Baaghi TV

Tag: ایران

  • ایران نے مسلح بلوچ گروپ کے  رکن کو پھانسی دے دی

    ایران نے مسلح بلوچ گروپ کے رکن کو پھانسی دے دی

    ایران نے بلوچستان میں سرگرم ایک مسلح بلوچ گروہ کے ایک مبینہ رکن کو پھانسی دے دی ہے۔

    ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ’تسنیم‘ کے مطابق ایران نے ملک کے جنوب مشرقی صوبے سیستان بلوچستان میں سرگرم ایک مسلح بلوچ گروہ ’انصار الفرقان‘ سے تعلق رکھنے والے ایک مبینہ رکن کو پھانسی دے دی ہے اس کارروائی کو ایران کے شورش زدہ علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کے خلا ف ہونے والی مسلح بغاوت کو کچلنے کی کوششوں کے طور پر دیکھا جا رہا ہے صوبہ سیستان بلوچستان طویل عرصے سے ایرانی سیکیورٹی فورسز اور مختلف مسلح گروہوں کے درمیان تصادم کا مرکز رہا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق سزائے موت پانے والے قیدی کی شناخت عبدالخلیل شاہ بخش کے نام سے ہوئی ہے جس پر سیکیورٹی فورسز کے خلاف مسلح بغاوت اور ایک دہشت گرد گروہ کی رکنیت سمیت متعدد سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ عبدالخلیل شاہ بخش پر الزامات ثابت ہونے کے بعد عدالت نے اسے موت کی سزا سنائی تھی، جس کی بعد میں ملک کی سپریم کورٹ نے بھی توثیق کر دی تھی۔

    انسانی حقوق کی تنظیمیں اکثر ایران میں ہونے والی ان سزاؤں پر تشویش کا اظہار کرتی رہتی ہیں، تاہم ایرانی میڈیا نے عدالتی کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے اسے ملکی سلامتی کے لیے ناگزیر قرار دیا ہے۔

  • یو اے ای نے بھی ایران پر خفیہ حملے کیے، امریکی اخبار کا دعویٰ

    یو اے ای نے بھی ایران پر خفیہ حملے کیے، امریکی اخبار کا دعویٰ

    امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جنرل‘ نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے ایران کے خلاف جاری جنگ میں خاموشی سے حصہ لیتے ہوئے ایرانی اہداف پر فوجی حملے کیے ہیں –

    امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جنرل‘ نے کہا کہ متحدہ عرب امارات، امریکا اور اسرائیل کے بعد تیسرا ایسا ملک بن گیا ہے جس نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف جنگی کارروائیوں میں براہِ راست حصہ لیا ہےان خفیہ حملوں میں خلیج فارس میں واقع ایران کے لاوان جزیرے پر ایک آئل ریفائنری کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے، تاہم متحدہ عرب امارات نے عوامی سطح پر اب تک ان حملوں کا اعتراف نہیں کیا ہے۔

    وال اسٹریٹ جنرل کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لاوان جزیرے پر یہ حملہ اپریل کے اوائل میں اس وقت ہوا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بند ی کا اعلان کیا تھااگرچہ یہ واضح نہیں کہ حملہ جنگ بندی کے اعلان سے پہلے ہوا یا بعد میں، لیکن ایران نے اس وقت اعتراف کیا تھا کہ ایک نامعلوم د شمن نے اس کی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ جوابی کارروائی کے طور پر ایران نے متحدہ عرب امارات اور کویت پر میزائل اور ڈرون داغے تھے۔

    اس معاملے پر متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے وال اسٹریٹ جنرل کی جانب سے تبصرے کی درخواست پر کوئی براہِ راست جواب نہیں دیا، البتہ حکام نے اپنے پرانے بیانات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایران کے حملوں کا جواب دینے کا پورا حق حاصل ہے۔

    واضح رہے کہ رواں سال مارچ میں اسرائیلی میڈیا نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ امارات نے ایران کے ایک پلانٹ کو نشانہ بنایا ہے، جس پر اماراتی حکام نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے جھوٹی خبر قرار دیا تھا،ایران اور امریکا و اسرائیل کے درمیان جاری اس جنگ میں متحدہ عرب امارات کو شدید جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    اماراتی وزارت دفاع کے اعداد و شمار کے مطابق ایران نے متحدہ عرب امارات پر تقریباً 550 بیلسٹک اور کروز میزائلوں سمیت 2200 سے زائد ڈرون دا غے ہیں، جس کے باعث یہ خطے کا سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک بن گیا ہےاگرچہ زیادہ تر حملوں کو فضا میں ہی ناکام بنا دیا گیا، لیکن کچھ میزائل اپنے اہداف کو نشانہ بنانے میں کامیاب رہے۔

  • ایران سے مذاکرات کی ناکامی،ٹرمپ  نے آج قومی سلامتی کا اجلاس بلا لیا

    ایران سے مذاکرات کی ناکامی،ٹرمپ نے آج قومی سلامتی کا اجلاس بلا لیا

    ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہونے کے بعد واشنگٹن میں فوجی آپشن دوبارہ سنجیدگی سے زیر غور آ گیا ہے۔

    امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج اپنی قومی سلامتی ٹیم کے ساتھ ایران جنگ اور آئندہ حکمت عملی پر اہم اجلاس کریں گے، جس میں ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کے آپشنز پر غور متوقع ہے،صدر ٹرمپ اب ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے محدود فوجی کارروائی کی طرف مائل دکھائی دے رہے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق اجلاس میں نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ، سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹکلف اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوں گے،صدر ٹرمپ اب ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے محدود فوجی کارروائی کی طرف مائل دکھائی دے رہے ہیں، صدر ٹرمپ جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ چاہتے ہیں، تاہم ایران کی جانب سے امریکی مطالبات مسترد کیے جانے اور جوہری پروگرام پر بامعنی رعایت نہ دینے کے باعث صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔

    زیر غور آپشنز میں پروجیکٹ فریڈم دوبارہ شروع کرنا بھی شامل ہے، جس کے تحت امریکی بحریہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی رہنمائی اور حفاظت کرتی تھی، ایک آپشن ایران پر دوبارہ فضائی حملے شروع کرنا ہے، جس کے تحت پہلے سے نشان زد تقریباً 25 فیصد اہداف کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے جن پر اب تک حملہ نہیں کیا گیا۔

    اسرائیلی حکومت بھی امریکا پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ ایران کے افزودہ یورینیم ذخائر پر قبضے کے لیے اسپیشل فورسز آپریشن کیا جائے، تاہم امریکی حکام کے مطابق صدر ٹرمپ اس آپریشن کے خطرناک نتائج کے باعث محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں ایران سے متعلق آئندہ فیصلوں میں صدر ٹرمپ کا متوقع دورۂ چین بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے، جہاں وہ چینی قیادت کے ساتھ ایران، تجارت اور خطے کی صورتحال پر بات کریں گے۔

  • پاکستان نےنور خان ائیر بیس پر ایرانی طیاروں سے متعلق امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ  مسترد کر دی

    پاکستان نےنور خان ائیر بیس پر ایرانی طیاروں سے متعلق امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ مسترد کر دی

    پاکستان نے ایرانی طیاروں سے متعلق امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کی رپورٹ مسترد کر دی-

    دفترِ خارجہ نے امریکی نشریاتی ادارے کی اس رپورٹ کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جس میں نور خان ایئربیس پر ایرانی طیاروں کی موجودگی سے متعلق دعوے کیے گئے تھے ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق یہ رپورٹ گمراہ کن، سنسنی خیز اور علاقائی امن و استحکام کی کوششوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے جنگ بندی کے بعد اسلام آباد مذاکرات کے ابتدائی مرحلے کے دوران ایران اور امریکا کے متعدد طیارے پاکستان آئے تھے تاکہ سفارتی عملے، سیکیورٹی ٹیموں اور انتظا می اہلکاروں کی نقل و حرکت میں سہولت فراہم کی جا سکے بعض طیارے اور معاون عملہ آئندہ مذاکراتی مراحل کی توقع میں عارضی طور پر پاکستان میں موجود رہے۔

    بیان کے مطابق اگرچہ باضابطہ مذاکرات دوبارہ شروع نہیں ہوئے، تاہم اعلیٰ سطح کے سفارتی رابطے جاری ہیں اسی تناظر میں ایرانی وزیر خارجہ کے اسلام آباد کے دوروں کے لیے موجودہ انتظامی اور لاجسٹک سہولیات استعمال کی گئیں پاکستان میں موجود ایرانی طیاروں کا کسی فوجی ہنگامی صورتحال یا حفاظتی انتظا م سے کوئی تعلق نہیں، اس حوالے سے کیے جانے والے تمام دعوے قیاس آرائی، گمراہ کن اور حقائق کے منافی ہیں، پاکستان نے ہمیشہ غیر جانبدار، تعمیر ی اور ذمہ دار سہولت کار کا کردار ادا کیا ہےاور کشیدگی میں کمی، مذاکرات کے فروغ اور علاقائی و عالمی امن و سلامتی کے لیےاپنی کوششیں جاری رکھےگا-

  • ایران نے آبنائے ہرمز میں چھوٹی آبدوزیں بھیج دیں

    ایران نے آبنائے ہرمز میں چھوٹی آبدوزیں بھیج دیں

    ایران نے آبنائے ہرمز میں چھوٹی آبدوزیں بھیجنے کا دعویٰ کیا ہے ، جنہیں ”چھپی محافظ“ قرار دیا جا رہا ہے۔

    ایرانی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز میں بھیجی گئیں چھوٹی آبدوزوں کا مقصد اس اہم بحری گزرگاہ کی نگرانی اور دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے بلومبرگ کے مطابق ایران کے پاس ”غدیر کلاس“ کی کم از کم 16 منی آبدوزیں موجود ہیں بین الاقوامی ادارے انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار اسٹریٹیجک اسٹڈیز کے مطابق ہر آبدوز میں 10 سے کم اہلکار سوار ہوتے ہیں۔

    ان آبدوزوں کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ دو ٹارپیڈوز یا چین میں تیار کردہ دو سی-704 اینٹی شپ کروز میزائل لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہیں یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان مختلف امن تجاویز پر اختلافات برقرار ہیں اور حالیہ دنوں میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی تجاویز مسترد کی ہیں۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ آبنائے ہرمز میں پروجیکٹ فریڈم کو دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں –

    پیر کو امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں پروجیکٹ فریڈم دوبارہ شروع کرنے کاعندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن 4 مئی کو روک دیا گیا تھا تاہم اب بڑے فوجی آپریشن کے حصے کے طور پر اسے دوبارہ شروع کیا جائے گا، کارروائی آبنائے ہرمز عبور کرنے والے جہازوں تک محدود نہیں رہے گی، ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا ایران پر دباؤ جاری رکھے گا جب تک کوئی معاہدہ طے نہیں پا جاتا-

    امریکی صدر نے واضح کیا کہ اگر “پروجیکٹ فریڈم” دوبارہ شروع کیا گیا تو اس کا دائرہ کار صرف آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی حفاظت تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کا دائرہ کار مزید وسیع ہو سکتا ہے،ایران یقینی طور پر ہتھیار ڈال دے گا اور معاہدے پر آمادہ ہو جائے گا تاہم اس وقت تک اس پر دباؤ برقرار رکھا جائے گا۔

    انہوں نے ایرانی تجاویز کو احمقانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران پہلے یورینیم دینے پر راضی تھا اور اب انکاری ہے انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی مذاکرات کار چاہتے ہیں کہ افزودہ یورینیم کو نکالنے کے لیے ہم ان کی مدد کریں کیوں کہ ان کے پاس اسے سنبھالنے کی مکمل تکنیکی صلاحیت موجود نہیں۔

  • نیتن یاہوکا افزودہ یورینیم کی موجودگی تک ایران جنگ کے خاتمے سے انکار

    نیتن یاہوکا افزودہ یورینیم کی موجودگی تک ایران جنگ کے خاتمے سے انکار

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے افزودہ یورینیم کی موجودگی تک ایران جنگ کے خاتمے سے انکار کردیا ہے۔

    امریکی ٹی وی کو دیےگئے انٹرویو میں اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے ایران جنگ میں بہت کچھ حاصل کر لیا ہے، لیکن یہ ابھی ختم نہیں ہوئی، ایران کے پاس اب بھی افزودہ یورینیم موجود ہے جسے ایران سے نکالنا ضروری ہے، یورینیم افزودگی کے ایسے مراکز موجود ہیں جنہیں ختم کرنا ہوگا، اب بھی ایسے گروہ موجود ہیں جن کی ایران حمایت کرتا ہے اور ایسے بیلسٹک میزائل بھی ہیں جنہیں وہ مزید بنانا چاہتے ہیں، ابھی بہت کام باقی ہے۔

    اسرائیلی وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ صدر ٹرمپ بھی فوجی آپریشن کے ذریعے ایران سے افزودہ یورینیم نکالنے پر آمادہ ہیں اسرائیل کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرےگا جس میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی تو ہو جائے لیکن لبنان میں حزب اللہ برقرار رہے ایران چاہتا ہےکہ اگر یہاں جنگ بندی ہو جائے تو وہاں بھی جنگ بندی ہوجائے،کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ حزب اللہ وہاں رہے اور لبنان کو مسلسل اذیت دیتی رہے اور اس کے عو ام کو ‘ یرغمال’ بنائے رکھے اس حوالے سے ٹرمپ میری بات سمجھتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ اگر ایران کی حکومت کمزور یا ختم ہو جاتی ہے تو اس کا پورا پراکسی نیٹ ورک بھی ختم ہو جائےگا، حزب اللہ، حماس اور شاید حوثیوں کا بھی خاتمہ ہو جائے، ایران نے پراکسی گروپوں کا جو پورا ڈھانچہ کھڑا کیا ہے، وہ ایرانی حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی گرجائےگا۔

    اسرائیلی وزیراعظم نے تسلیم کیا کہ جنگ سے پہلے کی منصوبہ بندی میں آبنائے ہرمز کی بندش کے مسئلےکا مکمل اندازہ نہیں لگایا گیا تھا چین میزائل کی تیاری میں ایران کی مدد کررہا ہے چین نے میزائل سازی کے کچھ مخصوص پرزے فراہم کیے، لیکن میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتا بعض عرب مما لک کی جانب سے ایسے پیغامات مل رہے ہیں جن میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کی خواہش ظاہر کی گئی ہے۔

    اسرائیلی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ آئندہ 10 برسوں میں اسرائیل کو امریکی فوجی امداد پر انحصار سے آزاد کرنا چاہتاہوں میں چاہتا ہوں کہ امریکا کی مالی مدد خاص طور پر فوجی تعاون کے مالی حصےکو صفر تک لایا جائے، اب وقت آگیا ہے کہ ہم باقی ماندہ فوجی امداد پر انحصار ختم کریں اور امداد کے تعلق کو شراکت داری میں بدل دیں، اسرائیل کو ہر سال تقریباً 3.8 ارب ڈالر کی امریکی فوجی امداد ملتی ہے۔

    واضح رہے کہ امریکا نے 2018 سے 2028 تک اسرائیل کو مجموعی طور پر 38 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرنے کا وعدہ کر رکھا ہے۔

  • برطانیہ نے ایران سے وابستہ 12 افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کر دیں

    برطانیہ نے ایران سے وابستہ مبینہ نیٹ ورک کے 12 افراد اور اداروں پر برطانیہ اور دیگر ممالک میں حملوں کی منصوبہ بندی اور مالی معاونت فراہم کرنے کے الزامات پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

    رائٹرز کے مطابق برطانوی دفترخارجہ نے بتایا کہ پابندیوں کا نشانہ بننے والے افراد اور ادارے ایران سے منسلک ایک مبینہ مجرمانہ نیٹ ورک سے تعلق رکھتے ہیں، جسے “زندشتی نیٹ ورک” کے نام سے بیان کیا گیا ہے ان افراد اور اداروں پر عائد پابندیوں کا مقصد انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، بیرونِ ملک دشمنانہ سرگرمیوں اور برطانیہ کے خلاف مبینہ خطرات کو روکنا ہے۔

    برطانوی حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ان افراد پر حملوں کی منصوبہ بندی، خفیہ کارروائیاں اور ایسے گروہوں کی مالی معاونت شامل ہے جن پر عدم استحکام پھیلانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں کچھ افراد براہ راست حملوں میں شریک رہے جب کہ دیگر نے مالی خدمات یا معاونت فراہم کی عائد کی گئی پابندیوں میں اثاثے منجمد کرنا، سفری پابندیاں اور بعض افراد کے لیے کمپنی ڈائریکٹر بننے پر پابندی جیسے اقدامات شامل ہیں۔

    برطانیہ کے موجودہ قوانین کے تحت برطانوی شہریوں، کمپنیوں اور اداروں کو پابندیوں کی زد میں آنے والے افراد یا تنظیموں کو مالی یا تجارتی سہولت فراہم کرنے سے منع کیا گیا ہے یہ کارروائی ایران سے منسلک نیٹ ورکس اور پراکسی گروہوں کی سرگرمیوں کے خلاف کی گئی ہے جن پر یورپ میں حملوں اور خفیہ آپریشنز میں ملوث ہونے کے شبہات ہیں۔

    برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمز نے بتایا کہ ان کی حکومت پہلے ہی ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے خلاف سخت قانون سازی پر غور کر رہی ہےان کے بقول ان قوانین کے تحت ایران سے منسلک پراکسی گروہوں کو غیر ملکی خفیہ نیٹ ورکس قرار دے کر ان کے لیے کام کرنے والوں کو 14 سال تک قید کی سزا دی جاسکے گی۔

    واضح رہے کہ حالیہ مہینوں میں برطانیہ میں یہودی عبادت گاہوں، کمیونٹی مراکز اور دیگر مقامات پر حملوں اور آتش زنی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے جن کے پیچھے بعض ایرانی حمایت یافتہ گروہوں کا شبہ ظاہر کیا گیا برطانوی حکومت اس قبل متعدد بار اعتراض اُٹھا چکی ہے کہ ایران سے وابستہ عناصر سوشل میڈیا کے ذریعے جرائم پیشہ افراد کو بھرتی کرکے تخریب کاری، جاسوسی اور حملوں کی کوششیں کر رہے ہیں۔

  • ایرانی وزیرِ خارجہ کاسعودی ہم منصب سے رابطہ

    ایرانی وزیرِ خارجہ کاسعودی ہم منصب سے رابطہ

    ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے 24 گھنٹوں کے دوران دوسری مرتبہ اپنے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے –

    ایرانی خبر رساں ادارے ’ارنا‘ کے مطابق ایران اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی رابطوں میں غیر معمولی تیزی دیکھی جا رہی ہے، خطے میں جاری کشیدگی اور ثالثی کوششوں کے تناظر میں دونوں ممالک کے درمیان مسلسل مشاورت جاری ہے، ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے صرف 24 گھنٹوں کے دوران دوسری مرتبہ اپنے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے۔

    دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والی تازہ گفتگو میں خطے کی مجموعی صورتِ حال، حالیہ علاقائی پیش رفت اور ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا گفتگو کے دوران پاکستان کی ثالثی میں جاری مذاکراتی کوششوں اور ان کی تازہ ترین پیشرفت پر بھی مشاورت کی گئی۔

    رپورٹس کے مطابق عباس عراقچی اور شہزادہ فیصل بن فرحان کے درمیان اس سے قبل بھی رابطہ ہوا تھا، جس کے بعد 24 گھنٹوں میں یہ دوسرا ٹیلیفونک رابطہ ہے، جو خطے میں بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمیوں کی عکاسی کرتا ہے اس سے قبل 10 مئی کو بھی ایرانی وزیر خارجہ نے سعودی عرب، قطر اور نیدرلینڈز کے اپنے ہم منصبوں سے ٹیلی فونک رابطے کیے تھے، جن میں مشرقِ وسطیٰ کی تازہ ترین علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

  • امریکی صدر نے نیٹو کو ”پیپر ٹائیگر“ قرار دیا

    امریکی صدر نے نیٹو کو ”پیپر ٹائیگر“ قرار دیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ایران میں موجود تمام اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے امریکا کو صرف 2 ہفتے درکار ہوں گے۔

    انڈیپنڈنٹ جرنلسٹ شریل اٹکنسن کو دیے گئے انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران میں اب تک تقریباً 70 فیصد اہداف کو نشانہ بنایا ہے جب کہ مزید اہداف اب بھی موجود ہیں، جنہیں ضرورت پڑنے پر نشانہ بنایا جا سکتا ہےاگر کارروائی جاری رہی تو دو ہفتوں میں تمام اہداف کو مکمل طور پر نشانہ بنایا جا سکتا ہےایران اپنے ذہن میں شاید صورت حال کو مختلف انداز میں دیکھتا ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ فوجی لحاظ سے شکست کھا چکا ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ معاملہ مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے، بلکہ یہ صرف آخری مراحل ہوں گے۔

    امریکی صدر نے نیٹو پر بھی تنقید کرتے ہوئے اسے ”پیپر ٹائیگر“ قرار دیا اور کہا کہ مغربی اتحاد کے اتحادی ایران کے خلاف کارروائی میں امریکا کا ساتھ دینے میں ناکام رہے ہیں، یہ اتحاد توقع کے مطابق کردار ادا نہیں کر سکا۔

    واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے رواں برس فروری کے آخر میں ایران پر فضائی حملوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا تھا ان حملوں میں آیت اللہ سید علی خامنہ ای سمیت ہزاروں افراد شہید ہوئے تھے جن میں خواتین، بچے، فوجی کمانڈر اور حکومتی عہدیدار بھی شامل تھے ایران نے ان حملوں کے جواب میں اسرائیلی زیر قبضہ علاقوں اور خطے میں موجود امریکی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے تھے جنگ کے 40 روز بعد پاکستان کی ثالثی میں جنگ بندی عمل میں آئی تاہم اسلام آباد میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کسی معاہدے تک نہ پہنچ سکے۔

  • وزیراعظم نےامریکی تجاویز پر ایران کا جواب موصول ہونے کی تصدیق  کردی

    وزیراعظم نےامریکی تجاویز پر ایران کا جواب موصول ہونے کی تصدیق کردی

    وزیراعظم شہبازشریف نے اسلام آباد میں معرکہ حق کو ایک سال مکمل ہونے پر منعقدہ تقریب کے دوران اپنے خطاب میں ایران کا جواب موصول ہونے کی تصدیق کی ہے۔

    وزیراعظم شہبازشریف نے ایران-امریکا مذاکرات کے سلسلے میں پاکستان کے کلیدی کردار کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ابھی بتایا کہ ایران کا جواب موصول ہوچکا ہے-

    واضح رہے کہ ایران نے امریکا کی مذاکرات سے متعلق تجویز پر باضابطہ جواب پاکستان کے ذریعے واشنگٹن کو ارسال کردیا ہے ایرانی سرکاری میڈیا کے مطا بق تہران نے آئندہ مذاکرات کے ابتدائی مراحل کو جنگ کے خاتمے تک مرکوز رکھنے اور دیگر پیچیدہ معاملات بعد کے مراحل میں زیرِ بحث لانے کی تجویز د ی ہے وزیراعظم شہباز شریف نے بھی ایرانی جواب موصول ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔

    ایرانی خبر ایجنسی ’ارنا‘ نے اتوار کے روز رپورٹ کیا کہ ایران نے امریکی تجویز پر اپنا باضابطہ جواب پاکستان کے حوالے کر دیا ہے ایران نے اپنے جواب میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان مذاکرات کے ابتدائی مرحلے میں مذاکرات کو صرف جنگ کے خاتمے تک مرکوز رکھا جائے، جب کہ ایران کے جوہری پروگرام سمیت دیگر پیچیدہ معاملات کو بعد کے مراحل میں زیرِ غور لایا جائے۔

    ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اور اس تنازع کے مستقل حل کے لیے پاکستان کا بطور ثالث کردار انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہےپاکستان نے ہی 8 اپریل کو تہران اور واشنگٹن کے درمیان جنگ بندی میں بنیادی کردار ادا کیا تھا، جس کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں تقریباً 40 روز تک جاری رہنے والی جنگ رک گئی تھی اس جنگ بندی کے چند روز بعد اسلام آباد میں فریقین کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا دور بھی ہوا تھا، جس میں کوئی بڑا بریک تھرو حاصل نہیں ہو سکا تھا۔

    اس کے بعد بھی دونوں ملکوں کے درمیان اسلام آباد میں مذاکرات کی کوشش کارگر ثابت نہیں ہوسکی تھی، جس کی بنیادی وجہ ایران کا وہ مؤقف تھا جس کے مطابق جب تک امریکا بحری ناکہ بندی ختم نہیں کرتا، اس وقت تک کسی بات چیت کا کوئی امکان نہیں ہے،اسی دوران صدر ٹرمپ نے بھی امریکی مذاکرات کاروں کو اسلام آباد جانے سے روک دیا تھا۔