Baaghi TV

Tag: این ڈی ایم اے

  • دریائے سندھ میں شدید سیلاب کا خطرہ،  الرٹ جاری

    دریائے سندھ میں شدید سیلاب کا خطرہ، الرٹ جاری

    نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے دریائے سندھ میں شدید سیلابی صورتحال کا خدشہ ظاہر کر دیا۔

    ادارے کے مطابق 3 سے 4 ستمبر کے دوران 9 سے ساڑھے 9 لاکھ کیوسک کے ریلے پنجند ہیڈ ورکس سے گزریں گے۔این ڈی ایم اے کے مطابق بند ٹوٹنے یا بہاؤ کا رخ بدلنے کی صورت میں 8 لاکھ 25 ہزار سے 9 لاکھ کیوسک پانی کے ریلے متوقع ہیں۔ گڈو بیراج پر 5 سے 6 ستمبر کے دوران 8 سے 11 لاکھ کیوسک جبکہ سکھر بیراج پر 6 تا 7 ستمبر کے دوران اتنے ہی بہاؤ کا امکان ہے۔

    کوٹری بیراج میں 8 تا 9 ستمبر کے دوران 8 سے 10 لاکھ کیوسک پانی متوقع ہے اور 12 سے 13 ستمبر کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ادارے کے مطابق دریائے سندھ کے نشیبی علاقوں میں شدید اونچے درجے کا سیلاب متوقع ہے، جس کے باعث زرعی اراضی، قریبی آبادیاں اور دیہات زیر آب آ سکتے ہیں۔

    مراد علی شاہ کی زیر صدارت فلڈ ایمرجنسی اجلاس
    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت فلڈ ایمرجنسی اجلاس ہوا، جس میں یکم ستمبر سے صوبے کے مختلف اضلاع میں بارشوں کی پیشگوئی سے آگاہ کیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ممکنہ سیلاب سے 52 ہزار سے زائد خاندان متاثر ہو سکتے ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق شمالی اضلاع میں 72 اور جنوبی اضلاع میں 106 ریسکیو بوٹس، مچھر دانیاں، کمبل، خیمے، ڈی واٹرنگ پمپس، جنریٹرز اور دیگر ضروری سامان دستیاب ہے۔وزیراعلیٰ نے ہدایت دی کہ گڈو بیراج پر بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات 7 سے 8 لاکھ کیوسک پانی آنے کا امکان ہے، لہٰذا ریسکیو 1122 کا 30 ہزار سے زائد عملہ تعینات کیا جائے، دریا کے کناروں پر 500 سے زائد کیمپ قائم کیے جائیں اور نجی شعبے کی مشینری کا بھی بندوبست کیا جائے تاکہ کسی بھی جانی یا مالی نقصان سے بچا جا سکے۔

    ایف بی آر نے آن لائن کاروبار کے نئے قواعد و ضوابط جاری کر دیے

    سہ ملکی ٹی ٹوئنٹی سیریز، افتتاحی میچ میں پاکستان کی بیٹنگ جاری

  • 29اگست سے 9ستمبرتک بارشوں کے نئے سلسلے  کی پیشگوئی

    29اگست سے 9ستمبرتک بارشوں کے نئے سلسلے کی پیشگوئی

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ( این ڈی ایم اے )نے 29اگست سے 9ستمبر بارشوں کے نئے سلسلے کی پیشگوئی کردی۔

    چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدرنے کہاکہ 29اگست سے 9ستمبر تک بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہوگا،ملک میں مون سون بارشوں کا 8واں سلسلہ جاری ہے،پنجاب کے شمالی علاقوں میں معمول سے زیادہ بارشیں ہوئیں،جموں کے اطراف میں 300ملی میٹر بارشیں ریکارڈ کی گئیں،شدید بارشوں سے دریاؤں میں طغیانی آئی ہے۔

    ادھربھارت کی جانب سے دریاؤں میں پانی چھوڑنے کے بعد پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال سنگین رخ اختیار کر گئی، اور دریائے ستلج، راوی اور چناب میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو چکی ہے جب کہ کرتارپور کے قریب دریائے راوی کا حفاظتی بند ٹوٹنے سے پانی گرودوارے میں داخل ہوگیا اور علاقے میں 300 لوگ پھنس گئے۔

    بجلی سستی ہونے کا امکان

    رپورٹ کے مطابق گجرات میں دریائے چناب کے کری شریف حفاظتی بند کے اوپر سے پانی گزرنا شروع ہو چکا ہے، سیلابی ریلا بند کو توڑتا ہوا سڑکوں پر آگیا، جہاں ٹریفک معطل اور ملحقہ دیہاتوں کے مکین شدید مشکلات کا شکار ہیں،ہیڈ مرالہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ ساڑھے 9 لاکھ کیوسک سے تجاوز کر چکا ہے، جو کہ 2014 کے تباہ کن سیلاب کی یاد دلا رہا ہے، جب تقریباً 50 ہزار افراد متاثر ہوئے تھے۔

    شکر گڑھ میں سیلاب کے باعث دریائے راوی کا حفاظتی بند بھیکو چک کے مقام پر ٹوٹ گیا جس کی وجہ سے متعدد دیہات زیر آب آگئے ہیں،متاثرہ علاقوں سراخ پور، کری شریف، خلیل پور اور دیگر دیہات میں ضلعی انتظامیہ کی امدادی ٹیمیں تاحال نہ پہنچ سکیں، مقامی افراد نے انتظامیہ کی غفلت پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے،بھمبھر نالے میں طغیانی سے نواحی دیہات دادو برسالہ، گوجر کوٹلہ اور پلاوڑی کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے، جہاں پانی کا کٹاؤ جاری ہے اور دیہاتوں کا فاصلہ محض 15 فٹ تک رہ گیا ہے۔

    ماحولیاتی تبدیلی اس وقت ملک کا سب سے بڑا چیلنج ہے،محمد اورنگزیب

    شکرگڑھ کے گاؤں جرمیاں جھنڈا سے لوگوں کو ریسکیو کیا جا رہا ہے اسسٹنٹ کمشنر عدنان عاطف اور ڈپٹی کمشنر نارووال سید حسن رضا امدادی سرگرمیوں کی براہِ راست نگرانی کر رہے ہیں،شدید بارش کے باعث ریسکیو ٹیموں کو متاثرہ علاقوں میں پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، تاہم اب تک 294 افراد کو دریائے راوی سے بحفاظت نکالا جا چکا ہے۔

    راولپنڈی، منڈی بہاالدین، سیالکوٹ اور حافظ آباد سے ریسکیو ٹیموں کو نارووال منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ گجرات شہر میں ایک بار پھر موسلا دھار بارش نے حالات مزید خراب کر دیے ہیں۔ بیشتر علاقوں میں تاحال نکاسی آب کے مناسب انتظامات نہیں کیے جا سکےدریائے چناب میں ہیڈمرالہ کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے جہاں پانی کی آمد 9 لاکھ 50 ہزار کیوسک سے تجاوز کر گیا ہے جبکہ خانکی کے مقام پر 4 لاکھ 32 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    احسن اقبال کا کرتارپور کا ہنگامی دورہ

  • پنجاب اور آزاد کشمیر میں مزید بارشیں متوقع، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

    پنجاب اور آزاد کشمیر میں مزید بارشیں متوقع، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

    این ڈی ایم اے کے این ای او سی نے پنجاب اور آزاد کشمیر کے مختلف اضلاع میں متوقع شدید بارشوں کا الرٹ جاری کر دیا۔

    الرٹ میں کہا گیا ہے کہ پنجاب میں گجرات، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، نارووال، لاہور اور قصور میں شدید بارشوں کا امکان ہے، اگلے 12 سے 24 گھنٹوں کے دوران جہلم، چکوال، منڈی بہاالدین، حافظ آباد، ننکانہ صاحب، چنیاں اور پاکپتن میں شدید بارشیں متوقع ہیں، شہری اور نشیبی علاقوں میں سیلابی صورتحال سمیت ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے، شدید بارشوں کے باعث پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور اچانک سیلابی صورتحال بھی متوقع ہے۔

    اسی طرح آزاد کشمیر کے اضلاع بشمول نیلم ویلی، باغ، کوٹلی، راولا کوٹ، مظفرآباد اور حویلی میں اگلے 12 تا 24 گھنٹوں کے دوران وقفے وقفے سے بارش متوقع ہیں،بارشوں کے باعث نشیبی علاقوں میں سیلاب، ندی نالوں میں طغیانی اورپہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے، پہاڑی نالوں میں پانی کا تیز بہاؤ رابطہ سڑکوں پر ٹریفک کی روانی کو متاثر کر سکتا ہے، دریائے ستلج کے بہاؤ میں اضافے اور ممکنہ سیلابی صورتحال پر پہلے ہی این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری ہے۔

    وزیراعظم سے ایئرچیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی ملاقات

    الرٹ میں کہا گیا ہے کہ،متعلقہ اداروں نے ستلج کے قریبی علاقوں میں بڑے پیمانے پر انخلاء کی کاروائیاں شروع کر دیں پی ڈی ایم اے پنجاب، ریسکیو 1122 اور پاک آرمی کے انجینئرز سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے امدادی کاروائیوں میں مصروف ہیں،عوام دریاؤں، نالوں اور نشیبی علاقوں سے دور رہیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں، عوام ٹی وی، ریڈیو، موبائل الرٹس اور پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ ایپ کے ذریعے جاری کردہ الرٹ اور ہدایات پر عمل کریں۔

    وزیراعظم کی دریائے ستلج میں سیلابی صورتحال پر ہنگامی ہدایات

  • مون سون کا موجودہ دباؤ 10 ستمبر تک رہے گا، این ڈی ایم اے

    مون سون کا موجودہ دباؤ 10 ستمبر تک رہے گا، این ڈی ایم اے

    چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر نے کہا ہے کہ،پاکستان موسمیاتی تباہی کے دہانے پر آگیا، جس کے ممکنہ خطرناہ اثرات سے ملک میں سیلاب و خشک سالی کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔

    پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے اجلاس میں پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات اور فنڈنگ کے معاملات پر سنگین انکشافات سامنے آئے ہیں اجلاس کی صدارت جنید اکبر نے کی جب کہ چیئرمین این ڈی ایم اے نے ملک میں حالیہ صورتحال اور مستقبل کے خطرات پر تفصیلی بریفنگ دی۔

    چیئرمین این ڈی ایم اے نے بتایا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے شدید متاثر ہے اور آنے والے سال میں شدت 22 فیصد زیادہ ہوسکتی ہے اگر درجہ حرارت بڑھتا رہا تو گلیشیئر تیزی سے پگھلنے لگیں گے،چترال شمال و جنوب اور اسکردو جیسے علاقے مستقبل میں زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں،مون سون کا موجودہ دباؤ 10 ستمبر تک برقرار رہے گا، پانی کے ذخائر کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ستلج کے علاقے سے اب تک ڈیڑھ لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاچکا ہے مختلف متاثرہ علاقوں میں 2100 ٹن امدادی سامان بھی بھجوایا گیا ہے، جبکہ گلگت بلتستان میں تباہ شدہ مقامات کی تعمیر نو کی جائے گی۔

    بھارت نے دریائے ستلج میں پانی چھوڑ دیا ، مزید دیہات زیر آب

    ان کا کہنا تھا کہ خطرناک علاقوں میں لوگ پانی کے راستوں پر رہ رہے تھے، ملک بھر کے نشیبی علاقوں کو خالی کروا یا جائے گا، ریسکیو نے خیبر پختونخوا اور پنجاب میں بہترین کام کیا اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی فلاحی تنظیموں نے بھی بہترین کام کیہ جون 26 سے اب تک کا تمام ڈیٹا موجود ہے، آنے والا سال بدقسمتی سے زیادہ مشکل ہوگا، ہمیں مل کر گلیشئرزکا تحفظ کرنا ہوگا، دنیا کے دوسرے بڑے گلیشئر ہمارے ملک میں ہیں۔

    اس موقع پر رکن قومی اسمبلی نے چیئرمین این ڈی ایم اے سے سوال کیا کہ کیا این ڈی ایم اے ارلی وارننگ دے گا؟ کمراٹ میں جھیل بنی اور اس سے سارے علاقے کی خوبصورتی برباد ہوگئی، چیئرمین این ڈی ایم اے نے کہا کہ محکمہ موسمیات چند ماہ کا بتاتا ہے، ہم نقصانات کے بارے میں آگاہ کرتے ہیں،ملک میں 7500 گلیشئرز ہیں، شمالی علاقوں میں زیادہ پگھل رہے ہیں،گلیشئر کے مکمل پگھلنے کے بعد خشک سالی کے امکانات بڑھ جائیں گے، خشک سالی سے ملک میں فوڈ سیکیورٹی اور پانی کی کمی کے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔

    تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی

    پی اے سی اجلاس میں جنید اکبر نے کہا کہ پاکستان کا عالمی ماحولیاتی آلودگی میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہے لیکن سب سے زیادہ نقصان ہمیں ہی اٹھانا پڑ رہا ہے،انہوں نے شکوہ کیا کہ ترقی یافتہ ممالک کی وجہ سے ہم موسمیاتی تبدیلی کی سزا بھگت رہے ہیں مگر بدلے میں ہمیں امداد نہیں بلکہ صرف قرضے مل رہے ہیں۔

    اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ سیلاب کے بعد دنیا نے پاکستان کو 10.9 ارب ڈالر دینے کے وعدے کیے تھے جن میں 8.9 ارب کثیرالجہتی اداروں اور 1.4 ارب دو طرفہ وعدے شامل تھے، تاہم عملی طور پر زیادہ تر رقم قرضوں کی صورت میں دی گئی، جبکہ صرف 21 لاکھ ڈالر کی گرانٹ ملی، سعودی عرب نے ایک ارب ڈالر کا تیل ادھار فراہم کیا اور مجموعی طور پر 93 کروڑ ڈالر کی عارضی فنڈنگ موصول ہوئی۔

    اسحاق ڈار کی ترک وزیر خارجہ سے ملاقات،فلسطین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ

    سیکرٹری اقتصادی امور کے مطابق سیلاب کے بعد 16 ارب ڈالر کی ضروریات کا تخمینہ لگایا گیا تھا، جس میں سے 8 ارب ڈالر خود اور 8 ارب عالمی اداروں سے لینے کا منصوبہ بنایا گیا، تاہم بریفنگ کے مطابق ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور اسلامی ترقیاتی بینک کی بڑی کمٹمنٹس بھی زیادہ تر قرض کی صورت میں تھیں۔

  • بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورت حال پر این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

    بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورت حال پر این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے 23 تا 30 اگست ملک کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر الرٹ جاری کردیا۔

    اعلامیے کے مطابق اس دوران اسلام آباد، کشمیر، خیبرپختونخوا اور پنجاب کے کئی اضلاع میں شدید بارشیں متوقع ہیں۔ راولپنڈی، اٹک، جہلم، میانوالی، خوشاب، سرگودھا، سیالکوٹ، گجرات اور حافظ آباد میں بھی تیز بارشوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔خیبرپختونخوا کے اضلاع چترال، دیر، سوات، شانگلہ، مانسہرہ، بٹگرام، ایبٹ آباد، مالاکنڈ، پشاور، چارسدہ، نوشہرہ، مردان، ٹانک، بنوں اور لکی مروت میں بھی شدید بارشیں ہو سکتی ہیں۔

    این ڈی ایم اے نے خبردار کیا کہ گلگت، اسکردو، ہنزہ، غذر، دیامر، استور، گانچھے اور شگر میں 23 تا 30 اگست کے دوران لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات سے رابطہ سڑکیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔سندھ اور بلوچستان میں 27 تا 30 اگست کے دوران بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ سندھ کے اضلاع ٹھٹھہ، سجاول، بدین، تھر پارکر، حیدرآباد، جامشورو، نوابشاہ، دادو، خیرپور، سکھر، گھوٹکی، لاڑکانہ، جیکب آباد، شکارپور اور کشمور متاثر ہو سکتے ہیں۔

    بلوچستان میں لسبیلہ، خضدار، آواران، قلات، گوادر، تربت، کیچ اور پنجگور میں موسلادھار بارش کا امکان ہے، جبکہ کوئٹہ، زیارت، ژوب، لورالائی، بارکھان، موسیٰ خیل، ڈیرہ بگٹی اور کوہلو میں بھی وقفے وقفے سے بارشیں متوقع ہیں۔این ڈی ایم اے کے مطابق دریائے سندھ میں تونسہ، گڈو اور کالا باغ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 5 لاکھ کیوسک تک پہنچ سکتا ہے، جبکہ راوی اور چناب کے قریبی علاقوں میں بھی پانی کے بہاؤ میں اضافے کا امکان ہے۔

    قومی ٹیم میں اختلافات کی خبروں پر شاہین آفریدی کا ردعمل

    ایران، صوبہ سیستان-بلوچستان میں حملہ، 5 پولیس اہلکار جاں بحق

    بونیر میں سیلابی تباہی، شادی کی خوشیاں 24 جنازوں میں بدل گئیں

    کراچی: پٹاخوں کے گودام میں دھماکے، اموات 6 ہو گئیں، مقدمہ درج

  • بارشوں اور سیلاب سے ملک بھر میں کتنا نقصان ہوا؟ اعداد و شمار جاری

    بارشوں اور سیلاب سے ملک بھر میں کتنا نقصان ہوا؟ اعداد و شمار جاری

    نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی ( این ڈی ایم اے ) نے بارشوں اور سیلاب سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والے جانی نقصان کی اعداد و شمار جاری کر دیئے۔

    ترجمان این ڈی ایم اے کے مطابق24 گھنٹوں کے دوران بارشوں کے باعث ملک بھر میں 41 افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے، جاں بحق ہونے والوں میں 29 مرد، 9 خواتین اور 3 بچے شامل ہیں، بارشوں اور سیلاب کے باعث خیبر پختونخوا میں 19 افراد جاں بحق جبکہ 1 زخمی ہوا، گلگت بلتستان میں 11 افراد جاں بحق اور 5 زخمی ہوئے، سندھ میں بھی بارشوں سے 11 افراد جاں بحق جبکہ 5 زخمی ہوئے۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق مون سون سیزن کے دوران،بارشوں کے باعث اب تک ملک بھر میں 748 افراد جاں بحق اور 978 زخمی ہوئے، جاں بحق ہونے والوں میں 459 مرد، 11 خواتین اور 178 بچے شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں 475 مرد، 243 خواتین اور 260 بچے شامل ہیں، بارشوں اور سیلاب میں ملک بھر میں 990 مکان گرے اور 3 ہزار 898 مویشی بھی ہلاک ہوئے،اب تک پنجاب میں 165، خیبر پختونخوا میں 446 اور سندھ میں 40 افراد جاں حق ہو چکے، اسی طرح گلگت بلتستان میں45، آزاد کشمیر میں 22 اور اسلام آباد میں 8 افراد جاں بحق ہوئے۔

    دوسری جانب پرونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی ( پی ڈی ایم اے ) نے خیبرپختونخوا میں کلاؤڈ برسٹ، بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا ڈیٹا بھی جاری کیا ہےجس کے مطابق کے پی میں بارشوں اور سیلاب سے مجموعی طور پر377 افراد جاں بحق جبکہ 182 زخمی ہوئے، کے پی میں سیلاب سے مجموعی طور پر1377 گھروں کو نقصان پہنچا، 1022 گھروں کو جزوی جبکہ 355 گھر مکمل گر گئے،بونیر،صوابی،باجوڑ،مانسہرہ میں کلاؤڈ برسٹ،بارشیں اور سیلاب کےباعث حادثات پیش آئے، صرف بونیر میں 228 افراد جاں حق ہوئے۔

  • تین مزید مون سون سسٹمز پاکستان کی طرف بڑھ رہے ہیں، این ڈی ایم اے کی میڈیا کو بریفنگ

    تین مزید مون سون سسٹمز پاکستان کی طرف بڑھ رہے ہیں، این ڈی ایم اے کی میڈیا کو بریفنگ

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے حکام نے کہا ہے کہ بارشوں کا موجودہ سلسلہ 22 اگست تک جاری رہے گا جس میں مزید شدت متوقع ہے، بارشوں کے 3 مزید سلسلے پاکستان کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

    اسلام آباد میں این ڈی ایم اے حکام نے میڈیا کو بریفنگ دی، اس موقع پر ٹیکنیکل ایکسپرٹ ڈاکٹر طیب شاہ نے کہا کہ بارشوں کا موجودہ سلسلہ 22 اگست تک جاری رہے گا جس میں مزید شدت متوقع ہے، 22 اگست کے بعد مون سون کا ایک اور سلسلہ شروع ہو گا، بارشوں کے 3 مزید سلسلے پاکستان کی جانب بڑھ رہے ہیں،خلیج بنگال کی جانب سے ایک نیا بارشوں کا سلسلہ پاکستان کی جانب بڑھ رہا ہے، افغانستان کے ننگرہار اور قندھار ریجن سے ایک سلسلہ پاکستان کی جانب بڑھ رہا ہے، پاکستان کے شمالی علاقہ جات اور پنجاب کے علاقے شدید خطرات کا شکار ہیں۔

    جنرل منیجر این ڈی ایم اے زارا حسن نے بتایا کہ اگلے 24 سے 48 گھنٹوں میں شدید بارشوں متوقع ہیں، تربیلا ڈیم میں اس وقت 98 فیصد پانی بھر چکا ہے، اگلے 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران پانی کے ذخائر میں خطرناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے،کٹاریاں اور گوالمنڈی میں 15 فٹ تک پانی کی سطح بلند ہو چکی ہے، کوہ سلیمان کے ساتھ علاقہ جات میں آج سے نیا سلسلہ شروع ہو چکا ہے، آزاد جموں و کشمیر کے نیلم، پونچھ اور باغ میں سیلاب کے خطرات بڑھ گئے ہیں، خیبرپختونخوا میں پشاور چترال دیر چار سدہ میں سیلاب کے خطرات زیادہ ہیں۔

    خاور ڈپریشن کا شکار لگ رہے تھے،ہم ابھی کسی نتیجے پر نہیں پہنچے،ڈی آئی جی شہید بینظیر آباد

    ممبر آپریشنز این ڈی ایم اے بریگیڈیئر کامران نے بتایا کہ فروری 2025 سے موجودہ مون سون کے لئے تیاری شروع کر دی گئی تھی، صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر موجودہ مون سون کے لئے نقصانات سے بچاؤ کے اقدامات کیے گئے، بونیر اور باجوڑ میں تباہی کلاؤڈ برسٹ کی وجہ سے ہوئی، دو روز میں 337 لوگ اس وقت تک جاں بحق، 178 لوگ اب تک زخمی ہیں، آرمی اور ایف سی کے ذریعے صوبائی حکومت کو ریسکیو کے لیے وسائل مہیا کیے گئے، کل بونیر میں وفاق کی طرف سے امدادی سامان کی دوسری کھیپ روانہ کی جائے گی۔

    چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ موسم گرما میں گرمی کی شدت ذیادہ ہونے کی وجہ سے مون سون کا پھیلاؤ ذیادہ ہے، گلگت بلتستان میں فلیش فلڈز اور سیاحتی حادثات پیش آئے،ستمبر کے پہلے 10 دنوں تک مون سون کے اسپیل باقی رہیں گے، وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق نقصانات کے ازالے کے لئے سروے کیا جائے گا۔

    سہ فریقی سیریز اورایشیا کپ کے لیے قومی اسکواڈ کا اعلان، بابر اور رضوان ٹیم سے باہر

    ان کا کہنا تھا کہ مواصلات کے نقصانات کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے گا، کل سے ذیادہ جانی نقصان والے اضلاع میں ریلیف پیکجز پہنچائے جائیں گے اگلے دو ہفتوں میں ہمارا فوکس شمالی پنجاب، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان ہو گا، ارلی وارننگ نقصانات سے بچنے کے لئے اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

  • وزیراعظم کی چیئرمین این ڈی ایم اے کو خیبرپختونخوا میں امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت

    وزیراعظم کی چیئرمین این ڈی ایم اے کو خیبرپختونخوا میں امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت

    وزیراعظم شہباز شریف نے چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کو خیبرپختونخوا کے 9 متاثرہ اضلاع میں امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت کر دی۔

    سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ خیبرپختونخوا اور شمالی پاکستان میں کلاؤڈ برسٹ (بادل پھٹنے) اور اچانک سیلاب کی وجہ سے ہونے والی تباہی سے شدید غمزدہ ہیں، دکھ کی اس گھڑی میں اپنے بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ یکجہتی کے لیے کھڑے ہیں، حکومت ریسکیو اور ریلیف آپریشن کے لیے تمام وسائل کو متحرک کر رہی ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ چیئرمین این ڈی ایم اے سے ملاقات میں ہدایت کی ہے کہ سوات، بونیر ، باجوڑ، تورغر، مانسہرہ ، شانگلہ اور بٹ گرام کے متاثرہ اضلاع میں امدادی کارروائیوں کو تیز کیا جائے، باجوڑ اور بٹ گرام پر فوری توجہ دی جائے،پھنسے ہوئے رہائشیوں کو فوری ریلیف فراہم کیا جارہا ہے، زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جارہی ہے اور سڑکوں کو صاف کرنے اور رابطہ بحال کرنے کے لیے بھاری مشینری تعینات کردی گئی ہے۔

    رکنِ قومی اسمبلی اور خاتونِ اول آصفہ بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آفت زدہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں کرنے والے کارکنان ہمارے ہیرو ہیں۔

    خاتون اول آصفہ بھٹو نے خیبر پختونخوا میں بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں ہونے والی تباہی اور انسانی قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہارِ کیا ہےآصفہ بھٹو نے کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی بارشوں اور سیلاب سے تباہی پر اظہارِ افسوس کیا ہےآصفہ بھٹو نے سیلاب اور بارشوں کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے ورثاء کے لیے تعزیت کا پیغام دیا ہے،آصفہ بھٹو زرداری نے ہدایت کی کہ انتظامیہ ان علاقوں پر ترجیحی طور پر توجہ دے جن کا زمینی راستہ منقطع ہو چکا ہے۔

    ادھرپی ڈی ایم اے پنجاب نے کہا ہے کہ بالائی پنجاب میں طوفانی بارشوں اور کلاؤڈ برسٹنگ کے خدشات ہیں،پی ڈی ایم اے پنجاب نے مون سون فلڈ کی صورتحال بارے فیکٹ شیٹ جاری کر دی ہے، گزشتہ 24 گھنٹوں میں مری، راولپنڈی، سیالکوٹ اور بہاولپور میں بارش ریکارڈ کی گئی، آئندہ 24 گھنٹوں میں پنجاب کے بیشتر اضلاع میں شدید بارشوں کی پیشگوئی ہےبالائی پنجاب کے اضلاع میں طوفانی بارشوں اور کلاؤڈ برسٹنگ کے خدشات ہیں۔

    ڈی جی پی ڈ ی ایم ا ے عرفان علی کاٹھیا نے کہا کہ مون سون بارشوں کا ساتواں اسپیل قدرے زیادہ مضبوط ہے طوفانی بارشوں کی پیشگوئی ہے۔انہوں نے انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کی ہیں،ولنرایبل اضلاع کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ دریائے سندھ میں تربیلا اور تونسہ کے مقام پر نچلے درجے کی سیلابی صورتحال ہے جبکہ کالاباغ اور چشمہ کے مقام پر درمیانے درجے کی سیلابی صورتحال ہے۔

    انہوں نے کہاکہ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ دریائے چناب، جہلم اور راوی میں پانی کا بہاؤ نارمل سطح پر ہے،رودکوہیوں اور بڑے دریاؤں سے ملحقہ ندی نالوں میں بھی پانی کا بہاؤ نارمل سطح پر ہے تربیلا ڈیم 98 فیصد جبکہ منگلا ڈیم 68 فیصد تک بھر چکا ہے، بھارتی ڈیمز میں پانی کی سطح 70 فیصد تک ہے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے شہریوں سے گزارش کی کہ موسم برسات میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

    گزشتہ 24 گھنٹوں میں پنجاب میں مون سون بارشوں کے باعث کوئی جانی و مالی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔رواں سال 164 شہری جاں بحق، 582 شہری زخمی 216 گھر متاثر اور 121 مویشی ہلاک ہوئے۔

  • 18 سے 22 اگست: ملک بھر میں موسلادھار بارشوں کی پیشگوئی

    18 سے 22 اگست: ملک بھر میں موسلادھار بارشوں کی پیشگوئی

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے 18 سے 22 اگست کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارشوں کی پیشگوئی کرتے ہوئے تازہ ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔

    ایڈوائزری کے مطابق خیبر پختونخوا کے سیلاب سے متاثرہ اضلاع سمیت چترال، دیر، ہری پور، کرک، کوہاٹ، کوہستان، خیبر، کرم، مانسہرہ، مہمند، نوشہرہ، مالاکنڈ، چارسدہ، ایبٹ آباد، بنوں، بونیر، ہزارہ، پشاور، صوابی، سوات اور وزیرستان میں بارش کا امکان ہے۔ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے استور، اسکردو، ہنزہ، شگر، باغ، وادی نیلم اور مظفرآباد میں بھی بارش متوقع ہے۔

    18 سے 20 اگست کے دوران اسلام آباد، راولپنڈی، مری، گلیات، لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، فیصل آباد، ملتان، بہاولپور، کراچی، حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ اور دیگر شہروں میں بارش ہو سکتی ہے۔ بلوچستان میں زیارت، قلات، خضدار، آواران، سبی اور ڈیرہ بگٹی میں بھی بارش کی پیش گوئی ہے۔

    این ڈی ایم اے نے متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت دی ہے۔ واضح رہے کہ حالیہ سیلابی ریلوں اور کلاؤڈ برسٹ سے خیبر پختونخوا میں 200 سے زائد اموات ہو چکی ہیں۔

    ایل این جی کی قیمتوں میں 1.46 فیصد تک اضافہ

    شاہد آفریدی سمیت متعدد کھلاڑیوں کو قومی اعزازات ملیں گے

    میلانیا ٹرمپ کا ہنٹر بائیڈن کو ایک ارب ڈالر ہرجانے کا نوٹس

    وزراء و اراکین پارلیمنٹ کو ایوارڈز دینا آئین کی خلاف ورزی ہے، ماہرین قانون

  • این ڈی ایم اے کا الرٹ،دریائے ستلج میں سیلاب کا خطرہ

    این ڈی ایم اے کا الرٹ،دریائے ستلج میں سیلاب کا خطرہ

    نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے آئندہ ہفتے کے لیے ممکنہ موسمی صورتحال پر الرٹ جاری کر دیا ہے۔

    ادارے کے مطابق ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں 8 اگست تک بارشیں متوقع ہیں۔این ڈی ایم اے نے دریائے ستلج میں ممکنہ سیلابی صورتحال پر الرٹ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کے بہاؤ میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جو ایک گھنٹے میں 28,657 سے بڑھ کر 33,653 کیوسک تک پہنچ گیا ہے۔الرٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ 5 سے 7 اگست کے دوران بالائی علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث ستلج اور بیاس کے بہاؤ میں مزید اضافہ ہوگا۔

    بھارت میں واقع بھاکڑا ڈیم 55 فیصد اور پونگ ڈیم 56 فیصد تک بھر چکے ہیں، جس کے بعد مزید پانی چھوڑے جانے کا خدشہ ہے۔این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ دریائے ستلج میں اس ہفتے گنڈا سنگھ والا کے مقام پر نچلے درجے کے سیلاب کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

    ادارے کی جانب سے مقامی انتظامیہ کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے فوری ریسپانس تیار رکھا جائے۔
    نکاسی آب اور ممکنہ انخلا کی پیشگی تیاری کی جائے۔تمام متعلقہ اداروں کو بروقت آگاہی فراہم کی جا رہی ہے۔این ڈی ایم اے نے تمام اداروں کو ہدایت کی ہے کہ ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات مکمل رکھے جائیں تاکہ کسی بھی جانی یا مالی نقصان سے بچا جا سکے۔

    مولانا فضل الرحمٰن کا نواز شریف سے رابطہ، کزن کے انتقال پر تعزیت

    بھارت: سیلاب سے تباہی، 4 افراد ہلاک، 50 سے زائد لاپتا

    آیہ صوفیہ مسجد کو آگ لگانے کی کوشش ناکام، ملزم گرفتار

    نادرا کا بڑا اقدام: جانشینی سرٹیفکیٹ کسی بھی مرکز سے حاصل کیا جا سکتا ہے