Baaghi TV

Tag: ایران

  • ایران امریکا مذاکرات کامیاب ہوئے تو ٹرمپ دستخط کیلئے خود پاکستان آئیں گے؟

    ایران امریکا مذاکرات کامیاب ہوئے تو ٹرمپ دستخط کیلئے خود پاکستان آئیں گے؟

    ماہرین اور سابق سفارتکاروں نے امکان ظاہر کیا ہے کہ اگر بات چیت کامیاب رہی تو یہ پیش رفت ایک بڑے معاہدے کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔

    چیئرمین پاکستان چائنا انسٹیٹیوٹ مشاہد حسین سید نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مذاکرات کامیابی سے ہمکنار ہوئے تو ڈونلڈ ٹرمپ خود معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے پاکستان آئیں گے، امریکی صدر یہ ذمہ داری کسی اور کو نہیں سونپیں گے،اس ممکنہ پیش رفت کی صورت میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان کی پاکستان آمد بھی متوقع ہو سکتی ہے-

    سابق سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے بھی مذاکرات کے اگلے مرحلے کے بارے میں پُرامید مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ دوسرے راؤنڈ سے مثبت نتائج برآمد ہونے کا امکان ہے، جس سے کشیدگی میں کمی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

    واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں امریکی صدر ٹرمپ نے آئندہ مذاکرات بھی پاکستان ہی میں ہونے کو ترجیح قرار دیا ہے،انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی اس سلسلے میں کاوشوں کو بھی سراہا ہے،ایک امریکی اخبار سے گفتگو کے دوران ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ آئندہ چند دنوں میں اہم پیش رفت متوقع ہو سکتی ہے ، مذاکرات کے لیے پاکستان کا انتخاب زیادہ موزوں دکھائی دیتا ہے-

  • ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور،  امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس کریں گے، سی این این

    ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور، امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس کریں گے، سی این این

    امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور میں امریکی وفد کی قیادت امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے۔

    سی این این کی خبر کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر بھی ممکنہ دوسرے اجلاس میں شریک ہوں گے یہ دونوں شخصیات جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی سفارتی کوششوں کی قیادت کر رہی تھیں-

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی راستہ تلاش کرنے کی ذمہ داری اپنے 3 قریبی مشیروں کو سونپی ہے اور وہ اب بھی ان پر اعتماد رکھتے ہیں، جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر حالیہ دنوں میں ایرانی حکام اور ثالثوں سے مسلسل رابطے میں رہے ہیں تاکہ کسی معاہدے تک پہنچا جا سکے،امریکی حکام ممکنہ دوسرے اجلاس کی تفصیلات پر غور کر رہے ہیں، تاہم منگل کی شام تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ ملاقات واقعی ہوگی یا نہیں۔

    صدر ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ آئندہ دو دنوں میں پاکستان میں کوئی پیش رفت ہو سکتی ہے، جہاں امریکا اور ایران دوبارہ مذاکرات کی میز پر آنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم سی این این کے مطابق ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ مستقبل کے مذاکرات زیر غور ہیں، تاہم فی الحال کسی بھی ملاقات کا شیڈول طے نہیں کیا گیا۔

  • اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی کے خلاف امریکا میں بڑا احتجاج، درجنوں مظاہرین گرفتار

    اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی کے خلاف امریکا میں بڑا احتجاج، درجنوں مظاہرین گرفتار

    امریکا کے شہر نیویارک میں اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی اور جاری جنگ کے خلاف احتجاجی مظاہرے شدت اختیار کرگئے، جہاں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 100 سے زائد مظاہرین کو گرفتار کرلیا۔

    رپورٹس کے مطابق مظاہرین کی بڑی تعداد نے جنگ کے خلاف سڑکوں پر نکل کر شدید نعرے بازی کی اور اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی پر سخت احتجاج ریکارڈ کرایا مظاہرین نے امریکی پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ جنگی اقدامات کی حمایت فوری طور پر بند کی جائے۔

    رپورٹس کے مطابق مظاہرین نے امریکی سینیٹرز چک شومر اور کرسٹین کے دفاتر کے باہر دھرنا بھی دیا، جس کے باعث علاقے میں کشیدگی کی صورتحال پیدا ہوگئی پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے کارروائی کرتے ہوئے 100 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا۔

    مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ جنگ اور اس میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی فراہمی کے خلاف اپنا احتجاج جاری رکھیں گے اور اس حوالے سے عالمی سطح پر آواز اٹھاتے رہیں گے۔

  • ایران  امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے،ٹرمپ

    ایران امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے،ٹرمپ

    صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ آج صبح انہیں ایران کی جانب سے درست اور مناسب لوگوں کی کال موصول ہوئی ہے، جو امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔

    عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق ایرانی نمائندے اس ڈیل میں سنجیدہ دلچسپی رکھتے ہیں اور اسے آگے بڑھانا چاہتے ہیں ایران کی جانب سے رابطہ ایک مثبت اشارہ ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی گنجائش اب بھی موجود ہے۔

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نےفاکس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ ایک بڑا معاہدہ ممکن ہے اور اس حوالے سے پیش رفت بھی ہوئی ہےرپورٹس کے مطابق امریکا نے ایران کو یورینیم افزودگی پر 20 سالہ پابندی (moratorium) کی تجویز دی تھی، جس کے جواب میں ایران نے پیر کے روز جوابی پیشکش کرتے ہوئے اس مدت کو 20 سال کے بجائے 5 سال کرنے کی بات کی، تاہم اس تجویز کو مسترد کر دیا گیا یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان باقاعدہ مذاکراتی عمل جاری ہے، جس میں تجاویز اور جوابی تجاویز کا تبادلہ ہو رہا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق کچھ عرصہ قبل تک صورتحال یہ تھی کہ امریکا کی جانب سے سخت مطالبات کیے جا رہے تھے جبکہ ایران ان مطالبات کو مکمل طور پر مسترد کر رہا تھا، تاہم اب حالات میں کچھ نرمی دکھائی دے رہی ہے ا مریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات میں کچھ پیش رفت ضرور ہوئی ہے، تاہم ان کے مطابق کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے اب بھی فیصلہ کن قدم ایران کو ہی اٹھانا ہوگا۔

    رپورٹس کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے انٹرویو میں کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت میں ایران کے جوہری مواد کی منتقلی اور مستقبل میں یورینیم کی افزودگی روکنے کے لیے ایک مؤثر نظام پر امریکی مطالبات کے حوالے سے کچھ پیش رفت ہوئی ہے وہ ہماری سمت میں آئے ہیں، تاہم ان کے مطابق ایرانی مذاکرات کار غالباً کسی معاہدے کو حتمی شکل دینے کی پوزیشن میں نہیں تھے کیونکہ انہیں تہران میں دیگر حکام کی منظوری درکار تھی۔

    جے ڈی وینس نے مزید کہا کہ امریکی مذاکرات کاروں نے واضح کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس بات کو پسند کریں گے کہ ایران کو ایک عام ملک کی طرح برتا جائے اور اس کی معیشت بھی ایک نارمل اقتصادی نظام کے تحت کام کرے، تاہم انہوں نے اس بات کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں انہوں نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں اس معاملے پر ایک بڑا معاہدہ ممکن ہے، لیکن اس کے لیے اگلا قدم ایران کو اٹھانا ہوگا۔

  • روشنی دکھانے پر پوپ کا شکرگزار ہوں، قالیباف کا پوپ لیو کو خراج تحسین

    روشنی دکھانے پر پوپ کا شکرگزار ہوں، قالیباف کا پوپ لیو کو خراج تحسین

    ایران کے چیف مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو خراج تحسین پیش کیا ہے-

    اپنے بیان میں محمد باقر قالیباف نے کہا کہ وہ پوپ لیو کی جانب سے بے خوفی سے اپنے موقف پر قائم رہنے کے عمل کی تکریم کرتے ہیں،پوپ کی جا نب سے ادا کیے گئے یہ الفاظ کہ مجھے خوف نہیں، اسرائیل اور امریکا کے جنگی جرائم کی مذمت کے ساتھ یہ الفاظ گونج رہے ہیں پوپ لیو کا ’مجھے خوف نہیں‘ کہنا ایسا نعرہ ہے جو اس راستے کو روشن کرتا ہے جو بے گناہوں کے قتل عام پر خاموش رہنے سے انکار کرنیوالوں کا رستہ ہےپوپ کی قیادت کروڑوں افراد کو متاثر کرتی ہے، یہ روشنی دکھانے پر پوپ کا شکرگزار ہوں۔

    واضح رہے کہ پوپ لیو نے ایران امریکا جنگ بندی کی اپیل کی تھی جس کےبعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پوپ لیو کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایران جنگ سے متعلق پوپ لیو کے بیان پر اپنے ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔

    اُنہوں نے لکھا ہے کہ پوپ لیو جرم کے معاملے میں کمزور اور خارجہ پالیسی کے معاملے میں خوفناک ہیں مجھے ایسا پوپ نہیں چاہیے جو یہ سمجھتا ہو کہ ایران کا جوہری ہتھیار رکھنا ٹھیک ہے یا جو امریکا کے وینزویلا پر حملہ کرنے کو خوفناک عمل سمجھے، صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ میں پوپ لیو کا مداح نہیں ہوں۔

    پوپ لیو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ تنقید کے باوجود جنگ کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گےمیں کسی بحث میں پڑنا نہیں چاہتا، تاہم جنگ کے خلاف کھل کر بولتا رہوں گا مسائل کے منصفانہ حل کے لیے امن، مکالمے اور ممالک کے درمیان کثیرالجہتی تعلقات کو فروغ دینا ضروری ہے دنیا بھر میں بڑی تعداد میں لوگ تکلیف میں ہیں اور بے گناہ افراد مارے جا رہے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ کوئی کھڑا ہو کر یہ کہے کہ مسائل کا بہتر حل بھی ممکن ہےپوپ لیو نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عالمی سطح پر امن کے قیام اور تنازعات کے حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھوں گا۔

  • پاکستان کی ایران امریکا مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی میزبانی کی پیشکش

    پاکستان کی ایران امریکا مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی میزبانی کی پیشکش

    پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی میزبانی کی پیشکش کر دی۔

    امریکی خبر رساں ایجنسی نے دو پاکستانی عہدیداروں کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان نے سیز فائرکی مدت ختم ہونے سے پہلے مذاکرات اسلام آباد میں منعقد کرنے کی تجویز دی ہے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا مرحلہ جمعرات کو ہو سکتا ہے جبکہ امریکی عہدیدار نے بھی توقع ظاہر کی ہےکہ فریقین معاہدے کےلیے نئے بالمشافہ مذاکرات پر غور کر رہے ہیں۔

    دوسری جانب امریکی ٹی وی سی این این کے مطابق امریکا اور ایران کے مذاکرات اب بھی جاری ہیں ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے امریکی نشریاتی ادارے نے بتایا کہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے پیشرفت ہو رہی ہے۔

    ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی حکام نے تجویز دی ہے کہ جنگ بندی کی مدت ختم ہونے سے پہلے اسلام آباد میں دوبارہ دونوں فریقین کو میز پر بٹھایا جائے اگرچہ پہلے دور میں کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہو سکا تھا، لیکن پسِ پردہ رابطے اب بھی جاری ہیں اور ماہرین کا خیال ہے کہ اس بار معاملات کسی منطقی نتیجے تک پہنچ سکتے ہیں۔

    امریکی ایجنسی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ مذاکرات کے اس عمل میں صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ ترکیہ اور مصر جیسے ممالک بھی ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں اسلام آباد میں ہونے والے پہلے مذاکرات کے دوران کئی اہم مسائل حل کے قریب پہنچ چکے تھے اور ایک مشترکہ فریم ورک کا اعلان بھی ہونے والا تھا، مگر پھر اچانک امریکی وفد نے وہاں سے رخصتی کا فیصلہ کر لیا۔

    اب صورتحال یہ ہے کہ امریکا اور ایران دونوں ہی نہیں چاہتے کہ دوبارہ جنگ شروع ہو، اسی لیے دونوں جانب سے اس ’خونی باب‘ کو ہمیشہ کے لیے بند کرنے کی خواہش موجود ہے۔

    سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کے قوی امکانات موجود ہیں اور زیادہ تر امکان یہ ہے کہ وہ پاکستان میں ہی منعقد ہوں ان کے مطابق ایران چونکہ پاکستان پر اعتماد کرتا ہے اس لیے وہ ممکنہ طور پر کسی دوسرے ملک میں مذاکرات کرنے پر آمادہ نہ ہو۔

    پاکستان کے سابق سفیر اور سینٹر فار انٹرنیشنل سٹریٹجک اسٹڈیز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایمبیسڈر علی سرور نقوی نے میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کا دوسرا دور کب اور کہاں ہوگا اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے ہ مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہیں اور دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کو اپنی تحریری تجاویز دی ہیں جو ایک دوسرے نے وصول بھی کی ہیں۔

    علی سرور نقوی نے کہا کہ اگر فریقین مذاکرات کے لیے تیار نہ ہوتے تو واک آؤٹ کر گئے ہوتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ نے بھی مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے کی امید ظاہر کی ہے اور مذاکرات کا شروع ہونا دونوں فریقین کے حق میں بہتر ہے۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ مذاکرات آیا پاکستان میں ہوں گے یا کہیں اور تو اس پر ان کا کہنا تھا کہ غالب اِمکان تو یہی ہے کہ وہ پاکستان میں ہی ہوں۔ انہوں نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ عمان میں مذاکرات کے دوران ایران پر حملہ ہو گیا تھا، جنیوا میں مذاکرات کا تجربہ بھی ایران کے لیے زیادہ اچھا نہیں لہٰذا اس کے بعد پاکستان ہی واحد آپشن بچتا ہے اور ایران کو پاکستان پر اعتماد بھی ہے جس کا اظہار ایرانی حکام کے بیانات سے بھی ہوتا ہے۔

    پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیر مقدم نے پیر کو سوشل میڈیا پر پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے وضاحت کی کہ مذاکرات ایک مسلسل عمل کا نام ہے۔ دوسرے الفاظ میں انہوں نے اس عمل کے شروع ہونے پر اطمینان کا اظہار کیا۔

    رضا امیر مقدم نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں لکھا کہ ’اسلام آباد مذاکرات ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک پروسیس کا نام ہے، اسلام آباد مذاکرات نے ایک ایسے سفارتی عمل کی بنیاد رکھ دی ہے جو اگر باہمی اعتماد اور مضبوط ارادے کے ساتھ آگے بڑھایا جائے تو تمام فریقین کے مفادات کے لیے ایک پائیدار فریم ورک تشکیل دے سکتا ہے میں برادر اور دوست ملک پاکستان بالخصوص وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی خیر سگالی کے جذبے اور مذاکرات کے انعقاد میں ان کے مثبت کردار پر شکرگزار ہوں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان ہے کہ ایران کی بحری ناکہ بندی کریں گے جبکہ محدود فضائی حملوں کے اعلانات کے باوجود امریکی حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر ایران ان کی شرائط مان لے تو وہ دوبارہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

    واضح رہے کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا پہلا مرحلہ 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہوا تھا، دونوں ممالک کے وفود کے درمیان تقریباً 21 گھنٹے تک مذاکرات چلتے رہے تاہم مذاکرات کسی ڈیل پرپہنچے بغیر ہی ختم ہو گئے۔

    اس حوالے سے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں مثبت پیشرفت ہوئی، ہم نے اپنی تجاویز ایران کے سامنے رکھ دی ہیں اور اب گیند ایران کے کورٹ میں ہے۔

    دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے ایران منصفانہ معاہدے کے لیے تیار ہے جبکہ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نے کہا کہ نئی لڑائی کو روکنا ضروری ہے، جنگ دوبارہ شروع نہیں ہونی چاہیے اس بحران کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور روس تصفیے میں مدد کےلیے تیار ہے۔

  • خطے میں مزاحمتی محاذ پہلے سے زیادہ مضبوط ہو چکا ہے،کمانڈر قدس فورس

    ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قاآنی نے امریکا اور اسرائیل کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں مزاحمتی محاذ پہلے سے زیادہ مضبوط ہو چکا ہے اور دشمن کو خالی ہاتھ واپس جانا پڑے گا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق بریگیڈیئر جنرل اسماعیل قاآنی نے اپنے بیان میں کہا کہ مزاحمتی قوتیں پورے خطے میں فعال اور منظم ہیں اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں امریکا اور اسرائیل کو ماضی سے سبق سیکھنا چاہیے کہ وہ یمن، باب المندب اور بحیرہ احمر جیسے علاقوں میں مطلوبہ کامیابیاں حاصل نہیں کر سکے اس بار بھی دشمن کو کسی قسم کی کامیابی حاصل نہیں ہوگی اور خطے میں موجود مزاحمتی قوتیں ان کے عزائم کو ناکام بنا دیں گی۔

    دوسری جانب حالیہ پیش رفت میں امریکی فوج کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کے گرد ناکہ بندی شروع کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کو روکا یا قبضے میں لیا جا سکتا ہے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق اس صورتحال سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے اور عالمی سطح پر اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

  • ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا اعلان،چین کی کھل کر مخالفت

    ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا اعلان،چین کی کھل کر مخالفت

    امریکا کے صدر ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے اعلان پر چین نے کھل کر مخالفت کردی-

    چین کے وزیر دفاع ایڈ مرل ڈونگ جن نے اپنے بیان میں کہا کہ چین کے ایران کے ساتھ اہم تجارتی اور توانائی کے معاہدے موجود ہیں، جن کا احترام کیا جائے گا،انہوں نے امریکا کو خبردار کیا کہ چین اپنے مفادات کا تحفظ کرے گا اور دیگر ممالک سے بھی توقع رکھتا ہے کہ وہ ان معاملات میں مداخلت نہ کریں بنائے ہرمز ایران کے کنٹرول میں ہے اور یہ چین کے لیے کھلی ہے، جبکہ چینی بحری جہاز اس راستے سے معمول کے مطابق گزر رہے ہیں۔

    دوسری جانب چینی وزارت خارجہ نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ اس اہم آبی گزرگاہ کو محفوظ، مستحکم اور بلا رکاوٹ رکھنا عالمی برادری کے مشترکہ مفاد میں ہے،چین نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ توانائی کی فراہمی کے تسلسل کے لیے تمام فریقین کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔

    چین نے اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ فریقین جنگ بندی کی پاسداری کریں گے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھائیں گے جبکہ برطانیہ اور آسٹریلیا نے بھی آبنائے ہرمز کی ممکنہ ناکہ بندی کی مخالفت کی ہے، جبکہ ترکی اور جاپان نے تنازع کو سفارتکاری کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا ہے۔

  • کسی بھی جارحانہ اقدام کا سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا،ایران

    کسی بھی جارحانہ اقدام کا سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا،ایران

    ایران کی مسلح افواج کی متحدہ کمان نے کہا ہے کہ خلیج فارس اور بحیرہ عمان کی بندرگاہیں یا تو سب کے لیے ہیں یا پھر کسی کے لیے نہیں، ایران اپنی سمندری حدود میں خودمختاری کا مکمل حق رکھتا ہےایران آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کو یقینی بناتا رہے گا-

    ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق مسلح افواج نے اپنے بیان میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے قانونی حقوق کا دفاع ان کا ایک فطری اور قانونی فریضہ ہے، اور اسی بنیاد پر ایران اپنی سمندری حدود میں خودمختاری کا مکمل حق رکھتا ہےایران آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کو یقینی بناتا رہے گا، تاہم دشمن سے وابستہ بحری جہازوں کو اس آبنائے سے گزرنے کا کوئی حق نہیں ہوگا اور نہ ہی دیا جائے گا۔

    ایرانی افواج کے مطابق دیگر بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ایران کے قواعد و ضوابط کے مطابق دی جائے گی دشمن کی جانب سے مسلسل دھمکیوں کے پیش نظر، حتیٰ کہ جنگ کے خاتمے کے بعد بھی، ایران آبنائے ہرمز کے کنٹرول کے لیے ایک مستقل اور سخت نظام نافذ کرے گا۔

    مسلح افواج نے امریکا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی پانیوں میں جہازوں کی نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کرنا غیر قانونی عمل ہے اور یہ سمندری قزاقی کے مترادف ہے اگر ایران کی بندرگاہوں اور سمندری سیکیورٹی کو خطرہ لاحق ہوا تو خلیج فارس اور بحیرہ عمان میں کوئی بھی بندرگاہ محفوظ نہیں رہے گی خطے میں بحری راستوں کی حفاظت ایران کی ذمہ داری ہے، اور کسی بھی جارحانہ اقدام کا سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے بعد آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے سخت فوجی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔

    صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ امریکی بحریہ فوری طور پر آبنائے ہرمز میں داخل ہونے اور باہر نکلنے والے تمام جہازوں کی ناکہ بندی شروع کرے گی اور جو جہاز ایران کو ٹول ادا کرے گا اسے محفوظ راستہ نہیں دیا جائے گا۔

  • آبنائے ہرمز میں  پاسدارانِ انقلاب اور امریکی بحریہ کے جہاز آمنے سامنے،ویڈیو

    آبنائے ہرمز میں پاسدارانِ انقلاب اور امریکی بحریہ کے جہاز آمنے سامنے،ویڈیو

    آبنائے ہرمز سے ایران کی پاسدارانِ انقلاب اور امریکی بحریہ کے جہازوں کے آمنے سامنے آںے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے-

    ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے امریکی جنگی جہازوں کو سخت فوجی وارننگ دے کر پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا، جبکہ امریکا کا کہنا ہے کہ اس کے بحری جہاز بغیر کسی رکاوٹ کے اپنا مشن مکمل کرتے ہوئے گزر گئے۔

    ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے ’آئی آر آئی بی‘ کی جانب سے نشر کی گئی فوٹیج میں مبینہ طور پر ایرانی بحریہ اور امریکی نیوی کے درمیان ریڈیو پر ہونے والی گفتگو دکھائی گئی ہے اس ویڈیو اور آڈیو میں سمندر میں کشیدہ ماحول کی عکاسی کی گئی، جس میں ایرانی فورسز کی جانب سے بار بار دی گئی وارننگ کو دکھایا گیا ہے۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نیوی نے آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والے ایک امریکی میزائل ڈسٹرائر کو فوری طور پر راستہ بدلنے اور بحر ہند کی جانب واپس جانے کا حکم دیا آڈیو میں ایک ایرانی اہلکار کو کہتے سنا گیا کہ آپ کو فوراً اپنا راستہ تبدیل کرنا ہوگا، بصورت دیگر آپ کو نشانہ بنایا جائے گا۔

    ایران کی جانب سے جاری کردہ آڈیو میں امریکی جہاز کی طرف سے محتاط مگر واضح جواب بھی سنائی دیتا ہے، جس میں کہا گیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق اپنی کارروائی انجام دے رہا ہے اور کسی قسم کی اشتعال انگیزی کا ارادہ نہیں رکھتا۔

    ایرانی میڈیا نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ یہ وارننگ صرف ایک جہاز تک محدود نہیں تھی بلکہ خلیج عمان میں موجود تمام جہازوں کو بھی خبردار کیا گیا کہ وہ ایرانی جنگی جہازوں سے کم از کم 10 میل کا فاصلہ رکھیں، بصورت دیگر بغیر کسی مزید اطلاع کے کارروائی کی جا سکتی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق ایرانی فورسز نے اس دوران بار بار حتمی وارننگ بھی جاری کی اور کہا کہ اگر احکامات پر عمل نہ کیا گیا تو کارروائی کی جائے گی پاسدارانِ انقلاب نے بعد ازاں واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کے قریب آنے والے کسی بھی فوجی جہاز کو جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔