Baaghi TV

Tag: ایران

  • تہران کی پالیسیوں پر بیان بازی آئی اے ای اے کاکام نہیں،اسماعیل بقائی

    تہران کی پالیسیوں پر بیان بازی آئی اے ای اے کاکام نہیں،اسماعیل بقائی

    ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز، ایران کے میزائل پروگرام یا تہران کی پالیسیوں پر بیان بازی انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کا کام نہیں۔

    اتوار کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا کہ آئی اے ای اے (انٹرنیشنل اٹامک انر جی ایجنسی) کا مینڈیٹ صرف نگرانی اور تصدیق ہے، آبنائے ہرمز، ایران کے میزائل پروگرام یا تہران کی پالیسیوں سے متعلق سیاسی بیانات آئی اے ای کا کام نہیں، ادارے پیشہ ورانہ جانب داری، سیاست یا ذاتی مفادات کی نذر ہو جائیں تو اپنی ساکھ کھو دیتے ہیں ایسے اداروں کی وقت کے ساتھ ساتھ اہمیت کم ہوتی جاتی ہے، آئی اے ای کے سیاسی منشور کے مطابق ادارے کی بنیادی ذمہ داری ایٹمی پروگراموں کی نگرانی اور تصدیق کرنا ہے تاکہ جوہری مواد صرف پُرامن مقاصد کے لیے استعمال ہو۔

    ایران کی جانب سے بین الاقوامی اداروں کے بعض بیانات پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے، اور تہران کا مؤقف ہے کہ عالمی اداروں کو صرف اپنے تکنیکی اور طے شدہ دائرہ کار میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔

    واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے سربراہ نے مغربی ایشیا کی موجودہ صورتحال کو “خطرناک” قرار دیتے ہوئے اسے 1970 کی دہائی کے تیل بحران سے بھی زیادہ سنگین قرار دیا تھاآئی اے ای اے کے سربراہ نے کہا تھا کہ بڑھتے ہوئے عالمی توانائی دباؤ کو کم کرنے کے لیے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ایک بہتر اقدام ہو سکتا ہے، ساتھ ہی انہوں نے ایشیا میں ایندھن کی قلت کی نشاندہی کرتے ہوئے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

    رپورٹ کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز کو اپنے دشمنوں اور ان کے اتحادیوں کے لیے بند کر دیا تھا، یہ اقدام 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف مبینہ جارحیت کے بعد اٹھایا گیا۔

  • ایرانی سپریم لیڈر نے مسلح افواج کے سربراہ سے ملاقات،نئی ہدایات جاری

    ایرانی سپریم لیڈر نے مسلح افواج کے سربراہ سے ملاقات،نئی ہدایات جاری

    ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ایرانی مسلح افواج کی متحدہ کمانڈ کے سربراہ علی عبداللہی سے ملاقات کی،جس میں انہوں نے فوجی کارروائیوں کو جاری رکھنے اور دشمنوں کے خلاف سخت مؤقف اپنانے کے لیے نئی ہدایات جاری کردی ہیں۔

    ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس نیوز کے مطابق اتوار کے روز خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈ کوارٹر کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی نے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کی، جس میں ملک کی مسلح افواج کی تیاریوں سے متعلق بریفنگ دی گئی تاہم رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ ملاقات کب ہوئی۔

    ملاقات کے دوران میجر جنرل علی عبداللہی نے سپریم لیڈر کو یقین دہانی کرائی کہ ایرانی مسلح افواج ’’امریکی اور صیہونی دشمنوں‘‘ کی کسی بھی ’’اسٹریٹجک غلطی‘‘ یا حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں،ایران کے تمام جنگجوؤں کا مورال بلند ہے جب کہ دفاعی اور جارحانہ تیاریوں، اسٹریٹجک منصوبہ بندی اور ضروری ہتھیاروں کے حوالے سے مکمل آمادگی موجود ہے۔

    ایرانی کمانڈر نے خبردار کیا کہ اگر دشمن کسی قسم کی ’’اسٹریٹجک غلطی، جارحیت یا حملہ‘‘ کرتا ہے تو ایرانی افواج اس کا ’’تیز، شدید اور طاقتور‘‘ جواب دیں گی، ایرانی مسلح افواج سپریم لیڈر کے احکامات پر مکمل عمل کرتے ہوئے اسلامی انقلاب کے نظریات، ایران کی خودمختاری، قومی مفادات اور ایرانی عوام کے دفاع کے لیے آخری سانس تک ڈٹی رہیں گی۔

    ایرانی سپریم لیڈر نے ایرانی مسلح افواج کی کارکردگی کو سراہا اور امریکا- اسرائیل جنگ کے بعد دشمن کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کے لیے نئی ہدایات بھی جاری کیں۔

    واضح رہے دو روز قبل ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا تھا کہ حال ہی میں ان کی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے تفصیلی ملاقات ہوئی جو دو گھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہی ملاقات کے دوران سب سے نمایاں چیز سپریم لیڈر کا عاجزانہ، دوستانہ اور بے تکلف انداز تھا۔ گفتگو کے دوران کھلے دل سے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے رواں برس فروری کے آخر میں ایران پر فضائی حملوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا تھا ان حملوں میں آیت اللہ سید علی خامنہ ای سمیت ہزاروں افراد شہید ہوئے تھے جن میں خواتین، بچے، فوجی کمانڈر اور حکومتی عہدیدار بھی شامل تھےایران نے ان حملوں کے جواب میں اسرائیلی زیر قبضہ علاقوں اور خطے میں موجود امریکی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے تھے جنگ کے 40 روز بعد پاکستان کی ثالثی میں جنگ بندی عمل میں آئی تاہم اسلام آباد میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کسی معاہدے تک نہ پہنچ سکے۔

  • ایران نے پاکستان کے ذریعے  امریکی تجاویز پر باضابطہ جواب بھجوا دیا، ایرانی میڈیا

    ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکی تجاویز پر باضابطہ جواب بھجوا دیا، ایرانی میڈیا

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایران نے امریکا کی جانب سے پیش کی گئی جنگ کے خاتمے کی تجاویز پر اپنا باضابطہ جواب پاکستانی ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن ارسال کر دیا ہے۔

    ایرانی خبر ایجنسی ’اِرنا‘ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران کی جانب سے پیش کیے گئے فریم ورک کے تحت آئندہ مذاکرات کے ابتدائی مرحلے میں صرف جنگ کے مستقل خاتمے کا معاملہ زیرِ بحث آئے گا۔

    رائٹرز کے مطابق دونوں جانب کے ذرائع نے بتایا ہے کہ اس نئی پیش رفت کا مقصد ایک عارضی مفاہمتی یادداشت طے کرنا ہے، جس کے تحت جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز سے جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جائے گی، اس ابتدائی فریم ورک کے بعد ایک مکمل معاہدے پر بات چیت ہوگی، جس میں ایران کے جوہری پروگرام سمیت دیگر پیچیدہ اور دیرینہ اختلافات کے حل پر بھی بات چیت ہوگی۔

    اس سے قبل ایرانی وزارتِ خارجہ نے واضح کیا تھا کہ تہران کی جانب سے امریکی تجاویز پر حتمی موقف داخلی جائزے اور اعلیٰ سطح کے مشوروں کے بعد ہی پاکستانی حکام کے ذریعے واشنگٹن تک پہنچایا جائے گا۔

    واضح رہے کہ پاکستان نے ہی 8 اپریل کو تہران اور واشنگٹن کے درمیان جنگ بندی کرائی تھی جس کے نتیجے میں ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی تقریباً 40 روز سے جاری مشترکہ جارحیت کا سلسلہ تھم گیا تھا۔

  • آبنائے ہرمز میں جہازوں کے کنٹرول اور فیس وصولی ،ایران نے بحری اتھارٹی قائم کردی

    آبنائے ہرمز میں جہازوں کے کنٹرول اور فیس وصولی ،ایران نے بحری اتھارٹی قائم کردی

    ایران نے آبنائے ہرمز میں باقاعدہ ایک بحری اتھارٹی قائم کردی۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی قائم کردی بحری اتھارٹی آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دینے اور ان سے ٹرانزٹ فیس وصول کرنے کی مجاز ہوگی ’لائیڈز لسٹ‘ کے مطابق ’خلیج فارس اسٹریٹ اتھارٹی‘ نے حالیہ دنوں میں ایک نیا طریقہ کار متعارف کرایا ہے جس کے تحت جہازوں کو روانگی سے قبل ٹرانزٹ اجازت نامہ حاصل کرنا اور فیس ادا کرنا ہو گی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو ایک فارم فراہم کیا جا رہا ہے جس میں ملکیت، انشورنس، عملے کی تفصیلات اور مجوزہ راستے سے متعلق مکمل معلومات مانگی گئی ہیں۔

    واضح رہے کہ ایران کے سرکاری چینل نے بھی رواں ہفتے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے ’آبنائے ہرمز سے گزرنے کے خواہشمند جہازوں کو ای میل کے ذریعے قواعد و ضوابط بھیج دیے ہیں،یران نے اس اہم ترین آبی گزرگاہ کو 28 فروری سے بند کر رکھا ہے ،حالات اس وقت اور کشیدہ ہوگئے جب 8 اپریل کو جنگ بندی کے اعلان کے بعد امریکا نے ایران کی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کردی جو تاحال جاری ہے اور اس وجہ سے جنگ بندی مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

  • یو اے ای کا  ایران کے  2 بیلسٹک میزائل اور 3 ڈرونز کو تباہ  کرنے کا دعویٰ

    یو اے ای کا ایران کے 2 بیلسٹک میزائل اور 3 ڈرونز کو تباہ کرنے کا دعویٰ

    متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایران سے داغے گئے 2 بیلسٹک میزائل اور 3 ڈرونز کو تباہ کردیا ہے-

    جمعے کو متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 8 مئی 2026 کو یو اے ای کے فضائی دفاعی نظام نے ایران سے لانچ کیے گئے 2 بیلسٹک میزائل اور 3 ڈرونز (یو اے ویز) کو تباہ کیا ہےایران کے یو اے ای پر اس حملے کے دوران 3 افراد زخمی بھی ہوئے، متحدہ عرب امارات پر ایرانی حملوں کے آغاز سے اب تک فضائی دفاعی نظام مجموعی طور پر 551 بیلسٹک میزائل، 29 کروز میزائل اور 2 ہزار 263 ڈرونز کو نشانہ بنا چکا ہے۔

    وزارت دفاع کے مطابق اب تک زخمی ہونے والوں کی مجموعی تعداد 230 تک پہنچ چکی ہے، جن میں مختلف ممالک کے شہری شامل ہیں زخمیوں میں اماراتی، پاکستانی، مصری، سوڈانی، ایتھوپیئن، فلپائنی، ایرانی، بھارتی، بنگلادیشی، سری لنکن، آذربائیجانی، یمنی، یوگنڈین، لبنانی، افغانی، بحرینی، ترک، عراقی، نیپالی، نائجیرین، عمانی، اردنی، فلسطینی، انڈونیشین، تیونسی، مراکشی اور روسی شہری شامل ہیں۔

    متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ ہلاک افراد کی مجموعی تعداد 3 ہوگئی ہے، جن میں ایک مراکشی شہری بھی شامل ہے، جو مسلح افواج کے ساتھ معاہدے کے تحت خدمات انجام دے رہا تھا جب کہ شہری ہلاکتوں کی تعداد 10 بتائی گئی ہے ان میں پاکستانی، نیپالی، بنگلادیشی، فلسطینی، بھار تی اور مصری شہری شامل ہیں ملک کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور قومی سلامتی، خود مختاری اور استحکام کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

  • تہران کی جانب سے ابھی تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا،مارکو روبیو

    تہران کی جانب سے ابھی تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا،مارکو روبیو

    امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا کو آج ایران کی جانب سے جواب موصول ہونا چاہئیے، تہران کی جانب سے ابھی تک کوئی جواب موصول +نہیں ہوا۔

    امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نےروم میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن ایران کی جانب سے سنجیدہ تجاویز کا منتظر ہے اور امید کرتا ہے کہ ایران موجودہ صورتِ حال میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرے گا،ایران کا داخلی نظام اس وقت شدید تقسیم اور غیر مؤثر صورتِ حال کا شکار ہے، جس کی وجہ سے فیصلہ سازی میں تاخیر ہو سکتی ہے،امید کی جا رہی ہے کہ ایران کی جانب سے ایسا مؤقف سامنے آئے جو سنجیدہ مذاکرات کے آغاز کا باعث بنے۔

    انہوں نے کہا کہ گزشتہ رات کی رپورٹس کے مطابق ایران آبنائے ہرمز میں ٹریفک کنٹرول کرنے کے لیے کوئی نیا ادارہ قائم کرنے یا اس کی کوشش کر رہا ہے، جو کہ ان کے بقول ناقابلِ قبول اور سنگین مسئلہ ہوگا، واشنگٹن چاہتا ہے کہ موجودہ صورتِ حال ایک ایسے سفارتی عمل میں تبدیل ہو جس کے ذریعے کشیدگی کم ہو اور بامعنی مذاکرات شروع کیے جا سکیں، عالمی برادری نہیں چاہتی کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوں، جب کہ آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش عالمی تجارت اور انسانی جانوں کے لیے شدید خطرہ بن سکتی ہے۔

    روبیو نے کہا کہ ایران کے خلاف گزشتہ روز کی گئی امریکی فوجی کارروائی، پہلے سے جاری آپریشن ایپک فیوری سے الگ اور مختلف تھی امریکا کی تازہ کارر وائی مکمل طور پر دفاعی نوعیت کی تھی آپریشن ایپک فیوری ایک جارحانہ کارروائی تھی جس کا مقصد ایران کے میزائل لانچنگ نظام، بحریہ اور فضائیہ کو نشانہ بنانا تھا اور ان کے بقول یہ آپریشن پہلے ہی ختم ہو چکا ہے۔

    مارکو روبیو نےکہا کہ ایران کی یہ حرکت بحری قزاقی ہے اور تہران بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہےہرمز میں کشیدگی کے باعث کارگو کے ساتھ انسانی زندگیاں بھی ضائع ہو رہی ہیں کئی ممالک نے امریکا سے آبنائے ہرمز کو کھلوانے کی درخواست کی، اسی لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان ممالک کی مدد کے لیے کھڑے ہوئے۔

    امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ گزشتہ روز امریکی جنگی جہاز بین الاقوامی پانیوں سے گزر رہے تھے کہ اس دوران ایرانی جانب سے فائرنگ کی گئی، جس کے جواب میں امر یکا نے اپنے دفاع میں کارروائی کی،ہم نے صرف دفاع میں جواب دیا تاکہ اپنے آپ کو محفوظ رکھ سکیں صرف احمق ممالک ہی اس وقت جواب نہیں د یتے جب ان پر فائرنگ ہو رہی ہو اور ہم کوئی احمق ملک نہیں ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ امریکا کا مؤقف واضح ہے کہ اگر ایران نے امریکی شہریوں یا مفادات کو خطرے میں ڈالا تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گاہم ان پر حملے نہیں کر رہے بلکہ حملوں کا جواب دے رہے ہیں، جو کچھ بھی ہو رہا ہے دفاع میں ہو رہا ہے صرف ہمارے پاس یہ اقدام کرنے کی قوت ہے اور امر یکا خطے میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے کام کر رہا ہے۔

    امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ دو امریکی مرچنٹ جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں اور اگر امریکی جہازوں پر فائرنگ کی گئی تو امریکا بھی بھرپور جواب دے گا امریکی فورسز پہلے ہی ایران کی 7 فاسٹ بوٹس تباہ کر چکی ہیں ایران میں مہنگائی 70 فی صد تک پہنچ چکی ہے جب کہ ایرانی کرنسی شدید بحران کا شکار ہے آبنائے ہرمز کی بندش سے ایران کو روزانہ 500 ملین ڈالرز کا نقصان ہو رہا ہے اور اس کی 90 فی صد ایکسپورٹ متاثر ہو چکی ہے صدرٹرمپ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ امریکا کے پاس تمام آپشنز موجود ہیں، آبنائے ہرمز پر ایران کا کوئی حق نہیں۔

  • ایران امریکی تجویز کے بارے میں  کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچا ،اسماعیل بقائی

    ایران امریکی تجویز کے بارے میں کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچا ،اسماعیل بقائی

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران ابھی تک امریکی تجویز پر کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچا اور معاملہ تاحال زیر غور ہے۔

    ایرانی سرکاری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے واضح کیا ہے کہ ایران امریکی تجویز کے بارے میں حتمی فیصلہ کرنے کے مرحلے میں نہیں پہنچا اس وقت تہران کی جانب سے امریکا کو کوئی باضابطہ جواب نہیں دیا گیا ہے اور معاملے کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے جب ایران کسی حتمی فیصلے پر پہنچے گا تو اس سے متعلق پیغامات ثالثی کے ذریعے متعلقہ فریقین تک پہنچا دیے جائیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ پیغامات کے تبادلے کے نتائج کی بنیاد پر آئندہ کے اقدامات کا تعین کیا جائے گا سفارتی سطح پر رابطوں اور مشاورت کا سلسلہ جاری ہے اور ایران اپنی قومی پالیسی اور مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرے گا ایران اس معاملے پر تفصیلی غورکر رہا ہے اورحتمی مؤقف بعد میں سامنے لایا جائے گا،ایران اپنے فیصلے سے پاکستان کو آگاہ کرے گا، جو اس عمل میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔

    بدھ کے روز اسماعیل بقائی نے ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ مذاکرات کا تصور کم از کم اس بات کا متقاضی ہے کہ تنازع کے حل کے لیے حقیقی نیت کے ساتھ بات چیت کی جائے، جیسا کہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے 1 اپریل 2011 کے فیصلے (پیرا 157) میں بھی کہا گیا ہے، مذاکرات کے لیے نیک نیتی ضروری ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ مذاکرات محض بحث و تکرار نہیں ہوتے اور نہ ہی انہیں حکم مسلط کرنے، دھوکا دہی، بلیک میلنگ یا جبر کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    واضح رہے کہ بدھ کے روز بھی ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے بتایا تھا کہ تہران امریکا کی اس تجویز کا جائزہ لے رہا ہے جس کا مقصد دو ماہ سے زائد عرصے سے جاری جنگ کا خاتمہ ہے وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایرانی خبر رساں ادارے کے حوالے سے بتایا تھا کہ ایران اپنی رائے ثالث ملک پاکستان کو پہنچائے گا-

  • ٹرمپ نےآئندہ ہفتے ایران امریکا امن معاہدے کا عندیہ دے دیا

    ٹرمپ نےآئندہ ہفتے ایران امریکا امن معاہدے کا عندیہ دے دیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ممکنہ امن معاہدہ آئندہ ہفتے طے پا سکتا ہے جبکہ پاکستان کی ثالثی میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے تیز ہو گئے ہیں۔

    فوکس نیوز کو انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیشرفت ہوئی ہے اور معاہدے کے امکانات روشن ہیں تاہم اگر تہران نے معاہدہ قبول نہ کیا تو فوجی کارروائی دوبارہ شروع ہو سکتی ہے،دوسری جانب ایران نے کہا ہے کہ وہ امریکا کی تازہ تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے اور اپنا جواب پاکستان کے ذریعے واشنگٹن تک پہنچائے گا۔

    رائٹرز کے مطابق امریکا اور ایران ایک محدود اور عارضی معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں جس کا مقصد جنگ بندی، آبنائے ہرمز میں استحکام اور مزید مذا کرا ت کے لیے راستہ ہموار کرنا ہے مجوزہ فریم ورک تین مراحل پر مشتمل ہو سکتا ہے جن میں جنگ کے خاتمے کا باضابطہ اعلان، آبنائے ہرمز کے بحران کے حل کے اقدامات اور30 روزہ مذاکراتی دور (جس میں بڑے تنازعات حل کرنے کی کوشش کی جائے گی) شامل ہیں۔

    سی این این نے رپورٹ کیا کہ ایران اپنا باضابطہ ردعمل جمعرات کو پاکستانی ثالثوں کے ذریعے امریکا کو بھیج سکتا ہے۔

    پاکستان حالیہ سفارتی کوششوں میں اہم ثالث کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ اسلام آباد کو امید ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جلد معاہدہ طے پا جائے گا،اگر معاہدہ پاکستان میں طے پاتا ہے تو یہ ملک کے لیے اعزاز ہوگانائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے گزشتہ دنوں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت مختلف علاقائی رہنماؤں سے مسلسل رابطے رکھے، ایران نے پاکستان کے “تعمیر ی اور ثالثی کردار” کو سراہا ہے، جبکہ پاکستان نے ایک بار پھر زور دیا ہے کہ خطے میں دیرپا امن کے لیے مذاکرات اور سفارتکاری ہی واحد راستہ ہیں-

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو خطے میں کشیدگی کم ہونے کے ساتھ عالمی توانائی منڈیوں میں بھی استحکام آ سکتا ہے۔

  • ایران کیساتھ تعاون کا الزام :امریکا نے عراقی وزیرِ تیل  سمیت متعدد افراد اور کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دیں

    ایران کیساتھ تعاون کا الزام :امریکا نے عراقی وزیرِ تیل سمیت متعدد افراد اور کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دیں

    امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے منسلک نیٹ ورکس اور گروہوں کے خلاف نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے عراق کے نائب وزیرِ تیل سمیت متعدد افراد اور کمپنیوں کو نشانہ بنایا ہے-

    قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے مبینہ تعلقات رکھنے والے نیٹ ورکس کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے عراق کے نائب وزیرِ تیل علی معارج البہادلی کو بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔

    امریکی محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول کے مطابق علی معارج البہادلی پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کرتے ہوئےعراقی تیل کو ایران اور اس کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں کے فائدے کے لیے منتقل کرنے میں معاونت کرتے رہے ہیں۔

    واشنگٹن نے عراق میں ایران سے منسلک گروہوں کے تین سینئر عہدیداروں اور چار عراقی کمپنیوں پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں ان افراد میں مصطفیٰ ہاشم لازم البہادلی، احمد خدیر مکسوس اور محمد عیسیٰ کاظم الشوائلی شامل ہیں۔

    امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بیان میں کہا کہ امریکی محکمہ خزانہ اس وقت خاموش نہیں بیٹھے گا جب ایران عراق کے تیل کے وسائل کو استعمال کرتے ہوئے امریکا اور اس کے شراکت داروں کے خلاف سرگرمیوں کے لیے مالی وسائل حاصل کر رہا ہو۔ یہ کارروائیاں ایران کے تیل اور مالیاتی نظام پر دباؤ بڑھانے کی وسیع حکمت عملی ’اکانومک فیوری‘ کا حصہ ہیں، جس کا مقصد ایران کو مالی وسائل تک رسائی سے روکنا ہے امریکا کا مؤقف ہے کہ یہ نیٹ ورکس خطے میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کی مالی معاونت کرتے ہیں۔

    واضح رہے کہ واشنگٹن ایران پر یہ الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ علاقائی مسلح گروہوں کی حمایت کرتا ہے اور پابندیوں سے بچنے کے لیے غیر رسمی مالی نیٹ ورکس استعمال کرتا ہے، اسی تناظر میں عراق میں ایران کے اثر و رسوخ کو بھی امریکا ایک اہم سیکیورٹی اور سیاسی چیلنج کے طور پر دیکھتا ہے، جس کے باعث واشنگٹن ماضی میں بغداد کی حکومتی شخصیات اور اداروں پر بھی متعدد بار پابندیاں عائد کر چکا ہے۔

  • وزیر خارجہ  اسحاق ڈار سے ایرانی  ہم منصب کا  ٹیلیفونک رابطہ

    وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ایرانی ہم منصب کا ٹیلیفونک رابطہ

    نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے جس میں خطے کی حالیہ صورتحال اور امن و استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے نائب وزیراعظم کو اپنے حالیہ دورہ چین اور وہاں علاقائی و بین الاقوامی امور پر ہونے والی مشاورت کے حوالے سے اعتماد میں لیا گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور پر قریبی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا،ایرانی وزیر خارجہ نے قبضے میں لیے گئے بحری جہازوں سے ایرانی شہریوں کی واپسی میں سہولت فراہم کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور اس ضمن میں پاکستان کی مسلسل سفارتی اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فراہم کی جانے والی حمایت کو سراہا۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق عباس عراقچی نے پاکستان کے وزیر خارجہ اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے ٹیلیفون پر گفتگو کی دونوں وزرائے خارجہ نے خطے میں جاری حالیہ پیش رفت اور بدلتی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیادونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں مذاکرات اور سفارت کاری کے عمل کو جاری رکھنا انتہائی ضروری ہے، گفتگو کے دوران علاقائی ممالک کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا گیا۔

    یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران امریکا کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کی گئی نئی تجویز کا جائزہ لے رہا ہے، جب کہ پاکستان کی جانب سے دونوں ممالک کے درمیان پائیدار حل کے لیے ثالثی کی کوششیں جاری ہیں، امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران آج کسی بھی وقت ثالثوں کے ذریعے امریکی امن تجویز پر اپنا جواب جمع کرا سکتا ہے۔