Baaghi TV

Tag: ایران

  • برکس اجلاس:یو اے ای میرے ملک کے خلاف جارحیت میں براہِ راست ملوث تھا ،عباس عراقچی

    برکس اجلاس:یو اے ای میرے ملک کے خلاف جارحیت میں براہِ راست ملوث تھا ،عباس عراقچی

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے نئی دہلی میں جاری ’برکس‘ وزرائے خارجہ اجلاس کے دوران متحدہ عرب امارات پر سخت تنقید کرتے ہوئے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں براہِ راست ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے-

    ایرانی خبر رساں ادارے ’مہر نیوز‘ کے مطابق ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے جمعرات کو اجلاس کے پہلے روز متحدہ عرب امارات کے نمائندے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یو اے ای ایران کے خلاف ہونے والی جارحیت میں براہِ راست شریک رہا ہے میں نے اپنے بیان میں متحدہ عرب امارا ت کا نام نہیں لیا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یو اے ای میرے ملک کے خلاف جارحیت میں براہِ راست ملوث تھا جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو یو اے ای نے مذمت تک نہیں کی۔

    ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اجلاس کے دوران اماراتی ہم منصب کو متحدہ عرب امارات کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات پر نظرِ ثانی کا بھی مشورہ دیا، انہوں نے اماراتی ہم منصب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ آپ کا اتحاد بھی آپ کو تحفظ فراہم نہیں کر سکا، بہتر یہی ہے کہ آپ ایران کے حوالے سے اپنی پالیسی پر نظرِ ثانی کریں، ہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات خطے میں مزید عدم استحکام اور کشیدگی میں اضافہ کر سکتے ہیں۔

    تاحال متحدہ عرب امارات کی جانب سے ان الزامات یا ایرانی وزیرِ خارجہ کے بیانات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

    بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں برکس ممالک کے وزرائے خارجہ کا دو روزہ اجلاس کا آج پہلا روز ہے جس میں برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ سمیت تنظیم کے نئے رکن ممالک کے سفارتکار شریک ہیں یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایران میں جاری جنگ نے عالمی توانا ئی سپلائی چین کو متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور عالمی معیشت میں غیر یقینی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔

    عرب نیوز کے مطابق اجلاس کے دوران ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے برکس ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جارحیت کی مذمت کریں۔

    انہوں نے کہا کہ تنظیم کے رکن ممالک کو اس جنگ کو روکنے میں کردار ادا کرنا چاہیے اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ یقینی بنانا چاہیے۔ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران رکن ممالک کی حمایت کو سراہتا ہے، تاہم مزید مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے اور ساتھ ہی عالمی اداروں کو سیاست زدہ ہونے سے روکنا بھی ضروری ہے یہ ضروری ہے کہ ہم سب امریکا کی بالادستی اور استثنیٰ کے تصور کے خاتمے کے لیے اپنی کوششیں تیز کریں، جو آج کی دنیا میں کوئی جگہ نہیں رکھتا۔

  • ایران اور امریکا کے درمیان  ممکنہ مذاکرات کے تناظر میں پاکستان کا کردار مسلسل فعال ہے،دفتر خارجہ

    ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے تناظر میں پاکستان کا کردار مسلسل فعال ہے،دفتر خارجہ

    ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ خطے میں پائیدار امن صرف مکالمے اور سفارتکاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

    دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں امن، مکالمے اور سفارتکاری کے فروغ کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے، خصوصاً ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی اور ممکنہ مذاکرات کے تناظر میں پاکستان کا کردار مسلسل فعال ہےپاکستان تمام ریاستوں کی خودمختاری اور برابری کے اصولوں کا احترام کرتے ہوئے علاقائی امن کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے گزشتہ ہفتے قطر اور آذربائیجان کے رہنماؤں سے ٹیلی فونک رابطے کیے، جن میں علاقائی صورتحال اور امن کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا وزیراعظم نے آذربائیجان کے صدر کو ورلڈ اربن فورم کے لیے نیک خواہشات بھی پیش کیں۔

    ترجمان کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے مشرق وسطیٰ کے خصوصی نمائندے سے ملاقات کی، جس میں خطے میں امن و استحکام اور پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا گیا، پاکستان نے خطے میں ڈی اسکیلیشن اور مذاکرات کے فروغ کے لیے مختلف فریقین سے رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں، جن میں خاص طور پر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی کردار بھی شامل ہے۔

    ترجمان نے کہا کہ 8 مئی کو نائب وزیراعظم نے سنگاپور کے وزیر خارجہ سے ٹیلی فونک گفتگو کی، جس میں پاکستانی اور ایرانی بحری عملے کی واپسی اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا 11 مئی کو سعودی وزیر خارجہ سے گفتگو میں بھی خطے کی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور زیر بحث آئےسعودی عرب نے پاکستان کے تعمیری سفارتی کردار کو سراہا اور ایران و امریکا کے درمیان جاری سفارتی رابطوں کی حمایت کا اظہار کیا اسی طرح 12 مئی کو آسٹریا کے وزیر خارجہ سے ٹیلی فونک گفتگو میں بھی علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا، جس میں ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات اور پاکستان کی سہولت کاری کی کوششو ں کو سراہا گیا۔

    دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، بحری سلامتی اور سفارتی روابط کے فروغ کے لیے تمام شراکت داروں کے ساتھ قریبی رابطے میں رہے گا۔

  • ایرانی میزائل نیٹ ورک اب بھی فعال اور محفوظ ہے،امریکی خفیہ اداروں کی نئی رپورٹس

    ایرانی میزائل نیٹ ورک اب بھی فعال اور محفوظ ہے،امریکی خفیہ اداروں کی نئی رپورٹس

    امریکی خفیہ اداروں کی نئی رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران کا میزائل نیٹ ورک اب بھی بڑی حد تک فعال اور محفوظ ہے، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے ان دعوؤں کے برعکس ہے جن میں کہا گیا تھا کہ ایران کی فوجی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا جاچکا ہے۔

    برطانوی اور امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی انٹیلی جنس اداروں کی خفیہ جائزہ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ایران نے اپنے بیشتر میزائل تنصیبات، زیرِ زمین ذخیرہ گاہوں اور موبائل لانچر سسٹمز پر دوبارہ آپریشنل کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔

    امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق آبنائے ہرمز کے اطراف قائم ایران کی 33 میزائل تنصیبات میں سے 30 مختلف درجوں میں قابلِ استعمال سمجھی جار ہی ہیں ان رپورٹس نے خطے میں بحری سلامتی سے متعلق خدشات میں ایک بار پھر اضافہ کردیا ہے، خاص طور پر ان بحری جہازوں اور آئل ٹینکرز کے لیے جو اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرتے ہیں۔

    انٹیلیجنس رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ایران اب بھی اپنے موبائل میزائل لانچرز کو مختلف مقامات پر منتقل کرنے اور بعض صورتوں میں انہی تنصیبات کے اندر موجود انفرااسٹرکچر سے میزائل داغنے کی صلاحیت رکھتا ہے آبنائے ہرمز کے قریب صرف چند تنصیبات مکمل طور پر غیر فعال ہوئی ہیں، جبکہ مجموعی طور پر ایران کے تقریباً 70 فیصد موبائل میزائل لانچرز اب بھی کام کررہے ہیں۔

    امریکی خفیہ اداروں کا اندازہ ہے کہ ایران نے جنگ سے پہلے موجود اپنے میزائل ذخیرے کا بھی بڑا حصہ محفوظ رکھا ہوا ہے، جس میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل اور مختصر فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنانے والے کروز میزائل شامل ہیں۔

    علاوہ ازیں سیٹلائٹ تصاویر اور دیگر نگرانی کے نظام سے حاصل معلومات کے مطابق ایران نے ملک بھر میں قائم تقریباً 90 فیصد زیرِ زمین میزائل ذخیرہ گاہوں اور لانچنگ مراکز تک جزوی یا مکمل رسائی دوبارہ حاصل کرلی ہے رپورٹس میں ان تنصیبات کو مختلف سطح پر فعال قرار دیا گیا ہےیہ انکشافات صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے ان بیانات سے متصادم ہیں جن میں ایران کی فوجی طاقت کو’’شدید متاثر‘‘ قرار دیا گیا تھا۔

    رپورٹس پر ردعمل دیتے ہوئے وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے ایک بار پھر مؤقف دہرایا کہ ایران کی فوجی صلاحیت کو مؤثر انداز میں غیر فعال بنایا جاچکا ہے، جبکہ ایران کی بحالی سے متعلق دعوؤں کو مبالغہ آمیز اور سیاسی قرار دیا،دوسری جانب پینٹاگون کے ترجمان نے امریکی میڈیا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض ادارے امریکی فوجی کارروائیوں کو غلط انداز میں پیش کررہے ہیں اور ایران کے خلاف کامیاب آپریشن کو متنازع بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔

  • اداکارہ مندانا کریمی نے 16 برس بعد بھارت چھوڑنے کا اعلان کردیا

    اداکارہ مندانا کریمی نے 16 برس بعد بھارت چھوڑنے کا اعلان کردیا

    ایرانی نژاد اداکارہ مندانا کریمی نے 16 برس بعد بھارت چھوڑنے کا اعلان کردیا۔

    ایرانی نژاد اداکارہ اور ماڈل مندانا کریمی نے موجودہ ایران امریکا کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارت چھوڑنے کا اعلان کیا مندانا کریمی نے اپنے پیغام میں کہا کہ وہ تقریباً 16 برس بھارت میں گزارنے کے بعد اب اپنے دوسرے گھر کو الوداع کہنے کا فیصلہ کر رہی ہیں، مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع اور ایران کی صورتحال نے انہیں جذباتی طور پر بہت متاثر کیا ہے۔

    ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق بالی وڈ اداکارہ نے 18 برس کی عمر میں ایران چھوڑا تھا اور وہ اداکاری کی غرض سے ہندوستان آگئی تھیں لیکن اب امریکا ایران حالیہ تنازع اور سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد اداکارہ نے بھارت چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    انسٹاگرام اسٹوری پر حالیہ سوال و جواب کے سیشن کے دوران ایک مداح نے اداکارہ سے ممبئی چھوڑ کر جانے کا سوال کیا جس پر مندانا نے جواب دیا ‘میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ میں بھارت کو یوں الوداع کہوں گی یہ یقیناً مشکل ہوگا لیکن ہندوستان میں تقریباً 16 سال گزارنے کے بعد، آخر کار میں اپنا دوسرا گھر (بھارت) چھوڑ کر جا رہی ہوں، اب سب کچھ نیا ہوگا، یہ ایک نئی شروعات ہے’۔

    البتہ مندانا کریمی نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ بھارت چھوڑ کر کہاں جارہی ہیں۔

    انہوں نے اپنے پیغام میں مداحوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے انہیں شہرت، محبت اور نئی شناخت دی تاہم موجودہ حالات کے باعث انہوں نے ملک چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہےمیرا بیگ تیار ہے اور میں بھارت سے جانے کی تیاری کررہی ہوں، اداکارہ نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے ممبئی میں احتجاج میں حصہ لینے کے بعد اپنے بہت سے دوستوں کو کھو دیا ہے اور میں محسوس کرتی ہوں کہ بھارت نے مجھے دھوکہ دیا ہےمیں 16 سال تک یہاں رہی ہوں، میں نے ممبئی میں خود کو کبھی اتنا اکیلا محسوس نہیں کیا جتنا ان دو مہینوں کے دوران کیا ہے۔

    ہندوستان ٹائمز کے مطابق مارچ میں مندانا کریمی نے ایک بیان دیا تھا جس میں انہوں نے بتایا کہ 10 سال قبل ان پر ایران میں پابندی عائد کردی گئی تھی، لہٰذا وہ وہاں واپس نہیں جا سکتیں، وہ بھارت سے مایوس ہیں’مجھے ہندوستان میں کسی قسم کی سپورٹ نہیں ملی اور اچانک جب آیت اللہ خامنہ ای کا انتقال ہوگیا، ہندوستان میں سب کی رائے ہے، ہر کوئی سڑکوں پر ہے اور وہ حقیقت میں خامنہ ای کے لیے ماتم کر سکتے ہیں، جو میں نہیں کر سکی’۔

    اداکارہ نے کہا کہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر میں ایک جگہ پھنس کر رہ گئی ہوں اور میرے قریب ترین دوستوں میں سے کسی کے پاس میرا پتہ نہیں ہے، اور پھر بھی میں میڈیا سے بات کرنے کی کوشش کر رہی ہوں تاکہ ایرانیوں کی آواز کو بلند کرسکوں میں پچھلے 6 سالوں سے فلموں میں اداکاری نہیں کر رہی، یہ میرا فیصلہ تھا کہ میں فلموں میں کام کرنا چھوڑ دوں، میں جانتی ہوں کہ میرے ملک (ایران) میں کیا ہو رہا ہے، میری پیدائش اور پرورش وہیں ہوئی، میں 18 سال تک ایران میں قیام پذیر تھی’۔

  • چین کا پاکستان پر ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی کوششیں مزید تیز  کرنےپر زور

    چین کا پاکستان پر ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی کوششیں مزید تیز کرنےپر زور

    چین نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے اپنی ثالثی کی کوششیں مزید تیز کرے-

    رپورٹ کے مطابق چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ٹیلیفونک گفتگو میں خطے کی صورتحال اور ایران امریکا تنازع پر تبادلہ خیال کیا۔

    چینی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق وانگ ای نے پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکراتی رابطوں کو مزید مؤثر بنانے کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز کی بحالی اور بحری گزرگاہ کھلوانے کے لیے بھی تعمیری کردار ادا کرے، بیجنگ پاکستان کی سفارتی اور ثالثی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا اور اس عمل میں اپنا کردار بھی ادا کرے گا۔

    امریکا اسرائیل اور ایران کی جنگ کے دوران پاکستان ایک اہم ثالثی کردار کے طور پر سامنے آیا ہے اسلام آباد کی کوششوں سے ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی ممکن ہوئی، جس میں بعد ازاں توسیع بھی کی گئی اسی سلسلے میں اسلام آباد میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے درمیان مذاکرات کا ایک دور بھی منعقد ہوا تھا، تاہم دوسرا دور تاحال نہیں ہو سکا، ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایران اور امریکا کے درمیان حتمی معاہدہ ابھی دور دکھائی دیتا ہے، تاہم پاکستان کے ذریعے رابطے اور پسِ پردہ سفارتی کوششیں بدستور جاری ہیں۔

  • ٹرمپ کا امریکی میڈیا پر ’غداری‘ کا الزام

    ٹرمپ کا امریکی میڈیا پر ’غداری‘ کا الزام

    امریکی میڈیا پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ’فیک نیوز‘ یہ تاثر دے رہی ہے کہ ایران عسکری طور پر امریکا کے مقابلے میں بہتر پوزیشن میں ہے تو یہ ’عملاً غداری‘ کے مترادف ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران کو عسکری طور پر مضبوط ظاہر کرنا ’عملاً غداری‘ کے مترادف ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی بحریہ، فضائیہ اور عسکری ٹیکنالوجی مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں امریکی میڈیا پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ’فیک نیوز‘ یہ تاثر دے رہی ہے کہ ایران عسکری طور پر امریکا کے مقا بلے میں بہتر پوزیشن میں ہے تو یہ ’عملاً غداری‘ کے مترادف ہے، یہ وہ امریکی بزدل ہیں جو اپنے ہی ملک کے خلاف کھڑے ہیں۔

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی بحریہ کے تمام 159 جہاز تباہ ہو چکے ہیں اور اب سمندر کی تہہ میں پڑے ہیں، جبکہ ایران کی فضائیہ اور عسکری ٹیکنالوجی بھی مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے ایرانی قیادت بھی اب باقی نہیں رہی اور ملک شدید معاشی بحران کا شکار ہے، صرف ناکام، ناشکرے اور احمق لوگ ہی امریکا کے خلاف مؤقف اختیار کر سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے تعلقات ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں، جبکہ امریکی میڈیا اور سیاسی حلقوں میں بھی خارجہ پالیسی پر شدید بحث جاری ہے۔

  • پاسداران انقلاب کے مالی نیٹ ورک کی معلومات دینے پر 15 ملین ڈالر کا انعام

    پاسداران انقلاب کے مالی نیٹ ورک کی معلومات دینے پر 15 ملین ڈالر کا انعام

    امریکا نے پاسداران انقلاب کے مالی نیٹ ورک کی معلومات دینے پر 15 ملین ڈالر کا انعام رکھ دیا۔

    واشنگٹن نے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مالیاتی ڈھانچے سے متعلق معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے بڑا انعامی پروگرام جاری کردیا ہے جس کے تحت قابل اعتماد معلومات دینے والے کو 15 ملین امریکی ڈالر تک انعام دیا جاسکتا ہے۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے تحت کام کرنے والے ’’ریوارڈز فار جسٹس‘‘ پروگرام نے اعلان کیا ہے کہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب، اس کے مالیاتی نیٹ ورک، غیرقانونی آئل شپمنٹس اور ان سرگرمیوں میں ملوث افراد یا اداروں سے متعلق معلومات دینے والوں کو 15 ملین ڈالر تک انعام دیا جائے گا۔

    پروگرام کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ پاسدارانِ انقلاب اور اس کی ذیلی شاخ ’’قدس فورس‘‘ دنیا بھر میں دہشتگرد سرگرمیوں کی معاونت اور ان میں ملوث رہی ہے آئی آر جی سی اپنی سرگرمیوں کیلئے فنڈز کے حصول میں مختلف خفیہ مالیاتی ذرائع استعمال کرتی ہے، جن میں فرنٹ کمپنیاں، خفیہ کاروباری نیٹ ورکس اور ایسے ادارے شامل ہیں جو امریکی اور عالمی پابندیوں سے بچنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر کسی شخص کے پاس ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی تیل ترسیل، اس میں استعمال ہونے والے ٹینکرز، معاون کمپنیوں یا متعلقہ افراد سے متعلق معلومات موجود ہیں تو وہ واٹس ایپ، ٹیلیگرام یا سگنل کے ذریعے معلومات فراہم کرسکتا ہے۔

    امریکا 2019 میں پاسدارانِ انقلاب کو عالمی دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے واشنگٹن کا الزام ہے کہ آئی آر جی سی مختلف سائبر حملوں اور بیرونِ ملک ایرا نی شہریوں کو دھمکیاں دینے میں بھی ملوث رہی ہے، جن میں برطانیہ میں قائم ایران انٹرنیشنل کے عملے کو دی جانے والی دھمکیاں بھی شامل ہیں۔

    دوسری جانب یورپی پارلیمنٹ بھی جنوری 2023 میں ایک قرارداد منظور کرچکی ہے جس میں یورپی یونین اور رکن ممالک سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا جائے تاہم جرمنی سمیت بعض یورپی ممالک کا مؤقف ہے کہ ایسا کرنے سے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق سفا ر تی مذاکرات کا راستہ بند ہوسکتا ہے۔

  • امریکا اسرائیل کیجانب سے دوبارہ حملہ ہوا تو  یورینیم کی 90 فیصد افزودگی پر غور کریں گے،ایران

    امریکا اسرائیل کیجانب سے دوبارہ حملہ ہوا تو یورینیم کی 90 فیصد افزودگی پر غور کریں گے،ایران

    ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا اور اسرائیل کی جانب سے دوبارہ حملہ کیا گیا تو یورینیم کی 90 فیصد افزودگی جیسے سخت اقدامات پر غور کیا جا سکتا ہے۔

    ایرانی پارلیمان کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا ہے کہ اگر امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف دوبارہ جارحیت کی گئی تو ایران ممکنہ طور پر یورینیم کی 90 فیصد تک افزودگی پر غور کرے گا اس معاملے کا پارلیمنٹ میں جائزہ لیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سخت لہجہ اختیار کیا اور ایران کے ساتھ ہونے والی موجودہ جنگ بندی کے بارے میں کہا کہ یہ اس وقت لائف سپورٹ پر ہے جو کسی بھی وقت ختم ہو سکتی ہے انہوں نے ایران کی جانب سے بھیجی گئی امن تجاویز کو احمقانہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور کہا کہ ایران نے ایک فضول دستاویز بھیجی ہے جسے پڑھنے کا بھی میرا دل نہیں کیا۔

    صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران پہلے اپنا یورینیم دینے پر راضی تھا لیکن اب وہ اس سے مکر رہا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ صرف امریکا اور چین ہی جوہری مواد کو محفوظ طریقے سے منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ ان پر کسی قسم کا کوئی دباؤ نہیں ہے اور وہ ایران کے خلاف مکمل فتح حاصل کر کے رہیں گے۔

    ایران نے بھی امریکی دھمکیوں کا جواب دینے کے لیے کمر کس لی ہے اور بحری دفاع کو مضبوط کرنے کے لیے آبنائے ہرمز میں اپنی چھوٹی آبدوزیں روانہ کر دی ہیں ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ آبدوزیں آبنائے ہرمز کی چھپی ہوئی محافظ ثابت ہوں گی اور کسی بھی دشمن کو یہاں سے گزرنے کی اجازت نہیں دیں گی۔

    ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے صدر ٹرمپ کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی مسلح افواج کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہیں اور دنیا پہلے بھی دیکھ چکی ہے کہ غلط فیصلوں اور غلط حکمت عملی کا انجام ہمیشہ بھیانک ہوتا ہے،ہم ہر قسم کی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں اور اگر امریکا نے کوئی غلطی کی تو اسے وہ نتائج بھگتنے پڑیں گے جو اسے حیران کر دیں گے۔

    دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحری فورس کے ریئر ایڈمرل محمد اکبرزادہ نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے محافظوں نے ثابت کر دیا ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ پر ایران کا مؤثر اور طاقتور کنٹرول موجود ہے،ایران آبنائے ہرمز کو صرف ایک محدود جغرافیائی مقام کے طور پر نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک نقطۂ نظر سے دیکھتا ہے، جو دیگر ممالک کی سوچ سے مختلف ہےماضی میں آبنائے ہرمز کو صرف ہرمز اور جزائر کے اطراف موجود ایک محدود علاقہ تصور کیا جاتا تھا، تاہم اب صورت حال مکمل طور پر تبدیل ہو چکی ہے۔

    ایرانی عہدیدار کے مطابق ماضی میں اس آبی گزرگاہ کی چوڑائی 20 سے 30 میل سمجھی جاتی تھی، لیکن اب یہ 200 سے 300 میل یعنی تقریباً 500 کلومیٹر تک پھیل چکی ہے، جو جاسک اور سیریک سے جزیرہ قشم اور تنبِ بزرگ سے آگے تک محیط ’چاند‘ کی شکل اختیار کر چکی ہے۔

    محمد اکبرزادہ نےکہا کہ ایران کی خطے کے دیگر ملکوں کے عوام سے کوئی دشمنی نہیں، تاہم بعض حکومتیں ہمیشہ ایران مخالف رویہ اپناتی رہی ہیں بعض ممالک ایران کے ہر اقدام کو اس انداز میں پیش کرتے ہیں جیسے ایران انہیں فتح کرنا چاہتا ہو، حالانکہ یہ تصور مکمل طور پر غلط ہے اور ایران کے بارے میں یہ ایک منفی اور جھوٹی تصویر بنائی گئی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ایران نے توانائی، تجارتی سامان کی ترسیل اور ٹرانزٹ کے شعبوں میں کبھی رکاوٹ پیدا نہیں کی بلکہ عالمی برادری کو وسیع خدمات فراہم کیں بعض مواقع پر ایران نے اپنے علاقائی پانیوں سے گزرنے والے جہازوں، حتیٰ کہ مخالف ممالک کے بحری جہازوں کو بھی سیکیورٹی فراہم کی اور یہ خدما ت مفت مہیا کی گئیں۔

    انہوں نے خبردار کیا کہ ایران خطے میں ہونے والی تمام نقل و حرکت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اپنے سمندری حدود اور قومی مفادات پر کسی قسم کی جارحیت کی اجازت نہیں دے گا خطے میں بدلتے حالات کے تناظر میں نئی پالیسیاں نافذ کی جا رہی ہیں، جن کے اثرات دنیا جلد دیکھے گیانہوں نے ایرانی عوام کو یقین دہانی کرائی کہ ایران کی مسلح افواج ملک کی خودمختاری اور جغرافیائی سالمیت کے دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہیں۔

  • ایران نے مسلح بلوچ گروپ کے  رکن کو پھانسی دے دی

    ایران نے مسلح بلوچ گروپ کے رکن کو پھانسی دے دی

    ایران نے بلوچستان میں سرگرم ایک مسلح بلوچ گروہ کے ایک مبینہ رکن کو پھانسی دے دی ہے۔

    ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ’تسنیم‘ کے مطابق ایران نے ملک کے جنوب مشرقی صوبے سیستان بلوچستان میں سرگرم ایک مسلح بلوچ گروہ ’انصار الفرقان‘ سے تعلق رکھنے والے ایک مبینہ رکن کو پھانسی دے دی ہے اس کارروائی کو ایران کے شورش زدہ علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کے خلا ف ہونے والی مسلح بغاوت کو کچلنے کی کوششوں کے طور پر دیکھا جا رہا ہے صوبہ سیستان بلوچستان طویل عرصے سے ایرانی سیکیورٹی فورسز اور مختلف مسلح گروہوں کے درمیان تصادم کا مرکز رہا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق سزائے موت پانے والے قیدی کی شناخت عبدالخلیل شاہ بخش کے نام سے ہوئی ہے جس پر سیکیورٹی فورسز کے خلاف مسلح بغاوت اور ایک دہشت گرد گروہ کی رکنیت سمیت متعدد سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ عبدالخلیل شاہ بخش پر الزامات ثابت ہونے کے بعد عدالت نے اسے موت کی سزا سنائی تھی، جس کی بعد میں ملک کی سپریم کورٹ نے بھی توثیق کر دی تھی۔

    انسانی حقوق کی تنظیمیں اکثر ایران میں ہونے والی ان سزاؤں پر تشویش کا اظہار کرتی رہتی ہیں، تاہم ایرانی میڈیا نے عدالتی کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے اسے ملکی سلامتی کے لیے ناگزیر قرار دیا ہے۔

  • یو اے ای نے بھی ایران پر خفیہ حملے کیے، امریکی اخبار کا دعویٰ

    یو اے ای نے بھی ایران پر خفیہ حملے کیے، امریکی اخبار کا دعویٰ

    امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جنرل‘ نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے ایران کے خلاف جاری جنگ میں خاموشی سے حصہ لیتے ہوئے ایرانی اہداف پر فوجی حملے کیے ہیں –

    امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جنرل‘ نے کہا کہ متحدہ عرب امارات، امریکا اور اسرائیل کے بعد تیسرا ایسا ملک بن گیا ہے جس نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف جنگی کارروائیوں میں براہِ راست حصہ لیا ہےان خفیہ حملوں میں خلیج فارس میں واقع ایران کے لاوان جزیرے پر ایک آئل ریفائنری کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے، تاہم متحدہ عرب امارات نے عوامی سطح پر اب تک ان حملوں کا اعتراف نہیں کیا ہے۔

    وال اسٹریٹ جنرل کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لاوان جزیرے پر یہ حملہ اپریل کے اوائل میں اس وقت ہوا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بند ی کا اعلان کیا تھااگرچہ یہ واضح نہیں کہ حملہ جنگ بندی کے اعلان سے پہلے ہوا یا بعد میں، لیکن ایران نے اس وقت اعتراف کیا تھا کہ ایک نامعلوم د شمن نے اس کی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ جوابی کارروائی کے طور پر ایران نے متحدہ عرب امارات اور کویت پر میزائل اور ڈرون داغے تھے۔

    اس معاملے پر متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے وال اسٹریٹ جنرل کی جانب سے تبصرے کی درخواست پر کوئی براہِ راست جواب نہیں دیا، البتہ حکام نے اپنے پرانے بیانات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایران کے حملوں کا جواب دینے کا پورا حق حاصل ہے۔

    واضح رہے کہ رواں سال مارچ میں اسرائیلی میڈیا نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ امارات نے ایران کے ایک پلانٹ کو نشانہ بنایا ہے، جس پر اماراتی حکام نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے جھوٹی خبر قرار دیا تھا،ایران اور امریکا و اسرائیل کے درمیان جاری اس جنگ میں متحدہ عرب امارات کو شدید جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    اماراتی وزارت دفاع کے اعداد و شمار کے مطابق ایران نے متحدہ عرب امارات پر تقریباً 550 بیلسٹک اور کروز میزائلوں سمیت 2200 سے زائد ڈرون دا غے ہیں، جس کے باعث یہ خطے کا سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک بن گیا ہےاگرچہ زیادہ تر حملوں کو فضا میں ہی ناکام بنا دیا گیا، لیکن کچھ میزائل اپنے اہداف کو نشانہ بنانے میں کامیاب رہے۔