Baaghi TV

Tag: ایران

  • امریکا کی بحری راستے پر پابندی لگانے کی دھمکی،ایران نے جواب میں کا پچیدہ ایکویشن شئیر کر دی

    امریکا کی بحری راستے پر پابندی لگانے کی دھمکی،ایران نے جواب میں کا پچیدہ ایکویشن شئیر کر دی

    ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران کی سمندری راستوں پر پابندی لگانے کی امریکی دھمکی خود امریکا کے لیے مہنگی پڑ سکتی ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں باقر قالیباف نے ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے والے جہازوں کو نشانہ بنانے سے متعلق امریکی انتباہ پر کہا کہ یہ اقدام الٹا امریکی عوام کے لیے معاشی طور پر نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

    انہوں نے وائٹ ہاؤس کے قریب پیٹرول کی قیمتوں کی ایک تصویر بھی شیئر کی اور خبردار کیا کہ موجودہ قیمتیں جلد ہی لوگوں کو سستی محسوس ہونے لگیں گی موجودہ پیٹرول کی قیمتوں سے لطف اٹھائیں، اور خبردار کیا کہ اگر کشیدگی میں اضافہ ہوا تو امریکی عوام جلد ہی فی گیلن 4 سے 5 ڈالر کی قیمتوں کو یاد کریں گے۔

    قالیباف نے اپنے پیغام میں ایک پیچیدہ ایکویشن بھی شیئر کی ”O_BSOH > 0 f(f(O)) > f(O)“ جسے سوشل میڈیا صارفین نے ان کے انجینئرنگ پس منظر کی عکاسی کرنے والا طنزیہ انداز قرار دیا اس میں ’BSOH‘ سے مراد آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ہے، جبکہ ’O_BSOH > 0‘ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ناکہ بندی کے اثرات میں اضافہ تیل کی فراہمی اور قیمتوں پر براہ راست اثر ڈالے گا۔

    یہ ایکویشن اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ کسی ابتدائی دھچکے پر عالمی منڈی کا ردعمل (f(O)) بعد کے اثرات (f(f(O))) کے ذریعے مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، جس سے قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ممکن ہےسادہ الفاظ میں آبنائے ہرمز پر دباؤ بڑھانے سے نہ صرف ایندھن کی قیمتیں بڑھیں گی بلکہ اس کے اثرات تسلسل کے ساتھ بڑھتے ہوئے امریکی منڈی میں پیٹرول کی قیمتوں کو موجودہ سطح 4 سے 5 ڈالر فی گیلن سے کہیں زیادہ لے جا سکتے ہیں۔

  • امریکا کے ساتھ کسی نتیجے پر پہنچنا ناممکن نہیں ،راستہ نکالا جا سکتا ہے،ایرانی صدر

    امریکا کے ساتھ کسی نتیجے پر پہنچنا ناممکن نہیں ،راستہ نکالا جا سکتا ہے،ایرانی صدر

    ایرانی صدر کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ کسی نتیجے پر پہنچنا ناممکن نہیں ہے اور اس کے لیے راستہ نکالا جا سکتا ہے۔

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر امریکی حکومت اپنی آمرانہ روش ترک کر دے اور ایرانی قوم کے حقوق کا احترام کرے تو امریکا کے ساتھ ایک معاہدہ ہونا ممکن ہو سکتا ہے،انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکا کے ساتھ کسی نتیجے پر پہنچنا ناممکن نہیں ہے اور اس کے لیے راستہ نکالا جا سکتا ہے۔

    صدر پزشکیان نے مذاکراتی ٹیم کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی ٹیم کے ارکان بالخصوص اپنے عزیز بھائی ڈاکٹر محمد باقر قالیباف کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ اللہ انہیں مزید ہمت اور طاقت عطا فرمائے۔

    دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس پر لکھا کہ گزشتہ 47 سالوں میں اعلیٰ ترین سطح پر ہونے والے ان انتہائی اہم مذاکرات میں ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا کے ساتھ نیک نیتی سے بات چیت کی،جب ہم اسلام آباد مفاہمتی یادداشت سے محض چند انچ کے فاصلے پر تھے، تو ہمیں حد سے بڑھے ہوئے مطالبات، بدلتے ہوئے مؤقف اور ناکہ بندی کا سامنا کرنا پڑا۔

    عباس عراقچی نے امریکا کے لیے طنزیہ کہا کہ کوئی سبق نہیں سیکھا گیا، نیک نیتی سے نیک نیتی جنم لیتی ہے اور دشمنی سے دشمنی۔

  • اسلام آباد مذاکرات نے مضبوط سفارتی عمل کی بنیاد رکھ دی ہے،ایرانی سفیر

    اسلام آباد مذاکرات نے مضبوط سفارتی عمل کی بنیاد رکھ دی ہے،ایرانی سفیر

    پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ اسلام آباد مذاکرات نے مضبوط سفارتی عمل کی بنیاد رکھ دی ہے-

    ایرانی سفیر نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ اسلام آباد مذاکرات نے ایک ایسے سفارتی عمل کی بنیاد رکھی ہے جو باہمی اعتماد اور نیک نیتی کے فروغ سے مزید مضبوط ہو سکتا ہےایرانی سفیر نے پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئےکہا کہ برادر ملک پاکستان بالخصوص وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ان مذاکرات کے انعقاد میں مثبت کردار ادا کیا۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت، فوج، پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کی مسلسل کاوشوں سے مذاکرات ایک پرامن، منظم اور محفوظ ماحول میں منعقد ہو ئے، جہاں فریقین کو یکساں سہولیات فراہم کی گئیں،ایرانی اعلیٰ سطح مذاکراتی وفد نے وقار، خود اعتمادی اور اللہ تعالیٰ پر ایمان کے ساتھ مذاکرات کیے، تاکہ ایرا نی عوام کے قومی مفادات اور جائز حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اسلام آباد مذاکرات ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل ہے جو تمام فریقین کے مفاد ات کے لیے پائیدار فریم ورک تشکیل دے سکتے ہیں۔

  • مذاکرات میں ناکامی: ٹرمپ کا ایران کے خلاف فضائی کارروائی پر غور، امریکی اخبار کا دعویٰ

    مذاکرات میں ناکامی: ٹرمپ کا ایران کے خلاف فضائی کارروائی پر غور، امریکی اخبار کا دعویٰ

    ایران اور امریکا کے درمیان جاری امن مذاکرات میں ناکامی کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف محدود فضائی حملوں کے آپشن پر سنجیدگی سے غور شروع کر دیا ہے۔

    امریکی اخبار دی وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ اور ان کے قریبی مشیران اس حوالے سے مختلف حکمت عملیوں کا جائزہ لے رہے ہیں امریکی انتظامیہ اس بات پر غور کر رہی ہے کہ مذاکرات میں تعطل کے بعد ایران کے خلاف محدود نوعیت کے فوجی حملے دوبارہ شروع کیے جائیں، جبکہ ساتھ ہی آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کو بھی برقرار رکھا جائے۔

    اخبار کا کہنا ہے کہ اس ممکنہ اقدام کو ایران پر دباؤ بڑھانے اور مذاکراتی عمل کو دوبارہ فعال بنانے کے طریقہ کار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے صدر ٹرمپ کے پاس مکمل فضائی بمباری کی مہم دوبارہ شروع کرنے کا اختیار بھی موجود ہے، تاہم اس آپشن کو کم ترجیح دی جا رہی ہے،ایک اور زیر غور آپشن یہ ہے کہ امریکا وقتی نوعیت کی ناکہ بندی برقرار رکھے اور اپنے اتحادی ممالک پر دباؤ ڈالے کہ وہ مستقبل میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے لیے طویل المد تی فوجی حفاظتی مشن کی ذمہ داری سنبھالیں۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق اس طرح کے بڑے پیمانے پر حملے خطے میں مزید عدم استحکام کا باعث بن سکتے ہیں، جبکہ صدر ٹرمپ ماضی میں طویل فوجی تنازعات سے گریز کی پالیسی کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

  • آج 10 بجے سے  آبنائے ہرمز میں  ناکہ بندی کر دی جائے گی، سینٹکام

    آج 10 بجے سے آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی کر دی جائے گی، سینٹکام

    صدر ٹرمپ نے واضح طور پر کہا کہ ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اس مقصد کے لیے ایران کی فوجی اور بحری طاقت کو پہلے ہی شدید نقصان پہنچایا جا چکا ہے،ہم ناکہ بندی کر رہے ہیں تاکہ ایران تیل نہ بیچ سکے اور اس عمل کا آغاز آج صبح سے ہو رہا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایرانی بحریہ کے 158 جہاز تباہ کر دیے گئے ہیں اور اب امریکا آبنائے ہرمز کی مکمل ناکہ بندی کر رہا ہے تاکہ ایران اپنا تیل عالمی مارکیٹ میں نہ بیچ سکے امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ناکہ بندی کے باقاعدہ وقت کا اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ امریکی وقت کے مطا بق آج صبح 10 بجے (پاکستانی وقت کے مطابق شام 7 بجے) سے آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کی آمدورفت بند کر دی جائے گی۔

    سینٹ کام کے مطابق، اس ناکہ بندی کا اطلاق تمام ممالک کے ان جہازوں پر یکساں طور پر ہوگا جو ایرانی بندرگاہوں کی طرف جا رہے ہوں گے یا وہاں سے آ رہے ہوں گے، تاہم سینٹ کام نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ جو جہاز خلیج اور بحیرہ عمان کی دیگر غیر ایرانی بندرگاہوں کی طرف جا رہے ہوں گے، انہیں نہیں روکا جائے گااس حوالے سے تجارتی جہاز رانی کے اداروں کو باضابطہ نوٹس جاری کر دیے جائیں گے تاکہ وہ اپنی نقل و حمل کو اس کے مطابق ترتیب دے سکیں۔

    میڈیا سے گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے نہ صرف ایران بلکہ اپنے اتحادیوں اور مذہبی رہنماؤں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایاانہوں نے کہا کہ وہ نیٹو کے کردار سے بہت مایوس ہو چکے ہیں اس کے ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے مسیحی پیشوا پوپ لیو پر غیر معمولی سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں کمزور اور خوفناک قرار دے دیا، جرم کے معاملات میں پوپ لیو کا رویہ بہت نرم ہے اور وہ ان کے مداح نہیں ہیں۔

    دوسری جانب امریکی انتظامیہ کا ماننا ہے کہ ایران کی نیوی کو سمندر میں ڈبونے اور اب آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کرنے سے ایرانی معیشت پر دباؤ بڑھے گا، جس سے اسے ایٹمی پروگرام سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا جا سکے گا۔

    آبنائے ہرمز عالمی توانائی سپلائی کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً پانچواں حصہ تیل اور گیس گزرتی ہے ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی اور حملوں کے بعد اس راستے پر بحری آمد و رفت میں نمایاں کمی آئی ہے-

  • آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہر جہاز پر ٹول ٹیکس لازمی ہوگا،ایران

    آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہر جہاز پر ٹول ٹیکس لازمی ہوگا،ایران

    ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے نئے کنٹرول نظام کے تحت ٹول فیس عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے-

    ایرانی پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے روسی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہر جہاز کو نئے نظا م کے تحت فیس ادا کرنا ہوگی،حکومت قومی مفادات کے تحت اس اہم سمندری راستے پر مکمل کنٹرول اور مؤثر مینجمنٹ قائم کرے گی، جبکہ انہوں نے امریکا پر عدم اعتماد کا اظہار بھی کیا۔

    دوسری جانب ایران کے نائب وزیر تیل محمد صادق نے بتایا کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں متاثر ہونے والی آئل ریفائننگ صلاحیت کی بحالی پر کام جاری ہے انہوں نے کہا کہ توقع ہے کہ آئندہ دو ماہ کے اندر 70 سے 80 فیصد پیداواری صلاحیت بحال ہو جائے گی،لاوان ریفائنری کا کچھ حصہ آئندہ 10 دنوں میں دوبارہ کام شروع کر سکتا ہے، جس سے تیل کی پیداوار میں بتدریج بہتری آنے کی امید ہے۔

  • ہم ایران کے ساتھ مذاکرات میں ہر صورت کامیاب ہوں گے،ڈونلڈ ٹرمپ

    ہم ایران کے ساتھ مذاکرات میں ہر صورت کامیاب ہوں گے،ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ہم ایران کے ساتھ مذاکرات میں ہر صورت کامیاب ہوں گے-

    وائٹ ہاؤس سے روانگی کے موقع پر جہاں سے وہ میامی میں ایک مکسڈ مارشل آرٹس مقابلہ دیکھنے جا رہے تھےمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہم دیکھیں گے کیا ہوتا ہے، ہم ایران کے ساتھ بہت گہرے مذاکرات میں ہیں، اور ہم ہر صورت میں کامیاب ہوں گے، ہم نے انہیں عسکری طور پر شکست دی ہے-چین کی جانب سے ایران کو اسلحہ فراہم کیے جانے کی ممکنہ اطلاعات پر ردعمل دیتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ اگر بیجنگ نے ایسا کیا تو اسے ‘بڑے مسائل’ کا سامنا کرنا پڑے گا-

    ادھر امریکا اور ایران کے درمیان نصف صدی کے دوران اعلیٰ ترین سطح کے مذاکرات پاکستان میں ہوئے، جن میں امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس نے کی، ان مذاکرات کا مقصد 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی 6 ہفتوں پر مشتمل جنگ کا خاتمہ ہے،امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران اور امریکا میں جنگ بندی کوششوں کو سراہا،کہا کہ جے ڈی وینس نے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اس عمل میں اہم اور مثبت کردار ادا کیا۔

    جنگ بندی کے نازک ماحول کے درمیان ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی فوج آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کی بحالی کے لیے اقدامات شروع کر رہی ہے۔

  • ایران کے پاس اب بھی ہزاروں بیلسٹک میزائل اور لانچرز موجود ہیں،امریکی انٹیلیجنس

    ایران کے پاس اب بھی ہزاروں بیلسٹک میزائل اور لانچرز موجود ہیں،امریکی انٹیلیجنس

    امریکی انٹیلی جنس جائزوں سے واقف حکام کے مطابق ایران کے پاس اب بھی ہزاروں بیلسٹک میزائل موجود ہیں جنہیں زیرِ زمین اسٹوریج سے لانچرز نکال کر دوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے کہا ہے کہ اس جنگ بندی کا مقصد نہ صرف بحری راستوں کی بحالی ہے بلکہ ایران، امریکی افواج اور خطے کی ریاستوں کو مزید حملوں سے محفوظ رکھنا بھی ہے۔ تاہم بعض امریکی اہلکاروں کو خدشہ ہے کہ ایران اس وقفے کو اپنی میزائل صلاحیت دوبارہ منظم کرنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔

    امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے صحافیوں سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ ایران کا میزائل پروگرام عملی طور پر تباہ ہو چکا ہے اور لانچرز و میزائل ناکار ہو گئے ہیں تاہم امریکی انٹیلی جنس رپورٹس اس دعوے سے جزوی طور پر مختلف تصویر پیش کرتی ہیں اگرچہ ایران کے نصف سے زائد میزائل لانچرز یا تو تباہ، نقصا ن زدہ یا زیر زمین پھنس چکے ہیں، لیکن ان میں سے متعدد کو مرمت کر کے یا زیر زمین کمپلیکس سے دوبارہ نکالا جا سکتا ہے۔

    امریکی حکام کے مطابق ایران کا میزائل ذخیرہ مجموعی طور پر تقریباً آدھا رہ گیا ہے، تاہم اس کے پاس اب بھی ہزاروں درمیانے اور کم فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل موجود ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق یہ میزائل زیر زمین چھپائے گئے مقامات یا خفیہ اسٹوریج سے دوبارہ استعمال میں لائے جا سکتے ہیں اسی طرح ایران کے پاس موجود ڈرونز کی تعداد بھی جنگ کے آغاز کے مقابلے میں 50 فیصد سے کم رہ گئی ہے، کیونکہ بڑی تعداد میں ڈرونز استعمال ہو چکے ہیں اور ایران کی پیداواری صلا حیت کو امریکی اور اسرائیلی حملوں نے متاثر کیا ہے۔

    تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مذاکرات کی ناکامی پر ایران روس سے اسی نوعیت کے نظام حاصل کر کے اپنے دفاعی اور حملہ آور صلاحیت کو دوبارہ مضبوط بنا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ایران کے پاس اب بھی محدود تعداد میں کروز میزائل موجود ہیں جو خلیج فارس میں بحری جہازوں یا امریکی افواج کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔

    امریکی اور اسرائیلی حکام کے مطابق ایران کے تقریباً دو تہائی بیلسٹک میزائل لانچرز جنگ کے دوران ناکارہ ہو چکے ہیں، تاہم ان میں سے کئی اب بھی مرمت یا زیر زمین سے نکالے جا سکتے ہیں ایران کے پاس جنگ سے پہلے موجود تقریباً 2500 درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں میں سے اب بھی 1000 سے زائد باقی ہیں، جبکہ باقی استعمال یا تباہ ہو چکے ہیں۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس معاملے پر براہ راست تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے اور اعلیٰ امریکی فوجی قیادت کے حالیہ بیانات کی طرف اشارہ کیا ہےامریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے کہا کہ حالیہ حملوں نے ایران کے دفاعی صنعتی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے، امریکا نے 13 ہزار سے زائد بم استعمال کیے جن کے ذریعے میزائل اور ڈرون اسٹوریج مراکز،بحری اثاثے اور دفاعی صنعت کو نشانہ بنایا گیا تاکہ ایران اپنی سرحدوں سے باہر طاقت کے اظہار کی صلاحیت دوبارہ حاصل نہ کر سکے۔

    اُدھر واشنگٹن میں سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے ماہر جون آلٹر مین کے مطابق ایران اپنی محدود صلاحیت کے باوجود خلیج کے خطے میں اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے،ہر دن جب ایران شکست نہیں کھاتا وہ اس کے لیے فائدہ ہے، اور ہر دن جب مخالفین مکمل کامیابی حاصل نہیں کرتے وہ ان کے لیے نقصان ہے۔

  • ایران میں توانائی کے شعبوں کی بحالی کا کام شروع

    ایران میں توانائی کے شعبوں کی بحالی کا کام شروع

    جنگ بندی کے بعد ایران میں توانائی کے شعبوں کی بحالی کا کام شروع کر دیا گیا-

    الجزیرہ کے مطابق ایران کے نائب وزیر تیل محمد صادق عظیمی نے کہا ہے کہ ملک اپنی متاثرہ ریفائننگ اور ترسیلی صلاحیت کو آئندہ دو ماہ میں پرانی سطح کے 70 سے 80 فیصد تک بحال کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

    انہوں نے ایرانی خبر رساں ادارے ایس این این سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ایران کی ریفائنریاں، ٹرانسمیشن لائنیں، آئل ڈپو اور طیاروں کو ایندھن فراہم کرنے والی تنصیبات ملک بھر میں بارہا حملوں کا نشانہ بنیں متاثرہ علاقوں میں ملبہ ہٹانے اور خراب آلات کی تبدیلی کے لیے ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں، جن میں جزیرہ لاوان پر واقع ریفائنری بھی شامل ہے حکام آئندہ 10 دن کے اندر اس ریفائنری کے ایک حصے کو دوبارہ فعال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

    دوسری جانب سعودی عرب نے بھی اپنے توانائی کے شعبے میں بحالی کا اعلان کیا ہے سعودی وزارتِ توانائی کے مطابق حالیہ حملوں کے بعد دو اہم توانائی کی تنصیبات پر آپریشنز بحال کر دیے گئے ہیں۔

    سعودی وزارت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ مشرقی سے مغربی علاقوں تک تیل کی ترسیل کے لیے ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کی مکمل پمپنگ صلاحیت، جو یومیہ 70 لاکھ بیرل ہے، دوبارہ حاصل کر لی گئی ہےحکام نے منیفہ آئل فیلڈ میں یومیہ تقریباً 3 لاکھ بیرل تیل کی پیداوار بھی بحال کر دی ہے خریص آئل فیلڈ میں مکمل آپریشنز کی بحالی کے لیے کام جاری ہے، جس سے مزید 3 لاکھ بیرل یومیہ پیداوار میں اضافہ متوقع ہے۔

    واضح رہے کہ جمعرات کے روز سعودی عرب نے ریاض، مشرقی صوبے اور ینبع انڈسٹریل سٹی میں تیل، گیس اور بجلی کی تنصیبات پر حملوں کے بعد متعدد مقامات پر آپریشنز معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

  • نیتن یاہو کا ترک صدر  پر ایران کو سہولت فراہم کرنے کا الزام

    نیتن یاہو کا ترک صدر پر ایران کو سہولت فراہم کرنے کا الزام

    اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ایران اور اس کے اتحادیوں سے لڑائی جاری رکھیں گے۔

    اپنے ایک بیان میں نیتن یاہو نے ترک صدر رجب طیب اردوان پر ایران کو سہولت فراہم کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ترک صدر پرکردوں کےقتل عام میں ملوث ہونےکا بھی الزام لگایا کہا کہ ایران اور اس کے اتحادیوں سے لڑائی جاری رکھیں گے۔

    ترک صدارتی دفتر کے کمیونیکیشن امور کے سر برا ہ برہا نیتن دوران Burhanettin Duran نے کہا کہ نیتن یاہوکی غزہ میں نسل کشی اور خطےکے7 ملکوں پر حملےجاری ہیں، نیتن یاہو ترک صدر کو نشانہ بنانے کی خوش فہمی کا شکار ہیں نیتن یاہو مجرم ہےجن کے گرفتاری کے وارنٹ جاری ہوچکےہیں-

    انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو اپنی سیاسی بقا کے لیے خطےکو کشیدگی اور تصادم میں دھکیلنا چاہتا ہے، سب جانتےہیں اسرائیلی وزیراعظم دوسروں کو درس دینےکی اخلاقی اورقانونی حیثیت کھو چکا ہے، نیتن یاہوکو بالآخر انسانیت کےخلاف جرائم کا ذمےدار ٹھہرایا جائے گا۔