لاہور:ایرانی قونصل جنرل محمد رضا ناظری کی ماڈل ٹاﺅن میں شہباز شریف کی رہائشگاہ پر ملاقات ،اطلاعات کے مطابق ایرانی قونصل جنرل محمد رضا ناظری کی ماڈل ٹاﺅن میں شہباز شریف کی رہائشگاہ پر ملاقات کی ہے اور اہم معاملات پرگفتگو بھی کی ہے
ادھر پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس موقع پر شہبازشریف نے ایرانی وفد کا پرتپاک استقبال کیا اور ساتھ ہی شہبازشریف کی ایرانی وفد کےلیے نیک خواہشات کا اظہارکیا
ایرانی قونصل جنرل رضانذیری نے شہبازشریف سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ مجھے آپ کے پاس آنے میں تاخیر ہوئی لیکن آج ملاقات پر بے حد خوشی محسوس ہورہی ہے:ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مجھے پاکستان میں آئے ابھی 20دن ہوئے تھے کہ بیگم کلثوم نواز صاحبہ کا انتقال ہوا تھا:
ایرانی قونصل جنرل رضا ناظری نے اس موقع پر مزید کہاکہ میں جاتی امراءمیں میاں نوازشریف کے پاس انکی زوجہ کے انتقال پر اظہار افسوس کرنے گیا تھا: یہ ہماری روایات ہیں جن کے تحت ہم گزشتہ کئی صدیوں سے قائم دائم چلتے آرہے ہیں:
شہبازشریف نے اس موقع پر کہا کہ ہم آپکے اور ایرانی قوم کے شکر گزار ہیں :شہبازشریف نے کہ ایران کا دورہ مجھے آج بھی یاد ہے :میں ایران میں مشہد کے دورے پر صفائی سے بہت متاثر ہوا تھا
شہبازشریف نے کہا کہ میں نے مشہد کی صفائی کے متعلق وہاں کے افسران سے تفصیلی بریفنگ بھی لی تھی:ہم نے پاکستان اور ایران کے درمیان باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کےلیے لاہور میں باہمی اشتراک سے جدید طرز پر مذبحہ خانہ قائم کیا ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ پاک ایران دوستی کا ثبوت ہے
ایران کے سفیر کی وزیر ریلوے سے ملاقات
وفاقی وزیر ریلوے اعظم خان سواتی سے پاکستان میں تعینات ایران کے سفیر سید محمد علی نے وزارت ریلوے میں ملاقات کی ۔
ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے تعلقات اور ریلوے پروجیکٹس کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی ۔ پاکستان اور ایران کے درمیان تمام شعبوں میں تعلقات میں مزید بہتری پید ا ہو رہی ہے۔
ایران کے سفیر نے کہا پاکستان اور ایران کی دو ستی لازاول ہے ایران اور پاکستان کے درمیان اخوت اور محبت کے رشتہ بہت مضبوط ہیں،وفاقی وزیر ریلوے اعظم خان سواتی کا کہنا تھا کہ
پا کستان ریلویز مستقل طور پر ملکی اور بین لاقوامی سپلائرز کے ساتھ طویل مدتی معاہدوں کے ذریعے اپنے کسٹمرز کو بہتر بنانے میں کوشاں ہے۔ایرانی سرمایہ کاروں کو فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان اور ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات کو بہتر بنانے خواہاں ہے۔
ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے دو طرفہ معاملات کے امور اور ریلوے کے حوالے سے بھی زیر بحث آئے ۔دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعاون جاری رکھنے اور اسے وسعت دینے پر بھی اتفاق کیا ملاقات کے میں چئیر مین ریلوے حبیب الرحمٰن گیلانی۔ ڈی جی پلا ننگ ودیگر شامل تھے
قبل ازیں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان مختلف مذاہب ثقافتوں اور تہذیبوں کے درمیان امن وآشتی اور ہم آہنگی کے فروغ کے لئے اپنی تمام کوششیں بروئے کار لانے کے لئے پرعزم ہے۔ مغرب اظہار رائے کی آزادی کے غلط استعمال کی حوصلہ افزائی نہ کرے،اسلام امن کا دین ہے جو تشدد وانتہا پسندی کو قبول نہیں کرتا مختلف تہذیبوں کے گہوارے کے طور پر پاکستان،مختلف ثقافتوں کا ایک حسین امتزاج ہے انتہا پسندی، بالادست نظریات، تنازعات اور دیرینہ جھگڑوں سے تقسیم درتقسیم کا شکار آج کی دنیا میں بین المذاہب ہم آہنگی نے نہایت کلیدی اہمیت اور خاص حیثیت حاصل کرلی ہے شرانگیز پراپیگنڈے کے باوجود دنیا میں یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ اسلام امن کا دین ہے جو تشدد وانتہا پسندی کو قبول نہیں کرتا اور نہ ہی اس کے فروغ یا حوصلہ افزائی کی ترغیب دیتا ہے۔ اسلام نسلی برتری کے نظریات اور رنگ ونسل کی بنیاد پر امتیازات کو سختی سے مسترد کرتا ہے
گرین شیٹ اور لائٹس سے مزین یہ روم اسٹوڈیو کہلاتا ہے. بالی ووڈ سے لے کر نیوز چینلز اور حتیٰ کہ یوٹیوب چینلز تک سبھی اس کو حسب اسطاعت استعمال کرتے ہیں. یہاں تک کہ بالی ووڈ کی کئی اقساط پر مشتمل سیریز اور موویز اس ایک کمرے میں بنتی ہیں. ان گرین ، بلیو یا دیگر شیٹس کو بنیادی طور پر کروما شیٹس کہا جاتا ہے اور ویڈیو ریکارڈ کرنے کے بعد ایڈیٹنگ میں اس کروما کو کٹ کرکے رنگ بھرنگے ساکن اور متحرک بیک گراؤنڈز وغیرہ سیٹ کیے جاتے ہیں. جن کرداروں کو حقیقت سے ہٹ کر دکھانا ہو تو ان کو بھی ان کروما شیٹس میں کچھ اسطرح سے کیمرے کے سامنے لایا جاتا جس میں بعد از ایڈیٹنگ ان کی ہیئت ہمیں عجیب و غریب دکھتی ہے.
آپ بھی کہتے ہوں گے کہ عبداللہ نے یہ کیا بتانا شروع کردیا اور کوئی ان چیزوں کا ماہر مجھ سے ہزار درجہ بہتر یہ ساری چیزیں بیان کرے گا لیکن آج آفس میں اسٹوڈیو کی تصویر بنائی تو میرے ذہن میں بھی کوئی بات نہیں تھی بس فوٹو گرافی کی عادت کے تحت تصویر بنا لی لیکن ابھی سوشل میڈیا پر اور اس سے قبل بھی اکثر اوقات اپنے سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کو مختلف حادثات و واقعات میں کنفیوز اور پھر اسی کنفیوزن میں مختلف تبصرے اور تجزیئے کرتے دیکھتے ہیں تو ہنسی بھی آتی اور دکھ بھی ہوتا کہ ہم لوگ کب سطحیت سے نکل کر بین السطور دیکھنا شروع کریں گے. ہم کب اس بات پر غور کریں گے دنیا کے اس اسٹوڈیو میں ہدایت کار کیسے مختلف واقعات کو کروما شیٹس پر سیٹ کرتے ہیں اور پھر ہمارے سامنے چیزیں آتی ہیں تو بالکل بدلی ہوئی اور ہم اسی کو حقیقت سمجھ رہے ہوتے ہیں( جیسے ارطغرل ڈرامے اور اردگان کی تقاریر کو ہمارا جذباتی نوجوان عمران خان کی تقاریر کی طرح سریئس لے کر جذباتی ہوجاتا ہے).
حالیہ ایران و امریکہ تنازعے میں اور اس سے قبل کی شام و عراق کی بربادیوں کیفیت بھی ایسی ہی ہے. اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ جس طرح اردگان بہت اچھا لیڈر ہے مگر صرف ترکی کے لیے ترکی سے باہر دیگر مسلم ممالک اور اقوام کے لیے وہ دوسروں سے کم نہیں ہے جو فقط اپنے مفادات دیکھتے ہیں ایسے ہی اس بات میں بھی ذرہ برابر شک نہیں کہ ایران کے آنجہانی جنرل قاسم سلیمانی کی خدمات بے پناہ ہیں اس کی قابلیت اور لیاقت ایسی کہ ملڑی اکیڈمیز میں پڑھائی جائے لیکن اس کا سارا کچھ ایران کے لیے تھا امت مسلمہ کے لیے نہیں البتہ شام و عراق کے کھنڈرات میں بہت بڑا کردار اس جنرل قاسم سلیمانی اور اس کی تیار کردہ فورسز کا بھی ہے.
میں نے دن میں بھی یہ بات کی تھی کہ مڈل ایسٹ میں پکی ہوئی کچھڑی کے معاملات کو آپ فقط فیسبک کی دو چار پوسٹس سے نہیں سمجھ سکتے اور جب سمجھ ہی نہیں سکتے تو ان پر تبصرہ کیسے کر سکتے ہیں کہ وہاں کے ٹوٹل کردار تو کروما شیٹس کے پیچھے چھپے ہوئے اور آپ کے سامنے اصل حیثیت میں موجود ہی نہیں ہے. فقط شام کو لیں تو شام میں ایران، روس، ترکی، امریکہ، داعش، فری سیرین آرمی و دیگر گروپس براہ راست موجود تھے اسکے علاوہ دیگر ممالک کے سپانسرڈ گروپس کی تعداد بیسیوں سے متجاوز تھی اور یہ سب کردار باہم دست و گریباں تھے اور ہیں. آپ جب تک ان سب کے مفادات، آپس کے تعلقات، آپس کی دشمنیوں کو نہیں سمجھتے تب تک آپ کیا سمجھیں گے.
لہذا اپنے دوستوں کو کہوں گا کہ ہر موضوع اور ہر موقعہ پر تبصرے اور تجزیئے دینا ضروری نہیں ہے بلکہ حالات اور کرداروں کو پڑھنا اور سمجھنا چاہیے اور ان کے پیچھے چھپی حقیقت کو بھی تلاشنا چاہیے یہ نہ ہوکہ موویز اور ڈراموں کی طرح عالمی ہدایت کاروں کے اسٹیج کردہ یہ فکشن اور خون سے بھری یہ رئیل اسٹوریز میں مختلف لوگوں کا کردار آپ کو دھوکہ دے دے اور کوئی ولن آپ کی نظر میں ہیرو ٹھہر جائے.
انتہائی ضروری نوٹ: یہ چند الفاظ میں نے انتہائی حد تک غیر جانبدار ہوکر لکھے ہیں میرے لیے بہت آسان تھا کہ جذباتی ہوکر الفاظ کا نوحہ لکھوں، شام و عراق میں شہید ہونے والے امت مسلمہ کے جواہرات کا ماتم لکھوں اور لوگوں کو بتاؤں آپ جن کو ہیروز سمجھتے ہیں ان کے کردار کی وجہ سے کتنے لاکھوں مسلمان بچے، عورتیں، بوڑھے شہید ہوئے اور کروڑوں آج جانوروں سے بدتر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں. Muhammad Abdullah
ایران کے توسیع پسندانہ عزائم کی وجہ سے خطہ عدم استحکام کا شکار ہوا، ایران کی توسیع پسندی کی یہ خواہش خود ایران کیلئے خطرناک ثابت ہوگی. ان خیالات کا اظہار کنگ سلمان نے ایک تقریب سے گفتگو کے دوران کیا.
ان کا کہنا تھا کہ تیل کی ترسیل سے متعلق پالیسی کا مقصد خطے میں تیل کی سپلائی کو محفوظ بنانا ہے. وژن 2030 سعودیہ کیلئے مزید ترقی کا زریعہ ثابت ہوگا. انہوں نے کہا کہ ہم مسئلہ فلسطین پر اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ ہیں، اور انکے قدم سے قدم ملا کر کھڑے رہیں گے.
انہوں نے کہا کہ سعودیہ پر 286 میزائل جبکہ 289 ڈرون حملے ہوئے ہیں. جنکی بڑی وجہ ایران کے توسیع پسندانہ عزائم ہیں. انکا کہنا تھا کہ ایران کے یہ عزائم سعودیہ کی سلامتی کیلئے بڑا خطرہ ہیں. ایران کو متنبہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کو یہ یاد رکھنا چاہئے جو وہ بوئے گا وہی کاٹے گا.انکا مزید کہنا تھا کہ امن ہماری خواہش ہے لیکن اگر کوئی ہماری خود مختاری کو چیلنج کرے گا تو اسکے لیے ہم کسی بھی حد سے گریز نہیں کریں گے.
تہران :نئی آئل فیلڈ دریافت، جس میں 53 ارب بیرل خام تیل موجود ہے۔تفصیلات کے مطابق ایران کے مجموعی طور پر تصدیق شدہ تیل کے ذخائر 150 ارب بیرل ہیں جبکہ ایران میں مزید ایک نئی آئل فیلڈ دریافت ہوئی ہے جو کل تیل کا ایک تہائی حصّہ ہے۔
ذرائع کے مطابق مغربی صوبے خوزستان میں واقع ہے جس کا رقبہ 2400 مربع کلومیٹر ہے۔واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جوہری تنازعہ کے باعث امریکا کی جانب سے ایران پر اقتصادی پابندیاں عائد ہیں جس کی وجہ سے ایران کو عالمی منڈی میں تیل فروخت کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
صدر حسن روحانی نے ایران کے شہر یزد میں خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ تیل کا یہ ذخیرہ زمین میں 80 میٹر کی گہرائی پر ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک بڑی آئل فیلڈ ہے جو بوستان سے اومیدیاہ تک 2400 مربع کلومیٹر تک پھیلی ہوئی ہے۔ اھواز میں ایران کی سب سے بڑی آئل فیلڈ 65 ارب بیرل کی ہے جس کے بعد یہ دوسری بڑی آئل فیلڈ ہوسکتی ہے۔خیال رہے کہ اھواز بھی ایران کے مغربی صوبے خوزستان میں واقع ہے۔
ایران تیل پیدا کرنے والے دنیا کے بڑے ممالک میں شامل ہے جو سالانہ اربوں ڈالر کا تیل برآمد کرتا ہے اور ایران کے تیل کے ذخائر دنیا میں چوتھے نمبر پر ہیں جبکہ خلیج میں ایک بڑی آئل فیلڈ ایران اور قطر کے درمیان مشترک ہے۔اِس آئل فیلڈ سے تیل نکالنے کی شرح میں صرف ایک فیصد اضافے سے ایران کو تیل سے حاصل ہونے والی آمدن 32 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔
تہران :ترقی اور تحقیق کے میدان میں ایران ایک قدم اور آگے،6 نئی دواؤں کی رونمائی نے یہ ثابت کردیا ہےکہ ایران بھی طب انسانی کے میدان میں خود کفیل ہوچکا ہے، یہی وجہ ہےکہ اب ایران میں چھے نئی دواؤں کی وسیع پیمانے پر پیداوار شروع کردی گئی ہے۔
ذرائع کےمطابق ایران میں جن نئی دواؤں کی پروڈکشن لائن کا آغاز کردیا گیا ہے ان میں سے ایک دوا گلورنتا ہے جو شوگر لیول کنٹرول کرنے کے لئے تیار کی گئی ۔ شوگر کی دیگر دواؤں کے مقابلے میں اس دوا کی تاثیر زیادہ ہے ۔ یہ دوا شوگر لیول کم کرنے کے ساتھ ہی قلب پر دائبیٹیز کے اثرات کو بھی کم کرتی ہے۔
“عنوان: دہشتگردی کا دوسرا نام RSS—————آرزوئے سحر——–از–انشال راؤ” لاک ہے
ایرانی میڈیا کے مطابق دو دوائیں، جیومائیڈ اور نورا بیکس ایم ایس کے علاج کے لئے تیار کی گئی ہیں ۔ اس کے علاوہ تین دوائیں کینسر کے علاج کے لئے تیار کی گئی ہیں جن کے نام نیوراپا، برٹیگا اور لوٹیوا ہیں ۔ یہ دوائیں کیموتھراپی کی جگہ استعمال ہوتی ہیں اور کینسر کے مریضوں پر اس کے آفٹر افکیٹس بہت کم ہوتے ہیں ۔
ذرائع کےمطابق طب کے میدان میں کامیابی کا سفر طئے کرتے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران میں دواسازی میں یہ پیشرفت ایسی حالت میں حاصل ہوئی ہے کہ امریکا نے ایران کے خلاف ظالمانہ پابندیاں سخت ترکر دی ہیں ، دوسری طرف ایرانی وزارت صحت نے اس بات کی امید کا اظہار کیا ہےکہ کہ بہت جلد اور بھی ادویات پیش کردی جائیںگی
ریاض : سعودی عرب اور ایران کشیدگی انتہا کو پہچ گئی ، اطلاعات کےمطابق سعودی وزیر خارجہ امور عادل الجبیر نے کا کہنا تھا کہ اگر تحقیق میں تصدیق ہوجائے کہ حملوں کا ذمہ دار ایران ہے تو ریاض مناسب قدم لے گا۔
سعودی عرب میں میزائل حملوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سعودی وزیرخارجہ عادل الجبیر کا کہنا تھا کہ ‘سعودی عرب اپنی سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے تحقیق کی بنیاد پر مناسب اقدامات کرے گا’۔
دوسری طرف صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘ہمیں یقین ہے کہ یہ حملہ یمن سے نہیں ہوا یہ شمال سے آیا تھا تاہم تفتیش اس کو ثابت کرے گی’لیکن پھر بھی سعودی عرب اس سازش کا کرداروں کو ہر صورت ننگا کرے گا تاکہ حرمین کے خلاف سازشی عناصر کو سزا دی جا سکے
تہران :ایران کے دشمن یاد رکھیں کہ انہوں نے ذرا بھی غلطی کی تو منہ توڑ جواب دیںگے ، ایران کی بری فوج کے کمانڈر نے کہا ہے کہ ملک کی مسلح افواج جارحیت کی صورت میں دشمن کو منھ توڑ جواب دیں گی۔بریگیڈیئر جنرل کیومرث حیدری کا کہنا تھا کہ پچھلے عشروں کے دوران دشمن نے متعدد بار علاقے میں قدم رکھنے کی کوشش کی لیکن ایران کی مسلح افواج کی طاقت اور تسلط نے دشمن کو قدم جمانے کا موقع نہیں دیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کی بری فوج کے کمانڈر نے ایرانی عوام کے خلاف ظالمانہ اقتصادی پابندیوں کو عالمی سامراجی طاقتوں کی اسلامی نظام سے دشمنی کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دشمن کو اس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
تہران سے ذرائع کےمطابق بریگیڈیئر جنرل کیومرث حیدری نے خبردار کیا کہ اگر ایرانی بحری جہازوں کو دنیا بھر میں کہیں بھی روکا گیا تو تہران جوابی اقدم سےگریز نہیں کرے گااور دشمن کی گستاخی کا اسی شدت کے ساتھ جواب دیا جائےگا۔
سفارتکاری کسی بھی ملک و قوم کے لیے انتہائی ضروری ہوتی ہے بالخصوص دور جدید میں تو اس کی ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ جب آپ کی معاشی، سیاسی، سماجی، ٹیکنالوجی اور عسکری ترقی کا دارو مدار ہی آپ کے بین الاقوامی دوستوں اور تعلقات پر ہو، مستزاد یہ کہ آپ کے حریف ممالک اور اقوام جب آپ کے خلاف کاؤنٹر سفارتکاری شروع کردیں تو معاملہ اور بھی گھمبیر ہوجاتا ہے پھر آپ "Do or Die” کی پوزیشن میں آجاتے ہیں. بدقسمتی سے وطن عزیز پاکستان کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ پیش آتا رہا ہے کہ ہماری سفارکاری انتہائی کمزور رہی ہے، ہماری خارجہ پالیسی مستقل بنیادوں پر نہیں بلکہ عارضی اور ہنگامی بنیادوں پر ترتیب پاتی رہی ہے.
یہاں تک کہ پچھلے دور حکومت کے چار پانچ سالوں میں تو ملک کا وزیرخارجہ ہی نہیں تھا جس کی وجہ سے پاکستان کو خارجہ سطح پر شدید ترین نقصان سے دوچار ہونا پڑا دوسری طرف بھارت کے وزیراعظم نریندرا مودی نے دنیا بھر کے سفارتی دورے کیے اور دوسرے ممالک کے سربراہان کو اپنے ملک میں دعوت دے دے کر بلاتا رہا جس کا نقصان ہمیں یہ اٹھانا پڑا کہ پاکستان کے بارے میں عام تاثر یہ پیدا ہوگیا کہ یہ دہشت گردوں کے چنگل میں پھنسی ہوئی ایک ناکام ریاست ہے جس کے ایٹمی اثاثے تک بھی محفوظ نہیں ہیں. اسی طرح پاکستان کا آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف کے چنگل میں بری طرح سے جکڑا جانا بھی اسی ناکام ترین سفارت کاری اور کمزور خارجہ پالیسی کا ہی نتیجہ تھیں.
سابقہ حکومت کی اس بے توجہی کی اک بڑی مثال اس وقت سامنے آئی جب کشمیر ایشو پر لابنگ کرنے کے لیے کچھ پارلیمینٹرینز کو دنیا بھر میں بھیجا گیا تو ان میں سے اکثریت وہ تھی جو کشمیر اور کشمیر کے بارے میں وہ بنیادی معلومات سے بھی نابلد تھے جو بچے بچے کو پتا ہوتی ہیں یہی وجہ تھی ہمارے اس رویے کو دیکھتے ہوئے ہمارے قریب ترین ممالک بھی ہمارے ایشوز مثلاً کشمیر وغیرہ پر ہمارا ساتھ دینا چھوڑ گئے.حالات یہاں تک پہنچ گئے کہ یہ واضح طور پر سمجھا جانے لگا کہ پاکستان کو سفارتی محاذ اور بین الاقوامی سطح پر "تنہا” کردیا گیا ہے.
لیکن صد شکر کہ جب موجودہ حکومت قائم ہوئی تو کچھ امید بندھتی نظر آئی کہ اب حالات بدلیں گے اور واقعی بین الاقوامی سطح پر حالات بدلے. بہت سارے لوگ اس کو عمران خان کی خوشقسمتی قرار دیتے ہیں جبکہ میں سمجھتا ہوں کہ خوشقسمتی کے ساتھ ساتھ عمران خان کی محنت اور اس کی سنجیدگی کا بہت بڑا کردار ہے. جب عمران خان کی حکومت بنی ملک کی ابتر معاشی اور سیاسی صورتحال دیکھ کر تو یہی سمجھا جا رہا تھا کہ پاکستان کے تعلقات سعودیہ، چائنہ اور ترکی وغیرہ سے ناہموار ہوجائیں گے لیکن عمران خان نے اپنی حکومت قائم ہونے کے کچھ ہی عرصہ بعد سعودیہ کا دورہ کیا اور یہ سلسلہ صرف ایک دورے پر موقوف نہیں کیا بلکہ یکے بعد دیگرے تین دورے کیے جن میں شاہ سلمان، محمد بن سلمان، سیکرٹری جنرل OIC وغیرہ سے ملاقاتیں کیں، پاکستان کی ابتر معاشی صورتحال کو سہارا دینے کے لیے سعودیہ سے معاشی مدد، تین سال تک تین ارب ڈالر کا ادھار تیل حاصل کیا. علاوہ ازیں محمد بن سلمان کے پاکستان کے غیر معمولی دورے پر محمد بن سلمان کا خود کو سعودیہ میں پاکستان کا سفیر کہنا اور پاکستانی قیدیوں کی رہائی کے احکامات جاری کرنا عمران خان کی واضح ترین کامیابی تھی.
اسی طرح سی پیک پر کام رک جانے کی وجہ سے یہ سمجھا جا رہا تھا کہ پاکستان کے چین سے تعلقات خراب ہوجائیں گے جس کا بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو شدید نقصان اٹھانا پڑ سکتا تھا لیکن عمران خان نے چین کے دو دورے کیے اگرچہ پہلا دورہ کوئی واضح کامیاب تو نظر نہ آیا اور پاکستان میں سے ایک طبقے نے اس پر شدید تنقید بھی مگر یہ دورہ بھی نہایت اہمیت کا حامل ثابت ہوا کہ تحفظات دور کیے گئے اور دوسرے دورے میں جب عمران خان چینی صدر کی دعوت پر سیکنڈ بیلٹ روڈ فورم میں شرکت کے لیے گئے اور عالمی رہنماؤں کے ساتھ بین الاقوامی نمائش کا دورہ کیا. اس موقع پر عمران خان نے عالمی رہنماؤں سمیت ورلڈ بینک کے سی ای او، آئی ایم ایف کی مینجنگ ڈائریکٹر سے ملاقاتیں بھی ہوئیں. اسی موقع پر چین کے ساتھ ایل این جی، آزاد تجارت سمیت چودہ معاہدوں پر دستخط ہوئے.
متحدہ عرب امارات اور قطر وغیرہ بھی پاکستان کے لیے علاقائی اور معاشی معاملات میں نہایت اہمیت کے حامل ہیں عمران خان نے متعدد بار ان ممالک کے بھی مختصر اور باقاعدہ دورے کیے، ان کے سربراہان سے ملاقاتیں کیں اور ان ممالک کے پاکستان کے ساتھ معاشی و سیاسی تعلقات کے لیے اپنی صلاحیتوں کو استعمال کیا. جس کی وجہ سے ان ممالک کے ساتھ مختلف معاہدے ہوئے جن میں ایل این جی، توانائی، پاکستانی شہریوں کو روزگار، دو طرفہ تعلقات، تجارت وغیرہ کے قابل ذکر معاہدے شامل ہیں.
جہاں پاکستان کے ان خلیج کے ممالک سے تعلقات بہتر ہوئے اور پاکستان کی معیشت کو سہارا ملا وہیں عمران خان نے ایران، ترکی اور ملائیشیا کے نہایت اہم دورے بھی کیے جن میں دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا گیا، پاک ایران بارڈر مینجمنٹ، بجلی و توانائی کے منصوبے، کشمیر و فلسطین پر پاکستان کے موقف کی حمایت، NSG نیوکلیئر سپلائرز گروپ اور ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کی حمایت جن کا پاکستان کو خاطر خواہ فائدہ ہوا. ملائشیا کے سربراہ مہاتیر محمد پاکستان کے دورہ پر بھی تشریف لائے اور یوم پاکستان کی تقریبات میں بھی شرکت کی.
عمران خان کا حالیہ دور امریکہ جس پر ساری دنیا کی نظریں لگی ہوئی تھیں کیونکہ سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے بعد سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات معمول پر نہیں آسکے تھے اور امریکہ کا پلڑا بھاری تھا اور سمجھا یہی جا رہا تھا کہ عمران خان کا یہ دورہ بھی بھی معمول کی ڈکٹیشن ثابت ہوگا جو پاکستان کے مفاد میں زیادہ بہتر ثابت نہیں ہوگا لیکن عمران خان کی سنجیدگی ، اس کی شخصیت کا اثر کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور عمران خان اور پاکستانیوں کی تعریف کرتے رہے. واشنگٹن میں عمران خان کا تاریخی جلسہ بھی غیر معمولی ثابت ہوا جس پر دنیا بھر تجزیہ نگار اپنے اپنے انداز میں تبصرہ کر رہے ہیں. علاوہ ازیں پاک امریکہ تعلقات میں اہم بریک تھرو اس وقت دیکھنے کو ملا جب ٹرمپ نے کشمیر ایشو پر پاکستان کو ثالثی کی پیشکش کردی جس کو لے کر انڈیا میں صف ماتم بچھ گئی اور انڈین میڈیا یہ کہنا شروع ہوگیا کہ ٹرمپ نے انڈیا پر کشمیر بم پھینک دیا ہے. سابقہ حکمرانوں کے برعکس عمران خان امریکہ کا دورہ کرتے ہوئے نہایت براعتماد اور سنجیدہ نظر آئے جس کی وجہ سے پاکستان اس دورے سے اپنے مقاصد پورے کرنے میں کافی حد تک کامیاب ہوگیا.
عمران خان نے نہ صرف عالمی سطح پر بلکہ علاقائی سطح پر بھی بہترین سفارتکاری کا مظاہرہ کیا مشہور سکھ رہنما نوجود سنگھ سدھو کی پاکستان آمد، کرتار پور کوریڈور ، مودی کو خط اور کشمیر ایشو پر عالمی برادری کی توجہ حاصل کرنے میں کافی حد تک کامیاب رہے جس کی وجہ سے پچھلے سالوں کی وجہ سے ایک بہت بڑا خلا جو پیدا ہوچکا تھا وہ عمران خان کی ایک سال کی سفارتکاری کی وجہ سے پر ہوتا نظر آرہا ہے اور امید بندھ رہی ہے کہ پاکستان ان شاءاللہ جلد عالمی سطح پر اپنا کھویا ہوا وقار حاصل کرلے گا. Muhammad Abdullah
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو ہتھیار بیچنے سے متعلق کانگریس میں پاس کی جانے والی قراردادوں کو ویٹو کر دیا ہے
قرارداد کا متن تھا کہ امریکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو ہتھار بیچنے سے باز رہے تا کہ خطے میں امن و ترقی کا بول بالا ہو، کانگریس کی جانب سے پاس کردہ قراردادوں پر امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو نے کہا ہے کہ خلیجی ممالک کو ہتھیار بیچنے کا مقصد ایران کی طرف سے کی جانے والی کسی قسم کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کیلئے تیاری کرنا ہے
مائک پومپیو نے مزید کہا کہ امریکہ نے اگر اب اپنے خلیجی اتحادیوں کا ساتھ نہ دیا تو یہ بڑی ناانصافی ہوگی اور اس سے یہ تاثر جائے گا کہ امریکہ مشکل وقت میں اپنے اتحادیوں کا ساتھ چھوڑ دیتا ہے
امریکہ دنیا میں سب سے زیادہ ہتھیار بیچنے والا ملک ہے، ایک ایسا ترقی یافتہ ملک ہے جس کی آمدن کا 70 فیصد انحصار ہتھیاروں کی فروخت پر ہے جس میں لوکی ہیڈ مارٹن اور بوئنگ جیسی نامور کمپنیاں پوری دنیا میں اربوں ڈالر کے ہتھار برآمد کرتی ہیں، ایک بار پھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس کے ممبران کی طرف سے لائے جانے والی قرارداد کو رد کرنے کیلئے ویٹو کر دیا ہے،