Baaghi TV

Tag: بابری مسجد

  • بابری مسجد کی شہادت کو 32 سال مکمل، قاتل آج بھی آزاد

    بابری مسجد کی شہادت کو 32 سال مکمل، قاتل آج بھی آزاد

    بھارت میں بابری مسجد کی شہادت کو 32 سال مکمل ہوگئے، انتہاپسند ہندوؤں کے حملے میں دو ہزار مسلمان شہید ہزاروں زخمی ہوئے تھے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق 6دسمبر 1992 کو اتر پردیش کے شہر ایودھیا میں بابری مسجد پر حملہ کرنے والوں کا تعلق بھارتیہ جنتا پارٹی، آر ایس ایس، وشوا ہندو پریشد اور بجرنگ دل سے تھا۔9 نومبر 2019 کو بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد شہادت میں ملوث تمام ملزم بری کردیئے۔بابری مسجد کی شہادت کے دوران مسلمانوں نے شدید احتجاج اور مزاحمت کی،فسادات میں 2 ہزار سے زائد مسلمان شہید ہوگئے ،2009 میں جسٹس منموہن سنگھ کی تحقیقاتی رپورٹ میں بی جے پی رہنماؤں سمیت 68 افراد کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ہیومن رائٹس واچ کے مطابق 1992 سے اب تک صرف بھارتی ریاست گجرات میں 500 مساجد اور مزارات گرائے جا چکے ہیں۔

    عمران توہین عدالت سمیت اہم کیسز سماعت کیلئے مقرر

    آسٹریلیا : یہودی عبادت گاہ پر حملےمیں پانچ افرادزخمی

    الخدمت کے رضا کارہی اس کے فرنٹ لائن سپاہی ہیں،منعم ظفر خان

    نیپرا نے بجلی صارفین کیلیے ونٹر پیکج کی منظوری دے دی

    سرفراز دلبرداشتہ ،ریٹائرمنٹ کا اشارہ دے دیا

  • رام مندر کی تعمیر ۔۔۔سوگئی قوم مسلم کی تقدیر ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    رام مندر کی تعمیر ۔۔۔سوگئی قوم مسلم کی تقدیر ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    مولانا ابوالکلام آزاد کی سیاسی سوچ اور اپروچ سے اختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن ان کی علمی وجاہت اور ثقاہت سے انکار ممکن نہیں ۔ مولانا ابولکلام آزاد کی ایک مشہور تقریر کااقتباس ہے جس میں وہ ہندوستان کے مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں ” وہ ہمارے ہی آباءتھے جو سمندروں میں اتر گئے ، پہاڑوں کی چھاتیوں کو روند ڈالا ، بجلیاں آئیں تو ان پہ مسکرا دیے ، بادل گرجے تو قہقہوں سے جواب دیا ، صرصر اٹھی تو رخ پھیر دیا، ہوائیں چلیں تو کہا جاﺅ تمہارا راستہ یہ نہیں۔۔۔۔۔ آج ہمارے ایمان کی جان کنی کا یہ عالم ہے کہ بڑے بڑے شہنشاہوں کے گریبانوں سے کھیلنے والے آپس میں دست وبہ گریبان ہیں اور خدا سے اس درجہ غافل ہیں کہ جیسے کبھی اس پر ایمان نہ تھا ۔ یاد کرو ۔۔۔۔! وہ وقت جب تم ہندوسان میں آئے ، تب تم انگلیوں پر گنے جاتے تھے تم نے گنگا اور جمنا کے پانیوں سے وضو کرکے بتکدہ ہند میں نعرہ توحید بلند کیا تھا ۔ اس وقت تمہارے لئے نہ خوف تھا نہ ڈر تھا ۔“

    توحید کی برکت سے جس ہندوستان پر مسلمانوں نے آٹھ سو سال حکومت کی تھی ۔۔۔آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ اسی ہندوستان کی سرزمین مسلمانوں کےلئے اجنبی ہوچکی ہے ۔ اس ہندوستان میں مسلمانوں کی عزتیں محفوظ رہیں ، نہ مسجدیں اور نہ جان ومال ۔ جس کی تازہ مثال بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر ہے ۔ بابری مسجد نہ تو اچانک شہید کی گئی تھی اور نہ ہی اس جگہ راتوں رات رام مندر تعمیر ہوا ہے بلکہ سالہاسال میں یہ دونوں پایہ تکمیل کو پہنچے ہیں ۔ بابری مسجد جب شہید کی گئی اس وقت بھارت کے مسلمانوں نے مقدور بہ احتجاج کیا اگرچہ اس احتجاج کی انھیں بھاری جانی مالی قیمت ادا کرنا پڑی لیکن اب جبکہ نریندر مودی نے بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی پہلی منزل کا افتتاح کیا ہے تو چہار سو سناٹا ہے ۔پاکستان جو بھارت میں رہ جانے والے مسلمانوں کا وکیل تھا اس پاکستان کے حکمرانوں نے رام مندر کی تعمیر کو ایک اخباری بیان پر ٹرخا دیا ہے ۔ جہاں تک بھارت کے مسلمانوں کا تعلق ہے ۔۔۔وہ بیچارے کریں تو کیا کریں۔۔۔۔ جائیں تو کہاں جائیں ۔ جس پاکستان کے قیام کےلئے انھوں نے جانی مالی قربانیاں دی تھیں ۔۔۔۔اس پاکستان نے ان سے آنکھیں پھیر لی ہیں ۔ اب تو یوں لگتا ہے جیسے بھارتی مسلمانوں میں احتجاج کی سکت بھی نہیں رہی ۔ یہ سب اسلئے ہورہا ہے کہ پاکستان بھارت میں رہ جانے والے اپنے مسلمان بھائیوں کو بھول چکا ہے۔پاکستان کے قیام کےلئے سب سے زیادہ قربانیاں ان علاقوں کے مسلمانوں نے دی تھیں جہاں وہ خود اقلیت میں تھے اور ہندو اکثریت میں تھے ۔ اقلیتی علاقوں کے مسلمانوں نے پاکستان کےلئے سب کچھ قربان کرنے کا نہ صرف عہد کیا بلکہ یہ عہد ایفا بھی کردیا تو وہ علاقے جہاں مسلمان اکثریت میں تھے انھوں نے کہا تھا ہمارے بھائیو۔۔۔۔! پاکستان بن جانے کے بعد ہم تمہیں بھولیں گے نہیں ۔

    23مارچ 1940ءکو جب لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کا اجلاس ہوا تو اس میں ہندوستان بھر کے مسلمانوں نے شرکت کی تھی ۔ اس اجلاس میں جب وہ قراداد پیش کی گئی جو تاریخ میں قرارداد پاکستان کے نام سے مشہور ہوئی تو اس کے بعد مسلمانوں کی خوشی کا دیدنی عالم تھا ۔ تب میرٹھ سے تعلق رکھنے والے ایک نمائندے سید رﺅف شاہ نے مسلم اکثریتی صوبوں سے آئے ہوئے وفود کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا”جان سے عزیز بھائیو!جب آپ آزاد اور خود مختار ہوجائیں گے تو بھارت کے ہندو ہمیں نیست ونابود کر دیں گے۔ ہمیں پاکستان کے ساتھ محبت کی سزا دی جائے گی ،ہمیں شودروں کی طرح زندگی بسر کرنا ہوگی،اس کے باوجود ہم خوش ہوں گے کہ کم از کم آپ تو آزاد فضا میں سانس لیں گے۔جب آپ آزاد ہو جائیں اور آزاد مملکت میں زندگی بسر کرنے لگیں تو کبھی کبھی ہمارے لئے بھی دعائے مغفرت کر لیا کرنا۔“سید رﺅف شاہ اپنی ساری تقریر کے دوران روتے رہے ،ہزاروں شرکائے اجلاس کوبھی رولادیا ۔ آخر میں کہنے لگے”بھائیومیرے آنسو اس لئے نہیں کہ ہندو ہمارے ساتھ کیا سلوک کریں گے،ہمیں چیریں پھاڑیں گے بلکہ یہ تو خوشی کے آنسو ہیں کہ آپ ایک ایسے ملک میں زندگی بسر کریں گے جو آزاد ہو گا اور جس کی بنیاد لا الہ الا اللہ پر ہو گی۔“سید رﺅف شاہ نے جب یہ بات کہی تو مجمع پر عجب کیفیت طاری ہو گئی،آنسو بے قابو ہو گئے ، ضبط کے بند ھن ٹوٹ گئے اور ہچکیاں بندھ گئیں۔تب حاضرینِ اجلاس میں سے بعض اٹھے اور کہاپاکستان صرف ہمارا ہی نہیں آپ کابھی ہو گا ،یہ اسلام اور قرآن کا ملک ہو گا۔ ہم بھارت میں رہ جانے والے اپنے بھائیوں کوبھولیں گے اور نہ بے یارومددگا ر چھوڑ یں گے۔آپ کا تحفظ اور مدد ہمارا اولین فرض ہو گا۔بھارت میں رہ جانے والے مسلمان سمجھتے تھے کہ پاکستان اسلام کا قلعہ ہوگا ان کی عزت وعصمت کا محافظ ونگہبان ہوگا ۔ پاکستان سے پھر محمد بن قاسم اور محمود غزنوی جیسے مجاہد پیدا ہوں گے جو ان کی ماﺅں بہنوں ، بیٹیوں اور مسجدوں کی حفاظت کریں گے ۔ان کی طرف بڑھنے والے ہندﺅوں کے ہاتھ کاٹیں گے ۔

    یہ تھے 23مارچ1947ءکے موقع پر مسلمانوں کے احساسات اور جذبات ۔افسوس صد افسوس آج ہم یہ سب کچھ بھول گئے ۔ بابری مسجد شہید کر دی گئی ہماری غیرت ایمانی نہ جاگی ۔ بابری مسجد کی جگہ رام مندر تعمیر ہوگیا ۔۔۔۔۔تب بھی ہمارے حکمران ، سیاستدان ،تمام مذہبی سیاسی جماعتیں اور میڈیا خاموش تماشائی بنے رہے ۔

    بابری مسجد۔۔۔۔ جو کعبہ کی بیٹی تھی ،عالی شان تھی اس کانام ونشان بھی مٹادیا گیا ۔بابری مسجد کو شہید لکھتے ہوئے قلم کانپتا ہے ، آنکھیں بھیگ جاتی ہیں یہ سوچ کر کہ جب گاﺅ ماتا اور بتوں کے پجاری اس کے گنبدوں پر چڑھے ، ان پر کدالیں چلانا شروع کیں تو کعبے کی بیٹی چلاتی رہی کہ محمود غزنوی کے فرزند کدھر ہیں ؟ ظہیر الدین بابر کے گھوڑوں کے ٹاپوں کی آوازیں کیوں خاموش ہیں ؟ ۔۔۔۔ کوئی ہے جو میری مدد کو پہنچے ، کون ہے جو مجھے گاﺅ ماتا کے پجاریوں سے بچائے ۔

    بابری مسجد کو بچانے پاکستان پہنچا نہ کوئی دوسرا مسلمان ملک ۔ مسجد کو بچانے کےلئے صدائے احتجاج بھارت کے مسلمانوں نے ہی بلند کی جس کی انھیں بھاری جانی مالی قیمت چکانا پڑی ۔ اس کے بعد مسلمان سپریم کورٹ پہنچے ان کا خیال تھا کہ شائد سے انھیں یہاں سے انصاف ملے گا ، وہ سمجھتے تھے کہ یہ عدلیہ کا سب سے اعلیٰ ادارہ ہے جہاں انصاف کا ترازو تھامے منصف بیٹھے ہیں ۔۔۔۔ لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ عدلیہ میں بیٹھے جج بھی ہندو پہلے اور جج بعد میں ہیں ۔یہی وجہ تھی کہ جس طرح بابری مسجد کی شہادت کے وقت جنونی ہندﺅوں نے مسلمانوں کا خون بہایا ایسے ہی بھارتی عدلیہ نے بھی انصاف کا قتل عام کیا ۔ سپریم کورٹ نے مسلمانوں کی پٹیشن کے جواب میں جو فیصلہ سنایا وہ بھی دنیا کی تاریخ کا انوکھا فیصلہ تھا ججوں نے اپنے فیصلے میں لکھا اگرچہ ہمیں کسی مندر کے آثار نہیں ملے تاہم جھگڑا نمٹانے کےلئے ضروری ہے کہ یہاں مندر بنادیا جائے ۔ بہر حال مندر بن گیا اس کا افتتاح بھی ہوگیا ۔ حقیقت میں دیکھاجائے تو یہ مندر زمین پر نہیں مسلمانوں کی غیرت ایمانی سے تہی لاشوں پر بنا ہے ۔ جب غیرت مر جائے اور ایمان مردہ ہوجائیں تو پھر یہی کچھ ہوتا ہے ۔ اب بھی وقت ہے مسلمان سنبھل جائیں ، پاکستان کے حکمران ،سیاستدان ، جرنیل اپنی ذمہ داری کو سمجھیں نفرت اور انتقام کی جس آگ میں ہمارے ہندوستانی مسلمان جل رہے ہیں اسے بجھائیں ورنہ وہ وقت دور نہیں کہ جب یہ آگ ہمیں بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گی ۔

  • بابری مسجد کی طرح ”گیا نواپی مسجد“ کو بھی منہدم کرنے کی دھمکی

    بابری مسجد کی طرح ”گیا نواپی مسجد“ کو بھی منہدم کرنے کی دھمکی

    لکھنو: بابری مسجد کی طرح ”گیا نواپی مسجد“ کو بھی منہدم کرنے کی دھمکی ،اطلاعات کے مطابق اپنے متنازعہ اور فرقہ وارانہ بیانات اور نفرت پھیلانے کے لیے مشہور بھارتیہ جنتاپارٹی کے رہنما سنگیت سوم نے ریاست اتر پردیش کے شہر بنارس میں واقع مغل دور کی ” گیانواپی مسجد“ کو بھی بابراہ مسجد کی طرح منہدم کرنے کی کھلی دھمکی دی گئی ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سنگیت سوم نے میرٹھ شہر میں ایک تقریب میں گیانواپی مسجد پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو 1992 کو یاد رکھنا چاہیے جب بابری مسجد کو منہدم کیا گیا تھا۔ انہوںنے کہا کہ اب نوجوانوں کی طاقت دوگنی ہو گئی ہے اور وقت آ گیا ہے کہ ایک اور فیصلہ کیا جائے۔انہوںنے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ مغل شہنشاہ اورنگ زیب جیسے لوگوں نے مندر کو گرا کرنواپی مسجد بنائی ہے اور اب مندر کو واپس لینے کا وقت آگیا ہے۔
    سنگیت سوم نے اپنے فیس بک پیج پر بھی لکھا کہ "اورنگ زیب نے گیانواپی مسجد بنائی۔ 1992 میں بابری منہدم کی گئی اور اب 2022 میں گیانواپی کی باری ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ اس مندر کو واپس لیا جائے جسے مسجد بنانے کے لیے منہدم کیا گیا تھا“۔

    کانگریس کے ترجمان سریندر راجپوت نے سوم کے متنازعہ اور غیر ذمہ دارانہ بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ بالکل بی جے پی کا گیم پلان ہے کہ معاشرے میں بدامنی اور تقسیم پیدا کی جائے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ بی جے پی کو اس طرح کے بیانات سے سماجی تانے بانے کو پہنچنے والے نقصان کا احساس کرے گی۔ انہوںنے کہا کہ گیانواپی کا مسئلہ اٹھایا گیا ہے اور اسی طرح تاج محل کا مسئلہ بھی اٹھایا جائے گا ہے اور ہم خطرناک وقت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

  • شیعہ وقف بورڈ کی جانب سے رام مندر کی تعمیر کیلئے 51,000 چندہ جمع کرایا گیا

    نئی دہلی :اپنے ہی گراتے ہیں‌ نشمین پہ بجلیاں‌،بابری مسجد کی شہادت اور مسجد کی جگہ پرمندر کی تعمیر پراتنی خوشی ہندووں کو نہیں‌ہوئی جتنی بھارت میں‌ چند مسلمان مسالک کے قائدین کوہوئی ،اطلاعات کےمطابق شیعہ وقف بورڈ کی جانب سے رام مندر کی تعمیر کیلئے 51,000 چندہ جمع کرایا گیا

    اترپردیش سے ذرائع کے مطابق شیعہ وقف بورڈ کے چیئرمی وسیم رضوی نےیہ رقم جمع کراتے ہوئے کہا کہ شعیہ وقف بورڈ مندر کی تعمیر کے لیے ہرممکن تعاون بھی فراہم کرے گا ، شعیہ وقف بورڈ کی طرف بھارت کی ممتاز مذہبی شخصیت مولانا سلمان ندوی نے سپریم کورٹ کی طرف سے مسجد کی جگہ مندر تعمیرکرنے کے فیصلے تعریف کرتے ہوئے کہا کہ میری بھی خواہش یہی تھی کہ اس جگہ مندر تعمر ہوجائے،سپریم کورٹ نے بھی درست فیصلہ کیا مسلمانوں کو مسجد کی جگہ مندرتعمیر کرنےکی حمایت کریں

    مقبوضہ کشمیر:کرفیو،بھارتی مظالم اورقتل عام کا 102 واں‌ دن،کشمیری جھکے نہیں‌،آزادی کی جنگ جاری

    یاد رہےکہ بابری مسجد مسلمان بادشاہ ظہیرالدین بابرنے تعیمری کروائی تھی ،جسے ہندووں نے 1992 میں شہید کردیا تھا ،یہ تنازعہ اس وقت سے مختلف فورموں پرزیربحث رہا ہے، لیکن پچھلے ہفتے بھارتی سپریم کورت نے ہندوتوا کا تحفظ کرتے ہوئےمسجد کی جگہ مندرتعمیر کرنا حکم دیا ہے،

  • بابری مسجد کی جگہ مندر،ہندوتواعدالتی فیصلہ نامنظور، مسلمان سڑکوں پرنکل آگئے

    کوچی:بھارت جہاں ایک طرف کشمیرپرغاصبانہ قبضے کے ذریعے مسلمانوں پر ظلم وتشدد کی تمام حدین پارکررہےوہاں دوسری طرف بھارت کے اندررہنے والے مسلمانوں کو بھارت نےنہیں بخشا اور مسلمانوں کے مرکزومحوربابری مسجد کی جگہ مندرتعمیرکرنےکا عدالتی آمریت کے ذریعے تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے ،

    سیکورٹی اداروں نےبتایا کہ حافظ حمداللہ افغانی ہیں اورشہریت کے لبادے میں پاکستانی ہیں ،اعظم سواتی

    ذرائع کے مطابق بابری مسجد کی جگہ مندرہندوتواعدالتی فیصلہ نامنظور،مسلمان سڑکوں پرنکل آگئے،اجودھیا تنازع پر آئے سپریم کورٹ کے یکطرفہ فیصلہ کی مخالفت شروع ہوگئی اور اس سلسلے میں کیرالہ میں آج مسلمانوں نے بڑے پیمانے پر احتجاج درج کرایاہے ۔

    10 افراد کے قتل کے الزام میں ‘پی ایس پی’ کارکن گرفتار

    پاپولرفرنٹ آف انڈیا کے بینرتلے کیرالامیں مسلمانوں آج احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا جس میں انہوں نے بابری مسجد ۔رام مندر تنازع پر سپریم کورٹ کے فیصلہ کو غلط ٹھہراتے ہوئے کہاکہ آستھا کی بنیاد پر ہے ،دلیل اور شواہد کو نظر انداز کیاگیاہے ۔مسلمانوں کو سپریم کورٹ سے انصاف کی امید تھی لیکن سپریم کورٹ نے مسلمانوں کو مایوس کردیا ۔

    کلاشنکوف کے موجد میخائل کلاشنکوف نے سنچری مکمل کرلی

    مظاہرین نے کہاکہ سپریم کورٹ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے اور بابری مسجد کی زمین مسلمانوں کوواپس کرے ۔ان کا کہناتھا کہ جب سپریم کورٹ نے تسلیم کرلیاہے کہ بابرکے زمین کوئی بھی مندر توڑ کر مسجد نہیں بنائی گئی تھی ،یہاں نماز ہوتی رہی ہے اور 1949 میں مورتی رکھی گئی تھی رام پرکٹ نہیں ہوئے تھے پھر کس بنیاد پر سپریم کورٹ بابری مسجد کی جگہ پر مندر بنانے کا فیصلہ سنادیاہے ۔

  • بابری مسجد کیس,ہندو انتہا پسند اور عدالتیں ایک پیج پر پاکستان عالمی عدالت کا رخ کرے, ملک ظہیر اعوان

    راولپنڈی :بابری مسجد کیس کے فیصلے سے پوری امت مسلمہ کے نوجوانوں کے سینوں میں مزید آگ بھڑکا دی ہے۔آگے ہی نہتے مظلوم کشمیریوں کے ساتھ ظلم وجبر بربریت کے پہاڑ توڑے جارہے تھے جس پر امت مسلمہ کے نوجوانوں میں شدید غم وغصہ پایا جاتا تھا۔ظہیراحمداعوان چئیرمین سٹیزن ایکشن کیمٹی وسابق سٹی جنرل سیکریڑی تحریک انصاف نے القلم اکیڈیمی ظفرالحق روڈ پر اقبال ڈے کی مناسبت سے پروگرام میں نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے بابری مسجد کیس پر ردعمل دیتے ہوئے مزید کہا کہ امت مسلمہ کے نوجوانوں کو اقبال کے شاہین کی صفات پیدا کر کے فلسفہ خودی کو اپنا کر پوری دنیا میں اپنا مقام بنانا پڑے گا۔حکومت پاکستان کو تمام بین الاقوامی فورم پر بھارتی حکومت کے انتہا پسند رویے اور بابری مسجد کیس کے ناانصافی خلاف میرٹ فیصلے پر پوری قوت سے مہم چلانی چاہیے اور آئی سی جے میں جانا چاہیے تاکہ دنیا کے سامنے بھارتی حکومت اور سپریم کورٹ کا انتہا پسندانہ چہرہ واضع ہو سکے۔

  • اجیت ڈوال کی مذہبی رہنماؤں کے ساتھ میٹنگ،مودی حکومت کا ساتھ دینے کا عہد

    نئی دہلی: ایودھیا مسئلہ پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ملک بھر میں امن وامان قائم رکھنے کےلیے آج قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوال نے مذہبی رہنماؤں کے ساتھ میٹنگ کی۔ ڈوال کی رہائش گاہ پر ہوئی۔5 گھنٹے طویل ملاقات 11 بجے سے شام 4:00 بجے تک۔ جس میں 50 کے قریب مذہبی رہنماؤں نے حصہ لیا۔ مدنی اور رام دیو ملاقات کے اختتام پر روانہ ہوگئے۔

    پاکستانیو!تمہارا وزیراعظم عمران خان ریاست مدینہ پر کامل یقین رکھتا ہے : صدر مملکت

    اس میٹنگ میں متنازعہ بیانات دینے کے لیے معروف یوگا گرو بابا رام دیو، ، پروفیسر اخترالواسع، علماء کونسل کے جنرل سکریٹری مولانا محمود دریابادی، رضا اکیڈمی کے سربراہ سعید نوری، سوامی پرماتمانند، شیعہ مذہبی رہنمامولانا کلب جواد سمیت کئی دیگرموجودتھے۔

    طوفان بلبل نے بھارت اور بنگلادیش میں تباہی مچادی ، 8 ہلاک،20 لاکھ افراد بے گھر

    وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کے لیڈر آلوک کمار نے ملاقات کے بعد کہا کہ آج کا اہم مسئلہ یہی تھا کہ کس طرح ملک میں امن اور امن قائم رہے۔ تمام مذہبی رہنماؤں نے اسی بات پر زوردیا کہ وہ ملک میں امن اور امن چاہتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ فیصلہ سب کے دماغ مطابق نہ رہا ہو لیکن ملک سب سے بڑھ کرہے اور ملک کا امن سب کے لیے اہم ہے۔

    نبی رحمت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی راہ پرچلنے والا ہر قسم کی غلامی سےآزاد ہوجاتا ہے، عمران خان

    اجلاس میں موجود رہے دیگر سنتوں نے بتایا کہ اہم مسئلہ ملک میں کس طرح امن قائم رہے، یہی تھا۔ ہم سب اس کے لیے کوشش کریں گے۔ہمیں امید ہے کہ ایودھیا فیصلے کے بعد ہندو مسلمانوں کے مابین پرانے اختلافات ختم ہوجائیں گے۔ ملک میں امن کی نئی امید پیدا ہوگی ، جو بھی فیصلہ آیا ہے ، ہم سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا پوری دل سے احترام کرتے ہیں۔

  • ججوں کو سلام ،مسجد کی جگہ مندرکا فیصلے پربہت خوشی ہوئی ہے،مولانا سلمان ندوی

    لکھنو:ججوں کو سلام ،مسجد کی جگہ مندرکا فیصلے پربہت خوشی ہوئی ہے ان خیالات کا اظہار بھارت کے معروف عالم دین مولانا سمان ندوی نے ہندووں کے نام ایک ویڈیوپیغام میں کیا ،مولانا سلمان ندوی نے کہا کہ مودی اور بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے نے دل خوش کردیا

    ذرائع کے مطابق اجودھیا تنازع پر سپریم کورٹ کے فیصلے کا معرو ف عالم دین مولانا سلمان ندوی نے خیر مقدم کیاہے اور اپنی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملک میں حق بہتر بتایاہے ۔ فیصلہ سنانے کی جرات کرتے ہوئے انہوں نے پانچوں ججز کو مبارکباد بھی پیش کی ہے ۔

    سپریم کورٹ کے ہندووں کے حق میں فیصلے سے حوصلہ ملا،اسی کی تناظر میں آگے بڑھیں گے:مودی

    بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کی تائید اور مودی حکومت کے بیان کی تصدیق کرتے ہوئے فیس بک پر لائیو آکر مولانا سلمان ندوی نے کہاکہ ہم نے پہلے ہی کہاتھاکہ بابری مسجد کی جگہ رام مند ر کی تعمیر کیلئے دے دی جائے لیکن مسلمانوں نے ہماری مخالفت کی ۔

    بابری مسجد قیام سے انہدام تک، بھارتی حکومت، عدالت ہندوتوانظریے کے پیروکاربن کر سامنے آئے

    اب جو فیصلہ آیاہے وہ ہماری پیشن گوئی کے مطابق ہے۔ہمارے ملک اور پور ی دنیا کی سب سے بڑی ضرور ت امن ہے اور یہ فیصلہ امن کے تقاضوں کو پورا کرتاہے ۔ہم نے اسی کی کوشش کی تھی ، پورے ملک کے ذمہ داروں سے بات کی تھی لیکن میری مخالفت ہوئی ۔ مزید تفصیل کیلئے ان کا بیان سنیئے ۔

  • بابری مسجد کیس کا فیصلہ، حکام نے سکولوں میں جیلیں قائم کردیں

    نئی دہلی :بھارتی مسلمانوں کے لیے جیلیں تیار،بابری مسجد کے فیصلے کےخلاف ردعمل کے طور پر بھارت حکومت نے بڑی تعداد میں گرفتاریوں کے پیش نظرمختلف سرکاری مقامات کو جیلوں میں تبدیل کرنےکا فیصلہ کیا ہے، اطلاعات کے مطابق بابری مسجد کیس کا فیصلہ بنانے سے قبل سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر بھارتی حکام نےسکولوں میں بھی جیلیں قائم کردی۔

    موٹرسائیکل کا ٹائرپھٹ گیا ، ایک نوجوان جاں بحق جبکہ دوسرا شدید زخمی

    تفصیلات کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بینچ بابری مسجد، رام مندر زمینی تنازع سے متعلق کیس کا فیصلہ رواں ماہ 17 تاریخ سے پہلے کسی بھی وقت سنایا جائے گا۔ چیف جسٹس راجن گگوئی کی سربراہی میں راجن گگوئی کی مدت ملازمت 17 نومبر میں ختم ہونے جا رہی ہے اور ایسی صورت حال میں ان کی جانب سے دی گئی کیس کی ڈیڈ لائن بہت زیادہ اہمیت کی حامل تھی۔

    ملائشیا اوربیلجیم نامنظورہاکی ورلڈکپ کی مسلسل دوسری بارزبردستی بھارت کومیزبانی کوکیوں دی گئی

    خیال رہے کہ بھارتی چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر ہم نے 4 ہفتوں میں کیس کا فیصلہ سنا دیا تو یہ کسی معجزے سے کم نہیں ہوگا۔ سپریم کورٹ کے بینچ کی جانب سے بھی کہا گیا تھا کہ دیوالی کی چھٹیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے فریقین اپنے دلائل 18 اکتوبر تک مکمل کرلیں۔

    تبدیلی سعودی عرب پہنچ گئی ، نصاب میں موسیقی، تھیٹراوردیگرفنون شامل

  • آج کےفیصلے سے بابری مسجد اور مسلمانوں کا مستقبل کیسا ہوگا ؟

    آج کےفیصلے سے بابری مسجد اور مسلمانوں کا مستقبل کیسا ہوگا ؟

    نئی دہلی:بابری مسجد کے متعلق بھارت سپریم کورٹ کا آج کا فیصلہ کس قدر اہم ہوگا یہ تو آنے کے بعد ہی پتہ چلےگا تاہم ہہ بات طے ہے کہ آج کےفیصلےسے بھارت میں‌ مسلمانوں‌ کا مستقبل بھی وابستہ ہے ، امکان یہ ہےکہ چالیس دن سے جاری بابری مسجد کیس کی سماعت بھارتی سپریم کورٹ میں آج ختم ہونے کا امکان ہے۔

    شہزادہ ولیم اور شہزادی کیٹ مڈلٹن چترال پہنچ گئے

    عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس راجن گگوئی نے اس بات پر زور دیا تھا کہ بابری مسجد کی جگہ رام مندر تعمیر کرنے سے متعلق کیس میں فریقین 18 اکتوبر تک دلائل مکمل کرلیں، تاہم اب سماعت آج ختم ہونے کا امکان ہے۔بھارتی مسلمان اس فیصلے کے منتظر ہیں‌

    وزیراعلیٰ‌کی نگری میں بچے سے زیادتی ، ذمہ دار کون ؟

    بھارتی سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بینچ بابری مسجد، رام مندر زمینی تنازع سے متعلق کیس کی سماعت کر رہا ہے جس کی سربراہی چیف جسٹس راجن گگوئی کر رہے ہیں۔راجن گگوئی کی مدت ملازمت 17 نومبر میں ختم ہونے جا رہی ہے اور ایسی صورت حال میں ان کی جانب سے دی گئی کیس کی ڈیڈ لائن بہت زیادہ اہمیت کی حامل تھی۔

    سیٹھوں کی ہڑتال —-از…حفیظ اللہ سعید