Baaghi TV

Tag: ایران

  • سعودی عرب کا ایران میں جلد بڑی  سرمایہ کاری کرنے کا عندیہ

    سعودی عرب کا ایران میں جلد بڑی سرمایہ کاری کرنے کا عندیہ

    سعودی عرب نے ایران میں جلد بڑی سرمایہ کاری کرنے کا عندیہ دے دیا۔

    باغی ٹی وی : برطانوی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سعودی وزیر خزانہ محمد الجدعان نے کہا ہے کہ سعودی عرب ایران میں جلد بڑی سرمایہ کاری کر سکتا ہے۔

    سعودی عرب کے ساتھ تعلقات سے یمن میں جنگ کے خاتمےکی راہ ہموار …

    انہوں نے کہا کہ ایران میں بہت سے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں، دونوں ملکوں کے درمیان سرمایہ کاری نہ ہونے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی جب لوگ ان اصولوں پر قائم رہیں جن پر اتفاق ہوا تھا، تو میرے خیال میں یہ بہت جلدی ہو سکتا ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں سعودی عرب اور ایران سفارتی تعلقات کی بحالی پر رضامند ہو گئے ہیں، دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے ملک میں اپنے سفارتخاتوں کے قیام پر بھی اتفاق کرلیا ہے دونوں ممالک کے درمیان یہ اتفاق رائے بیجنگ میں ہونے والی بات چیت کے نتیجے میں طے پایا ہے۔

    امریکا نے ماحولیاتی خطرات کے باوجود تیل اور گیس کے متنازع منصوبے کی منظوری دیدی

    ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کا کہنا تھا کہ ابتدائی اطلاعات کے تحت سعودی عرب اور ایران نے آئندہ دو ماہ کے اندر سفارتی تعلقات دوبارہ شروع کرنے اور سفارتخانے دوبارہ کھولنے پر اتفاق کیا ہے۔

  • ایران گوادر کو 100 میگاواٹ بجلی فراہم کرے گا

    ایران گوادر کو 100 میگاواٹ بجلی فراہم کرے گا

    اسلام آباد: پاکستان اور ایران کے درمیان گوادر کو 100 میگاواٹ بجلی کی فراہمی کیلئے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہوگئے۔

    باغی ٹی وی: وزیر اعظم میاں شہباز شریف کی ہدایت پر وزیر توانائی انجینئر خرم دستگیر خان نے 10 تا 13 مارچ تک ایران کا دورہ کیا اور وہاں اپنے ایرانی ہم منصب علی اکبر مہرابیان سے ملاقات کی-

    ایران کا پاکستان کیساتھ مزید بجلی کے منصوبوں میں اظہار دلچسپی

    ملاقات میں دونوں وزرا نے توانائی کے شعبے میں نئے مشترکہ منصوبے شروع کرنے میں دلچسپی ظاہر کی۔

    بجلی کی فراہمی کے معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے دونوں جانب سے تکنیکی ٹیموں کے درمیان تین سیشن ہو چکے ہیں۔

    پاکستان کی وزارت توانائی نے کہا کہ ان ملاقاتوں کے نتیجے میں پاکستان اور ایران کے درمیان پیر کو 100 میگا واٹ بجلی فراہم کرنے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے گئے دونوں وزرا نے پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے پر زور دیتے ہوئے توانائی کے شعبے میں مزید تعاون پر بات کی۔

    امریکا نے ماحولیاتی خطرات کے باوجود تیل اور گیس کے متنازع منصوبے کی منظوری دیدی

    خرم دستگیر کے دورے کا مقصد گوادر کو بجلی کی فراہمی کے معاہدے کو حتمی شکل دینا تھا، جس کا آغاز وزیر کے پہلے دورہ جون 2022 میں ہوا تھا، 9 ماہ کے ریکارڈ وقت میں ایران سے گوادر تک بجلی کی ترسیلی لائن بچھائی گئی ہے۔

    منصوبے کا جلد از جلد افتتاح کیا جائے گا، منصوبہ گوادر کو بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنائے گا اور ایک خوشحال گوادر کی بنیاد رکھے گا۔

    یو اے ای نے الیکٹرک کمپنی ٹیسلا کی گاڑیوں کو بطور ٹیکسی متعارف کروادیا

  • سعودی عرب  کے ساتھ تعلقات  سے یمن میں جنگ کے خاتمےکی راہ ہموار ہوگی،ایران

    سعودی عرب کے ساتھ تعلقات سے یمن میں جنگ کے خاتمےکی راہ ہموار ہوگی،ایران

    تہران: ایران کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے معاہدے سے یمن میں جنگ کے خاتمے اور تنازعے کے سیاسی حل کی راہ ہموار ہوگی۔

    باغی ٹی وی : ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایرنا کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ میں ایرانی مشن نے کہا کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی سے جنگ بندی میں تیزی آئے گی، قومی بات چیت شروع کرنے اور یمن میں ایک جامع قومی حکومت تشکیل میں مدد ملے گی۔

    مودی سرکارمیں مسلمانوں پرزمین مزید تنگ،بھارتی میڈیانےہندوستانی پولیس اورگاؤرکشک گٹھ جوڑکا پردہ فاش کر دیا

    اقوام متحدہ میں ایرانی مشن نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات تین طرفہ تعاون، پورے خطے اور بین الاقوامی سطح پر اہم ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی تعلقات کی بحالی مغربی ایشیا اور عالم اسلام پر مثبت اثر ڈالےگی۔

    واضح رہے کہ سعودی عرب اور ایران نے جمعہ کے روز ایک تاریخی معاہدے کا اعلان کیا جس میں سات سال کی کشیدگی کے بعد، چین کی ثالثی میں سفارتی تعلقات بحال کرنے اور سفارتخانے دوبارہ کھولنے پر اتفاق کیا گیا۔

    خلیجی ممالک طویل عرصے سے ایران پر الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ وہ خطے میں خاص طور پر عراق، لبنان، شام اور یمن میں اپنے شیعہ پراکسی نیٹ ورک کی مالی اور فوجی امداد کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں تشدد کے شعلوں کو ہوا دے رہا ہے۔

    سعودی عرب کا”ریاض ایئر” کے نام سے نئی قومی ایئرلائن کے قیام کا اعلان

    یمن 2014 سے ایک میدان جنگ بنا ہوا ہے جہاں دونوں فریقوں کو ایک طرف ریاض اوردوسری طرف تہران کی حمایت حاصل تھی سعودی عرب نے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حمایت کی اور ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے خلاف عسکری طور پر اس کی حمایت کے لیے ایک عرب اتحاد تشکیل دیا۔

    عرب ممالک اور مغربی دنیا طویل عرصے سے اس دعوے پر قائم ہے کہ ایران حوثی ملیشیا کو ہتھیار فراہم کرتا ہے جو کہ سرحد پار سے حملوں کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں اور خاص طور پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو نشانہ بناتے ہیں۔

    سفارتی تعلقات کی بحالی کا مطلب تہران کے ساتھ تمام اختلافات کا خاتمہ نہیں،شہزادہ فیصل

  • ایران کا پاکستان کیساتھ مزید بجلی کے منصوبوں میں اظہار دلچسپی

    ایران کا پاکستان کیساتھ مزید بجلی کے منصوبوں میں اظہار دلچسپی

    اسلام آباد: ایران نے پاکستان کیساتھ مزید بجلی کے منصوبوں میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے-

    باغی ٹی وی : وزیر توانائی خرم دستگیر نے تہران میں اپنے ایرانی ہم منصب علی اکبر محرابیان سے ملاقات کی اورباہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔

    سفارتی تعلقات کی بحالی کا مطلب تہران کے ساتھ تمام اختلافات کا خاتمہ نہیں،شہزادہ فیصل

    اتوار کے روز وفاقی وزیر توانائی تہران میں اپنے ایرانی ہم منصب سے ملاقات کی، ایرانی وزیر نے ایران سے گوادر تک تیز رفتاری سے بجلی درآمد کرنے کے لیے ٹرانسمیشن لائن کی تعمیر پر پاکستان کے حکام کو سراہا، انھوں نے پاکستان کے ساتھ مزید بجلی کے منصوبے شروع کرنے میں بھی دلچسپی ظاہر کی۔

    اس موقع پر خرم دستگیر نے توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اپنے ہم منصب کا شکریہ ادا کیا۔

    دوسری جانب وزارت توانائی کا کہنا ہے کہ واپڈا پن بجلی کے زیر تعمیر منصوبوں کی مرحلہ وار تکمیل سے 2030 تک نیشنل گرڈ میں مزید 10 ہزار میگاواٹ کم لاگت اور ماحول دوست پن بجلی کا اضافہ کرے گا۔

    یو اے ای نے الیکٹرک کمپنی ٹیسلا کی گاڑیوں کو بطور ٹیکسی متعارف کروادیا

    وزارت توانائی کے مطابق پن بجلی کی موجودہ پیداوار، جو تقریباً ساڑھے 9 ہزار میگاواٹ ہے، بڑھ کر دوگنا یعنی کم و بیش 20 ہزار میگاواٹ ہو جائے گی۔ان منصوبوں کے مکمل ہونے پر ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کی مجموعی صلاحیت میں بھی 12ملین ایکڑ فٹ اضافہ ہوگا۔

    واپڈا کے ان زیرتعمیرمنصوبوں میں دیا مر بھاشا ڈیم، داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ، مہمند ڈیم، تربیلا کا پانچواں توسیعی منصوبہ، نائے گاج ڈیم، کرم تنگی ڈیم، کچھی کینال اور کے فور پراجیکٹ قابلِ ذکر ہیں یہ منصوبے 2024 سے 2030کے دوران مرحلہ وار مکمل ہوں گے۔

    سعودی تیل کمپنی آرامکو کو سال 2022 میں ریکارڈ منافع

  • سفارتی تعلقات کی بحالی کا مطلب تہران کے ساتھ تمام اختلافات کا خاتمہ نہیں،شہزادہ فیصل

    سفارتی تعلقات کی بحالی کا مطلب تہران کے ساتھ تمام اختلافات کا خاتمہ نہیں،شہزادہ فیصل

    سعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ ایران اور سعودی عرب کے سفارتی تعلقات 2 ماہ میں بحال ہو جائیں گے۔

    باغی ٹی وی : سعودی میڈیا کوانٹرویو دیتے ہوئے شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ کہ سفارتی تعلقات کی بحالی کا سعودیہ اور ایران معاہدہ مفاہمت کی دونوں ممالک کی مشترکہ خواہشات کی تصدیق کرتا ہے دونوں ممالک رابطے اور بات چیت کے ذریعے اختلافات حل کرنےکے خواہاں ہیں-

    سعودی تیل کمپنی آرامکو کو سال 2022 میں ریکارڈ منافع

    تاہم انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ دونوں ملکوں کے مابین دوسرے تمام اختلافات ختم ہو گئےہیں ایران کی جوہری صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ تشویش کا باعث ہے، خلیجی ممالک، مشرق وسطیٰ کو تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سےپاک کرنےکے مطالبے کو دہراتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ایران جوہری ذمے داریوں کو پورا کرے، ایران بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کےساتھ تعاون بڑھائےچین کے سعودی عرب اور ایران کے ساتھ مثبت تعلقات ہیں چین کی ثالثی میں معاہدہ، مشترکہ سلامتی، تعلقات بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوگا-

    واضح رہے کہ ریاض اور تہران نے گذشتہ جمعہ کو بیجنگ میں 2016ء سے منقطع تعلقات کو دوبارہ شروع کرنے اور دو ماہ کے اندر دونوں سفارتخانے دوبارہ کھولنے پر اتفاق کیا تھا۔

    بھارت میں یورینیم کی چوری اوراسمگلنگ کے بڑھتے واقعات دنیا کیلئے خطرہ ہیں، تجزیہ کار

    سعودی وزیر نے کہا کہ وہ اپنے ایرانی ہم منصب سے جلد ملاقات کے منتظر ہیں ہم اگلے دو ماہ کے دوران باہمی سفارتی تعلقات بحال کرنے کی تیاری کر رہے ہیں اور مستقبل میں سفیروں کا تبادلہ ہمارے لیے معمول کی بات ہے۔

    کیف اور ماسکو کے اپنے حالیہ دورے اور یوکرین روس جنگ کو روکنے کے لیےسعودی ثالثی کے بارے میں گفتگو کے بارے میں شہزادہ فیصل نے تصدیق کی کہ سعودی عرب ایک سیاسی حل تک پہنچنے کے لیے دونوں ممالک کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے۔

    سعودی عرب یوکرین جنگ روکنا اور دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کشیدگی کو روکنے کی ضرورت پر زور دیا جس نے دونوں ممالک اور یورپ کی سلامتی کو نقصان پہنچایا ہے۔

    کاربن ڈائی آکسائیڈ اخراج کرنے والے ممالک کی فہرست جاری

  • ایران روس سے 35 لڑاکا طیارے خریدے گا

    ایران روس سے 35 لڑاکا طیارے خریدے گا

    ایران نے روس سے سخوئی ایس یو 35 لڑاکا طیارے خرید کرنے کے معاہدے کو حتمی شکل دے دی ہے۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا کے مطابق پابندیوں کا شکارایران کی فضائیہ کے پاس اس وقت طیاروں کا ایک پرانابیڑاہے اور وہ اپنے جنگی طیاروں کوفضا میں رکھنے کے لیے فاضل پرزہ جات کے حصول میں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔

    دبئی مسلسل تیسرے سال دنیا کا صاف ترین شہر قرار

    اقوام متحدہ کودیئے گئے ایک بیان میں تہران نے کہا ہے کہ اس نے1980-88 کی ایران عراق جنگ کے تناظرمیں اپنے بیڑے کومکمل کرنے کے لیے لڑاکا طیارے خریدکرنے کے لیے دوسرے ممالک’ سے رابطے شروع کردیئے تھے۔

    ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی’ایرنا‘کی جانب سے جمعہ کوجاری کردہ بیان میں کہاگیا ہے کہ روس نے اکتوبر2020 میں اقوام متحدہ کی قرارداد2231 کے تحت ایران پرروایتی ہتھیاروں کی خریداری پر عائد پابندیوں کی مدت ختم ہونے کے بعدانھیں فروخت کرنے پرآمادگی کا اعلان کیا تھا سخوئی 35 لڑاکا طیارے تکنیکی طورپرایران کے لیے قابل قبول ہیں-

    سعودی پرچم ڈیزائن کرنے والے معروف خطاط انتقال کر گئے

    یوکرین نے تہران پرالزام عائد کیا ہے کہ اس نے گذشتہ سال فروری میں یوکرین پرروس کے حملے کے بعدسے شہری اہداف پر حملوں میں استعمال ہونے والے شہداء-136 "کامیکاز” ڈرون مہیّا کیے ہیں۔

    امریکانےایران اور روس کے درمیان بڑھتے ہوئے فوجی تعاون پرتشویش کااظہار کیا ہے اور پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے دسمبرمیں خبردار کیا تھا کہ روس ایران کو اپنے لڑاکا طیارے فروخت کر سکتا ہے۔

    اس وقت ایران کے پاس زیادہ ترروسی مِگ اور سخوئی لڑاکا طیارے ہیں۔یہ سوویت دور کے ہیں اور ساتھ ہی کچھ چینی ساختہ طیارے بھی ہیں۔ان میں ایف 7 بھی شامل ہے۔1979ء کےانقلاب سے پہلے کے کچھ امریکی ایف -4 اورایف -5 لڑاکا طیارے بھی اس کے بیڑے کا حصہ ہیں۔

    تُونس کے صدر کا شام کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرنے کا ارادہ

  • پاکستان کا سعودی عرب اور ایران کے مابین سفارتی تعلقات معمول پر لانے کا خیر مقدم

    پاکستان کا سعودی عرب اور ایران کے مابین سفارتی تعلقات معمول پر لانے کا خیر مقدم

    پاکستان نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات معمول پر لانے کا خیر مقدم کیا ہے۔

    پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان کی جان سے کہا گیا ہے کہ پاکستان عوامی جمہوریہ چین کی جانب سے سعودی عرب اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان سفارتی تعلقات کو معمول پر لانے کا پرتپاک خیرمقدم کرتا ہے پاکستان کو پختہ یقین ہے کہ یہ اہم سفارتی پیش رفت خطے اور اس سے باہر امن و استحکام میں معاون ثابت ہوگی۔ ہم اس تاریخی معاہدے کو مربوط کرنے میں چین کی دور اندیش قیادت کے کردار کو سراہتے ہیں جو تعمیری اور بامعنی بات چیت کی طاقت کو ظاہر کرتا ہے۔ ہم اس مثبت پیش رفت پر مملکت سعودی عرب اور اسلامی جمہوریہ ایران کی قیادت کو سراہتے ہیں

    ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان دونوں برادر ممالک کے درمیان خلیج کو پر کرنے کے لیے مسلسل تعاون اور ہم آہنگی کی کوششوں کی تاریخ کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ اور خطے میں تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا،امید ہے کہ یہ مثبت قدم علاقائی تعاون اور ہم آہنگی کے لیے ایک راہ کو متعین کرے گا

    عورت مارچ کے انعقاد میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی،پنجاب حکومت
    قانون کی حکمرانی کی بھاشن دینے والے آج عدالتی احکامات کی دھجیاں اڑا رہے ہیں،شرجیل میمن
    میئر کراچی کیلئے مقابلہ دلچسپ، پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی کی نشستیں برابر ہوگئیں
    مکیش امبانی کے ڈرائیورز کی تنخواہ کتنی؟ جان کردنگ رہ جائیں
    سعود ی عرب :بچوں سے زیادتی کے مجرم سمیت 2 ملزمان کو سزائے موت

    واضح رہے کہ اس سے قبل سعودی عرب اور ایران کے درمیان کئی سالوں کی کشیدگی کے بعد سفارتی تعلقات کی بحالی کا معاہدہ طے پا گیا تھا، جس کے تحت دونوں ممالک ایک دوسرے کے ملک میں سفارتخانے کھولیں گے۔ جبکہ عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعے کویہ پیش رفت عوامی جمہوریہ چین کے صدر محترم شی جن پنگ کے شاندار اقدام اور سعودی عرب اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان اچھے تعلقات کے فروغ کے لیے چین کی حمایت کے جواب میں ہوئی ہے۔

  • ایران کے پاس بم گریڈ تک افزودہ یورینیم کے ذرات کی موجودگی کا انکشاف

    ایران کے پاس بم گریڈ تک افزودہ یورینیم کے ذرات کی موجودگی کا انکشاف

    ویانا: ایران کے پاس جوہری بم کی تیاری کے لیے استعمال ہونے والی افزودہ یورینیم موجود ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی:غیر ملکی میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے معائنہ کاروں نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے پاس لگ بھگ بم گریڈ تک افزودہ یورینیم کے ذرات موجود ہیں یہ انکشاف ممکنہ طور پر ایران اور مغرب کے درمیان جوہری پروگرام پر تناؤ میں اوراضافہ کرے گا۔

    ویانا کی بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے)کی جانب سے رکن ممالک کو فراہم کردہ خفیہ سہ ماہی رپورٹ میں اس افزودہ یورینیم کا انکشاف کیا گیا ہے۔

    رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ ایران میں 83 فیصد سے زائد یورینیم کے افزودہ ذرات ملے ہیں تاہم ان کے ماخذ کا ابھی تک تعین نہیں ہوسکا ہے ایران کے پاس موجود یہ یورینیم افزودگی 2015 کی ڈیل میں طے شدہ ہدف سے 18 فیصد زیادہ ہے۔

    دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ ہوسکتا ہے یورینیم افزودگی کے دوران ایسا غیر ارادی طور پر ہوگیا ہو جب کہ اس حوالے سے ایجنسی اور ایران کے اعلیٰ حکام کے درمیان بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 21 جنوری کوانسپکٹروں کو پتاچلا تھاکہ فردومیں آئی آر-6 سینٹری فیوجز کے دوکیس کیڈزکو اس سے مختلف انداز میں ترتیب دیا گیا تھا جس کا پہلے سے اعلان کیا گیا تھا۔معائنہ کاروں نے اس سے اگلے دن نمونے لیے،ان میں افزودہ یورینیم کے 83.7 فی صد تک خالص ذرّات دیکھے گئے تھے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے ایجنسی کو آگاہ کیا ہے کہ منتقلی کے دور میں افزودگی کی سطح میں ‘غیرمتوقع اتارچڑھاؤ’ ہوسکتا ہے۔تاہم ایجنسی اور ایران کے درمیان اس معاملے کی وضاحت کے لیے بات چیت جاری ہے۔

    ایرانی حکام سے فوری طور پر اس رپورٹ کے بارے میں تبصرہ کے لیے رابطہ نہیں کیا جا سکا۔اس کی تفصیل گذشتہ ایک ہفتے سے گردش کررہی تھی۔

    "العربیہ” کے مطابق ایران کے سویلین جوہری پروگرام کے ترجمان بہروز کمال آفندی نے گذشتہ ہفتے یہ کوشش کی تھی کہ اس سطح تک افزودہ یورینیم کے ذرّات کی نشان دہی کی کسی طرح پردہ پوشی کی جاسکے اور اس کو 60 فی صد خالص پیداوار تک پہنچنے کی کوشش کے عارضی ضمنی اثرات کے طور پر پیش کیا جائے۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ جوہری سطح پر بھی مصفا یورینیم میں اتنا بڑا فرق معائنہ کاروں کے نزدیک مشکوک نظر آئے گا۔

    واضح رہے کہ ایران 2015 کے جوہری معاہدے کے تحت یورینیم کو صرف3.67 فی صد تک افزودہ کرسکتا تھا اور یہ حد کسی جوہری پاور پلانٹ کو ایندھن مہیاکرنے کے لیے کافی ہے۔سنہ 2018 میں سابق امریکی صدر ڈولنڈ ٹرمپ کی اس معاہدے سے یک طرفہ دستبرداری کے بعد ایران نے زیادہ اعلیٰ سطح پرافزودہ یورینیم کی تیاری شروع کردی تھی۔

    اس وقت ایران 60 فی صد خالص افزودہ یورینیم تیار کررہا ہے۔اس کے بارے میں جوہری عدم پھیلاؤ کے ماہرین پہلے ہی کَہ چکے ہیں کہ تہران کا کوئی سویلین استعمال نہیں ہے۔84فی صد یورینیم 90 فی صد کی سطح کے قریب ہے۔اس کا مطلب ہے کہ اگر ایران چاہے تو اس مواد کے کسی بھی ذخیرے کو ایٹم بم بنانے کے لیے فوری طور پراستعمال کرسکتا ہے۔

  • اسکول جانے سے روکنےکیلئے لڑکیوں کو زہر دیئے جانے کا انکشاف

    اسکول جانے سے روکنےکیلئے لڑکیوں کو زہر دیئے جانے کا انکشاف

    ایران میں اسکول جانے سے روکنےکیلئے لڑکیوں کو زہر دیئے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا کے مطابق اس بات کا انکشاف ایک ایرانی نائب وزیریونس پناہی نے کیا، جن کا کہنا ہے کہ ایران میں اسکول کی طالبات کو زہر دیا گیا کیونکہ کچھ افراد لڑکیوں کی تعلیم کو روکنا چاہتے ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق دارالحکومت تہران کے جنوب میں واقع وقم میں گزشتہ سال نومبر سے اسکول کی طالبات میں زہر کی وجہ سے سانس لینے کی تکلیف کے سیکڑوں کیسز سامنے آئے جن میں کئی لڑکیوں کو اسپتال میں داخل کرایا گیا۔


    اتوار کو نائب وزیر صحت یونس پناہی نے واضح طور پر تصدیق کی کہ جان بوجھ کر لڑکیوں کو زہر دیا گیا تھایونس پناہی نے کہا کہ کچھ لوگ چاہتے تھے کہ خاص طور پر لڑکیوں کے اسکول بند کردیے جائیں اس لیے طالبات کو زہر دیا گیا۔

    انہوں نے مزید تفصیل نہیں بتائی اور نہ کسی ہلاکت کا معلوم ہوسکا۔رپورٹس میں بتایا گیا کہ ابھی تک لڑکیوں کو زہر دینے کے واقعات کے خلاف کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

    خبر رساں ایجنسی کے مطابق 14 فروری کو کئی بیمار طالبات کے والدین نے حکام سے بچیوں کے بیمار ہونے پر وضاحت طلب کی۔تاہم اگلے دن حکومتی ترجمان علی بہادری نے کہا کہ انٹیلی جنس اور حکام زہر دینے کی وجہ تلاش کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

    گزشتہ ہفتے پراسیکیوٹر جنرل محمد جعفر نے ان واقعات کی عدالتی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

  • ممکنہ جوہری حادثے کی منصوبہ بندی کرلی گئی: روس

    ممکنہ جوہری حادثے کی منصوبہ بندی کرلی گئی: روس

    ماسکو:روسی وزرات دفاع نے اقوام متحدہ کے اجلاس سے قبل ماسکو کو قصوروار قرار دینے کے مقصد سے یوکرین پر اپنی سرزمین پر جوہری حادثے کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق روس کی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایک یورپی ملک سے ریڈیو ایکٹیو مواد یوکرین منتقل کیا گیا ہے اور کیف کی جانب سے اس اشتعال انگیز منصوبے پرعمل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس اشتعال انگیز اقدام کا مقصد یوکرین میں ریڈیو ایکٹیو مواد کی تنصیبات پر حملے کا الزام روس پر عائد کرنا ہے تاکہ اس کے رساؤ اور پورے علاقے کے، اس سے آلودہ ہونے کا ذمہ دار روس کو قرار دے دیا جائے۔

    جنگ یوکرین مختلف شعبوں میں ہونے والی تباہی کے ساتھ تقریبا ایک سال سے جاری ہے جبکہ اس جنگ کو جاری رکھنے کے مقصد سے مغربی ممالک یوکرین کو بڑے پیمانے پر اسلحہ فراہم کر رہے ہیں۔روسی حکام، ماہرین اور مغربی ذرائع ابلاغ اس جنگ کو روس کے خلاف مغرب کی پراکسی وار قرار دیتے ہیں۔

    امریکہ کی سرکردگی میں مغربی مغربی ممالک نے دہشت گردی کے خلاف مہم کے بہانے بہت سی جنگیں شروع کی ہیں جن میں عراق و افغانستان کی جنگ بھی شامل ہے جس میں امریکہ اور اسکے اتحادیوں کو کچھ ہاتھ نہیں لگا اور ممالک تباہی و بربادی کی نذر ہو گئے جبکہ دہشت گردی کو مزید فروغ حاصل ہوا، تاہم اب امریکہ اور یورپ یوکرین کی اسلحے کے ذریعے مدد و حمایت کر کے ایک اور تباہی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔