Baaghi TV

Tag: ایران

  • ایرانی فوج کا ہیلی کاپٹر  گر کر تباہ، چار افراد ہلاک

    ایرانی فوج کا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، چار افراد ہلاک

    ایرانی فوج کا ایک ہیلی کاپٹر منگل کی علی الصبح صوبہ اصفہان میں خمینی شہر کے علاقے دورچے میں پھلوں اور سبزیوں کی مارکیٹ میں گر گیا، جس میں پائلٹ، کو پائلٹ اور دو شہری ہلاک ہو گئے-

    ایرانی سرکاری میڈیا اور مقامی رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ معمول کی تربیتی پرواز کے دوران پیش آیا، ابتدائی رپورٹ میں تکنیکی خرابی کی طرف اشارہ کیا گیا جس کی وجہ سے طیارہ کنٹرول کھو بیٹھا اور براہ راست مارکیٹ کے احاطے میں گر کر تباہ ہوگیا ریڈ کریسنٹ کی ٹیموں سمیت دیگر امدادی ٹیمیں امداد فراہم کرنے اور علاقے کو محفوظ بنانے کے لیے جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں-

    ایران کی مہر نیوز ایجنسی نے ابتدائی طور پر عملے کے دو ارکان کی ہلاکت کی اطلاع دی تھی، جب کہ متعدد ذرائع اور ایرانی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے بین الاقوامی میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ اس مقام پر سٹال چلانے والے دو شہری بھی اس حملے میں مارے گئے کم از کم ایک شہری کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں ،اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔

    راولپنڈی کے 60 سالہ حکیم کی کم عمر لڑکی سے شادی،ویڈیو وائرل

    اصفہان شہر کے مغرب میں ایک مضافاتی ضلع، دورچہ میں حادثے کی جگہ، خطے میں تازہ پیداوار کی تقسیم کا ایک اہم مرکز ہے حکام نے کسی قسم کی دراندازی کی تردید کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ پرواز معیاری آرمی ایوی ایشن کی تربیتی کارروائیوں کا حصہ تھی تکنیکی خرابی کی صحیح وجہ کا تعین کرنے کے لیے ایک سرکاری انکوائری شروع کر دی گئی ہے۔

    ٹی 20 ورلڈ کپ: سیمی فائنل کا مشروط شیڈول جاری

  • امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور جمعرات کو جنیوا میں ہو گا، عمانی وزیرِ خارجہ

    امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور جمعرات کو جنیوا میں ہو گا، عمانی وزیرِ خارجہ

    عمان کے وزیرِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور جمعرات کو جنیوا میں ہوں گے-

    عمان کے وزیرِ خارجہ نے کہا کہ یہ مذاکرات ’ایک مثبت پیش رفت کے ساتھ معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے اضافی کوشش کے طور پر طے پائے ہیں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل 17 فروری کو جنیوا میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی مذاکرات کی دوسری نشست کے بعد واشنگٹن اور تہران کی جانب سے تشویش کے اظہار کے ساتھ ساتھ چند حوصلہ افزا بیانات بھی سامنے آئے تھے۔

    ایران میں حکومت مخالف احتجاج کا نیا سلسلہ شروع

    17 فروری کو مذاکراتی نشست کے بعد امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا تھا کہ ’امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی مذاکرات ’کچھ حوالوں سے‘ اچھے رہے ہیں اور فریقین نے آئندہ ایک اور اجلاس منعقد کرنے پر اتفاق کیا ہے جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ’بنیاد ی اصولوں پر مفاہمت‘ طے پا گئی ہے،ایران اب بھی صدر ٹرمپ کی متعین کردہ ’کچھ ریڈ لائنز کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔

    انہوں نے عندیہ دیا تھا کہ اس ضمن میں امریکہ سفارتی راستے پر ’سفر جاری رکھے گا‘ لیکن صدر ٹرمپ ہی یہ طے کریں گے کہ ’سفارتکاری کب ترک کرنی ہے،واشنگٹن یہ امید نہیں رکھتا ’کہ معاملات اس حد تک پہنچیں گے، لیکن اگر ایسا ہوا تو فیصلہ صدر ٹرمپ کا ہو گا۔

    پھلوں کی قیمتوں میں اضافے پر عوام و دکانداروں کا احتجاج

    دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مذاکرات کے پہلے دور کے مقابلے میں دوسرے دور کو زیادہ مثبت قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ’دونوں فریق معاہدے کی ممکنہ دستاویز کے دو مسودے تیار کر کے اُن کا تبادلہ کریں گے۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم جلد ہی کسی معاہدے پر پہنچ جائیں گے لیکن ہم معاہدے تک پہنچنے کے راستے پر ضرور چل پڑے ہیں۔

  • ایران میں حکومت مخالف احتجاج کا نیا سلسلہ شروع

    ایران میں حکومت مخالف احتجاج کا نیا سلسلہ شروع

    ایران میں ایک بار پھر حکومت مخالف احتجاج شروع ہو گیا ہے،خاص طور پر یونیورسٹیوں میں طلبہ نے حکومت کے خلاف مظاہرے شروع کیے ہیں۔

    عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق مظاہرے دوسرے اور تیسرے روز بھی جاری ہیں، جہاں یونیورسٹیوں جیسے تہران یونیورسٹی، امیر کبیر، شریف یونیورسٹی وغیرہ میں طلبہ سڑکوں پر نکل آئے اور سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ‌ ای اور حکومت کے خلاف نعرے لگائےمظاہرین نے انقلاب ایران سے پہلے والا پرانا پرچم (شیر و سورج) بھی لہرایا جو حکومت مخالف علامت کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔

    مظاہرے زیادہ تر جامعات اور طلبہ کی جانب سے شروع ہوئے ہیں، جس میں کچھ جگہوں پر سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں کی بھی اطلاعات ہیں، طلبہ نے ’ہم اس حکومت کو نہیں چاہتے‘ جیسے نعرے لگائے ہیں کچھ طلباء نے کھلے عام امریکہ کو حملہ کرنے پر زور دیا اور کہا کہ وہ "کام ختم کر دیں اور احتجاج کو ایک سیاسی تحریک کی شکل دی جا رہی ہے۔

    مغربی کنارے پر اسرائیلی کنٹرول میں توسیع،سعودی عرب سمیت 19 ممالک کی مذمت

    واضح رہے کہ یہ نئی احتجاجی لہر، پچھلے مہینے کے بڑے احتجاجوں اور حکومت کے شدید کریک ڈاؤن کے بعد سامنے آئی ہے جس میں سیکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں گرفتار ہوئے تھے،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سکیورٹی فورسز کی جانب سے مظاہرین پر کریک ڈاؤن کے بعد حکومت کو خبردار کیا تھا کہ اگر مظاہرین پر تشدد کا سلسلہ نہ روکا گیا تو نتائج بہت بُرے ہوں گے۔

    پمز اسپتال میں آنکھ کے اہم آپریشن کے بعد عمران خان اڈیالہ جیل منتقل

  • روس اور ایران کے درمیان خفیہ اسلحہ معاہدہ طے ہو گیا،برطانوی اخبار  کا دعویٰ

    روس اور ایران کے درمیان خفیہ اسلحہ معاہدہ طے ہو گیا،برطانوی اخبار کا دعویٰ

    برطانوی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے روس کے ساتھ 50 کروڑ یورو مالیت کا خفیہ اسلحہ معاہدہ کیا ہے-

    برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے روس کے ساتھ 50 کروڑ یورو مالیت کا خفیہ اسلحہ معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت ایران جدید کندھے پر رکھ کر فائر کیے جانے والے ہزاروں میزائل حاصل کرے گا یہ معاہدہ گزشتہ دسمبر میں ماسکو میں طے پایا،روس آئند ہ 3 برس میں 500 ’وربا‘ لانچر یونٹس اور 2,500 ’9 ایم 336‘میزائل ایران کو فراہم کرے گا۔

    اخبار کے مطابق یہ معلومات مبینہ طور پر روسی دستاویزات اور معاہدے سے واقف ذرائع سے حاصل کی گئی ہیں، تاہم آزاد ذرائع سے فوری طور پر اس کی تصدیق نہیں ہوسکی یہ معاہدہ روس کی سرکاری اسلحہ برآمد کرنے والی کمپنی روس اوبورون ایکسپورٹ اور ایران کی وزارتِ دفاع و مسلح افواج لاجسٹکس کے ماسکو میں نمائندے کے درمیان طے پایا،ایران نے گزشتہ سال جولائی میں باضابطہ طور پر ان نظاموں کی درخواست کی تھی۔

    سابق اہلیہ کے الزامات: عماد وسیم نے قانونی نوٹس بھیج دیا

    واضح رہے کہ گزشتہ برس امریکی افواج نے ایران کی تین اہم جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا، جس کے بعد اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی اہم جوہری صلاحیت تباہ کر دی گئی ہے،تاہم ابتدائی امریکی انٹیلی جنس جائزے کے مطابق فضائی حملوں سے ایران کی جوہری صلاحیت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی بلکہ اسے چند ماہ پیچھے دھکیل دیا گیا۔

    یاد رہے کہ روس اور ایران کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کا معاہدہ موجود ہے، تاہم اس میں باہمی دفاع کی شق شامل نہیں، حال ہی میں روسی بحریہ کے ایک جنگی جہاز نے خلیج عمان میں ایرانی بحریہ کے ساتھ مشترکہ مشقیں بھی کی ہیں، ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ ملک نے جنگ کے دوران ہونے والے نقصان پر قابو پا لیا ہے اور اس کی دفاعی صلاحیت پہلے سے زیادہ مضبوط ہے-

    وزیراعظم شہباز آج دو روزہ دورے پر قطر جائیں گے

  • عالمی طاقتیں ہمیں سر جھکانے پر مجبور کرنا چاہتی ہیں،ہم جھکیں گے نہیں،ایرانی صدر

    عالمی طاقتیں ہمیں سر جھکانے پر مجبور کرنا چاہتی ہیں،ہم جھکیں گے نہیں،ایرانی صدر

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران امریکا کے دباؤ کے آگے نہیں جھکے گا۔

    ہفتے کے روز ایرانی پیرا اولمپکس ٹیم کے ارکان کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر پزشکیان نے کہا کہ ان مشکلات میں سے کسی کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے عالمی طاقتیں بزدلی کے ساتھ ہمیں سر جھکانے پر مجبور کرنا چاہتی ہیں، لیکن جس طرح آپ مشکلات کے سامنے نہیں جھکے، ہم بھی ان مسائل کے آگے نہیں جھکیں گے۔

    یہ بیان ایسے وقت میں آیا جب خلیج میں کشیدگی عروج پر ہے اور امریکا نے اپنے فوجی اثاثوں میں اضافہ کرتے ہوئے 2 طیارہ بردار بحری جہاز اور درجنوں جنگی طیارے خطے میں تعینات کر دیے ہیں۔

    ایران اور امریکا نے رواں ماہ کے اوائل میں عمان میں بالواسطہ جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کیے تھے اور گزشتہ ہفتے سوئٹزرلینڈ میں دوسرا دور بھی ہوااگرچہ دونوں ممالک نے مذاکرات کو مجموعی طور پر مثبت قرار دیا، تاہم کوئی بڑی پیش رفت نہ ہو سکی۔

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعہ کو کہا کہ سفارتی حل ہماری پہنچ میں ہے اور ایران اگلے 2 سے 3 دن میں معاہدے کا مسودہ حتمی شکل دے کر واشنگٹن کو بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

    گزشتہ سال بھی ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات ہوئے تھے، تاہم جب اسرائیل نے ایران پر حملے کیے اور 12 روزہ جنگ چھڑ گئی تو یہ عمل منقطع ہو گیابعد ازاں امریکا نے فردو، نطنز اور اصفہان میں ایرانی جوہری تنصیبات پر بمباری میں حصہ لیاجنوری میں حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف ایرانی کریک ڈاؤن کے بعد ٹرمپ نے نئی فوجی دھمکیاں جاری کیں تہران نے جواباً خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے اور خلیج کی تیل برآمدات کے لیے اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی دی۔

    امریکی میڈیا کے مطابق خطے میں جمع کی جانے والی امریکی فضائی طاقت 2003 میں عراق پر حملے کے بعد سب سے بڑی ہےحالیہ دنوں میں امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں 120 سے زائد طیارے تعینات کیے ہیں، جبکہ دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز یوایس ایس جیرالڈ فورڈ پہلے سے بحیرۂ عرب میں موجود یوایس ایس ابراہام لنکن کے ساتھ شامل ہونے کے لیے روانہ ہے۔

    ایران نے جمعہ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھیجے گئے خط میں خبردار کیا کہ اس فوجی اجتماع کو ’محض بیان بازی‘ نہ سمجھا جائےایران کشیدگی یا جنگ کا خواہاں نہیں اور نہ ہی جنگ کا آغاز کرے گا، تاہم کسی بھی امریکی جارحیت کا فیصلہ کن اور متناسب جواب دیا جائے گا۔

  • ایران نے یورپی یونین کے رکن ممالک کی مسلح افواج کو ‘دہشت گرد تنظیمیں’ قرار دے دیا

    ایران نے یورپی یونین کے رکن ممالک کی مسلح افواج کو ‘دہشت گرد تنظیمیں’ قرار دے دیا

    ایران نے یورپی یونین کے رکن ممالک کی بحری اور فضائی افواج کو ‘دہشت گرد تنظیمیں’ قرار دے دیا ہے۔

    ایران کی وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ یورپی یونین کی جانب سے اسلامی انقلابی گارڈز (آئی آر جی سی) کو ‘دہشت گرد تنظیم’ قرار دینے کے ‘غیر قانونی اور بلاجواز’ اقدام کے ردعمل میں کیا گیا ہے،ایران نے یورپی یونین کے تمام رکن ممالک کی بحری اور فضائی افواج کو ‘دہشت گرد تنظیمیں’ نامزد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    وزارتِ خارجہ کے مطابق یورپی حکومتوں نے آئی آر جی سی کو اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فہرست میں شامل کیا، حالانکہ یہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کا باقاعدہ اور سرکاری حصہ ہے،اسلامی جمہوریہ ایران ‘اصولِ باہمیّت’ کی بنیاد پر کارروائی کرے گا۔

    دوسری جانب کونسل آف دی یورپین یونین نے جمعرات کو جاری بیان میں اعلان کیا تھا کہ آئی آر جی سی کو باضابطہ طور پر یورپی یونین کی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے اس فیصلے پر رکن ممالک کے درمیان چند ہفتے قبل سیاسی اتفاقِ رائے ہو چکا تھا۔

    یورپی کونسل کے مطابق فہرست میں شمولیت کے بعد آئی آر جی سی پر یورپی یونین کے انسدادِ دہشت گردی پابندیوں کے نظام کے تحت سخت اقدامات لاگو ہوں گے، جن میں رکن ممالک میں اس کے فنڈز اور دیگر مالی اثاثوں کو منجمد کرنا اور یورپی اداروں کے لیے اس تنظیم کو مالی وسائل فراہم کرنے پر پابندی شامل ہے، اس وقت مجموعی طور پر 13 افراد اور 23 گروہ و ادارے یورپی یونین کی دہشت گرد فہرست کے تحت پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

    ایران میں حالیہ احتجاجی مظاہروں کے بعد بعض یورپی ممالک کے ساتھ کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے یورپی رہنماؤں نے مظاہرین کے خلاف کاررو ا ئیوں کی مذمت کی تھی، جسے انہوں نے کریک ڈاؤن قرار دیا۔

    اس سے قبل ایرانی پارلیمان نے بھی اعلان کیا تھا کہ ملک کی اعلیٰ سکیورٹی باڈی کی منظوری کے بعد یورپی یونین کی افواج کو دہشت گرد تنظیمیں تصور کیا جائے گا بعد ازاں یورپی یونین کے رکن ممالک کے سفیروں کو وزارتِ خارجہ طلب کیا گیا تھا۔

    وزارتِ خارجہ نے اس موقع پر یورپی اقدام کو ‘غیر ذمہ دارانہ اور بلاجواز’ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

  • اقوام متحدہ کا امریکا ایران کشیدگی پر تشویش کا اظہار

    اقوام متحدہ کا امریکا ایران کشیدگی پر تشویش کا اظہار

    جنیوا:اقوامِ متحدہ نے امریکا ایران کے درمیان کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سفارت کاری کے ذریعے تنازعات حل کرنے کی اپیل کر دی۔

    اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ترجمان نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی فوجی نقل و حرکت، جنگی مشقوں اور بحری موجودگی پر تشویش ہے۔

    جبکہ گز شتہ روز ایران نے اقوامِ متحدہ کو خط میں خبردار کیا تھا کہ کسی بھی جارحیت کی صورت میں وہ اپنے دفاع کا حق استعمال کرے گا اور اس کے نتائج کی ذمے داری امریکا پر ہوگی۔

    واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہورہا ہے جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں لڑاکا طیاروں سے بھرا امریکا کا دوسرا بحرہ بیڑا جیرالڈ فورڈ بحیرہ روم میں داخل ہوگیا جبکہ پرتگال میں امریکی فضائی اڈوں پر لڑاکا طیاروں نے پوزیشن سنبھال لی ہے برطانوی خبر ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ ایران پر حملے میں امریکا ایرانی رہنماؤں کو براہ راست نشانہ بنائے گا، امریکی فوج ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کرے گی۔

  • معاہدہ نہ ہونے پر  ٹرمپ کا ایران کے خلاف خفیہ منصوبہ سامنے آگیا

    معاہدہ نہ ہونے پر ٹرمپ کا ایران کے خلاف خفیہ منصوبہ سامنے آگیا

    معاہدہ نہ ہونے پر ٹرمپ کا ایران کے خلاف خفیہ منصوبہ سامنے آگیا-

    امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو ایٹمی توانائی کی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دے سکتے ہیں، بشرطیکہ تہران یہ وعدہ کرے کہ وہ کبھی ایٹمی بم نہیں بنائےگا اگر تہران واشنگٹن کی شرائط پر عمل نہیں کرتا تو ٹرمپ کے پاس ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای، ان کے بیٹے مجتبیٰ اور دیگر مذہبی قیادت کے ارکان کو ہلاک کرنے کا منصوبہ موجود ہے، یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ مشرق وسطیٰ میں فوجی طاقت کو بڑھا رہے ہیں، جس سے ایران کے ایٹمی پروگرام پر کوئی ڈیل کیے بغیر جنگ کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

    ایک سینیئر امریکی اہلکار نے میڈیا کو بتایا کہ صدر ٹرمپ ایسے معاہدے کے لیے تیار ہیں جو سیاسی طور پر بھی قابل قبول ہو اگر ایران امریکی حملے کو روکنا چاہتا ہے تو اسے ایسی پیشکش کرنا ہوگی جو رد نہ کی جا سکے، تاہم ایرانی ابھی تک یہ موقع گنوانے میں مصروف ہیں، پینٹاگون نے بدترین صورتحال کے لیے تیار یاں کر رکھی ہیں اور مختلف آپشنز ٹرمپ کے سامنے رکھے ہیں۔

    امریکی طیاروں نے ایران کی جانب پوزیشن سنبھال لیں

    ایک مشیر نے بتایا کہ ہر ممکنہ صورت حال کے لیے منصوبہ موجود ہے۔ ایک آپشن آیت اللہ اور ان کے بیٹے سمیت مذہبی قیادت کو ہلاک کرنا ہے، تاہم صدر ٹرمپ کیا فیصلہ کریں گے، یہ کوئی نہیں جانتا ایران اور امریکہ تیزی سے عسکری تصادم کے قریب پہنچ رہے ہیں کیونکہ تہران کے ایٹمی پروگرام پر سفارتی حل کی امیدیں ختم ہوتی جا رہی ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق اسرائیل بھی سمجھتا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان بات چیت کا راستہ بند ہو چکا ہے اور ممکنہ طور پر امریکی فوج کے ساتھ مشترکہ کارروائی کی تیاری کررہا ہے، حالانکہ کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔

    ایران اور امریکا کے آخری دو مذاکرات بنیادی مسائل پر رکے ہوئے ہیں، جن میں یورینیم افزودگی، میزائل اور پابندیوں میں نرمی شامل ہیں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہاکہ دونوں جانب رہنما اصولوں پر اتفاق ہوا ہے، لیکن وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اختلافات برقرار ہیں۔

    نائیجیریا :مسلح افراد کا گاؤں پر حملہ، 50 افراد ہلاک، متعدد اغوا

    اقوام متحدہ کے ایٹمی نگرانی ادارے کے سربراہ رافائیل گروسی بھی مذاکرات میں شامل ہیں اور تکنیکی اقدامات کی سفارش کررہے ہیں تاکہ ایران کا ایٹمی پروگرام پرامن مقاصد کے لیے رہ سکے،امریکی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ایرانی پیشکش بہت تفصیلی ہونی چاہیے اور یہ ثابت کرنا ہوگا کہ پروگرام پرامن ہے۔

  • امریکی طیاروں نے ایران کی جانب پوزیشن سنبھال لیں

    امریکی طیاروں نے ایران کی جانب پوزیشن سنبھال لیں

    امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر خطرناک موڑ پر پہنچ گئی ہے،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو معاہدہ کرنے کے لیے 10 سے 15 روز کی واضح ڈیڈ لائن دے دی۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران نے مہلت دیئے جانے تک مذاکرات نہ کیے تو بڑا فوجی حملہ کیا جائے گا صدر ٹرمپ کی ایران کو کی دئی گئی ڈیڈ لائن کے بعد یورپ میں موجود امریکی فضائیہ نےایران کیجانب اپنی عسکری پوزیشنز سنبھالنا شروع کر دیں، پرتگال کے ایک جزیرے پر قائم امریکی ایئربیس پر جنگی طیاروں اور معاون فضائی اثاثوں کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے جہاں امریکی طیاروں نے ممکنہ آپریشنز کے لیے پوزیشنیں سنبھال لی ہیں۔

    دوسری جانب معروف امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ ایران پر کسی بھی قسم کے امریکی حملے کے نتائج ناقابلِ پیش گوئی ہو سکتے ہیں اور یہ اقدام پورے مشرقِ وسطیٰ کو ایک نئی جنگ کی طرف دھکیل سکتا ہے۔

    ایک روز قبل برطانوی خبر رساں ادارے نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی صدر ایران کی اعلیٰ قیادت کو براہِ راست نشانہ بنانے پر غور کر رہے ہیں جبکہ بعض رپورٹس میں ایران پر محدود حملوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے انھی رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ امریکی فوج کا ہدف صرف عسکری کارروائی نہیں بلکہ ایرانی حکومت پر دباؤ بڑھا کر نظام کی تبدیلی کی کوشش ہو سکتی ہے۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر ممکنہ فضائی حملوں اور فوجی دباؤ میں اضافے کے اشاروں کے بعد تہران نے سخت ردعمل دیتے ہوئے احتجاجی مظاہروں میں ہلاکتوں کے اعدادوشمار پر واشنگٹن سے ’ثبوت‘ پیش کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے اقوام متحدہ کے ماہرین نے بھی ایران میں حالیہ کریک ڈاؤن پر شدید تشویش ظاہر کی ہے، جب کہ خطے میں جنگ کے بادل مزید گہرے ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ حکومت نے حالیہ احتجاجی واقعات میں 3,117 افراد کی فہرست جاری کی ہے، جنہیں انہوں نے دہشتگرد کارروائیوں کا شکار‘ قرار دیا، جن میں تقریباً 200 سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں اگر کوئی فریق سرکاری اعدادوشمار کو چیلنج کرتا ہے تو وہ اپنے شوا ہد پیش کرے۔

    یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ احتجاج کے دوران 32 ہزار افراد ہلاک ہوئے اور ایرانی عوام جہنم جیسی زندگی گزار رہے ہیں،اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ برائے انسانی حقوق مائی ساتو سمیت 30 ماہرین نے مشترکہ بیان میں کہا کہ اصل تعداد کا تعین ممکن نہیں کیونکہ ایران میں انٹرنیٹ پر سخت پابندیاں عائد ہیں امریکی تنظیم HRANA نے 7 ہزار سے زائد ہلاکتوں کی تصدیق اور مزید ہزاروں کیسز کی تحقیقات کا دعویٰ کیا ہے۔

    رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی میں نمایاں اضافہ کیا ہے، جس میں طیارہ بردار بحری جہاز اور جنگی طیارے شامل ہیں ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف کئی ہفتوں پر مشتمل ممکنہ فضائی حملے کی تیاری جاری ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی واضح جواز عوام کے سامنے نہیں رکھا گیا-

    وائٹ ہاؤس کے بعض عہدیداروں کے مطابق انتظامیہ کے اندر بھی ایران پر حملے کے معاملے پر مکمل اتفاق رائے موجود نہیں دوسری جانب ٹرمپ کے مشیروں کو خدشہ ہے کہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل جنگی ماحول ری پبلکن پارٹی کے لیے سیاسی طور پر نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ عوامی رائے عامہ میں مہنگائی اور معاشی مسائل اولین ترجیح ہیں۔

    ایران پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ اگر اس کے جوہری مراکز کو نشانہ بنایا گیا تو وہ سخت جواب دے گا ٹرمپ بارہا کہہ چکے ہیں کہ ایران کو یورینیم افزودگی روکنا ہوگی اور ’منصفانہ معاہدہ‘ کرنا ہوگا، بصورت دیگر فوجی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

  • پولینڈ کی اپنے شہریوں کو فوری ایران چھوڑنے کی ہدایت

    پولینڈ کی اپنے شہریوں کو فوری ایران چھوڑنے کی ہدایت

    امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی باعث اور ممکنہ جنگ کے خدشات کے بعد پولینڈ کی حکومت نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران سے نکلنے کی ہدایت جاری کردی ہے۔

    پولینڈ کے وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک نے خبردار کیا ہے کہ خطے کی بگڑتی صورتحال کے باعث ممکن ہے آئندہ چند گھنٹوں میں انخلا بھی ممکن نہ رہےوارسا سے جاری بیان میں پولش وزیراعظم نے اپنے شہریوں پر زور دیا کہ وہ بلا تاخیر ایران چھوڑ دیں اور فی الحال کسی بھی صورت اس ملک کا سفر کرنے سے گریز کریں،موجودہ حالات غیر یقینی ہیں اور سیکیورٹی صورتحال اچانک مزید خراب ہو سکتی ہے۔

    پولینڈ کی جانب سے یہ ہنگامی انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور ممکنہ عسکری تصادم کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا اس ہفتے کے اختتام تک ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی پر غور کر رہا ہے، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔