Baaghi TV

Tag: این ڈی ایم اے

  • مون سون کا موجودہ دباؤ 10 ستمبر تک رہے گا، این ڈی ایم اے

    مون سون کا موجودہ دباؤ 10 ستمبر تک رہے گا، این ڈی ایم اے

    چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر نے کہا ہے کہ،پاکستان موسمیاتی تباہی کے دہانے پر آگیا، جس کے ممکنہ خطرناہ اثرات سے ملک میں سیلاب و خشک سالی کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔

    پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے اجلاس میں پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات اور فنڈنگ کے معاملات پر سنگین انکشافات سامنے آئے ہیں اجلاس کی صدارت جنید اکبر نے کی جب کہ چیئرمین این ڈی ایم اے نے ملک میں حالیہ صورتحال اور مستقبل کے خطرات پر تفصیلی بریفنگ دی۔

    چیئرمین این ڈی ایم اے نے بتایا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے شدید متاثر ہے اور آنے والے سال میں شدت 22 فیصد زیادہ ہوسکتی ہے اگر درجہ حرارت بڑھتا رہا تو گلیشیئر تیزی سے پگھلنے لگیں گے،چترال شمال و جنوب اور اسکردو جیسے علاقے مستقبل میں زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں،مون سون کا موجودہ دباؤ 10 ستمبر تک برقرار رہے گا، پانی کے ذخائر کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ستلج کے علاقے سے اب تک ڈیڑھ لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاچکا ہے مختلف متاثرہ علاقوں میں 2100 ٹن امدادی سامان بھی بھجوایا گیا ہے، جبکہ گلگت بلتستان میں تباہ شدہ مقامات کی تعمیر نو کی جائے گی۔

    بھارت نے دریائے ستلج میں پانی چھوڑ دیا ، مزید دیہات زیر آب

    ان کا کہنا تھا کہ خطرناک علاقوں میں لوگ پانی کے راستوں پر رہ رہے تھے، ملک بھر کے نشیبی علاقوں کو خالی کروا یا جائے گا، ریسکیو نے خیبر پختونخوا اور پنجاب میں بہترین کام کیا اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی فلاحی تنظیموں نے بھی بہترین کام کیہ جون 26 سے اب تک کا تمام ڈیٹا موجود ہے، آنے والا سال بدقسمتی سے زیادہ مشکل ہوگا، ہمیں مل کر گلیشئرزکا تحفظ کرنا ہوگا، دنیا کے دوسرے بڑے گلیشئر ہمارے ملک میں ہیں۔

    اس موقع پر رکن قومی اسمبلی نے چیئرمین این ڈی ایم اے سے سوال کیا کہ کیا این ڈی ایم اے ارلی وارننگ دے گا؟ کمراٹ میں جھیل بنی اور اس سے سارے علاقے کی خوبصورتی برباد ہوگئی، چیئرمین این ڈی ایم اے نے کہا کہ محکمہ موسمیات چند ماہ کا بتاتا ہے، ہم نقصانات کے بارے میں آگاہ کرتے ہیں،ملک میں 7500 گلیشئرز ہیں، شمالی علاقوں میں زیادہ پگھل رہے ہیں،گلیشئر کے مکمل پگھلنے کے بعد خشک سالی کے امکانات بڑھ جائیں گے، خشک سالی سے ملک میں فوڈ سیکیورٹی اور پانی کی کمی کے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔

    تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی

    پی اے سی اجلاس میں جنید اکبر نے کہا کہ پاکستان کا عالمی ماحولیاتی آلودگی میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہے لیکن سب سے زیادہ نقصان ہمیں ہی اٹھانا پڑ رہا ہے،انہوں نے شکوہ کیا کہ ترقی یافتہ ممالک کی وجہ سے ہم موسمیاتی تبدیلی کی سزا بھگت رہے ہیں مگر بدلے میں ہمیں امداد نہیں بلکہ صرف قرضے مل رہے ہیں۔

    اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ سیلاب کے بعد دنیا نے پاکستان کو 10.9 ارب ڈالر دینے کے وعدے کیے تھے جن میں 8.9 ارب کثیرالجہتی اداروں اور 1.4 ارب دو طرفہ وعدے شامل تھے، تاہم عملی طور پر زیادہ تر رقم قرضوں کی صورت میں دی گئی، جبکہ صرف 21 لاکھ ڈالر کی گرانٹ ملی، سعودی عرب نے ایک ارب ڈالر کا تیل ادھار فراہم کیا اور مجموعی طور پر 93 کروڑ ڈالر کی عارضی فنڈنگ موصول ہوئی۔

    اسحاق ڈار کی ترک وزیر خارجہ سے ملاقات،فلسطین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ

    سیکرٹری اقتصادی امور کے مطابق سیلاب کے بعد 16 ارب ڈالر کی ضروریات کا تخمینہ لگایا گیا تھا، جس میں سے 8 ارب ڈالر خود اور 8 ارب عالمی اداروں سے لینے کا منصوبہ بنایا گیا، تاہم بریفنگ کے مطابق ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور اسلامی ترقیاتی بینک کی بڑی کمٹمنٹس بھی زیادہ تر قرض کی صورت میں تھیں۔

  • بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورت حال پر این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

    بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورت حال پر این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے 23 تا 30 اگست ملک کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر الرٹ جاری کردیا۔

    اعلامیے کے مطابق اس دوران اسلام آباد، کشمیر، خیبرپختونخوا اور پنجاب کے کئی اضلاع میں شدید بارشیں متوقع ہیں۔ راولپنڈی، اٹک، جہلم، میانوالی، خوشاب، سرگودھا، سیالکوٹ، گجرات اور حافظ آباد میں بھی تیز بارشوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔خیبرپختونخوا کے اضلاع چترال، دیر، سوات، شانگلہ، مانسہرہ، بٹگرام، ایبٹ آباد، مالاکنڈ، پشاور، چارسدہ، نوشہرہ، مردان، ٹانک، بنوں اور لکی مروت میں بھی شدید بارشیں ہو سکتی ہیں۔

    این ڈی ایم اے نے خبردار کیا کہ گلگت، اسکردو، ہنزہ، غذر، دیامر، استور، گانچھے اور شگر میں 23 تا 30 اگست کے دوران لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات سے رابطہ سڑکیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔سندھ اور بلوچستان میں 27 تا 30 اگست کے دوران بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ سندھ کے اضلاع ٹھٹھہ، سجاول، بدین، تھر پارکر، حیدرآباد، جامشورو، نوابشاہ، دادو، خیرپور، سکھر، گھوٹکی، لاڑکانہ، جیکب آباد، شکارپور اور کشمور متاثر ہو سکتے ہیں۔

    بلوچستان میں لسبیلہ، خضدار، آواران، قلات، گوادر، تربت، کیچ اور پنجگور میں موسلادھار بارش کا امکان ہے، جبکہ کوئٹہ، زیارت، ژوب، لورالائی، بارکھان، موسیٰ خیل، ڈیرہ بگٹی اور کوہلو میں بھی وقفے وقفے سے بارشیں متوقع ہیں۔این ڈی ایم اے کے مطابق دریائے سندھ میں تونسہ، گڈو اور کالا باغ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 5 لاکھ کیوسک تک پہنچ سکتا ہے، جبکہ راوی اور چناب کے قریبی علاقوں میں بھی پانی کے بہاؤ میں اضافے کا امکان ہے۔

    قومی ٹیم میں اختلافات کی خبروں پر شاہین آفریدی کا ردعمل

    ایران، صوبہ سیستان-بلوچستان میں حملہ، 5 پولیس اہلکار جاں بحق

    بونیر میں سیلابی تباہی، شادی کی خوشیاں 24 جنازوں میں بدل گئیں

    کراچی: پٹاخوں کے گودام میں دھماکے، اموات 6 ہو گئیں، مقدمہ درج

  • بارشوں اور سیلاب سے ملک بھر میں کتنا نقصان ہوا؟ اعداد و شمار جاری

    بارشوں اور سیلاب سے ملک بھر میں کتنا نقصان ہوا؟ اعداد و شمار جاری

    نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی ( این ڈی ایم اے ) نے بارشوں اور سیلاب سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والے جانی نقصان کی اعداد و شمار جاری کر دیئے۔

    ترجمان این ڈی ایم اے کے مطابق24 گھنٹوں کے دوران بارشوں کے باعث ملک بھر میں 41 افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے، جاں بحق ہونے والوں میں 29 مرد، 9 خواتین اور 3 بچے شامل ہیں، بارشوں اور سیلاب کے باعث خیبر پختونخوا میں 19 افراد جاں بحق جبکہ 1 زخمی ہوا، گلگت بلتستان میں 11 افراد جاں بحق اور 5 زخمی ہوئے، سندھ میں بھی بارشوں سے 11 افراد جاں بحق جبکہ 5 زخمی ہوئے۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق مون سون سیزن کے دوران،بارشوں کے باعث اب تک ملک بھر میں 748 افراد جاں بحق اور 978 زخمی ہوئے، جاں بحق ہونے والوں میں 459 مرد، 11 خواتین اور 178 بچے شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں 475 مرد، 243 خواتین اور 260 بچے شامل ہیں، بارشوں اور سیلاب میں ملک بھر میں 990 مکان گرے اور 3 ہزار 898 مویشی بھی ہلاک ہوئے،اب تک پنجاب میں 165، خیبر پختونخوا میں 446 اور سندھ میں 40 افراد جاں حق ہو چکے، اسی طرح گلگت بلتستان میں45، آزاد کشمیر میں 22 اور اسلام آباد میں 8 افراد جاں بحق ہوئے۔

    دوسری جانب پرونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی ( پی ڈی ایم اے ) نے خیبرپختونخوا میں کلاؤڈ برسٹ، بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا ڈیٹا بھی جاری کیا ہےجس کے مطابق کے پی میں بارشوں اور سیلاب سے مجموعی طور پر377 افراد جاں بحق جبکہ 182 زخمی ہوئے، کے پی میں سیلاب سے مجموعی طور پر1377 گھروں کو نقصان پہنچا، 1022 گھروں کو جزوی جبکہ 355 گھر مکمل گر گئے،بونیر،صوابی،باجوڑ،مانسہرہ میں کلاؤڈ برسٹ،بارشیں اور سیلاب کےباعث حادثات پیش آئے، صرف بونیر میں 228 افراد جاں حق ہوئے۔

  • تین مزید مون سون سسٹمز پاکستان کی طرف بڑھ رہے ہیں، این ڈی ایم اے کی میڈیا کو بریفنگ

    تین مزید مون سون سسٹمز پاکستان کی طرف بڑھ رہے ہیں، این ڈی ایم اے کی میڈیا کو بریفنگ

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے حکام نے کہا ہے کہ بارشوں کا موجودہ سلسلہ 22 اگست تک جاری رہے گا جس میں مزید شدت متوقع ہے، بارشوں کے 3 مزید سلسلے پاکستان کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

    اسلام آباد میں این ڈی ایم اے حکام نے میڈیا کو بریفنگ دی، اس موقع پر ٹیکنیکل ایکسپرٹ ڈاکٹر طیب شاہ نے کہا کہ بارشوں کا موجودہ سلسلہ 22 اگست تک جاری رہے گا جس میں مزید شدت متوقع ہے، 22 اگست کے بعد مون سون کا ایک اور سلسلہ شروع ہو گا، بارشوں کے 3 مزید سلسلے پاکستان کی جانب بڑھ رہے ہیں،خلیج بنگال کی جانب سے ایک نیا بارشوں کا سلسلہ پاکستان کی جانب بڑھ رہا ہے، افغانستان کے ننگرہار اور قندھار ریجن سے ایک سلسلہ پاکستان کی جانب بڑھ رہا ہے، پاکستان کے شمالی علاقہ جات اور پنجاب کے علاقے شدید خطرات کا شکار ہیں۔

    جنرل منیجر این ڈی ایم اے زارا حسن نے بتایا کہ اگلے 24 سے 48 گھنٹوں میں شدید بارشوں متوقع ہیں، تربیلا ڈیم میں اس وقت 98 فیصد پانی بھر چکا ہے، اگلے 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران پانی کے ذخائر میں خطرناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے،کٹاریاں اور گوالمنڈی میں 15 فٹ تک پانی کی سطح بلند ہو چکی ہے، کوہ سلیمان کے ساتھ علاقہ جات میں آج سے نیا سلسلہ شروع ہو چکا ہے، آزاد جموں و کشمیر کے نیلم، پونچھ اور باغ میں سیلاب کے خطرات بڑھ گئے ہیں، خیبرپختونخوا میں پشاور چترال دیر چار سدہ میں سیلاب کے خطرات زیادہ ہیں۔

    خاور ڈپریشن کا شکار لگ رہے تھے،ہم ابھی کسی نتیجے پر نہیں پہنچے،ڈی آئی جی شہید بینظیر آباد

    ممبر آپریشنز این ڈی ایم اے بریگیڈیئر کامران نے بتایا کہ فروری 2025 سے موجودہ مون سون کے لئے تیاری شروع کر دی گئی تھی، صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر موجودہ مون سون کے لئے نقصانات سے بچاؤ کے اقدامات کیے گئے، بونیر اور باجوڑ میں تباہی کلاؤڈ برسٹ کی وجہ سے ہوئی، دو روز میں 337 لوگ اس وقت تک جاں بحق، 178 لوگ اب تک زخمی ہیں، آرمی اور ایف سی کے ذریعے صوبائی حکومت کو ریسکیو کے لیے وسائل مہیا کیے گئے، کل بونیر میں وفاق کی طرف سے امدادی سامان کی دوسری کھیپ روانہ کی جائے گی۔

    چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ موسم گرما میں گرمی کی شدت ذیادہ ہونے کی وجہ سے مون سون کا پھیلاؤ ذیادہ ہے، گلگت بلتستان میں فلیش فلڈز اور سیاحتی حادثات پیش آئے،ستمبر کے پہلے 10 دنوں تک مون سون کے اسپیل باقی رہیں گے، وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق نقصانات کے ازالے کے لئے سروے کیا جائے گا۔

    سہ فریقی سیریز اورایشیا کپ کے لیے قومی اسکواڈ کا اعلان، بابر اور رضوان ٹیم سے باہر

    ان کا کہنا تھا کہ مواصلات کے نقصانات کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے گا، کل سے ذیادہ جانی نقصان والے اضلاع میں ریلیف پیکجز پہنچائے جائیں گے اگلے دو ہفتوں میں ہمارا فوکس شمالی پنجاب، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان ہو گا، ارلی وارننگ نقصانات سے بچنے کے لئے اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

  • وزیراعظم کی چیئرمین این ڈی ایم اے کو خیبرپختونخوا میں امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت

    وزیراعظم کی چیئرمین این ڈی ایم اے کو خیبرپختونخوا میں امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت

    وزیراعظم شہباز شریف نے چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کو خیبرپختونخوا کے 9 متاثرہ اضلاع میں امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت کر دی۔

    سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ خیبرپختونخوا اور شمالی پاکستان میں کلاؤڈ برسٹ (بادل پھٹنے) اور اچانک سیلاب کی وجہ سے ہونے والی تباہی سے شدید غمزدہ ہیں، دکھ کی اس گھڑی میں اپنے بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ یکجہتی کے لیے کھڑے ہیں، حکومت ریسکیو اور ریلیف آپریشن کے لیے تمام وسائل کو متحرک کر رہی ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ چیئرمین این ڈی ایم اے سے ملاقات میں ہدایت کی ہے کہ سوات، بونیر ، باجوڑ، تورغر، مانسہرہ ، شانگلہ اور بٹ گرام کے متاثرہ اضلاع میں امدادی کارروائیوں کو تیز کیا جائے، باجوڑ اور بٹ گرام پر فوری توجہ دی جائے،پھنسے ہوئے رہائشیوں کو فوری ریلیف فراہم کیا جارہا ہے، زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جارہی ہے اور سڑکوں کو صاف کرنے اور رابطہ بحال کرنے کے لیے بھاری مشینری تعینات کردی گئی ہے۔

    رکنِ قومی اسمبلی اور خاتونِ اول آصفہ بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آفت زدہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں کرنے والے کارکنان ہمارے ہیرو ہیں۔

    خاتون اول آصفہ بھٹو نے خیبر پختونخوا میں بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں ہونے والی تباہی اور انسانی قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہارِ کیا ہےآصفہ بھٹو نے کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی بارشوں اور سیلاب سے تباہی پر اظہارِ افسوس کیا ہےآصفہ بھٹو نے سیلاب اور بارشوں کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے ورثاء کے لیے تعزیت کا پیغام دیا ہے،آصفہ بھٹو زرداری نے ہدایت کی کہ انتظامیہ ان علاقوں پر ترجیحی طور پر توجہ دے جن کا زمینی راستہ منقطع ہو چکا ہے۔

    ادھرپی ڈی ایم اے پنجاب نے کہا ہے کہ بالائی پنجاب میں طوفانی بارشوں اور کلاؤڈ برسٹنگ کے خدشات ہیں،پی ڈی ایم اے پنجاب نے مون سون فلڈ کی صورتحال بارے فیکٹ شیٹ جاری کر دی ہے، گزشتہ 24 گھنٹوں میں مری، راولپنڈی، سیالکوٹ اور بہاولپور میں بارش ریکارڈ کی گئی، آئندہ 24 گھنٹوں میں پنجاب کے بیشتر اضلاع میں شدید بارشوں کی پیشگوئی ہےبالائی پنجاب کے اضلاع میں طوفانی بارشوں اور کلاؤڈ برسٹنگ کے خدشات ہیں۔

    ڈی جی پی ڈ ی ایم ا ے عرفان علی کاٹھیا نے کہا کہ مون سون بارشوں کا ساتواں اسپیل قدرے زیادہ مضبوط ہے طوفانی بارشوں کی پیشگوئی ہے۔انہوں نے انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کی ہیں،ولنرایبل اضلاع کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ دریائے سندھ میں تربیلا اور تونسہ کے مقام پر نچلے درجے کی سیلابی صورتحال ہے جبکہ کالاباغ اور چشمہ کے مقام پر درمیانے درجے کی سیلابی صورتحال ہے۔

    انہوں نے کہاکہ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ دریائے چناب، جہلم اور راوی میں پانی کا بہاؤ نارمل سطح پر ہے،رودکوہیوں اور بڑے دریاؤں سے ملحقہ ندی نالوں میں بھی پانی کا بہاؤ نارمل سطح پر ہے تربیلا ڈیم 98 فیصد جبکہ منگلا ڈیم 68 فیصد تک بھر چکا ہے، بھارتی ڈیمز میں پانی کی سطح 70 فیصد تک ہے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے شہریوں سے گزارش کی کہ موسم برسات میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

    گزشتہ 24 گھنٹوں میں پنجاب میں مون سون بارشوں کے باعث کوئی جانی و مالی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔رواں سال 164 شہری جاں بحق، 582 شہری زخمی 216 گھر متاثر اور 121 مویشی ہلاک ہوئے۔

  • 18 سے 22 اگست: ملک بھر میں موسلادھار بارشوں کی پیشگوئی

    18 سے 22 اگست: ملک بھر میں موسلادھار بارشوں کی پیشگوئی

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے 18 سے 22 اگست کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارشوں کی پیشگوئی کرتے ہوئے تازہ ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔

    ایڈوائزری کے مطابق خیبر پختونخوا کے سیلاب سے متاثرہ اضلاع سمیت چترال، دیر، ہری پور، کرک، کوہاٹ، کوہستان، خیبر، کرم، مانسہرہ، مہمند، نوشہرہ، مالاکنڈ، چارسدہ، ایبٹ آباد، بنوں، بونیر، ہزارہ، پشاور، صوابی، سوات اور وزیرستان میں بارش کا امکان ہے۔ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے استور، اسکردو، ہنزہ، شگر، باغ، وادی نیلم اور مظفرآباد میں بھی بارش متوقع ہے۔

    18 سے 20 اگست کے دوران اسلام آباد، راولپنڈی، مری، گلیات، لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، فیصل آباد، ملتان، بہاولپور، کراچی، حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ اور دیگر شہروں میں بارش ہو سکتی ہے۔ بلوچستان میں زیارت، قلات، خضدار، آواران، سبی اور ڈیرہ بگٹی میں بھی بارش کی پیش گوئی ہے۔

    این ڈی ایم اے نے متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت دی ہے۔ واضح رہے کہ حالیہ سیلابی ریلوں اور کلاؤڈ برسٹ سے خیبر پختونخوا میں 200 سے زائد اموات ہو چکی ہیں۔

    ایل این جی کی قیمتوں میں 1.46 فیصد تک اضافہ

    شاہد آفریدی سمیت متعدد کھلاڑیوں کو قومی اعزازات ملیں گے

    میلانیا ٹرمپ کا ہنٹر بائیڈن کو ایک ارب ڈالر ہرجانے کا نوٹس

    وزراء و اراکین پارلیمنٹ کو ایوارڈز دینا آئین کی خلاف ورزی ہے، ماہرین قانون

  • این ڈی ایم اے کا الرٹ،دریائے ستلج میں سیلاب کا خطرہ

    این ڈی ایم اے کا الرٹ،دریائے ستلج میں سیلاب کا خطرہ

    نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے آئندہ ہفتے کے لیے ممکنہ موسمی صورتحال پر الرٹ جاری کر دیا ہے۔

    ادارے کے مطابق ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں 8 اگست تک بارشیں متوقع ہیں۔این ڈی ایم اے نے دریائے ستلج میں ممکنہ سیلابی صورتحال پر الرٹ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کے بہاؤ میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جو ایک گھنٹے میں 28,657 سے بڑھ کر 33,653 کیوسک تک پہنچ گیا ہے۔الرٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ 5 سے 7 اگست کے دوران بالائی علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث ستلج اور بیاس کے بہاؤ میں مزید اضافہ ہوگا۔

    بھارت میں واقع بھاکڑا ڈیم 55 فیصد اور پونگ ڈیم 56 فیصد تک بھر چکے ہیں، جس کے بعد مزید پانی چھوڑے جانے کا خدشہ ہے۔این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ دریائے ستلج میں اس ہفتے گنڈا سنگھ والا کے مقام پر نچلے درجے کے سیلاب کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

    ادارے کی جانب سے مقامی انتظامیہ کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے فوری ریسپانس تیار رکھا جائے۔
    نکاسی آب اور ممکنہ انخلا کی پیشگی تیاری کی جائے۔تمام متعلقہ اداروں کو بروقت آگاہی فراہم کی جا رہی ہے۔این ڈی ایم اے نے تمام اداروں کو ہدایت کی ہے کہ ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات مکمل رکھے جائیں تاکہ کسی بھی جانی یا مالی نقصان سے بچا جا سکے۔

    مولانا فضل الرحمٰن کا نواز شریف سے رابطہ، کزن کے انتقال پر تعزیت

    بھارت: سیلاب سے تباہی، 4 افراد ہلاک، 50 سے زائد لاپتا

    آیہ صوفیہ مسجد کو آگ لگانے کی کوشش ناکام، ملزم گرفتار

    نادرا کا بڑا اقدام: جانشینی سرٹیفکیٹ کسی بھی مرکز سے حاصل کیا جا سکتا ہے

  • ملک بھر میں مزید طوفانی بارشیں ، سیلاب اور لینڈسلائیڈنگ کا خطرہ، الرٹ جاری

    ملک بھر میں مزید طوفانی بارشیں ، سیلاب اور لینڈسلائیڈنگ کا خطرہ، الرٹ جاری

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں 5 تا 10 اگست شدید بارشوں کی پیش گوئی کردی۔

    تفصیلات کے مطابق این ڈی ایم اے کے نیشنل ایمر جنسی آپریشن سینٹر نے اگلے ہفتے کے لیے ممکنہ موسمی صورتحال پر رپورٹ جاری کردی جبکہ ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں 5 تا 10 اگست شدید بارشوں کے باعث ممکنہ سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری کردیا گیا۔

    دریائے چناب (مرالہ، کھنکی، قادرآباد) اور دریائے جہلم (منگلا کے بالائی علاقوں) میں درمیانے سے اونچے درجے کے سیلاب کا امکان ہےدریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر بہاؤ تیز ہونے کا خدشہ ہے جبکہ سوات اور پنجکوڑہ کے ندی نالوں میں طغیانی متوقع ہے جبکہ تربیلا، کالا باغ، چشمہ، تونسہ اور گڈو بیراج میں موجودہ بہاؤ نچلے درجے کا ہے تاہم آئندہ دنوں میں درمیانے درجے تک پہنچنے کا امکان ہے۔

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کاپولیس شہداء کے لواحقین کو پلاٹ اور 50 ہزار روپےدینے کا اعلان

    گلگت بلتستان کے دریائے ہنزہ اور شگر میں بھی بہاؤ بڑھنے کا خدشہ ہے اور ہسپر، خنجراب، شمشال، برالدو، ہوشے اور سالتورو ندی نالوں میں طغیانی متوقع ہےبلوچستان کے اضلاع موسیٰ خیل، شیرانی، ژوب اور سبی کے ندی نالوں میں بھی طغیانی کا خطرہ ہے جبکہ مون سون بارشوں کے نتیجے میں تربیلا ڈیم 90 فیصد جبکہ منگلا ڈیم 60 فیصد بھر چکے ہیں۔

    این ڈی ایم اے نے شہری علاقوں، خصوصاً شمال مشرقی اور وسطی پنجاب میں نکاسی آب کے لیے متعلقہ اداروں کو ڈی واٹرنگ پمپس تیار رکھنے کی ہدایت کی ہےاین ڈی ایم اے تمام متعلقہ اداروں کو ممکنہ خطرات کے حوالے سے بروقت آگاہی فراہم کر رہا ہےاین ڈی ایم اے کی جانب سے تمام متعلقہ اداروں کو ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات اور تیاری کی ہدایت جاری کردی گئی ہیں۔

    ٹرمپ کی رہائشگاہ کے اوپر فضائی حدود کی خلاف ورزی، امریکی جنگی طیارے حرکت میں آگئے

    این ڈی ایم اے مطابق عوام لینڈسلائیڈنگ اور ممکنہ سیلابی صورتحال کے حوالے سے حساس علاقوں میں غیر ضروری سفر سے گریز کریں، تیز بہاؤ کی صورت میں ندی نالوں، پلوں اور پانی میں ڈوبی سڑکوں سے گزرنے سے گریز کریں، مقامی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے نشیبی علاقوں سے فوری نکاسی آب کے لیے ضروری مشینری اور پمپس تیار رکھیں، عوام سے گزارش کی ہے کہ موسم اور ممکنہ خطرات کے حوالے سے آگاہی کے لیے پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ ایپ سے راہنمائی لیں۔

    دوسری جانب محکمہ موسمیات نے گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا میں رواں ہفتے طوفانی بارش کا امکان ظاہر کردیا جبکہ پہاڑی علاقوں میں گلیشیئر اور جھیل پھٹنے کا الرٹ جاری کردیا گی، برفانی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور فلیش فلڈز کا خدشہ ہے، بعض مقامات پر موسلا دھار بارشیں متوقع ہےمحکمہ موسمیات نے شہریوں اور متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے جبکہ ممکنہ خطرات کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ کو خبردار کر دیا گیا ہے۔

    صدر مسعود پزشکیان کا دورہ:پاکستان کی میزبانی کو ایرانی سفیر نے تاریخی قرار دیا

    محکمہ موسمیات کے مطابق لاہور میں اس وقت مون سون کا ایک کمزور سسٹم موجود ہے، جس کے باعث بارشوں کی شدت میں کمی دیکھنے میں آئی ہے، جس کی وجہ سے شہر میں بارشوں کا سلسلہ سست روی کا شکار ہو گیا ہے اور درجہ حرارت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ لاہور میں آج کم سے کم درجہ حرارت 27 جب کہ زیادہ سے زیادہ 35 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ہے۔

    ترجمان کے مطابق پنجاب کے بیشتر اضلاع میں موسلا دھار بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے، خاص طور پر دریاؤں کے بالائی طاس علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ تیز بارشوں کا امکان ہے۔ 5 اگست سے ہونے والی بارشوں کے نتیجے میں دریائے چناب اور جہلم میں درمیانے سے اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    پی ڈی ایم اے نے اپنے صوبائی کنٹرول روم سمیت تمام ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آپریشن سنٹرز کو ہائی الرٹ کر دیا ہے ممکنہ متاثرہ اضلاع میں راولپنڈی، فیصل آباد، گجرانوالہ، سرگودھا، ملتان، ساہیوال، بہاولپور، جہلم، اٹک، چکوال، مری، گلیات، میانوالی، نارووال، گجرات، سیالکوٹ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، منڈی بہاالدین اور ڈی جی خان شامل ہیں، جہاں شدید بارشوں کا خدشہ ہے۔

    یومِ استحصالِ کشمیر :آئی ایس پی آر کا نیا نغمہ جاری

    پی ڈی ایم اے نے نشیبی علاقوں میں ندی نالوں میں طغیانی جب کہ مری کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے سے بھی خبردار کیا ہے،شہریوں، سیاحوں اور مسافروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اس دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور انتہائی احتیاط برتیں۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے تمام متعلقہ اضلاع کو ہدایت کی ہے کہ عملہ اور مشینری کو مکمل ہائی الرٹ رکھا جائے، واسا اور میونسپل ادارے نشیبی علاقوں میں پانی کھڑا نہ ہونے دیں اور تمام متعلقہ افسران بارش کے دوران فیلڈ میں موجود رہ کر صورتحال کی خود نگرانی کریں۔

  • تربیلا ڈیم کے اسپل ویز کھلنے کا فیصلہ، 2 لاکھ 50 ہزار کیوسک بہاؤ کا خدشہ

    تربیلا ڈیم کے اسپل ویز کھلنے کا فیصلہ، 2 لاکھ 50 ہزار کیوسک بہاؤ کا خدشہ

    تربیلا ڈیم کے اسپل ویز آج کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں دریائے سندھ کے بہاؤ میں نمایاں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق اسپل ویز کھلنے سے دریائے سندھ میں پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 50 ہزار کیوسک تک ہو سکتا ہے۔این ڈی ایم اے نے ملحقہ علاقوں میں رہائش پذیر شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ آبی گزرگاہوں کے قریب جانے سے گریز کریں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ترجمان این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ اتھارٹی نے تمام متعلقہ اداروں کو ممکنہ صورتحال کے پیش نظر پیشگی اطلاع دے دی ہے۔

    عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ دریائے سندھ کے قریب سیاحتی مقامات پر جاتے وقت انتہائی احتیاط برتیں اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے محفوظ رہنے کے لیے حفاظتی اقدامات پر عمل کریں۔

    حماس کی نئی ویڈیو ، اسرائیلی یرغمالی کی حالت زار منظرعام پر

    سپریم کورٹ کراچی رجسٹری کا روسٹر جاری، 4 اگست سے مقدمات کی سماعت

    آصف زرداری اور ایرانی صدر کی ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق

    چیئرمین سینیٹ اور ایرانی صدر کی ملاقات، فلسطین و کشمیر حمایت پر گفتگو

  • بارشوں اور سیلاب سے جاں بحق افراد کی تعداد 299 ہوگئی، این ڈی ایم اے

    بارشوں اور سیلاب سے جاں بحق افراد کی تعداد 299 ہوگئی، این ڈی ایم اے

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق ملک بھر میں مون سون سیزن کے دوران بارشوں سے جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 299 ہو گئی۔

    این ڈی ایم اے نے بتایا ہے کہ مون سیزن کے دوران 26 جون سے اب تک ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 234 سے بڑھ کر 299 ہوگئی ہے جبکہ 715 افراد زخمی ہوئے ہیں اس سال کی طوفانی بارشوں اور سیلاب میں کم از کم 299 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جب کہ مزید 715 افراد زخمی ہوئے ہیں، جاں بحق ہونےو الوں میں 140 بچے، 102 مرد اور 57 خواتین شامل ہیں، زخمیوں میں 239 بچے، 204 خواتین اور 272 مرد شامل ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق،بارشوں اور سیلاب کے دوران عوامی املاک کو پہنچنے والے نقصان کی تفصیلات میں بتایا گیا کہ کل 1676 مکانات کو نقصان پہنچا، جن میں سے 562 مکمل طور پر تباہ ہو گئے، بارشوں کے دوران 428 مویشی بھی ہلاک ہو گئے26 جون سے اب تک، این ڈی ایم اے نے متاثرہ علاقوں سے 2880 افراد کو ریسکیو اور محفوظ مقام پر منتقل کیا، جبکہ امدادی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔

    بجلی سستی ہونے کا امکان

    رپورٹ کے مطابق این ڈی ایم اے نے 13466 امدادی اشیاء تقسیم کیں، جن میں 1999 خیمے، 61 راشن بیگ، 958 کمبل، 569 رضائیاں، 613 گدے، 1282 کچن سیٹ، 1163 فوڈ پیک، 350 لائف جیکٹس، 1122 حفظانِ صحت کے گھریلو کٹس، 2170 ترپالیں اور 146 پانی نکالنے والی مشینیں شامل ہیں۔

    اسرائیلی وزیرکی قیادت میں سیکڑوں یہودی مسجد اقصیٰ میں داخل