Baaghi TV

Tag: این ڈی ایم اے

  • لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ، پیشگی الرٹ جاری

    لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ، پیشگی الرٹ جاری

    این ڈی ایم اے نے ملک کے مختلف علاقوں کیلئے لینڈ سلائیڈنگ کا پیشگی الرٹ جاری کردیا ہے۔

    این ڈی ایم اے کی جانب سے آئندہ 2روز تک متوقع بارش اور برفباری کے باعث لینڈ سلائیڈنگ کا الرٹ جاری کیا گیا ہے ،جس میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے پہاڑی علاقوں میں ممکنہ لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے، 26 سے 27 جنوری کے پی ،گلگت بلتستان اور آزاد کشمیرکے پہاڑی علاقوں میں بھی لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے،دیر، سوات، کالام، کاغان، چترال، کوہستان، شانگلہ ، ایبٹ آ باداور مانسہرہ میں لینڈ سلائیڈ نگ کا خطرہ ظاہر کیا گیا ہے۔مری، گلیات، استور، سکردو، گلگت، ہنزہ، غزر، شگر، باغ، مظفرآباد میں بھی لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔

    ترجمان این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے متعدد اضلاع میں بھی بارش اور برفباری کے باعث لینڈ سلائیڈ نگ کا خدشہ ہے،کوئٹہ، زیارت،پشین، چمن،قلعہ عبداللہ، نوشکی ،ہرنائی، اور ژوب میں لینڈ سلائیڈ نگ کا خطرہ ہےقلعہ سیف اللہ، قلات، مستونگ، آواران، پنجگوراور خضدار میں بھی لینڈ سلائیڈ نگ کا خطرہ ہے،قراقرم ہائی وے اور بابوسر روڈ پر لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ٹریفک روانی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

    کاغان ناران رابطہ سڑک پر بھی لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ٹریفک روانی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے پہاڑی علاقوں میں برفباری اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث سڑکوں پر ٹریفک کی روانی متا ثر ہونے کا خدشہ ہےعوام برفباری اور بارش کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں،سڑکوں کی بندش کی صور ت میں ملبہ ہٹانے والی مشینری اور ریسپانس ٹیموں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

  • بارشوں کی پیشگوئی، این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیا

    بارشوں کی پیشگوئی، این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیا

    محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ ہفتے کے وسط سے ملک کے بیشتر علاقوں میں وقفے وقفے سے بارش اور برفباری کا نیا سلسلہ شروع ہونے کا امکان ہےیہ سلسلہ 16 جنوری سے ملک کے بالائی علاقوں میں داخل ہوگا اور 19 جنوری تک جاری رہنے کی توقع ہے۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ ایک کمزور مغربی ہواؤں کا سسٹم ملک میں داخل ہوگا، جس کی شدت 20 جنوری سے بڑھنے کا امکان ہے، جبکہ 21 جنوری سے یہ موسمی نظام ملک کے بیشتر حصوں کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔

    16 تا 19 جنوری کے دوران گلگت بلتستان کے علاقوں دیامر، استور، غذر، اسکردو، ہنزہ، گلگت، گانچھے اور شگر میں بارش اور برفباری متوقع ہےاسی طرح آزاد کشمیر کے علاقوں نیلم ویلی، مظفرآباد، پونچھ، ہٹیاں بالا، باغ اور حویلی جبکہ بالائی خیبر پختونخوا کے اضلاع چترال، دیر، مانسہرہ، ایبٹ آباد، کوہستان، سوات، کالام، شانگلہ، اپر اور لوئر دیر میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش اور ہلکی سے درمیانی برفباری کا امکان ہے۔

    بارشوں کی پیشگوئی، این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیا

    18 تا 20 جنوری کے دوران مری، گلیات اور گردونواح میں بھی ہلکی بارش اور برفباری متوقع ہے 20 تا 23 جنوری کے دوران گلگت بلتستان، آزاد کشمیر، مری، گلیات، اسلام آباد، لاہور، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، فیصل آباد، ملتان، سرگودھا، بہاولپور، مالاکنڈ ڈویژن کے اضلاع اور پشاور، مردان، کوہاٹ، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن میں بیشتر مقامات پر وقفے وقفے سے تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق 20 جنوری (رات) سے 23 جنوری کے دوران چترال، دیر، شانگلہ، کوہستان، سوات، کالام، مری، گلیات، وادیٔ نیلم، باغ، حویلی اور راولا کوٹ میں درمیانی سے شدید برفباری کا بھی امکان ہے، جس کے باعث سردی کی شدت میں اضافہ اور بالائی علاقوں میں سفری مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

    معروف اینکر پرسن اقرار الحسن سید نے اپنی سیاسی جماعت کا اعلان کردیا

    دوسری جانب شدید موسمی صورتحال کے بارے میں این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیا ہےاین ڈی ایم اے کے نیشنل ایمر جنسیز آپریشن سینٹر نے گلگت بلتستان، بالائی خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں ممکنہ شدید سردی کی لہر کا الرٹ جاری کیا ہےآئندہ دنوں میں جنوری کے آخر تک رات اور صبح کے اوقات میں شدید سرد موسم کی توقع ہے، بالائی علاقوں میں درمیانے سے شدید درجے کی برفباری کا امکان ہے، رابطہ سڑکیں، ٹرانسپورٹ اور بجلی کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔

    این ڈی ایم اے نے الرٹ میں کہا ہے کہ پہاڑی علاقوں میں ممکنہ برفباری کے باعث برفانی تودے گرنے اور پھسلن کے خطرات میں اضافہ ہو سکتا ہے، عوام سے احتیاط کرنے کی اپیل کی گئی ہےشدید سردی اور برفباری بچوں، بزرگوں اور بیمار افراد کی صحت کو متاثر کر سکتی ہے، احتیاطی تدابیر اپنائیں۔

    الرٹ میں کہا گیا ہے کہ میدانی علاقوں میں سرد و خشک موسم اور بعض مقامات پر کورا/ پالا پڑنے کا امکان ہے، فصلوں اور باغات کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ پہاڑی علاقوں میں غیر ضروری سفر سے گریز اور برفباری والے علاقوں میں گاڑی کے ٹائروں پر حفاظتی زنجیر کے استعمال کی ہدایت کی گئی ہے شدید سرد موسم کے دوران گرم کپڑوں اور ہیٹر کا محفوظ استعمال کریں، بچوں، بزرگوں اور بیمار افراد کا خصوصی خیال رکھیں۔

    چاند پر ہوٹل کےمنصوبے کی افتتاحی تقریب سامنے آ گئی

    صوبائی اداروں اور ضلعی اتنظامیہ کو پہاڑی علاقوں میں ممکنہ برفباری کے پیش نظر پیشگی اقدامات اور ضروری مشینری کی دستیابی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہےسیاحتی مقامات پر دستیاب وسائل بالخصوص رہائشی مقامات کی دستیابی کو مد نظر رکھتے ہوئے آمد رفت کے لیے اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی۔

    موسم سے متعلق مستند معلومات کے لئے ٹی وی، ریڈیو، تصدیق شدہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ موبائل ایپ سے راہنمائی حاصل کریں،این ڈی ایم اے نے تمام ممکنہ خطرات اور موسمی صورتحال کے حوالے سے متعلقہ اداروں کو پیشگی آگاہی اور ضروری اقدامات کے لئے ہدایات جاری کر دی ہیں۔

    چین نے امریکی و اسرائیلی سائبر سیکیورٹی سافٹ ویئر پر پابندی عائد کر دی

  • دریائے سندھ اور کابل کے بالائی علاقوں میں بارش کا امکان

    دریائے سندھ اور کابل کے بالائی علاقوں میں بارش کا امکان

    دریائے سندھ اور کابل کے بالائی علاقوں سمیت راولپنڈی اور اسلام آباد میں اگلے 24گھنٹوں کے دوران بارش کا امکان ہے۔

    این ڈی ایم اے کے نیشنل ایمر جنسیز آپریشن سینٹر نے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ اور مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال کے حوالے تفصیلات جاری کر دیں،کوٹری بیراج پر حالیہ تقریباً 4 لاکھ کیوسک بہاؤ کے ساتھ درمیانے درجے کا سیلاب ہے اور کوٹری پر ستمبر کے آخر تک صورتحال برقرار رہنے کی توقع ہے۔

    گڈو اور سکھر بیراج پر بہاؤ میں بتدریج کمی ہو رہی جبکہ معمول کے مطابق بہاؤ موجود رہے گا،دریائے راوی میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر بہاؤ میں کمی کا رجحان ہے جبکہ سلیمانکی اور اسلام بیراج پر نچلے درجے کا سیلاب ہے،دریاؤں میں موجودہ بہاؤ کے باعث بھی متعدد مقامات پر نشیبی علاقوں کے زیر آب آنے کا خطرہ ہے۔

    غیر قانونی ٹریول ایجنسی چلانے والا ملزم گرفتار

    دریائے ستلج گنڈا سنگھ والا پر 56 ہزار اور سلیمانکی پر 81 ہزار کیوسک ہے۔‎دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر 37ہزار،خانکی ہیڈ ورکس پر پنتیس ہزار جبکہ قادر آباد کےمقام پر 17 ہزارکیوسک ہے ‎دریائےراوی جسڑ پر 6 ہزار، شاہدرہ پر 5 ہزار ،‎بلوکی ہیڈ ورکس پر 25 ہزار اور ہیڈسدھنائی کے مقام پر پانی کا بہاؤ 24 ہزار کیوسک ہے ‎ہیڈ تریموں کے مقام پر پانی کا بہاؤ 28ہزار اور ‎پنجند کےمقام پر 95ہزارکیوسک ہے،جبکہ ڈیرہ غازی خان کی رود کوہیوں میں پانی کا بہاؤ ختم ہو گیا ہے،متاثرہ علاقوں میں بحالی کے اقدامات جاری ہیں۔

    امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کی بات چیت ’بند گلی‘ ہے، خامنہ ای

    این ڈی ایم اے کا این ای او سی تمام صورتحال کی ہمہ وقت نگرانی کر رہا ہے، تمام متعلقہ اداروں کی ممکنہ صورتحال کے حوالے سے ضروری ہدایات باہم پہنچائی جا رہی ہے،عوام خطرے سے دوچار علاقوں میں سفر سے گریز کریں، سیلابی ریلوں کو کراس کرنے سے گریز کریں، امدادی کیمپوں میں موجود لوگ اپنے علاقوں میں واپسی کے لیے متعلقہ اداروں کی ہدایات کا انتظار کریں۔

  • این ڈی ایم اے کا اربن فلڈنگ الرٹ، متاثرہ علاقوں میں خطرہ

    این ڈی ایم اے کا اربن فلڈنگ الرٹ، متاثرہ علاقوں میں خطرہ

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے آئندہ 2 سے 6 گھنٹوں میں اسلام آباد اور پنجاب کے شمالی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا الرٹ جاری کر دیا۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق مری، گلیات، اسلام آباد، راولپنڈی، اٹک، چکوال اور جہلم سمیت گردونواح میں شدید بارشوں کے باعث شہری سیلاب کا خطرہ ہے۔گزشتہ روز شدید گرمی کے نتیجے میں ٹاورنگ کومولس بادلوں کا سسٹم بنا جس سے گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارش اور بجلی گرنے کا امکان ہے۔این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے جبکہ طوفانی بارشوں سے کمزور انفراسٹرکچر کو نقصان اور بجلی کی بندش بھی ہو سکتی ہے۔

    شہریوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ درختوں اور کمزور عمارتوں سے دور رہیں، گاڑیاں محفوظ مقامات پر پارک کریں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔

    غزہ: اسرائیل کا 10 لاکھ شہریوں کو انخلا کا حکم، بڑے پیمانے پر کارروائی کا آغاز

    کراچی: کیش وین سے 2 کروڑ 32 لاکھ روپے لوٹ لیے گئے

    غزہ میں اسرائیلی حملوں میں تیزی، مزید 40 فلسطینی شہید

    ایشیا کپ 2025ء: ٹیموں کے کپتان دبئی میں پریس کانفرنس کریں گے

  • جنوبی پنجاب میں بارشوں کا الرٹ، این ڈی ایم اے کی وارننگ جاری

    جنوبی پنجاب میں بارشوں کا الرٹ، این ڈی ایم اے کی وارننگ جاری

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے جنوبی پنجاب کے مختلف علاقوں میں گرج چمک اور تیز ہوا کے ساتھ بارش کا الرٹ جاری کیا ہے۔

    الرٹ کے مطابق بہاولپور، بہاولنگر، احمد پور شرقیہ، لیاقت پور، ظاہر پیر اور راجن پور میں شدید بارش کا امکان ہے، جبکہ ملتان، مظفر گڑھ، ڈیرہ غازی خان، رحیم یار خان اور صادق آباد میں بھی تیز بارش متوقع ہے۔این ڈی ایم اے نے خبردار کیا کہ اگلے 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران بارش اور طوفانی ہوائیں وقفے وقفے سے جاری رہیں گی، جس سے پہاڑی اور ندی نالے بپھرنے کے ساتھ لینڈ سلائیڈنگ کا بھی خدشہ ہے۔

    جنوبی پنجاب میں سیلاب، معیشت اور زندگی کی بقا کا امتحان

    پنجاب حکومت ،سیلاب متاثرین کے لیے بجلی بلز اور ٹیکسز میں رعایت کا اعلان

    پاکستان کی اہلِ فلسطین کو غزہ سے بے دخل کرنے کی دھمکیوں کی مذمت

  • دریائے سندھ میں شدید سیلاب کا خطرہ،  الرٹ جاری

    دریائے سندھ میں شدید سیلاب کا خطرہ، الرٹ جاری

    نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے دریائے سندھ میں شدید سیلابی صورتحال کا خدشہ ظاہر کر دیا۔

    ادارے کے مطابق 3 سے 4 ستمبر کے دوران 9 سے ساڑھے 9 لاکھ کیوسک کے ریلے پنجند ہیڈ ورکس سے گزریں گے۔این ڈی ایم اے کے مطابق بند ٹوٹنے یا بہاؤ کا رخ بدلنے کی صورت میں 8 لاکھ 25 ہزار سے 9 لاکھ کیوسک پانی کے ریلے متوقع ہیں۔ گڈو بیراج پر 5 سے 6 ستمبر کے دوران 8 سے 11 لاکھ کیوسک جبکہ سکھر بیراج پر 6 تا 7 ستمبر کے دوران اتنے ہی بہاؤ کا امکان ہے۔

    کوٹری بیراج میں 8 تا 9 ستمبر کے دوران 8 سے 10 لاکھ کیوسک پانی متوقع ہے اور 12 سے 13 ستمبر کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ادارے کے مطابق دریائے سندھ کے نشیبی علاقوں میں شدید اونچے درجے کا سیلاب متوقع ہے، جس کے باعث زرعی اراضی، قریبی آبادیاں اور دیہات زیر آب آ سکتے ہیں۔

    مراد علی شاہ کی زیر صدارت فلڈ ایمرجنسی اجلاس
    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت فلڈ ایمرجنسی اجلاس ہوا، جس میں یکم ستمبر سے صوبے کے مختلف اضلاع میں بارشوں کی پیشگوئی سے آگاہ کیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ممکنہ سیلاب سے 52 ہزار سے زائد خاندان متاثر ہو سکتے ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق شمالی اضلاع میں 72 اور جنوبی اضلاع میں 106 ریسکیو بوٹس، مچھر دانیاں، کمبل، خیمے، ڈی واٹرنگ پمپس، جنریٹرز اور دیگر ضروری سامان دستیاب ہے۔وزیراعلیٰ نے ہدایت دی کہ گڈو بیراج پر بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات 7 سے 8 لاکھ کیوسک پانی آنے کا امکان ہے، لہٰذا ریسکیو 1122 کا 30 ہزار سے زائد عملہ تعینات کیا جائے، دریا کے کناروں پر 500 سے زائد کیمپ قائم کیے جائیں اور نجی شعبے کی مشینری کا بھی بندوبست کیا جائے تاکہ کسی بھی جانی یا مالی نقصان سے بچا جا سکے۔

    ایف بی آر نے آن لائن کاروبار کے نئے قواعد و ضوابط جاری کر دیے

    سہ ملکی ٹی ٹوئنٹی سیریز، افتتاحی میچ میں پاکستان کی بیٹنگ جاری

  • 29اگست سے 9ستمبرتک بارشوں کے نئے سلسلے  کی پیشگوئی

    29اگست سے 9ستمبرتک بارشوں کے نئے سلسلے کی پیشگوئی

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ( این ڈی ایم اے )نے 29اگست سے 9ستمبر بارشوں کے نئے سلسلے کی پیشگوئی کردی۔

    چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدرنے کہاکہ 29اگست سے 9ستمبر تک بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہوگا،ملک میں مون سون بارشوں کا 8واں سلسلہ جاری ہے،پنجاب کے شمالی علاقوں میں معمول سے زیادہ بارشیں ہوئیں،جموں کے اطراف میں 300ملی میٹر بارشیں ریکارڈ کی گئیں،شدید بارشوں سے دریاؤں میں طغیانی آئی ہے۔

    ادھربھارت کی جانب سے دریاؤں میں پانی چھوڑنے کے بعد پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال سنگین رخ اختیار کر گئی، اور دریائے ستلج، راوی اور چناب میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو چکی ہے جب کہ کرتارپور کے قریب دریائے راوی کا حفاظتی بند ٹوٹنے سے پانی گرودوارے میں داخل ہوگیا اور علاقے میں 300 لوگ پھنس گئے۔

    بجلی سستی ہونے کا امکان

    رپورٹ کے مطابق گجرات میں دریائے چناب کے کری شریف حفاظتی بند کے اوپر سے پانی گزرنا شروع ہو چکا ہے، سیلابی ریلا بند کو توڑتا ہوا سڑکوں پر آگیا، جہاں ٹریفک معطل اور ملحقہ دیہاتوں کے مکین شدید مشکلات کا شکار ہیں،ہیڈ مرالہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ ساڑھے 9 لاکھ کیوسک سے تجاوز کر چکا ہے، جو کہ 2014 کے تباہ کن سیلاب کی یاد دلا رہا ہے، جب تقریباً 50 ہزار افراد متاثر ہوئے تھے۔

    شکر گڑھ میں سیلاب کے باعث دریائے راوی کا حفاظتی بند بھیکو چک کے مقام پر ٹوٹ گیا جس کی وجہ سے متعدد دیہات زیر آب آگئے ہیں،متاثرہ علاقوں سراخ پور، کری شریف، خلیل پور اور دیگر دیہات میں ضلعی انتظامیہ کی امدادی ٹیمیں تاحال نہ پہنچ سکیں، مقامی افراد نے انتظامیہ کی غفلت پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے،بھمبھر نالے میں طغیانی سے نواحی دیہات دادو برسالہ، گوجر کوٹلہ اور پلاوڑی کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے، جہاں پانی کا کٹاؤ جاری ہے اور دیہاتوں کا فاصلہ محض 15 فٹ تک رہ گیا ہے۔

    ماحولیاتی تبدیلی اس وقت ملک کا سب سے بڑا چیلنج ہے،محمد اورنگزیب

    شکرگڑھ کے گاؤں جرمیاں جھنڈا سے لوگوں کو ریسکیو کیا جا رہا ہے اسسٹنٹ کمشنر عدنان عاطف اور ڈپٹی کمشنر نارووال سید حسن رضا امدادی سرگرمیوں کی براہِ راست نگرانی کر رہے ہیں،شدید بارش کے باعث ریسکیو ٹیموں کو متاثرہ علاقوں میں پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، تاہم اب تک 294 افراد کو دریائے راوی سے بحفاظت نکالا جا چکا ہے۔

    راولپنڈی، منڈی بہاالدین، سیالکوٹ اور حافظ آباد سے ریسکیو ٹیموں کو نارووال منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ گجرات شہر میں ایک بار پھر موسلا دھار بارش نے حالات مزید خراب کر دیے ہیں۔ بیشتر علاقوں میں تاحال نکاسی آب کے مناسب انتظامات نہیں کیے جا سکےدریائے چناب میں ہیڈمرالہ کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے جہاں پانی کی آمد 9 لاکھ 50 ہزار کیوسک سے تجاوز کر گیا ہے جبکہ خانکی کے مقام پر 4 لاکھ 32 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    احسن اقبال کا کرتارپور کا ہنگامی دورہ

  • پنجاب اور آزاد کشمیر میں مزید بارشیں متوقع، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

    پنجاب اور آزاد کشمیر میں مزید بارشیں متوقع، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

    این ڈی ایم اے کے این ای او سی نے پنجاب اور آزاد کشمیر کے مختلف اضلاع میں متوقع شدید بارشوں کا الرٹ جاری کر دیا۔

    الرٹ میں کہا گیا ہے کہ پنجاب میں گجرات، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، نارووال، لاہور اور قصور میں شدید بارشوں کا امکان ہے، اگلے 12 سے 24 گھنٹوں کے دوران جہلم، چکوال، منڈی بہاالدین، حافظ آباد، ننکانہ صاحب، چنیاں اور پاکپتن میں شدید بارشیں متوقع ہیں، شہری اور نشیبی علاقوں میں سیلابی صورتحال سمیت ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے، شدید بارشوں کے باعث پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور اچانک سیلابی صورتحال بھی متوقع ہے۔

    اسی طرح آزاد کشمیر کے اضلاع بشمول نیلم ویلی، باغ، کوٹلی، راولا کوٹ، مظفرآباد اور حویلی میں اگلے 12 تا 24 گھنٹوں کے دوران وقفے وقفے سے بارش متوقع ہیں،بارشوں کے باعث نشیبی علاقوں میں سیلاب، ندی نالوں میں طغیانی اورپہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے، پہاڑی نالوں میں پانی کا تیز بہاؤ رابطہ سڑکوں پر ٹریفک کی روانی کو متاثر کر سکتا ہے، دریائے ستلج کے بہاؤ میں اضافے اور ممکنہ سیلابی صورتحال پر پہلے ہی این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری ہے۔

    وزیراعظم سے ایئرچیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی ملاقات

    الرٹ میں کہا گیا ہے کہ،متعلقہ اداروں نے ستلج کے قریبی علاقوں میں بڑے پیمانے پر انخلاء کی کاروائیاں شروع کر دیں پی ڈی ایم اے پنجاب، ریسکیو 1122 اور پاک آرمی کے انجینئرز سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے امدادی کاروائیوں میں مصروف ہیں،عوام دریاؤں، نالوں اور نشیبی علاقوں سے دور رہیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں، عوام ٹی وی، ریڈیو، موبائل الرٹس اور پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ ایپ کے ذریعے جاری کردہ الرٹ اور ہدایات پر عمل کریں۔

    وزیراعظم کی دریائے ستلج میں سیلابی صورتحال پر ہنگامی ہدایات

  • مون سون کا موجودہ دباؤ 10 ستمبر تک رہے گا، این ڈی ایم اے

    مون سون کا موجودہ دباؤ 10 ستمبر تک رہے گا، این ڈی ایم اے

    چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر نے کہا ہے کہ،پاکستان موسمیاتی تباہی کے دہانے پر آگیا، جس کے ممکنہ خطرناہ اثرات سے ملک میں سیلاب و خشک سالی کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔

    پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے اجلاس میں پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات اور فنڈنگ کے معاملات پر سنگین انکشافات سامنے آئے ہیں اجلاس کی صدارت جنید اکبر نے کی جب کہ چیئرمین این ڈی ایم اے نے ملک میں حالیہ صورتحال اور مستقبل کے خطرات پر تفصیلی بریفنگ دی۔

    چیئرمین این ڈی ایم اے نے بتایا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے شدید متاثر ہے اور آنے والے سال میں شدت 22 فیصد زیادہ ہوسکتی ہے اگر درجہ حرارت بڑھتا رہا تو گلیشیئر تیزی سے پگھلنے لگیں گے،چترال شمال و جنوب اور اسکردو جیسے علاقے مستقبل میں زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں،مون سون کا موجودہ دباؤ 10 ستمبر تک برقرار رہے گا، پانی کے ذخائر کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ستلج کے علاقے سے اب تک ڈیڑھ لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاچکا ہے مختلف متاثرہ علاقوں میں 2100 ٹن امدادی سامان بھی بھجوایا گیا ہے، جبکہ گلگت بلتستان میں تباہ شدہ مقامات کی تعمیر نو کی جائے گی۔

    بھارت نے دریائے ستلج میں پانی چھوڑ دیا ، مزید دیہات زیر آب

    ان کا کہنا تھا کہ خطرناک علاقوں میں لوگ پانی کے راستوں پر رہ رہے تھے، ملک بھر کے نشیبی علاقوں کو خالی کروا یا جائے گا، ریسکیو نے خیبر پختونخوا اور پنجاب میں بہترین کام کیا اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی فلاحی تنظیموں نے بھی بہترین کام کیہ جون 26 سے اب تک کا تمام ڈیٹا موجود ہے، آنے والا سال بدقسمتی سے زیادہ مشکل ہوگا، ہمیں مل کر گلیشئرزکا تحفظ کرنا ہوگا، دنیا کے دوسرے بڑے گلیشئر ہمارے ملک میں ہیں۔

    اس موقع پر رکن قومی اسمبلی نے چیئرمین این ڈی ایم اے سے سوال کیا کہ کیا این ڈی ایم اے ارلی وارننگ دے گا؟ کمراٹ میں جھیل بنی اور اس سے سارے علاقے کی خوبصورتی برباد ہوگئی، چیئرمین این ڈی ایم اے نے کہا کہ محکمہ موسمیات چند ماہ کا بتاتا ہے، ہم نقصانات کے بارے میں آگاہ کرتے ہیں،ملک میں 7500 گلیشئرز ہیں، شمالی علاقوں میں زیادہ پگھل رہے ہیں،گلیشئر کے مکمل پگھلنے کے بعد خشک سالی کے امکانات بڑھ جائیں گے، خشک سالی سے ملک میں فوڈ سیکیورٹی اور پانی کی کمی کے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔

    تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی

    پی اے سی اجلاس میں جنید اکبر نے کہا کہ پاکستان کا عالمی ماحولیاتی آلودگی میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہے لیکن سب سے زیادہ نقصان ہمیں ہی اٹھانا پڑ رہا ہے،انہوں نے شکوہ کیا کہ ترقی یافتہ ممالک کی وجہ سے ہم موسمیاتی تبدیلی کی سزا بھگت رہے ہیں مگر بدلے میں ہمیں امداد نہیں بلکہ صرف قرضے مل رہے ہیں۔

    اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ سیلاب کے بعد دنیا نے پاکستان کو 10.9 ارب ڈالر دینے کے وعدے کیے تھے جن میں 8.9 ارب کثیرالجہتی اداروں اور 1.4 ارب دو طرفہ وعدے شامل تھے، تاہم عملی طور پر زیادہ تر رقم قرضوں کی صورت میں دی گئی، جبکہ صرف 21 لاکھ ڈالر کی گرانٹ ملی، سعودی عرب نے ایک ارب ڈالر کا تیل ادھار فراہم کیا اور مجموعی طور پر 93 کروڑ ڈالر کی عارضی فنڈنگ موصول ہوئی۔

    اسحاق ڈار کی ترک وزیر خارجہ سے ملاقات،فلسطین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ

    سیکرٹری اقتصادی امور کے مطابق سیلاب کے بعد 16 ارب ڈالر کی ضروریات کا تخمینہ لگایا گیا تھا، جس میں سے 8 ارب ڈالر خود اور 8 ارب عالمی اداروں سے لینے کا منصوبہ بنایا گیا، تاہم بریفنگ کے مطابق ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور اسلامی ترقیاتی بینک کی بڑی کمٹمنٹس بھی زیادہ تر قرض کی صورت میں تھیں۔

  • بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورت حال پر این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

    بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورت حال پر این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے 23 تا 30 اگست ملک کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر الرٹ جاری کردیا۔

    اعلامیے کے مطابق اس دوران اسلام آباد، کشمیر، خیبرپختونخوا اور پنجاب کے کئی اضلاع میں شدید بارشیں متوقع ہیں۔ راولپنڈی، اٹک، جہلم، میانوالی، خوشاب، سرگودھا، سیالکوٹ، گجرات اور حافظ آباد میں بھی تیز بارشوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔خیبرپختونخوا کے اضلاع چترال، دیر، سوات، شانگلہ، مانسہرہ، بٹگرام، ایبٹ آباد، مالاکنڈ، پشاور، چارسدہ، نوشہرہ، مردان، ٹانک، بنوں اور لکی مروت میں بھی شدید بارشیں ہو سکتی ہیں۔

    این ڈی ایم اے نے خبردار کیا کہ گلگت، اسکردو، ہنزہ، غذر، دیامر، استور، گانچھے اور شگر میں 23 تا 30 اگست کے دوران لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات سے رابطہ سڑکیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔سندھ اور بلوچستان میں 27 تا 30 اگست کے دوران بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ سندھ کے اضلاع ٹھٹھہ، سجاول، بدین، تھر پارکر، حیدرآباد، جامشورو، نوابشاہ، دادو، خیرپور، سکھر، گھوٹکی، لاڑکانہ، جیکب آباد، شکارپور اور کشمور متاثر ہو سکتے ہیں۔

    بلوچستان میں لسبیلہ، خضدار، آواران، قلات، گوادر، تربت، کیچ اور پنجگور میں موسلادھار بارش کا امکان ہے، جبکہ کوئٹہ، زیارت، ژوب، لورالائی، بارکھان، موسیٰ خیل، ڈیرہ بگٹی اور کوہلو میں بھی وقفے وقفے سے بارشیں متوقع ہیں۔این ڈی ایم اے کے مطابق دریائے سندھ میں تونسہ، گڈو اور کالا باغ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 5 لاکھ کیوسک تک پہنچ سکتا ہے، جبکہ راوی اور چناب کے قریبی علاقوں میں بھی پانی کے بہاؤ میں اضافے کا امکان ہے۔

    قومی ٹیم میں اختلافات کی خبروں پر شاہین آفریدی کا ردعمل

    ایران، صوبہ سیستان-بلوچستان میں حملہ، 5 پولیس اہلکار جاں بحق

    بونیر میں سیلابی تباہی، شادی کی خوشیاں 24 جنازوں میں بدل گئیں

    کراچی: پٹاخوں کے گودام میں دھماکے، اموات 6 ہو گئیں، مقدمہ درج