Baaghi TV

Tag: بارش

  • ملک بھر میں بارشوں کے باعث مسافر ٹرینوں کا شیڈول متاثر

    ملک بھر میں بارشوں کے باعث مسافر ٹرینوں کا شیڈول متاثر

    ملک بھر میں بارشوں کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے کراچی اور کوئٹہ سے آنے والی مسافر ٹرینوں کا شیڈول متاثرہو گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ریلوے ذرائع کے مطابق بارشوں کی وجہ سے کراچی سے لاہور آنے والی قراقرم ایکسپریس 4 گھنٹے تاخیر کا شکار ہو گئی فیصل آباد، راولپنڈی، پشاور چلنے والی رحمان بابا ایکسپریس 3 گھنٹے40 منٹ تاخیر کا شکارہوئی-

    کراچی،لاہور سمیت ملک بھر میں بارشوں کا امکان

    کراچی سے لاہور آنے والی پاک بزنس ایکسپریس 3 گھنٹے 30منٹ، کراچی سے لاہور آنے والی علامہ اقبال ایکسپریس 3 گھنٹے ،کراچی سے لاہور آنے والی شاہ حسین ایکسپریس 3 گھنٹے،کراچی سے لاہور آنے والی گرین لائن ایکسپریس 2 گھنٹے جبکہ کراچی سے لاہور آنے والی کراچی ایکسپریس بھی 3 گھنٹے تاخیر کا شکار ہوئی۔

    علاوہ ازیں کراچی سے لاہور آنے والی عوام ایکسپریس 2 گھنٹے، کراچی سے لاہور آنے والی تیزگام ایکسپریس 2 گھنٹے 40 منٹ، کوئٹہ سے لاہور آنے والی جعفر ایکسپریس 3 گھنٹے، کراچی سے لاہور آنے والی خیبر میل ایکسپریس ایک گھنٹہ 30منٹ تاخیر کا شکارہوئی۔۔

    کراچی براستہ فیصل آباد راولپنڈی چلنے والی پاکستان ایکسپریس ایک گھنٹہ 40 منٹ اور کراچی براستہ فیصل آباد ملکوال چلنے والی ملت ایکسپریس بھی 2 گھنٹے تاخیر کا شکار ہوئی-

    ڈالر کی قدر میں کمی کا سلسلہ بدستور جاری

    ترجمان ریلوے کا کہنا ہے کہ مسافروں کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، کرائے کم ہونے کی وجہ سے ٹرینوں میں رش بھی زیادہ ہے، مسافروں کی سیفٹی پہلی ترجیح ہے۔

    واضح رہے کہ ملک بھر میں بارشوں کا سلسلہ جا ری ہے اسلام آباد میں موسلا دھار بارش،میریٹ ہوٹل کے باہر سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی سی ڈی اے کا عملہ نکاسی آب میں مصروف ہے،ظفر وال میں موسلا دھار بارش ممحکمہ آبپاشی کےمطابق ظفروال ،نالہ ڈیک میں درمیانے درجے کےسیلاب کی صورتحال پیدا ہو گئی نالہ ڈیک میں 11 ہزار کیوسک پانی کا ریلا گزر رہا ہےنالہ ڈیک میں پانی گزرنے کی گنجائش 25 ہزار کیوسک ہے-

    پنڈدادن خان میں موسلادھار بارش ،نشیبی علاقے زیر آب آگئیں متعدد علاقوں میں فیڈر ٹرپ کر گئے، بجلی کی فراہمی منقطع ہو گئی-

    کراچی: خاتون سمیت 7 مسلح ملزمان گھر سے 56 لاکھ روپے نقد، 28 تولہ سونا،4 موبائل…

  • لاہوراور کراچی پھرپانی پانی ہوگئے:مزید بارشوں کی پیشن گوئی

    لاہوراور کراچی پھرپانی پانی ہوگئے:مزید بارشوں کی پیشن گوئی

    لاہور:: کراچی اور لاہور کے کچھ حصے ہفتے کے روز مون سون کے نئےسپیل کی نذر ہوگئے ہیں ، نشیبی علاقے زیر آب آگئے اور روزمرہ کی زندگی متاثر ہوئی۔

    کراچی کے مختلف علاقوں میں کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ محکمہ موسمیات نے چند گھنٹوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کردیا۔

    کراچی سے ذرائع کے مطابق اس حوالے سے محکمہ موسمیات نے کراچی میں آج رات سے تیز بارش کی پیش گوئی کی تھی۔

    کراچی کے مختلف علاقوں میں کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش کا سلسلہ شروع ہوگیا، اسٹیل ٹاؤن، گلشن حدید اور اطراف میں گرج چمک کے ساتھ تیز بارش ہورہی ہے۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ بادل مشرق کی جانب سے کراچی کی طرف بڑھ رہے ہیں، چند گھنٹوں میں شہر میں موسلا دھار بارش متوقع ہے۔دوسری جانب محکمہ موسمیات کے مطابق شہر میں بارش کا سلسلہ 9 اگست تک جاری رہے گا جبکہ 11 سے 13 اگست تک موسلاھار بارش کا بھی امکان ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق 11 سے 13 اگست کو کراچی کے علاوہ ٹھٹھہ، بدین، حیدرآباد، دادو، جامشورو، سکھر، لاڑکانہ، شہید بے نظیر آباد اور میرپورخاص میں بھی موسلا دھار بارش ہو سکتی ہے۔

    ملک کے چوٹی کے علاقوں میں مون سون کی لہریں داخل ہو رہی ہیں۔ ملک کے مغربی اور بالائی علاقے بھی مغربی لہر سے متاثر ہو رہے ہیں۔

    کراچی کے مختلف علاقوں میں صبح سے بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ کراچی میں رواں مون سون کے دوران، محکمہ موسمیات نے موسلادھار بارشوں کی پیشگوئی کی ہے۔

    یہاں تک کہ لاہور میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کا دفتر بھی بارش کے نتیجے میں زیر آب آگیا۔ بارش کے پانی کی وجہ سے کئی نشیبی مقامات زیر آب آگئے ہیں۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق اتوار کو ملک کے بیشتر حصوں میں گرم اور گہرے موسم کی توقع ہے۔

    تاہم بالائی پنجاب، بالائی خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں بارش، آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ زیریں سندھ اور شمالی بلوچستان میں چند مقامات پر بارش، آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ اس دوران کشمیر، بالائی خیبرپختونخوا اور بالائی پنجاب میں بھی الگ تھلگ اہم بارشوں کا امکان ہے۔

    گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کی اکثریت نے موسم گرم اور مرطوب رہا۔ تاہم کشمیر، گلگت بلتستان، سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں چند مقامات پر بارش، آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی۔

  • ٹانک: سیلاب سے پل ٹوٹنے سے درجنوں دیہات متاثر:عوام الناس پریشان

    ٹانک: سیلاب سے پل ٹوٹنے سے درجنوں دیہات متاثر:عوام الناس پریشان

    ٹانک: سیلاب سے پل ٹوٹنے سے درجنوں دیہات متاثر:عوام الناس پریشان ،اطلاعات کے مطابق خیبرپختونخوا کے علاقے ٹانک میں سیلابی ریلوں کے بعد صورت حال بہتر نہ ہوسکی۔

    ٹانک سے ذرائع کے مطابق سیلابی پانی کی وجہ سے پائی پل ٹوٹنے کے باعث کئی روز سے درجنوں دیہات کا شہر سے زمینی رابطہ منقطع ہے، جس کی وجہ سے خواتین اور مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جب کہ متاثرہ علاقوں میں کھانے پینے کی اشیا کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔

    ادھر ملک بھرمیں سیلاب اور بارشوں سے جوحالات درپیش ہیں اس کے مطابق
    بلوچستان:
    بلوچستان میں مون سون بارشوں کے تین اسپیلز کے دوران مجموعی طور جاں بحق افراد کی تعداد ایک سو ستر ہوگئی ہے، جب کہ سیلاب سے اٹھارہ ہزار سے زائد مکانات تباہ اور سولہ پل بہہ گئے۔ تئیس ہزار سے زائد مویشی بھی ہلاک ہوئے۔متاثرین ابھی پچھلے سیلاب سے سنبھل نہیں سکے تھے کہ پی ڈی ایم اے نے چوتھے اسپیل کا الرٹ جاری کردیا۔ میٹ آفس کے مطابق مکران، کوئٹہ، ژوب، سبی اور قلات ڈویژن میں شدید بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

    محکمہ موسمیات نے 10 سے 13 اگست تک مون سون کے چوتھے اسپیل کا الرٹ جاری کیا ہے۔ مشیر داخلہ ضیاٗ لانگو کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت نئے اسپیل سے نمٹںے کیلئے تیار ہے۔مشیر داخلہ ضیا کے مطابق اب تک 90 جاں بحق افراد کے ورثاٗ کو امدادی چیک تقسیم کئے گئے ہیں۔ صوبائی حکومت کے مطابق سیلاب ڈیمز کو پہنچنے والے نقصان کی ہر صورت تحقیقات کی جائیں گی۔

    پروینشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ( پی ڈی ایم اے) نے آج سے مشرقی بلوچستان میں سیلابی صورت حال کی وارننگ جاری کردی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق 9 اگست تک کشمیر، اسلام آباد اور شمال مشرقی پنجاب میں بھی موسلادھار بارش کا امکان ہے۔

    لاہور

    لاہور میں ہفتے کی صبح شروع ہونے والا بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔ سب سے زیادہ بارش جوہر ٹاؤن میں 81 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔ محکمے کے مطابق بارش کا سلسلہ اتوار تک جاری رہے گا۔

    کراچی

    قائد کے شہر میں ایک بار پھر گھنگور گھٹاؤں نے ہفتے کی صبح سے ہی ڈیرے ڈال لیے، مون سون کے نئے اسپیل نے میٹروول، صدر، ایف بی ایریا اور لیاقت آباد میں بادل برسانے شروع کردیئے۔

    پاکستان چوک، عائشہ منزل، اولڈ ایریا، گارڈن اور لسبیلہ میں بھی بوندا باندی کا سلسلہ جاری ہے۔ محکمہ موسمیات نے آج شہر میں موسلا دھار بارش کی پیشگوئی کی ہے۔

  • کراچی سےاندرون ملک جانےوالی ٹرینوں کے    اوقات کارتبدیل:مزیدبارشوں کی خبربھی آگئی

    کراچی سےاندرون ملک جانےوالی ٹرینوں کے اوقات کارتبدیل:مزیدبارشوں کی خبربھی آگئی

    کراچی:کراچی سے اندرون ملک جانے والی ٹرینوں کےاوقات کار تبدیل:مزید بارشوں کی خبربھی آگئی ،اطلاعات کے مطابق بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے پاکستان ریلوے نے جمعہ کو کراچی سے اندرون ملک جانے والی ٹرینوں کے اوقات کار تبدیل کردئیے۔

    یہ بھی معلوم ہواہے کہ کہ اسی حوالے سے پاکستان ریلوے کی جانب سے بتایا گیا کہ خراب موسم ٹرینوں کی آمدورفت میں تاخیر کا باعث ہے۔ترجمان پاکستان ریلوے کی جانب سے بتایا گیا کہ 33اپ پاک بزنس ایکسپریس شام 4 بجے کے بجائے شام 06:30 پر روانہ ہونگی۔

    کراچی میں بارشی پانی نکالنے کے لئے ٹریکٹر ٹرالی کا استعمال,ویڈیو وائرل

    کراچی سے 43اپ شاہ حسین ایکسپرس شام 07:00 بجے کے بجائے رات 11:30 بجے روانہ ہوگی۔ کراچی سے 145اپ سکھرایکسپریس رات 11:00 کے بجائے رات 12:30 پرروانہ ہوگی۔

    ترجمان کی جانب سے وضاحت کی گئی کہ کراچی سے بقیہ تمام ٹرینیں اپنے مقررہ وقت پرروانہ ہونگیں۔

    دوسری طرف ایک بار پھر کراچی میں بارشوں کی خبر نے کراچی والوں کےدل کرچی کرچی کردیئے ہیں ، لوگ خوفزدہ ہیں اور ان کو کچھ سمجھ نہیں آرہی کہ وہ اب کیا کریں گے

    محکمہ موسمیات کے مطابق اسلام آباد، پنجاب ، سندھ اور بلوچستان سمیت ملک بھر میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ بارش کا یہ سلسلہ 13 اگست تک جاری رہے گا۔

    اس دوران سندھ اور بلوچستان کے نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے، جب کہ بارشوں سے دریائے جہلم اور ملحقہ نالوں میں بہاؤ تیز ہوگا۔

    میٹ آفس کی جانب سے گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور کشمیر میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے، جس کیلئے متعلقہ حکام کو الرٹ جاری کردیا۔

    کراچی / سندھ

    محکمہ موسمیات کی رپورٹ کے مطابق مون سون سسٹم آج بروز جمعہ 5 اگست سے سندھ پر اثرانداز ہو سکتا ہے، اس دوران ٹھٹھہ، بدین، سجاول، عمرکوٹ اور تھرپارکر میں تیز بارشوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ کراچی پر ایک نہیں دو سسٹم مزید بارشیں لارہے ہیں، ہفتے کو شروع ہونے والا نیا سلسلہ 9 اگست تک کہیں درمیانی کہیں تیز بارشوں کا باعث بنے گا، پھر 11سے 15اگست تک دوبارہ بارشوں کا سلسلہ شروع ہوگا۔

    کے الیکٹرک کا پاور پلانٹ بن قاسم تھری کا گیس ٹربائن دھماکے سے تباہ،

    محکمہ موسمیات کی جانب سے 6 اگست سے لے کر 10 اگست تک لسبیلہ کے مختلف مقامات پر بھی بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ سیلاب متاثرین کو ندی نالوں سے دور منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔

     

    پنجاب

    دوسری جانب پنجاب میں خطہ پوٹھوہار، گوجرانوالہ، لاہور، سا ہیوال، اوکا ڑہ، سیالکوٹ، نارووال میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ منڈی بہاؤالدین، میانوالی، سرگودھا، فیصل آباد، خوشاب، ملتان، رحیم یار خان، بہاولپور، بہاولنگر اور ڈیرہ غازی خان میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔

    پنجاب، خیبرپختونخوا، کراچی سمیت مختلف علاقوں میں بارش کا امکان

    لاہور میں جمعہ 5 اگست کو موسلا دھار بارش نے جہاں گرمی کا زور توڑا، وہیں نشیبی علاقے زیر آب آگئے۔ مون سون کی بارشوں نے لاہور شہر کی اہم شاہراہ پر بڑا شگاف ڈال دیا۔

    اکبر چوک سے فیصل ٹاون تک جانے والی سڑک پر دس فٹ گہرا اور بارہ فٹ چوڑا شگاف تاحال بھرا نہ جا سکا۔ روڈ پر شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے۔

    بلوچستان

    بلوچستان میں ژوب، خضدار، بولان، کوہلو، قلات، لسبیلہ، آواران، زیارت، بارکھان اور اس سے ملحقہ علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی توقع ہے۔ بعض مقامات پر موسلادھار بارش کا امکان ہے۔ اسی طرح خیبرپختونخوا میں دیر، چترال، سوات، ایبٹ آباد، مانسہرہ، مردان، پشاور، کوہاٹ، بنوں، مالا کنڈ، خیبر اور کرم میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

  • جاپان میں شدید سیلاب سے تباہی،کئی سڑکیں اور پل تباہ، گاڑیاں بہہ گئیں

    جاپان میں شدید سیلاب سے تباہی،کئی سڑکیں اور پل تباہ، گاڑیاں بہہ گئیں

    ٹوکیو:جاپان کو ایک طرف خطے میں تائیوان اور چین کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے سخت صورتحال کا سامنا ہے تو دوسری طرف جاپان کے شمال مشرقی علاقوں میں بارش اور سیلاب کے باعث لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوگئے۔

    جاپان کے شمال مشرقی علاقوں میں موسلا دھار بارشوں نے ہر شے پانی پانی کردی، رہائشی علاقوں میں پانی داخل ہونے کے باعث ہزاروں افراد کو نقل مکانی کی ہدایت کردی گئی۔

    قاتلانہ حملے میں ہلاک سابق جاپانی وزیراعظم شنزو ایبے کی آخری رسومات ادا

    لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب سے دریا ابل پڑے،کئی سڑکیں اور پل تباہ ہوگئے، گاڑیاں ڈوبنے سے لوگوں کا بھاری مالی نقصان ہوا ہے، کئی علاقوں کا رابطہ منقطع ہوگیا، تین افراد لاپتا ہوگئے۔

    جاپان کا زمین سے چاند و مریخ تک ٹرین چلانے کا منصوبہ

    گھروں اور کاروباری مراکز میں پانی داخل ہوگیا، جاپانی میڈیا کے مطابق 5 لاکھ چالیس ہزار افراد کو نقل مکانی کی ہدایت کی گئی ہے، حکام کے مطابق سیلاب کے باعث 2000 گھروں کی بجلی اور پانی منقطع ہوگیا ہے۔

    بارشوں سے سڑکیں زیر آب آگئیں اور لوگ گھروں میں محصور ہیں ، سیلابی ریلہ عمر رسیدہ افراد کی رہائش گاہ میں بھی داخل ہوگیا ۔جاپانی حکام کے مطابق شدید بارشوں اور ان کے نتیجے میں آنے والے سیلابی ریلے سے شدید تباہی ہوئی ہے ،

    چین کی جانب سے تائیوان پرداغے گئے5 میزائل جاپان کی حدود میں گرگئے

    سیلاب سے متاثر ہونے والے بعض علاقوں امدادی کارکنوں کو پہنچنے کے لیے بھی شدید مشکلات پیش آرہی ہیں جبکہ بعض شہروں میں پانی جمع ہونے سے سڑٖکوں زیر آب آگئیں اور عمارتوں کے اطراف میں پانی جمع ہونے سے لوگ گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں تاہم امدادی ادارے لاپتہ لوگوں کو تلاش کرنے اور محصور لوگوں کو عمارتوں سے نکالنے کے لیے کوششوں میں مصروف ہیں۔

  • 6 اگست سے شروع ہونے والی بارشوں کے پیش نظرضروری اقدامات کرلئے،ڈپٹی کمشنر گوادر

    6 اگست سے شروع ہونے والی بارشوں کے پیش نظرضروری اقدامات کرلئے،ڈپٹی کمشنر گوادر

    ڈپٹی کمشنر گوادر کپٹن ریٹائرڈ جمیل احمد کے زیر صدارت ضلع میں حالیہ مون سون بارشوں کے صورتحال ، نقصانات ،اور امدادی سرگرمیوں سمیت انکاسی اب سے متعلق جائزہ اجلاس منعقد ہوا .اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ذاکر علی بلوچ پی پی ایچ ائی کے ڈسٹرکٹ اسپورٹ مینجر ڈاکٹر منیر احمد بلوچ،محکمہ مواصلات و تعمیرات ایکسیںن روڈ/ بلڈنگ سیکٹر ثنا اللہ بلوچ ، محکمہ صحت ،پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ،ایرگیش، لوکل گورنمنٹ، زراعت ،محکمہ امور حیوانات کے افسران سمیت ضلع کے تمام اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی.

    پنجاب،مشرقی اور جنوبی بلوچستان میں بارش کا امکان

    اجلاس میں تمام محکموں کے سربراہان نے حالیہ مون سون بارشوں سے متاثرہ علاقوں میں اپنے اپنے محکوں کی اب تک کی پیش رفت اور امدادی سرگرمیوں سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی اور اب تک کی پیش رفت سے ڈپٹی کمشنر کو آگاہ کیا اجلاس میں ڈپٹی کمشنر نے معتلقہ محکموں کے افسران کو ضروی ہدایات بھی جاری کیں جبکہ کئی فیصلے بھی کیے گئے.

     

    ڈیرہ غازی خان – سیلاب متاثرین کو ایکسپائری ادویات دینے کا نوٹس

     

    اجلاس میں ڈپٹی کمشنرنے متوقع 6 اگست سے شروع ہونے والی بارشوں کی پیش نظر مربوط و جامع حکمت عملی اپنانے کی ہدایت کی ،ضلعی انتظامیہ،میونسپل کمیٹی سمیت۔ادارہ ترقیات کے رینز رسپانس ٹیموں کو فوری طور پر متحرک کردیا گیا اور ضروری عملہ و مشنری کا دوبارہ ازسرنو جائزہ لے کر ضرورت کے مطابق اضافی تعنیاتیاں کی گٸ ہیں جبکہ کنٹرول روم بھی قائم کیاگیا ھے .ڈپٹی کمشنرنے تمام تر وسائل کو بروئے کار لا کر فوری و موثر اقدامات کرنے کی ہدایت جاری کی ہیں ، پیشگی اقدامات کے طور پر نکاسی آب کی لاٸنز اور نالوں کی صفاٸی شروع کردی گئی ہے. اجلاس میں ڈپٹی کمشنر نے حالیہ بارشوں کے دوران شپ روز مصروف عمل ریسپانس ٹیموں اور دیگر عملہ کی کارکردگی پر اظہارکا اطمینان کرتے ہوئے ان کی حواصلہ افزائی کی.

  • برسات کا پانی کینسر سمیت دیگر امراض کا سبب بن سکتا ہے،تحقیق

    برسات کا پانی کینسر سمیت دیگر امراض کا سبب بن سکتا ہے،تحقیق

    ماہرین نے نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ برسات کا پانی کینسر سمیت دیگر امراض کا سبب بن سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی:سوئیڈن کی اسٹاک ہوم یونیورسٹی کے ماہرین کی جانب سے دنیا بھر میں موجود برساتی پانی پر لیبارٹری تجربات اور فیلڈ ورک کی تحقیق کی گئی جسے انوائرمینٹل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نامی تحقیقی جریدے میں شائع کیا گیا-

    دنیا کا اب تک کا سب سے مختصر ترین دن ریکارڈ

    تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ زمین پر موجود برساتی پانی انسانی ساختہ خطرناک کیمیکلز کے باعث کینسر سمیت دیگر امراض کا سبب بن رہا ہےکبھی زائل نہ ہونے والے انسانی ساختہ کیمیکلز (Forever Chemicals) برساتی پانی کو گدلا کر دیتے ہیں اور یہ کیمیکلز انسانی صحت پر خطرناک اثرات مرتب کر رہے ہیں۔

    تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ صرف انڈسٹریل علاقے ہی نہیں بلکہ یہ کیمیکلز انٹارکٹیکا اور تبت جیسے دور دراز اور ویران علاقوں میں بھی بارش کے پانی اور برف میں پائے گئے ہیں یہ انسانی ساختہ کیمیکل پر فلورواکائیل اور پولی فلورواکائیل سبسٹینسز (Perfluoroalkyl and polyfluoroalkyl substances (PFAS)) فائر فائٹنگ فوم، کھانا بنانے کے برتنوں کی نان اسٹک کوٹنگ، اور ٹیکسٹائل میں استعمال ہوتے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ پی ایف اے ایس کیمیکلز کو خودکار طریقے سے زائل ہونے میں ہزار سال لگ سکتے ہیں اور ان کیمیکلز پر ہونے والی سالوں کی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان کے انسانی صحت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں کیونکہ ماحولیات میں موجود مضر صحت پی ایف اے ایس کیمکلز زائل نہیں ہو رہے، اس کا سبب ان کیمیکلز کے زائل ہونے کی طویل مدت اور وہ قدرتی سائیکل ہے جو انہیں بارشوں کے ذریعے واپس ماحولیات میں لے آتا ہے۔

    برازیل میں ایمیزون کے جنگلات کی کٹائی کا نیا ریکارڈ

    ماہرین کے مطابق برسات کا پانی دنیا کے کافی حصوں میں پینے کے لائق صاف پانی تصور کیا جاتا ہے لیکن یہ پانی انسانی ساختہ کیمیکلز کی وجہ سے آلودہ ہو کر مضر صحت بن جاتا ہے اور انسانوں میں کینسر سمیت دیگر امراض کا سبب بن جاتا ہے۔

    ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اب ہم دھرتی کے فطری ماحولیات کی حدود کو کراس کر چکے ہیں اور دھرتی پر کوئی ایک ایسا مقام موجود نہیں جہاں ایک انسان ان کیمیکلز کے مضر صحت اثرات سے محفوظ رہ سکے۔

    اسٹاک ہوم یونیورسٹی اور ای ٹی ایچ زیورخ یونیورسٹی کے محققین کے مطابق، تبدیلیوں کا مطلب ہے کہ بارش کے پانی میں ان کیمیکلز کی سطح "اب ہر جگہ گائیڈ لائن کی سطح سے اوپر ہے”۔

    "پچھلے 20 سالوں میں پینے کے پانی میں پی ایف اے ایس کے رہنما اصولوں میں حیران کن کمی آئی ہے،” ایان کزنز، مطالعہ کے سرکردہ مصنف اور اسٹاک ہوم یونیورسٹی کے شعبہ ماحولیاتی سائنس کے پروفیسر نے کہا مثال کے طور پر، پی ایف اے ایس کلاس میں ایک معروف مادے کے لیے پینے کے پانی کی گائیڈ لائن ویلیو، یعنی کینسر کا باعث بننے والا پرفلووروکٹانوک ایسڈ (PFOA)، امریکہ میں 37.5 ملین گنا کم ہوا ہے۔”

    انہوں نے مزید کہا کہ پینے کے پانی میں PFOA کے لئے تازہ ترین امریکی رہنما خطوط کی بنیاد پر، ہر جگہ بارش کے پانی کو پینے کے لیے غیر محفوظ قرار دیا جائے گا۔

    تجرباتی دوا سے کینسر کے تمام مریض شفایاب ،ماہرین نے تحقیق کو معجزہ قرار دیدیا

  • وزیراعظم شہبازشریف کا دورہ ٹانک تیسری بار ملتوی

    وزیراعظم شہبازشریف کا دورہ ٹانک تیسری بار ملتوی

    وزیراعظم شہبازشریف کا دورہ ٹانک تیسری بار ملتوی کردیا گیا ہے۔اطلاعات کے مطابق وزیراعظم شریف نے آج ٹانک کے سیلاب زدہ گاؤں کا دورہ کرنا تھا۔ اس سلسلے کے تحت وزیراعظم نے آج دن 12 بجے پائی پہنچنا تھا۔ وزیراعظم کوسرکل کنڈیان کے سیلاب زدہ علاقہ پائی کا دورہ کرنا تھا اورسیلاب زدگان سے بھی ملنا تھا ۔

    وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے دورے کے ملتوی ہونے کی وجوہات نہیں بتائی گئیں۔

     

    وزیراعظم شہباز شریف کی رہائش گاہ پر اہم اجلاس:فارن فنڈنگ کیس پر مشاورت

    اس سے قبل پائی میں وزیراعظم کے ہیلی کاپٹر کے لیے پیلی پیڈ سمیت دورے کے تمام انتظامات مکمل کرلئے گئے تھے۔اپنے دورے میں وزیراعظم کی جانب سےسیلاب زدگان کیلئے خصوصی پیکیج کا اعلان بھی متوقع تھا۔ وزیراعظم کی آمد سے قبل ضلعی انتظامیہ،سول و عسکری حکام پائی پہنچ چکے تھے۔

    منی لانڈرنگ کیس، شہباز شریف اور حمزہ شہباز فردجرم کے لیے آئندہ سماعت پر طلب

    اس سے پہلے پاکستان میں بارشوں اور سیلاب کی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ سیلاب سے مشکل صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے کئی محاذوں پر کام کر رہے ہیں، ریسکیو آپریشن میں بھرپور کردار ادا کرنے پر صوبائی انتظامیہ اور افواج پاکستان کا مشکور ہوں۔

     

    تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ٹویٹ میں کہا کہ بلوچستان میں مسلسل بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے ہونے والی تباہی ناقابل بیان ہے۔

    وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ حکومت کے تمام اداروں نے ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے ریسکیو اور ریلیف کا کام اور تیز کر دیا ہے، ہم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک متاثرین کی آباد کاری مکمل نہیں ہو جاتی۔

    شہباز شریف واقعی خادم اعلیٰ ہیں تو پٹرول 150روپے پرواپس لاؤ،عمران خان

    انہوں نے کہا کہ ہم سیلاب سے پیدا شدہ مشکل صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے کئی محاذوں پر کام کر رہے ہیں، چیلنج یقیناً بہت بڑا ہے لیکن اس چیلنج سے نمٹنے کا ہمارا عزم اس سے بھی مضبوط تر ہے۔انہوں نے کہا کہ میں پوری قوم سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آگے بڑھے اور تکلیف میں مبتلا ہمارے بھائی بہنوں کی مدد کرے۔

    وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ میں ریسکیو اور ریلیف آپریشن میں بھرپور کردار ادا کرنے پر وزیر اعلیٰ بلوچستان، صوبائی انتظامیہ، این ڈی ایم اے اور افواج پاکستان کا خاص طور پر مشکور ہوں۔

  • بلوچستان میں سیلاب سے تباہی، جاں بحق افراد کی تعداد 132 تک پہنچ گئی،پاک آرمی اور فضائیہ کا ریلیف آپریشن

    بلوچستان میں سیلاب سے تباہی، جاں بحق افراد کی تعداد 132 تک پہنچ گئی،پاک آرمی اور فضائیہ کا ریلیف آپریشن

    کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع میں بارش اور سیلاب سے جاں بحق افراد کی تعداد 132 تک پہنچ گئی جبکہ سیکڑوں مکانات بھی تباہ ہوگئے۔ریلوے ٹریک کو نقصان پہنچنے سے پاک ایران مال بردار ٹرین سروس معطل کر دی گئی جبکہ قومی شاہراہ کو نقصان پہنچنے سے بلوچستان سے کراچی جانے والے پھل اور سبزیوں کی ترسیل بھی معطل ہوگئی۔

    متاثرہ علاقوں میں پاک آرمی اور فضائیہ کا ریلیف آپریشن جاری ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق فوجی طبی امداد فراہم کرنے اور مواصلاتی ڈھانچے کو کھولنے کے علاوہ ریسکیو، امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ اٹک، تربیلا، چشمہ اور گڈو کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ سندھ کے علاوہ تمام دریا معمول کے مطابق بہہ رہے ہیں۔ ورسک کے مقام پر نچلا سیلاب اور دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب موجود ہے۔ ورسک کے مقام پر نچلا سیلاب اور دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔

    آئی ایس پی آر مردان میں سب سے زیادہ 133 ملی میٹر اور مہمند میں 85 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ مردان میں پانی نکالنے کی کوششیں کی گئیں۔ ضلع مہمند کے مقامی نالوں میں سیلاب کی اطلاع ملی ہے۔ سیلاب متاثرین میں امدادی اشیاء تقسیم کی گئیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق دونوں اضلاع میں میڈیکل کیمپ لگائے گئے ہیں۔

    جھل مگسی گندھاوا کا مکمل رابطہ بحال کر دیا گیا ہے۔گندھاوا اور گردونواح میں آرمی میڈیکل کیمپ میں 115 مریضوں کا علاج کیا گیا۔ خضدار ایم-8 اب بھی منقطع ہے۔ رابطے کی بحالی پر کام جاری ہے جبکہ حافظ آباد میں سی ایم ایچ خضدار اور ایف سی کی جانب سے لگائے گئے فیلڈ میڈیکل کیمپ میں 145 متاثرہ افراد کا علاج کیا گیا۔ باباکوٹ اور گندھا کی متاثرہ آبادی کے لیے بھی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق سیلاب متاثرین میں راشن اور پکا ہوا کھانا تقسیم کیا گیا۔ گندکھا میں فیلڈ میڈیکل کیمپ میں مختلف مریضوں کا علاج کیا گیا۔چمن میں بارش نہیں ہوئی۔ باب دوستی مکمل طور پر فعال ہے۔ نوشکی پھنسے ہوئے لوگوں کے لیے امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔پکا ہوا کھانا 1000 سے زیادہ لوگوں کو دیا گیا ہے۔ 3 مقامات پر تباہ ہونے والے این-40 کی مرمت کر کے ٹریفک بحال کر دی گئی ہے۔ لسبیلہ علاقے میں بارش نہیں ہوئی۔ صورتحال مستحکم ہو رہی ہے.گوادر میں جنرل آفیسر کمانڈنگ نے حب اور اتھل کا دورہ کیا۔ قراقرم ہائی وے میں سکندر آباد کے قریب 2 مٹی تودے گرنے کی اطلاع تھی۔ ایف ڈبلیو او کی جانب سے سڑک کو یک طرفہ ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

    بلوچستان میں سیلاب،وزیراعظم کا جاں بحق افراد کے لواحقین کو10لاکھ دینے کا اعلان

    بلوچستان کے اکثر علاقوں میں وقفے وقفے سے موسلا دھار بارش کا سلسلہ جاری ہے، ندی نالوں میں طغیانی اور سیلابی ریلوں سے بیشتر رابطہ سڑکیں بہہ گئیں۔

    صوبے بھر میں طوفانی بارشوں اور سیلاب سے پیش آنے والے حادثات میں ساڑھے 13 ہزار مکانات متاثر ہوئے ہیں جبکہ بجلی کے 140 کھمبے گر چکے ہیں۔ کوئٹہ میں انگوروں کے باغات تباہ ہو گئے، ضلع واشک میں سیلابی ریلہ پیاز سے بھری بوریاں بہا کر لے گیا۔

    محکمۂ موسمیات نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں آج بھی موسلا دھار بارش کی پیش گوئی کر دی۔
    کوئٹہ، ژوب، زیارت، موسیٰ خیل، قلعہ عبداللّٰہ، پشین، بارکھان میں آج بادل برس سکتے ہیں، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بلوچستان میں سب سے زیادہ بارش ژوب میں 45 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔تاریخ رقم کرنے والا مون سون کا چوتھا اسپیل بلوچستان کے جنوب مشرق اور وسطی علاقوں میں تباہ کاریوں کا باعث بن رہا ہے۔

     

    سکھر بیراج سے مزید 12 لاشیں برآمد

     

     

    شمال میں سب سے زیادہ متاثرہ ضلع قلعہ سیف اللّٰہ کے دور افتادہ علاقے اور بلوچستان کے بلند ترین مقام کان مہتر زئی میں نظامِ زندگی مفلوج ہو گیا۔پہاڑوں پر زندگی گزارنے والے حالات سے مجبور ہو کر شہروں کی جانب نقل مکانی کر رہے ہیں۔

     

    سیلاب،حکومت کے ساتھ رفاہی ادارے بھی آگے بڑھیں،سراج الحق

     

     

    بلوچستان میں بارشوں اور ڈیموں اور ندی نالوں میں طغیانی کے باعث مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی جس کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان ہوا۔لوچستان میں اب تک بارشوں اور سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے افراد کی تعداد ایک سو 26 تک پہنچ گئی، دشتگور انکی ندی سے تین بچیوں کی لاشیں برآمد ہوئیں۔لوچستان میں اب تک بارشوں اور سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے افراد کی تعداد ایک سو 26 تک پہنچ گئی.

    بارشوں اور مختلف واقعات میں جاں بحق ہونے والے افراد میں 45 مرد، 32 خواتین جبکہ 38 سے زائد بچے شامل ہیں، جن میں سے بیشتر سیلابی ریلے میں بہہ گئے تھے، اس کے علاوہ ہزاروں مویشی بھی سیلابی ریلے میں بہہ کر ہلاک ہوگئے۔وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کا کہنا ہے کہ متاثرین کے نقصان کا ازالہٰ اور انکی جلد از جلد بحالی کی جائے گی۔

    بلوچستان کے سابق وزیراعلی نواب اسلم رسانی نے موٹر سائیکل پراپنے حلقہ میں سیلاب اور بارشون سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا ہے.

    علاوہ ازیں سیلاب اور بارشوں کے نتیجے میں 60 سے زائد افراد زخمی ہوئے جن میں 43 مرد، 7 خواتین اور گیارہ بچے شامل ہیں۔جھل مگسی، قلعہ عبداللہ، نوشکی، مستونگ سمیت دیگر علاقے زیادہ متاثر ہونے والے علاقے ہیں، جہاں سیلابی ریلوں کی تباہی سے سیکڑوں گھر ملبے کا ڈھیر بنے ہوئے ہیں اور مقامی شہری بے یار و مددگار کھلے آسمان تلے زندگی گزار رہے ہیں۔

    دوسری جانب لک پاس کے قریب واقع ڈیم ٹوٹنے کے باعث کوئٹہ تفتان شاہراہ زیرآب گئیں، جس کے بعد شاہراہ کو ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا ہے۔ باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بارش اور سیلاب سے بلوچستان میں 2 لاکھ ایکڑ زرعی اراضی تباہ ہوگئی جبکہ ہزاروں خاندان بے گھر ہوگئے ہیں جبکہ 15 پُل متاثر ہوئے، متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کا متعلقہ اداروں کے ہمراہ ریسکیو آپریشن جاری جاری ہے جبکہ پانچ میڈیکل کیمپ بھی قائم کیے گئے ہیں۔ سیلابی ریلے میں دالبندین کے قریب ریلوے ٹریک بہہ گیا جس کے نتیجے میں پاک ایران ریلوے سروس کو بند کردیا گیا جبکہ باب دوستی سے پانی کی نکاسی کر کے اسے پیدل آمد و رفت کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

    مزید برآں ڈی جی پی ڈی ایم اے نےڈی جی خان ڈویژن کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا،ڈی جی پی ڈی ایم اے نے سیلاب سے جان بحق ہونے والے خاندانوں سے ملاقات کی اورلواحقین سے اظہار تعزیت کیا،ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے عثمان خالد اور ضلعی انتظامیہ کے افسران بھی ڈی جی پی ڈی ایم اے کےہمراہ تھے.

    ڈی جی پی ڈی ایم اے فیصل فرید کا کہنا تھا کہ قیمتی جانوں کے ضیاع پر بہت افسوس ہوا،مشکل گھڑی میں متاثرین کے ساتھ کھڑے ہیں۔سیلاب سے ڈی جی خان ڈویژن کو بہت نقصان ہوا،حکومت پنجاب کی جانب سے گھروں، فصلوں اور مویشیوں کے نقصانات کا تخمینہ لگا کر متاثرہ افراد کی مالی معاونت کی جائے گی،میڈیکل کیمپس میں سیلاب متاثرین کو وبائی امراض سے بچاؤ کی ویکسین بھی لگائی جا رہی ہیں۔ سانپ کے کاٹنے سمیت دیگر ادویات میڈیکل کیمپس میں دستیاب ہیں۔حکومت پنجاب کی ہدایت کے مطابق سیلاب متاثرین میں خشک راشن،اور خیمہ جات کی تقسیم کا عمل جاری ہے۔ سیلاب کے پانی کا اخراج کافی حد ہو چکا،متاثرین کی گھروں میں شفٹنگ جاری ہے۔ وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی ریلیف کی تمام سرگرمیوں کی خود مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔ تمام متعلقہ محکمے مربوط انداز سے ریلیف کی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ وزیر اعلی پنجاب کی ہدایت کے مطابق سیلاب سے متاثرہ بہن بھائیوں کوتنہا نہیں چھوڑیں گے-

    ڈیرہ غازی خان ڈویژن اور میانوالی کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں مسلسل جاری ہیں۔ڈی جی پی ڈی ایم اےکمشنر ڈیرہ غازی خان محمد عثمان انور نے تونسہ شریف کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا۔پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سردار جعفر خان بزدار،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو طیب خان،اے سی تونسہ اسد چانڈیہ اور دیگر دوران ہمراہ تھے ڈی جی خان نےسیلاب کی تباہی کاریوں کا جائزہ لیا۔ سیلاب متاثرین میں خیمے اور خشک راشن کے تھیلے تقسیم کئے۔متاثرین سے گفتگو کرتے ہوئے کمشنر محمد عثمان انور نے کہا کہ مزید بارش نہ ہونے پر تین روز کے اندر ہر متاثرہ گھر تک امدادی سامان پہنچا دیں گے ۔امدادی سامان کی شفاف تقسیم کےلئے بستی سطح کی ٹیمیں تشکیل دے دیں ہیں۔سروے ٹیمیں تشکیل دے دی گئیں ہیں۔تخمینہ مکمل ہونے پر گھر اور فصلوں کا ازالہ کیا جائیگا
    سردار جعفر خان بزدار نے کہا کہ متاثرہ انفراسٹرکچر کی جلد بحالی ممکن بنائی جائے ۔متاثرین سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت سیلاب زدگان کے دکھ میں برابر کی شریک ہیں۔ہر متاثرہ فرد کی بحالی تک کام کرتے رہیں گے،کمشنر عثمان انور نے بستی چھتانی کا بھی دورہ کیا۔سیلابی ریلے میں جاں بحق افراد کےلئے فاتحہ خوانی اور لواحقین سے تعزیت کا بھی اظہار کیا۔

  • بارشیں،سندھ میں 93 اموات اور 59 افراد زخمی ہوئے،وزیراعلیٰ سندھ

    بارشیں،سندھ میں 93 اموات اور 59 افراد زخمی ہوئے،وزیراعلیٰ سندھ

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت بارشوں کے نقصانات سے متعلق اجلاس میں وزیراعلیٰ ہاؤس سے بذریعہ وڈیو لنک شرکت کی

    وزیراعلیٰ سندھ نے وزیراعظم کو آگاہی دی کہسندھ میں جولائی کے دوران بارشورں کے سلسلہ شروع ہوا،مون سون کا پہلا اسپیل 2 تا 11 جولائی تک جاری رہا، بارشوں کا دوسرا اسپیل 14 تا 18 جولائی تک جاری رہا، تیسرا اسپیل 23 جولائی سے ابتک جاری ہے، سندھ میں ابتک نارمل بارشوں سے 369 فیصد زیادہ ہوئی ہیں، سندھ میں مون سون سیزن میں 48.5 ملی میٹر بارشیں ہوتی ہیں، شہر کراچی میں 556 ملی میٹر بارشیں ریکارڈ ہوئی ہیں، لیکن یکم تا 26 جولائی تک 227.1 ملی میٹر بارشیں ہوئی ہیں جو 369 فیڈ زیادہ ہیں، سندھ کے تقریباً تمام شہروں میں تینوں اسپیل میں بارشیں ہوئی ہیں، ابتک سندھ میں 93 اموات اور 59 افراد زخمی ہوئے ہیں، 93 اموات میں 47 بچے ہیں جو انتہائی تکلیف دہ بات ہے، موسلادھار بارشوں کے باعث 35 کراچی واٹر بورڈ کی سیوریج کی لائن کو نقصان پہنچا، 3 پل ضلع غربی اور ملیر میں ٹوٹ گئیں، کراچی میں اہم سڑکیں جس میں ای بی ایم کازوے، کراسنگ کازوے بری طرح متاثر ہیں، صوبے بھر میں 388.5 کلومیٹر مختلف شہروں کو ملانے والی سڑکیں بری طرح متاثر ہوئیں، ان 388.5 کلومیٹر میں کراچی، حیدرآباد، بدین، ٹھٹہ، سجاول شامل ہیں،

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ صوبے بھر میں 15547 جزوی طور پر اور 2807 گھر مکمل طرح گرگئے، 89213 ایکڑوں پر فصلیں بری طرح متاثر ہوئیں،سندھ میں ریلیف کا کام بھی جاری ہے، پی ڈی ایم اے سندھ نے 62 پانی نکاسی کے ہیوی پمپس صوبے بھر میں مختلف جگہوں پر لگائیں ہیں، کراچی شہر میں 30 پمپس لگائے گئے ہیں، 6280 ٹینٹس، 17675 مچھروں کی جالیاں، 20 بوٹس، 3280 جیری کین اور بستر وغیرہ بارش متاثریں کو مہیا کئے ہیں، 300 راشن بیگز اور پکا ہوا کھانا بھی بارش متاثریں میں جہاں ضرورت ہے تقسیم کیا ہے، بلوچستان میں مزید بارشیں ہونگی جس سے حب ڈیم پر دباؤ بڑھے گا، حب ڈیم پر دباؤ بڑھنے کا مقصد کراچی کے غربی علاقوں میں نقصان کا خدشہ ہے، کھیر تھر رینج میں مزید بارشوں سے قمبر، شہدادکوٹ،دادو اور جامشورو میں پانی کا بہاؤ بڑھے گا، گڈو بیراج میں اسوقت نچلے درجے کا سیلاب ہے یعنی 283.4 کیوسک کا ریلا گزر رہا ہے، اگلے 24 گھنٹوں میں گڈو بیراج پر 290 سے 340 کیوسک پانی ہونے کی توقع ہے، جب گڈو بیراج میں پانی 400 کیوسک سے بڑھتا ہے تو کچے سے لوگوں کو منتقل کرتے ہیں، سندھ میں بارشوں سے ضایع ہونے ہولی جانوں کیلئے وفاق معاوضہ دینے میں مدد کرے، بلوچستان کے ساتھ بچاء بندوں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے، بچاء بندوں کی مضبوطی سندھ میں پانی آنے سے روکے گی، لیفٹ بینک آؤٹ فال ڈرین کی گنجائش بڑھانے کی ضرورت ہے، رائیٹ بینک آؤٹ فال ڈرین کو ترجیحی بنیاد پر مکمل کیا جائے، کراچی میں بڑے برساتی نالوں کی اپگریڈیشن کیلئے وفاقی حکومت مددکرے،

    وزیراعلیٰ سندھ نے وزیراعظم سے درخواست کی کہ زرعی ترقیاتی بینک کو ہدایت دیں کہ آفت زدہ علاقوں میں زرعی قرضوں کی وصولی ایک سال کیلئے مؤخر کرے سندھ حکومت بارشوں سے متاثرہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دینے جا رہی ہے،

    حکومت بارش سے متاثرہ افراد کو معاوضہ دینے کا اعلان کرے،سربراہ پاکستان سنی تحریک

    بارش کے بعد کی صورتحال ، میئر کراچی نے گورنر سندھ سے ملاقات میں وفاق سے مدد مانگ لی

    اکثر ارکان اسمبلی ڈیفنس اور کلفٹن کے رہائشی ہیں انہیں پتا ہی نہیں کہ کراچی کے عوام کے مسائل کیا ہیں،حافظ نعیم الرحمان