Baaghi TV

Tag: اہم ترین

  • پُرانے پاکستان کی اچھی اچھی خبریں آنا شروع ہوگئیں:مخالفین کے گھروں پرچھاپے

    اسلام آباد:پُرانے پاکستان کی اچھی اچھی خبریں آنا شروع ہوگئیں:مخالفین کے گھروں پرچھاپے ،اطلاعات کے مطابق پی ٹی آئی چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کے فوکل پرسن ڈاکٹر ارسلان خالد کے گھر پر چھاپا پڑ گیا ہے۔

    پی ٹی آئی کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جاری ایک ٹوئٹ میں بتایا گیا ہے کہ عمران خان کے فوکل پرسن ارسلان خالد کے گھر پر چھاپا پڑا ہے، اور نامعلوم افراد لیپ ٹاپ، موبائل فونز اور دیگر سامان ساتھ لے گئے ہیں۔

     

    فواد چوہدری نے اس حوالے سے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ڈاکٹر ارسلان خالد کے گھر پر حملے کی خبروں پر انتہائی تشویش ہے، ارسلان انتہائی باصلاحیت زیرک اور مخلص نوجوان ہے۔فواد چوہدری نے لکھا کہ پی ٹی آئی ارسلان خالد کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہوگی۔

     

    ڈاکٹر ارسلان خالد کے گھر پر حملہ کی خبروں پر انتہائ تشویش ہے ، ارسلان انتہائ باصلاحیت زیرک اور مخلص نوجوان ہے، پوری تحریک انصاف ارسلان خالد کے ساتھ سیسہ پلائ دیوار کی طرح کھڑی ہو گی۔

     

    اسد عمر نے بھی ایک ٹوئٹ میں ارسلان خالد کے گھر پر چھاپے کی مذمت کی، اور لکھا کہ محب وطن نوجوان جیسے ڈاکٹر ارسلان قوم کا اثاثہ ہیں۔

  • پاکستان میں صورتحال کو مانیٹر کررہےہیں،اپنےمفادات کا تحفظ کریں گے:امریکا کا پاکستانیوں کےمنہ پرطمانچہ

    پاکستان میں صورتحال کو مانیٹر کررہےہیں،اپنےمفادات کا تحفظ کریں گے:امریکا کا پاکستانیوں کےمنہ پرطمانچہ

    واشنگٹن:امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں جاری صورتحال کو مانیٹر کر رہے ہیں، پاکستان میں تمام سیاسی جماعتیں قانون کی عملداری کریں۔

    امریکا کی جانب سے عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ردعمل میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتیں آئین کی پاسداری یقینی بنائیں، امید ہے کہ تمام پارٹیاں گڈ گورننس اور جمہوری اقدار پر قائم رہیں گی۔امریکا کی جانب سے کہا گیا ہے کہ امریکا پاکستان میں اپنے مفادات کا تحفظ کرے گا

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان اپنی حکومت کی برطرفی کی وجہ امریکی سازش قرار دیتے ہیں۔ ثبوت کے طورپر انہوں نے گذشتہ ماہ اسلام آباد میں منعقدہ جلسے میں ایک خط لہرایا تھا جس میں مبینہ طور پر امریکہ کی جانب سے پاکستان میں حکومت کی تبدیلی کی دھمکی دی گئی تھی۔

    سابق وزیراعظم عمران خان نے سینئر صحافیوں کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران اس خفیہ خط کی مندرجات بھی شیئر کی تھیں۔ مندرجات کے مطابق تحریک عدم اعتماد کا مقصد وزیراعظم کو ہٹانا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی خارجہ پالیسی آزاد ہے، پاکستان کی آزاد خارجہ پالیسی کو پسند نہیں کیا جا رہا، آنے والے دنوں میں آپ کے لیے حالات مزید مشکل ہوں گے۔

    مندرجات میں بتایاگیا کہ اگر عدم اعتماد کامیاب ہو جاتی ہے تو ریاستِ پاکستان کے ساتھ معاملات بہتر کر سکتے ہیں، آنے والے دنوں میں آپ کے لیے حالات مشکل ہو سکتے ہیں، اگر عدم اعتماد کامیاب نہیں ہوتی تو مشکلات کیلئے تیار رہنا چاہیے۔

  • ملک بچانا ہے تو عمران خان کو گرفتار کیا جائے:مریم نواز

    لاہور:پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے عمران خان کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کردیا۔مریم نواز کہتی ہیں‌کہ ملک کو بچانا ہے تو عمران خان کو گرفتار کرنا پڑے گا

    مریم نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ ’اس خوف میں مبتلا دماغی مریض کے ہاتھ میں ماچس ہے جس سے یہ ہر طرف آگ لگانا چاہتا ہے۔‘

    مریم نے مزید کہا کہ ’اس سے پہلے کہ یہ مزید نقصان کر دے، اس کو گرفتار کرنا چاہیے، 22 کروڑ کی قسمت ایسے ہیجانی شخص کے ہاتھ میں نہیں دی جا سکتی۔‘عمران خان کیلئے بطور سابق وزیراعظم سکیورٹی کا انتظام کیا جائے: پرنسپل سیکرٹری نے خط لکھ دیا

    خیال رہے کہ عمران خان کیلئے سابق وزیراعظم کی سکیورٹی کےانتظامات کی تیاریاں جاری ہیں۔

    ذرائع کے مطابق وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے سیکرٹری داخلہ کو خط لکھ دیا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کی سابق وزیراعظم کے طور پر سکیورٹی کا انتظام کیا جائے اور سکیورٹی کے مجوزہ طریقہ کار کے تحت انتظامات عمل میں لائے جائیں۔

    ذرائع نے بتایا کہ خط میں سیکرٹری داخلہ کو کہا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم کو کونسی سکیورٹی ملتی ہے، آگاہ کیا جائے۔

  • ذرا جاگ کررہنا‘وزیراعظم عمران خان کل قوم سے خطاب کرینگے’:فواد چوہدری کا پیغام

    ذرا جاگ کررہنا‘وزیراعظم عمران خان کل قوم سے خطاب کرینگے’:فواد چوہدری کا پیغام

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کا فیصلہ کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے ٹوئٹ کیا کہ کل رات وزیراعظم قوم سے خطاب کرینگے۔

    فواد چوہدری نے بتایا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے دئیے گئے فیصلے کے تناظر میں وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب کرلیا ہے، اجلاس میں ملکی سیاسی صورت حال اور سپریم کورٹ کے فیصلے کا جائزہ لیا جائے گا۔

    پی ٹی آئی رہنما نے اپنے ٹوئٹ میں بتایا کہ پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بھی کل ہوگا، وزیراعظم عمران خان اجلاس کی صدارت کرینگے۔

    واضح رہے کہ آج سپریم کورٹ نے 3 اپریل کی ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کی رولنگ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے تحریک عدم اعتماد کو برقرار رکھا تھا، اسکے علاوہ عدالت نے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کا فیصلہ مسترد کرتے ہوئے کابینہ کو بھی بحال کر دیا تھا۔

    سپریم کورٹ نے جلدازجلد تحریک عدم اعتماد کو نمٹانےکا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی کہ اسمبلی اجلاس کوغیرمعینہ مدت تک ملتوی نہ کیا جائے اسپیکرعدم اعتمادتحریک نمٹانے تک اجلاس ملتوی نہیں کرسکیں گے۔

    سپریم کورٹ نے اسمبلی کی تحلیل کے آرڈر کو غیر آئینی قرار دے دیا اور ریمارکس دیئے کہ وزیراعظم صدر کو ایڈوائس نہیں کرسکتے تھے، اب تک کے قانونی اقدامات غیر آئینی تھے۔

  • شہبازشریف قول وفعل کے کتنےپکے؟:شہبازشریف کے ماضی نے مستقبل پراعتراضات لگادیئے

    شہبازشریف قول وفعل کے کتنےپکے؟:شہبازشریف کے ماضی نے مستقبل پراعتراضات لگادیئے

    اسلام آباد:شہبازشریف قول وفعل کے کتنے پکے ہیں:ماضی کی سیاست مستقبل کے بیانیے میں کتنی ہم آہنگی؟حقائق بول اُٹھے،اطلاعات کے مطابق اس وقت پاکستان کی سیاست میں تضادات کے حوالے سے بڑی دلچسپ چیزیں سامنے آرہی ہیں ، کہیں پی ٹی آئی کے سابقہ بیانیئے اور موجودہ پالیسی میں فرق ہے تو کہیں ن لیگ کی قیادت کے قول وفعل میں بہت بڑا تضاد پایا جارہا ہے ،

    اس حوالے سے ویسے تو بہت سے حقائق ہیں لیکن فی الوقت ان دنوں پاکستان میں ضمیرفروشی کی منڈیاں‌ لگی ہوئی ہیں اور خریدوفروخت کرنے والے بروکرز اپنے ہی دعووں کی نفی کررہے ہیں ، مریم نواز، نوازشریف اور پوری ن لیگ اس بات پرچیخیں مار مار کرکہہ رہی تھی کہ سینیٹ انتخابات میں ضمیرخریدے گئے اور پھر اس کی آڑ میں ن لیگ کی قیادت نے ضمیرفروشوں پرغصہ نکالنے کے ساتھ ساتھ کچھ ایسے افراد اور اداروں پر نکالا جن کا اس سے دور تک کا بھی تعلق نہیں تھا

    ایسے ہی ن لیگ کے صدر شہبازشریف نے ریمارکس دیئے تھے جو تاریخ کا حصہ بن گئے لیکن شہبازشریف اپنے ہی الفاظ اور کردار کی نفی کرتے ہوئے ان دنوں ضمیرفروشی کوحلال سمجھ رہے ہیں اور اس کی آڑ میں بائیس کروڑ پاکستانیوں کےلیے پریشانی کا باعث بنے ہوئے ہیں‌ ،

    شہبازشریف اس وقت ضمیرفروشوں کو مجاہد قراردے رہے ہیں جبکہ ماضی میں شہبازشریف انہی ضمیرفروشوں کوسب سے بڑے مجرم قرار دے رہے تھے

    اس وقت جب چیئر مین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کے بعد قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہبازشریف نےاسے جمہوریت کا نقصان قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ کہ ضمیر فروشی ہوئی ہےاور میں ضمیر فروشی پر لعنت بھیجتا ہوں ۔

     

    جادو چل گیا ، جمہوریت کو نقصان پہنچا، ضمیر فروشی ہوئی، شہباز شریف

     

    پارلیمنٹ ہاؤس میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں شہبازشریف کا کہنا تھا کہ جادو تو چلا ہے، ضمیر فروشی ہوئی ہے۔صحافی کے سوال پر کہ کون سا جادو چلا ہے ؟ شہباز شریف نے جواب دیا کہ آپ کو پتہ ہے کہ امیر ترین جو ہیں وہ حرکت میں آئے ہیں اور ضمیر فروشی ہوئی۔

    اس وقت دوسروں کو الزام تراشی دینے والے شہبازشریف آج نہ تو اپنے بڑے بھائی کی مذمت کررہے ہیں اور نہ ہی آصف علی زرداری کی جن کا پیٹ پھاڑنے کے لیے شہبازشریف نے اپنی مہم پراربوں روپے اڑا دیئے تھے

    اس وقت اپنی ناکامی تسلیم کرتے ہوئے شہباز شریف نےکہا تھا کہ 14 ارکان کم ہوئے ہیں، ہمارے 64 ارکان تحریک کے حق میں کھڑے ہوئے تھے، آج جو ہوا اس سے جمہوریت کو نقصان پہنچا۔

    لیکن بڑے افسوس کے ساتھ وہی شہبازشریف آج ضمیرفروشی کو حلال سمجھ رہے ہیں اور آنے والی نسلوں کوایک غلط روش پر لگا رہے ہیں اور ساتھ ہی اس غلط روش کی ترویج واشاعت کے لیے میڈیا کا بھرپوراستعمال کررہےہیں