Baaghi TV

Tag: ایران

  • اسماعیل ہنیہ کا قتل ایرانی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی ہے،سعودی عرب

    اسماعیل ہنیہ کا قتل ایرانی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی ہے،سعودی عرب

    سعودی عرب نے کہا ہے کہ حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ کا قتل ایران کی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی تھا۔

    او آئی سی کا اجلاس ہوا جس کے اعلامیے میں اسرائیل کو اسماعیل ہنیہ کے قتل کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے،گزشتہ روز سعودی عرب میں 57 رکنی بلاک کے اجلاس کے بعد جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ اس حملے کا مکمل طور پر ذمہ دار اسرائیل کو ٹھہراتا ہے، اور اسرائیلی اقدام کو اس نے ایران کی خودمختاری کی "سنگین خلاف ورزی” قرار دیا ہے، سعودی نائب وزیرخارجہ ولیدالخوریجی نے اوآئی سی اجلاس کےدوران کہا کہ کسی بھی ملک کی خودمختاری اوراندرونی معاملات میں مداخلت کومسترد کرتے ہیں اور اسماعیل ہنیہ کا قتل ایران کی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی تھا۔

    ایران کے سامنے اور کوئی راستہ نہیں کہ وہ اپنے دفاع کے قانونی حق سے کام لے،ایرانی وزیر خارجہ
    ایران کے قائم مقام وزیر خارجہ نے جدہ میں او آئی سی کے ہنگامی اجلاس سے خطاب میں کہا ہے کہ صیہونی حکومت کی جارحیتوں اور خلاف ورزیوں پر سلامتی کونسل کی جانب سے مناسب اقدام نہ کئے جانے کی صورت میں ایران کے سامنے اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے کہ وہ اپنے دفاع کے قانونی حق سے کام لے،ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق او آئی سی اجلاس کی درخواست ایران نے تہران میں غاصب صیہونی حکومت کی بزدلانہ اور دہشت گردانہ جارحیت میں حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے بعد کی تھی، ایران کے قائم مقام وزیر خارجہ علی باقری کنی نے او آئی سی کے ہنگامی اجلاس سے خطاب میں ان حکومتوں کا شکریہ ادا کیا جنھوں نے تہران پر غاصب صیہونی حکومت کی بزدلانہ اور دہشت گردانہ جارحیت کی مذمت کی ،ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ صیہونی حکومت کی مغربی ملکوں بالخصوص امریکا کی جانب سے بے دریغ حمایت کئے جانے کے باعث اقوام متحدہ بھی غزہ میں فلسطینی عوام کا قتل عام روکنے پر قادر نہیں ہے،غاصب صیہونی حکومت نے حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اور فلسطین کے سابق وزیر اعظم اسماعیل ہنیہ کو بزدلانہ اور دہشت گردانہ جارحیت میں ایسی حالت میں شہید کیا ہے کہ وہ صدر ایران ڈاکٹر مسعود پزشکیان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لئے تہران آئے تھے اور اسلامی جمہوریہ ایران کے سرکاری مہمان تھے، غاصب صیہونی حکومت کی اس دہشت گردی نے ایک بار پھر ثابت کردیا کہ یہ حکومت دہشت گردی، جرائم، جارحیت، جنگ افروزی اور نسل کشی پر استوار ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ سبھی اسلامی ممالک مل کر اعلان کریں کہ سرزمین فلسطین پر اسرائیلی حکومت کا قبضہ اور اس کے اقدامات اور پالیسیاں نا قابل انکار جارحیت، ناجائز ‍قبضے، اپا ر تھائیڈ، مںظم دہشت گردی اور جنگی نیز انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کی مصداق ہیں

    اسلامی تعاون کی تنظیم او آئی سی کے سیکریٹری جنرل نے تہران میں حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کو شہید کرنے کے اسرائیلی حکومت کے اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل نے اس اقدام سے ایران کی خود مختاری کی خلاف ورزی کی ہے، او آئی سی کے سیکریٹری جنرل حسین ابراہیم طہ نے جدہ میں خطاب میں کہا کہ وحشیانہ جرائم کا سلسلہ جاری رکھنے پر غاصب اسرائیلی حکومت کا اصرار سبھی بین الاقوامی قوانین، اصول و ضوابط اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے منافی ہے،

    حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کو 31 جولائی کو تہران میں میزائل حملے میں شہید کیا گیاتھا، وہ نومنتخب ایرانی صدر کی تقریب حلف برداری کے لیے تہران میں موجود تھے، ایران کی جانب سے حملے کا الزام اسرائیل اور امریکا پر عائد کیا گیا ہے تاہم اسرائیل نے تاحال اس حوالے سے کوئی بیان نہیں دیا،اسماعیل ہنیہ کے شہادت کے بعد یحییٰ السنوار کو حماس کا نیا سربراہ مقرر کیا گیا ہے.

    ایرانی حملے کا خطرہ،حکومت نے آج ہمیں لبنان کا سفر کرنے سے روک دیا،مبشر لقمان

    یحییٰ السنوار حماس کے نئے سربراہ مقرر

    اسماعیل ہنیہ پر حملہ،ایران میں تحقیقات کے دوران گرفتاریاں

    حافظ نعیم الرحمان کی اسماعیل ہنیہ کے بیٹوں سے ملاقات، تعزیت کا اظہار

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت،عمران خان کی پراسرار خاموشی،56 گھنٹے بعد دیا ردعمل

    حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی نماز جنازہ تہران میں ادا

    حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ ایران میں قاتلانہ حملے میں شہید

    سراج الحق کی قطر میں حماس کے رہنماؤں اسماعیل ہنیہ اور خالد مشعل سے ملاقات

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

    مولانا فضل الرحمان سے حماس رہنماء کی ملاقات

    مفتی تقی کی دوحہ میں حماس کے رہنماؤں سے ملاقات

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت تہران کے گیسٹ ہاؤس میں نصب ریموٹ کنٹرول بم سے ہوئی، نیو یارک ٹائمز کا دعویٰ

  • امریکا میں گرفتار آصف مرچنٹ کیخلاف پاکستان میں بھی تحقیقات

    امریکا میں گرفتار آصف مرچنٹ کیخلاف پاکستان میں بھی تحقیقات

    امریکا میں گرفتاری پاکستانی شہری آصف مرچنٹ کے حوالہ سے پاکستان میں بھی تحقیقاتی اداروں نے تحقیقات شروع کر دی ہیں

    آصف مرچنٹ کا تعلق شہر قائد کراچی سے ہے، سی ٹی ڈی حکام کے مطابق آصف مرچنٹ کا کوئی کرمنل ریکارڈ ابھی تک سامنے نہیں آیا،اور نہ ہی وہ پاکستان میں کسی جرم میں ملوث رہا ہے پھر بھی تحقیقاتی ادارے آصف مرچنٹ کے بارے مزید تحقیقات کر رہے ہیں ،آصف مرچنٹ 18 مئی 1978 کو پیدا ہوئے ،وہ شادی شدہ ہیں اور انکے دو بچے ہیں،آصف مرچنٹ پاکستان میں انکم ٹیکس فائلر ہیں ،پاکستان میں ایف بی آر کے ریکارڈ میں ان کا شمار ایکٹو فائلر لسٹ میں ہے،ان کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ بظاہر ان کا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق سامنے نہیں آیا ہے، انہوں نے ایک نجی یونیورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کررکھی ہے۔

    آصف مرچنٹ کے پاس کیا کچھ ہے اور انہوں نے کن کن ممالک کا سفر کیا ،تفصیلات سامنے آئی ہیں، آصف مرچنٹ نے تین پاسپورٹوں پر 2 نومبر 2017 سے 8 اپریل 2024 تک متعدد مرتبہ ایران کا سفر کیا، آصف مرچنٹ دو نومبر 2017 سے 14 نومبر 2017 تک ایران میں رہا،رواں برس 15 جنوری کو آصف مرچنٹ نے کراچی ائیر پورٹ سے ایک بار پھر ایران کا سفر کیا،آصف مرچنٹ نے 17 ستمبر 2023 سے 15 اکتوبر 2023 کا عرصہ بھی ایران میں گزارا، اکتوبر 2023 میں ایران سے واپسی کے بعد 21 نومبر کو آصف مرچنٹ نے امریکا کا سفر کیا،اسکے بعد آصف مرچنٹ 17 دسمبر 2023 کو امریکا سے واپس پاکستان پہنچا، رواں سال 15 جنوری کو آصف مرچنٹ نے کراچی ائیر پورٹ سے ایک بار پھر ایران کا سفر کیا، ایران کے اس سفر سے آصف مرچنٹ کی واپسی 12 فروری 2024 کو ہوئی، یکم اپریل کو بھی آصف مرچنٹ نے کراچی سے ایران کا سفر کیا تھا، اسکے بعد آصف مرچنٹ 8 اپریل کو ایران کے سفر سے واپس کراچی پہنچا،اسکے بعد آصف مرچنٹ نے 11 اپریل 2024 کو پاکستان سے ترکی کے راستے مبینہ طو پر امریکا کا سفر کیا،

    میڈیا رپورٹس کے مطابق آصف مرچنٹ کے کراچی گلشن اقبال اور جعفر طیار سوسائٹی میں دو گھر ہیں،آصف مرچنٹ نے کراچی کی نیو پورٹ انسٹی ٹیوٹ سے منیجمنٹ سسٹم میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی اور 2002 سے کراچی میں بینکنگ کیریئر کا آغاز کیا،ایک بینک ملازمت سے آصف مرچنٹ کو مبینہ کرپشن پر برطرف بھی کیا گیا ہے،آصف مرچنٹ کے زیر استعمال 4 پاکستانی موبائل نمبروں اور ایک انٹرنیشنل نمبر کی تفصیلات بھی حاصل کی گئی ہیں، کراچی میں آصف مرچنٹ کے زیر استعمال 3 گاڑیوں اور ایک موٹر سائیکل کا ریکارڈ بھی مل گیا ہے، اس سلسلے میں مزید چھان بین جاری ہے۔

    پاکستانی ویزا دنیا میں مقبول،3 سالوں میں لاکھوں غیر ملکیوں کو پاکستانی ویزے جاری

    اوہائیو،ریپبلکن نیشنل کنونشن کے باہر فائرنگ سےچاقو بردار شخص ہلاک

    سری لنکن کپتان مستعفی،ہمارے والے اب بھی لابنگ میں مصروف

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    "بھولے بابا” کا عام آدمی سے خود ساختہ بابا بننے کا سفر ،اربوں کے اثاثے

    اصلی ولن آئی ایم ایف یا حکومت،بے حس اشرافیہ نے عوام پر بجلی گرا دی

    کرکٹ میں سٹے بازی اور سپاٹ فکسنگ،پاک بھارت میچ میں‌کتنے کا جوا؟

    لڑائی شروع،کیا ایمرجنسی لگ سکتی؟جمعہ پھر بھاری،کپتان جیت گیا

    مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ،ملک ایک اور آئینی بحران سے دوچار

    حکومت کو کوئی خطرہ نہیں،معاملہ تشریح سے آگے نکل گیا،وفاقی وزیر قانون

  • ٹرمپ و امریکی حکام پر حملہ کی منصوبہ بندی،پاکستانی شہری امریکا میں گرفتار

    ٹرمپ و امریکی حکام پر حملہ کی منصوبہ بندی،پاکستانی شہری امریکا میں گرفتار

    سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، ٹرمپ و دیگر امریکی حکام کے قتل کی منصوبہ بندی میں امریکہ نے پاکستانی شہری کو گرفتار کیا ہے، آصف مرچنٹ کو امریکہ نے اس الزام میں حراست میں لیا ہے اور اس پر فردجرم عائد کر دی گئی ہے

    اگرچہ مجرمانہ شکایت میں ٹرمپ کے نام کا ذکر نہیں کیا گیا ہے، تاہم اس کیس سے واقف متعدد ذرائع نے اے بی سی نیوز کو بتایا کہ مبینہ سازش کا ایک مطلوبہ ہدف ٹرمپ تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ دیگر ممکنہ اہداف میں دونوں اطراف کے سرکاری اہلکار شامل تھے۔آصف مرچنٹ نے جس شخص سے رابطہ کیا وہ ایف بی آئی کے ساتھ کام کرنے والا ایک خفیہ مخبر تھا۔ترجمان وائٹ ہاؤس کے مطابق آصف مرچنٹ کا ٹرمپ پر قاتلانہ حملے سے کوئی تعلق نہیں،وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے آصف مرچنٹ کی ٹرمپ پر حملے میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ٹرمپ پر قاتلانہ حملے سے کوئی تعلق نہیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستانی شہری آصف مرچنٹ پر الزام لگایا ہے کہ اس نے سابق امریکی صدر ٹرمپ سمیت امریکی حکام کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے، آصف مرچنٹ مبینہ طور پر ایرانی حکام سے بھی رابطے میں تھا،آصف مرچنٹ کی گرفتاری کے بعد ٹرمپ کی سیکورٹی میں مزید اضافہ کر دیا گیا ہے،امریکی محکمہ انصاف کے مطابق آصف مرچنٹ پر الزام ہے کہ وہ ایک ہٹ مین کے ساتھ امریکی حکام کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا،آصف مرچنٹ کو اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ 12 جولائی کو امریکا سے بھاگنے کی کوشش کر رہا تھا

    پاکستانی شہری جس کے ایران سے تعلقات ہیں سیاستدان یا امریکی حکومتی اہلکاروں کے قتل کی ناکام سازش کے سلسلے میں فرد جرم عائد کی گئی ہے،مدعا علیہ نے مبینہ طور پر امریکی سرزمین پر کسی سیاستدان یا امریکی حکومت کے اہلکاروں کو قتل کرنے کے لیے ہٹ مین کی خدمات حاصل کرنے کے لیے نیویارک شہر کا سفر کیا تھا۔ بروکلین کی وفاقی عدالت میں، آصف مرچنٹ، جسے "آصف رضا مرچنٹ” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کے خلاف امریکی سرزمین پر کسی سیاست دان یا امریکی حکومت کے اہلکاروں کو قتل کرنے کی اسکیم کے تحت کرایہ پر قتل کے الزام میں ایک شکایت کی گئی تھی . قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس الزام کی سازش کو ناکام بنا دیا اس سے پہلے کہ کوئی حملہ کیا جا سکے۔ مرچنٹ نیویارک میں وفاقی حراست میں ہے۔

    اٹارنی جنرل میرک بی گارلینڈ نے کہا، "برسوں سے، محکمہ انصاف ایرانی جنرل سلیمانی کے قتل کے لیے امریکی سرکاری اہلکاروں کے خلاف انتقامی کارروائی کی ایران کی ڈھٹائی اور بے لگام کوششوں کا مقابلہ کرنے کے لیے جارحانہ انداز میں کام کر رہا ہے۔محکمہ انصاف ان لوگوں کو روکنے اور جوابدہ بنانے کے لئے کوئی وسائل نہیں چھوڑے گا جو امریکی شہریوں کے خلاف ایران کی مہلک سازش کو انجام دینے کی کوشش کریں گے، اور آمریکی عوامی عہدیداروں کو نشانہ بنانے اور امریکہ کی قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی آمرانہ حکومت کی کوششوں کو برداشت نہیں کرے گا۔”

    نیو یارک کے مشرقی ضلع کے لیے امریکی اٹارنی بریون پیس نے کہا، "بیرون ملک دوسروں کی جانب سے کام کرتے ہوئے، مرچنٹ نے امریکی سرزمین پر امریکی حکومت کے اہلکاروں کے قتل کا منصوبہ بنایا۔ یہ استغاثہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ دفتر اور پورا محکمہ انصاف ہماری قوم کی سلامتی، ہمارے سرکاری اہلکاروں اور ہمارے شہریوں کو غیر ملکی خطرات سے بچانے کے لیے فوری اور فیصلہ کن کارروائی کرے گا۔”

    ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کرسٹوفر رے نے کہا، "کرائے کے لیے قتل کی یہ خطرناک سازش آج کے الزامات میں مبینہ طور پر ایک پاکستانی شہری نے ترتیب دی تھی جس کا ایران سے قریبی تعلق ہے اور یہ براہ راست ایرانی پلے بک سے باہر ہے۔،کسی سرکاری اہلکار، یا کسی امریکی شہری کو قتل کرنے کی غیر ملکی ہدایت کی منصوبہ بندی، ہماری قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے اور اسے ایف بی آئی کی پوری طاقت اور وسائل سے پورا کیا جائے گا۔”

    نیشنل سیکیورٹی ڈویژن کے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل میتھیو جی اولسن نے کہا، ” جو لوگ امریکی سرزمین پر مہلک سازش میں ملوث ہیں، انہیں امریکی نظام انصاف کی پوری طاقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔” "غیر ملکی اداکاروں کی طرف سے سابق اور موجودہ اہلکاروں کو نشانہ بنانا ہماری خودمختاری کی توہین ہے اور ہمارے جمہوری ادارے اور محکمہ انصاف اس گھناؤنی سرگرمی کو بے نقاب کرنے اور اس میں خلل ڈالنے کے لیے ہر ممکن ہتھیار استعمال کرے گا۔”

    عدالتی دستاویزات کے مطابق، مرچنٹ نے امریکی سرزمین پر کسی سیاستدان یا امریکی حکومت کے اہلکاروں کو قتل کرنے کی سازش رچی۔ تقریباً اپریل 2024 میں، ایران میں وقت گزارنے کے بعد، مرچنٹ پاکستان سے امریکہ پہنچا اور ایک ایسے شخص سے رابطہ کیا جس کے بارے میں اسے یقین تھا کہ اس اسکیم میں اس کی مدد کر سکتا ہے۔ اس شخص نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مرچنٹ کے طرز عمل کی اطلاع دی اور ایک خفیہ ذریعہ بن گیا۔جون کے شروع میں، مرچنٹ نے نیویارک میں اس شخص سے ملاقات کی اور قتل کی سازش کی وضاحت کی۔ آصف مرچنٹ کی جس شخص سے ملاقات ہوئی تھی وہ مخبر تھا اس نے مرچنٹ کی تمام معلومات ایف بی آئی کو بتائیں، اجرتی قاتل خفیہ طور پر امریکی انٹیلی جنس اداروں کیلئے کام کررہا تھا اور آصف مرچنٹ نےایک شخص کے گھر سے یو ایس بی چوری کرنے کی بات کی۔اس کے علاوہ یہ بھی دعوی کیا گیا تھا کہ امریکی محکمہ انصاف کے مطابق منصوبہ بندی میں ایران بھی ملوث ہوسکتا ہے، اس بات کی تحقیقات کی جارہی ہیں کہ آصف مرچنٹ کو منصوبہ بندی کی ہدایت کس نے دی تھی۔ دوسری جانب کہا جا رہا ہے کہ سابق امریکی صدر ٹرمپ پر انتخابی مہم کے دوران ہونے والے حملے سے آصف مرچنٹ کا کوئی تعلق نہیں ہے.

    اوہائیو،ریپبلکن نیشنل کنونشن کے باہر فائرنگ سےچاقو بردار شخص ہلاک

    سری لنکن کپتان مستعفی،ہمارے والے اب بھی لابنگ میں مصروف

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    "بھولے بابا” کا عام آدمی سے خود ساختہ بابا بننے کا سفر ،اربوں کے اثاثے

    اصلی ولن آئی ایم ایف یا حکومت،بے حس اشرافیہ نے عوام پر بجلی گرا دی

    کرکٹ میں سٹے بازی اور سپاٹ فکسنگ،پاک بھارت میچ میں‌کتنے کا جوا؟

    لڑائی شروع،کیا ایمرجنسی لگ سکتی؟جمعہ پھر بھاری،کپتان جیت گیا

    مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ،ملک ایک اور آئینی بحران سے دوچار

    حکومت کو کوئی خطرہ نہیں،معاملہ تشریح سے آگے نکل گیا،وفاقی وزیر قانون

  • پاکستان نے ایرانی شہری محمد مصطفیٰ کو خان کو شہریت دے دی

    پاکستان نے ایرانی شہری محمد مصطفیٰ کو خان کو شہریت دے دی ہے،

    پاکستانی حکومت نے ایرانی شہری محمد مصطفی خان کو طویل انتظار کے بعد شہریت دے دی ہے۔ ذرائع کے مطابق محمد مصطفیٰ خان کی شہریت وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف کی ہدایات پر وزارت داخلہ کی جانب سے ان کے کیس کا مکمل جائزہ لینے کے بعد بحال کی گئی۔ محمد حسین مرحوم کے بیٹے محمد مصطفیٰ خان نے 6 مارچ 2023 کو اپنی ایرانی شہریت ترک کر دی تھی لیکن پاکستانی شہریت کے حصول میں قانونی رکاوٹوں اور محکمانہ رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا تھا.

    ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹ نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس میں پاکستان سٹیزن شپ ایکٹ 1951 کے سیکشن 14(1) کے تحت شہریت کی بحالی کے لیے محمد مصطفیٰ خان کی اہلیت کی تصدیق کی گئی ہے۔ اپنی شہریت کی بحالی کے بعد، محمد مصطفیٰ خان اب ایک نیا کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ حاصل کرنے اور پاکستانی شہری کے تمام حقوق اور مراعات سے لطف اندوز ہونے کا حقدار ہے۔

    رپورٹ، زبیرقصوری،اسلام آباد

    حسینہ واجد کی ساڑھی بیوی کو پہنا کر وزیراعظم بناؤں گا،شہری

    بنگلہ دیش،طلبا کی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے قبل ہی پارلیمنٹ تحلیل

    حسینہ واجد کی ساڑھی بیوی کو پہنا کر وزیراعظم بناؤں گا،شہری

    حسینہ واجد بھارت میں خفیہ،محفوظ مقام پر،لندن یا فن لینڈ جائیں گی

    شیخ حسینہ واجد کے بیٹے صجیب واجد نے والدہ کی سیاست کو خیر باد کہنے کی تصدیق کر دی

    شیخ حسینہ واجد نے استعفی دے کر ملک چھوڑ دیا 

    بنگلہ دیش،پاکستانی طلبا پھنس گئے، والدین کی وزیراعظم سے اپیل

    بنگلہ دیش: 105 افراد کی ہلاکت کے بعد کرفیو نافذ، فوج طلب کرلی گئی

  • اسماعیل ہنیہ کی شہادت،عمارت میں مقیم حماس رہنما نے آنکھوں دیکھا حال بتادیا

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت،عمارت میں مقیم حماس رہنما نے آنکھوں دیکھا حال بتادیا

    حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی ایران میں قاتلانہ حملے میں شہادت کے بعد اب نئی چونکا دینے والی تفصیلات سامنے آئی ہیں

    ایران اور پاکستان میں حماس کے نمائندے ڈاکٹر خالد القدومی نے اسماعیل ہنیہ پر حملے کی رات سے متعلق تفصیلات بتائی ہیں، خالد القدومی کے مطابق وہ حملے کی شب اسی عمارت میں تھے جہاں اسماعیل ہنیہ پر حملہ کیا گیا،ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں ڈاکٹر خالد القدومی کا کہنا تھا کہ "ہم سو رہے تھے، رات ایک بج کر 37 منٹ پر ہماری عمارت اچانک لرز اٹھی، ہم سمجھے کوئی زلزلہ آیا یا بجلی گری اور اسکی چمک ہے، میں نے اپنے کمرے کی کھڑکی کھولی باہر دیکھا تو موسم صاف تھا، بارش کے کوئی آثار نہ تھے،اور گرم ہوا چل رہی تھی، اسی دوران میں اپنے کمرے سے باہر نکلا تو دھواں دیکھا ،اسماعیل ہنیہ کا کمرہ چوتھی منزل پر تھا، اس کمرے کی طرف گئے تو دیکھا ہنیہ کے کمرے کی دیوار اور چھت گر گئی تھی

    ڈاکٹر خالد القدومی کا کہنا تھا کہ جب ہم کمرے میں داخل ہوئے تو اسماعیل ہنیہ شہید ہو چکے تھے،کمرے اور شہید اسماعیل ہنیہ کے لاش کی حالت بتارہی تھی کہ یہ فضا سے گرائی جانے والی کسی چیز یا میزائل حملے کا نتیجہ ہے ،ڈاکٹر خالد القدومی نے امریکی اور اسرائیلی میڈیا کی ان خبروں جن میں کہا گیا ہے اسماعیل ہنیہ کے بیڈ کے نیچے بم رکھا گیا تھا کو گمراہ کن قرار دیا اور کہا کہ زمینی حقائ‍ق نیویارک ٹائمز اور اسرائیلی فوج کے ترجمان کی کہانیوں کے برعکس ہیں،

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت،ایرانی پاسداران انقلاب نے تفیصلات جاری کر دیں
    دوسری جانب،سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے تعلقات عامہ نے اپنے نوٹیفیکیشن نمبر 3 میں کہا ہے کہ اسماعیل ہنیہ کو شارٹ رینج والے وارہیڈ پراجیکٹائل سے شہید کیا گیا ہے،یہ دہشت گردانہ کارروائی تقریباً 7 کلو گرام کے وار ہیڈ کے ساتھ ایک مختصر فاصلے تک مار کرنے والے پراجیکٹائل کو مہمانوں کی رہائش کے علاقے کے باہر سے فائر کرکے انجام دی گئی، جس کے ساتھ ایک زوردار دھماکہ بھی ہوا،ارنا کی ڈیفنس فیلڈ کی رپورٹ کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے تعلقات عامہ نے اسماعیل ھنیہ کی شہادت میں صیہونی حکومت کے اس دہشت گردانہ جرم میں ملوث قرار دیا،سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ صیہونی مجرمانہ حکومت کے اس دہشت گردانہ اقدام جس کے نتیجے میں اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے سیاسی دفتر کے بہادر سربراہ اور مجاہد شہید ڈاکٹر اسماعیل ھنیہ اور ان کے ساتھی کی شہادت ہوئی ہے، ایرانی عوام کو مطلع کیا جاتا ہے کہ، اس حملے کی منصوبہ بندی اور نفاذ صیہونی حکومت نے کیا اور اس کی حمایت امریکہ کی مجرمانہ حکومت نے کی۔ تحقیقات کے مطابق یہ دہشت گردانہ کارروائی مہمانوں کی رہائش کے باہر سے تقریباً 7 کلو گرام وزنی وار ہیڈ سے ایک زوردار دھماکے کے ساتھ شارٹ رینج پراجیکٹائل فائر کرکے کی گئی۔آخر میں، اس پر زور دیا جاتا ہے؛ شہید اسماعیل ھنیہ کے خون کا بدلہ یقینی ہے اور دہشت گرد صیہونی حکومت کو اس جرم کا جواب "سخت سزا” کی صورت میں بھرپور، مناسب وقت اور جگہ پر ملے گا۔

    میرے شہید والد کے جسم کے ٹکڑے بکھر گئے،دایاں پاؤں کٹ گیا،میزائل اوپر والے حصے پر لگا،اسماعیل ہنیہ کے بیٹے کا بیان
    شہید اسماعیل ھنیہ کے بیٹے معاذ ھنیہ نے والد اسماعیل ہنیہ پر حملے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ میرے والد پر قریب مسافت سے میزائل حملہ ہوا ،تقریبا 7.5 کلو گرام بارودی مواد کا حامل میزائل تھا ،میزائل نے میرے شہید والد کے اوپر والے حصے کو ہٹ کیا ،جس کی وجہ سے میرے شہید والد کے جسم کے ٹکڑے ہوگئے اور وہ بکھر گئے ،اسی طرح سے ان کا دایاں پاؤں بھی کٹ گیا اور ٹکڑے اڑ گئے ،میزائل کا دھماکہ اتنا شدید تھا کہ کہ میرے والد کے محافظ وسیم جو دروازے پر کھڑے تھے اور قران کریم تھام کر تلاوت کررہے تھے وہ فضا میں اڑ کر کہیں دور جا گرے جہاں ان کے سینے پر قرآن کریم رکھا ہوا ملا

    اسماعیل ہنیہ پر حملہ،ایران میں تحقیقات کے دوران گرفتاریاں

    واضح رہے کہ اسماعیل ہنیہ، جو ایران میں ایک حملے میں شہید ہوئے، کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں دفن کیا گیا۔ ان کی نمازِ جنازہ میں امیر قطر شیخ تمیم بن حمد، حماس کے سابق رہنما خالد مشعل، اسماعیل ہنیہ کے بیٹے، اور فلسطینی تنظیموں کے اعلیٰ رہنماؤں نے شرکت کی۔ پاکستان سے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے بھی نماز جنازہ میں شرکت کی، اسماعیل ہنیہ کو دوحہ کے لوسیل قبرستان میں علامہ یوسف القرضاوی کے پہلو میں سپرد خاک کیا گیا۔ ان کی وفات نے عالمی سطح پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں، اور ان کے جنازے میں شرکت کرنے والے لوگوں کی تعداد نے ان کے عالمی مقام اور فلسطین کی جدوجہد میں ان کے کردار کو اجاگر کیا۔

    حافظ نعیم الرحمان کی اسماعیل ہنیہ کے بیٹوں سے ملاقات، تعزیت کا اظہار

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت،عمران خان کی پراسرار خاموشی،56 گھنٹے بعد دیا ردعمل

    حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی نماز جنازہ تہران میں ادا

    حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ ایران میں قاتلانہ حملے میں شہید

    سراج الحق کی قطر میں حماس کے رہنماؤں اسماعیل ہنیہ اور خالد مشعل سے ملاقات

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

    مولانا فضل الرحمان سے حماس رہنماء کی ملاقات

    مفتی تقی کی دوحہ میں حماس کے رہنماؤں سے ملاقات

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت تہران کے گیسٹ ہاؤس میں نصب ریموٹ کنٹرول بم سے ہوئی، نیو یارک ٹائمز کا دعویٰ

  • اسماعیل ہنیہ پر حملہ،ایران میں تحقیقات کے دوران گرفتاریاں

    اسماعیل ہنیہ پر حملہ،ایران میں تحقیقات کے دوران گرفتاریاں

    ایران نے حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کے قتل کی تحقیقات شروع کردی ہیں

    ایران نے تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے اسماعیل ہنیہ کے قتل کے شبہہ میں درجنوں مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے ،جن افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ان میں سینئر انٹیلی جنس افسران، فوجی حکام اور عملے کے ارکان بھی شامل ہیں،اسماعیل ہنیہ شہید کی حفاظت پر مامور 20 سے زائد اہلکار گرفتار کئے گئے ہیں،ایرانی مہمان خانے کے سارے ملازمین بھی گرفتار کئے گئے ہیں،ایران کے اندر سے کون جاسوس غدار ملا ہوا تھا ،تحقیقات کا دائرہ بڑھا دیا گیا ہے ،دوسری جانب ایرانی انٹیلی جنس وزیر اسماعیل خطیب کا کہنا ہے کہ اسماعیل ہنیہ پر اسرائیلی قاتلانہ حملے کو امریکی رضامندی حاصل تھی

    حماس رہنما اسسماعیل ہنیہ ایرانی صدر کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لئے ایران گئے ہوئے تھے، 31 جولائی کو ان پر حملہ ہوا اور وہ شہید ہو گئے، اسماعیل ہنیہ کی شہادت کو فلسطین کی تحریک آزادی کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا جا رہا ہے، ایران نے اسماعیل ہنیہ کے قتل کا بدلہ لینا خود پر فرض قرار دے دیا ہے جبکہ اسرائیل نے تاحال اسماعیل ہنیہ کے قتل کی ذمہ داری قبول نہیں کی .

    دوسری جانب برطانوی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ اسماعیل ہنیہ کو اسرائیلی خفیہ ایجنسی نے ایرانی ایجنٹوں کے ذریعے قتل کرایا،ان ایجنٹوں کے کمرے میں آنے جانے کی ایرانی حکام کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج موجود ہے،

    واضح رہے کہ اسماعیل ہنیہ، جو ایران میں ایک حملے میں شہید ہوئے، کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں دفن کیا گیا۔ ان کی نمازِ جنازہ میں امیر قطر شیخ تمیم بن حمد، حماس کے سابق رہنما خالد مشعل، اسماعیل ہنیہ کے بیٹے، اور فلسطینی تنظیموں کے اعلیٰ رہنماؤں نے شرکت کی۔ پاکستان سے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے بھی نماز جنازہ میں شرکت کی، اسماعیل ہنیہ کو دوحہ کے لوسیل قبرستان میں علامہ یوسف القرضاوی کے پہلو میں سپرد خاک کیا گیا۔ ان کی وفات نے عالمی سطح پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں، اور ان کے جنازے میں شرکت کرنے والے لوگوں کی تعداد نے ان کے عالمی مقام اور فلسطین کی جدوجہد میں ان کے کردار کو اجاگر کیا۔

    حافظ نعیم الرحمان کی اسماعیل ہنیہ کے بیٹوں سے ملاقات، تعزیت کا اظہار

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت،عمران خان کی پراسرار خاموشی،56 گھنٹے بعد دیا ردعمل

    حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی نماز جنازہ تہران میں ادا

    حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ ایران میں قاتلانہ حملے میں شہید

    سراج الحق کی قطر میں حماس کے رہنماؤں اسماعیل ہنیہ اور خالد مشعل سے ملاقات

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

    مولانا فضل الرحمان سے حماس رہنماء کی ملاقات

    مفتی تقی کی دوحہ میں حماس کے رہنماؤں سے ملاقات

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت تہران کے گیسٹ ہاؤس میں نصب ریموٹ کنٹرول بم سے ہوئی، نیو یارک ٹائمز کا دعویٰ

  • اسماعیل ہنیہ کے کمرے میں ایرانی سیکورٹی ایجنٹوں نے دھماکا خیز مواد نصب کیاتھا

    اسماعیل ہنیہ کے کمرے میں ایرانی سیکورٹی ایجنٹوں نے دھماکا خیز مواد نصب کیاتھا

    حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ کا قتل کیسے ہوا؟ ابھی تک معمہ بنا ہوا ہے، ایران نے کئی روز گزر جانے کے باوجود سرکاری سطح پر کوئی تفصیلات جاری نہیں کیں،تاہم برطانوی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی سیکورٹی ایجنٹوں کے ذریعے اسماعیل ہنیہ کے کمرے میں‌دھماکا خیز مواد نصب کیا گیا تھا،

    برطانوی اخبار کے مطابق حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ پر جس عمارت میں قاتلانہ حملہ ہوا اسی عمارت میں وہ اکثر ایران آتے تو قیام کرتے تھے، یہ ایک گیسٹ ہاؤس ہے، اسماعیل ہنیہ کو ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی حادثے میں موت کے بعد جنازے میں شرکت کے موقع پر مارنے کا پروگرام تھا لیکن اس وقت یہ آپریشن ملتوی کر دیا گیا تھاکیونکہ اس وقت حملہ آور سمجھتے تھے کہ رش زیادہ ہونے کی وجہ سے آپریشن ناکام ہو سکتا ہے،اخبار نے دعویٰ کیا کہ ایرانی حکام کے پاس اس عمارت کی سی سی ٹی وی فوٹیج موجود ہے جس میں اسماعیل ہنیہ ٹھہرے ہوئے تھے،اس فوٹیج میں ایجنٹوں کو چپکے سے کمروں میں انتہائی تیزی سے آتے جاتے دیکھا جاسکتا ہے

    برطانوی اخبار نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ جن ایجنٹوں نے اسماعیل ہنیہ کے کمرےمیں دھماکا خیز مواد نصب کیا تھا وہ ایران چھوڑ چکے ہیں، تا ہم ایران میں ایک ساتھی کے ساتھ وہ رابطے میں تھے اور اسماعیل ہنیہ کے کمرے میں نصب دھماکا خیزمواد کو ایران کے باہر سے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے تباہ کیا گیا ،ایران نے واقعہ کے بعد جب تحقیقات شروع کیں تو دو مزید کمروں سے بھی دھماکہ خیز مواد ملا ہے وہ کمرے بھی اسماعیل ہنیہ کے زیر استعمال ہوتے تھے، پاسداران انقلاب کے ایک اہلکار کے حوالے سے برطانوی اخبار نے دعویٰ کیا کہ انہیں یقین نہیں ہے کہ موساد نے انصارالمہدی حفاظتی یونٹ سے تعلق رکھنے والوں کو ایجنٹ کے طورپر استعمال کیا جو اعلیٰ ترین افسروں کی حفاظت پر مامور ہوتے ہیں

    واضح رہے کہ اسماعیل ہنیہ، جو ایران میں ایک حملے میں شہید ہوئے، کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں دفن کیا گیا۔ ان کی نمازِ جنازہ میں امیر قطر شیخ تمیم بن حمد، حماس کے سابق رہنما خالد مشعل، اسماعیل ہنیہ کے بیٹے، اور فلسطینی تنظیموں کے اعلیٰ رہنماؤں نے شرکت کی۔ پاکستان سے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے بھی نماز جنازہ میں شرکت کی، اسماعیل ہنیہ کو دوحہ کے لوسیل قبرستان میں علامہ یوسف القرضاوی کے پہلو میں سپرد خاک کیا گیا۔ ان کی وفات نے عالمی سطح پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں، اور ان کے جنازے میں شرکت کرنے والے لوگوں کی تعداد نے ان کے عالمی مقام اور فلسطین کی جدوجہد میں ان کے کردار کو اجاگر کیا۔

    حافظ نعیم الرحمان کی اسماعیل ہنیہ کے بیٹوں سے ملاقات، تعزیت کا اظہار

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت،عمران خان کی پراسرار خاموشی،56 گھنٹے بعد دیا ردعمل

    حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی نماز جنازہ تہران میں ادا

    حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ ایران میں قاتلانہ حملے میں شہید

    سراج الحق کی قطر میں حماس کے رہنماؤں اسماعیل ہنیہ اور خالد مشعل سے ملاقات

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

    مولانا فضل الرحمان سے حماس رہنماء کی ملاقات

    مفتی تقی کی دوحہ میں حماس کے رہنماؤں سے ملاقات

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت تہران کے گیسٹ ہاؤس میں نصب ریموٹ کنٹرول بم سے ہوئی، نیو یارک ٹائمز کا دعویٰ

  • ایران اسماعیل ہنیہ پر حملے کی تفصیلات سے دنیا کو آگاہ کرے،مفتی تقی عثمانی

    ایران اسماعیل ہنیہ پر حملے کی تفصیلات سے دنیا کو آگاہ کرے،مفتی تقی عثمانی

    حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر پاکستان کے جید عالم دین مفتی تقی عثمانی کا رد عمل سامنے آیا ہے

    مفتی تقی عثمانی نے ایکس پر ایک پوسٹ کی جس میں انہوں نے حماس رہنما کی شہادت پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا اور ایران کے اس ضمن میں کردار پر سوالات اٹھائے، مفتی تقی عثمانی کا کہنا تھا کہ قائد مجاھدین اور محبوب امت مسلمہ اسماعیل ھانیہ پر بزدلانہ اوروحشیانہ حملہ پورے عالم اسلام پر حملہ ہے ایرانی حکومت کافرض ہے کہ وہ حملے کی تفصیلات سے دنیا کو آگاہ کرے یہ کیسے ممکن ہواکہ میزائل عمارت پر گرے اور صرف شہید مرحوم اور انکا محافظ نشانہ بنے جبکہ بتایاگیا ہے کہ وہ ایک کمپلیکس تھا نیز پاسداران انقلاب اس وقت کہاں تھے اللہ تعالیٰ نے ہمارے اس محبوب کو تو ان شاء اللہ اپنے پاس بلاکر انکا مقصد پورا کردیا اور ان شاء اللہ اس سے مجاھدین کے حوصلے اور بلند ہونگے اور انکا قیمتی خون رائیگاں نہیں جائیگا انکی شہادت ان شاء اللہ اسرائیل کی شکست کی خوشخبری ثابت ہوگی،دیکھنا یہ ہے کہ ایران نے جو بدلہ لینے کااعلان کیا ہے وہ کتنا مضبوط اور اسرائیل کے لئے کتنا عبرتناک ہوگا

    واضح رہے کہ اسماعیل ہنیہ کو تہران میں قاتلانہ حملے میں مار دیا گیا تھا، ایران اور حماس نے امریکہ و اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے،

    حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی نماز جنازہ تہران میں ادا

    حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ ایران میں قاتلانہ حملے میں شہید

    سراج الحق کی قطر میں حماس کے رہنماؤں اسماعیل ہنیہ اور خالد مشعل سے ملاقات

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

    مولانا فضل الرحمان سے حماس رہنماء کی ملاقات

    مفتی تقی کی دوحہ میں حماس کے رہنماؤں سے ملاقات

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت تہران کے گیسٹ ہاؤس میں نصب ریموٹ کنٹرول بم سے ہوئی، نیو یارک ٹائمز کا دعویٰ

  • حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی نماز جنازہ تہران میں ادا

    حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی نماز جنازہ تہران میں ادا

    حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی نماز جنازہ تہران میں ادا کر دی گئی، نماز جنازہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے پڑھائی
    نماز جنازہ تہران یونیورسٹی میں ادا کی گئی جس میں ہزاروں افراد شریک ہوئے، نماز جنازہ میں اعلی ایرانی سول حکام ، سرکاری عہدیداروں ور ایرانی پاسداران انقلاب کے افسروں اور جوانوں نے شرکت کی،اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے،اسماعیل ہنیہ کے جسد خاکی کو قطر لے کر جایا جائے گا،اسماعیل ہنیہ کو کل قطر کے دارالحکومت دوحہ میں سپردِ خاک کیا جائے گا ،ایران کے رہبر آیت اللہ علی خامنہ ای نے نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد ان کے بیٹوں سے تعزیت کی،حماس ترجمان خلیل الحیہ تہران میں موجود ہیں۔ نماز جنازہ میں خواتین بھی بڑی تعداد میں شریک ہوئیں، اس موقع پر شرکا نے اسرائیل کے خلاف نعرے بازی بھی کی.شرکا نے فلسطین کے جھنڈے بھی اٹھا رکھے تھے.

    گزشتہ روز ایران میں اسماعیل ہنیہ اپنے گارڈ سمیت قاتلانہ حملے میں شہید ہو گئے تھے،وہ ایرانی صدر کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لئے ایران گئے تھے.

    بیٹے کو واٹس ایپ کال سے اسرائیل نے اسماعیل ہنیہ کی لوکیشن کا پتہ لگایا،اہم انکشاف
    یورپی مبصر برائے مشرق وسطی ایلیاجے میگنیئر کا کہنا ہے کہ اسماعیل ہنیہ کو نشانہ بنانے کے لیے اسرائیل کا جاسوسی سافٹ ویئر استعمال کیا گیا، اسرائیل نے اسماعیل ہنیہ کو واٹس ایپ پیغام میں جدید ترین اسپائی ویئر لگائے،اسپائی سافٹ ویئر نے اسرائیلی انٹیلی جنس کو اسماعیل ہنیہ کی لوکیشن بتائی، اسماعیل ہنیہ کو اپنے بیٹے کے ساتھ ہونے والی کال کے بعد قتل کیا گیا، کال کے دوران اسماعیل ہنیہ کے مقام کی نشاندہی کی گئی تھی جس کے بعد اسرائیل نے انہیں نشانہ بنایا،

    تم چاہے کتنے ہی رہنماؤں کا قتل کر دو، تم فلسطینی عوام کی جدوجہد کو نہیں روک سکتے،عبدالسلام ہنیہ
    حماس کے سیاسی سربراہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے بعد ان کے بیٹے عبدالسلام ہنیہ کا ویڈیو بیان سامنے آیا ہے، اسماعیل ہنیہ کے بیٹے کا کہنا ہے کہ ہمیں والد کی موت کی خبر ملی، اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں میرے والد کو شہادت کی موت نصیب ہوئی، کوئی بھی شخص جو جہاد کے راستے پر چلتا ہے، اس کا انجام شہادت ہوتا ہے یا پھر وہ غازی ہوتا ہے ،حماس رہنما کے بیے عبدالسلام ہنیہ نے اپنے والد کے قاتلوں کو ویڈیو میں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے والد کے قاتلوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تم چاہے کتنے ہی رہنماؤں کا قتل کر دو، تم فلسطینی عوام کی جدوجہد کو نہیں روک سکتے اور نہ ہی ہمارے انقلاب کو روک سکتے ہو

    اسرائیل نے اپنے دشمنوں کو عبرت ناک جواب دیا ،اسرائیلی وزیراعظم
    حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اپنی قوم سے خطاب کیا جس میں نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے اپنے دشمنوں کو عبرت ناک جواب دیا ،اسرائیلی وزیراعظم کا خطاب اسرائیلی ٹی وی پر پانچ منٹ نشر کیا گیا، اسرائیلی وزیراعظم نے اپنے خطاب میں حماس رہنما کے قتل بارے کوئی ذکر نہیں کیا،تاہم بیروت میں حزب اللہ کے رہنما کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسرائیل غزہ میں جاری جنگ بندی کے دباؤ میں آجاتا تو کبھی بھی حماس کے رہنماؤں اور دیگر ہزاروں دہشتگردوں کو ختم نہیں کرسکتا تھا، آنے والے دن اسرائیل کے لیے چیلنجنگ ہیں، اسرائیل اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے،حماس، حزب اللّٰہ اور حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے کیے ہی، اسرائیل نے حزب اللّٰہ چیف آف اسٹاف فواد شکر سے بدلہ لے لیا ہے، اسرائیل پر حملہ کرنے والوں کو نہیں چھوڑیں گے،اسرائیل نے ایران کی پراکسیز کو منہ توڑ ردعمل دیا ہے، اسرائیل اپنے خلاف کسی بھی جارحیت کا بھرپور طاقت سے جواب دے گا

    اسرائیلی میڈیا نے حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کو تہران میں نشانہ بنانے کی وجہ بیان کی ہے، اسرائیلی میڈیا کے مطابق تہران میں اسماعیل ہنیہ کی سیکورٹی کی ذمہ داری ایران حکومت کی تھی، سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ چاہتی تو اسماعیل ہنیہ کو قطر میں ہی قتل کردیا جاتا لیکن اسماعیل ہنیہ کو تہران میں قتل کرنے کی دو وجوہات تھیں ،ایک یہ کہ حماس کے سربراہ کو ایران میں نشانہ بنانا تھا اور اسکے بعد یہ دیکھنا تھا کہ ایران اس کا جواب کیسے دیتا ہے؟

    اسماعیل ہنیہ کو کس مقام پر نشانہ بنایا گیا،تصویر سامنے آ گئی
    حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کے قتل کے مقام کی تصویر سامنے آئی ہے، امریکی میڈیا نے اس مقام کی تصویر جاری کی جہاں اسماعیل ہنیہ ٹھہرے ہوئے تھے اور انہیں نشانہ بنایا گیا،امریکی اخبار کے مطابق ایک ایرانی عہدیدار نے یہ تصویر ہم سے شیئر کی ہے،تاہم ایرانی میڈیا نے ابھی تک اس تصویر بارے کوئی تبصرہ نہیں کیا، اسماعیل ہنیہ ایک سرکاری گیسٹ ہاؤس میں ٹھہرے ہوئے تھے جہاں انہیں نشانہ بنایا گیا،یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ اسماعیل ھنیہ ایرانی صدر کی رہائش گاہ سے 750 میٹر کے فاصلے پر رہائش پذیر تھے جہاں انہیں شہید کیا گیا.

    اسماعیل ہنیہ کے نماز جنازہ میں ایرانی فوج اور پاسداران انقلاب کےکمانڈر کی عدم شرکت
    ایران آبزرور نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران میں حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی نماز جنازہ میں ایرانی فوج اور پاسداران انقلاب کے کمانڈروں نے شرکت نہیں کی، ایران آبزورر کے ایکس اکاؤنٹ پر نماز جنازہ کی ادائیگی کی تصویرپوسٹ کی گئی، ساتھ کہا گیا کہ تہران میں اسماعیل ہنیہ کے نماز جنازہ کے دوران ایرانی فوج اور پاسداران انقلاب کے کمانڈروں میں سے کوئی بھی نہیں دیکھا گیا۔اس کا مطلب صرف ایک ہی ہو سکتا ہے…

    https://twitter.com/IranObserver0/status/1818935106494497137

    دوسری جانب سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر انچیف حسین سلامی نے تہران میں اسرائیل کے ہاتھوں اسماعیل ھنیہ کے قتل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی مزاحمت کے عظیم محاذ کے وفادار مجاہدین کے غصے اور انتقام کی آگ بھڑک اٹھے گی۔اسکے بعد ہم اسرائیل کو مزید جلائیں گے،

    ایران کے ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی ہے کہ گذشتہ رات ایرانی صدر نے تہران میں حماس کے سیاسی دفتر کے نائب خلیل الحیا سے ٹیلی فون پر بات چیت کی اور کہا کہ ہم مضبوط عزم کے ساتھ مزاحمتی محور بالخصوص فلسطینی عوام اور غزہ کے مظلوم عوام کی حمایت جاری رکھیں گے۔ایرانی صدر نے کہا کہ اسرائیل اپنی تمام "مجرمانہ پالیسیوں” میں ناکام رہا ہے اور اسماعیل ہنیہ کے قتل کو "ان کے آخری انجام تک پہنچنے کا نتیجہ” سمجھتا ہے۔

    علاوہ ازیں تہران کے مشہور والیاسر اسکوائر کی دیوار پر ایک نئی تصویر لگائی گئی ہے جس میں ایران کے نئے صدر مسعود ،حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کا ہاتھ پکڑے ہوئے ہیں، جنہیں قتل کر دیا گیا تھا۔یہ تصویر، جو ایرانی پارلیمنٹ میں دونوں کی ملاقات کے موقع پر لی گئی تھی،

    حماس کے عسکری رہنما محمد ضیف 13 جولائی کو فضائی حملے میں مارے گئے،اسرائیل کا دعویٰ
    علاوہ ازیں اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے محمد ضیف گزشتہ ماہ خان یونس پر فضائی حملے کے دوران مارا گیا تھا۔
    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس جائزوں کے بعد وہ اس بات کی تصدیق کرنے میں کامیاب ہوئی کہ حماس کی عسکری شاخ کے کمانڈر محمد ضعیف غزہ کی پٹی میں خان یونس پر 13 جولائی (23 جولائی) کو اسرائیلی فوج کے جنگجوؤں کے حملے کے دوران مارے گئے تھے۔ "حماس نے پہلے ضعیف کی موت کی تردید کی تھی اور اس نئی خبر پر ابھی تک کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ 13 جولائی کے حملے میں الضیف نہیں بچ سکے، جنگ کا مقصد پورا ہوگیا ہے،واضح رہے کہ حماس کے عسکری رہنما محمد الضیف ابراہیم المصری نے 7 اکتوبر کو طوفان الاقصیٰ آپریشن شروع کیا تھا

    اسرائیل اسماعیل ھنیہ پر پہلے بھی قاتلانہ حملے کر چکا تھا، 2003 میں ایک اسرائیلی فضائی حملے میں شیخ احمد یاسین شہید اور اسماعیل ھنیہ زخمی ہوئے تھے، 2006 میں غزہ میں ھنیہ کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا۔ قاتلانہ حملے کے نتیجے میں اس کا ایک ساتھی جاں بحق اور پانچ افراد زخمی ہوئے تھے، 2014 میں اسرائیل نے غزہ میں ھنیہ کے گھر کو بار بار نشانہ بنایا۔ 2024 میں اسرائیلی فورسز نے ہنیہ کو اس وقت قتل کر دیا، جب وہ ایران کے دارالحکومت تہران میں موجود تھے۔

    سعودی عرب کا اسماعیل ہنیہ کی شہادت پراسلامی تعاون تنظیم کے اجلاس کے انعقاد کا خیر مقدم
    سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے ایران کے قائم مقام وزیر خارجہ علی باقری سے گفتگو میں صیہونی حکومت کی جانب سے اسماعیل ہنیہ کے قتل اور اسلامی جمہوریہ ایران کی ارضی سالمیت کے خلاف جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے، علاقائی حالات کو بحرانی اور خطرناک قرار دیا۔خبر رساں ادارے ارنا کے مطقب قائم مقام وزیر خارجہ علی باقری نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ امیر فیصل بن فرحان کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو میں صیہونی حکومت کے ہاتھوں اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے بعد کے حالات پر تبادلہ خیال کیا،انہوں نے ایران کے نو منتخب صدر کی تقریب حلف برداری میں سعودی عرب کے وفد کی شرکت پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ جعلی صیہونی حکومت نے تمام ریڈ لائنوں کو پار کرتے ہوئے، اسماعیل ہنیہ کو شہید کیا اور ایران کی قومی سلامتی کے خلاف جارحیت کرکے علاقے میں امن و پائیداری کو سنجیدہ خطرے میں ڈال دیا ہے،انہوں نے زور دیا کہ ایران اپنے قانونی جائز حق کو استعمال کرتے ہوئے جعلی صیہونی حکومت کے خلاف پچھتانے پر مجبور کرنے والا اور فیصلہ کن اقدام کرے گا تاکہ غاصب صیہونی حکومت کے مسلسل جنون کو ابدی پشیمانی میں بدل دیا جائے،سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے بھی صیہونی حکومت کے ہاتھوں اسماعیل ہنیہ کے قتل اور اسلامی جمہوریہ ایران کی ارضی سالمیت کے خلاف جارحیت کی مذمت کی اور خطے کی صورتحال کو نازک اور خطرناک قرار دیا،انہوں نے خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے معاملے کا جائزہ لینے کے لیے اسلامی تعاون تنظیم کے اجلاس کے انعقاد کا خیر مقدم کرتا ہے، انہوں نے اسی طرح دونوں ممالک کے درمیان تبادلہ خیال کے جاری رہنے پربھی زور دیا۔

  • حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ ایران میں قاتلانہ حملے میں شہید

    حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ ایران میں قاتلانہ حملے میں شہید

    حماس کے سیاسی ونگ کے سربراہ اسماعیل ہنیہ تہران میں قاتلانہ حملے میں شہید ہوگئے ہیں

    پاسداران انقلاب نے اسماعیل ہنیہ کے تہران میں شہید ہونے کی تصدیق کی ہے جب کہ حملے میں ان کا ایک محافظ بھی شہید ہوا ہے،ایرانی ٹی وی کا کہنا ہےکہ اسماعیل ہنیہ ایرانی صدر کی تقریب حلف برداری میں شرکت کیلئے تہران میں موجود تھے ان کی قیام گاہ پر حملہ کرکے انہیں شہید کیا گیا،ایران کا کہنا ہےکہ قاتلانہ حملے کی تحقیقات کے نتائج جلد سامنے لائے جائیں گے

    فوری طور پر اسماعیل ہنیہ پر حملے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی، لیکن سب کا گمان اسرائیل پر ہے کیونکہ اسرائیل نے 7 اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد اسماعیل ہنیہ اور حماس کے دیگر رہنماؤں کو قتل کرنے کی دھمکی دی تھی، ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن پر تجزیہ کاروں نے فوری طور پر اس حملے کا الزام اسرائیل پر لگایا تاہم خود اسرائیل نے ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا ، وائٹ ہاؤس کی جانب سے بھی فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا .

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر حماس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ حماس کے سربراہ پر حملے کے ذمہ داران کو سزا دی جائے گی، اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر فلسطینی عوام، عرب عوام، امت مسلمہ اور دنیا بھر کے انصاف پسند عوام سے اظہار تعزیت کرتے ہیں۔خبر ایجنسی کے مطابق حماس رہنما اسماعیل ہنیہ فلسطینی گروپ کی بین الاقوامی سفارت کاری کا چہرہ تھے، وہ غزہ جنگ بندی مذاکرات میں بطور مذاکرات کار شریک تھے، غزہ میں سفری پابندیوں سے بچنے کیلئے اسماعیل ہنیہ ترکیے اور قطر میں رہتے تھے۔

    اسماعیل ہنیہ کو تہرا ن کے گیسٹ ہاؤس میں میزائل سے نشانہ بنایا گیا،اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ
    میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وقت کے مطابق رات تقریباً 2 بجے تہران کے قلب میں ایک میزائل فائرکیا گیا جہاں اسماعیل ہنیہ اپنے محافظ سمیت موجود تھے،غزہ جنگ کے دوران اسرائیلی حملے میں اسماعیل ہنیہ کے تین بیٹے اور4 پوتے شہید ہوئے،اسماعیل ہنیہ کے خاندان کے کم از کم ساٹھ افراد شہید ہو چکے ہیں، ایرانی میڈیا کے مطابق اسماعیل ہنیہ کو یہودی ایجنٹوں نے نشانہ بنایا، ان پر حملے کی تفتیش کا آغاز کر دیا ہے، قاتلانہ حملے کی تحقیقات جلد سامنے لائی جائیں گی،اسرائیلی میڈیا نے حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت سے متعلق کہا ہے کہ اسرائیلی وقت کے مطابق رات تقریباً 2 بجےتہران کے قلب میں ایک میزائل فائرکیا گیا اور اس مقام کو نشانہ بنایا گیا جہاں ہنیہ اپنے محافظ سمیت موجود تھے، اسماعیل ہنیہ ایران کے شمال میں ایک عمارت میں مقیم تھے اور وہ جس عمارت میں مقیم تھے وہ ایرانی پاسداران انقلاب کے گیسٹ ہاؤس کے طور پراستعمال ہوتی تھی،اسرائیلی فوج نے حماس کے سیاسی رہنما اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے،امریکی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے کا کہنا ہے وہ غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کا جواب نہیں دیتے

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے بعد فلسطینی مزاحمتی گروپوں نے رام اللّٰہ اور نابلس میں عام ہڑتال اور بڑے پیمانے پر مظاہروں کا اعلان کیا ہے، اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر النجاہ یونیورسٹی نے سوگ میں کلاسز اور کام معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے،

    اسرائیلی حکومت اسماعیل ہنیہ کے قتل اور ایرانی خود مختاری پر حملے کے گناہ پر پچھتائے گی،مہر الطاف
    پاپولر فرنٹ فار لبریشن آف فلسطین کے ترجمان مہر الطاہر نے کہا ہے کہ شہید اسماعیل ہنیہ نے فلسطین کاز کے لیے اپنا سب سے قیمتی مال دیا، فلسطینی اپنے مقصد کیلئے ہر عزیز اور قیمتی چیز پیش کرنے کو تیار ہیں،دشمن اسرائیل تمام سرخ لکیروں کو عبور کر گیا ہے، اسرائیل نے معاملات کو ایک جامع جنگ کی طرف دھکیل دیا ہے، مزاحمتی تنظیمیں جنگ کے لیے پوری طرح تیار ہیں،اسرائیلی حکومت اسماعیل ہنیہ کے قتل اور ایرانی خود مختاری پر حملے کے گناہ پر پچھتائے گی، شہید اسماعیل ہنیہ کا قتل امریکی مدد کے بغیر نہیں ہوسکتا تھا،

    اسماعیل ہنیہ کا خون رائیگاں نہیں جائے گا،ایرانی وزارت خارجہ
    ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت، ایران اور فلسطین کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے، اسماعیل ہنیہ کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، روس اور ترکیے نے حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ پر قاتلانہ حملے کی مذمت کی ہے،روس نے حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ھنیہ کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے اسے ‘ناقابل قبول سیاسی قتل’ قرار دیا ہے ، ترکی سمیت مختلف بین الاقوامی اداروں کی طرف سے مذمت کی بازگشت سنائی دے رہی ہے، فلسطینی صدر محمود عباس نے بھی اس قتل کی مذمت کرتے ہوئے اسے ‘بزدلانہ کارروائی’ اور ‘خطرناک پیش رفت’ قرار دیا۔

    ایران اپنی علاقائی سالمیت اور وقار کا دفاع کرے گا، ایرانی صدر
    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر کہا کہ ایران اپنی علاقائی سالمیت اور وقار کا دفاع کرے گا، ایران دہشتگرد قابضین کو اسماعیل ہنیہ کے قتل کے بزدلانہ عمل پر پچھتانے پر مجبور کردے گا۔ایرانی سپریم لیڈر نے کہا ہے کہ اسماعیل ہنیہ کے قتل کا بدلہ تہران کا فرض ہے،ہنیہ کو قتل کر کے اسرائیل نے خود کو سخت سزا دینے کی راہ ہموار کی۔ہنیہ کے خون کا بدلہ لینا ایران پر فرض ہے کیونکہ وہ ہماری سرزمین پر شہید ہوئے۔

    اسماعیل ہنیہ کی تدفین دوحہ قطرمیں ہو گی
    ایرانی میڈیا کے مطابق حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی تدفین دوحہ قطر میں کی جائے گی، نماز جنازہ جمعہ کو ادا کیا جائے گا، قطر نے بھی اسماعیل ہنیہ پر حملے کی مذمت کی ہے

    گھس کر اسرائیل کا حملہ ،ایران کی بدترین انٹیلی جنس اور عسکری سیاسی سفارتی ناکامی
    ایران کے دارالحکومت میں گھس کر اسرائیل کا حملہ ،ایران کی بدترین انٹیلی جنس اور عسکری سیاسی سفارتی ناکامی ہے ،اسرائیلی دہشت گرد ایجنسی موساد اس قدر ایران کی مداخلت رکھتی ہے یہ واضح دلیل ہے ،اسرائیل نے ایرانی کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کو قتل کیا ، پھر اسرائیلی انٹیلی ایجنسی موساد نے ایران کے ایٹمی بم کے معمار محسن فخری زادہ سمیت 5 اہم جوہری سائنسدانوں کو ایران کے اندر قتل کردیا،شام میں ایرانی سفارت خانے پر بمباری کرکے اہم کمانڈر قتل کردیے ، مگر ایران باتوں کی حد تک اسرائیل کا بہت نقصان کرچکا ہے یوں آج ایک بار پھر ایران کے سرکاری مہمان اسماعیل ہنیہ کو تہران میں شہید کر دیا گیا مگر ہمیشہ کی طرح ایران نے اس بار پھر باتوں اور جذباتی بیان کا سہارا لیا۔ اب دنیا کے سربراہان ایران جانے سے واقعی ڈریں گے کہ وہ محفوظ نہیں ہے ،بحرحال آج اسماعیل ھنیہ پر حملے کے بعد مشرق وسطی میں ایک ناختم ہونے والی آگ بھڑک اٹھی ہے ،اب یہ آگ بڑی مشکل سے بجھے تو بجھے ورنہ یہ جنگ اور زیادہ پھیلے گی

    صاف نظر آرہا ہے کہ جنگ اب غزہ تک محدود نہیں رہے گی۔حافظ نعیم الرحمان
    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر ردعمل میں کہا ہے کہ قیام ، ہجرت اور شہادت ،دنیا کی ظالم ترین طاقتوں کا بے جگری سے مقابلہ کرنے والا اللہ کا شیر اسماعیل ہنیہ سرخرو ہوگیا، پہلے اپنے خاندان کو راہ خدا میں قربان کیا پھر خود بھی جنت کا مسافر بن گیا، شہادت ایک مسلمان کی زندگی کا اختتام نہیں بلکہ راحتوں بھری نئی زندگی کا آغاز ہے، اسرائیل اور اس کے سرپرستوں کو اس ظلم کی قیمت چکانا ہوگی۔ اسرائیلی اقدام نے اس پورے خطے کو نئی آزمائش میں ڈال دیا ہے ، صاف نظر آرہا ہے کہ جنگ اب غزہ تک محدود نہیں رہے گی۔ نئی صف بندی ہوگی، کیا عالم اسلام کے حکمران اب بھی آنکھیں بند کیے اسرائیل کی خاموش حمایت کرتے رہیں گے ؟ کیا وقت نہیں آگیا کہ ظالم کے ہاتھ کو کاٹ ڈالا جائے؟

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت،مولانا فضل الرحمان کی جمعہ کو ملک گیر احتجاج کی کال
    جمعیۃ علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نےحماس کے سیاسی ونگ کے سربراہ اسماعیل ھنیہ کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے،مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ جمعیۃ علماء اسلام اسماعیل ھنیہ کے خاندان اور فلسطینیوں کے غم میں برابر کی شریک ہے۔ اسماعیل ھنیہ کی شہادت سے فلسطین کی آزادی کی تحریک ختم نہیں ہو گی۔اسماعیل ھنیہ سے ملاقات ہوئی تو وہ شہادت کے جذبہ سے سرشار تھے۔ اسماعیل ھنیہ اور انکے خاندان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔شہید رہنما اسماعیل ھنیہ کی خدمات کے اعتراف میں آج قومی اسمبلی، سینیٹ خیبرپختونخوا اور بلوچستان اسمبلی کے اجلاسوں میں قرادادیں پیش کریں گے۔ مولانا فضل الرحمان نے شیخ اسماعیل ھنیہ کی بلندی درجات کیلئے پاکستان کی پوری قوم بالخصوص مدارس مساجد اور گھروں میں قرآن خوانی کی اپیل کر دی،مولانا فضل الرحمان نے جمعہ کے روز ملک بھر میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف اور اسماعیل ھنیہ کی شھادت پر احتجاج کی کال دے دی اور کہا کہ ملک بھر میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف اور شیخ اسماعیل ھنیہ کی شھادت پر بھرپور مظاہرے کئے جائیں گے ۔

    حماس کے سیاسی رہنما اسماعیل ہنیہ کے قتل سے مشرق وسطیٰ میں ایک مکمل جنگ کے خدشات کو گہرا کر دیا گیا ہے۔اسماعیل ہنیہ ایران کے حمایت یافتہ عسکریت پسند گروپ کے دوسرے رہنما ہیں جن کی حالیہ دنوں میں موت ہوئی ہے۔ہنیہ کی موت حماس کے لیے ایک اہم دھچکا ہے، ایک بیان میں، حماس نے اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ اسرائیل نے منگل کو ایران کے نئے صدر کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے بعد، تہران میں ان کی رہائش گاہ پر اسماعیل ہنیہ اور محافظ کو نشانہ بنایا

    دوسری جانب اسرائیل نے تصدیق کی کہ اس نے منگل کے روز لبنان کے شہر بیروت میں ایک حملہ کیا جس میں حزب اللہ کا سب سے سینئر فوجی کمانڈر ہلاک ہوا، جسے اس نے اسرائیل کے زیر قبضہ گولان کی پہاڑیوں میں ایک مہلک حملے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ 8 اکتوبر کو حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان محاذ آرائی شروع ہونے کے بعد سے فواد شکر کا قتل اسرائیل کی سب سے سنگین کشیدگی تھی۔

    اسماعیل ہنیہ کا قتل مشرق وسطیٰ کے لیے خاص طور پر پریشان کن وقت پر ہوا ہے، جس میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتے ہوئے تصادم نے ایک وسیع علاقائی جنگ میں پھیلنے کی دھمکی دی ہے ،حماس نے غزہ میں اسرائیلی فوج کے خلاف جنگ جاری رکھی ہوئی ہے ،حماس کے پولیٹیکل بیورو کے رکن موسیٰ ابو مرزوق نے کہا کہ ہنیہ کی موت "بیکار نہیں جائے گی.

    اگر اسرائیل پر حملہ ہوا تو امریکا اس کے دفاع میں مدد کرے گا۔امریکی وزیر دفاع
    وائٹ ہاؤس نے کہا کہ اس نے ہنیہ کی موت کی خبریں دیکھی ہیں لیکن ترجمان کے مطابق اس نے فوری طور پر مزید تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔ فلپائن کے دورے کے دوران امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ ناگزیر ہے لیکن اگر اسرائیل پر حملہ ہوا تو امریکا اس کے دفاع میں مدد کرے گا۔

    ہنیہ غزہ میں اسرائیل کی جنگ کے آغاز کے بعد سے مارے جانے والے حماس کے دوسرے سینئر رہنما ہیں۔ جنوری میں حماس کے سیاسی بیورو کے نائب سربراہ صالح العروری لبنان کے دارالحکومت بیروت میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے تھے۔ عروری کو حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈز کے بانی ارکان میں سے ایک سمجھا جاتا تھا۔سی این این کے سیاسی اور خارجہ پالیسی کے تجزیہ کار بارک راوید نے کہا کہ اسرائیلی حکومت ہنیہ کو حماس کے 7 اکتوبر کے حملوں کے ذمہ داروں میں سے ایک کے طور پر دیکھتی ہے اور اگرچہ وہ عسکری طور پر اہم نہیں ہے، لیکن اس کی موت کا یرغمالیوں اور جنگ بندی کے جاری مذاکرات پر "کافی اثر پڑے گا”۔

    اسماعیل ہنیہ کو قتل کر کے اسرائیل نے پیغام دیاہے کہ ہمیں کوئی روک نہیں سکتا،شیری رحمان
    نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے قتل کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اسماعیل ہنیہ کو قتل کر کے اسرائیل نے پیغام دیاہے کہ ہمیں کوئی روک نہیں سکتا، اسرائیل جنگ کو روکنے کے بجائے اسے پھیلا رہا ہے،تہران کی سرزمین پر اس سنگین حملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل مذاکرات اور جنگ بندی میں سنجیدہ نہیں ہے،یہ ناصرف حماس بلکہ ایران کی خودمختیاری پر بھی حملہ ہے، اس عمل کی وجہ سے مشرق وسطی کے حالات مزید بگڑ سکتے ہیں،اگر مشرق وسطی کے حالات کشیدہ ہونگے تو اس کے اثرات پوری دنیا پر پڑے گے،

    پاکستان خطے میں بڑھتی ہوئی اسرائیلی مہم جوئی پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے, ترجمان دفتر خارجہ
    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلو چ نے لہا ہے کہ پاکستان آج تہران میں حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ھنیہ کے قتل کی مذمت کرتا ہے,ہم ان کے اہل خانہ اور فلسطینی عوام کے ساتھ تعزیت کا اظہار کرتے ہیں, پاکستان دہشت گردی کی اس کی تمام شکلوں اور مظاہر میں مذمت کرتا ہے, ان کا قتل ماورائے عدالت قتل ہے، ایران کے صدر کی حلف برداری تقریب میں پاکستان کے نائب وزیر اعظم سمیت متعدد غیر ملکی شخصیات شریک تھیں, پاکستان خطے میں بڑھتی ہوئی اسرائیلی مہم جوئی پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے, اس کی تازہ ترین کارروائیاں پہلے سے ہی عدم استحکام کا شکار خطے میں ایک خطرناک اضافہ ہے, اس سے امن کی کوششوں کو نقصان پہنچا ہے,

    حماس کے اسرائیل پر سات اکتوبر کو حملے اور پھر اسرائیل کے غزہ پر حملے کے دوران اسماعیل ہنیہ کے خاندان کے درجنوں افراد کی موت ہو چکی ہے، اب تک ہنیہ خاندان کے 60 سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں، غزہ میں مقیم اسماعیل ہنیہ کے خاندان کے کئی افراد کو اسرائیل نشانہ بنا چکا ہے، جون میں میں اسرائیلی فضائی حملے میں اسماعیل ہنیہ کے خاندان کے 10 افراد شہید ہوئے تھے، اپریل میں اسماعیل ہنیہ کے 3 بیٹے، حازم، عامر اور محمد بمباری سے شہید ہوئے تھے جبکہ اس حملے میں اسماعیل ہنیہ کی 3 پوتیاں اور ایک پوتا بھی شہید ہوئے تھے، اسرائیل اسماعیل ہنیہ سے قبل بھی حماس کے کئی رہنماؤں کو شہید کرچکا ہے۔

    اسماعیل ہنیہ کے قتل سے غزہ جنگ بندی کے مذاکرات کو خطرہ پہنچ سکتا ہے،قطری وزیراعظم
    قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی کا کہنا ہے کہ اسماعیل ہنیہ کے قتل سے غزہ جنگ بندی کے مذاکرات کو خطرہ پہنچ سکتا ہے، بات چیت کے دوران سیاسی قتل اور غزہ میں شہریوں کو مسلسل نشانہ بنایا جارہا ہے، ایک فریق دوسری طرف کے مذاکرات کار کو قتل کردے تو ثالثی کیسے کامیاب ہوسکتی ہے، امن کیلئے سنجیدہ شراکت داروں کی ضرورت ہے، انسانی زندگی کو نظر انداز کرنے کے خلاف بھی عالمی مؤقف کی ضرورت ہے

    سراج الحق کی قطر میں حماس کے رہنماؤں اسماعیل ہنیہ اور خالد مشعل سے ملاقات

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

    مولانا فضل الرحمان سے حماس رہنماء کی ملاقات

    مفتی تقی کی دوحہ میں حماس کے رہنماؤں سے ملاقات

    اسماعیل ہنیہ کے قتل کا مقصدفلسطینیوں کے حوصلے پست کرنا اور انہیں ڈرانا ہے،ترک صدر
    ترک صدر طیب اردوان نے اسماعیل ھنیہ کی شہادت پر تعزیتی پیغام میں کہا ہے کہ میں تہران میں حماس کے پولیٹیکل بیورو کے چیئرمین اسماعیل ھنیہ کے قتل کی شدید مذمت کرتا ہوں،یہ قتل دراصل ایک قابل نفرت عمل ہے جس کا مقصد فلسطینی کاز، غزہ کی شاندار مزاحمت اور ہمارے فلسطینی بھائیوں کی منصفانہ جدوجہد کو متاثر کرنا اور فلسطینیوں کے حوصلے پست کرنا اور انہیں ڈرانا ہے۔میرے بھائی اسماعیل ہنیہ کے خلاف قتل کا مقصد وہی ہے جو شیخ احمد یاسین، عبدالعزیز الرنتیسی اور غزہ کی دیگر کئی سیاسی شخصیات پر گھناؤنے حملوں کا مقصد تھا۔ تاہم صہیونی بربریت اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکے گی جیسا کہ وہ اب تک نہیں کر چکی ہے۔امید ہے کہ عالم اسلام کے مضبوط موقف اور اتحاد انسانیت کے ساتھ اسرائیل کی طرف سے ہمارے جغرافیہ پر مسلط کی گئی دہشت گردی بالخصوص غزہ میں ظلم اور نسل کشی کا خاتمہ ضرور ہو گا اور ہمارا خطہ اور ہماری دنیا میں امن قائم ہو گا۔ بطور ترکی کے صدر ہونے کے ہم ہر طرح کی کوششیں جاری رکھیں گے، تمام تدبیریں آگے بڑھاتے رہیں گے اور اپنے تمام وسائل اور اپنی پوری طاقت سے اپنے فلسطینی بھائیوں کی حمایت کرتے رہیں گے،ہم 1967 کی سرحدوں پر مبنی ایک آزاد، خودمختار اور خودمختار ریاست فلسطین کے قیام کے لیے کام جاری رکھیں گے، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔ خدا میرے بھائی اسماعیل ھنیہ پر رحم کرے جو اس گھناؤنے حملے کے نتیجے میں شہید ہوئے ہیں اور اللہ ان کی شہادت قبول فرمائے میں ان کے اہل خانہ کے لیے صبر جمیل اور اپنے غزہ اور فلسطینی بھائیوں اور عالم اسلام سے تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔ خدا آپ کو اپنی جنت اور خوبصورت انعامات سے نوازے۔

    turk hania

    ترک اپوزیشن رہنما پروفیسر احمد داؤد اولونے کہا ہے کہ ایران کے صدر کو مبارکباد دینے آئے مہمان کی حفاظت نہ کرنا بہت بڑی نااہلی ہے۔ تہران میں سید علی خامنائی محفوظ ہے اور اسماعیل ھنیہ کو قتل کر دیا گیا ہے، یہ کردار تو کوفیوں نے بھی ادا کیا تھا۔

    حماس کے سیاسی رہنما اسماعیل ہانیہ جہاد فلسطین کے روح رواں اور امت مسلمہ کے ہیرو تھے۔ڈاکٹر حمیرا طارق
    فلسطین کی تحریک مزاحمت حماس کے سیاسی رہنما اور فلسطین کے سابق وزیراعظم اسماعیل ہانیہ کی تہران میں اسرائیلی حملے میں شہادت پر سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر حمیرا طارق صدر وسطی پنجاب نازیہ توحیداور صدر لاہور عظمی عمران نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ ڈاکٹر اسماعیل ہانیہ کی شہادت صرف حماس فلسطین اور عرب کا نہیں بلکہ اس نقصان نے پوری امت مسلمہ کو غمزدہ کردیا ہے، ڈاکٹر اسماعیل ہانیہ ایمان و یقین کی مجسم صورت عظیم مثال تھے، یہ وہ شخصیت تھے جنہیں دیکھ کر صحابہ کی یاد تازہ ہوجاتی تھی، 7 مہینوں کی قلیل مدت میں یہود و ہنود اور ان کے پیروکاروں نے اسماعیل ہانیہ کے حوصلے پست کرنے کےلئے ان کی والدہ تین بیٹے، ایک بیٹی دو بھائی 2 بہنیں بھانجوں اور بھتیجوں سمیت ہانیہ خاندان کے 39 افراد کو بے دردی سے شہید کر دیا ۔ مگر ان کے عزم و استقلال میں کمی نہ آئی -ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا کہ اللہ کی راہ میں جان دینے والے کبھی نہیں مرتے وہ شہید ہیں۔یہ اسرائیلی اقدام فلسطینی عوام کے جدوجہد آزادی کی تحریک اور جذبہ شہادت کو مہمیز دے گا۔نازیہ توحید نےکہاکہ ہم پوری فلسطینی قوم اور ملت اسلامیہ سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے دعا کرتے ہیں اللہ تعالٰی حماس کے سیاسی ونگ کے سربراہ اسماعیل ہانیہ کے سربراہ کو اپنے پاس بہت اعلی مقام عطا فرمائے فلسطینی قوم اور امت کے سب شہیدوں کی شہادتوں کو قبول فرمائے,عظمی عمران نے کہا کہ غزہ کی آزادی سے امت کی آنکھیں ٹھنڈی فرمائے اور امت کے تمام قائدین کی جانوں کی حفاظت فرمائے اور ان سے امت کی سربلندی کا کام لے لے-اس سانحہ ارتحال پر ڈپٹی سیکرٹری ثمینہ سعید ،ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی ،عطیہ نثار ، عفت سجاد اور ڈاکٹر زبیدہ جبیں،طیبہ عاطف نے بھی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور اہل خانہ کے لیے صبر و استقامت کی دعا کی ہے .

    امریکا نے اسماعیل ہنیہ پر حملے اور قتل میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے،امریکا کے وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن نے غیرملکی میڈیا کو انٹرویو میں کہا کہ حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کی موت میں امریکا ملوث نہیں،غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی اہم ہے، کشیدگی کو کم کرنے کا بہترین طریقہ جنگ بندی ہے۔

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت،اسلام آباد ہائیکورٹ بار کا تین روزہ سوگ کااعلان
    اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے 3 روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے،اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اعلامیے میں کہا ہے کہ بار ایسوسی ایشن اسرائیل کے اس بزدلانہ فعل کی شدید مذمت اور حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر سلام پیش کرتی ہے، اقوام متحدہ حملے میں ملوث ملک کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرے، اسرائیل پر عالمی پابندیاں لگائی جائیں اور غزہ میں نسل کشی فوراً بند کی جائے۔

    اسماعیل ہنیہ کی خدمات اور شہادت کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا،خیبرپختونخوا اسمبلی میں قرارداد
    جے یو آئی کی رکن صوبائی اسمبلی ریحانہ اسماعیل نے خیبر پختونخواہ اسمبلی میں اسماعیل ہنیہ کی خدمات پر قرارداد پیش کی۔ریحانہ اسماعیل کی پیش کردہ قرارداد میں فلسطینی رہنما اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا گیا،خیبر پختونخواہ اسمبلی میں ریحانہ اسماعیل کی جانب سے فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی کی قرارداد جمع کروائی گئی،ریحانہ اسماعیل نے خیبر پختونخواہ اسمبلی میں اسماعیل ہنیہ کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کیا۔قراردار میں کہا گیا کہ اسماعیل ہنیہ کی خدمات اور شہادت کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ریحانہ اسماعیل کی قرارداد کے ذریعے خیبر پختونخواہ اسمبلی نے فلسطینی حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر ایران کا تین روزہ سوگ کا اعلان
    اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے بعد ایران کی حکومت نے تین روز کے عام سوگ کا اعلان کیا ہے، ایرانی حکومت نے ایران کے سرکاری سفارتی مہمان اسماعیل ہنیہ کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے اسے نا قابل علاج صیہونی حکومت کے دہشت گرد ہونے کا ایک اور ثبوت قرار دیا کہ جس کے شر سے دنیا کا کوئی بھی علاقہ محفوظ نہیں ہے ،ایرانی حکومت کے مطابق عظیم سانحہ پر تعزیت پیش کرنے اور فلسطین کی مظلوم قوم اور شہید ہنیہ کے لواحقین سے ہمدردی ظاہر کرتے ہوئے بدھ، جمعرات اور جمعہ کو قومی سوگ کا اعلان کیا گیاہے