنٹ نے منظور کرلیا، بل کے مطابق نائٹ کلب اور بعض دیگر مقامات پر داخلے کیلئے ویکسینشن کا ثبوت یا کورونا کا منفی نتیجہ دکھانا ہوگا۔

    غیرملکی میڈیا کے مطابق برطانوی پارلیمنٹ میں ماسک، سیلف آئسولیشن کی جگہ روزانہ لٹرل فلو ٹسٹ اور کوویڈ پاسپورٹ پر الگ الگ ووٹنگ ہوئی۔غیرملکی میڈیا کے مطابق برطانیہ میں نائٹ کلب، سینما، تھیٹرز اور میوزیم میں ماسک پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق حکمران جماعت کے 97 ارکان پارلیمنٹ کی مخالفت کے باوجود حکومت نے تمام بل منظور کرالئیے، 97 ارکان نے کووڈ پاسپورٹ کے معاملے پر مخالفت کی۔ 2019 کے الیکشن کے بعد برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کو پارٹی ارکان کی طرف سے بڑی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    واضح رہے کہ برطانیہ میں اومیکرون کے کیسز میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے جبکہ اومی کرون سے ایک ہلاکت کی تصدیق بھی ہوئی ہے۔ اس سے قبل برطانوی وزیر صحت نے کہا تھا کہ اومیکرون ویرینٹ کے پھیلاؤ کی شرح تو غیرمعمولی ہے، لیکن ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی۔

  • یہ مہذب فرانس ہے جہاں‌:ایک لاکھ سے زائد جعلی کورونا پاسز بننے کا انکشاف

    یہ مہذب فرانس ہے جہاں‌:ایک لاکھ سے زائد جعلی کورونا پاسز بننے کا انکشاف

    پیرس :یہ مہذب فرانس ہے جہاں‌:ایک لاکھ سے زائد جعلی کورونا پاسز بننے کا انکشاف،اطلاعات کے مطابق فرانس میں ایک لاکھ سے زائد جعلی کورونا پاسز بننے کا انکشاف ہو اہے جس کے بعد حکومت نے جعلی پاسز جاری کرنے اور استعمال کرنے والوں کیخلاف تحقیقات شروع کر دی ہیں

    جاپانی میڈیا کے مطابق فرانسیسی وزارت داخلہ نے اعتراف کیا ہے کہ ملک میں ایک لاکھ سے زائد جعلی کورونا ہیلتھ پاسز گردش میں ہیں۔ فرنچ وزارت داخلہ کے مطابق تقریباً ایک لاکھ دس ہزار جعلی کورونا ہیلتھ پاسز جاری کئے گئے ہیں ، حکومت ان پاسز کو جاری کرنے اور استعمال کرنے والوں کے خلاف تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

    یہ ہیلتھ پاسز کووڈ 19 ویکسینیشن کی تصدیق ، پی سی آر ٹیسٹ کی جعلی منفی رپورٹ اور عوامی مقامات پر استعمال کرنے کیلئے جاری کئے گئے ہیں، جن کو بنانے کے لئے جعلی دستاویزات کا بھی استعمال کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق ان جعلی پاسز کی تیاری میں طبی عملہ بھی ملوث ہے، اور اب ان جعلی پاسز کی تصدیق بھی انتہائی مشکل ہو چکی ہے۔

    فرنچ وزارت داخلہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان جعلی پاسز کی تیاری اور استعمال کرنے والے 100 کے قریب افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جن کے خلاف 400 سے زائد تحقیقات کے بعد گرفتار کیا گیا۔جعلی پاسز کے حامل افراد کو 5 سال کی سزا ہو سکتی ہے، کچھ کو جیل قوانین کے مطابق سزا دی جا چکی ہے۔گزشتہ ماہ ایک ڈاکٹر کو بھی گرفتار کیا گیا تھا جس نے پیرس اور گردونواح میں تقریباً 220 جعلی ہیلتھ پاسز بنا کر فروخت کئے تھے۔

  • برطانیہ:چند گھنٹوں میں‌ اومی کرون کے 93 ہزار سے زائد کیسز:ہرطرف خوف اوربے بسی کے ڈیرے

    برطانیہ:چند گھنٹوں میں‌ اومی کرون کے 93 ہزار سے زائد کیسز:ہرطرف خوف اوربے بسی کے ڈیرے

    لندن: برطانیہ:چند گھنٹوں میں‌ اومی کرون کے 93 ہزار سے زائد کیسز:ہرطرف خوف اوربے بسی کے ڈیرے ،اطلاعات کے مطابق برطانیہ میں ڈیلٹا سے 70 گنا زیادہ خطرناک کورونا کے اومیکران ویریئنٹ نے تباہی پھیلا دی ،ایک ہی دن میں 93ہزار سے زائد نئے کیسز سامنے آگئے ،

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایک دن پہلے انگلینڈ میں 88ہزار کیسز سامنے آئے تھے ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق انگلینڈ میں اب تک کورونا سے متاثر افراد کی مجموعی تعداد ایک کروڑ ایک لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے،عالمی موذی مرض سے برطانیہ میں ایک لاکھ 47ہزار افراد موت کو گلے لگا چکے ہیں ۔

    سکاٹ لینڈ کے وزیر نکولا اسٹور جیون نے کہا ہے کہ اومیکران ویریئنٹ اب ملک میں موثر ویریئنٹ بن چکا ہے۔ ایک ہفتے پہلے جس سونامی کو لے کر میں نے وارننگ دی تھی، وہ اب آچکا ہے۔ دوسری طرف اومیکرون کی حالیہ تباہی کو دیکھتے ہوئے برطانیہ بھر میں 26 دسمبر کے بعد نائٹ کلبوں کو بند کرنے کے احکامات جاری کردیئے گئے ہیں۔

    ادھر دوسری طرف ان خطرات کے پیش نظر جان لیوا عالمی وبا کورونا وائرس کے نئے ویرینٹ اومیکرون کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے برطانیہ میں حکومتی اقدامات کو پارلیمنٹ نے منظور کرلیا، بل کے مطابق نائٹ کلب اور بعض دیگر مقامات پر داخلے کیلئے ویکسینشن کا ثبوت یا کورونا کا منفی نتیجہ دکھانا ہوگا۔

    غیرملکی میڈیا کے مطابق برطانوی پارلیمنٹ میں ماسک، سیلف آئسولیشن کی جگہ روزانہ لٹرل فلو ٹسٹ اور کوویڈ پاسپورٹ پر الگ الگ ووٹنگ ہوئی۔غیرملکی میڈیا کے مطابق برطانیہ میں نائٹ کلب، سینما، تھیٹرز اور میوزیم میں ماسک پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق حکمران جماعت کے 97 ارکان پارلیمنٹ کی مخالفت کے باوجود حکومت نے تمام بل منظور کرالئیے، 97 ارکان نے کووڈ پاسپورٹ کے معاملے پر مخالفت کی۔ 2019 کے الیکشن کے بعد برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کو پارٹی ارکان کی طرف سے بڑی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    واضح رہے کہ برطانیہ میں اومیکرون کے کیسز میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے جبکہ اومی کرون سے ایک ہلاکت کی تصدیق بھی ہوئی ہے۔ اس سے قبل برطانوی وزیر صحت نے کہا تھا کہ اومیکرون ویرینٹ کے پھیلاؤ کی شرح تو غیرمعمولی ہے، لیکن ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی۔

  • خبردار،ہوشیار:کراچی میں اومی کرون کا دوسرا کیس:مریض قرنطینہ سینٹرسے فرار

    خبردار،ہوشیار:کراچی میں اومی کرون کا دوسرا کیس:مریض قرنطینہ سینٹرسے فرار

    کراچی :خبردار،ہوشیار:کراچی میں اومی کرون کا دوسرا کیس:مریض قرنطینہ سینٹرسے فرار ،اطلاعات کے مطابق کراچی میں کورونا وائرس کے جنوبی افریقی ویرینٹ اومی کرون کا دوسرا کیس سامنے آگیا ہے۔مگرپریشانی کی بات یہ ہے کہ یہ مریض فرار ہوگیا ہے اوراس کی فراری کی خبرسُن کرہرکوئی خبردار ہوگیا ہے

    ذرائع محکمہ صحت کے مطابق اومی کرون وائرس میں مبتلا 35 سالہ شخص برطانیہ سے کراچی پہنچا تھا، رینڈم چیکنگ میں متعلقہ شخص میں پہلے کورونا اور بعد میں اومی کرون کی تصدیق ہوئی، متاثرہ شخص کو محکمہ صحت نے ائیرپورٹ سے شارع فیصل پر واقع نجی ہوٹل منتقل کیا۔

    کراچی سے محکمہ صحت کے ذرائع کا بتانا ہے کہ متاثرہ شخص میں جینوم سیکوئنسنگ کے بعد اومی کرون کی تصدیق ہوئی۔حکومت نے کیٹیگری سی اور اومی کرون والے ممالک پر سفری پابندی لگا رکھی ہے لیکن برطانیہ کیٹیگری سی میں نہیں آتا۔

    ذرائع محکمہ صحت کا یہ بھی بتانا ہے کہ اومی کرون سے متاثرہ شخص ہوٹل کے قرنطینہ سے فرار ہو گیا، قرنطینہ پر سکیورٹی فراہم کرنا محکمہ داخلہ، پولیس اور متعلقہ ڈی سی کی ذمہ داری ہے۔

    ذرائع کے مطابق نجی ہوٹل میں اب بھی کورونا سے متاثرہ 19 افراد قرنطینہ میں موجود ہیں، نجی ہوٹل میں متاثرہ لوگ قرنطینہ میں ہیں لیکن انہیں سکورٹی اب بھی فراہم نہیں کی گئی۔

    ذرائع محکمہ صحت کا یہ بھی بتانا ہے کہ کورونا سے متاثرہ 19 میں سے 5 افراد کی جینوم سیکوئنسنگ ابھی ہونی ہے، سکیورٹی کی عدم فراہمی کے باعث اب تک 38 افراد قرنطینہ سے فرار ہوچکے ہیں۔

    یاد رہے کہ گزشتہ دنوں بیرون ملک سے آنے والی خاتون کورونا میں مبتلا تھیں جن کے اومی کرون میں مبتلا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا۔ متاثرہ خاتون کی اب جینوم سیکوئنسنگ کی گئی ہے جس کے نتائج میں اومی کرون کی تصدیق ہوگئی تھی ۔ذرائع کا کہنا تھا کہ خاتون کے رابطے میں آنے والے 51 افراد کے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔

    خیال رہے کہ گزشتہ روز عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا تھا کہ اومی کرون ویرینٹ دنیا کے 63 ممالک میں پھیل چکا ہے ۔ یہ ڈیلٹا سے زیادہ تیزی کے ساتھ پھیلتا اور ویکسین کے خلاف زیادہ مدافعت رکھتا ہے۔

  • دنیا کے 77 ملکوں میں اومیکرون حملہ آور:ویکسین کے غیرموثرہونے کی اطلاعات سے ہرطرف خوف

    دنیا کے 77 ملکوں میں اومیکرون حملہ آور:ویکسین کے غیرموثرہونے کی اطلاعات سے ہرطرف خوف

    لندن : دنیا کے 77 ملکوں میں اومیکرون حملہ آور:ویکسین کے غیرموثرہونے کی اطلاعات سے ہرطرف خوف،اطلاعات کے مطابق ادارہ عالمی صحت ڈبلیو ايچ او اور یوروپی ڈیزیز کنٹرول شعبے نے کورونا وائرس کے نئے ویريئنٹ اومیکرون کے تیزی سے پھیلاو کے مدنظر عوام سے ٹیکہ لگوانے کے ساتھ ساتھ ماسک اور جسمانی فاصلے کا خیال رکھنے پر بھی تاکید کی ہے۔ ان دونوں اداروں کا کہنا ہے کہ اس ویريئنٹ سے صرف ٹیکے کے ذریعہ نہیں نمٹا جا سکتا۔

    یوروپی حکومتیں جہاں ایک طرف اس وائرس کے مہلک اثرات پر قابو پانے کے لئے ٹیکہ لگانے کا عمل تیز کر رہی ہیں وہیں دوسری طرف برطانیہ میں اس نئے ویریئنٹ کی چپیٹ میں آنے والوں کی تعداد میں دن بدن تشویشناک حد تک اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

    برطانیہ میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 78 ہزار 610 نئے کیس سامنے آئے ہیں جسکے مدنظر حکومت نے اس مہینے کے آخر تک بڑے پیمانے پر لوگوں کو کورونا کے ٹیکے کی بوسٹر ڈوز لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد سے لگتا ہے کہ صرف ٹیکہ اومیکرون کو روکنے میں زیادہ موثر نہیں ہوگا۔

    ڈبلیو ایچ او کی ترجمان مارگریٹ ہیرث کے دعوے کے مطابق ویکسین نے اومیکرون کے مقابلے میں یہ کیا کہ بہت سے لوگوں کو اسپتال جانے سے بچا لیا اور زیادہ شدید علامات سامنے نہیں آئیں، اس لئے ٹیکہ لگوانا ضروری تو ہے مگر یہ کافی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماسک لگانا اور جسمانی فاصلے کا خیال رکھنے کی بدستور ضرورت ہے۔

    دوسری طرف یوروپی یونین کی عہدیدار اورسیلا وندیرلاین نے کہا کہ اس وقت یوروپ میں ہر تین دن میں اومیکرون سے متاثر لوگوں کی تعداد دگنی ہوتی جا رہی ہے اور اگلے مہینے یوروپ میں یہ ویریئنٹ بہت بڑے پیمانے پر پھیل چکا ہوگا۔

    دنیا کے 77 ملکوں میں اب تک اومیکرون ویریئنٹ کے پہونچنے کی تائید ہو چکی ہے۔

    دوسری طرف ہندوستان میں بھی اومیکرون کے کیسز تشویشناک حد تک بڑھ چکے ہیں۔ اب تک مغربی بنگال، تمل ناڈو، مہاراشٹر، کیرل، تلنگانہ، راجستھان، کرناٹک، گجرات، آندھرا پردیس، دہلی، اور چندیگڑھ میں اومیکرون کے کیس سامنے آ چکے ہیں۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ اومی کرون سے بھارتی معیشت بھی تباہی کی جارہی ہے

  • انڈونیشیا اور نیوزی لینڈ میں اومی کرون کا پہلا کیس رپورٹ

    انڈونیشیا اور نیوزی لینڈ میں اومی کرون کا پہلا کیس رپورٹ

    انڈونیشیا اور نیوزی لینڈ میں بھی کورونا کا نیا وئیرینٹ پہنچ گیا، پہلے کیس کی تصدیق ہو گئی۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن کی جانب آسٹریلوی باشندوں کو ملک سے باہر کرنے کے بعد اومی کرون کا اپنا پہلا کیس سامنے آیا ہے۔ کورونا کی نئی قسم سے متاثرہ شخص جرمنی سے ملک واپس آیا تھا ، جسے فوری آئسولیٹ کر دیا گیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق یہ شخص کرائسٹ چرچ منتقل ہونے سے پہلے جرمنی سے آکلینڈ آیا تھا اب یہ خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ اومی کورونا کے کیوی ساحلوں پر پہنچنے سے سرحد کی بندش کو مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔

    لندن:اومی کرون کا پھیلاؤ روکنے کیلئےپارلیمنٹ میں خصوصی بل منظور

    نئے قوائد میں 17 جنوری سے آسٹریلیا میں مقیم نیوزی لینڈ شہریوں کو مکمل ویکسین کے ساتھ ملک میں داخلے کے لیے ایک ہفتے کے لیے قرنطینہ ہونا ہوگا۔

    دوسری جانب انڈونیشیا میں بھی پہلے اومی کرون کیس کی تصدیق ہوئی ہے کورونا کی نئی قسم سے متاثرہ شخص کو فوری آئسولیٹ کر دیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ کورونا کی تیزی سے پھیلتی نئی قسم اومی کرون میں یہ تحقیق سامنے آئی ہے کہ اومی کرون مریض کو زیادہ بیمار نہیں کرتی اور نہ ہی کورونا کی اس نئی قسم کا متاثرہ شخص زیادہ دن اسپتال میں زیر علاج رہتا ہے۔

    کورونا کی نئی قسم کا خوف،چین میں 5 لاکھ سے زائد افراد قرنطینہ

    اس سے قبل جنوبی افریقہ سائنسدانوں نے اپنی رپورٹ کی بنیاد پر کہا تھا کہ کورونا کی نئی قسم کے تیزی سے پھیلنے کے شواہد نہیں ملے اومی کرون اب تک جنوبی افریقہ کے 9 صوبوں تک پھیل چکا ہے اومی کرون سے متاثرہ شخص میں سنگین علامات دکھائی نہیں دیتیں تاہم اسے کم شدت والی قسم قرار دینا قبل ازوقت ہو گا اس کے لیے مزید ریسرچ کی ضرورت ہے۔

    اس سے قبل کورونا کے نئے ویریئنٹ ’اومیکرون‘ کے پھیلاؤ کے متعلق سب سے پہلے خبردار کرنے والوں میں سے ایک افریقی ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ ’او می کرون‘ کی علامات بہت ہی معمولی ہیں اور یہ وائرس 40 سال یا اس سے کم عمر کے افراد کو متاثر کر رہا ہے۔

    اومی کرون سے متاثرہ شخص زیادہ دن اسپتال میں زیر علاج نہیں رہتا

  • لندن:اومی کرون کا پھیلاؤ روکنے کیلئےپارلیمنٹ میں خصوصی بل منظور

    لندن:اومی کرون کا پھیلاؤ روکنے کیلئےپارلیمنٹ میں خصوصی بل منظور

    لندن: اومی کرون کا پھیلاو روکنے کیلئے حکومتی اقدامات پر پارلیمنٹ میں ووٹنگ کے بعد خصوصی بل منظور کر لیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق پارلیمنٹ میں ماسک لازمی پہننے کے اقدامات کے حق میں 441 جبکہ مخالفت میں 41 ووٹ پڑے بل کے تحت سینما، تھیٹرز اور میوزیم میں بھی ماسک پہننا لازمی قراردیا گیا ہے نائٹ کلب اور بعض دیگر مقامات پر داخلے کیلئے ویکسینشن کا ثبوت یا کورونا کا منفی نتیجہ دکھانا بھی لازمی ہو گا۔

    برطانیہ میں اومی کرون سے پہلی موت

    رپورٹ کے مطابق کوویڈ پاسپورٹ کا منصوبہ بھی پارلیمنٹ سے منظور کر لیا گیا، جس میں کوویڈ پاسپورٹ کے حق میں 369 اور مخالفت میں 126 ووٹ پڑے 2019 کے الیکشن کے بعد برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کو پارٹی ارکان کی طرف سے بڑی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے کچھ ارکان نے بل میں موجود اقدامات کی مخالفت کی تو کچھ نے بوروس جانسن کے لیے مشکل حالات پیدا کرنے کے لیے غصہ نکالا۔

    برطانیہ میں اومیکرون کے پھیلاؤ میں تیزی

    برطانیہ میں کورونا کی نئی قسم اومی کورون بہت تیزی سے پھیل رہا ہے، اب تک برطانیہ میں اومی کرون کی 4500 افراد میں تشخیص ہو چکی ہے، جس میں سے 10 متاثرین اسپتال منتقل کر دئیے گئے ہیں جبکہ ایک جان کی بازی ہار چکا ہے۔

    برطانیہ میں حالات کنٹرول سے باہر: اومی کرون کا پھیلاؤ تیز، کورونا الرٹ لیول 3 سے…

    برطانیہ کے چیف میڈیکل آفیسر نے خبردار کیا ہے کہ اومیکرون تیزی سے پھیل رہا ہے، مریضوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے،کرونا کی اس نئی قسم سے ویکسین سے بھی محفوظ رہنا مشکل ہے، برطانیہ میں اومیکرون کے کیسز میں اضافے کے بعد کرونا الرٹ لیول تین سے بڑھا کرچار کردیا گیا ہے-

    لندن : جنوری میں اومی کرون کی بڑی لہر کا خطرہ،سائنسدانوں نے خبردار کر دیا

    میڈیکل آفیسر کا کہنا ہے کہ اومیکرون کی وج سے پہلے ہی ہسپتالوں میں مریض زیر علاج ہیں اور اب مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہونے کا خدشہ ہے، اومی کرون کے پھیلاؤ میں اضافے کے بعد کورونا الرٹ لیول بڑھا کر چار کردیا گیا ہے کورونا الرٹ لیول چار کا مطلب وبا کا پھیلاؤ بہت زیادہ ہے نئے کرونا وائرس کے حوالے سے عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ کورونا کا اومی کرون ویرینٹ ڈیلٹا ویرینٹ سے زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے دنیا کے 70 ممالک میں اومیکرون تیزی سے پھیل چکا ہے۔

    کورونا کی نئی قسم کا خوف،چین میں 5 لاکھ سے زائد افراد قرنطینہ

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق نئی قسم میں کورونا وائرس نے بڑے پیمانے پر اپنی ہیت اور شکل تبدیل کر لی ہے اور اس وائرس میں ری انفیکشن کا خطرہ دیگر تمام اقسام سے زیادہ ہے کورونا کی نئی قسم کے کیسز سب سے پہلے جنوبی افریقہ میں رپورٹ ہوئے جنوبی افریقہ میں اس قسم کی تصدیق کے بعد سے کورونا کی یہ قسم بوٹسوانا، بلجیئم، ہانگ کانگ، اور اسرائیل میں پائی گئی ہے۔

    امریکی دواساز کمپنی نے کورونا کی چوتھی ڈوز کے استعمال کا اشارہ دیدیا

    دریافت ہونے والی کورونا کی نئی قسم کے جینیاتی ڈھانچے میں بہت سے تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔ سائنسدانوں نے اس نئی قسم کو ہولناک وائرس قرار دیا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ قسم اب تک سامنے آنے والی کورونا اقسام میں سب سے زیادہ خطر ناک ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اومیکرون قسم نے ہمیں حیران کر دیا ہے کیونکہ اس میں ہماری توقع سے زیادہ تبد یلیاں آ چکی ہیں ماہرین کےمطابق کورونا کی اومی کرون قسم میں 50 تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں جبکہ اس سے پہلے سب سے زیادہ خطرناک سمجھی جانے والی قسم ڈیلٹا میں صرف 2 تبدیلیاں پائی گئی تھیں اس قسم میں موجود مخصوص سپائک پروٹین، جس کو ویکسین نشانہ بناتی ہے، اس میں 30 جینیاتی تبدیلیاں موجود ہیں۔

    اومی کرون کیسز، ٹین ڈاؤننگ اسٹریٹ کی کرسمس پارٹی منسوخ

    اس وائرس کی قسم کے معائنے کے بعد ہم نے دیکھا کہ اس کا وہ حصہ جو سب سے پہلے انسانی جسم پر اثرانداز ہوتا ہے اس کی سطح پر بھی 10 جینیاتی تبدیلیاں ہیں۔

    اومی کرون سے بچنے کا طریقہ: برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق سائنس دان یہ جاننے کے لیے کوشش کر رہے ہیں لیکن فی الحال احتیاط ہی سب سے مفید راستہ ہے۔

    بل گیٹس کی کورونا وبا سے متعلق نئی پیشگوئی

    دنیا بھر کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی اس بات پر ہی زور دیا جا رہا ہے کہ اومی کرون کے خلاف مزاحمت کے لیے ویکسینیشن کے عمل کو تیز کیا جائے اور جو لوگ اب تک ویکسین سے محروم ہیں ان تک ویکسین پہنچائی جائے۔

    ڈبلیو ایچ او کے مطابق کورونا کے خلاف طے شدہ حفاطتی اقدامات پر عمل درآمد بھی اومی کرون سے بچاؤ میں مدد دے سکتے ہیں، یعنی ماسک پہننا اور سماجی فاصلوں کا خیال رکھنا۔

    16 اور 17 سال کی عمر کے لوگوں کے لیے فائزر کووڈ بوسٹر کی اجازت دے دی گئی