Baaghi TV

Tag: ایران

  • فوری اقدامات نہ کیے گئے تو جنگ پورے خطے میں پھیل سکتی ہے،چین

    فوری اقدامات نہ کیے گئے تو جنگ پورے خطے میں پھیل سکتی ہے،چین

    چینی وزارت خارجہ نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے پیش نظر خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو جنگ پورے خطے میں پھیل سکتی ہے۔

    چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکُن نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ موجودہ جنگ کے اثرات کو عالمی معیشت تک پہنچنے سے روکنے کے لیے مزید اقدامات کرےانہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ خلیجی خطہ اور اس سے ملحقہ پانیوں کا شمار دنیا کے اہم تجارتی راستوں میں ہوتا ہے۔

    گو جیاکُن نے کہا کہ چین فریقین پر زور دیتا ہے کہ وہ صورتِ حال کو بار بار بگڑنے سے روکیں، جنگ کے پھیلاؤ سے سختی سے اجتناب کریں، اور سیاسی حل کے راستے پر واپس آئیں،چین نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ موجودہ صورتحال کو مزید خراب ہونے سے روکنے کے لیے فوری اور سنجیدہ اقدامات کرے تاکہ خلیج میں کشیدگی کم کی جا سکے اور دنیا ایک نئے بحران سے محفوظ رہے۔

    روس ایرانی عوام کی مدد کے لیے تیار ہے،پیوٹن

    چینی بیان میں ایک بار پھر سیاسی مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے مسائل کے حل پر زور دیا گیا ہے اور فریقین کو تلقین کی گئی ہے کہ وہ تحمل سے کام لیں اور خطے کے استحکام کو اولین ترجیح دیں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز ایران کی 3 مرکزی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، اسرائیل نے امریکی حملے کے بعد آج دوسرے روز بھی فردو جوہری مرکز پر حملہ کیا ہے جبکہ وسطی تہران پر متعدد تنصیبات کو نشانہ بنانے کا بھی دعویٰ کیا ہے، ایران نے بھی آج اسرائیل پر بڑے بیمارے پر میزائل حملے کیے ہیں۔

    چاہت خان کی اپنے ذومعنی اور نامناسب گانوں پر انوکھی منطق

  • روس ایرانی عوام کی مدد کے لیے تیار ہے،پیوٹن

    روس ایرانی عوام کی مدد کے لیے تیار ہے،پیوٹن

    روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ روس ایرانی عوام کی مدد کے لیے تیار ہے۔

    الجزیرہ کے مطابق ماسکو میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کے دوران صدر پیوٹن نے کریملن میں بات چیت کے آغاز پر کہا کہ کہ تہران کے خلاف جارحیت بے بنیاد ہے روس ایرانی عوام کی مدد کے لیے تیار ہے-

    روئٹرز کے مطابق ایران کے خلاف جارحیت مکمل طور پر بلاجواز ہے، روس ایرانی عوام کو مدد فراہم کرنے کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔

    ایرانی سپریم لیڈ رنے انہیں روسی صدر کیلئے ایک خط دیاہے جس میں روس کی حمایت کی درخواست کی گئی ہے عباس عراقچی نے ایران پر امریکی حملوں کی مذمت کرنے پر صدر پیوٹن کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ روس تاریخ کے درست جانب کھڑا ہے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ‌ای اور صدر مسعود پزشکیاں نے پیوٹن کے لیے اپنی نیک تمنائیں اور سلام بھیجے ہیں۔

    لڑکی سے مبینہ زیادتی کیس، رجب بٹ نے درخواست واپس لے لی

    ریاستی خبر رساں ایجنسی ٹاس کے مطابق عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اور روس مشرق وسطیٰ میں موجودہ کشیدگی کے حوالے سے اپنے مؤقف کو ہم آہنگ کر رہے ہیں۔

    روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر نے اپنے وزیر خارجہ کو ماسکو بھیجا ہے تاکہ صدر ولادیمیر پیوٹن سے امریکا کے حالیہ بڑے حملوں کے بعد مزید مدد کی درخواست کی جا سکے ایک سینئر ذریعے نےبتایا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی، خامنہ‌ای کا خط پیوٹن تک پہنچائیں گے جس میں روس کی حمایت طلب کی گئی ہے۔

    وزیراعظم سے ایرانی سفیر کی ملاقات ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

    ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک روس کی حمایت ایران کو کافی نہیں لگی اور تہران چاہتا ہے کہ پیوٹن اسرائیل اور امریکا کے خلاف ایران کی زیادہ کھل کر حمایت کرے، ذرائع نے یہ واضح نہیں کیا کہ ایران کس نوعیت کی مدد چاہتا ہے کریملن کا کہنا ہے کہ امریکا کے تین ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے نے تنازع میں شامل فریقین کی تعداد میں اضافہ کر دیا ہے اور ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔

    کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ ایران کی جوہری تنصیبات کے ساتھ کیا ہوا ہے اور آیا وہاں تابکاری کا کوئی خطرہ موجود ہے یا نہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو حملے سے قبل آگاہ نہیں کیا، اگرچہ دونوں کے درمیان عمومی طور پر امریکی فوجی مدا خلت کے امکانات پر بات چیت ضرور ہوئی تھی،دمتری پیسکوف نے کہا کہ ماسکو نے ثالثی کی پیشکش کی ہے، اور اب یہ اس بات پر منحصر ہے کہ ایران کو کیا درکار ہے۔

    قوم شکر کرے ،پاکستان ایٹمی طاقت ہے،ورنہ کیا ہوتا؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

  • ایرانی پارلیمنٹ کا عالمی جوہری توانائی ایجنسی سے تعاون  معطل کرنے پر غور

    ایرانی پارلیمنٹ کا عالمی جوہری توانائی ایجنسی سے تعاون معطل کرنے پر غور

    ایرانی پارلیمنٹ کا عالمی جوہری توانائی ایجنسی سے تعاون ختم کرنے کے بل پر غور

    مہر نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق پیر کے روز پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محمد باقر قالیباف نے ایران کے جوہری پروگرام کی پُرامن نوعیت کا اعادہ کیاانہوں نے سپریم لیڈر کی طرف سے ایٹمی ہتھیاروں کی ممانعت کے بارے میں جاری کردہ فتوے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کا کوئی غیر پُرامن سرگرمیوں کا منصوبہ نہیں، لیکن دنیا نے واضح طور پر دیکھا کہ آئی اے ای اے نے اپنے کسی بھی وعدے کا احترام نہیں کیا اور وہ ایک سیاسی آلہ بن چکی ہے۔

    محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایرانی پارلیمنٹ ایک ایسے بل پر غور کر رہی ہے، جس کے تحت ایران کا آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون اس وقت تک معطل کر دیا جائے گا، جب تک تہران کو اقوام متحدہ کی جوہری ایجنسی کے پیشہ ورانہ رویے کی قابلِ فہم ضمانتیں نہیں دی جاتیں۔

    اسرائیل کا تہران پر بڑا حملہ

    امریکا کے ایران کے جوہری مقامات پر فوجی حملوں کو ایران کے خلاف براہِ راست امریکی جنگ کے اعلان کے مترادف قرار دیتے ہوئے، قالیباف نے کہا کہ اگرچہ ہم امریکی حملے کو اسرائیلی حکومت کی اپنے مقاصد حاصل کرنے میں اسٹریٹجک ناکامی کا نتیجہ سمجھتے ہیں، لیکن ہم اسے برداشت نہیں کریں گے، ہم ضرور ایسا جواب دیں گے جس سے جواری ٹرمپ کو ہمارے پیارے ملک پر جارحیت کرنے پر پچھتانا پڑے۔

    واضح رہے کہ 13 جون کو اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ چھیڑ دی تھی، اور ایران کے فوجی اور جوہری مراکز کو نشانہ بنا رہی ہے، جب کہ امریکا نے مداخلت کرتے ہوئے اتوار کی صبح ایران کے نطنز، فردو اور اصفہان میں واقع تین جوہری مراکز پر حملے کردیے تھے۔

    وزیراعظم سے ایرانی سفیر کی ملاقات ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

  • جنگ آپ نے شروع کی لیکن ختم ہم کریں گے،پاسداران انقلاب کی ٹرمپ کو دھمکی

    جنگ آپ نے شروع کی لیکن ختم ہم کریں گے،پاسداران انقلاب کی ٹرمپ کو دھمکی

    پاسداران انقلاب نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ جنگ آپ نے شروع کی لیکن ختم ہم کریں گے امریکا براہ راست جنگ میں شامل ہو گیا ہے۔

    ایرانی فوج کے خاتم الانبیا یونٹ کے ترجمان نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کو ایران کی 3 بڑی جوہری تنصیبات پر بمباری کے بعد سنگین نتائج کے حامل طاقت ور حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا، جنگ جواری ٹرمپ نے شروع کی، ختم ہم کریں گے۔

    پاسداران انقلاب کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری کا کہنا ہے کہ امریکا نے ایرانی سرزمین کی خلاف ورزی کی ہے، امریکا کیخلاف طاقتور،ٹارگٹڈ آپریشنز کیے جائیں گے، امریکا کوبھاری، افسوسناک، غیرمتوقع نتائج کاسامنا کرنا پڑے گا،یہ جارحانہ اقدام ایک دم توڑتی صہیونی حکومت کو زندہ کرنے کے مقصد سے کیا گیا ہے۔

    کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے کہا کہ امریکا سخت آپریشنز اورشدید نتائج کاانتظار کرے، اللہ کاحکم ہے دشمن کے مقابلے کے لیے جو ہو سکے تیاری کرو، اللہ نے حکم دیا کہ قوت تیارکروجس سے تم دشمن کو ڈرا سکو امریکا ایران کے ساتھ براہ راست جنگ میں کود چکاہے، امریکا اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا، امریکی اقدام سے خطے میں جنگ کے پھیلاؤ کی راہ ہموار ہوگئی جنگ امریکا کیلیے ہرگز فائدہ مند ثابت نہیں ہوگی، مجاہدین کے جوابی آپریشنز سے دشمن کوسرپرائز ملے گا،جنگ جواری ٹرمپ نے شروع کی، ختم ہم کریں گے۔

    ایرانی میڈیا کی کمانڈر ان چیف امیر حاتمی کے خطاب کی ویڈیو جاری کی گئی جس میں انہوں نے کہا کہ ماضی میں امریکا نے مجرمانہ کارروائیاں کیں، ایران نے’فیصلہ کن جواب دیا،اس بار بھی ایسا ہی ہو گا امریکی فوجیوں کیخلاف کارروائی کاامکان پیدا ہوگیا ایران کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا ماضی میں جب بھی امریکہ نے ایران کے خلاف ’مجرمانہ کارروائی‘ کی تو انہیں اس کا ’فیصلہ کن جواب ملا ہے، اور اس بار بھی ایسا ہی ہو گا۔

    ایرانی فوجی یونٹ خاتم الانبیاء کے ترجمان نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ امریکا طاقتور جواب کا انتظار کرے، امریکی حملے ایران کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں۔

    ایرانی فوج کے چیف آف اسٹاف عبدالرحیم موسوی نے ایک بیان کہا کہ امریکی حملے کے بعد ان کی افواج کی جانب سے امریکی فوجیوں کے خلاف ’کسی بھی قسم کی کارروائی‘ کا امکان پیدا ہو گیا ہے، ایران ’کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔

    واضح رہے کہ امریکا کی جانب سے اتوار کی صبح ایران میں تین نیوکلیئر تنصیبات پر براہ راست فضائی حملے کیے گئے تھے، امریکی فضائیہ نے ایران کی تین اہم جوہری تنصیبات فردو، نطنز اور اصفہان پر حملے کے دوران دنیا کے طاقتور ترین بموں میں شمار کیے جانے والے ”بنکر بسٹر“ بم “GBU-57A/B “Massive Ordnance Penetrator (MOP) استعمال کیے تھے۔

  • وزیراعظم کا ایرانی صدر سے ٹیلی فونک رابطہ، اسرائیل کی بلااشتعال جارحیت کی شدید مذمت

    وزیراعظم کا ایرانی صدر سے ٹیلی فونک رابطہ، اسرائیل کی بلااشتعال جارحیت کی شدید مذمت

    وزیر اعظم شہباز شریف اور ایران کے صدر کے درمیان ٹیلی فون پر بات چیت

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر عزت مآب مسعود پیزشکیان سے آج سہ پہر ٹیلی فون پر بات چیت کی جس دوران وزیراعظم نے پاکستان کی جانب سے امریکی حملوں، جو گزشتہ آٹھ دنوں کے دوران اسرائیل کی بلا اشتعال اور بلا جواز جارحیت کے بعد ہوئے، کی مذمت کی ، انہوں نے برادر ایرانی عوام اور حکومت کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے قیمتی جانوں کے ضیاع پر دلی تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔

    وزیر اعظم نے تحفظات کا اظہار کیا کہ امریکی حملوں میں ان تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جو بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے تحفظات کے تحت تھیں۔ یہ حملے IAEA کے قانون اور دیگر بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔

    اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت ایران کے حق دفاع کا ذکر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے امن کے لئے فوری طور پر مذاکرات اور سفارت کاری کی ضرورت پر زور دیا جو آگے بڑھنے کا واحد قابل عمل راستہ ہے۔

    وزیر اعظم نے صورتحال کی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے فوری اجتماعی کوششوں پر بھی زور دیا اور اس تناظر میں پاکستان کے تعمیری کردار ادا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    صدر پیزشکیان نے ایران کے لیے پاکستان کی حمایت کو سراہا انہوں نے ایران کے عوام اور حکومت کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے پر وزیراعظم، حکومت اور پاکستان کے عوام بشمول عسکری قیادت کا دلی شکریہ ادا کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس نازک موڑ پر امت کے درمیان اتحاد قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ دونوں رہنماؤں نے قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔

  • بھارتی وزیراعظم کا ایرانی صدر سے ٹیلی فونک رابطہ، کشیدگی میں  کمی کی اپیل

    بھارتی وزیراعظم کا ایرانی صدر سے ٹیلی فونک رابطہ، کشیدگی میں کمی کی اپیل

    بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفونک رابطہ کرکے خطے میں کشیدگی میں فوری کمی کی اپیل کی ہے۔

    اتوار کو امریکا کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اتوار کو سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بات کی ہے، ہم نے موجودہ صورتحال پر تفصیل سے گفتگو کی،بات چیت کے دوران حالیہ کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا، ہم نے ایک بار پھر فوری کشیدگی میں کمی، مکالمے اور سفارت کاری کو آگے بڑھنے کا راستہ قرار دیا اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کی جلد بحالی کی ضرورت پر زور دیا۔

    https://x.com/narendramodi/status/1936721293682131386

    واضح رہے کہ اتوار کی صبح ا مر یکہ نے ایران کی فردو، نطنز اور اصفہان جوہری سائٹس کو نشانہ بنایا جس سے متعلق ٹرمپ نے سوشل میڈیا سائٹ ٹرتھ سوشل پر بیان جاری کیا،اس کے علاوہ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی حملے سے قبل ہی جوہری تنصیات کو خالی کرالیا گیا تھا۔

  • اسرائیلی جارحیت سے خطے کے امن کو شدید خطرات لاحق ہیں،اسحاق ڈار

    اسرائیلی جارحیت سے خطے کے امن کو شدید خطرات لاحق ہیں،اسحاق ڈار

    نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ایران پر اسرائیلی جارحیت کی سخت مذمت کرتے ہیں،ایران کو دفاع کا حق حاصل ہے-

    استنبول میں او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں ایران کے خلاف اسرائیلی جارحیت کے حوالے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی پر تشویش ہے، ایران کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہیں اسرائیلی جارحیت سے عالمی امن کو خطرہ ہے، اسرائیلی اقدامات عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں، اسرائیلی جارحیت سے خطے کے امن کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

    وزیر خارجہ نے کہا کہ یو این چارٹر کے تحت ایران کے حق دفاع کی مکمل حمایت کرتے ہیں، اسرائیل کے معاملے پر دہرا معیار اپنایا جاتا ہےمذاکرات سے ہی ایران اور اسرائیل جنگ کا حل ممکن ہے، پاکستان علاقائی امن و استحکام کے لیے تمام اقدامات کررہا ہے، قیام امن کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

    نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے غزہ میں فوری اور غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی کا بھی مطالبہ کیا، کہا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے، بھارت کو پاکستان کا پانی روکنے کی اجازت نہیں دیں گے، بھارت نے پانی روکا تو اسے جنگی اقدام تصور کیا جائے گا۔

  • ایران اپنی آزادی اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتا نہیں کرے گا ،عباس عراقچی

    ایران اپنی آزادی اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتا نہیں کرے گا ،عباس عراقچی

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اعلان کیا ہے کہ وہ صدر پیوٹن سے ملاقات کے لیے آج روس کا دورہ کر رہے ہیں ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق عراقچی کل روسی صدر سے ماسکو میں باضابطہ ملاقات کریں گے تاکہ حالیہ بحران اور خطے کی صورتحال پر سنجیدہ مشاورت کی جا سکے۔

    عباس عراقچی نے استنبول میں ایک ہنگامی میڈیا بریفنگ میں کہا کہ روس ایران کا دیرینہ دوست ہے، اور دونوں ممالک ہمیشہ ایک دوسرے سے مشورے کرتے رہے ہیں،’ہم ایک دوسرے کے ساتھ کام جاری رکھیں گے‘۔

    سفارتی کوششوں کے ضمن میں عراقچی نے مذاکرات کے مستقبل پر بھی روشنی ڈالی انہوں نے کہا کہ ’ہم مذاکرات کی میز پر کیسے واپس آئیں جب ہم وہاں سے گئے ہی نہیں انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ ہفتے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری سفارتی کوششوں کو اسرائیل نے جان بوجھ کر سبوتاژ کیا، جب کہ رواں ہفتے ایران اور یورپی نمائندوں کے درمیان مذاکرات ہو چکے تھے۔

    عباس عراقچی نے امریکہ پر الزام عائد کیا کہ اس نے ایران اور یورپی عہدیداروں کے درمیان سفارتکاری کے اس نازک موقع کو ضائع کیاان کے بقول، ایران کسی ایسی جگہ کیسے لوٹ سکتا ہے جہاں سے وہ گیا ہی نہیں۔

    عباس عراقچی نے کہا کہ امریکی فورسز نے ایران کے پرامن جوہری پروگرام کو نشانہ بنایا، جو عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ایران اپنی آزادی اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتا نہیں کرے گا اور امریکی جارحیت کے تباہ کن نتائج برآمد ہوں گےامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں وعدہ کیا تھا کہ وہ جنگوں کو ختم کریں گے، لیکن حملہ کرکے وہ اپنے ہی عوام سے کیے گئے وعدے سے منحرف ہو گئے ہیں۔

    ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا رکن ہوتے ہوئے عالمی امن کو نقصان پہنچا رہا ہے ایران عالمی ایٹمی عدم پھیلاؤ کی تنظیم (IAEA) سے اس حملے کی تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہے،امریکا نے براہ راست ایران پر حملہ کیا ہے اور اب سفارتی کوششوں کا کوئی مطلب باقی نہیں رہادنیا کو نہیں بھولنا چاہیے کہ امریکا نے سفارتکاری کے راستے کو خود مسترد کیا ہے اور اب اس کے نتائج کی ذمہ داری بھی امریکا پر عائد ہوگی۔

    انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ایرانی عوام اپنے دفاع پر کبھی سمجھوتا نہیں کریں گے اور اقوام متحدہ کا چارٹر ایران کو جواب دینے کا مکمل حق دیتا ہےعباس عراقچی نے زور دے کر کہا کہ خطے میں امن کے لیے یکطرفہ الزام تراشی یا طاقت کا استعمال نہیں، بلکہ سنجیدہ اور نتیجہ خیز سفارتکاری کی ضرورت ہے۔

  • پاکستان کی ایران کی ایٹمی تنصیبات پر امریکی حملوں کی شدید مذمت

    پاکستان کی ایران کی ایٹمی تنصیبات پر امریکی حملوں کی شدید مذمت

    پاکستان نے ایران کی ایٹمی تنصیبات پر امریکی حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستان نے اسلامی جمہوریہ ایران کی ایٹمی تنصیبات پر امریکی حملوں کی شدید مذمت کرتا ہے، یہ حملے اسرائیل کی جانب سے جاری جارحیت کے تسلسل میں کیے گئے ہیں جن پر پاکستان کو نہایت گہری تشویش ہے خطے میں کشیدگی کے مزید بڑھنے کا خدشہ انتہائی سنگین ہے، یہ حملے بین الاقوامی قوانین کی مکمل خلاف ورزی ہیں اور ایران کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے،

    ترجمان نے خطے میں جاری غیر معمولی کشیدگی اور تشدد پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ صورتحال یونہی بڑھتی رہی تو اس کے نہایت تباہ کن نتائج مرتب ہوں گے، جو صرف اس خطے تک محدود نہیں رہیں گےشہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا ضروری ہے، اور تمام فریقین فوری طور پر جنگ بندی کریں، تمام اقوام کو بین الاقوامی قانون، خصوصاً بین الاقوامی انسانی قوانین کی پابندی کرنی چاہیے، خطے میں بحران کا حل صرف اور صرف اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں اور مقاصد کے مطابق مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

  • ایران کا  آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان

    ایران کا آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان

    ایران نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے پیش نظر آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے-

    ایرانی میڈیا کے مطابق ایران نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے پیش نظر آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے، اور خبردار کیا ہے کہ یورپی یونین کا کوئی بھی بحری بیڑہ اب یورپ تک نہیں پہنچ سکے گا ایران کا یہ حملہ امریکا کی جانب سے فردو، نطنز اور اصفہان میں واقع ایرانی جوہری تنصیبات پر کیے گئے فضائی حملے کے بعد سامنے آیا ہے۔

    ایرانی ایٹمی توانائی ادارے نے ان حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں، تاہم ان تنصیبات کو حملے سے پہلے خالی کرا لیا گیا تھا اور وہاں کوئی حساس جوہری مواد موجود نہیں تھا۔

    ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ ’امریکا اب براہ راست جنگ میں داخل ہو چکا ہے اور اس کے نتائج کا ذمہ دار وہ خود ہوگا‘ انہوں نے خبردار کیا کہ ’امریکا تھوڑا انتظار کرے، اسے ہمارے حملوں کی قیمت چکانا پڑے گی۔‘

    پاسداران انقلاب نے بھی سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب جنگ ایران کے لیے شروع ہو چکی ہے اور ’ہم مشرق وسطیٰ میں موجود تمام امریکی اثاثوں کو نشانہ بنائیں گے۔‘

    علاقائی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ صورت حال ایک وسیع پیمانے کی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے، جو نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر بھی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ اسرائیل میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے اور خطے میں غیر معمولی فوجی نقل و حرکت جاری ہے۔