Baaghi TV

Tag: بارشیں

  • کور کمانڈر راولپنڈی اور کور کمانڈر کراچی کا سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ، آئی ایس پی آر

    کور کمانڈر راولپنڈی اور کور کمانڈر کراچی کا سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ، آئی ایس پی آر

    راولپنڈی :آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ کور کمانڈر راولپنڈی لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا اور کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل سعید احمد نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق کور کمانڈر راولپنڈی لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا نے کوہستان کے دور دراز علاقوں کا دورہ کیا۔

     

     

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ دورے کے دوران کور کمانڈر نے سیلاب سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے فوجی جوانوں کے ریلیف آپریشنز کا جائزہ لیا اور مقامی آبادی کی مدد کرنے پر کور کمانڈر نے فوجی جوانوں کی کاوشوں کو سراہا۔

    جاری کردہ پیغام میں آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل سعید احمد نے بھی لاڑکانہ، نوشہرو فیروز، خیرپور، شاہ جیلانی گاؤں اور قمبر شہداد کوٹ کا دورہ کیا۔

    اس دوران کور کمانڈر کو متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف آپریشنز کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔جنرل سعید نے ریلیف کے کام کو سراہا اور متاثرہ افراد کو ہر ممکن مدد کی ہدایت کی۔

  • جیکب آباد: بارشوں سے متاثرہ بے گھر لوگ کھلے آسمان تلے حکومتی امداد کے منتظر

    جیکب آباد: بارشوں سے متاثرہ بے گھر لوگ کھلے آسمان تلے حکومتی امداد کے منتظر

    جیکب آباد میں لاکھوں بے گھر لوگ کھلے آسمان تلے حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔

    باغی ٹی وی : جیکب آباد میں بارشوں کی تباہ کاریوں نے کئی جانیں لے لی ہیں اور،بارشوں کے باعث چھتیں اور کچے مکانات گرنے سے لاکھوں لوگ نے اپنے گھروں سے بے گھر ہوکر ریلیف کیمپوں میں پناہ لے لی ہے۔

    ترکیہ کا تیسرا طیارہ امدادی اشیا لے کر کراچی ائیر پورٹ پہنچ گیا

    مخیر افراد کی جانب سے ریلیف کیمپوں میں پناہ لینے والے بارش متاثرین کی مدد کی جا رہی ہے مقامی لوگوں کی جانب سے اپنی مد د آپ کے تحت اسکولوں میں قائم ریلیف کیمپوں میں موجود متاثرین کے لیے تینوں وقت کے کھانے اور پانی کی فراہمی کا اہتمام کیا جارہا ہے۔

    ریلیف کیمپوں میں موجود متاثرین کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ سمیت کسی سیاسی تنظیم نے کوئی مدد نہیں کی، حکومت ان متاثرین کو مالی مدد اور امداد فراہم کرنے میں بے سود ثابت ہوئی ہے۔

    مخیر افراد کا کہنا ہے کہ یہ متاثرین اس ملک کے لوگ ہیں اس مشکل کی گھڑی میں سب کو مل کر کام کرنا ہوگا ، ان متاثرین کی امداد کے لیے صاحب حیثیت لوگوں کو آگے آنا چاہیے۔

    واضح رہے کہ ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہےملک بھر میں حالیہ بارشوں اور سيلاب سےاب تک جانبحق ہونے والے افراد کى تعداد 1061 ہوگئی ہےلاکھوں کی تعداد میں مال مویشی سیلاب کے نذر ہو گئے۔ ہزاروں کلو میٹر شاہراہیں اور اہم پل بھی پانی بہا لے گیا۔ چاول ، کپاس اور پیاز سمیت کئی فصلیں تباہ ہو گَئیں ہیں۔

    سیلاب سے ہونے والی تباہی کو 2010 کے سیلاب سے کئی گنا زیادہ قراردیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہےکہ متاثرین کی بحالی میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔

    سندھ میں ایک اور سیلاب،زمیں دارہ بند ٹوٹنے سے سیلابی پانی بکھری میں داخل

  • سب پاکستانی بارشوں اورسیلاب کی وجہ سے پریشان اپنے بھائیوں کی مدد کےلیے آگےبڑھیں:ترجمان پاک فوج

    سب پاکستانی بارشوں اورسیلاب کی وجہ سے پریشان اپنے بھائیوں کی مدد کےلیے آگےبڑھیں:ترجمان پاک فوج

    راولپنڈی :موسمی تبدیلیوں کے براہ راست اثر کے طور پر اس مون سون کے دورا ن پاکستان کو غیر معمولی بارشوں،GLoFاور Cloud Burstکا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ جس کے نتیجے میں بلوچستان، سندھ، جنوبی پنجاب اور خیبر پختونخواہ کے متعدداضلاع میں سیلابی صورتحال اور بھاری نقصانات ہوئے ہیں۔ ایسے میں اپنی قومی ذمہ داری کے تحت، پاکستان آرمی نے نوٹیفائیڈ متاثرہ علاقوں میں ایک بھرپور ریسکیو اور ریلیف مہم کا آغاز کیا ہوا ہے۔ اس ضمن میں ریلیف اور ریسکیو آپریشن کو منظم کرنے کے لیے ہیڈ کوارٹر آرمی ائیر ڈیفنس کمانڈ کے ماتحت ریلیف اور ریسکیو آرگنائزیشن قائم کر دی گئی ہے۔ اب تک40,000لوگوں کو محفوظ مقامات اور آرمی کے قائم کردہ137سے زائد ریلیف کیمپوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

    مزید برآں، 200کے قریب عارضی طبی مراکز میں 23,000لوگوں کو ادویات اور طبی مدد فراہم کی گئی ہے۔ اسی طرح آرمی اپنے موجود اسٹاک میں سے3700سے زائد ٹینٹ اور ضرورت کی دیگر اشیاء بھی متاثرین میں تقسیم کر چکی ہے۔ اس کے علاوہ چیف آف آرمی سٹاف کے خصوصی حکم پر آرمی اپنے3دن سے زائد راشن(تقریباََ1500ٹن) کو بھی سیلاب سے متاثرہ علاقے میں عام لوگوں میں بانٹ چکی ہے۔ اسی جذبے کے تحت آرمی کے تمام جنرل آفیسرز نے اپنی ایک ماہ کی نتخواہ متاثرین کی مدد کے لیے دی ہے۔ علاوہ ازیں دیگر افسران بھی رضاکارانہ بنیاد پر مالی عطیات دے رہے ہیں۔

    لیکن اس سب امداد کے باوجود، سیلاب کی تباہ کاریاں اس قدر زیادہ ہیں کہ مزید ریلیف کی چیزوں اور ادویات کی اشد ضرورت ہے تاکہ متاثرین کی جلد از جلد دادرسی کی جا سکے۔ ایسے میں ہم سب کا یہ قومی فریضہ ہے کہ ضرورت کے اس لمحے میں اپنے متاثرین بہن بھائیوں اور بچوں کی مدد کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالیں۔ اس سلسلے میں کئی مخیر حضرات نے آرمی سے اس مد میں رابطہ بھی کیا ہے۔ اس اہم کاوش کی اہمیت کے مدِ نظر پاکستان آرمی وفاقی حکومت کی ہدایات کے تحت تمام بڑے شہروں میں عوام کی طرف سے عطیہ کیے جانے والے سامان کی کولیکشن کے لیے عطیہ مراکز قائم کرے گی۔ جہاں ضروری اشیاء جیسا کہ:۔ ٹینٹ، شلٹر، شمسی لائٹس، بستر/گدا، موسمی کمبل /چادر، پانی ذخیرہ/صاف کرنے کی کٹ/ٹینک، ٹارچ/لائیٹس، بارش والے جوتے اور ترپال وغیرہ جمع کیے جائیں گے۔
    راشن(آٹا، گھی، چاول، دال، خشک دودھ، چینی، پتی) پینے کا صاف پانی بھی وصول کیا جائے گا۔

    فرسٹ ایڈ کٹ، ضروری ادویات جیسے کہ ڈائریا، آنکھ، کان اور جلد کی بیماریاں، ڈی ہائڈیریشن، ڈینگی اور ملیریا کی ادویات۔مخیر حضرات سے درخواست ہے کہ اس انسانی ہمدردی اور قومی المیہ کے موقع پر بڑ ھ چڑھ کر اپنا حصہ ڈالیں۔ ان تمام اشیاء کی جلداز جلد سیلاب زدہ علاقوں میں منتقلی او ر متاثرین کو فراہمی پاکستان آرمی یقینی بنائے گی۔ علاوہ ازیں ہم وطنوں سے یہ بھی درخواست ہے کہ غیر ضروری اشیاء جیسے کپڑے، برتن ار کھانے کی کھلی اور خراب ہونے والی اشیاء وغیرہ ان مراکز پر جمع نہ کروائیں تاکہ فراہمی مدد کو متاثرین کی ضرورت کے مطابق مرکوز رکھا جا سکے۔ مزید مالی استطاعت والے پاکستانی بھائیوں سے درخواست ہے کہ حکومت پاکستان کے قائم کردہ اکاؤنٹ میں دل کھول کر عطیات دیں۔

    اس دکھ اور تکلیف کے مرحلے میں پاکستان آرمی، قوم کے شانہ بشانہ اپنی ذمہ داریاں بھرپور طریقے سے ادا کر نے کے لیے کوشاں ہے۔ اس ضمن میں نہ صرف ریسکیو اور ریلیف پر توجہ دی جا رہی ہے بلکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی خصوصی درخواست پر ایک اچھی Rehabمہم کی بنیادی ضرورت کے طور پر آرمی تمام نوٹیفائیڈ متاثرہ علاقوں میں مشترکہ سروے کرنے میں سول انتظامیہ کو بھرپور مدد فراہم کر رہی ہے۔ جس کا آغاز صوبہ بلوچستان سے کر دیا گیا ہے۔

  • چین میں بھی موسلا دھار بارشیں، سیلاب سے 16 افراد ہلاک، متعدد لاپتہ

    چین میں بھی موسلا دھار بارشیں، سیلاب سے 16 افراد ہلاک، متعدد لاپتہ

    بیجنگ :چین کے شمال مغربی علاقوں میں موسلادھار بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں 16 افراد ہلاک اور متعدد لاپتہ ہو گئے، جہاں انتہائی موسمی حالات کے باعث فیکٹریاں بند ہو گئی ہیں اور بجلی بھی منقطع ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کی رپورٹ کے مطابق چین میں سیلاب درجہ حرارت میں اضافے اور موسلا دھار بارشوں کے دوران آتا ہے، متعدد شہروں میں سیلاب کی وجہ سے کروڑوں ڈالر مالیت کا نقصان رہورٹ ہوا ہے۔

    ریاستی نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی نے بتایا کہ رواں ہفتے صوبہ کنگھائی کے ایک پہاڑی علاقے میں سیلاب آیا، جس سے 6 دیہات کے 6 ہزار 200 سے زیادہ شہری متاثر ہوئے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ سیلاب کے باعث سڑکیں کیچڑ سے ڈھکی ہوئی ہیں، کئی جگہوں پر درخت اکھڑے گئے ہیں اور مکانات تباہ ہوگئے ہیں۔سی سی ٹی وی نے بتایا کہ ’18 تاریخ کو دوپہر تک، 16 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، تاہم امدادی کام جاری ہے’۔

    سرکاری میڈیا کی رپورٹ کے مطابق کم از کم 18 افراد لاپتہ ہیں جبکہ 20 کو بچا لیا گیا ہے، ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے ‘فرنٹ لائن ہیڈکوارٹرز’ قائم کیا گیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ‘بچاؤ کا کام منظم طریقے سے جاری ہے’، بدھ کی رات اچانک ہونے والی شدید بارش نے صورت حال میں مزید شدت آگئی ہے۔

    سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے دنیا بھر میں شدید موسم دیکھنے میں آرہا ہے اور درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ ہی اس میں مزید شدت کا امکان ہے۔

    جنوبی چین میں جون میں آنے والے شدید سیلاب نے نصف ملین سے زائد افراد کو بے گھر کر دیا تھا اور ایک اندازے کے مطابق 25 لاکھ ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔چینی حکام نے خبردار کیا کہ ملک کے شمالی علاقوں بشمول دارالحکومت بیجنگ اور ہمسایہ ممالک تیانجن اور ہیبی میں بھی شدید بارشوں کا امکان ہے۔

    سرکاری میڈیا کے مطابق صدر شی جن پنگ نے شمال مشرقی صوبہ لیاؤننگ میں حکام سے ‘سیلاب پر قابو پانے میں لوگوں کی جانوں کا تحفظ یقینی بنانے’ کی ہدایت کی ہے۔

    دریں اثنا چین کے جنوب مغربی علاقے میں لاکھوں لوگوں کو بجلی کی لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے کیونکہ شدید گرمی کی لہر کی وجہ سے بجلی کی سپلائی میں کمی واقع ہوئی ہے، جس کی وجہ سے فیکٹریوں میں کام میں تعطل آگیا ہے۔

  • کراچی کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش:19 اگست تک سلسلہ جاری رہنے کا امکان

    کراچی کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش:19 اگست تک سلسلہ جاری رہنے کا امکان

    کراچی :شہر قائد میں ایک بار پھر طوفانی بارشوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ بارشوں کا یہ سلسلہ 19 اگست تک جاری رہے گا،ادھر کراچی میں منگل کو بارش کا آغاز گلشن معمار، پورٹ قاسم، گلشن حدید اور اطراف کے علاقوں سے ہوا جس کے بعد شہر کے دیگر علاقوں کو بھی بتدریج بارش شروع ہوگئی۔

     

    کراچی بارشیں: پاک فوج کے جوان خدمت میں‌مصروف : شاہراہ فیصل پر انڈر پاس کلیئر

    محکمہ موسمیات کے مطابق شہر میں دن بھر وقفے وقفے سے کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش کا سلسلہ جاری رہے گا۔ رواں برس موسم برسات میں غیر معمولی بارشوں کے باوجود انتظامیہ بدستور صرف دعوے ہی کرتی نظر آرہی ہے۔ شہر کی تمام اہم سڑکیں دور افتادہ علاقوں کے کچے راستوں کا منظر پیش کررہی ہیں۔ جگہ جگہ گڑھوں اور کھلے مین ہولز کی بدولت عوام کو شدید مشکلاتے کا سامنا ہے۔

    دوسری جانب محکمہ موسمیات نے بھارتی ریاست راجستھان میں موجود ہوا کے کم دباؤ کی بدولت منگل کی شام سے بارشوں کے نئے سلسلے کی پیش گوئی کی ہے۔محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ مون سون کے نئے اسپیل سے کراچی سمیت سندھ کے بیشتر اضلاع میں 19 اگست جب کہ بلوچستان کے شمال مشرقی اور ساحلی اضلاع میں 20 اگست موسلادھار بارشوں کا امکان ہے، جس سے نشیبی علاقے زیر آب اور مقامی برساتی ندی نالوں میں طغیانی آسکتی ہے۔

    کراچی بارشیں:عروہ حسین حکومت کے خلاف بولنے والوں برہم

    ادھرکراچی میں سرجانی ٹاؤن گرین بس سٹاپ کے قریب چار منزلہ بلڈنگ گر گئی جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ 10 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

    کراچی بارشیں، شہری برقی آلات کے استعمال میں احتیاط کریں اور کھمبوں سے دور رہیں، کے…

    تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن میں گرین بس سٹاپ کے قریب واقع چار منزلہ عمارت اچانک منہدم ہوگئی جس کے ملبے تلے متعدد افراد دب گئے۔

    ریسکیو ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر 11 افراد کو زخمی حالت میں ملبے سے نکالا، زخمیوں کو بعد ازاں ہسپتال منتقل کر دیا گیا جن میں سے ایک شخص ہسپتال میں دم توڑ گیا، علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ اب بھی کئی افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ مزید عمارت گرنے والے ملبے تلے دبے بچ جانے والوں کی تلاش کے لیے جائے وقوعہ پر آپریشن جاری ہے۔

  • حالیہ بارشوں کے بعد تربیلا ڈیم پانی سے بھرگیا،مزید بارشوں کی پیشن گوئی

    حالیہ بارشوں کے بعد تربیلا ڈیم پانی سے بھرگیا،مزید بارشوں کی پیشن گوئی

    راولپنڈی:حالیہ بارشوں کے بعد تربیلا ڈیم پانی سے بھر گیا،مزید بارشوں کی پیشن گوئی ،اطلاعات کے مطابق حالیہ بارشوں کے بعد تربیلا ڈیم پانی سے بھر گیا۔ ڈیم میں پانی کی سطح ایک ہزار 547 فٹ تک بلند ہوگئی۔

    ارسا حکام کے ڈیم میں 56لاکھ ایکڑفٹ پانی ذخیرہ ہوچکا ہے جس کا مطلب کے ڈیم 99.8فیصد پانی سے بھر چکا ہے۔ تربیلا ڈیم میں 1550فٹ پانی کی گنجائش ہے۔

    حکام کے مطابق تربیلاڈیم میں پانی کی آمد2 لاکھ40 ہزار کیوسک ہے۔ ڈیم سیفٹی کےلئے یومیہ ایک فٹ سے بھی زیادہ بھرنا خطرناک ہوگا۔حکام کے مطابق مطابق گندم کی بوائی کے لئے تربیلہ ڈیم کا اسٹورشدہ پانی نہایت مفید ہوگا۔

    دوسری جانب سیلاب سے تباہ حال بلوچستان پھر مشکلات میں مبتلا ہو گیا ہے، کوہلو میں طوفانی بارش کےباعث سیلابی صورتحال کے باعث کئی کچے مکانات گرگئے۔

    کوہلو-کوئٹہ قومی شاہراہ پر مختلف مقامات پر ٹریفک کی آمدورفت متاثرہوگئی، طوفانی بارش اور سیلاب کے سبب جشن آزادی کی مرکزی تقریب ملتوی کردی گئی۔قلعہ عبداللہ میں سیلابی ریلے سے دو سو سے زائد مکانات متاثر ہوئے جبکہ بیشتر رابطہ سڑکیں اور پل بہہ گئے، تین روز کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 8 ہو گئی ہے۔

    توبہ اچکزئی میں موسلادھاربارشوں کے بعد ریلے میں بہہ کر دو افراد جاں بحق، بارکھان، رکھنی، ڈیرہ بگٹی، شیرانی، دھانا سر، فورٹ منرو، کوہ سلیمان، زیارت، قلعہ سیف اللہ میں بھی موسلادھار بارش سے نشیبی علاقے زیر آب آگئے۔

    چمن کے بالائی علاقوں کوژک ٹاپ، شیلاباغ پر موسلادھار بارش، راجن پور شہراورگردونواح کے ساتھ کوہ سلیمان کے پہاڑی علاقوں میں موسلا دھار بارشوں کے بعد ندی نالوں میں طغیانی کے باعث میدانی اور پچھاد کے علاقے پھر سے ڈوبنے کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

  • کراچی میں پھربارشیں،بلوچستان میں سیلابی صورت حال کا الرٹ جاری

    کراچی میں پھربارشیں،بلوچستان میں سیلابی صورت حال کا الرٹ جاری

    کراچی: کراچی میں موسلا دھار بارش کا سلسلہ شروع ہوسکتا ہے، جو 14 اگست تک وقفے وقفے سے بارش کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات نے آج زیر یں سندھ میں چند مقامات پر موسلادھار بارش کی پیش گوئی کی ہے۔محکمہ موسمیات کی طرف سے جاری پیغام کے بعد کراچی والوں پرایک مشکل وقت پھر جاری ہوگیا ہے

    محکمہ موسمیات کا کہنا تھا کہ شہرقائد میں ٹمپریچر کے بڑھنے کا خدشہ ہے جس کے بعد بارش کی توقع ہے اور پھر یہ سلسلہ ایک دو دن تک جاری رہ سکتا ہے ، محکمہ موسمیات کے مطابق بارشوں کا یہ سلسلہ بلوچستان تک پھیلا ہوا ہے

    مون سون بارشیں،سیلابی ریلے جنوبی پنجاب کے علاقوں میں داخل

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ شہر قائد میں اس وقت شدید حبس ہے جبکہ سمندری ہوائیں مکمل طور پر معطل ہیں اور ہوا میں نمی کا تناسب 90 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔محکمہ موسمیات نے بتایا ہے کہ شہر بھر میں بارش میں شدت 10 اگست تا 13 اگست کے دوران رہے گی جبکہ اس دوران سمندر میں طغیانی رہے گی۔

    سندھ
    یہ بھی اطلاعات ہیں کہ دادو اور مورو کے درميان سیلابی پانی میں اضافے کے بعد دادو اور نوشہروفیروز کے اضلاع میں کچے کے کچھ دیہات زیر آب آگئے ہیں۔ضلعی حکام کے مطابق دادوشہر کے گردونواح میں‌ 50 سے زائد دیہات پانی میں ڈوبے ہیں۔ دادو کے جو گاوں اس وقت زیرآب ہیں ان میں گاؤں گل محمد کوریجو، مبارک، نبن جتوئی، شیر محمد مستوئی، جب کہ ضلع نوشہرو فیروز کا گاؤں ولی داد بھٹو اور دیگر متاثر ہوئے ہیں۔سیلاب کے باعث کپاس، پیاز، تل سمیت دیگر فصلیں اور سبزیاں بھی متاثر ہوئی ہیں،

    مون سون بارشیں، دریائے راوی اور چناب میں سیلابی الرٹ جاری

    بلوچستان

    اس کے علاوہ بلوچستان، پنجاب، بالائی خیبر پختونخوا اور کشمیر میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش پیشن گوئی کی گئی تھی ۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بلوچستان میں سیلاب متاثرین کی مشکلات میں اضافے کا خدشہ ہے۔پی ڈی ایم اے کے مطابق 10 اگست سے 13 اگست تک مون سون اسپیل میں گرج چمک کے ساتھ بارشیں ہوں گی۔ جس سے دوبارہ سیلابی صورت حال پیدا ہونے کا ڈر ہے

    بارشیں،سیلاب:بلوچستان میں آج بھی پاک فوج کی طرف سے ریلیف اور ریسکیوخدمات جاری

    اعلامیے کے مطابق مون سون بارشوں کا سلسلہ 10 اگست سے 13 اگست تک جاری رہے گا، گرج چمک کے ساتھ 16 اضلاع میں شدید بارشیں ہوں گی۔ پی ڈی ایم اے نے مراسلے میں ڈپٹی کمشنرز کو اہم مقامات پر بھاری مشینری کی موجودگی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

    صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے لورالائی، بارکھان، کوہلو، موسیٰ خیل، شیرانی اور سبی کے ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ ظاہر کیا ہے۔اس سے قبل جون سے شروع ہونیوالی مون سون بارشوں اور سیلابی صورت حال کے باعث اب تک بلوچستان میں 170 سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں، ہزاروں مکانات، فصلیں، پل اور سڑکیں بھی تباہ ہوچکی ہیں۔

    پنجاب کے بیشتر اضلاع میں موسم مرطوب اور گرم رہنے کے علاوہ خطہ پوٹھوہار، سیالکوٹ، نارووال ،گوجرانوالہ، لاہور، و ہا ڑ ی، بہاولپور، ڈ یرہ غازی خان، ملتان اوررحیم یارخان میں تیز ہواؤں اورگرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔کشمیر میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے جبکہ گلگت بلتستان میں مطلع ابرآلود رہنے کا امکان ہے۔

  • کراچی اورلاہورمیں طوفانی بارشیں جاری

    کراچی اورلاہورمیں طوفانی بارشیں جاری

    کراچی::لاہور:::کراچی اورلاہورمیں طوفانی بارشیں جاری ،اطلاعات کے مطابق کراچی کے مختلف علاقوں میں تیز بارش کا سلسلہ جاری ہے، اور موسم خوشگوار ہوگیا ہے۔کراچی کے مختلف علاقوں میں تیز بارش کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے، جس کے بعد موسم بھی خوشگوار ہوگیا ہے۔

    اس وقت شہر میں ملیرماڈل کالونی، گلشن حدید، ملیر، ماڈل کالونی، گلشن حدید، بحریہ ٹاؤن، شارع فیصل، اسٹیل ٹاؤن، سپر ہائی وے دنبہ گوٹھ، میمن گوٹھ اور گڈاپ میں تیز بارش ہورہی ہے۔

    دوسری جانب بارش کے باعث سڑکوں اور گلیوں میں بارش کا پانی ایک بار پھر جمع ہونا شروع ہوگیا ہے، جس کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    شدید بارش کے باعث کراچی سے ٹرینوں کی آمدرفت میں بھی تاخیر ہورہی ہے، اور ترجمان ریلوے کا کہنا ہے کہ پاکستان ریلوے عوام سے تکلیف کے لیے معذرت خواہ ہے۔

    ترجمان ریلوے کے مطابق بارش کے باعث قراقرم ایکسپریس 03:30 کے بجائے شام 04:15 پر روانہ ہوگی، پاک بزنس ایکسپرس 04:00 کے بجائے شام 05:40 پر روانہ ہوگی، 43 آپ شاہ حسین ایکسپرس 07:30 کے بجائے 08:00 بجے روانہ ہوگی، جب کہ بقیہ تمام ٹرین اپنے مقررہ اوقات پر روانہ ہوں گی۔

    محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری تازہ الرٹ کے مطابق آئندہ دنوں کے دوران 10سے 13اگست2022 میں مزید مون سون بارشیں جاری رہیں گی۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق مون سون ہوائیں ملک میں مسلسل داخل ہو رہی ہیں جبکہ 10 اگست (بدھ) سے مون سون ہوائیں زیادہ شدت کے ساتھ ملک میں داخل ہونگی۔ جس کے باعث 9 اگست کے دوران کشمیر،اسلام آباد، شمال مشرقی پنجاب، بالائی خیبرپختونخوا، مشرقی بلوچستان اور جنوب مشرقی سندھ میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش اور چند مقامات پر وقفے سے موسلادھار بارش کا امکان ہے۔

    جب کہ 10سے 13 اگست کے دوران کشمیر، گلگت بلتستان، اسلام آباد، پنجاب، خیبرپختونخوا، سندھ اور بلوچستان میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش اور کہیں کہیں وقفے سے موسلادھار بارش کا امکان ہے۔

    بارشیں،سندھ میں 93 اموات اور 59 افراد زخمی ہوئے،وزیراعلیٰ سندھ

    8 سے 12 اگست کے دوران موسلا دھار بارش کے باعث راولپنڈی، اسلام آباد، پشاور، نوشہرہ، مردان، فیصل آباد،لاہور اور گوجرانوالہ میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خطرہ ہے۔ اس دوران موسلا دھار بارش کے باعث راولپنڈی، اسلام آباد ، شکر گڑھ، سیالکوٹ، نارووال، ایبٹ آباد،مانسہرہ، دیر ،کرک،بنوں، لکی مروت، کشمیر مقامی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔

    رپورٹ کے مطابق 11سے 13 اگست کے دوران موسلادھار بارش کے باعث کراچی، ٹھٹھہ، بدین،حیدرآباد، دادو، جام شورہ، سکھر، لاڑکانہ، شہید بینظیرآباد اور میرپور خاص میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا بھی اندیشہ ہے۔

    لاہور

    لاہور کے مختلف علاقوں میں اتوار 7 اگست کو کہیں ہلکی تو کہیں تیز بارش نے گرمی کی چھٹی کردی۔

    مون سون بارشیں،سیلابی ریلے جنوبی پنجاب کے علاقوں میں داخل

    مغل پورہ، ہربنس پورہ، رائے ونڈ روڈ، ٹھوکرنیاز بیگ، وحدت روڈ، گلبرگ، گڑھی شاہو ، جیل روڈ ، ڈیفنس ،کوٹ لکھپت، ٹاؤن شپ، جوہر ٹاؤن میں ہلکی اور تیز بارش ریکارڈ کی گئی۔ جس سے حبس کا زور ٹوٹ گیا، دوپہر کو لاہور کا درجہ حرارت 29 سنٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جب کہ شہر میں ہوائیں سترہ کلو میٹر فی گھنتہ کی رفتار سے چل رہی ہیں۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق مون سون اسپیل کے تحت شہر میں آئندہ دو روز میں مزید بارشوں کا امکان ہے۔

    شہر کے مختلف علاقوں میں بادل برستے ہی نشیبی علاقے زیرآب آ گئے۔ نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

    کراچی:حب ڈیم میں پانی کی سطح بلند ہو گئی،آئندہ تین روز میں مزید بارشیں، اربن فلڈنگ

    بلوچستان

    مون سون کے باعث قلعہ سیف اللہ، لورالائی، بارکھان، کوہلو، موسی خیل، شیرانی، سبی، بولان، قلات، خضدار، لسبیلہ، آواران، تربت،پنجگور، پسنی، جیوانی، اور ماڑہ، گوادر اور ڈیرہ غازی خان کے برساتی اور مقامی ندی نالوں میں طغیانی آسکتی ہے۔

    خیبر پختونخوا

    اس دوران کشمیر، خیبرپختونخوا کے پہاڑی علاقوں، گلیات ، مری ،چلاس، دیا میر، گلگت، ہنزہ، استور اور اسکردو میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔صوبائی حکومتوں کی جانب سے مسافروں اور سیاحوں کو موسمی حالات کو مدنظر رکھ کر سفر کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس دوران مسافر مزید محتاط رہیں۔

  • سیلاب کی تباہ کاریاں: این ڈی ایم اے کو 5 ارب روپے جاری کرنے کی ہدایت

    سیلاب کی تباہ کاریاں: این ڈی ایم اے کو 5 ارب روپے جاری کرنے کی ہدایت

    اسلام آباد:ملک میں بارشوں اورسیلابوں کی وجہ جو صورت حال اس وقت درپیش ہے اس سے نمٹنے کےلیے وزیرِاعظم محمد شہباز شریف کی ہدایت پر وفاقی حکومت نے بارش اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے وزیر خزانہ کو نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کو 5 ارب روپے جاری کرنے کا حکم دیدیا۔ این ڈی ایم اے اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز (پی ڈی ایم ایز) کے درمیان ریسکیو اور ریلیف کے کام کو مؤثر انداز سے سرانجام دینے کیلئے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی بھی قائم کردی۔

    وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق جمعہ کو وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اسلام آباد میں سیلاب کی صورتحال کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا، جس میں وفاقی وزراء، مشیران، پارلیمنٹ کے ارکان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت تمام صوبوں کے چیف سیکریٹریز، سینئر حکومتی ارکان، چیئرمین این ڈی ایم اے اور ڈی جی محکمہ موسمیات نے شرکت کی۔

    وزیرِاعظم کی ہدایت پر وفاقی حکومت نے بارش اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کردی جبکہ وزیراعظم نے وزراتِ خزانہ کو فوری طور پر 5 ارب روپے این ڈی ایم اے کو جاری کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ سیلاب متاثرین کی ریسکیو، ریلیف اور بحالی ایک قومی فریضہ ہے، ہمیں اپنے جماعتی مفادات سے بالا تر ہو کر عوام کی مدد کرنی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ہم سیاست بعد میں کریں گے، ابھی اُن لوگوں کی مشکلات کا مداوا کرنے کا وقت ہے جو سخت مشکل میں ہیں، سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دوروں کے دوران میں نے اتحاد اور قومی یگانگت کی بات کی تاکہ ہم سب مل کر اس بہت بڑے چیلنج سے نمٹ سکیں۔

    وزیراعظم نے این ڈی ایم اے اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کے درمیان ریسکیو اور ریلیف کے کام کو مؤثر انداز سے سرانجام دینے کیلئے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کردی۔

    کمیٹی وفاقی وزیر پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ احسن اقبال، وفاقی وزیر مواصلات مولانا اسد محمود، وفاقی وزیر ہاؤسنگ اینڈ ورکس مولانا عبدالواسع، وزیر برائے پارلیمانی امور مرتضیٰ جاوید عباسی، وزیراعظم کے مشیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان قمر زمان کائرہ، چیئرمین این ڈی ایم اے اور سیکریٹری وزارتِ مواصلات پر مشتمل ہوگی۔

    ڈیرہ غازی خان ۔ وزیراعظم کا دورہ، سیلاب سے جاں بحق افراد کے ورثاء کو 10، 10 لاکھ روپے امداد دینے کا…

    وزیراعظم نے ہدایت کی کہ کمیٹی فوری اپنا اجلاس منعقد کرے، وفاقی اور صوبائی اداروں میں روابط کو بہتر کرنے کیلئے اپنی تجاویز پیش کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں موسمیاتی تبدیلی کے پیشِ نظر، وسط مدتی سے طویل مدتی حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے، صوبائی حکومتیں مستند معلومات پر مبنی رپورٹس وفاقی حکومت کو ارسال کریں تاکہ سیلاب اور بارشوں سے ہونے والے نقصانات کا جلد از جلد تخمینہ لگایا جاسکے۔

    شہباز شریف نے مزید کہا کہ ملک میں ہونے والے ترقیاتی کاموں کو موسمیاتی تبدیلی کی ترجیحات کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں سیلاب اور بارشوں کے نقصانات سے بچا جاسکے۔

    راہِ حق کےشہیدو،وفا کی تصویرو!:عمران خان شہیدلیفٹیننٹ جنرل سرفرازعلی کےگھرپہنچ

    وفاقی وزراء پر مشتمل کمیٹیوں نے سیلاب زدہ علاقوں کے دوروں کے بعد اجلاس کو بریفنگ دی اور ساتھ ہی ریسکیو اور ریلیف کے حوالے سے مسائل سے آگاہ کیا۔ اجلاس میں وزیراعظم کو ملک میں جاری ریسکیو اور ریلیف آپریشنز کے بارے تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔

    روس نےیاری کاحق ادا کردیا:ہندوستان پرنوازشات ہی نوازشات

  • سندھ :مون سون بارشوں کی دوران جاں بحق افراد کی 100 ہوگئی

    سندھ :مون سون بارشوں کی دوران جاں بحق افراد کی 100 ہوگئی

    کراچی :سندھ میں حالیہ مون سون سیزن کے دوران ہونے والی بارشوں کے دوران 100 افراد لقمہ اجل بنے ہیں۔پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی سندھ کی جانب سے اجری رپورٹ کے مطابق 20 جون سے 29 جولائی تک صوبے بھر میں ہونے والی بارشوں کے دوران حادثات و واقعات میں 100 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق بارشوں کے نتیجے میں پیش آنے والے واقعات میں جاں بحق ہونے والوں میں 51 بچے، 43 مرد اور 6 خواتین شامل ہیں۔
    سندھ میں ہونے والی ہلاکتوں میں سے 41 کراچی میں ہوئیں جب کہ 10 کا تعلق ملیر سے تھا۔

    رواں برس مون سون سیزن کے دوران اب تک سندھ میں خلاف توقع کئی 500 فیصد زائد بارش ریکارڈ ہوئی ہے، صرف کراچی میں جولائی کے مہینے میں بارش کا 55 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے۔کراچی کے کئی علاقوں میں صرف ایک ماہ کے دوران 400 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ اگست کے مہینے میں بھی مون سون بارشوں کے کچھ اسپیل آئیں گے۔ 6 اگست کو بارش برسانے کا طاقتور سسٹم سندھ میں داخل ہوگا جو ناصرف سندھ بلکہ بلوچستان میں بھی شدید بارشوں کا باعث بن سکتا ہے۔

    وزیراعظم سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کرنے کیلئے بلوچستان روانہ

    ادھر ملک کے مختلف علاقوں میں مون سون بارشوں کے طوفانی اسپیل اور سیلاب نے تباہی مچا دی، بلوچستان اور پنجاب کے کئی علاقوں سے ہزاروں افراد متاثر ہو گئے، فصلیں تباہ، بستیاں اجڑ گئیں۔

    بلوچستان میں بارشیں اور سیلاب نے ہر طرف تباہی مچادی، لسبیلہ شدید متاثر، سینکڑوں مکانات زمین بوس، چاغی ، احمد وال، دالبندین میں سلابی ریلے سے مزید کئی فٹ ریلوے ٹریک بہہ گیا، پاک ایران ٹرین سروس معطل، حب ندی میں پھنسے 3 افراد کو بچالیا گیا، پاک فوج کا متاثرہ علاقوں میں ریلیف آپریشن جاری ہے۔

    یرہ غازی خان ۔ ڈپٹی کمشنر محمد انور بریار سیلاب زدگان سے بات کرتے ہوئے آبدیدہ…

    ادھر مسلسل طوفانی بارشوں سے دریائے چناب میں پانی کی سطح بلند ہونے پر ملتان میں قاسم بیلہ کی متعدد بستیاں زیر آب آگئیں، سیکڑوں ایکڑ پر فصلوں اور آم کے باغات کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، اوچ شریف میں بھی دریائے چناب میں پانی کی سطح میں اضافہ ہونے سے ہزاروں افراد متاثر ہوئے ہیں، متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اہلکار لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کررہے ہیں۔

    سیلاب ریلوے ٹریک بہا لے گیا، پاک ایران ٹرین سروس معطل

    راجن پور میں حالیہ طوفانی بارشوں سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی، 75 سے زائد مواضعات متاثر ہوئے ،ایک ہزار سے زائد گھروں کو نقصان پہنچا، 27 ہزار ایکڑ پر کاشت کی گئی فصلیں بھی تباہ ہوگئیں۔