Baaghi TV

Tag: ایران

  • ٹرمپ کی ایران پر بمباری کی دھمکی،خامنہ ای کا  سخت ردعمل

    ٹرمپ کی ایران پر بمباری کی دھمکی،خامنہ ای کا سخت ردعمل

    تہران: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران پر بمباری کی دھمکی پر ایران کے سپریم لیدر آیت اللہ خامنہ ای کا ردعمل بھی سامنے آ گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر ایران نے جوہری ڈیل نہ کی تو ایران پر بمباری ہو گی، ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا اگر ایران نے ڈیل نہ کی تو ایران پر سخت معاشی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔

    صدر ٹرمپ کی دھمکی پر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے ردعمل میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی دشمنی ہمیشہ سے رہی ہے ، امریکا نے ایسا کوئی اقدام کیا تو اسے سخت جوابی دھچکا پہنچے گا امریکا نے پہلے کی طرح ایران میں بغاوت کا سوچا تو ایرانی عوام خود نمٹ لے گی۔

    بن تیری دید کیسی عید ، تحریر : ملک سلمان

    واضح رہے کہ ایران کو دھمکی دینے سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک خط بھی لکھا تھا جس میں جوہری ڈیل کرنے پر زور دیا گیا تھا، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے لکھے گئے جوابی خط میں کہا گیا تھا کہ ہم امریکا کے ساتھ کسی براہ راست ڈیل میں شامل نہیں ہو سکتے البتہ امریکا کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں۔

    پی ٹی آئی کا ممکنہ احتجاج، اڈیالہ جیل کے اطراف خصوصی سکیورٹی پلان نافذ

  • ایران نے اپنے تیسرے زیرِ زمین میزائل بیس کی ویڈیو جاری کر دی

    ایران نے اپنے تیسرے زیرِ زمین میزائل بیس کی ویڈیو جاری کر دی

    ایران نے اپنا تیسرا زیرِ زمین میزائل بیس دنیا کے سامنے پیش کردیا ہے، جو ملک کی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔

    باغی ٹی وی: ایرانی سرکاری میڈیا کی جانب سے نشر کی گئی 85 سیکنڈ کی ویڈیو میں ایران کے اعلیٰ فوجی افسران، میجر جنرل محمد حسین باقر ی اور آئی آر جی سی ایرو اسپیس فورس کے سربراہ امیر علی حاجی زادہ کو اس خفیہ اڈے کا معائنہ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے اس ہتھیا رو ں کے ذخیرےمیں ایران کےجدید ترین میزائل شامل ہیں جن میں خیبر شکن، قدر-H، سجیل اور پاوہ لینڈ اٹیک کروز میزائل شامل ہیں یہی وہ میزائل ہیں جنہیں حالیہ حملوں میں اسرائیل کے خلاف استعمال کیا گیا تھا۔

    تاہم، ویڈیو میں اس فوجی اڈے کی کمزوری بھی نمایاں ہوئی، کیونکہ تمام ہتھیار طویل، کھلی سرنگوں اور وسیع غاروں میں رکھے گئے ہیں، جہاں نہ تو دھماکوں سے بچاؤ کے دروازے ہیں اور نہ ہی کوئی محفوظ رکاوٹیں موجود ہیں، جو کسی بھی حملے کی صورت میں تباہ کن دھماکوں کا خطرہ بڑھا دیتی ہیں۔

    ایف آئی اے کو ملزم ارمغان سے جیل میں تفتیش کی اجازت

    نومبر 2020 میں ایران نے پہلی بار اپنے زیر زمین فوجی منصوبوں کی نقاب کشائی کی تھی، جب ایک خفیہ بیلسٹک میزائل تنصیب کی ویڈیو سامنے آئی تھی اس تنصیب میں وسیع زیرِ زمین سرنگوں کے ذریعے خودکار ریل سسٹم کے ذریعے میزائل لانچ کے لیے تیار کیے جاتے تھے تین سال بعد، تہران نے ایک اور اسٹریٹیجک مضبوط قلعہ متعارف کروایا، جو زیر زمین ایک وسیع فوجی اڈہ تھا، جہاں جنگی طیار و ں کو محفوظ رکھنے کا انتظام کیا گیا تھا۔

    یہ ویڈیو ایسے وقت میں جاری کی گئی ہے جب امریکہ نے ایران پر دباؤ بڑھا دیا ہے صدر ٹرمپ نے ایران کو متنبہ کیا ہے کہ اگر وہ اپنے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنے، یورینیم افزودگی روکنے اور میزائل پروگرام ترک کرنے پر راضی نہ ہوا، تو اسے سخت پابندیو ں اور ممکنہ فوجی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    پہلی بیوی کو فسخ نکاح کا حق دینا غیر اسلامی قرار

    ایران نے ان مطالبات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اپنے جوہری پروگرام کو قومی سلامتی اور خطے میں طاقت کے توازن کے لیے ناگزیر قرار دیا ہے ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اگر وہ اپنے میزائل اور جوہری صلاحیتوں سے دستبردار ہو گئے، تو ملک کو بیرونی خطرات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے گا۔

    امریکی دباؤ کے جواب میں ایران نے اپنی عسکری تنصیبات کو مزید مضبوط کرنے کا عمل تیز کر دیا ہے۔

    دوسری جانب، امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں اپنی عسکری طاقت میں اضافہ کرتے ہوئے دو طیارہ بردار جنگی بیڑے خطے میں تعینات کر دیے ہیں، تاکہ ایران کو اپنے مطالبات منوانے کے لیے ممکنہ فوجی کارروائی کا اشارہ دیا جا سکے۔

    شاہ رخ خان کا بچپن میں غربت دیکھنے کا انکشاف

    صدر ٹرمپ نے حال ہی میں ایران کی قیادت کو خط لکھ کر جوہری پروگرام پر مذاکرات کی پیشکش کی، تاہم ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اس پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے امریکہ کو ”غنڈہ گرد ملک“ قرار دیا۔

  • ایران میں بے حجاب خواتین کی تلاش کیلئے ڈرونز اور ایپس کا استعمال

    ایران میں بے حجاب خواتین کی تلاش کیلئے ڈرونز اور ایپس کا استعمال

    ایران نے خواتین پر حجاب کے قوانین کو نافذ کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھاتے ہوئے ڈرونز اور ایپس کا سہارا لے لیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ میں ایران کی ٹیکنالوجی پر بڑھتی ہوئی انحصار کی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جس سے خواتین کے رویے کو نگرانی اور کنٹرول کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ایران نے خواتین پر حجاب کے قوانین کو نافذ کرنے کے لیے اقدامات میں نمایاں اضافہ کیا ہے اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ان خواتین پر نظر رکھنا اور انہیں سزا دینا شروع کر دیا ہے جو اس سخت لباس کے ضوابط کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔کریک ڈاؤن کے مرکزی حصے میں ”نازر“ نامی موبائل ایپلیکیشن ہے، جو حکومت کی حمایت یافتہ ایک ایسا ٹول ہے جس کے ذریعے شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خواتین کی حجاب قانون کی خلاف ورزی کی اطلاع دینے کا اختیار دیا گیا ہے۔

    یہ ایپ صارفین کو اہم معلومات جیسے گاڑی کی نمبر پلیٹ، مقام اور وقت اپ لوڈ کرنے کی سہولت فراہم کرتی ہے، جسے آن لائن گاڑیوں کو ”فلیگ“ کرنے اور حکام کو مطلع کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ ایپ گاڑی کے رجسٹرڈ مالک کو ٹیکسٹ پیغام بھیجتی ہے، جس میں خلاف ورزی کی اطلاع دی جاتی ہے اور انہیں وارننگ دی جاتی ہے کہ اگر انہوں نے وارننگ کو نظرانداز کیا تو ان کی گاڑی ضبط کر لی جائے گی۔یہ مداخلت کرنے والی نگرانی کا نظام ایمبولینسوں، ٹیکسیوں اور عوامی نقل و حمل میں خواتین کو ہدف بنانے کے لیے بھی بڑھا دیا گیا ہے، جس سے ان کی آزادی اور خود مختاری مزید متاثر ہو رہی ہے۔

    ”نازر“ ایپ کے علاوہ ایرانی حکام نے تہران اور جنوبی ایران میں عوامی مقامات کی نگرانی کے لیے فضائی ڈرونز بھی تعینات کیے ہیں تاکہ حجاب کی پابندی کو نافذ کیا جا سکے۔تہران کی امیرکبیر یونیورسٹی کے داخلی دروازے پر چہرے کی شناخت کا سافٹ ویئر بھی نصب کیا گیا ہے تاکہ خواتین طالبات کی نگرانی اور ان کے سخت لباس کے ضوابط کی پابندی کو یقینی بنایا جا سکے۔

    اقوام متحدہ کی رپورٹ نے ایران کے نظامی حقوقِ انسانی کی خلاف ورزیوں اور انسانیت کے خلاف جرائم کی سخت مذمت کی ہے، خاص طور پر اس کے اختلاف رائے کو دبانے اور خواتین و لڑکیوں کو نشانہ بنانا قابل مذمت ہے۔رپورٹ میں ایران کے لازمی حجاب قانون کے تباہ کن اثرات کو اجاگر کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے وسیع پیمانے پر احتجاج ہوئے اور سینکڑوں افراد کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

    امریکی ریاستوں میں طوفان سےتباہی، 16 افراد ہلاک
    امریکی پابندیاں،سونے کی قیمت میں ہزاروں روپے کا اضافہ

    کراچی میں ہوٹل سے خاتون کی برہنہ لاش برآمد،قاتل شوہر فرار

    ویرات کوہلی کا ٹی20 سے ریٹائرمنٹ واپس لینے کا اشارہ

  • کیا واقعی ایران میں خونی بارش برسی؟

    کیا واقعی ایران میں خونی بارش برسی؟

    تہران: ایران میں حال ہی میں ہونے والی بارش کا ایک حیرت انگیز قدرتی واقعہ پیش آیا-

    باغی ٹی وی: ایران میں موسلا دھار بارش کے بعد ساحل کے سرخ ہونے کی ویڈیوز دیکھ کر ناظرین متجسس ہیں اور شاید قدرے خوفزدہ بھی، بہت سے لوگ اسے "خون کی بارش” کے طور پر شناخت کررہے ہیں جبکہ دوسرے اس غیر معمولی نظارے سے متاثر ہیں۔

    انسٹاگرام پر شیئر کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بارش کا پانی زمین سے سرخ مٹی کو ساحل پر منتقل کررہا ہے جس کی وجہ سے ایک شاندار اور حقیقی منظر پیدا ہوتا ہےجب مٹی سمندر کے ساتھ گھل مل جاتی ہے تو پانی ایک روشن سرخ رنگ کا ہو جاتا ہے۔

    ویڈیو پر فارسی میں کیپشن لکھا ہے جس میں کہا گیا کہ کہ ہرمز کی مشہور ریڈ بیچ پر تیز بارش شروع ہو گئی ہے اور سیاح محظوظ ہورہے ہیں۔

    بیٹے کی شادی پر مرے ہوئے باپ کی شرکت،ویڈیو

    اس واقعے کی وائرل ہونے والی متعدد ویڈیوز نے سوشل میڈیا پر وسیع ردعمل کو جنم دیا اور صارفین نے اس حیرت انگیز نظارے پر اپنے خیالات کا اظہار کیا،ایک صارف نے لکھا، "خدا کی شان ہے، کیا خوبصورتی ہے، بے شک، خدا دونوں جہانوں کا بہترین مصور ہے۔

    امریکا کا جنوبی افریقہ کے سفیر کو ملک بدر کرنے کا اعلان

  • جعفر ایکسپریس حملہ، امریکا، چین، روس، ایران، ترکیہ اور یورپی یونین کی شدید مذمت

    جعفر ایکسپریس حملہ، امریکا، چین، روس، ایران، ترکیہ اور یورپی یونین کی شدید مذمت

    دنیا بھر سے جعفر ایکسپریس ٹرین پر حملے کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے، امریکا، چین، ایران، ترکیہ، روس کے بعد یورپی یونین نے بھی دہشت گردی کے واقعے کی مذمت کی ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق امریکا نے ٹرین دہشت گردی اور مسافروں کو یرغمال بنانے کی مذمت کی ہے، ترجمان امریکی سفارتخانے کا کہنا تھا کہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں، اس حملے کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے۔امریکی سفارتخانے کا مزید کہنا تھا کہ بی ایل اے کو امریکا نے عالمی دہشت گرد گروپ قرار دیا ہوا ہے، امریکا متاثرہ افراد سے گہری ہمدردی و تعزیت کا اظہار کرتا ہے۔

    چین نے بھی جعفر ایکسپریس پر دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشت گردی سے نمٹنے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے پاکستان کی بھرپور حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ترجمان چینی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ چین کسی بھی شکل میں دہشت گردی کی سختی سے مخالفت کرتا ہے، پاکستان کے ساتھ انسداد دہشتگردی اور سیکیورٹی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے تیار ہیں۔

    روس کی جانب سے بھی دہشت گرد حملے کی مذمت کی گئی ہے، پاکستان میں روس کے سفارت خانے نے جاری بیان میں کہا کہ وحشیانہ حملے کی شدید مذمت کرتےہیں۔یورپی یونین کی سفیر ریناکونیکا نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر واقعے کی مذمت کی ہے۔سفیر یورپی یونین ریناکونیکا کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں دہشت گرد حملے کی مذمت کرتے ہیں، پاکستان کے عوام اور متاثرین کے اہلخانہ سے تعزیت کرتے ہیں۔

    دریں اثنا، پاکستان میں فرانسیسی سفارتخانے نے بھی ٹرین پر دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فرانسیسی سفارتخانہ دہشت گردی کے حملے کی مذمت کرتا ہے۔فرانسیسی سفارتخانے کا کہنا تھا کہ متاثرین اور اہلخانہ کے ساتھ گہری ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں، مزید کہا کہ ہم پاکستانی عوام کے ساتھ بھرپور اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز (11 مارچ) دہشت گردوں نے بولان پاک کے علاقے میں ریلوے ٹریک کو دھماکے سے اڑایا، اور جعفر ایکسپریس پر حملہ کر کے 400 سے زائد مسافروں کو یرغمال بنایا۔اگرچہ دور دراز علاقے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا تھا، سیکیورٹی فورسز نے بتایا تھا کہ انہوں نے ڈھاڈر کے علاقے میں بولان پاس میں یرغمالیوں کو بچانے کے لیے ایک بڑے آپریشن کا کیا تھا، جس میں گزشتہ رات تک کم از کم 16 حملہ آور ہلاک کیے جاچکے تھے۔

    آج پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ جعفر ایکسپریس کے یرغمالی مسافر بازیاب ہوگئے اور تمام 33 دہشتگرد ہلاک کردیے گیا، تاہم آپریشن شروع ہونے سے پہلے دہشت گردوں نے 21شہریوں کو شہید کیا۔

    جعفر ایکسپریس حملہ آپریشن مکمل، 33 دہشتگرد جہنم واصل، 21 مسافر، 4 ایف سی جوان شہید

  • ایران کی بلوچستان میں جعفر ایکسپریس پر حملے کی مذمت

    ایران کی بلوچستان میں جعفر ایکسپریس پر حملے کی مذمت

    ایران کی جانب سے بلوچستان میں کوئٹہ سے پشاور جانے والی ٹرین جعفر ایکسپریس پر نامعلوم دہشت گردوں کی جانب سے حملے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ایرانی سفارتخانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ تہران مسافروں کے خلاف دہشت گرد کارروائی کی سختی سے مذمت کرتا ہے، شہریوں کے خلاف پر تشدد اقدامات بزدلانہ جرم ہیں۔ایرانی سفارتخانے کے ترجمان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں بچوں، خواتین اور بزرگوں سمیت معصوم شہریوں کو یرغمال بنایا گیا، شہریوں کے خلاف پرتشدد اقدامات اور اہم مواصلاتی نظام کو متاثر کرنا انسانیت کے خلاف بزدلانہ جرم ہے۔

    واضح رہے کہ بلوچستان میں جعفر ایکسپریس پر شدت پسندوں کے حملے کے بعد سیکیورٹی فورسز کا کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔سیکیورٹی فورسز نے اب تک 80 یرغمالیوں کو رہا کروادیا بلوچستان کے ریلوے حکام نے تصدیق کی ہے کہ رہائی پانے والے 80 یرغمالی پانیر سے کوئٹہ کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ دہشت گردوں نے جعفر ایکسپریس کو ٹنل میں روک کر مسافروں کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔

    جعفر ایکسپریس حملہ، 104 مسافرباحفاظت باز یاب، 16دہشت گرد ہلاک

    یوکرین نے امریکی عارضی جنگ بندی کی تجویز قبول کر لی

    ٹرین حملے پر آپریشن ہورہا ،بیان بازی سے گریز کرنا چاہئے، رانا ثناء اللہ

    یوکرین نے امریکی عارضی جنگ بندی کی تجویز قبول کر لی

  • ایران نے 11 لاکھ افغان مہاجرین کو ملک بدر کر دیا

    ایران نے 11 لاکھ افغان مہاجرین کو ملک بدر کر دیا

    تہران: ایران نے 11 لاکھ افغان مہاجرین کو ملک بدر کر دیا اور مزید مہاجرین کو پناہ دینے سے معذرت کر لی-

    باغی ٹی وی: ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی کے مطابق ملک میں افغان مہاجرین کے لیے مزید جگہ نہیں ہے، اس لیے حکومت نے سخت اقدامات کرتے ہوئے سرحدوں کی نگرانی مزید بڑھا دی ہے تاکہ غیر قانونی نقل و حرکت کو روکا جا سکے۔

    ایران کے کوہگیلوئے اور بویر احمد صوبے کے ڈپٹی گورنر برائے سیکیورٹی و سیاسی امور، فتح محمدی نے ایرانی خبر رساں ادارے ”آئی آر آئی بی“ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مہاجرین کی نگرانی کی جا رہی ہے اور انہیں فوری طور پر ملک بدر کیا جا رہا ہے، تاہم انہوں نے ان ممالک کے نام نہیں بتائے جہاں سے یہ افراد ایران میں داخل ہو رہے ہیں۔

    ڈیرہ غازی خان : میڈیسن اسکینڈل،حکومتی یوٹرن، دباؤ یا پردہ پوشی؟ اصل مجرم کون؟

    ایرانی میڈیا ماضی میں طالبان جنگجوؤں کے ایران میں داخل ہونے پر تشویش کا اظہار کر چکا ہے۔ ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی کے مطابق ایران نے رواں ایرانی سال کے آغاز سے اب تک تقریباً 11 لاکھ افغان مہاجرین کو ملک بدر کیا، تاہم ان میں سے تقریباً نصف واپس ایران میں داخل ہو چکے ہیں۔

    ایک ٹی وی انٹرویو میں مومنی نے کہا کہ ایران مزید افغان مہاجرین کو پناہ دینے کی صلاحیت نہیں رکھتا اور سرحدوں پر کنٹرول سخت کیا جا رہا ہے تاکہ مزید افراد کی آمد کو روکا جا سکے۔

    تہران کے گورنر کے مطابق، ایرانی حکام نے رواں شمسی سال میں اب تک 2.5 لاکھ افغان مہاجرین کو حراست میں لیا ہے اور ان افراد کو ملازمت اور رہائش فراہم کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

    محمدی نے مزید بتایا کہ کوہگیلوئے اور بویر احمد صوبے سے گزشتہ دو سالوں میں 5,000 افغان مہاجرین کو ملک بدر کیا گیا جبکہ اب بھی 11,250 افغان مہاجرین اس صوبے میں موجود ہیں، جن کی بے دخلی کا عمل جاری ہے۔

    ادھر، البرز صوبے کے گورنر مجتبی عبداللہی کے مطابق، اس صوبے سے اب تک ایک لاکھ افغان مہاجرین کو بے دخل کیا جا چکا ہے، جس سے یہ ملک میں غیر قانونی مہاجرین کو نکالنے والا سب سے بڑا خطہ بن گیا ہے۔

    محمدی نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ کچھ افغان شہری ایرانی خواتین سے شادی کر کے رہائشی حیثیت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ بعض افراد جعلی شناختوں کا استعمال بھی کر رہے ہیں کیونکہ ان کی شادیاں قانونی طور پر رجسٹرڈ نہیں ہوتیں۔ انہوں نے اس مسئلے کو ثقافتی آگاہی اور قانونی اقدامات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا۔

    ایران اور پاکستان گزشتہ دو سالوں سے ان افغان مہاجرین کو ملک بدر کر رہے ہیں جن کے پاس قانونی دستاویزات نہیں ہیں، اور اس پالیسی کے باعث لاکھوں افغان شہری اپنے ملک واپس جانے پر مجبور ہوئے ہیں۔

    ایرانی حکومت غیر قانونی مہاجرین کو گرفتار اور ملک بدر کرنے کے ساتھ ساتھ ان کاروباری اداروں اور افراد کے خلاف بھی کارروائی کر رہی ہے جو افغان مہاجرین کو ملازمت یا رہائش فراہم کرتے ہیں۔ حکام کے مطابق غیر قانونی مہاجرین کو کام پر رکھنے والی کمپنیوں کو بند کیا جا رہا ہے، اور اس حوالے سے قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جا رہی ہے۔

    اقوام متحدہ کے مطابق، ایران تقریباً 40 لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے، جس سے یہ افغان مہاجرین کے لیے سب سے بڑے میزبان ممالک میں شامل ہے۔ تاہم، ایران طویل عرصے سے غیر قانونی مہاجرین کی تعداد میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتا آ رہا ہے، کیونکہ یہ ملکی معیشت پر بوجھ اور سیکیورٹی کے خدشات میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔

    افغانستان میں طالبان حکومت نے ایران اور پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ افغان مہاجرین کی واپسی کو زبردستی کے بجائے ایک منظم طریقے سے انجام دیا جائے۔

    گزشتہ روز پاکستانی وزارت داخلہ نے بھی تمام افغان سِٹیزن کارڈ ہولڈرز کو 31 مارچ تک ملک چھوڑنے کی ہدایت جاری کی تھی، وزارت داخلہ کے مطابق 31 مارچ کے بعد غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور یکم اپریل سے ملک بدر کرنے کا عمل شروع ہوگا۔

    ایران اور پاکستان میں افغان مہاجرین کے خلاف سخت پالیسیوں کے بعد لاکھوں افغان شہری بے یقینی کی صورتحال کا شکار ہو گئے ہیں۔

    دوسری جانب خیبرپختونخوا میں عوام کی جانب سے افغان مہاجرین کے انخلا کے حکومتی فیصلے کا خیرمقدم کیا جا رہا ہے شہریوں کا کہنا ہے کہ پاکستان نے کئی دہائیوں تک افغان مہاجرین کی میزبانی کی اور ان کا بھرپور خیال رکھا، لیکن حالیہ دہشت گردی کے واقعات میں افغا ن مہاجرین کے ملوث ہونے کے بعد حکومت کا انخلا کا فیصلہ درست اور بروقت ہے۔

    شہریوں نے کہا کہ ملک میں دہشت گردی اور دیگر جرائم کے تانے بانے افغانستان سے جڑتے ہیں، اور کئی دہشت گردی کے واقعات میں افغان باشندے ملوث پائے گئے ہیں عوام نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر انخلاء کے عمل کو مکمل کرے تاکہ ملک میں امن و امان بحال ہو سکے۔

    خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں شہریوں نے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ افغان مہاجرین کی واپسی کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئے گی افغانستان سے آنے والے عناصر نہتے پاکستانیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، اور اب وقت آ چکا ہے کہ ان کے انخلا کو یقینی بنایا جائے۔

    عوام نے حکومت پاکستان سے اپیل کی کہ افغان مہاجرین کی واپسی کے عمل میں تیزی لائی جائے تاکہ ملک کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کیا جا سکے۔

    پاکستان نے 2023 کے آخر میں غیر قانونی غیر ملکیوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا تھا، جس کے بعد اب تک 8.25 لاکھ افغان شہری پاکستان چھوڑ چکے ہیں اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق ان میں سے تقریباً 40,000 افراد کو ملک بدر کیا گیا ہے۔

    دوسری طرف، ایران نے اقتصادی وجوہات کی بنا پر 2022 سے 2024 کے درمیان 18 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کو ملک بدر کیا ہے، جبکہ گزشتہ ستمبر میں اعلان کیا تھا کہ وہ 2025 کے مارچ تک مزید 20 لاکھ افراد کو بے دخل کرے گا۔

    طالبان حکام نے ایران اور پاکستان سے اپیل کی ہے کہ وہ افغان مہاجرین کی واپسی کے عمل کو دھیرے دھیرے مکمل کریں اور اس معاملے پر سہ فریقی مذاکرات کے لیے وقت دیا جائے۔

  • ٹرمپ کا جوہری معاہدے پرمذاکرات کا خط نہیں ملا،ایران

    ٹرمپ کا جوہری معاہدے پرمذاکرات کا خط نہیں ملا،ایران

    ایران کا کہنا ہے کہ اسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا جوہری معاہدے پر مذاکرات کے لیے کوئی خط موصول نہیں ہوا

    ایران نے واضح کیا ہے کہ اسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جوہری پروگرام پر مذاکرات کے حوالے سے کوئی خط موصول نہیں ہوا ہے اور موجودہ حالات میں امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات ممکن نہیں۔غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز کہا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے حوالے سے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لیے انہوں نے ایرانی قیادت کو ایک خط لکھا ہے۔رپورٹس کے مطابق، ٹرمپ نے خط میں ایرانی قیادت سے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ایران مذاکرات کے لیے تیار ہوگا کیونکہ یہ ان کے ملک کے مفاد میں ہوگا۔

    ایران نے امریکی صدر کی جانب سے بھیجے گئے کسی بھی خط کے موصول ہونے کی تردید کی ہے۔الجزیرہ کے مطابق، ایران کے سفارت خانے کے ترجمان نے کہا کہ انہیں امریکی صدر کی جانب سے ایسا کوئی خط موصول نہیں ہوا۔ اسی طرح، ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے دفتر نے بھی کسی خط کی تصدیق نہیں کی۔ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراغچی نے اس حوالے سے کہا کہ جب تک امریکا ایران پر سخت اقتصادی پابندیاں برقرار رکھے گا، تب تک ایران جوہری معاہدے پر کوئی مذاکرات نہیں کرے گا۔ایرانی وزیر خارجہ نے فرانسیسی خبررساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب تک امریکا "زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی اور دھمکیاں جاری رکھے گا، ایران کسی بھی قسم کے براہ راست مذاکرات میں شامل نہیں ہوگا۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے امریکا نے ایران پر متعدد اقتصادی پابندیاں عائد کی ہیں، جن میں ایرانی تیل کے نیٹ ورک پر عائد سخت پابندیاں بھی شامل ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران سے نمٹنے کے دو طریقے ہیں، ایک عسکری کارروائی اور دوسرا مذاکرات کے ذریعے معاہدہ کرنا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایران سے جنگ نہیں چاہتے اور مذاکرات کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ ایران کے عوام اچھے لوگ ہیں۔وائٹ ہاؤس نے بھی ٹرمپ کے بیان کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایران کی قیادت کو جوہری معاہدے پر مذاکرات کے لیے خط بھیجا ہے۔ تاہم، ایران کی جانب سے مسلسل اس خط کی وصولی کی تردید کی جا رہی ہے۔

  • ایرانی صدر کے مشیر  اپنے عہدے سے مستعفی

    ایرانی صدر کے مشیر اپنے عہدے سے مستعفی

    تہران: ایرانی صدر کے مشیر برائے تزویراتی امور محمد جواد ظریف اتوار کو اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے۔

    باغی ٹی وی :”العربیہ” کے مطابق محمد جواد ظریف کا استعفیٰ 2 مارچ کو اقتصادی و مالی امور کے وزیر عبدالناصر ہمتی سے پوچھ گچھ کے بعد سامنے آیا،اس سے قبل بعض ذرائع کی جانب سے خبر سامنے آئی تھیں کہ ظریف پر استعفیٰ دینے کا دباؤ ڈالا جا رہا ہے ان میں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف شام ہیں جنہوں نے ظریف کی برطرفی کے بجائے استعفے کی تجویز دی۔

    مخالفین کے نزدیک ایرانی صدر کے مشیر برائے تزویراتی امور کے طور پر ظریف کا تقرر غیر قانونی تھا اس لیے کہ ان کے دو بیٹے امریکی شہریت رکھتے ہیں اس معاملے نے حالیہ ہفتوں کے دوران میں میڈیا اور اپوزیشن حلقوں کے بیچ وسیع تنازع پیدا کر دیا تھا۔

    رمضان المبارک کی آمد پروینا ملک کا نیا کلام جاری

    محمد جواد ظریف اس سے قبل حسن روحانی کی حکومت (2013 سے 2021) میں بطور وزیر خارجہ فرائض انجام دے چکے ہیں وہ ان مذاکرات کی اہم ترین شخصیات میں سے ہیں جن کے نتیجے 14 جولائی 2015 کو ایران اور بڑی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدے پر دستخط ہوئے ظریف ایران اس معاہدے کے منصوبہ ساز قرار دیئے جاتے ہیں، سال 2024 میں ہونے والے آخری صدارتی انتخابات میں ظریف ، مسعود پزشکیان کے حمایتی رہے انہوں نے موجودہ صدر کے لیے اصلاح پسندوں اور اعتدال پسندوں کی تائید حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

    اداکارہ ریشم کی فٹنس کا راز کیا؟

  • ایران کا دارالحکومت تہران  سے منتقل کرنے کا فیصلہ

    ایران کا دارالحکومت تہران سے منتقل کرنے کا فیصلہ

    ایران کو اپنے دارالحکومت تہران میں سنگین مسائل کا سامنا ہے، جن میں شدید ٹریفک جام اور زمین دھنسنے جیسے خطرات شامل ہیں، جس کے باعث ایران اپنے دارالحکومت کو کسی اور جگہ منتقل کرنے پر غور کر رہا ہے۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق سن 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے مختلف مواقع پر سامنے آتا رہا ہے لیکن بھاری مالی اور انتظامی چیلنجوں کے باعث ان تجاویز کو بارہا غیر عملی قرار دے کر مؤخر کر دیا گیا۔تاہم اصلاح پسند صدر مسعود پزشکیاں ، جنہوں نے جولائی میں عہدہ سنبھالا، نے حال ہی میں اس تجویز کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تہران کو درپیش بڑھتے ہوئے مسائل کے پیش نظر دارالحکومت کی منتقلی پر غور ضروری ہو گیا ہے۔

    تہران کو، جن سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، ان میں شدید ٹریفک جام، پانی کی قلت، وسائل کا ناقص انتظام، بدترین فضائی آلودگی اور زمین کا بتدریج دھنسنا شامل ہیں، جو یا تو قدرتی عوامل کی وجہ سے یا انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں پیش آ رہے ہیں۔جنوری میں، ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مهاجرانی نے تصدیق کی کہ حکام دارالحکومت کی ممکنہ منتقلی کا جائزہ لے رہے ہیں اور مکران کے علاقے پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔ تاہم انہوں نے اس حوالے سے کسی حتمی ٹائم لائن کا نہیں بتایا۔