Baaghi TV

Tag: بارشیں

  • سیلاب سے مزید 54 افراد جاں بحق، مجموعی تعداد 1481 ہوگئی:کراچی میں پھربارشیں شروع

    سیلاب سے مزید 54 افراد جاں بحق، مجموعی تعداد 1481 ہوگئی:کراچی میں پھربارشیں شروع

    اسلام آباد:سیلاب سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں مزید 54 افراد جان کی بازی ہار گئے جس سے جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد 1481 ہوگئی ہے، زخمیوں کی تعداد 12 ہزار 700 سے تجاوز کر گئی۔

    این ڈی ایم اے کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق سندھ میں 44، بلوچستان میں مزید 8 اور آزاد کشمیر میں 2 مزید افراد سیلاب سے جاں بحق ہوئے، سیلاب اور بارشوں سے مجموعی طور پر سب سے زيادہ 638 اموات سندھ میں ريکارڈ کی گئیں، بلوچستان میں 278، خيبرپختونخوا میں 303، پنجاب میں 191، آزاد کشمیر میں 48 اور گلگت بلتستان میں 22 افراد زندگى کى بازى ہار گئے۔

    دوسری جانب ملک بهر میں 11 لاکھ 85 ہزار 481 گھروں کو جزوى نقصان پہنچا جبکہ 5 لاکھ 69 ہزار 800 گھر مکمل تباہ ہو ئے، 390 پل اور 12 ہزار 418 کلومیٹر سڑکیں بھی متاثر ہوئیں، ملک بھر میں 9 لاکھ 8 ہزار 137مويشی بھی سیلابی ریلوں میں بہہ گئے۔

    ادھر کراچی کے مختلف علاقوں میں منگل کو ہونے والی بارش نے جل تھل کردیا۔ دو روز کے دوران کئی ملی میٹر بارش نے شہر کا حلیہ بگاڑ دیا۔محکمہ موسمیات کی جانب سے منگل کو بھی بارش کی پیش گوئی کی گئی تھی۔دوپہرکے وقت نیوکراچی، گلشن معمار، ناظم آباد، سعدی ٹاؤن، نارتھ کراچی میں بارش رپورٹ کی گئی۔سپرہائی وے، موسمیات، بفرزون، نیشنل اسٹیڈیم کے اطراف بارش نے موسم خوشگوار بنادیا۔لیاقت آباد ،فیڈرل بی ایریا،ناظم آباد،گلزارہجری، بہادرآباد،طارق روڈ،شارع فیصل میں بھی بارش کا ہوئی۔

    گزشتہ روز سب سے زیادہ 46 ملی میٹر بارش صدر میں ہوئی۔ ائیرپورٹ پر 34.2 ملی میٹر، یونی ورسٹی روڈ پر29.7 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔گلشن حدید میں 27 ملی میٹر، فیصل بیس پر 26 ملی میٹر، مسرور بیس پر24ملی میٹر،قائد آباد میں 17.5 ملی میٹر،نارتھ کراچی میں 15.2 ملی میٹر،جناح ٹرمینل پر 14.4ملی میٹر بارش ہوئی۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔

  • دنیا میں سب سے زیادہ بارش کولمبیا:سب سے کم کہاں ہوتی ہے:تفصیلات آگئیں

    دنیا میں سب سے زیادہ بارش کولمبیا:سب سے کم کہاں ہوتی ہے:تفصیلات آگئیں

    لاہور: دُنیا میں سب سے زیادہ بارش کولمبیا میں ایورج 3240 مِلی میٹرہوتی رہی اور سب سے کم بارش مِصر میں 18مِلی میٹر ہوئی

     

     

    جبکہ دُنیا کے 195 مُمالک میں ھونے والی ایورج بارشوں میں پاکستان کا نمبر 145 واں ہے۔ جہاں سالانہ ایورج 494 مِلی میٹر بارش ھوتی ہے یہ اعدادوشمار 2017 کے ہیں‌ جبکہ اس سال ہونے والی بارش نے پاکستان کوکئی درجات اونچا کردیا ہے اس کی درجہ بندی مون سون کے موسم کے اختتام پر ہوگی

    یہ بھی یاد رہے کہ اس سے پہلے دُنیا میں 144 مُمالک ایسے ہیں جہاں پاکستان سے زیادہ بارشیں ہوتی رہی ہیں لیکن اس سال پاکستان میں ہونے والی بارشوں نے پاکستان کے ہی پچھلے سب ریکارڈ توڑ دیئے

    دنیا میں سب سے زیادہ بارشوں والے ٹاپ 10 ممالک کی فہرست کچھ اس طرح ہے

     

     

     

    10-بنگلہ دیش:
    ہر جگہ پانی، بنگلہ دیش ایک خلیج کے دہانے پر واقع ہے جس میں کئی دریا زیادہ ہیں ملک کی مون سون کی آب و ہوا اس کے بیشتر حصوں میں شدید بارش لاتی ہے۔ مون سون کا موسم عام طور پر جون سے شروع ہوتا ہے اور اکتوبر میں ختم ہوتا ہے۔ ان دنوں کے دوران، یہ تقریباً 80 فیصد بارش کا تجربہ کرتا ہے۔ ہمالیہ کے دامن کے قریب واقع علاقوں میں سب سے زیادہ بارش ہوتی ہے جس میں بنیادی طور پر سلہٹ کا علاقہ شامل ہے۔ اوسط بارش کا تخمینہ 2666 ملی میٹر سالانہ ہے۔

    9. انڈونیشیا
    انڈونیشیا گرم پانیوں کے ذخائر کے ساتھ ایک خوبصورت ملک ہے، جو اس کی آب و ہوا کو زیادہ بارش کا سبب بنتا ہے۔ کل زمین کا 81% گرم پانیوں سے ڈھکا ہوا ہے۔ مانسون کا دورانیہ دسمبر سے شروع ہوتا ہے اور مارچ میں ختم ہوتا ہے۔ ملک کے مغربی اور شمالی علاقوں میں دیگر حصوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ بارشیں ہوتی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ہر سال ملک میں تقریباً 2702 ملی میٹر بارش ہوتی ہے۔

     

    8. برونائی دارالسلام
    برونائی بھی دنیا کی اشنکٹبندیی پٹی کے بیچ میں واقع ہے اس لیے سب سے زیادہ بارشیں ہوتی ہیں۔ اس میں بنیادی طور پر ذیلی موسمی حالات ہیں جس کے نتیجے میں تیز بارش اور زیادہ نمی کے ساتھ گرم موسم ہوتا ہے۔ بارش کی اوسط شرح 2722 ملی میٹر سالانہ ہے، جو اسے دنیا میں سب سے زیادہ بارشوں والا 8 واں ملک بناتا ہے۔

    7. ملائیشیا
    ہر سال 2875 ملی میٹر بارش کے ساتھ، ملائیشیا اس فہرست میں اگلے نمبر پر آتا ہے۔ یہاں بھی مون سون کا موسم دسمبر کے اوائل سے شروع ہو کر مارچ میں ختم ہو جاتا ہے۔ شمال اور مغرب میں واقع علاقے جیسے سراواک اور صباح کی ڈھلوانیں سب سے زیادہ بارش کی زد میں ہیں، جو اس ملک میں ہونے والی کل بارش کا 70% سے زیادہ حصہ لیتے ہیں۔

    6. کوسٹا ریکا
    کوسٹ ریکا اپنے سفید ریتیلے ساحلوں کے لیے مشہور ہے اور دنیا بھر سے بہت سے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ یہ آپ کے موسم گرما کو سرفنگ اور دھوپ میں گزارنے کے لیے ایک بہترین میدان فراہم کرتا ہے۔ اس ملک میں بھی ہر سال بارشوں کا شدید سلسلہ ہوتا ہے جو مئی میں شروع ہوتی ہے اور سات ماہ تک جاری رہتی ہے۔ ان مہینوں کے دوران جوار بہت زیادہ ہوتے ہیں اور سیاحوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ ساحلوں پر نہ جائیں۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں سالانہ اوسطاً 2926 ملی میٹر بارش ہوتی ہے۔

    5. پانامہ
    پانامہ میں مون سون کا معمول اپریل میں شروع ہوتا ہے اور دسمبر تک جاری رہتا ہے۔ یہ ٹھیک ہے! بارش کے 9 مہینے۔ اس کے نتیجے میں تقریباً ہر سال 2926 ملی میٹر بارش ہوتی ہے۔ پاناما کا جغرافیہ ضرورت سے زیادہ بارشوں کا واحد عنصر ہے، بخارات کیریبین کے شمال اور شمال مشرق سے ہوتے ہیں جو بارش کا سبب بنتے ہیں۔ ساحلی پٹی کے قریب واقع علاقوں میں زیادہ تر بارش ہوتی ہے۔

    4. سلیمان جزائر
    سولومن جزائر سب سے زیادہ بارش والے ٹاپ ٹین ممالک کی فہرست میں چوتھے نمبر پر ہے۔ دو الگ الگ آب و ہوا کی انتہا کا تجربہ کریں، ایک گیلی اور دوسری مکمل طور پر خشک۔ بارش کا موسم فروری سے شروع ہو کر مئی میں ختم ہوتا ہے جبکہ گیلے موسم کا دوسرا دور ستمبر سے نومبر تک جاری رہتا ہے۔ شدید بارشوں کے علاوہ، ملک کو ان جزائر کے بہت شمال سے آنے والے ٹائفون کے خطرے کا بھی سامنا ہے۔ اوسط بارش کا تخمینہ 3,028 ملی میٹر سالانہ ہے۔

    3. پاپوا نیو گنی
    پاپا نیو گنی دنیا میں سب سے زیادہ بارش والے 10 ممالک کی فہرست میں تیسرے نمبر پر ہے۔ جہاں مون سون کا موسم عام طور پر دسمبر سے شروع ہوتا ہے اور مارچ میں ختم ہوتا ہے جس کی وجہ سے سالانہ اوسطاً 3142 ملی میٹر بارش ہوتی ہے۔ یہ ملک کے مغربی اور شمالی حصے ہیں جہاں زیادہ تر بارشیں ہوتی ہیں۔ سیلاب اور تباہی واضح ہو جاتی ہے اگر بارش کے پانی کو صحیح طریقے سے استعمال یا چینلائز نہ کیا جائے۔

    2. SAO TOME اور PRINCIPE
    ملک کے برساتی موسم کو دو مختلف مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے۔ یہ سب سے زیادہ بارش والے ممالک کی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے۔ پہلا شارٹ اکتوبر سے شروع ہوتا ہے اور نومبر تک جاری رہتا ہے جبکہ لمبا حصہ مارچ سے مئی تک جاری رہتا ہے دونوں موسموں میں بارش کی شرح نمایاں طور پر زیادہ ہوتی ہے۔ دونوں موسموں میں اوسط بارش کی مشترکہ رقم تقریباً 3200 ملی میٹر سالانہ ہے۔ خط استوا کے آس پاس اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں ملک میں سب سے زیادہ بارش ہوتی ہے۔

    1. کولمبیا
    کولمبیا میں بارش کی سب سے زیادہ شرح ہے جس کا تخمینہ 3240 ملی میٹر سالانہ ہے۔ بہت زیادہ اور بھاری بارش کی وجہ سے ریاست کا کچھ علاقہ مستقل طور پر سیلاب کی زد میں رہتا ہے۔ بحرالکاہل کا سامنا کرنے والے علاقے سب سے زیادہ بارش کا تجربہ کرتے ہیں۔ یہاں تقریباً ہر روز بارش ہوتی ہے۔ نتیجتاً، ملک میں بارشی جنگلات کی کثرت ہے۔ جب ہم ملک کے مشرقی حصوں کی طرف بڑھے تو بارش کی شرح میں کمی واقع ہوئی۔

    1. کولمبیا 3240
    2. ساؤ ٹوم 3200
    3. پاپا نیو گنی 3142
    4. جزیرہ سلیمان 3028
    5. پانامہ 2929
    6. کوسٹا ریکا 2926
    7. ملائیشیا 2875
    8. برونائی 2722
    9. انڈونیشیا 2702
    10. بنگلہ دیش 2666

  • کور کمانڈر راولپنڈی اور کور کمانڈر کراچی کا سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ، آئی ایس پی آر

    کور کمانڈر راولپنڈی اور کور کمانڈر کراچی کا سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ، آئی ایس پی آر

    راولپنڈی :آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ کور کمانڈر راولپنڈی لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا اور کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل سعید احمد نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق کور کمانڈر راولپنڈی لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا نے کوہستان کے دور دراز علاقوں کا دورہ کیا۔

     

     

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ دورے کے دوران کور کمانڈر نے سیلاب سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے فوجی جوانوں کے ریلیف آپریشنز کا جائزہ لیا اور مقامی آبادی کی مدد کرنے پر کور کمانڈر نے فوجی جوانوں کی کاوشوں کو سراہا۔

    جاری کردہ پیغام میں آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل سعید احمد نے بھی لاڑکانہ، نوشہرو فیروز، خیرپور، شاہ جیلانی گاؤں اور قمبر شہداد کوٹ کا دورہ کیا۔

    اس دوران کور کمانڈر کو متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف آپریشنز کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔جنرل سعید نے ریلیف کے کام کو سراہا اور متاثرہ افراد کو ہر ممکن مدد کی ہدایت کی۔

  • جیکب آباد: بارشوں سے متاثرہ بے گھر لوگ کھلے آسمان تلے حکومتی امداد کے منتظر

    جیکب آباد: بارشوں سے متاثرہ بے گھر لوگ کھلے آسمان تلے حکومتی امداد کے منتظر

    جیکب آباد میں لاکھوں بے گھر لوگ کھلے آسمان تلے حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔

    باغی ٹی وی : جیکب آباد میں بارشوں کی تباہ کاریوں نے کئی جانیں لے لی ہیں اور،بارشوں کے باعث چھتیں اور کچے مکانات گرنے سے لاکھوں لوگ نے اپنے گھروں سے بے گھر ہوکر ریلیف کیمپوں میں پناہ لے لی ہے۔

    ترکیہ کا تیسرا طیارہ امدادی اشیا لے کر کراچی ائیر پورٹ پہنچ گیا

    مخیر افراد کی جانب سے ریلیف کیمپوں میں پناہ لینے والے بارش متاثرین کی مدد کی جا رہی ہے مقامی لوگوں کی جانب سے اپنی مد د آپ کے تحت اسکولوں میں قائم ریلیف کیمپوں میں موجود متاثرین کے لیے تینوں وقت کے کھانے اور پانی کی فراہمی کا اہتمام کیا جارہا ہے۔

    ریلیف کیمپوں میں موجود متاثرین کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ سمیت کسی سیاسی تنظیم نے کوئی مدد نہیں کی، حکومت ان متاثرین کو مالی مدد اور امداد فراہم کرنے میں بے سود ثابت ہوئی ہے۔

    مخیر افراد کا کہنا ہے کہ یہ متاثرین اس ملک کے لوگ ہیں اس مشکل کی گھڑی میں سب کو مل کر کام کرنا ہوگا ، ان متاثرین کی امداد کے لیے صاحب حیثیت لوگوں کو آگے آنا چاہیے۔

    واضح رہے کہ ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہےملک بھر میں حالیہ بارشوں اور سيلاب سےاب تک جانبحق ہونے والے افراد کى تعداد 1061 ہوگئی ہےلاکھوں کی تعداد میں مال مویشی سیلاب کے نذر ہو گئے۔ ہزاروں کلو میٹر شاہراہیں اور اہم پل بھی پانی بہا لے گیا۔ چاول ، کپاس اور پیاز سمیت کئی فصلیں تباہ ہو گَئیں ہیں۔

    سیلاب سے ہونے والی تباہی کو 2010 کے سیلاب سے کئی گنا زیادہ قراردیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہےکہ متاثرین کی بحالی میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔

    سندھ میں ایک اور سیلاب،زمیں دارہ بند ٹوٹنے سے سیلابی پانی بکھری میں داخل

  • سب پاکستانی بارشوں اورسیلاب کی وجہ سے پریشان اپنے بھائیوں کی مدد کےلیے آگےبڑھیں:ترجمان پاک فوج

    سب پاکستانی بارشوں اورسیلاب کی وجہ سے پریشان اپنے بھائیوں کی مدد کےلیے آگےبڑھیں:ترجمان پاک فوج

    راولپنڈی :موسمی تبدیلیوں کے براہ راست اثر کے طور پر اس مون سون کے دورا ن پاکستان کو غیر معمولی بارشوں،GLoFاور Cloud Burstکا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ جس کے نتیجے میں بلوچستان، سندھ، جنوبی پنجاب اور خیبر پختونخواہ کے متعدداضلاع میں سیلابی صورتحال اور بھاری نقصانات ہوئے ہیں۔ ایسے میں اپنی قومی ذمہ داری کے تحت، پاکستان آرمی نے نوٹیفائیڈ متاثرہ علاقوں میں ایک بھرپور ریسکیو اور ریلیف مہم کا آغاز کیا ہوا ہے۔ اس ضمن میں ریلیف اور ریسکیو آپریشن کو منظم کرنے کے لیے ہیڈ کوارٹر آرمی ائیر ڈیفنس کمانڈ کے ماتحت ریلیف اور ریسکیو آرگنائزیشن قائم کر دی گئی ہے۔ اب تک40,000لوگوں کو محفوظ مقامات اور آرمی کے قائم کردہ137سے زائد ریلیف کیمپوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

    مزید برآں، 200کے قریب عارضی طبی مراکز میں 23,000لوگوں کو ادویات اور طبی مدد فراہم کی گئی ہے۔ اسی طرح آرمی اپنے موجود اسٹاک میں سے3700سے زائد ٹینٹ اور ضرورت کی دیگر اشیاء بھی متاثرین میں تقسیم کر چکی ہے۔ اس کے علاوہ چیف آف آرمی سٹاف کے خصوصی حکم پر آرمی اپنے3دن سے زائد راشن(تقریباََ1500ٹن) کو بھی سیلاب سے متاثرہ علاقے میں عام لوگوں میں بانٹ چکی ہے۔ اسی جذبے کے تحت آرمی کے تمام جنرل آفیسرز نے اپنی ایک ماہ کی نتخواہ متاثرین کی مدد کے لیے دی ہے۔ علاوہ ازیں دیگر افسران بھی رضاکارانہ بنیاد پر مالی عطیات دے رہے ہیں۔

    لیکن اس سب امداد کے باوجود، سیلاب کی تباہ کاریاں اس قدر زیادہ ہیں کہ مزید ریلیف کی چیزوں اور ادویات کی اشد ضرورت ہے تاکہ متاثرین کی جلد از جلد دادرسی کی جا سکے۔ ایسے میں ہم سب کا یہ قومی فریضہ ہے کہ ضرورت کے اس لمحے میں اپنے متاثرین بہن بھائیوں اور بچوں کی مدد کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالیں۔ اس سلسلے میں کئی مخیر حضرات نے آرمی سے اس مد میں رابطہ بھی کیا ہے۔ اس اہم کاوش کی اہمیت کے مدِ نظر پاکستان آرمی وفاقی حکومت کی ہدایات کے تحت تمام بڑے شہروں میں عوام کی طرف سے عطیہ کیے جانے والے سامان کی کولیکشن کے لیے عطیہ مراکز قائم کرے گی۔ جہاں ضروری اشیاء جیسا کہ:۔ ٹینٹ، شلٹر، شمسی لائٹس، بستر/گدا، موسمی کمبل /چادر، پانی ذخیرہ/صاف کرنے کی کٹ/ٹینک، ٹارچ/لائیٹس، بارش والے جوتے اور ترپال وغیرہ جمع کیے جائیں گے۔
    راشن(آٹا، گھی، چاول، دال، خشک دودھ، چینی، پتی) پینے کا صاف پانی بھی وصول کیا جائے گا۔

    فرسٹ ایڈ کٹ، ضروری ادویات جیسے کہ ڈائریا، آنکھ، کان اور جلد کی بیماریاں، ڈی ہائڈیریشن، ڈینگی اور ملیریا کی ادویات۔مخیر حضرات سے درخواست ہے کہ اس انسانی ہمدردی اور قومی المیہ کے موقع پر بڑ ھ چڑھ کر اپنا حصہ ڈالیں۔ ان تمام اشیاء کی جلداز جلد سیلاب زدہ علاقوں میں منتقلی او ر متاثرین کو فراہمی پاکستان آرمی یقینی بنائے گی۔ علاوہ ازیں ہم وطنوں سے یہ بھی درخواست ہے کہ غیر ضروری اشیاء جیسے کپڑے، برتن ار کھانے کی کھلی اور خراب ہونے والی اشیاء وغیرہ ان مراکز پر جمع نہ کروائیں تاکہ فراہمی مدد کو متاثرین کی ضرورت کے مطابق مرکوز رکھا جا سکے۔ مزید مالی استطاعت والے پاکستانی بھائیوں سے درخواست ہے کہ حکومت پاکستان کے قائم کردہ اکاؤنٹ میں دل کھول کر عطیات دیں۔

    اس دکھ اور تکلیف کے مرحلے میں پاکستان آرمی، قوم کے شانہ بشانہ اپنی ذمہ داریاں بھرپور طریقے سے ادا کر نے کے لیے کوشاں ہے۔ اس ضمن میں نہ صرف ریسکیو اور ریلیف پر توجہ دی جا رہی ہے بلکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی خصوصی درخواست پر ایک اچھی Rehabمہم کی بنیادی ضرورت کے طور پر آرمی تمام نوٹیفائیڈ متاثرہ علاقوں میں مشترکہ سروے کرنے میں سول انتظامیہ کو بھرپور مدد فراہم کر رہی ہے۔ جس کا آغاز صوبہ بلوچستان سے کر دیا گیا ہے۔

  • چین میں بھی موسلا دھار بارشیں، سیلاب سے 16 افراد ہلاک، متعدد لاپتہ

    چین میں بھی موسلا دھار بارشیں، سیلاب سے 16 افراد ہلاک، متعدد لاپتہ

    بیجنگ :چین کے شمال مغربی علاقوں میں موسلادھار بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں 16 افراد ہلاک اور متعدد لاپتہ ہو گئے، جہاں انتہائی موسمی حالات کے باعث فیکٹریاں بند ہو گئی ہیں اور بجلی بھی منقطع ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کی رپورٹ کے مطابق چین میں سیلاب درجہ حرارت میں اضافے اور موسلا دھار بارشوں کے دوران آتا ہے، متعدد شہروں میں سیلاب کی وجہ سے کروڑوں ڈالر مالیت کا نقصان رہورٹ ہوا ہے۔

    ریاستی نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی نے بتایا کہ رواں ہفتے صوبہ کنگھائی کے ایک پہاڑی علاقے میں سیلاب آیا، جس سے 6 دیہات کے 6 ہزار 200 سے زیادہ شہری متاثر ہوئے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ سیلاب کے باعث سڑکیں کیچڑ سے ڈھکی ہوئی ہیں، کئی جگہوں پر درخت اکھڑے گئے ہیں اور مکانات تباہ ہوگئے ہیں۔سی سی ٹی وی نے بتایا کہ ’18 تاریخ کو دوپہر تک، 16 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، تاہم امدادی کام جاری ہے’۔

    سرکاری میڈیا کی رپورٹ کے مطابق کم از کم 18 افراد لاپتہ ہیں جبکہ 20 کو بچا لیا گیا ہے، ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے ‘فرنٹ لائن ہیڈکوارٹرز’ قائم کیا گیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ‘بچاؤ کا کام منظم طریقے سے جاری ہے’، بدھ کی رات اچانک ہونے والی شدید بارش نے صورت حال میں مزید شدت آگئی ہے۔

    سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے دنیا بھر میں شدید موسم دیکھنے میں آرہا ہے اور درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ ہی اس میں مزید شدت کا امکان ہے۔

    جنوبی چین میں جون میں آنے والے شدید سیلاب نے نصف ملین سے زائد افراد کو بے گھر کر دیا تھا اور ایک اندازے کے مطابق 25 لاکھ ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔چینی حکام نے خبردار کیا کہ ملک کے شمالی علاقوں بشمول دارالحکومت بیجنگ اور ہمسایہ ممالک تیانجن اور ہیبی میں بھی شدید بارشوں کا امکان ہے۔

    سرکاری میڈیا کے مطابق صدر شی جن پنگ نے شمال مشرقی صوبہ لیاؤننگ میں حکام سے ‘سیلاب پر قابو پانے میں لوگوں کی جانوں کا تحفظ یقینی بنانے’ کی ہدایت کی ہے۔

    دریں اثنا چین کے جنوب مغربی علاقے میں لاکھوں لوگوں کو بجلی کی لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے کیونکہ شدید گرمی کی لہر کی وجہ سے بجلی کی سپلائی میں کمی واقع ہوئی ہے، جس کی وجہ سے فیکٹریوں میں کام میں تعطل آگیا ہے۔

  • کراچی کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش:19 اگست تک سلسلہ جاری رہنے کا امکان

    کراچی کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش:19 اگست تک سلسلہ جاری رہنے کا امکان

    کراچی :شہر قائد میں ایک بار پھر طوفانی بارشوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ بارشوں کا یہ سلسلہ 19 اگست تک جاری رہے گا،ادھر کراچی میں منگل کو بارش کا آغاز گلشن معمار، پورٹ قاسم، گلشن حدید اور اطراف کے علاقوں سے ہوا جس کے بعد شہر کے دیگر علاقوں کو بھی بتدریج بارش شروع ہوگئی۔

     

    کراچی بارشیں: پاک فوج کے جوان خدمت میں‌مصروف : شاہراہ فیصل پر انڈر پاس کلیئر

    محکمہ موسمیات کے مطابق شہر میں دن بھر وقفے وقفے سے کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش کا سلسلہ جاری رہے گا۔ رواں برس موسم برسات میں غیر معمولی بارشوں کے باوجود انتظامیہ بدستور صرف دعوے ہی کرتی نظر آرہی ہے۔ شہر کی تمام اہم سڑکیں دور افتادہ علاقوں کے کچے راستوں کا منظر پیش کررہی ہیں۔ جگہ جگہ گڑھوں اور کھلے مین ہولز کی بدولت عوام کو شدید مشکلاتے کا سامنا ہے۔

    دوسری جانب محکمہ موسمیات نے بھارتی ریاست راجستھان میں موجود ہوا کے کم دباؤ کی بدولت منگل کی شام سے بارشوں کے نئے سلسلے کی پیش گوئی کی ہے۔محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ مون سون کے نئے اسپیل سے کراچی سمیت سندھ کے بیشتر اضلاع میں 19 اگست جب کہ بلوچستان کے شمال مشرقی اور ساحلی اضلاع میں 20 اگست موسلادھار بارشوں کا امکان ہے، جس سے نشیبی علاقے زیر آب اور مقامی برساتی ندی نالوں میں طغیانی آسکتی ہے۔

    کراچی بارشیں:عروہ حسین حکومت کے خلاف بولنے والوں برہم

    ادھرکراچی میں سرجانی ٹاؤن گرین بس سٹاپ کے قریب چار منزلہ بلڈنگ گر گئی جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ 10 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

    کراچی بارشیں، شہری برقی آلات کے استعمال میں احتیاط کریں اور کھمبوں سے دور رہیں، کے…

    تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن میں گرین بس سٹاپ کے قریب واقع چار منزلہ عمارت اچانک منہدم ہوگئی جس کے ملبے تلے متعدد افراد دب گئے۔

    ریسکیو ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر 11 افراد کو زخمی حالت میں ملبے سے نکالا، زخمیوں کو بعد ازاں ہسپتال منتقل کر دیا گیا جن میں سے ایک شخص ہسپتال میں دم توڑ گیا، علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ اب بھی کئی افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ مزید عمارت گرنے والے ملبے تلے دبے بچ جانے والوں کی تلاش کے لیے جائے وقوعہ پر آپریشن جاری ہے۔

  • حالیہ بارشوں کے بعد تربیلا ڈیم پانی سے بھرگیا،مزید بارشوں کی پیشن گوئی

    حالیہ بارشوں کے بعد تربیلا ڈیم پانی سے بھرگیا،مزید بارشوں کی پیشن گوئی

    راولپنڈی:حالیہ بارشوں کے بعد تربیلا ڈیم پانی سے بھر گیا،مزید بارشوں کی پیشن گوئی ،اطلاعات کے مطابق حالیہ بارشوں کے بعد تربیلا ڈیم پانی سے بھر گیا۔ ڈیم میں پانی کی سطح ایک ہزار 547 فٹ تک بلند ہوگئی۔

    ارسا حکام کے ڈیم میں 56لاکھ ایکڑفٹ پانی ذخیرہ ہوچکا ہے جس کا مطلب کے ڈیم 99.8فیصد پانی سے بھر چکا ہے۔ تربیلا ڈیم میں 1550فٹ پانی کی گنجائش ہے۔

    حکام کے مطابق تربیلاڈیم میں پانی کی آمد2 لاکھ40 ہزار کیوسک ہے۔ ڈیم سیفٹی کےلئے یومیہ ایک فٹ سے بھی زیادہ بھرنا خطرناک ہوگا۔حکام کے مطابق مطابق گندم کی بوائی کے لئے تربیلہ ڈیم کا اسٹورشدہ پانی نہایت مفید ہوگا۔

    دوسری جانب سیلاب سے تباہ حال بلوچستان پھر مشکلات میں مبتلا ہو گیا ہے، کوہلو میں طوفانی بارش کےباعث سیلابی صورتحال کے باعث کئی کچے مکانات گرگئے۔

    کوہلو-کوئٹہ قومی شاہراہ پر مختلف مقامات پر ٹریفک کی آمدورفت متاثرہوگئی، طوفانی بارش اور سیلاب کے سبب جشن آزادی کی مرکزی تقریب ملتوی کردی گئی۔قلعہ عبداللہ میں سیلابی ریلے سے دو سو سے زائد مکانات متاثر ہوئے جبکہ بیشتر رابطہ سڑکیں اور پل بہہ گئے، تین روز کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 8 ہو گئی ہے۔

    توبہ اچکزئی میں موسلادھاربارشوں کے بعد ریلے میں بہہ کر دو افراد جاں بحق، بارکھان، رکھنی، ڈیرہ بگٹی، شیرانی، دھانا سر، فورٹ منرو، کوہ سلیمان، زیارت، قلعہ سیف اللہ میں بھی موسلادھار بارش سے نشیبی علاقے زیر آب آگئے۔

    چمن کے بالائی علاقوں کوژک ٹاپ، شیلاباغ پر موسلادھار بارش، راجن پور شہراورگردونواح کے ساتھ کوہ سلیمان کے پہاڑی علاقوں میں موسلا دھار بارشوں کے بعد ندی نالوں میں طغیانی کے باعث میدانی اور پچھاد کے علاقے پھر سے ڈوبنے کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

  • کراچی میں پھربارشیں،بلوچستان میں سیلابی صورت حال کا الرٹ جاری

    کراچی میں پھربارشیں،بلوچستان میں سیلابی صورت حال کا الرٹ جاری

    کراچی: کراچی میں موسلا دھار بارش کا سلسلہ شروع ہوسکتا ہے، جو 14 اگست تک وقفے وقفے سے بارش کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات نے آج زیر یں سندھ میں چند مقامات پر موسلادھار بارش کی پیش گوئی کی ہے۔محکمہ موسمیات کی طرف سے جاری پیغام کے بعد کراچی والوں پرایک مشکل وقت پھر جاری ہوگیا ہے

    محکمہ موسمیات کا کہنا تھا کہ شہرقائد میں ٹمپریچر کے بڑھنے کا خدشہ ہے جس کے بعد بارش کی توقع ہے اور پھر یہ سلسلہ ایک دو دن تک جاری رہ سکتا ہے ، محکمہ موسمیات کے مطابق بارشوں کا یہ سلسلہ بلوچستان تک پھیلا ہوا ہے

    مون سون بارشیں،سیلابی ریلے جنوبی پنجاب کے علاقوں میں داخل

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ شہر قائد میں اس وقت شدید حبس ہے جبکہ سمندری ہوائیں مکمل طور پر معطل ہیں اور ہوا میں نمی کا تناسب 90 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔محکمہ موسمیات نے بتایا ہے کہ شہر بھر میں بارش میں شدت 10 اگست تا 13 اگست کے دوران رہے گی جبکہ اس دوران سمندر میں طغیانی رہے گی۔

    سندھ
    یہ بھی اطلاعات ہیں کہ دادو اور مورو کے درميان سیلابی پانی میں اضافے کے بعد دادو اور نوشہروفیروز کے اضلاع میں کچے کے کچھ دیہات زیر آب آگئے ہیں۔ضلعی حکام کے مطابق دادوشہر کے گردونواح میں‌ 50 سے زائد دیہات پانی میں ڈوبے ہیں۔ دادو کے جو گاوں اس وقت زیرآب ہیں ان میں گاؤں گل محمد کوریجو، مبارک، نبن جتوئی، شیر محمد مستوئی، جب کہ ضلع نوشہرو فیروز کا گاؤں ولی داد بھٹو اور دیگر متاثر ہوئے ہیں۔سیلاب کے باعث کپاس، پیاز، تل سمیت دیگر فصلیں اور سبزیاں بھی متاثر ہوئی ہیں،

    مون سون بارشیں، دریائے راوی اور چناب میں سیلابی الرٹ جاری

    بلوچستان

    اس کے علاوہ بلوچستان، پنجاب، بالائی خیبر پختونخوا اور کشمیر میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش پیشن گوئی کی گئی تھی ۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بلوچستان میں سیلاب متاثرین کی مشکلات میں اضافے کا خدشہ ہے۔پی ڈی ایم اے کے مطابق 10 اگست سے 13 اگست تک مون سون اسپیل میں گرج چمک کے ساتھ بارشیں ہوں گی۔ جس سے دوبارہ سیلابی صورت حال پیدا ہونے کا ڈر ہے

    بارشیں،سیلاب:بلوچستان میں آج بھی پاک فوج کی طرف سے ریلیف اور ریسکیوخدمات جاری

    اعلامیے کے مطابق مون سون بارشوں کا سلسلہ 10 اگست سے 13 اگست تک جاری رہے گا، گرج چمک کے ساتھ 16 اضلاع میں شدید بارشیں ہوں گی۔ پی ڈی ایم اے نے مراسلے میں ڈپٹی کمشنرز کو اہم مقامات پر بھاری مشینری کی موجودگی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

    صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے لورالائی، بارکھان، کوہلو، موسیٰ خیل، شیرانی اور سبی کے ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ ظاہر کیا ہے۔اس سے قبل جون سے شروع ہونیوالی مون سون بارشوں اور سیلابی صورت حال کے باعث اب تک بلوچستان میں 170 سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں، ہزاروں مکانات، فصلیں، پل اور سڑکیں بھی تباہ ہوچکی ہیں۔

    پنجاب کے بیشتر اضلاع میں موسم مرطوب اور گرم رہنے کے علاوہ خطہ پوٹھوہار، سیالکوٹ، نارووال ،گوجرانوالہ، لاہور، و ہا ڑ ی، بہاولپور، ڈ یرہ غازی خان، ملتان اوررحیم یارخان میں تیز ہواؤں اورگرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔کشمیر میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے جبکہ گلگت بلتستان میں مطلع ابرآلود رہنے کا امکان ہے۔

  • کراچی اورلاہورمیں طوفانی بارشیں جاری

    کراچی اورلاہورمیں طوفانی بارشیں جاری

    کراچی::لاہور:::کراچی اورلاہورمیں طوفانی بارشیں جاری ،اطلاعات کے مطابق کراچی کے مختلف علاقوں میں تیز بارش کا سلسلہ جاری ہے، اور موسم خوشگوار ہوگیا ہے۔کراچی کے مختلف علاقوں میں تیز بارش کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے، جس کے بعد موسم بھی خوشگوار ہوگیا ہے۔

    اس وقت شہر میں ملیرماڈل کالونی، گلشن حدید، ملیر، ماڈل کالونی، گلشن حدید، بحریہ ٹاؤن، شارع فیصل، اسٹیل ٹاؤن، سپر ہائی وے دنبہ گوٹھ، میمن گوٹھ اور گڈاپ میں تیز بارش ہورہی ہے۔

    دوسری جانب بارش کے باعث سڑکوں اور گلیوں میں بارش کا پانی ایک بار پھر جمع ہونا شروع ہوگیا ہے، جس کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    شدید بارش کے باعث کراچی سے ٹرینوں کی آمدرفت میں بھی تاخیر ہورہی ہے، اور ترجمان ریلوے کا کہنا ہے کہ پاکستان ریلوے عوام سے تکلیف کے لیے معذرت خواہ ہے۔

    ترجمان ریلوے کے مطابق بارش کے باعث قراقرم ایکسپریس 03:30 کے بجائے شام 04:15 پر روانہ ہوگی، پاک بزنس ایکسپرس 04:00 کے بجائے شام 05:40 پر روانہ ہوگی، 43 آپ شاہ حسین ایکسپرس 07:30 کے بجائے 08:00 بجے روانہ ہوگی، جب کہ بقیہ تمام ٹرین اپنے مقررہ اوقات پر روانہ ہوں گی۔

    محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری تازہ الرٹ کے مطابق آئندہ دنوں کے دوران 10سے 13اگست2022 میں مزید مون سون بارشیں جاری رہیں گی۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق مون سون ہوائیں ملک میں مسلسل داخل ہو رہی ہیں جبکہ 10 اگست (بدھ) سے مون سون ہوائیں زیادہ شدت کے ساتھ ملک میں داخل ہونگی۔ جس کے باعث 9 اگست کے دوران کشمیر،اسلام آباد، شمال مشرقی پنجاب، بالائی خیبرپختونخوا، مشرقی بلوچستان اور جنوب مشرقی سندھ میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش اور چند مقامات پر وقفے سے موسلادھار بارش کا امکان ہے۔

    جب کہ 10سے 13 اگست کے دوران کشمیر، گلگت بلتستان، اسلام آباد، پنجاب، خیبرپختونخوا، سندھ اور بلوچستان میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش اور کہیں کہیں وقفے سے موسلادھار بارش کا امکان ہے۔

    بارشیں،سندھ میں 93 اموات اور 59 افراد زخمی ہوئے،وزیراعلیٰ سندھ

    8 سے 12 اگست کے دوران موسلا دھار بارش کے باعث راولپنڈی، اسلام آباد، پشاور، نوشہرہ، مردان، فیصل آباد،لاہور اور گوجرانوالہ میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خطرہ ہے۔ اس دوران موسلا دھار بارش کے باعث راولپنڈی، اسلام آباد ، شکر گڑھ، سیالکوٹ، نارووال، ایبٹ آباد،مانسہرہ، دیر ،کرک،بنوں، لکی مروت، کشمیر مقامی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔

    رپورٹ کے مطابق 11سے 13 اگست کے دوران موسلادھار بارش کے باعث کراچی، ٹھٹھہ، بدین،حیدرآباد، دادو، جام شورہ، سکھر، لاڑکانہ، شہید بینظیرآباد اور میرپور خاص میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا بھی اندیشہ ہے۔

    لاہور

    لاہور کے مختلف علاقوں میں اتوار 7 اگست کو کہیں ہلکی تو کہیں تیز بارش نے گرمی کی چھٹی کردی۔

    مون سون بارشیں،سیلابی ریلے جنوبی پنجاب کے علاقوں میں داخل

    مغل پورہ، ہربنس پورہ، رائے ونڈ روڈ، ٹھوکرنیاز بیگ، وحدت روڈ، گلبرگ، گڑھی شاہو ، جیل روڈ ، ڈیفنس ،کوٹ لکھپت، ٹاؤن شپ، جوہر ٹاؤن میں ہلکی اور تیز بارش ریکارڈ کی گئی۔ جس سے حبس کا زور ٹوٹ گیا، دوپہر کو لاہور کا درجہ حرارت 29 سنٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جب کہ شہر میں ہوائیں سترہ کلو میٹر فی گھنتہ کی رفتار سے چل رہی ہیں۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق مون سون اسپیل کے تحت شہر میں آئندہ دو روز میں مزید بارشوں کا امکان ہے۔

    شہر کے مختلف علاقوں میں بادل برستے ہی نشیبی علاقے زیرآب آ گئے۔ نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

    کراچی:حب ڈیم میں پانی کی سطح بلند ہو گئی،آئندہ تین روز میں مزید بارشیں، اربن فلڈنگ

    بلوچستان

    مون سون کے باعث قلعہ سیف اللہ، لورالائی، بارکھان، کوہلو، موسی خیل، شیرانی، سبی، بولان، قلات، خضدار، لسبیلہ، آواران، تربت،پنجگور، پسنی، جیوانی، اور ماڑہ، گوادر اور ڈیرہ غازی خان کے برساتی اور مقامی ندی نالوں میں طغیانی آسکتی ہے۔

    خیبر پختونخوا

    اس دوران کشمیر، خیبرپختونخوا کے پہاڑی علاقوں، گلیات ، مری ،چلاس، دیا میر، گلگت، ہنزہ، استور اور اسکردو میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔صوبائی حکومتوں کی جانب سے مسافروں اور سیاحوں کو موسمی حالات کو مدنظر رکھ کر سفر کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس دوران مسافر مزید محتاط رہیں۔