Baaghi TV

Tag: ایران

  • دنیا کےغلیظ ترین شخص کی ہلاکت،وجہ کیا بنی؟

    دنیا کےغلیظ ترین شخص کی ہلاکت،وجہ کیا بنی؟

    ’دنیا کا سب سےغلیظ شخص 50 سال بعد غسل لینے پر بیمار ہو کر مر گیا-

    باغی ٹی وی : برطانوی خبر رساں ادارے”بی بی سی” کے مطابق امو حاجی نامی جوگی ایران کے جنوبی صوبہ فارس کے ایک دیہات کے رہائشی تھےانہوں نے تقریباً 50 سال تک صابن اور پانی کا استعما ل نہیں کیا کیونکہ ان کو ڈر تھا کہ وہ بیمار ہو جائیں گے، اورپھر کئی دہائیوں بعد پہلی بار نہانے کے چند ہی ماہ بعد ان کا 94 سال کی عمر میں انتقال ہو گیا۔

    امریکا کی جانب سے تیل کے ایمرجنسی ذخائر استعمال کرنے پر سعودی عرب کا شدید ردعمل

    امو حاجی کے گاؤں والوں نے ان کو غسل کی کافی ترغیب دی لیکن انہوں نے کبھی کسی کی بات پر عمل نہیں کیا 50 سال تک نہائے بغیر زندہ رہنے والے امو حاجی کو اس عادت کی وجہ سے میڈیا نے دنیا کا غلیظ ترین فرد قرار دینا شروع کر دیا-

    ایران کی ارنا ایجنسی کے مطابق کچھ عرصہ قبل امو حاجی نے گاوں والوں کی بات مان لی اور غسل لے لیا تھا اس غسل کے بعد امو حاجی بیمار پڑ گئے اور گذشتہ اتوار ان کا انتقال ہو گیا۔

    ارنا ایجنسی کے مطابق برسوں تک غسل کے بغیر رہنے کی وجہ سے ان کے جسم کی جلد پر پھوڑے بن چکے تھے ان کی خوراک گلے سڑے گوشت اور گندے پانی پر مشتمل تھی جس کو پینے کے لیے وہ ایک تیل کے استعمال شدہ پرانے ڈبے کا استعمال کرتے تھے۔


    فوٹو بشکریہ: بی بی اردو

    امو حاجی سگریٹ نوش تھے اور کئی بار ان کو ایک ہی وقت میں ایک سے زیادہ سگریٹ سلگائے ہوئے دیکھا گیا امو حاجی کا کہنا تھا کہ ان کو نہلانے یا صاف پانی پلانے کی پیشکش سے وہ اداس ہو جاتے تھے۔

    2014 میں انہوں نے تہران ٹائمز کو انٹرویو بھی دیاجس میں انہوں نےبتایا کہ نوجوانی میں ان کو جذباتی ٹھیس پہنچی تھی جس کے بعد انہوں نے یہ غیر معمولی فیصلہ لیا تھا، یعنی غسل نہ لینے کا فیصلہ –

    امو حاجی نے بتایا تھا کہ ان کو خارپشت کھانا پسند ہےوہ زمین میں کھودے ایک سوراخ میں رہتے تھےگاوں والوں نے پھر ان کے لیے ایک جھونپڑی بنا دی۔

    طلاق آپ کا فیصلہ اور طریقہ کار ہم بتائیں گے،اشتہاری بینرز نے تیونس میں ہنگامہ کھڑا کر دیا

  • ہیکرز کا  ایرانی وزارت انٹلیجنس کی ویب سائٹ پر حملہ

    ہیکرز کا ایرانی وزارت انٹلیجنس کی ویب سائٹ پر حملہ

    تہران: ایران میں احتجاجی مظاہروں کے انفارمیشن قذاقی کے ہیکر گروپ’’ اینونیمس‘‘ کے ملک میں سرکاری اداروں کی ویب سائٹس پر حملے جاری ہیں-

    باغی ٹی وی :عالمی خبررساں ادارے کے مطابق اتوار کو اس گروپ نے ایرانی وزارت انٹلیجنس کی ویب سائٹ پر قدغن لگائی اور ایک اس ویڈیو جاری کردی۔

    سعودی عرب کے مستقبل کے شہر "دی لائن” کے تعمیراتی کام کا آغاز ہو گیا

    گروپ نے اس ویڈیو کلپ میں یہ اعلان بھی کیا کہ وہ جو کہ رہا وہ ایرانی عوام کے لئے ایک اہم پیغام ہے۔ گروپ نے تصدیق کی کہ اس نے انٹرنیٹ پر ایرانی وزارت انٹلیجنس کی سرکاری ویب سائٹ پر حملہ کیا ہے اور یہ خوشی کی ابتدا ہے۔

    گروپ نے حکومت کی مخالفت کرنے والے جملے شائع کیے اور ان ہفتوں سے جاری مظاہروں کو دبانے کی مہم کی مذمت بھی کی ۔

    واضح رہے کہ اینونیمس گروپ نے گذشتہ ماہ ٹوئٹر اکاؤنٹ پر اعلان کیا تھا کہ اس نے "ایران آپریشن ” شروع کردیا ہے ، جس کی وجہ سے حکومت کی بہت سی ویب سائٹوں میں خلل پڑے گا اور یہ مہسا امینی کی موت کے خلاف احتجاج کے طور پر کیا جائے گا۔

    جاپان کا ایران میں سفارتی سرگرمیاں دوبارہ بحال کرنے کا فیصلہ

    اس وقت سے ایران میں بہت سے سرکاری ویب گاہوں کو سائبر اٹیکس سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ جن ویب سائٹس پر حملے کئے گئے ان میں وزارت مواصلات کی ویب سائٹ ، ایرانی ٹیکس افیئرز اتھارٹی کی ویب سائٹ ، ایرانی انفارمیشن ٹیکنالوجی آرگنائزیشن کی ویب سائٹ اور ایرانی وزارت صنعت ، کان کنی اور تجارت کی ویب سائٹ شامل ہے۔

    سرکاری میڈیا سے تعلق رکھنے والی سرکاری ترجمان کی ویب سائٹ کو بھی متاثر کیا گیا۔ "اینونیمس ” گروپ نے کہا وہ اظہار رائے کی آزادی کے حق کا دفاع کر رہا ہے۔ اس سے قبل اس گروپ نے بین الاقوامی کمپنیوں کی کئی ویب سائٹس پر حملہ کیا تھا۔

    سوڈان: نسلی فسادات میں دو روز کے دوران 200 سے زائد افراد ہلاک

  • ایران ،روس کو مزید ڈرون فراہم کرے گا

    ایران ،روس کو مزید ڈرون فراہم کرے گا

    ایران نے روس کو زمین سے زمین پر مار کرنے کے لیے مزید ڈرون طیارے فراہم کرنے پر اتفاق کرلیا ہے،امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ مغربی اتحادیوں سے اتفاق کرتا ہے کہ ایران کی طرف سے روس کو دھماکہ خیز ڈرون کی فراہمی اقوام متحدہ کی پابندیوں کی خلاف ورزی ہے۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ادارے کے مطابق ایران اور روس کے درمیان 6 اکتوبر کو ایک معاہدہ طے پا یا اس مقصد کے لیے ایران کے اول نائب صدر محمد مخبر ، پاسداران انقلاب کے دو سینئیر ذمہ دار ، ایرانی قومی سلامتی کونسل کے ایک ذمہ دار نے ماسکو کا دورہ بھی کیا ہے تاکہ روس سے ڈرونز کی فراہمی کے امور پر تبادلہ خیال کر سکیں۔

    سعودی عرب کیخلاف ٹوئٹس کرنے پر امریکی شہری کو 16 سال قید کی سزا

    ایک ایرانی سفارتکار جسے اس اعلیٰ سطح کے وفد کے دورہ کے بعد بتایا کہ روس نے ایران اس کے تیار کردہ بلاسٹک میزائلوں کی ڈیمانڈ کی ہے ، جو زیادہ درستگی کے ساتھ بروئے کار آسکیں۔ بطور خاص فاتح اور ذوالفقار کے ناموں سے ایرانی میزائلوں کی قسم کے میزائلوں کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

    اسی بارے میں ایک مغربی سفارتکار نے بھی تصدیق کی ہے کہ روس اور ایران کے درمیان اتفاق ہو گیا ہے۔ کہ ایران شارٹ رینج کے زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائل روس کو دے گا۔ اس معاہدے میں ایرانی ساختہ ذوالفقار میزائل کی فراہم بھی شامل ہے۔

    امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ امریکہ فرانسیسی اور برطانوی تشخیص سے اتفاق کرتا ہے کہ ڈرون اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔

    یہ قرارداد، جو کہ ایران کے جوہری معاہدے سے منسلک ہے، بعض فوجی ٹیکنالوجیز کی ایرانی منتقلی پر پابندی عائد کرتی ہے۔

    اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ویدانت پٹیل نے کہا، "ہمارا یقین ہے کہ یہ UAVs جو ایران سے روس منتقل کیے گئے تھے اور روس نے یوکرین میں استعمال کیے تھے، یہ ان ہتھیاروں میں شامل ہیں جن پر 2231 کے تحت پابندی عائد رہے گی۔”

    ایران روس کو ان کی سپلائی کرنے سے انکار کرتا ہے، لیکن پٹیل نے کہا کہ امریکہ نے "عوامی طور پر بے نقاب کیا کہ روس نے ایران سے ڈرون حاصل کیے ہیں، کہ یہ روس کے سینکڑوں ایرانی UAVs کی مختلف اقسام کی درآمد کے منصوبے کا حصہ تھا”۔

    انہوں نے مزید کہا کہ روس کے یوکرین میں ان کے استعمال کے "وسیع ثبوت” موجود ہیں۔

    کیف حکومت نے کہا کہ پیر کو یوکرین کے کیف، دنیپرو اور سومی علاقوں میں شدید انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا، سینکڑوں قصبوں اور دیہاتوں میں بجلی منقطع ہو گئی۔

    کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہوئے – چار کیف میں اور چار سومی میں۔ امریکہ نے کہا کہ وہ "[روس] کو اس کے جنگی جرائم کا جوابدہ ٹھہرائے گا۔”

    دوسری جانب ایرانی حکام اس مغربی موقف کی تردید کرتے ہیں کہ ایران کی روس کے ساتھ یہ ڈیل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دا کے خلاف ہے۔ ایک ایرانی ذمہ دار نے کہا ہم یوکرین تنازعے پر مغربی ممالک کی طرح موقف نہیں رکھتے ہیں۔ ہم اس لڑائی کے سفارتی طریقوں سے خاتمے کے حامی ہیں۔

    العربیہ کے مطابق ادھر روس نے یوکرین پر حملوں میں ایرانی ڈرونز کے استعمال سے لاعلمی ظاہر کی ہے جبکہ ایران پہلے ہی ڈرون فراہمی کی تردید کرتا رہا ہے۔ جب کریملن میں روسی ترجمان پیسکوف سے ایرانی ڈرون طیاروں کے جنگ میں استعمال پر پوچھا گیا تو ترجمان کا کہنا تھاکریملن کے علم میں ایسی کوئی بات نہیں۔

    اگلے سوال پر ترجمان نے کہا یہ سوال وزارت دفاع سے متعلق ہیں اسی سے پوچھیں۔ تاہم روسی وزارت دفاع نے ان سوالوں پر ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ روسی کے اسلحہ خانوں میں ایرانی ڈرونز و دیگر اسلحے کی موجودگی سے ایران اور مغربی ممالک کے درمیان تناو میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان نے پیر کے روز یوکرین پر روسی حملوں میں ایرانی ڈرونز کے استعمال کاحوالہ دیا اور اس کی تردید سے متعلق ایرانی بیان کو جھوٹ کہا۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرین جین نے بھی ایرانی موقف کو جھوٹ قرار دیا تھا۔

    تاہم کئی مغربی ممالک نے پیر کے روز ایران کے خلاف مزید پابندیاں لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔ کیونکہ روس سینکڑوں کی تعداد میں ایرانی ڈرون استعمال کر رہا ہے اور مزید سینکڑوں ڈرون منگوانا چاہتا ہے۔

    امریکہ پاکستان کے ساتھ مضبوط شراکت داری چاہتا ہے،امریکی محکمہ خارجہ

  • جو بائیڈن ایران میں "افراتفری، دہشت گردی اور تباہی” کو ہوا دے رہے ہیں،ابراہیم رئیسی

    جو بائیڈن ایران میں "افراتفری، دہشت گردی اور تباہی” کو ہوا دے رہے ہیں،ابراہیم رئیسی

    ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے الزام عائد کیا ہے کہ مریکی صدر جو بائیڈن ایران میں "افراتفری، دہشت گردی اور تباہی” کو ہوا دے رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی : ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ’’ارنا‘‘ کے مطابق ایرانی ترجمان وزارت خارجہ نے کہا امریکا کے صدر نے کل بار بار مداخلت کرنے والے بیانات کے ذریعے ایران میں بدامنی کی حمایت کی ہے۔

    ایرانی ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ چونکہ ان کے پاس قابل اعتماد مشیر نہیں ہیں اور ان کی یادداشت اچھی نہیں ہے۔ میں بائیڈن کو بتانا چاہتا ہوں کہ ایران اتنا مضبوط اور ثابت قدم ہے کہ وہ آپ کی سخت سزاؤں اور مضحکہ خیز دھمکیوں کے سامنے نہیں جھکا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ آپ گندے پانیوں میں مچھلیاں پکڑنے کے عادی ہیں، لیکن یاد رکھیں، یہ ایران ہے، جو قابل فخر مردوں اور عورتوں کی سرزمین ہے۔

    اس سے قبل ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنانی نے بائیڈن کی جانب سے مظاہروں کی حمایت کے اعلان کو ’’ریاست کے معاملات میں مداخلت‘‘ قرار دیا تھا۔

    یہ بات قابل ذکر ہے کہ حجاب نہ کرنے پر مہسا امینی کی اخلاقی پولیس کے ہاتھوں گرفتاری اور پھر حراست میں موت کے بغد ایران میں کئی مسائل پر غصے کی آگ بھڑک اٹھی ہے۔ لوگوں کی بڑی تعداد شخصی آزادیوں پر پابندیاں اور خواتین کے لباس سے متعلق سخت قوانین کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔

    مہیسا امینی کی موت کے بعد پیدا شدہ صورتحال،ایرانی سفارتخانے نے حقائق بیان کر دیئے

    محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے اتوار کے روز ٹویٹ میں کہا کہ ایران ہمارے ناحق حراست میں لیے گئے شہریوں کی حفاظت کا مکمل ذمہ دار ہے ان قیدیوں کو فوری رہا کیا جانا چاہیے۔

    خیال رہے کہ ہفتے کے روز تہران کی ایون جیل میں آگ لگ گئی تھی تہران میں واقع اوین جیل میں آتش زدگی اور جھڑپوں کے نتیجے میں چار قیدی ہلاک اور 61 زخمی ہوئے تھے-

    ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ارنا نے اتوار کو ان چاروں قیدیوں کی موت کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ دھویں میں سانس لینے میں دشواری اور دم گھٹنے کی وجہ سے ان کی موت واقع ہوئی ہے چاروں ہلاک شدگان چوری کے جُرم میں سزایافتہ تھے۔اوین جیل سیاسی کارکنان، صحافیوں، اوردُہری شہریت کے حامل ایرانیوں اور غیر ملکی شہریوں کی بڑی تعداد بھی قید ہے۔

    زخمی قیدیوں میں سے صرف 10 کواسپتال میں داخل کیا گیا ہے اور ان میں سے چارکی حالت تشویش ناک بتائی گئی-

    امریکہ،بھارتی وزیر خزانہ سمیت 11 اعلیٰ عہدیداروں پر پابندی کا مطالبہ

  • مہیسا امینی کی موت کے بعد پیدا شدہ صورتحال،ایرانی سفارتخانے نے حقائق بیان کر دیئے

    مہیسا امینی کی موت کے بعد پیدا شدہ صورتحال،ایرانی سفارتخانے نے حقائق بیان کر دیئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایران میں مہسا امینی کی موت کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر پاکستان میں موجود ایرانی سفارتخانے کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا ہے

    ایرانی سفارتخانے کی جانب سے جاری بیان کا ٹائٹل "مہسا امینی کی موت کے متعلق کچھ حقائق” دیا گیا ہے، جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جیسے ہی محترمہ مہسا امینی کی موت کی اطلاع ملی، واقعہ کے تمام پہلوؤں کو واضح کرنے اور سچائی کا پتہ لگانے کے لیے درج ذیل خصوصی تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دی گئیں صدر مملکت کے حکم کے مطابق وزیر داخلہ کی جانب سے تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل، تہران کے پراسیکیوٹر کی طرف سے ایک تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل، صوبہ تہران کے محکمہ انصاف کی طرف سے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل، ملک کی فرانزک میڈیسن آرگنائزیشن کی جانب سے ایک خصوصی مہارت کی حامل ٹیم کی تشکیل اور مجلس شورائے اسلامی (پارلیمنٹ ) کی جانب سے ایک تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل۔

    ایرانی سفارتخانے کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ تحقیقاتی ٹیمیں جن کا مقصد اپنے کام کی فوری، غیر جانبدارانہ، موثر اور آزادانہ تحقیقات کرنا تھا، انہوں نے فوری طور پر کام شروع کر دیا، جس میں موقع پر جا کر تحقیقات کرنا، سائنسی ثمیٹ کرنا، میڈیکل ریکارڈ کی جانچ پڑتال، متعلقہ لوگوں سے انٹر ویو اور سی سی کیمرے کی ریکارڈنگ کا جائزہ لینا شامل ہیں اورجیسے ہی تحقیقات کا عمل مکمل ہو گا، حتمی رپورٹ حکام کو پیش کر دی جائے گی۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے مرحومہ مہسا امینی کے اہل خانہ کے ساتھ ایک ٹیلیفونک گفتگو میں تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ” میں نے فوری طور پر اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کو ترجیحی بنیادوں پر اپنے ایجنڈے میں رکھیں اور آپ مطمئن رہیں کہ ذمہ دار اداروں کو اس بات کا پابند بنائیں گے کہ وہ اس معاملے کی تمام جہات کو واضح کریں۔ مذکورہ گفتگو میں مرحومہ مہسا امینی کے اہل خانہ نے اس واقعہ سے نمٹنے کے فوری حکم اور اظہار ہمدردی پر صدر مملکت کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ مطالبہ کیا کہ اس معاملے کے جب تک تمام پہلو واضح نہیں ہو جاتے اس کو دیکھتے رہیں

    ایرانی سفارتخانے کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ پارلیمنٹ کے اسپیکر نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ سماجی اور ثقافتی مسائل سمیت مختلف موضوعات پر قانون پر عمل اور قانونی روپے ہو نا چاہیے، کہا کہ میں نے پارلیمنٹ میں ملک کے داخلی امور کے کمیشن اور کونسلوں کو اس واقعہ کو جانچنے کی ذمہ داری سونپی ہے تا کہ اس مسئلے کے تمام پہلووں کا باریک بینی سے جائزہ لیں اور پارلیمنٹ کو رپورٹ پیش کریں۔ اس واقعے کے چند روز بعد ایک انٹر ویو میں صوبہ تہران کے فرانزک میڈیسن کے ڈائریکٹر جزل نے مهسا امینی کے کیس کی تحقیقات کے حوالے سے اس تنظیم کے ابتدائی بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جسمانی معائنہ اور پوسٹ مارٹم کے دوران سر اور چہرے کے حصے میں آنکھوں کے گرد چوٹ کے کوئی آثار یاز خم نہیں تھے اور کھوپڑی کے نیچے فریکچر کا مشاہدہ نہیں کیا گیا ہے۔ جسم اور پیٹ کے پوسٹ مارٹم میں جسم کے اندرونی اعضاء میں خون بہنے، کچلنے یا پھٹنے کے آثار نہیں دیکھے گئے۔ صوبہ تہران کے فرانزک میڈیسن کے ڈائریکٹر جنرل نے تاکید کی: "مرحومہ کی موت کی وجہ کے تعین کے لیے ہمیں کچھ وقت درکار ہے تا کہ لیے گئے نمونوں کے ٹیسٹوں کے نتائج اور باڈی کے پوسٹ مارٹم، میڈیکل ریکارڈ اور معائنہ کے نتائج کو آپس میں ملایا جا سکے۔ کام مکمل ہونے کے بعد اسے فرانزک آرگنائزیشن کی آفیشل رپورٹ کی صورت میں جوڈیشل اتھارٹی کو پیش کیا جائے گا۔” . پر امن احتجاج کے حق کو آئین اور عام قوانین دونوں میں تسلیم کیا گیا ہے اور جب تک کہ احتجاج کرنے والے غیر روایتی اقدامات کا سہارا نہیں لیتے اس وقت تک انہیں تحفظ حاصل ہے۔ تاہم، اگر وہ سرد یا گرم ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہیں اور امن عامہ کو خراب کرتے ہیں اور لوگوں کے لیے دہشت پیدا کرتے ہیں تو وہ اپنے مجرمانہ اقدامات کے لئے قانونی طور پر ذمہ دار ہوں گے اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ بین الاقوامی انسانی حقوق کی دستاویزات جیسے شہری اور سیاسی حقوق پر بین الاقوامی معاہدہ اور انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ بھی حقوق کے استعمال کے لیے کچھ پابندیاں عائد کر تا ہے جس میں اشم ضبط، صحت یا عوامی اخلاقیات کا احترام ، قومی سلامتی کو برقرار رکھنا اور دوسروں کے حقوق اور آزادیوں احترام کرنا شامل ہے۔ محترمہ امینی کی وفات کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں ہونے والے کے اجتماعات بد قسمتی سے پرامن حالت سے نکل کر پرتشدد مظاہروں اور شورش میں تبدیل ہو گئے۔ تخریب کاری پر مبنی ان اجتماعات کے دوران بہت کی سرکاری اور نجی املاک کو آگ لگا دی گئی یا لوٹ ۔ کی گئی، ان فسادیوں کے سرد اور گرم ہتھیاروں سے کچھ قانون نافذ کرنے والے اہلکار اور عام لوگ ہلاک یا زخمی ہوئے۔

    ایرانی سفارتخانے کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران میں رونما ہونے والے حالات پر انسانی حقوق کی حمایت کا دعوی کرنے والے ممالک کے وہ حکام جو مگر مچھ کے آنسو بہا رہے ہیں اور ان میں امریکہ نمایاں ہے، وہ خود انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر کے تمام بین الا قوامی اداروں اور انسانی تصورات کا مذاق اڑاتے رہے ہیں۔ امریکہ انسانی حقوق کی سب سے بڑی خلاف ورزی کرنے والوں کی براہ راست حمایت بھی کر رہا ہے اور خود عراق، افغانستان اور خطے کے دیگر ممالک میں ہزاروں بے گناہ لوگوں کے قتل کا براہ راست ذمہ دار بھی ہے۔ گزشتہ چار دہائیوں کے دوران، اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف بلیک میلنگ اور سیاسی دباؤ اور پروپیگنڈہ کے لیے مغربی ممالک کی جانب سے انسانی حقوق کو حربے کے طور پر استعمال واضح ہے۔ انسانی حقوق کا بہانہ بنا کر ایران کے اندرونی معاملات میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مداخلت پسندانہ بیانات مسترد کرتے ہیں اور یہ سب نا قابل قبول ہیں۔ یہ بیانات اس وقت دینے جارہے ہیں کہ جب امریکہ اس اس کے حلیف کئی سالوں سے ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ اور مفلوج کرنے والی پابندیوں کا بانی اور حامی ہیں جس کی وجہ سے وہ خود ہزاروں ایرانی بیمار بچوں کی موت کے ذمہ دار بھی ہیں۔

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”556088″ /]

    واضح رہے کہ ایرانی پولیس نے 22 سالہ مھسا امینی کو حجاب نہ کرنے پر حراست میں لیا تھا اور تین دن بعد طبیعت خراب ہونے پر اسپتال منتقل کیا جہاں وہ 16 ستمبر کو انتقال کرگئیں۔ ایرانی پولیس نے مھسا امینی پر تشدد کرنے کا الزام مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مھسا امینی کو دل کے دورے باعث اسپتال منتقل کیا تھا۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ ایران میں گزشتہ دنوں کے دوران ہونے والے جلاؤ گھیراؤ اور پر تشدد واقعات میں اہم کردار ادا کرنے والے داعش کے ک‏ئی دہشتگردوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بلوہ و فساد کرانے میں داعش کے دہشتگرد پیش پیش تھے۔

    ‏سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلانا اورانکو بلاتصدیق فارورڈ کرنا جرم ہے، آصف اقبال سائبر ونگ ایف آئی اے

    سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار

    قصور کے بعد تلہ گنگ میں جنسی سیکنڈل. امام مسجد کی مدرسہ پڑھنے والی بچیوں کی ساتھ زیادتی

    بیوی کمرے میں سوئی ،صحن میں سوئے شوہر پر گولیاں چل گئیں

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    سابق اہلیہ کی غیراخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والے ملزم پر کب ہو گی فردجرم عائد؟

  • مظاہرین پرتشدد؛برطانیہ نےایرانی حکام پرپابندیاں عائد کردیں

    مظاہرین پرتشدد؛برطانیہ نےایرانی حکام پرپابندیاں عائد کردیں

    لندن: ایران میں مھسا امینی کی موت پر احتجاج کرنے والوں سے سختی سے نمٹنے پر برطانیہ نے ایران کی اخلاقی پولیس اور دیگر اعلیٰ سیکیورٹی افسران پر پابندیاں عائد کردی ہیں۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایران میں 22 سالہ مھسا امینی کی دوران حراست موت کے بعد سے دارلحکومت سمیت ملک بھر میں پُرتشدد مظاہرے جاری ہیں، ایرانی پولیس مظاہروں کو دبانے کیلئے مسلسل طاقت کا استعمال کررہی ہے، جس پر امریکا، برطانیہ سمیت دیگر ممالک نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    برطانوی وزارت خارجہ نے مظاہرین کیخلاف طاقت کا استعمال کرنے پر ایران کی اخلاقی پولیس اور اعلیٰ سیکیورٹی حکام پر پابندیاں عائد کردی ہیں۔

    برطانیہ کی پابندی کے بعد ایران کی اخلاقی پولیس کا کوئی بھی اہلکار یا افسر اور دیگر اعلیٰ سیکیورٹی افسران برطانیہ نہیں جاسکیں گے جب کہ برطانیہ میں موجود ان کے اثاثے منجمد ہوجائیں گے۔

    برطانوی نشریاتی ادارے کا دعویٰ ہے کہ ایران میں رواں ہفتے مھسا امینی کی موت کے خلاف احتجاج کرنے والے سیکڑوں افراد ایرانی پولیس کے تشدد سے ہلاک ہوچکے ہیں جب کہ بڑے پیمانے پر مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ہے اور انٹرنیٹ بھی بند ہے۔

    واضح رہے کہ امریکا اور کینیڈا پہلے بھی ایرانی سیکیورٹی حکام پر پابندی عائد کرچکے ہیں جب کہ یورپی یونین بھی ایسے ہی اقدامات اٹھانے جارہا ہے۔

  • ایران میں احتجاج جاری: ملک کی سب سےبڑی آئل ریفائنری کےملازمین نے ہرٹال کر دی

    ایران کی سب سےبڑی آئل ریفائنری کےملازمین نےمنگل کےروز ہڑتال کردی ہے-

    باغی ٹی وی : ایران میں جاری بدامنی کے دوران میں احتجاجی تحریک ایران کی تیل کی اہم صنعت تک پھیل گئی ہے انسانی حقوق کارکنان کی خبررساں ایجنسی (ایچ آر اے این اے) کی جانب سے پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تیل کی دولت سے مالامال صوبہ خوزستان میں واقع شہرآبادان کی ریفائنری کے باہردرجنوں مزدورجمع ہو رہے ہیں۔


    آبادان ریفائنری ایران کی سب سے بڑی اور مشرق اوسط میں واقع تیل صاف کرنے کا قدیم ترین کارخانہ ہے۔تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ موجودہ صورے حال میں ایرانی حکومت اپنی تیل کی صنعت میں بڑے حملوں کا سامنا نہیں کر سکے گی۔


    کارنیگی انڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس کے سینئر فیلو کریم ساجدپور نے ٹویٹر پرلکھا کہ 1978ء کے اوائل میں ایران کی آبادی ساڑھے تین کروڑ نفوس پر مشتمل تھی۔اس وقت وہ 60 لاکھ بیرل یومیہ تیل پیدا کررہا تھا۔تب ہڑتالی تیل کارکنوں نے تیل کی پیداوار کو کم کرکے 15 لاکھ بیرل یومیہ کردیا تھا جس سے شاہ ایران رضا شاہ پہلوی کی حکومت کا خاتمہ ہوگیا تھا۔


    انہوں نے کہا کہ آج کے ایران کی آبادی آٹھ کروڑ30 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے اور وہ روزانہ 25 لاکھ بیرل خام تیل پیدا کرتا ہے۔ایرانی حکومت تیل کی صنعت سے وابستہ کارکنوں کی ایک طویل یا مستقل ہڑتال کی متحمل نہیں ہوسکتی ہے۔


    ان کے بہ قول 1979 کے انقلاب میں بھی ہڑتال کرنے والے تیل کارکنوں نے ’’اہم کردارادا کیا‘‘ تھا۔اس احتجاجی تحریک نے ایران کے سابق شاہ کا تختہ الٹ دیا تھا اور’’اسلامی جمہوریہ‘‘ ایران کا ظہورہوا تھا۔


    ایک مقامی عہدہ دار نے منگل کے روزدعویٰ کیا ہے کہ عسلویہ میں پیر کی ہڑتال اجرت کے تنازع پرتھی اوراس کا ملک بھر میں جاری حکومت مخالف مظاہروں سے کوئی تعلق نہیں تھا –


    ایران کے جنوب میں واقع پیٹروکیمیکل پلانٹس کے ملازمین نے پیر کے روز ہڑتال کردی تھی ساحلی شہرعسلویہ میں واقع بوشہر،دماوند اور ہنگم پیٹرو کیمیکل پلانٹس کے ایک ہزار سے زیادہ کارکنوں نے ہڑتال کی اور اپنے مطالبات کے حق میں حکومت کے خلاف احتجاج کیا تھا۔

    ایران کے تیل مزدوروں نےایسے وقت میں یہ ہڑتال کی ہےجب ستمبر کے وسط سےملک بھرکے شہروں اورقصبوں میں پہلے ہی مہساامینی کی موت کےردعمل میں حکومت مخالف مظاہروں کاسلسلہ جاری ہےاوریہ احتجاجی تحریک سیاسی شکل اختیارکرگئی ہےمظاہرین اب سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف نعرے لگارہے ہیں اور حکومت کے خاتمے کامطالبہ کررہے ہیں۔

  • ہیکرز کا ایرانی سپریم لیڈرعلی خامنہ ای کو سخت پیغام

    ہیکرز کا ایرانی سپریم لیڈرعلی خامنہ ای کو سخت پیغام

    ایرانی حکومت کے مخالف ہیکروں نے ایک نیوز بلیٹن کے دوارن ٹی وی کی نشریات ہیک کر کے ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو پیغام دیا ہے کہ سخت پیغام ‘ آپ کے ہاتھ ہمارے نوجوانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں ۔

    باغی ٹی وی :ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کو ہفتے کی رات اس کے مرکزی نیوز پروگرام کے درمیان میں ہیک کر لیا گیا تھا جس میں سپریم لیڈر کو "خواتین، زندگی اور آزادی” کے نعروں میں دکھایا گیا تھا۔

    اعلیٰ امریکی حکام کی اہم افغان طالبان رہنما سے ملاقات


    یہ ہیکر گروپ ‘عدالت علی’ کے نام سے سامنے آیا ہے اس ہیکر گروپ نے ٹی وی نشریات ہیک کرنے کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے۔ واضح رہے ٹی وی کی نشریات گذشتہ شام چھ بجے ہیک کی گئیں۔

    اس دوران دکھائی گئی ایک تصویر میں ظاہر کیا گیا ہے کہ علی خامنہ ای آگ کے شعلوں اور بندوقوں کے کراس میں گھرے ہوئے ہیں آیت کے ساتھ مہسا امینی اور تین نوعمر لڑکیوں کی تصاویر دکھائی گئی تھیں۔


    اس تصویر میں ایرانی عوام کے لیے ایک پیغام تھا، جس میں ان سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ احتجاج میں شامل ہوں اور اس بغاوت کا حصہ بنیں جو حجاب پولیس کی حراست میں 22 سالہ امینی کے قتل سے بھڑک اٹھی تھی۔

    سال کے شروع میں، اس گروپ نے ٹیلی ویژن کی ویب سائٹ کو ہیک کیا اور ایک ہفتہ قبل چند ٹی وی اور ریڈیو چینلز کو متاثر کرنے کے بعد ایک سخت مخالفانہ پیغام کے ساتھ ایک ویڈیو نشر کیا۔ ویڈیو کا آغاز تہران کے آزادی اسٹیڈیم میں لوگوں کی فوٹیج سے ہوا جس میں سپریم لیڈر علی خامنہ کا حوالہ دیتے ہوئے "آمر برے ڈکٹیٹر” کا نعرہ لگایا گیا، پھر یہ فلم وی فار وینڈیٹا کے مرکزی کردار سے ملتے جلتے ایک نقاب پوش شخص کے قریب سے کاٹ دی گئی، جس نے کہا کہ "خامنہ خوفزدہ ہے، حکومت کی بنیاد ہل رہی ہے۔

    روس نے کئی علاقوں سے پسپائی کے بعد یوکرین آپریشن کیلئے نیا فوجی جنرل مقررکردیا

    ستمبر کے وسط میں مظاہروں کے آغاز کے بعد سے، کئی ہیکنگ گروپس ایرانیوں کی سرکاری ویب سائٹس اور آن لائن سروسز کو نشانہ بنانے میں مدد کر رہے ہیں۔ انہوں نے متعدد دستاویزات جاری کی ہیں اور سینکڑوں نگرانی والے کیمروں میں خلل ڈالا ہے۔

    ایران بائیس سالہ مہسا امینی کی پولیس حراست میں ہلاکت کے بعد مسلسل احتجاجی مظاہروں کی زد میں ہے۔ امینی کو 13 ستمبر کو ایران کی اخلاقی پولیس نے گرفتار کیا تھا اور تین دن بعد امینی کی لاش سامنے آگئی تھی۔

    تاہم ایک سرکاری ڈاکٹر نے پوسٹ مارٹم رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امینی کی موت پولیس تشدد سے نہیں دماغی مرض کی وجہ سے ہوئی تھی ، کیونکہ اس خاص قسم کے دماغی مرض کی وجہ سے انسانی اعضا کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔

    دوسری جانب امینی کے والدین اس امر کا انکار کرتے ہیں کہ امینی کسی قسم کے عارضے میں مبتلا تھی۔ امینی کی موت کے بعد مسلسل احتجاجی مظاہروں کے دوران 150 سے زائد افراد کی ہلاکت ہو چکی ہے اور ہزاروں لوگ جیل بھیج دیے گئے ہیں۔

    شمالی کوریا نے مزید دو بیلسٹک میزائل داغ دیئے

    ایران انٹر نیشنل نے رپورٹ کیا ہے کہ عدالت علی نامی  یہ ایرانی رجیم کے خلاف سرگرم ہیکرز گروپ ہے یہ ہیکر گروپ ‘مرگ بر آمر’ جیسے سخت نعروں پر مبنی پیغام بھی ہیکنگ کے بعد چھوڑ چکا ہے ۔ اب امینی کی ہلاکت کے بعد اس نے نئے سرے اپنی سرگرمیوں کو موثر بنانے کی کوشش کی ہے۔ اسی لیے خامنہ ای کو ہدف بنا کر اپنے پیغامات بھجوائے ہیں۔

  • بیٹی کے جنازے پرباپ کے رقص کی ویڈیو وائرل،کیا ہے حقیقت؟

    بیٹی کے جنازے پرباپ کے رقص کی ویڈیو وائرل،کیا ہے حقیقت؟

    ایرانی میڈیا پر ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر جس میں باپ اپنی بیٹی کے جنازے پر رقص کررہا ہے ،صارفین کی جانب سے اس ویڈیو کو ایران میں حالیہ حکومت مخالف مطاہروں سے منسوب کیا جا رہا ہے-

    باغی ٹی وی : "العربیہ” کے مطابق ایران میں سوشل میڈیا پرجہاں ان دنوں مہسا امینی حکومت مخالف مظاہروں کی ویڈیوز نشر کی جا رہی ہیں وہیں ایک ایسی ویڈیو بھی وائرل ہوئی ہے جس میں ایک شخص کو اپنی فوت ہونے والی بیٹی کے جنازے پر رقص کرتے دکھایا گیا ہے۔

    ایران میں زیرحراست خاتون کی پولیس کے تشدد سے موت "ناقابل معافی”…

    یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اس ویڈیو کے حوالے سے صارفین کی جانب سے مختلف کہانیاں جوڑی جا رہی ہیں خاص طور پر جب کچھ لوگوں نے اسے مہسا امینی کے قتل کے بعد حکومت کے خلاف جاری حالیہ مظاہروں سے جوڑا تو اسے بہت زیاہ شیئر کیا گیا-

    بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ لڑکی کے والد نے اس کی زندگی میں اس سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس کی شادی میں ڈانس کرے گا مگربیٹی شادی سے قبل ہی فوت ہو گئی تھی چنانچہ والد نے اس کے جنازے پراپنا وعدہ پورا کیا۔

    ایران: مظاہروں میں 17 افراد جاں بحق، امریکی پابندیاں لگ گئیں

    یہ ویڈیو کئی برس پرانی ہےلیکن سچ یہ ہے کہ خبر رساں ایجنسی ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق ایران میں ہونے والے مظاہروں سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ منظر ایک آذربائیجانی ٹی وی سیریز "Ata Ocaği” کے ایپیسوڈ 78 کا ہے۔ یہ واقعہ 8 جنوری 2018 کو یوٹیوب پر آذربائیجان کے قومی ٹیلی ویژن چینل Xezer TV کے ذریعےنشرکیا گیا تھا رقص کا کلپ ایپی سوڈ کے 18ویں منٹ میں قبرستان میں شوٹ کیا گیا تھا۔

    اس کلپ میں میں اداکاری کا کردار قربان اسماعیلوف نے ادا کیا ہے، جس کا نام یوٹیوب ویڈیو پر کمنٹری میں بتایا گیا ہے اور اس کے فیس بک پیج پر پروگرام میں اس نےاپنے کام کے بارے میں پوسٹ کیا ہے۔

    واضح رہے کہ مہسا امینی ایک بائیس سالہ نوجوان لڑکی تھی جسےایران کی مذہبی پولیس ’گشت ارشاد‘ نے13 ستمبرکوحجاب کے حکومتی ضوابط کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ گرفتاری کےبعد اسے مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں امینی 16 ستمبر کوپولیس کی حراست میں انتقال کرگئی تھی۔ اس واقعے کے بعد ایران بھرمیں حکومت کے خلاف شدید احتجاج جاری ہے۔

    امریکہ اور ایران کے درمیان منجمد اثاثوں کے بدلے میں قیدیوں کی رہائی کا معاہدہ طے

  • ایران میں پرامن مظاہرین کے خلاف تشدد ،حکومت کو قیمت چکانی ہو گی،امریکی صدر

    ایران میں پرامن مظاہرین کے خلاف تشدد ،حکومت کو قیمت چکانی ہو گی،امریکی صدر

    واشنگٹن : امریکی صدر جوبائیڈن کا کہنا ہے کہ ایران میں پرامن مظاہرین کے خلاف تشدد کرنے والوں کو مزید قیمت چکانی ہو گی۔

    باغی ٹی وی : پیر کی رات کو جاری کیے جانے والے بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ ایران پر ملک بھر میں جاری مظاہروں کے خلاف پرتشدد حربے اختیار کرنے پر ’مزید قیمت‘ چکانا پڑے گی-

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے سینیئر کمانڈر فائرنگ کے واقعے میں ہلاک

    ایران میں 16 ستمبر کو 22 سالہ مہسا امینی کی اخلاقی پولیس کی حراست میں ہلاکت کے بعد مظاہرے جاری ہیں۔ مہسا امینی کو ایران میں قانونی طور پر لازم حجاب کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا۔

    اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ رواں ہفتے امریکہ پرامن مظاہرین کے خلاف تشدد کرنے والوں کو مزید قیمت چکانے کے لیے اقدامات کرے گا ہم ایرانی حکام کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں اور ایران میں آزادانہ مظاہروں کے حق کی حمایت کرتے ہیں۔

    بائیڈن نے مزید کہا کہ وہ مظاہرین پر شدید جبر کی خبروں پر ’شدید فکر مند‘ ہیں اور واشنگٹن ’ایران کے تمام شہریوں کے ساتھ کھڑا ہے جو اپنی بہادری سے دنیا کو متاثر کر رہے ہیں۔‘

    تاہم صدر بائیڈن نے اس بات کا کوئی اشارہ نہیں دیا کہ وہ کن اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔ ایران پہلے ہی امریکی اقتصادی پابندیوں کی زد میں ہے جس کا تعلق اس کے متنازع جوہری پروگرام سے ہے۔

    گذشتہ ماہ ایک 22 سالہ خاتون مہسا امینی کی درست طریقے سے حجاب نہ پہننے کے معاملے پر پولیس کی زیر حراست ہلاکت کے بعد ایران میں حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں۔

    ایران کا عراقی کردستان پرڈرون حملہ، 13افراد ہلاک متعدد زخمی

    مظاہروں کی آگ بعدازاں امینی کے آبائی صوبے کردستان سے نکل کر پورے ایران میں پھیل گئی اور اس دوران کئی خواتین نے احتجاجاً اپنے سکارف کو جلایا اور اپنے بال کاٹ دیے۔

    ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے خبردار کیا ہے کہ مہسا امینی کی موت پر غم و غصے کے باوجود عوامی سلامتی ’حکومت کے لیے سرخ لکیر‘ ہے اور کسی کو بھی قانون شکنی اور افراتفری پھیلانے کی اجازت نہیں ہے۔

    ایران میں جاری مظاہروں کی امریکہ سمیت دنیا کے کئی ممالک نے حمایت اور حکومتی کریک ڈاؤن پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

    چند روز قبل اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریس نے ایرانی صدر ابراہیم رئیسی پر زور دیا تھا کہ وہ پولیس حراست میں ایک نوجوان خاتون کی ہلاکت کے بعد سڑکوں پر نکلنے والے مظاہرین کے خلاف ’حد سے زیادہ طاقت‘ کا استعمال نہ کریں۔

    ایران کے سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ ای نے ملک گیرمظاہروں کا مقابلہ کرنے والی سکیورٹی فورسز کی بھرپورحمایت کردی ہے اور کہا ہے پولیس حراست میں نوجوان خاتون کی ہلاکت کے بعد بھڑکنے والے مظاہرے منصوبہ بند تھےاور یہ عام ایرانیوں کے اقدامات نہیں۔

    علی خامنہ ای نے ایران میں دو ہفتے سے زیادہ عرصے سے جاری بدامنی پر پیر کو اپنے پہلے تبصرے میں کہا کہ 22 سالہ مہسا امینی کی موت نے میرا دل توڑ دیا ہے اوریہ ایک ’’تلخ واقعہ‘‘تھا۔

    لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ کچھ لوگوں نے سڑکوں پرامن وامان کا مسئلہ پیدا کیا ہے انھوں نے مظاہروں کومنصوبہ بند ’’فسادات‘‘ کے طور پر بیان کیا، اور ایران کے کٹر مخالفین امریکا اوراسرائیل پران مظاہروں کی منصوبہ بندی کا الزام لگایا ہے۔

    خامنہ ای نے کہا کہ پولیس سمیت ہماری سکیورٹی فورسز کی ذمہ داری ایرانی قوم کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ جو لوگ پولیس پر حملہ کرتے ہیں وہ ایرانی شہریوں کو ٹھگوں، ڈاکوؤں اور بھتاخوروں کے خلاف بے بس چھوڑ رہے ہیں-

    ایران میں احتجاج :700سے زائد مظاہرین گرفتار، فیصلہ کن طریقےسےنمٹیں گے،ایرانی صدر…

    انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق پولیس اور رضاکار بسیج ملیشیا سمیت سکیورٹی فورسز مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کی قیادت کررہی ہیں۔ان میں 130 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں، سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں اورملک بھر میں ہزاروں افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

    ایرانی حکام نے بدامنی کے دوران میں سکیورٹی فورسزکے بہت سے ارکان کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے ۔یہ احتجاجی تحریک گذشتہ چارسال میں ایران کی شیعہ علماء کی اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت کا سب سے بڑا مظاہرہ ہے۔

    خامنہ ای نے کہا کہ مظاہروں کے دوران میں سکیورٹی فورسز کو’ناانصافی‘ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔حالیہ واقعات میں، یہ پولیس اور بسیج سمیت تمام سکیورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ ایران کے عوام سے بھی ناانصافی کی گئی ہے۔

    دوسری جانب گرفتاریوں اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں اضافے کے باوجود ایران میں یونیورسٹی کے طلبہ نے احتجاج جاری رکھا ہوا ہے۔ طلبہ سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بننے والے افراد کے ساتھ اظہار یکجہتی کر رہے ہیں۔

    ایران کے شمال مغرب میں واقع آذربائیجان صوبے کے دارالحکومت ان مظاہروں کو کچلنے کی کوشش میں سکیورٹی فورسز نے تبریز یونیورسٹی کے طلبہ پر چڑھائی کردی اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔

    ایران:مھسا امینی کی زیرحراست موت کے بعد ہنگامے،ملک میں بغاوت کا سماں :50 افراد…

    ایران میں تیل اور پیٹرو کیمیکل کے شعبے میں کام کرنے والے ورکر بھی ایران میں جاری تاریخی احتجاجی تحریک میں شامل ہوگئے ہیں۔ حزب اختلاف کی ویب سائٹ "ایران انٹرنیشنل” کے مطابق ان مزدوروں نے ہڑتال کر اعلان کردیا ہے۔

    ٹھیکہ پر کام کرنے والے آئل ورکرز کے احتجاج کو منظم کرنے والی کونسل نے ٹیلی گرام پر بتایا کہ "دانا اسالویہ” پیٹرو کیمیکل کمپنی میں کام کرنے والے متعدد ورکرز نے ہڑتال شروع کر دی ہے۔

    کارکنوں کی ہڑتال کی وجہ دو ماہ سے ان کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی بتائی گئی۔ تاہم آئل ورکرز نے ایرانی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر گرفتاریاں، قتل عام، جبر اور خواتین کے ساتھ بدسلوکی کا سلسلہ ختم نہ ہوا تو ان کی احتجاجی ہڑتال ختم نہیں ہوگی-

    اس انتباہ کے بعد ایرانی تیل کی صنعت کے آپریشنل شعبوں میں کام کرنے والے سرکاری ملازمین نے بھی عوامی احتجاج کی حمایت کا اعلان کردیا ہے۔

    دوسری طرف ٹیچرز یونین کوآرڈینیشن کونسل نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں اساتذہ اور طلباء پر زور دیا گیا کہ وہ تمام مظاہرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں اور منگل کو سکولوں میں دھرنا دیں اور کلاسوں میں جانے سے گریز کریں۔

    ایران: مظاہروں میں 17 افراد جاں بحق، امریکی پابندیاں لگ گئیں

    ایران کے اسکولوں میں اس کے خلاف مظاہرےشروع ہوگئےہیں ایک ایرانی اسکول میں طالبات نےحجاب اتارکر مظاہرے کئے اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ ایرانی قائدین کے پوسٹر پیروں تلے روندے گئےطالبات نےتانا شاہی کے خلاف نعرے لگائے اور حجاب کے معاملہ میں اس موت کو ناقابل برداشت قرار دیا ۔