Baaghi TV

Tag: ایران

  • امریکا کا پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز اور فضائی دفاعی تنصیبات تباہ کرنے کا دعویٰ

    امریکا کا پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز اور فضائی دفاعی تنصیبات تباہ کرنے کا دعویٰ

    امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملے چوتھے روز بھی جاری ،امریکا نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی افواج نے ایران میں پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز اور فضائی دفاعی تنصیبات کو تباہ کر دیا ہے۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق کارروائیوں کے دوران ایرانی فضائی دفاعی نظام، میزائل اور ڈرون لانچ سائٹس کو بھی نشانہ بنایا گیا، تاہم ان دعوؤں کے حق میں فوری طور پر کوئی شواہد پیش نہیں کیے گئے وہ ایرانی حکومت کی جانب سے لاحق قریبی خطرات کے خلاف فیصلہ کن کارروائیاں جاری رکھے گی۔

    اس سے قبل سینٹکام نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی افواج نے ایران میں 1,250 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا اور 11 ایرانی جہاز تباہ کیے۔

    کراچی پولیس کا ٹرمپ،نیتن یاہو،مودی پر مقدمے سے انکار،شہری عدالت پہنچ گیا

    امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ ایران کی جوابی کارروائیوں میں اب تک 6 امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سے تمام ہلاکتیں گزشتہ ہفتے کے اختتام پر کویت میں ہونے والے حملوں کے دوران ہوئیں-

    آپریشن غضب للحق:خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں ناکام حملے،جوابی کارروائی میں 67 افغان طالبان ہلاک

  • ایرانی حملوں سے متحدہ عرب امارات اور بحرین میں تین زونز کو نقصان پہنچا،ایمیزون کی تصدیق

    ایرانی حملوں سے متحدہ عرب امارات اور بحرین میں تین زونز کو نقصان پہنچا،ایمیزون کی تصدیق

    ایمیزون کے کلاؤڈ کمپیوٹنگ بزنس کا کہنا ہے کہ ہفتے کے آخر میں ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ڈرون نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور بحرین میں اس کی تین تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے،یہ واقعات اتوار کی صبح پیش آئے-

    ایمیزون کے کلاؤڈ ڈویژن (AWS) نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے حالیہ جوابی حملوں کے نتیجے میں بحرین اور متحدہ عرب امارات (UAE) میں موجود اس کے ڈیٹا سینٹرز کو بجلی کی فراہمی اور کنیکٹیویٹی کے شدید مسائل کا سامنا ہے کمپنی کے اسٹیٹس پیج کے مطابق، متحدہ عرب امارات میں ایمیزون کلاؤڈ یونٹ کے دو اہم زونز اس وقت بجلی سے محروم ہیں-

    ایمیزون ویب سروسز (AWS) نے اتوار کے روز ایک تشویشناک انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ متحدہ عرب امارات میں ایک زون اس وقت متاثر ہوا جب "نامعلوم اشیاء” ڈیٹا سینٹر سے آ ٹکرائیں، جس کے نتیجے میں وہاں چنگاریاں نکلیں اور آگ بھڑک اٹھی اس واقعے کے فوراً بعد حفاظتی اقدامات کے تحت بجلی کی فراہمی منقطع کر دی گئی۔

    خطے میں کشیدگی: آئی ایم ایف مشن کا دورہ پاکستان قبل ازوقت ختم

    کمپنی کا کہنا ہے کہ یو اے ای کے ایک اور زون میں بھی بجلی کا مقامی مسئلہ پیدا ہوا ہے جس نے سروسز کو متاثر کیا ہے ان حملوں اور تکنیکی خرابیوں کی وجہ سے خطے میں انٹرنیٹ پر مبنی بہت سی اہم خدمات اور کاروباری سرگرمیاں معطل ہو کر رہ گئی ہیں-

    فرم نے مزید کہا کہ وہ متاثرہ علاقوں میں خدمات کو بحال کرنے کے لیے تیزی سے کام کر رہی ہے، لیکن اس میں وقت لگ سکتا ہے کیونکہ خطے میں جاری تنازعہ کا مطلب ہے کہ مشرق وسطی میں وسیع تر آپریٹنگ ماحول غیر متوقع ہے۔

    پاکستان سےعازمین حج کے لیے فلائٹ شیڈول جاری

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ ایران پر امریکی حملے چار سے پانچ ہفتے تک چل سکتے ہیں لیکن یہ ’بہت طویل‘ ہو سکتے ہیں ایران، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت اور سعودی عرب سمیت خطے کے ارد گرد امریکی اڈوں اور اتحادیوں کے خلاف میزائلوں اور ڈرونز داغ رہا ہے-

  • ایرانی پاسداران انقلاب کا نیتن یاہو کے دفتر پر حملہ، اسرائیل کی حملے کی تصدیق

    ایرانی پاسداران انقلاب کا نیتن یاہو کے دفتر پر حملہ، اسرائیل کی حملے کی تصدیق

    ایرانی پاسداران انقلاب نے اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کے دفتر پر حملے کا دعویٰ کیا تھا ،جس کی اسرائیل نے تصدیق کر دی ہے-

    اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب گارڈز نے نیتن یاہو کے دفتر پر حملے کا دعویٰ کیا، جس کی تصدیق کرتے ہوئے اسرائیل نے کہا کہ اس حملے میں کوئی زخمی نہیں ہوا پاسداران انقلاب نے میزائلوں سے اسرائیلی فضائیہ کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنانے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔

    فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ایران نے دونوں حملوں میں خیبر میزائل استعمال کیے اور کہا کہ صیہونی رجیم کے جرائم پیشہ وزیراعظم کے دفتر کو نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ اعلامیے میں پاسداران انقلاب نے مزید کہا کہ نیتن یاہو کی موجودہ حالت یا انجام کے بارے میں ابھی معلومات نہیں اس کے علاوہ ایران نے مشرق وسطیٰ میں امریکاکے6 فوجی اڈوں پر میزائلوں سے حملہ کیا، ایران نے بحرین، عراق، متحدہ عرب امارات اور کویت میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔

    پاکستان سےعازمین حج کے لیے فلائٹ شیڈول جاری

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں سفارت خانے پر ڈرون حملے کے بعد ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس حملے کا جواب دیا جائے گا اور امریکی فوجیوں کی ہلاکت پر بھی بھرپور ردعمل دیں گے صدر ٹرمپ نے ریاض میں سفارت خانے پر حملے کے بعد مختلف میڈیا اداروں سے مختصر گفتگو کی ہے۔

    امریکی ٹی وی چینل نیوز نیشن سے مختصر گفتگو میں صدر ٹرمپ نے امریکا کی جوابی کارروائی کے بارے میں سوال پر کہا کہ ’آپ کو بہت جلد معلوم ہو جائے گا انہوں نے عندیہ دیا کہ ایران میں زمینی افواج بھیجنے کی ضرورت کا امکان کم ہے،’ہم انہیں زبردست نقصان پہنچا رہے ہیں، ایران میں اہداف کے حصول سے متعلق انہوں نے کہا کہ میں بہت کچھ جانتا ہوں، جب ہدف حاصل ہو جائے گا تو پتہ لگ جائے گا۔

    ایرانی پاسداران انقلاب کا نیتن یاہو کے دفتر پر حملہ، اسرائیل کی حملے کی تصدیق

    انہوں نے مزید کہا کہ ہم بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔ ہم انہیں پیچھے دھکیل رہے ہیں امریکی تنصیبات یا امریکی سرزمین پر ممکنہ حملوں سے متعلق سوال پر صدر ٹرمپ کا کہنا تھا ’نہیں، یہ جنگ کا حصہ ہے۔ لوگ اسے پسند کریں یا نہ کریں، جنگ اسی طرح ہوتی ہے۔

  • ایران پر حملے کا مقصد اسرائیلی اثر و رسوخ پاکستانی سرحد تک لانا ہے،خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ صیہونیت انسانیت کیلئے خطرہ ہے، بڑی طاقتیں صیہونیت کی یرغمال ہیں۔

    وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ صیہونیت انسانیت کے لیے خطرہ ہے فلسطین کی سرزمین پہ اسرائیل کے قائم ہونے سے لے کر آج تک اسلامی دنیا پہ جو بھی قیامتیں ٹوٹیں، جو بھی جنگیں مسلط ہوئیں ان کے پیچھے صیہونی سوچ اور ریا ست بالواسطہ یا بلا واسط کار فرما نظر آئے گی دنیا کے معاشی نظام پہ صیہونیت کا ایک صد ی سے قبضہ ہے، بڑی طاقتیں صیہونیت کی یرغمال ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ وطن عزیز ایک ایٹمی طاقت ہے اور ہماری افواج کا لوہا اللہ کے کرم اور مدد سے دنیا میں مانا جاتا ہے ہمارے شہیدوں اور غازیوں کا احسان ہے کہ ہماری خود مختاری محفوظ ہے اللہ ان تمام حضرات پہ رحمتیں نازل کرے جنہوں نے ہمیں ایٹمی طاقت بنانے میں کردار ادا کیانواز شریف کی ہمت کو سلام جس نے ایٹمی دھماکے کیے۔

    نیتن یاہو ڈونلڈ ٹرمپ کو بلیک میل کر رہے ہیں،سابق ٕاسرائیلی انٹیلی جنس افسر کا انکشاف

    خواجہ محمد آصف نے کہا کہ ایران کی معاہدے پہ رضا مندی کے باوجود ان پہ جنگ مسلط کی گئی ہےاس کے ایجنڈے میں جو صیہونیوں کا ترتیب شدہ ہے، اس میں یہ بھی شامل ہے کہ اسرائیل کا اثر و رسوخ پاکستان کی سرحد تک لایا جائے افغانستان، ایران اور ہندوستان سب کے مشترکہ ایجنڈا کی بنیاد پا کستان دشمنی ہے اور یہ کہ ہماری سرحدیں غیر محفوظ ہوجائیں، پاکستان ہر طرف سے دشمنوں میں گھر جائے اور ایک دست نگر ریاست بن جائے۔

    اسرائیل کے لبنان پر فضائی حملے جاری، 52 افراد جاں بحق، 154 زخمی

    انہوں نے کہا کہ 25 کروڑ پاکستانیوں کو، چاہے وہ وہ کسی بھی مکتبہ فکر سے رکھتے ہوں اختلافات کے باوجود اس سازش اور ازلی دشمنوں کے عزائم سمجھنے کی ضرورت ہے،دعا ہے کہ اللہ عالم اسلام کو اتحاد دے، دشمن کو پہچاننے کی توفیق دے، فلسطین آزاد ہو، میرا وطن تا قیامت قائم رہے،اللہ پاک مٹی کے محافظوں کو اپنے سائے میں رکھے، ان کا حامی و ناصر ہو۔ آمین۔

    خطےکی کشیدہ صورت حال: پاکستان سے مشرق وسطیٰ کی آج بھی سینکڑوں پروازیں منسوخ

  • ایران کی جانب سے پہلے حملہ کرنے کا کوئی ثبوت نہیں تھا، پینٹاگون

    ایران کی جانب سے پہلے حملہ کرنے کا کوئی ثبوت نہیں تھا، پینٹاگون

    امریکی محکمہ دفاع ’پینٹاگون‘ نے کانگریس کو بریفنگ میں بتایا ہے کہ ایسی کوئی خفیہ اطلاع موجود نہیں تھی جس سے ظاہر ہو کہ ایران امریکا پر پہلے حملے کی تیاری کر رہا تھا۔

    خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق اتوار کو ہونے والے بند کمرہ اجلاسوں میں ٹرمپ انتظامیہ کے حکام نے کانگریس کے عملے کو اس بارے میں آگاہ کیا ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ’رائٹرز‘ بتایا کہ ایران کی جانب سے عمومی خطرات ضرور تھے، لیکن امریکا پر فوری یا پیشگی حملے کا کوئی واضح ثبوت نہیں ملا۔

    امریکی حکام کے مطابق ایران کے خلاف کی گئی کارروائیوں میں ایک ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں میزائل تنصیبات، فضائی دفاعی نظام اور بحری جہاز شامل تھے ان حملوں میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ عہدیدار شہید ہوئے امریکی فوج نے بتایا کہ بی ٹو اسٹیلتھ بمبار طیاروں نے زیر زمین تنصیبات پر دو ہزار پاؤنڈ وزنی بم گرائے۔

    ایران کا سعودی عرب میں آرامکو آئل ریفائنری پر ڈرون حملہ،اسرائیل میں بھی گیس کی پیداوار بند

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ان کا مقصد امریکی عوام کا دفاع کرنا اور ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے اگر ضرورت پڑی تو کارروائیاں ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہیں۔

    تاہم اتوار کی بریفنگ میں حکام نے تسلیم کیا کہ ایران کی جانب سے امریکا پر پہلے حملے کی کوئی مصدقہ خفیہ اطلاع موجود نہیں تھی، جو اس جنگ کے جواز سے متعلق سوالات کو جنم دے رہی ہے۔

    ڈیموکریٹ رہنماؤں نے صدر ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک اختیاری جنگ ہے اور اس کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں بعض ارکان نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ امن مذاکرات ترک کرنے کا فیصلہ کیوں کیا گیا، جبکہ عمان جیسے ثالث ممالک کا کہنا تھا کہ بات چیت کے امکانات موجود تھے۔

    امریکا سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے،ایران کے سیکیورٹی چیف کا اعلان

    دوسری جانب ایران پر حملے میں امریکی شمولیت کو ملک کے لیے وار آف چوائس (مسلط کردہ جنگ) قرار دیا جارہا ہے۔

    ڈیموکریٹ سینیٹر برنی سینڈرز نے ایکس پر بیان میں ردعمل دیا کہ ٹرمپ نے کہا کہ ہمیں ایران پر حملہ کرنا پڑا کیوں کہ اسے جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی‘۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہی صدر ہیں جنہوں نے گزشتہ سال کہا تھا کہ ایران کی جوہری تنصیبات کو ختم کر دیا گیا ہے ویتنام اور عراق کے بعد اب ایران، ایک اور جھوٹ، ایک اور جنگ۔

    ایران پر حملے کے بعد امریکی فوج کے تین اہلکاروں کی ہلاکت کی خبر سامنے آنے کے بعد تنقید کا دائرہ مزید پھیلنے کا امکان ہے۔

    صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم کے مشہور وعدے ’میک امریکا گریٹ اگین‘ (میگا) کی حمایت کرنے والے افراد بھی اب کھل کر ان پر تنقید کر رہے ہیں ان کی قریبی ساتھی رہنے والی سابقہ کانگریکس وومن مارجوری ٹیلر گرین نے فوجیوں کی ہلاکت پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ بالکل غیر ضروری تھا۔

    پاکستان میں امریکی سفارت اور قونصل خانوں کی سروسز معطل

    انہوں نے کہا کہ امریکی صدر، نائب صدر اور ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے جنگوں اور ’رجیم چینج‘ کے مسئلوں میں نہ الجھنے کا فیصلہ کیا تھا اب ہم اپنے فوجی جوانوں کو کھو چکے ہیں۔

    صدر ٹرمپ کے سابق چیف اسٹریٹجسٹ اور ’میگا تحریک‘ کے بااثر ترین رہنماؤں میں سے ایک اسٹیو بینن بھی اس معاملے پر ٹرمپ کے مخالف نظر آتے ہیں۔

    اس کے علاوہ ایرک پرنس بھی واضح تنقید کرنے والے شخص بن کر ابھرے ہیں جو ماضی میں بدنام زمانہ تنظیم ’بلیک واٹر‘ کے ذریعے امریکا کی فوجی کارروا ئیوں کا حصہ رہے ہیں لیکن ایران پر حالیہ حملے پر ان کا مؤقف بہت مختلف ہے ایرک پرنس نے اسٹیو بینن کے ہمراہ ایک پوڈ کاسٹ میں ایران میں جوہری ہتھیاروں کی موجودگی کے سوال پر کہا کہ ’ٹرمپ نے چند ماہ قبل بتایا تھا کہ ایران کا جوہری پروگرام تباہ کر دیا گیا ہے اس جنگ کا کوئی جواز نہیں بنتا تھا، یہ ہماری نہیں بلکہ اسرائیل کی جنگ تھی جس میں امریکا کو بھی گھیسٹا گیا ہے۔

    ٹرمپ کی اپنی جماعت ری پبلکن کے رہنما اور امریکی ایوانِ نمائندگان کے رکن تھامس میسی بھی اس معاملے پر ٹرمپ پر برس پڑے ہیں، انہوں نے ایران پر حملہ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’امریکہ فرسٹ‘ نہیں ہےجنگ کا فیصلہ کانگریس کی منظوری سے مشروط ہونا چاہئے تھا، وہ اس معاملے پر آواز اٹھائیں گے۔

    25 فیصد امریکی ایران پر حملوں کے حامی،ٹرمپ کی مقبولیت کا گراف بھی گرگیا

    امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے چیئرمین مارک وارنر نے بھی ایک ٹی وی پروگرام میں ایران کی جانب سے حملے کے خدشے کو مسترد کیا ہےانہوں نے کہا کہ ایسی کوئی انٹیلی جنس رپورٹ نہیں تھی جس سے ثابت ہوتا ہو کہ ایران امریکہ کے خلاف حملہ کرنے والا تھا۔

    خبر رساں ادارے رائٹرز نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حکام نے کانگریس کے سامنے تسلیم کیا ہے کہ ایران کی جانب سے امریکی افواج پر حملے کی کوئی انٹیلی جنس اطلاعات موجود نہیں تھیں، جس سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مؤقف پر بھی سوالات کھڑے ہوگئے ہیں۔

  • ایران کا  سعودی عرب میں آرامکو آئل ریفائنری پر ڈرون حملہ،اسرائیل میں بھی گیس کی پیداوار بند

    ایران کا سعودی عرب میں آرامکو آئل ریفائنری پر ڈرون حملہ،اسرائیل میں بھی گیس کی پیداوار بند

    مشرق وسطیٰ میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی نے شدت اختیار کر لی ہے جس کے نتیجے میں مختلف ممالک میں حملوں اور جوابی کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔

    اطلاعات کے مطابق ایران کی جانب سے سعودی عرب میں آرامکو آئل ریفائنری پر ڈرون حملہ کیا گیا جس کے بعد وہاں آگ بھڑک اٹھی،آرامکو ملک کی سب سے بڑی آئل کمپنی سمجھی جاتی ہے اور اس تنصیب پر حملے نے توانائی کے عالمی شعبے میں تشویش پیدا کر دی ہے۔

    سعودی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق، حکام نے دمام کے قریب واقع راس تنورہ ریفائنری کو ڈرون حملے کے بعد عارضی طور پر بند کر دیا ہے سعودی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ دو ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا تھا، تاہم ان کا ملبہ گرنے سے تیل کی تنصیب میں آگ بھڑک اٹھی۔

    قطر کی وزارت دفاع نے باضابطہ طور پر بتایا ہے کہ ملک کے دو اہم توانائی مراکز کو ڈرون طیاروں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے ان میں سے ایک ڈرون نے مسائید کے علاقے میں واقع بجلی گھر کے پانی کے ٹینک کو نشانہ بنایا جبکہ دوسرے ڈرون نے راس لفان انڈسٹریل سٹی میں قطر انرجی کی ایک تنصیب پر حملہ کیا خوش قسمتی سے ان حملوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

    صدر مملکت کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب

    عمان کے بحری سلامتی کے مرکز نے اطلاع دی ہے کہ مسقط کے ساحل سے دور ایک تیل بردار بحری جہاز پر بارود سے بھری کشتی کے ذریعے حملہ کیا گیا ہے۔ اس حملے کے نتیجے میں جہاز کے انجن روم میں زوردار دھماکہ ہوا اور آگ بھڑک اٹھی جس کے باعث عملے کا ایک رکن جان کی بازی ہار گیا جہاز پر موجود دیگر اکیس افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے جبکہ عمان کی شاہی بحریہ کا ایک جہاز متاثرہ ٹینکر کی نگرانی کر رہا ہے اور دیگر بحری جہازوں کو اس علاقے سے گزرتے ہوئے احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    بیروت اور جنوبی لبنان پر شدید اسرائیلی بمباری، 31 جاں بحق، درجنوں زخمی

    دوسری جانب توانائی کی عالمی منڈی میں بھی ہلچل دیکھی جا رہی ہے امریکی کمپنی شیوران نے اطلاع دی ہے کہ اسے اسرائیل کی وزارت توانائی کی جانب سے لیویتھن نامی بڑے گیس فیلڈ سے پیداوار عارضی طور پر روکنے کا حکم ملا ہے یہ گیس فیلڈ اسرائیل کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہاں سے مصر کو اربوں ڈالر مالیت کی گیس برآمد کی جاتی ہے ان کی تنصیبات فی الحال محفوظ ہیں لیکن حفاظتی اقدامات کے تحت کام بند کر دیا گیا ہے۔

    اس کے علاوہ ترکیہ میں ایک امریکی فوجی اڈے کو بھی نشانہ بنانے کی خبر ہے جبکہ قبرص میں برطانوی ملٹری بیس کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں اصفہان میں ایک امریکی ڈرون مار گرائے جانے اور کویت میں کئی امریکی طیارے کے گر کر تباہ ہونے کی رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں۔

    کراچی : امریکن قونصلیٹ جانے والے تمام راستے بند،اسلام آباد میں ریڈ زون بھی مکمل سیل

    دوسری جانب ایران کے مختلف شہروں میں بھی حملوں کی خبریں ہیں شہر سنندج پر چھ میزائل گرنے کی اطلاع ہے جس میں دو افراد کے جاں بحق ہونے کا بتایا گیا ہےگزشتہ رات دو ہزار پاؤنڈ وزنی بم گرائے گئے اور بیلسٹک میزائل سائٹس کو نشانہ بنایا گیا۔

  • اختلاف رائے جمہوریت کاحسن،قومی سلامتی پر اتحاد ناگزیر،تجزیہ :شہزاد قریشی

    اختلاف رائے جمہوریت کاحسن،قومی سلامتی پر اتحاد ناگزیر،تجزیہ :شہزاد قریشی

    اختلاف رائے جمہوریت کاحسن،قومی سلامتی پر اتحاد ناگزیر!
    پاکستان کو اس نازک دور میں استحکام، تدبر اور قومی شعور کی سب سے زیادہ ضرورت
    یہ وقت جذباتی نعرےنہیں، بصیرت، صبر اور قومی یکجہتی کا ہے،داخلی محاذ مضبوط رکھنا ہوگا
    خامنہ ای کی شہادت ہرمسلمان دکھی،جذباتی بیانات اورانتشار سے گریزکرنا ہوگا

    تجزیہ ،شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتِ حال اور عالمی طاقتوں کی نئی صف بندیوں کے تناظر میں پاکستان اس وقت ایک نہایت نازک مرحلے سے گزر رہا ہے، خطے میں کشیدگی، سفارتی دباؤ اور طاقت کے توازن کی نئی کوششوں کے درمیان پاکستان نے جس احتیاط، تدبر اور توازن کے ساتھ اپنی خارجہ پالیسی کو آگے بڑھایا ہے، وہ قابلِ توجہ ہے،پاکستان نے ہمیشہ اصولی مؤقف اختیار کیا ہے کہ خطے میں امن، مذاکرات اور سفارتی حل کو ترجیح دی جائے،اس وقت بھی وزارتِ خارجہ، مسلح افواج اور دیگر قومی ادارے ملکی سلامتی اور قومی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے نہایت محتاط انداز میں فیصلے کر رہے ہیں، ایسے حالات میں جذباتی بیانات، اندرونی انتشار یا غیر ذمہ دارانہ تنقید نہ صرف قومی اتحاد کو کمزور کر سکتی ہے بلکہ سفارتی کوششوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے،علی خامنہ ای کی شہادت کی خبر پر مسلم دنیا میں غم اور افسوس کی فضا ءہے، کسی بھی بڑے رہنما کی شہادت خطے میں جذبات کو بھڑکا سکتی ہے، لیکن ایسے وقت میں دانشمندی اور بردباری ہی قوموں کو بحران سے نکالتی ہے، دکھ اور غم اپنی جگہ، مگر قومی مفاد اور داخلی استحکام ہر حال میں مقدم رہنا چاہیے،پاکستان اس وقت جس حکمت اور توازن کے ساتھ اپنا کردار ادا کر رہا ہے، وہ دراصل اپنی سرزمین، اپنی عوام اور اپنے مستقبل کے تحفظ کے لئے ہے، اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، لیکن قومی سلامتی جیسے معاملات میں ذمہ داری، احتیاط اور اتحاد ناگزیر ہوتے ہیں،یہ وقت انتشار کا نہیں، اتحاد کا ہے، یہ وقت جذباتی نعروں کا نہیں، بلکہ بصیرت، صبر اور قومی یکجہتی کا ہے، اگر ہم اپنے داخلی محاذ کو مضبوط رکھیں گے تو بیرونی دباؤ خود بخود کمزور ہو جائے گا، پاکستان کو اس نازک دور میں استحکام، تدبر اور قومی شعور کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

  • واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں پیش کیا گیا تاثر حقائق کے منافی ہے،سعودی عرب

    واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں پیش کیا گیا تاثر حقائق کے منافی ہے،سعودی عرب

    سعودی عرب نے واضح کیا ہے کہ واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں پیش کیا گیا تاثر حقائق کے منافی ہے اور سعودی عرب کے مؤقف کی درست عکاسی نہیں کرتا۔

    امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی ایک حالیہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا نے ایران پر حملہ کرنے سے قبل اسرائیل اور سعودی عرب کے ساتھ مشاورت کی تھی اور یہ کارروائی مبینہ طور پر ہفتوں پر محیط لابنگ کے بعد عمل میں آئی تاہم امریکا میں موجود سعودی سفارتخانے نے اس رپورٹ کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے اسے گمراہ کن اور غلط قرار دیا ہے۔

    واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف حملوں کا فیصلہ ایسے وقت میں کیا جب اسرائیل اور سعودی عرب کی جانب سے امریکی انتظامیہ کے ساتھ رابطے جاری تھ۔ اخبار نے اپنی رپورٹ میں نام ظاہر نہ کرنے والے 4 باخبر ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان ممالک کی جانب سے ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرنے پر زور دیا گیا تھارپورٹ میں یہ تاثر دیا گیا کہ خطے کی صورتحال اور اتحادیوں کی تشویش کے تناظر میں امریکا نے کارروائی کا فیصلہ کیا۔

    کچھ قوتیں مسلم ممالک کے درمیان اختلافات کو ہوا دینا چاہتی ہیں،علامہ طاہر اشرفی

    اس رپورٹ کے بعد واشنگٹن میں سعودی سفارتخانے کے ترجمان فہد ناظر نے اس تاثر کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے گمراہ کن اور غلط قرار دیا انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب نے ہمیشہ ایران کے حوالے سے سفارتی حل اور قابل اعتبار معاہدے کی حمایت کی ہے اور کسی بھی مرحلے پر امریکی صدر کو مختلف یا جارحانہ پالیسی اپنانے کے لیے قائل کرنے کی کوشش نہیں کی۔

    سعودی مؤقف ہے کہ ریاض کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون کشیدگی میں کمی، مذاکرات، علاقائی استحکام اور مسلم دنیا میں اتحاد کا فروغ ہے۔ اس دعوے کی تائید تاریخ کے مختلف ادوار میں سعودی کردار سے بھی ہوتی ہے، جہاں ریاض نے سفارتی، انسانی اور مالی سطح پر متعدد مسلم ممالک کی مدد کی۔

    عمران خان کا آنکھ کے علاج کیلئے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع

  • 25 فیصد امریکی ایران پر حملوں کے حامی،ٹرمپ کی مقبولیت کا گراف بھی گرگیا

    25 فیصد امریکی ایران پر حملوں کے حامی،ٹرمپ کی مقبولیت کا گراف بھی گرگیا

    امریکا میں ہر چار میں سے صرف ایک شہری ایران پر امریکی حملوں کا حامی ہے۔

    ایک حالیہ سروے کے مطابق امریکا میں ایران کے خلاف امریکی اسرائیلی حملوں کی حمایت محدود دکھائی دیتی ہے حتیٰ کہ حکمران پارٹی ’ ریپبلیکن‘ بھی تقسیم کی شکار ہے، رائٹرز اور سروے ادارے اپسوس کی جانب سے کیے گئے مشترکہ جائزے میں معلوم ہوا ہے کہ صرف ہر 4 میں سے ایک امریکی ایران پر حملوں کی حمایت کرتا ہے۔

    ایپسوس سروے کے مطابق ایران پر حملوں سے صدر ٹرمپ کی مقبولیت کا گراف بھی ایک فیصد گرگیا،27 فیصد افراد نے امریکی حملوں کی حمایت کی اور43 فیصد نے مخالفت کی جب کہ 29 فیصد افراد اس بارے میں یقینی طور پر کوئی فیصلہ نہیں کرسکے۔

    امریکا سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے،ایران کے سیکیورٹی چیف کا اعلان

    اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران پر امریکی حملوں کے حوالے سے ریپبلکن ووٹرز میں حمایت نسبتاً زیادہ ہے، تاہم وہ بھی مکمل طور پر متفق نہیں۔ تقریباً 55 فیصد ریپبلکنز نے امریکی اسرائیلی کارروائیوں کی حمایت کی، 13 فیصد نے مخالفت کی جبکہ 32 فیصد نے غیر یقینی کا اظہار کیا، تقریباً 42 فیصد ریپبلکن جواب دہندگان نے کہا کہ اگر اس کارروائی کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں تعینات امریکی فوجی ہلاک یا زخمی ہوتے ہیں تو وہ اس آپریشن کی حمایت کم کر دیں گے۔

    پاکستان میں امریکی سفارت اور قونصل خانوں کی سروسز معطل

    تجزیہ کاروں کے مطابق یہ نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ فوجی مہم جوئی کے معاملے پر امریکی عوام کی رائے منقسم ہے اور جانی نقصان کی صورت میں حمایت مزید کم ہو سکتی ہے۔

    واضح رہے کہ ایران پر امریکی اور اسرائیل کے مشترکہ حملے کے بعد ایران کی جانب سے جوابی کارروائی جاری ہے جب کہ امریکا اور اسرائیل بھی ایران پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں جس کے نتیجے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سمیت اعلیٰ فوجی حکام شہید ہوگئے ہیں۔

    بیروت اور جنوبی لبنان پر شدید اسرائیلی بمباری، 31 جاں بحق، درجنوں زخمی

  • امریکا سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے،ایران کے سیکیورٹی چیف کا اعلان

    امریکا سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے،ایران کے سیکیورٹی چیف کا اعلان

    تہران: ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کی خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران واشنگٹن سے کوئی بات چیت نہیں کرے گا۔

    ان کا بیان امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد لاریجانی نے عمانی ثالثوں کے ذریعے امریکا سے جوہری مذاکرات بحال کرنے کی کوشش کی۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں علی لاریجانی نے کہا، ’ہم امریکا کے ساتھ مذاکرات نہیں کریں گے،علی لاریجانی نے امریکی صدر ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ نے اپنی ’خیالی تصورات‘ کے باعث مشرقِ وسطیٰ کو افراتفری میں دھکیل دیا ہے اور اب مزید امریکی ہلاکتوں سے خوفزدہ ہیں۔

    پاکستان میں امریکی سفارت اور قونصل خانوں کی سروسز معطل

    انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نے اپنے ’امریکا فرسٹ‘ کے نعرے کو ’اسرائیل فرسٹ‘ میں بدل دیا اور امریکی فوجیوں کو اسرائیل کے مفادات کی خاطر قربان کیا اس کی قیمت امریکی فوجیوں اور ان کے خاندانوں کو چکانا پڑے گی جبکہ ایران اپنے دفاع کا حق برقرار رکھے گا، ایران کی مسلح افواج نے جارحیت کا آغاز نہیں کیا، ایرانی قوم اپنا دفاع کر رہی ہے-

    کراچی : امریکن قونصلیٹ جانے والے تمام راستے بند،اسلام آباد میں ریڈ زون بھی مکمل سیل