Baaghi TV

Tag: ایران

  • امریکا بین الاقوامی سمندروں میں ایرانی آئل ٹینکروں پر قبضے کی تیاری کر رہا ہے، وال اسٹریٹ جرنل

    امریکا بین الاقوامی سمندروں میں ایرانی آئل ٹینکروں پر قبضے کی تیاری کر رہا ہے، وال اسٹریٹ جرنل

    امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا بین الاقوامی سمندروں میں موجود ایرانی آئل ٹینکروں اور تجارتی جہازوں پر قبضہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق امریکا اس اقدام کے ذریعے ایران پر دباؤ ڈالنا چاہتا ہے تاکہ وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دے اور اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے امریکا کو رعایتیں دے دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز پر نیا نظام نافذ کیا جائے گا، جس کے تحت اس اہم سمندری راستے سے گزرنے والے ہر جہاز کو ایرانی بحریہ سے اجازت لینا لازمی ہوگا تمام تجارتی جہاز ایران کی جانب سے طے کیے گئے مخصوص راستوں پر سفر کریں گے، جبکہ غیر ملکی جنگی جہازوں کے داخلے پر سخت پابندی عائد ہوگی۔

    ایرانی بحریہ کے سربراہ ریئر ایڈمرل شہرام ایرانی نے امریکی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ نے دراصل ایران نہیں بلکہ اپنے اتحادیوں کی ناکہ بندی کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے بیانات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا۔

    واضح رہے کہ ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز کھولنے کا عندیہ دیا تھا، تاہم بعد ازاں ایران نے مؤقف اختیار کیا کہ جب تک امریکا اپنے غیر قانونی اقدامات ختم نہیں کرتا، اس وقت تک یہ اہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر بحال نہیں کی جائے گی۔

    ماہرین کے مطابق اگر اس کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو عالمی تیل کی ترسیل اور معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

  • امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ایک بھونڈا اور جاہلانہ فیصلہ ہے،قالیباف

    امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ایک بھونڈا اور جاہلانہ فیصلہ ہے،قالیباف

    ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور سینیئر مذاکرات کار باقر قالیباف نے واشنگٹن کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ایک بھونڈا اور جاہلانہ فیصلہ ہے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا مکمل کنٹرول برقرار ہے اور یہ ممکن نہیں ہے کہ دوسرے ممالک کے جہاز تو اس اہم راستے سے گزر سکیں مگر ایران کو اس کی اجازت نہ ہو باقر قالیباف نے امریکا کو خبردار کیا کہ اگر ان کا ایک بھی بحری جہاز (مائن سوئپر) ایک انچ بھی آگے بڑھا تو ایران براہِ را ست فائرنگ کرے گا، اور یہ بات وہ امریکی وفد کو دو ٹوک الفاظ میں بتا چکے ہیں۔

    باقر قالیباف نے حالیہ جنگی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ اب تک دشمن کے 170 سے 180 ڈرونز تباہ کیے جا چکے ہیں، جبکہ امریکا کے جدید ترین ایف 35 لڑاکا طیارے کو مار گرانا کوئی معمولی بات نہیں ہے دشمن اب زمینی حقیقت اور ایران کی طاقت کو اچھی طرح سمجھ گیا ہوگاامریکا کے ساتھ بات چیت میں کچھ پیشرفت ضرور ہوئی ہے لیکن اب بھی دونوں فریقین کے درمیان بہت بڑا فاصلہ موجود ہے جسے ختم کرنا فی الحال مشکل نظر آتا ہے۔

    دوسری جانب ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ مذاکرات کا دوبارہ آغاز صرف اسی صورت میں ہوگا جب امریکا اپنے حد سے زیادہ مطالبات سے پیچھے ہٹے گا۔

    کونسل کے مطابق جنگ کے شروع میں ہی امریکا نے جنگ بندی کے لیے پیغامات بھیجنا شروع کر دیے تھے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دس نکات پر مبنی ایک فریم ورک بھی تسلیم کیا تھا، جس کے بعد ایران پاکستان کی ثالثی میں مذاکرات پر راضی ہوا۔ تاہم اب امریکا نے نئی تجاویز پیش کی ہیں جن پر ایران غور کر رہا ہے لیکن ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا گیا کیونکہ تہران اپنی قوم کے مفاد پر سمجھوتا نہیں کرے گا۔

    سیکیورٹی کونسل نے مزید کہا کہ پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز کو مشروط طور پر تجارتی جہازوں کے لیے کھولنے کا فیصلہ کیا تھا، لیکن خلیج میں امریکی اڈوں کے لیے سامان کی ترسیل ایران کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے جب تک امریکا ایران کی بحری ناکہ بندی ختم نہیں کرتا، آبنائے ہرمز کو مشروط طور پر بھی نہیں کھولا جائے گا، اب اس راستے سے گزرنے والے جہازوں کو ایران کے بتائے ہوئے روٹس پر چلنا ہوگا اور مخصوص فیس بھی ادا کرنی ہوگی۔

    اس کشیدگی کے جواب میں امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے تصدیق کی ہے کہ وہ ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رکھے ہوئے ہیں اور اب تک 23 جہازوں کو واپس جانے پر مجبور کیا جا چکا ہےصدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی دو ٹوک کہا ہے کہ جب تک تمام نکات پر سو فیصد اتفاق نہیں ہو جاتا، امریکی بحریہ ایرانی سمندری حدود کا محاصرہ ختم نہیں کرے گی۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے اس سخت موقف کی وجہ سے پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے امن مذاکرات کا دوسرا دور کھٹائی میں پڑتا نظر آ رہا ہے، کیونکہ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ دباؤ میں آکر مذاکرات کی میز پر نہیں بیٹھے گا۔

  • ایران کا طویل اور غیر نتیجہ خیز مذاکرات میں شامل نہ ہونے کا اعلان

    ایران کا طویل اور غیر نتیجہ خیز مذاکرات میں شامل نہ ہونے کا اعلان

    ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے اگلے دور کی تاحال منظوری نہیں دی،ایران کا مؤقف ہے موجودہ صورتِ حال میں بات چیت آگے بڑھانے کے لیے مناسب ماحول موجود نہیں ہے۔

    ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے اگلے دور کی تاحال منظوری نہیں دی متعلقہ حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حالیہ صورتِ حال میں کسی نئے مذاکراتی مرحلے پر اتفاق نہیں ہو سکا یہ تعطل امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف بحری ناکا بندی کے اعلان اور مذاکرات میں سخت مطالبات کی وجہ سے پیدا ہوا ہے، دونوں ممالک کے درمیان حالیہ دنوں میں پیغامات کا تبادلہ ہوا، تاہم اس کے باوجود کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

    خبر ایجنسی تسنیم کے مطابق ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات کے تسلسل کے لیے ضروری ہے کہ امریکا غیر ضروری اور حد سے زیادہ مطالبات سے گریز کرے، بصورت دیگر ایران طویل اور غیر نتیجہ خیز مذاکرات میں شامل نہیں ہوگا ایران نے اپنا مؤقف امریکی حکام تک پاکستان کے ذریعے پہنچا دیا ہے، جب کہ آئندہ صورتِ حال کا دارومدار دونوں جانب کے فیصلوں پر ہوگا۔

    اس حوالے سے ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ کا کہنا ہے کہ ابھی تک مذاکرات کی کوئی تاریخ طے نہیں ہوئی، اس وقت فریم ورک کو حتمی شکل دینے پر توجہ ہے، نہیں چاہتے کہ ایسے مذاکرات ہوں جو ناکامی کی طرف جائیں، جب تک فریم ورک طے نہیں ہوتا، مذاکرات کی تاریخ نہیں دے سکتے درحقیقت بڑی اچھی پیش رفت ہوئی تھی،لیکن پھر زیادہ سے زیادہ والی سوچ نے معاہدہ نہ ہونے دیابین الاقوامی قوانین سے بالاتر کوئی چیز تسلیم نہیں کریں گے، جو بھی وعدہ کریں گے وہ بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں کریں گے۔

    اس سے قبل، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات سے متعلق دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں جھوٹ پر مبنی قرار دیا تھا،باقر قالیباف نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام سات دعوے غلط ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جھوٹے بیانات کے ذریعے نہ ماضی میں کوئی نتیجہ حاصل کیا جا سکا اور نہ ہی مستقبل میں ایسا ممکن ہوگا۔

    انہوں نے آبنائے ہرمز کی صورتِ حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پابندیوں کے تسلسل کی صورت میں اس آبی گزرگاہ کو کھلا نہیں رکھا جا سکتا۔ ان کے مطابق اس راستے سے گزرنے کے لیے ایران کی اجازت اور مقررہ ضوابط کی پابندی ضروری ہوگی۔

    انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق فیصلے زمینی حقائق کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں نہ کہ سوشل میڈیا پر۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ میڈیا کے ذریعے رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کی کوششیں جنگی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔

    دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ بات چیت دوبارہ تب شروع ہوگی جب دشمن حد سے زیادہ مطالبات نہیں کرے گا، بات چیت کے دوران دشمن نے مزید مطالبات شروع کردیے ہیں، حال ہی میں امریکیوں نے نئی تجاویز پیش کی ہیں، ایران ان پر غور کررہا ہے لیکن ابھی تک جواب نہیں دیا، انہیں معلوم ہوگیا کہ ایران پیچھے نہیں ہٹے گا۔

    ہفتے کو ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ جنگ کے 10 ویں روز سے ہی امریکا نے پیغام دینے شروع کردیے، یہ پیغامات سیز فائر اور بات چیت کے لیے تھے، 40 ویں روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 10 نکات تسلیم کیے، یہ نکات جنگ روکنے کے فریم ورک کے طور پر دیے، ایران بھی پاکستان کی ثالثی میں مذاکرات پر راضی ہوا۔

    ایرانی سیکریٹریٹ نے کہا کہ بات چیت کے دوران دشمن نے مزید مطالبات شروع کردیے، انہیں معلوم ہوگیا کہ ایران پیچھے نہیں ہٹے گا، 21 گھنٹے کی بات چیت کا وہ دور بغیر نتیجہ ختم ہوا، بات چیت دوبارہ تب شروع ہوگی جب دشمن زیادہ مطالبات نہیں کرے گا اور وہ میدان جنگ کی حقیقت کے مطابق چلے گا۔

    ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل سیکریٹریٹ کی جانب سے بیان میں مزید کہا گیا کہ حال ہی میں امریکیوں نے نئی تجاویز پیش کی ہیں، ایران ان پر غور کررہا ہے لیکن ابھی تک جواب نہیں دیا۔

    ایرانی سیکریٹریٹ کے مطابق ایرانی قوم کے مفاد پر کبھی سمجھوتا نہیں کریں گے، ایران کے مطالبات میں سے لبنان کی سیز فائر بھی شامل تھی، صیہونی حکومت نے شرط کی شروع سے ہی پامالی کی، ایران کے مؤقف پر اسرائیل لبنان میں سیزفائر پر راضی ہوا۔

    ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل سیکریٹریٹ نے کہا کہ پاسداران کے کنٹرول میں آبنائے ہرمز کھولنے کا فیصلہ کیا، آبنائے ہرمز مشروط طور پر کمرشل جہازوں کے لیے کھولی گئی، خلیج میں امریکی اڈوں کے لیے سامان آبنائے ہرمز سے ہی لے جایا جاتا ہے، یہ ایران کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

    ایرانی سیکرٹیریٹ نے مزید کہا کہ جنگ ختم ہونے تک آبنائے ہرمز کا کنٹرول نہیں چھوڑ سکتے، جہازوں کو فیس ادا کر کے ان روٹس پر جانا ہوگا جو ہم بتائیں گے، امریکا کا محاصرہ سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی ہے، جب تک محاصرہ ہے آبنائے ہرمز کو مشروط طور پر بھی نہیں کھولیں گے۔

    واضح رہے کہ ہفتے کے روز آبنائے ہرمز میں بحری آمد ورفت شدید الجھن اور کشیدگی کا شکار ہو گئی ہے۔ الجزیرہ کے مطابق ہزاروں جہاز پھنسے ہوئے ہیں جب کہ کئی جہاز راستہ بدل کر واپس جا رہے ہیں ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے مشترکہ فوجی کمانڈ نے امریکی ناکا بندی کو بنیاد بناتے ہوئے آبنائے ہرمز کا کنٹرول دوبارہ سخت کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق اگرچہ ایران نے ایک روز قبل کہا تھا کہ وہ تجارتی جہازوں کے لیے راستہ کھلا رکھے گا، تاہم متعدد بحری جہاز، جو آبنائے ہرمز کے ذریعے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے، خاص طور پر لراک جزیرے کے قریب پہنچ کر واپس پلٹ گئے کچھ جہاز خلیج عمان کی طرف آگے بڑھنے میں کامیاب ہوئے، تاہم ان میں سے بعض ایسے جہاز بھی شامل تھے جن پر پابندیاں عائد ہیں-

    بحری ٹریکنگ کے مطابق بڑی تعداد میں جہاز فی الحال راستہ بدل کر مغربی سمت میں واپس جا رہے ہیں، جب کہ ہزاروں بحری جہاز پھنسے ہوئے ہیں اور زیادہ تر کمپنیاں کسی بھی خطرے سے بچنے کے لیے انتظار کی پالیسی اختیار کر رہی ہیں۔

  • آبنائے ہرمز  بھارتی پرچم بردار جہازوں کے لئے بند کر دی گئی

    آبنائے ہرمز بھارتی پرچم بردار جہازوں کے لئے بند کر دی گئی

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے بھارتی پرچم بردار دو جہازوں کو آبنائے ہرمز عبور کرنے سے روک دیا ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق ایرانی گن بوٹس نے بھارتی جہازوں پر فائرنگ کی، تاہم واقعے میں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا بھارت نے اس واقعے پر ایران سے احتجاج کرتے ہوئے بحری جہازوں اور عملے کی حفاظت یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

    بھارتی میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ہفتے کے روز ایرانی گن بوٹس نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے دو بھارتی بحری جہازوں کو روکا اور ان پر فائرنگ کی، جس کی وجہ سے انہیں واپس لوٹنا پڑا۔

    بھارت نے ان واقعات پر نئی دہلی میں ایران کے سفیر کو وزارت خارجہ طلب کیا اور احتجاج ریکارڈ کرایا ہے بھارتی سیکریٹری خارجہ نے ایران سے بھارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کے لیے اقدامات درخواست کی، جس پرایرانی سفیر نے بھارت کے تحفظات ایرانی حکومت تک پہنچانے کی یقین دہائی کرائی ہے۔

    بین الاقوامی شپنگ ڈیٹا اور ٹینکر ٹریکنگ سروس کے مطابق بھارت جانے والے دو جہاز ’جگ ارنَو‘ اور ’سنمار ہیرالڈ‘ آبنائے ہرمز کے شمال میں عمان کے قریب پہنچنے کے بعد واپس پلٹ گئے سنمار ہیرالڈ ایک سُپر ٹینکر ہے جس پر 20 لاکھ بیرل عراقی تیل لدا ہوا تھا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق دونوں بحری جہازوں پر موجود عملہ محفوظ ہے، تاہم حملے کی نوعیت اور تفصیلات تاحال واضح نہیں ہوسکی ہیں۔

    واضح رہے کہ ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اس اہم بحری گزرگاہ کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے کھولنے کا اعلان کیا تھا تاہم ایران کی سینٹرل ملٹری کمانڈ نے ہفتے کی صبح امریکی بحری ناکہ بندی کے جواب میں آبنائے ہرمز دوبارہ بند کرنے کا اعلان کر دیا۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز نے ہفتے کے روز آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے دو تجارتی جہازوں پر فائرنگ کے واقعات کی تصدیق کی تھی ایرانی بحریہ کی جانب سے بعض جہازوں کو ریڈیو پیغام بھی بھیجا گیا تھا، جس میں آبنائے ہرمز کی دوبارہ بندش سے آگاہ کرتے ہوئے خبردار کیا گیا تھا اور اس گزرگاہ کے استعمال سے گریز کی ہدایت کی گئی تھی۔

    ہفتے کے روز ایرانی افواج کے مشترکہ کمانڈ ’خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر‘ نے جاری بیان میں کہا کہ ایران نے ماضی میں معاہدوں اور نیک نیتی پر مبنی مذاکرات کے بعد محدود تعداد میں آئل ٹینکرز اور تجارتی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی تھی، تاہم امریکا نے ناکہ بندی کے بہانے سمندری قزاقی جاری رکھی ہوئی ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی اقدامات کے باعث اب صورتِ حال دوبارہ پہلے جیسی ہو گئی ہے اور آبنائے ہرمز ایرانی مسلح افواج کے سخت انتظام اور مکمل نگرانی میں ہے۔

    ایرانی حکام نے واضح کیا کہ جب تک امریکا ایران سے آنے اور جانے والے جہازوں کی مکمل آزادانہ نقل و حرکت کو یقینی نہیں بناتا اس اہم عالمی گزرگاہ پر سخت کنٹرول برقرار رکھا جائے گا ایران کے اس سخت مؤقف نے خطے میں جاری تنازعے کے حوالے سے نئی غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب واشنگٹن دو ہفتوں کی نازک جنگ بندی میں توسیع پر غور کر رہا ہے۔

  • سینٹکام کا ایران کی سمندری تجارت کو مکمل طور پر معطل کرنے کا دعویٰ

    سینٹکام کا ایران کی سمندری تجارت کو مکمل طور پر معطل کرنے کا دعویٰ

    امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے نتیجے میں 36 گھنٹوں کے اندر ایران کی سمندری تجارت کو مکمل طور پر معطل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی کارروائیوں کی ذمہ دار ’سینٹرل کمانڈ‘ نے منگل کے روز ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے اعلان کے بعد 36 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں بحری راستوں سے ایران آنے اور جانے والی تمام معاشی سرگرمیوں کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے آبنائے ہرمز سے یہ پابندی صرف ایران کے لیے ہے، دیگر بندرگاہوں کے لیے آنے جانے والے جہازوں کی نقل و حرکت میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی اور جہاز رانی کی آزادی کو متاثر نہیں کیا جائے گا۔

    بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ناکہ بندی کے ابتدائی 24 گھنٹوں کے دوران کوئی بھی جہاز اس رکاوٹ کو عبور نہیں کر سکا جبکہ چھ تجارتی جہازوں نے امریکی افواج کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے واپس مڑ کر خلیج عمان میں ایرانی بندرگاہ کا رخ کیا۔

    دوسری جانب ایران کے سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ امریکی ناکہ بندی کے باوجود ایرانی بندرگاہوں پر جہازوں کی آمدورفت جاری ہے پریس ٹی وی کے مطابق امریکی دھمکی کے باوجود کم از کم چار جہازوں نے ایرانی بندرگاہوں پر آمدورفت کے لیے آبنائے ہرمز کا راستہ استعمال کیا، جن میں سے دو جہاز باقاعدہ طور پر اس اہم گزرگاہ کو عبور کر گئے۔

    ایرانی میڈیا نے میرین ٹریکنگ ڈیٹا کے حوالے سے بتایا کہ لائبیریا کے جھنڈے تلے چلنے والا بحری جہاز ’کرسٹیانا‘ ایرانی بندرگاہ بندر امام خمینی پر 74 ہزار ٹن مکئی اتارنے کے بعد 13 اپریل کو آبنائے ہرمز سے گزر گیا۔ جہاز نے آبنائے میں ایرانی جزیرے لارک کے قریب کا راستہ اختیار کیا،اسی طرح کوموروس کے پرچم بردار آئل ٹینکر ’ایلپس‘ بھی جزیرہ لارک کے قریب دیکھا گیا اور بعد ازاں آبنائے ہرمز عبور کر گیا۔ یہ جہاز 31 ہزار ٹن میتھانول لے کر 31 مارچ کو ایرانی بندرگاہ بوشہر سے روانہ ہوا تھا۔

    رپورٹ کے مطابق چین کا ایک ٹینکر ’رچ اسٹاری‘ بھی رات کے وقت لارک جزیرے کے جنوب میں ایران کے منظور شدہ روٹ سے گزرتے ہوئے آبنائے ہرمز عبور کر گیا بحری ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں جہازوں کے سگنلز میں خلل اور ممکنہ طور پر ردوبدل کیا جا رہا ہے، جس کے باعث در ست ٹریکنگ مشکل ہو گئی ہے۔

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب آنے والے کسی بھی فوجی جہاز کو حالیہ جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا، جب کہ ایرانی فوجی قیادت نے بھی ایرانی بندرگاہوں پر حملے کی صورت میں پورے خطے میں جوابی حملوں کی دھمکی دی ہے۔

  • افغانستان پر انحصار  ختم،ایران کے ذریعے وسطی ایشیا کیلئے نیا تجارتی راستہ فعال

    افغانستان پر انحصار ختم،ایران کے ذریعے وسطی ایشیا کیلئے نیا تجارتی راستہ فعال

    پاکستان نے اپنی علاقائی تجارت کو وسعت دینےکے لیے پاک ایران سرحد پر واقع ’گبد بارڈر ٹرمینل‘ کو بین الاقوامی روڈ ٹرانسپورٹ (ٹی آئی آر) سسٹم کے تحت فعال کر دیا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق اب پاکستان، افغانستان کے راستے پر انحصار کیے بغیر ایران کے ذریعے وسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی حاصل کر سکے گا، جو کہ نہ صرف ایک مختصر راستہ ہے بلکہ موجودہ حالات میں زیادہ محفوظ اور جدید متبادل بھی ہے اس نئے تجارتی راستے کے زریعے کراچی سے تاشقند (ازبکستان) کے لیے گوشت کے کنٹینرز کی پہلی کھیپ کامیابی کے ساتھ روانہ کر دی گئی ہے کسٹمز کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد یہ کنٹینرز ٹی آئی آر فریم ورک کے تحت ایران کے را ستے اپنی منزل کی جانب گامزن ہیں۔

    یہ تجارتی راہداری نیشنل لاجسٹک کارپوریشن (این ایل سی) کی جانب سے فعال کی گئی ہے جو اس سے قبل بھی چین، ایران اور دیگر وسطی ایشیائی ممالک تک متعدد تجارتی راہداریاں فعال کر چکی ہے گبد بارڈر کا فعال ہونا ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان کو متبادل راستوں کی شدید ضرورت تھی۔

    گزشتہ سال اکتوبر سے افغانستان کے ساتھ سرحدی تنازعات اور بار بار سرحد کی بندش کی وجہ سے پاکستانی برآمد کنندگان کو شدید مشکلات کا سامنا تھاافغانستان کے راستے بند ہونے کی وجہ سے پاکستان سے وسط ایشیائی ممالک کو برآمدات رک گئی تھیں، جس نے حکومت کو مجبور کیا کہ وہ ایران کے ذریعے وسطی ایشیا تک پہنچنے کے لیے ہنگامی اقدامات کرے، گبد بارڈر ٹرمینل، جو گوادر سے صرف 70 کلومیٹر اور ایران کی چاہ بہار بندرگاہ سے 120 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، مستقبل میں علاقائی تجارت کا مرکز بن سکتا ہے۔

    پاکستان کے ساتھ ایران کی 900 کلومیٹر طویل سرحد پر ہمیشہ سے ایک مضبوط غیر رسمی تجارت پہلے سے ہی جاری ہے حکومتِ پاکستان نے برآمدات کو آسان بنانے کے لیے بینکنگ قوانین میں بھی عارضی نرمی کی ہےعام طور پر برآمد کنندگان کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ بینکوں کے ذریعے ادائیگیوں کا ریکارڈ رکھیں، لیکن ایران اور وسطی ایشیا کے لیے بعض اشیا بشمول خوراک، ادویات اور خیموں کی برآمد پر یہ شرط جون 2026 تک ختم کر دی گئی ہے اس اقدام کا مقصد بیوروکریسی کی رکاوٹیں کم کرنا ہے تاکہ تاجر جلد از جلد اپنی مصنوعات عالمی منڈیوں تک پہنچا سکیں۔

    ازبکستان پاکستان کے لیے گوشت کی برآمدات کی ایک بہت بڑی مارکیٹ بن چکا ہے۔مالی سال 2025 کے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق، پاکستان کی گوشت کی مجموعی برآمدات میں ازبکستان کا حصہ 39 فیصد رہا، جو متحدہ عرب امارات (26 فیصد) سے بھی زیادہ ہے اسی اہمیت کے پیشِ نظر ایران کے ذریعے متبادل راستہ بنانا پاکستان کی معاشی ضرورت بن گیا تھا۔

  • ایران نے چینی سیٹلائٹ کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں کو ہدف بنایا، فنانشل ٹائمز

    ایران نے چینی سیٹلائٹ کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں کو ہدف بنایا، فنانشل ٹائمز

    فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران نے مبینہ طور پر چین میں تیار کردہ ایک جدید جاسوس سیٹلائٹ کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کے لیے انٹیلی جنس حاصل کی۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لیک شدہ ایرانی عسکری دستاویزات کے مطابق یہ نظام 2024 کے آخر میں پاسداران انقلاب اسلامی کی ایرو اسپیس فورس نے حاصل کیا یہ سیٹلائٹ،جسے ٹی ای ای-01بی کہا جاتا ہےچین سےخلا میں بھیجنے کےبعد ایک نجی کمپنی کے ذریعے ایران کے کنٹرول میں آیایہ سیٹلائٹ تقریباً آدھے میٹر ریزولوشن کی تصاویر لینے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو ایران کے اپنے موجودہ سیٹلائٹس کے مقابلے میں کہیں زیادہ جدید ہے۔

    دستاویزات کے مطابق ایرانی عسکری کمانڈروں نے مارچ کے دوران اس سیٹلائٹ کے ذریعے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کی نگرانی کی ان میں پرنس سلطان ایئر بیس اور دیگر اہم عسکری تنصیبات شامل ہیں، جہاں حالیہ کشیدگی کے دوران حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

    سیٹلائٹ سروس فراہم کرنے والی چینی کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کا نظام صرف زرعی، سمندری اور شہری منصوبہ بندی کے لیے ہے، تاہم ماہرین کے مطابق اس ٹیکنالوجی کا فوجی استعمال بھی ممکن ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایران نے اس منصوبے کے لیے کروڑوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی اور اسے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے تحت حاصل کیا گیا۔

    امریکی حکام کے مطابق چین کی بعض کمپنیوں اور ایران کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتا ہے جبکہ چین کی وزارت خارجہ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تنازعات میں اضافے کے بجائے امن اور مذاکرات کی حمایت کرتا ہے۔

  • ایران کی یورینیئم افزودگی روکنے کا فیصلہ تکنیکی نہیں بلکہ سیاسی نوعیت کا ہوگا، رافیل گروسی

    ایران کی یورینیئم افزودگی روکنے کا فیصلہ تکنیکی نہیں بلکہ سیاسی نوعیت کا ہوگا، رافیل گروسی

    جوہری توانائی کے عالمی ادارے کے سربراہ رافیل گروسی نے کہا ہے کہ ایران کی یورینیئم افزودگی روکنے کا فیصلہ تکنیکی نہیں بلکہ سیاسی نوعیت کا ہوگا، تکنیکی اعتبار سے 5، 10 یا 20 سال میں کوئی خاص فرق نہیں، اصل معاملہ یہ ہے کہ اعتماد کی سطح کیا ہے-

    انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی نے جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیؤل میں پریس بریفنگ کے دوران واضح کیا کہ اگر واشنگٹن اور تہران کے درمیان افزودگی کی معطلی پر بات چیت جاری ہے تو اس کی مدت (5، 10 یا 20 سال) کے حوالے سے تکنیکی طور پر کوئی بڑا فرق نہیں، بلکہ یہ مکمل طور پر سیاسی اعتماد کا معاملہ ہےجب بات معطلی کی آتی ہے تو یہ ایک سیاسی فیصلہ ہوتا ہے، تکنیکی اعتبار سے 5، 10 یا 20 سال میں کوئی خاص فرق نہیں، اصل معاملہ یہ ہے کہ اعتماد کی سطح کیا ہے گروسی نے واضح کیا کہ وہ ان مذاکرات کا براہ راست حصہ نہیں، اس لیے ان کی تفصیلات کی تصد یق نہیں کر سکتے۔

    واضح رہے کہ 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات جو کئی برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کے براہ راست رابطے تھے، کا مقصد جنگ بندی کو مستحکم بنانا اور ایران کے جوہری پروگرام سمیت اہم معاملات کو حل کرنا تھا تاہم یورینیئم افزودگی کے معاملے پر دونوں فریقین کے درمیان شدید اختلافات برقرار ہیں امریکا طویل المدتی پابندیوں کا خواہاں ہے جبکہ ایران جوہری عدم پھیلاؤ معاہدے کے تحت اپنے حق پر قائم ہے۔

    رافیل گروسی نے زور دیا کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کی کامیابی کے لیے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی رسائی اور نگرانی لازمی ہوگی بغیر تصدیق کے کوئی بھی معاہدہ محض ایک کاغذ یا وعدہ ہوگا، بصورت دیگر یہ حقیقی معاہدہ نہیں بلکہ اس کا محض تاثر ہوگا ایران کے وسیع جوہری پروگرام کے باعث اس کی تنصیبات اور جوہری مواد کی مکمل نگرانی ضروری ہوگی، اور ادارہ اس ضمن میں اپنی خدمات فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

    ایران کےموجودہ ذخیرے کے حوالے سے گروسی نےکہا کہ ادارے کے اندازے کے مطابق 60 فیصد تک افزودہ یورینیئم کا بڑا حصہ اب بھی انہی تنصیبا ت میں موجود ہے، خاص طور پر اصفہان میں، جہاں یہ پہلے محفوظ تھاانہوں نے شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 2009 میں معائنہ کاروں کے اخراج کے باوجود وہاں سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

    گروسی کے مطابق یونگ بیون کے 5 میگاواٹ ری ایکٹر، ری پروسیسنگ یونٹ اور لائٹ واٹر ری ایکٹر سمیت دیگر تنصیبات میں سرگرمیوں میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ شمالی کوریا کی جوہری صلاحیت تیزی سے بڑھ رہی ہے، جو درجنوں وارہیڈز تک پہنچ سکتی ہے یونگ بیون میں یورینیئم افزودگی کے ایک نئے پلانٹ جیسی تنصیب کی تعمیر دیکھی گئی ہے، جس سے اس کی پیداواری صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، تاہم زمینی رسائی نہ ہونے کے باعث درست اندازہ لگانا مشکل ہے۔

    روس اور شمالی کوریا کے درمیان ممکنہ جوہری تعاون کے حوالے سے گروسی نے کہا کہ ادارے کو فوجی نوعیت کے کسی تعاون کے شواہد نہیں ملے، تاہم سویلین منصوبوں سےمتعلق حوالہ جات ضرور موجود ہیں اگردونوں ممالک کےدرمیان کوئی تعاون موجود ہےتو صرف پرامن مقاصد تک محدود رہنا چاہیے۔

    گروسی نے جنوبی اور شمالی کوریا کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی بحالی کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ سفارت کاری کا دوبارہ آغاز ضروری ہے جنوبی کوریا کے جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوزوں کے منصوبے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کے لیے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے ساتھ خصوصی انتظامات ضروری ہوں گے تاکہ جوہری مواد کا غلط استعمال نہ ہو۔

    انہوں نے کہا کہ ایسے منصوبے طویل المدتی ہوتے ہیں اور ان میں تحقیق، تجربات اور ریگولیٹری ہم آہنگی کے کئی مراحل شامل ہوتے ہیں، جو کئی برسوں پر محیط ہو سکتے ہیں،گروسی نے آسٹریلیا کے آکس معاہدے اور برازیل کے مقامی منصوبے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہر ملک کا جوہری آبدوز پروگرام تکنیکی اور سیاسی اعتبار سے مختلف ہوتا ہے۔

  • عارضی جنگ بندی کے بجائے مستقل معاہدہ زیادہ بہتر حل ہے،ٹرمپ

    عارضی جنگ بندی کے بجائے مستقل معاہدہ زیادہ بہتر حل ہے،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی میں توسیع کا امکان مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عارضی جنگ بندی کے بجائے مستقل معاہدہ زیادہ بہتر حل ہے-

    امریکی نشریاتی ادارے ’اے بی سی نیوز‘ کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ جنگ بندی بغیر توسیع کے بھی ختم ہو سکتی ہے، تاہم ان کے نزدیک ایک مستقل معاہدہ زیادہ موزوں ہے، یہ کسی بھی طرح ختم ہو سکتی ہے، لیکن میرے خیال میں معاہدہ بہتر ہے کیونکہ اس کے بعد وہ دوبارہ تعمیر کر سکتے ہیں۔

    ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور تہران اسلام آباد میں امن مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاری کر رہے ہیں اس سے قبل ہونےوالےپہلے دور میں ایران کے جوہری پروگرام کےمعاملے پر کوئی پیشرفت نہیں ہو سکی تھی، جو وائٹ ہاؤس کے لیے ایک اہم مسئلہ ہے۔

    آئندہ مذاکرات کے حوالے سے امید کا اظہار کرتے ہوئے ٹرمپ نے جوناتھن کارل سے گفتگو میں کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ آپ اگلے دو دنوں میں حیران کن پیشرفت دیکھیں گے امریکی صدر نے ایک بار پھر یہ دعویٰ بھی دہرایا کہ امریکی اقدامات کے نتیجے میں ایران میں مؤثر طور پر حکومت میں تبدیلی آ چکی ہے اور ان کے بقول ’شدت پسند عناصر کو ختم کر دیا گیا ہےاب وہاں ایک مختلف حکومت ہے، ہم نے شدت پسندوں کو ہٹا دیا ہے، وہ اب موجود نہیں ہیں۔

  • امریکی ناکہ بندی کے باوجود 24 گھنٹوں میں 20 جہاز آبنائےہرمز سے گزر گئے

    امریکی ناکہ بندی کے باوجود 24 گھنٹوں میں 20 جہاز آبنائےہرمز سے گزر گئے

    واشنگٹن: امریکی ناکہ بندی کے باوجود گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 20 سے زائد تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں-

    ایک امریکی جریدے کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی ناکہ بندی کے باوجود گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 20 سے زائد تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں،جبکہ امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز پر سخت نگرانی اور کنٹرول کا دعویٰ کیا جا رہا ہے-

    سینٹ کام نے کہا تھا کہ ہرمز کی بندش کے ابتدائی 24 گھنٹوں میں 6 بحری جہازوں کو واپس بھیج دیا گیا جبکہ کوئی بھی ایرانی جہاز اس راستے سے نہیں گزر سکا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے لیے 10 ہزار سے زائد سیلرز، میرینز اور ایئر مین تعینات کیے گئے ہیں، جو اس اہم بحری گزرگاہ پر مسلسل نگرانی کر رہے ہیں یہ پابندی خاص طور پر ایران کی بندرگاہوں کی طرف آنے جانے والے جہازوں پر لاگو ہےایران کے علاوہ خلیج کی دیگر تمام بندرگاہیں بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے کھلی ہیں، تاہم ایران سے متعلق نقل و حرکت کو محدود کیا جا رہا ہے۔