Baaghi TV

Tag: بارش

  • 6 اگست سے شروع ہونے والی بارشوں کے پیش نظرضروری اقدامات کرلئے،ڈپٹی کمشنر گوادر

    6 اگست سے شروع ہونے والی بارشوں کے پیش نظرضروری اقدامات کرلئے،ڈپٹی کمشنر گوادر

    ڈپٹی کمشنر گوادر کپٹن ریٹائرڈ جمیل احمد کے زیر صدارت ضلع میں حالیہ مون سون بارشوں کے صورتحال ، نقصانات ،اور امدادی سرگرمیوں سمیت انکاسی اب سے متعلق جائزہ اجلاس منعقد ہوا .اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ذاکر علی بلوچ پی پی ایچ ائی کے ڈسٹرکٹ اسپورٹ مینجر ڈاکٹر منیر احمد بلوچ،محکمہ مواصلات و تعمیرات ایکسیںن روڈ/ بلڈنگ سیکٹر ثنا اللہ بلوچ ، محکمہ صحت ،پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ،ایرگیش، لوکل گورنمنٹ، زراعت ،محکمہ امور حیوانات کے افسران سمیت ضلع کے تمام اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی.

    پنجاب،مشرقی اور جنوبی بلوچستان میں بارش کا امکان

    اجلاس میں تمام محکموں کے سربراہان نے حالیہ مون سون بارشوں سے متاثرہ علاقوں میں اپنے اپنے محکوں کی اب تک کی پیش رفت اور امدادی سرگرمیوں سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی اور اب تک کی پیش رفت سے ڈپٹی کمشنر کو آگاہ کیا اجلاس میں ڈپٹی کمشنر نے معتلقہ محکموں کے افسران کو ضروی ہدایات بھی جاری کیں جبکہ کئی فیصلے بھی کیے گئے.

     

    ڈیرہ غازی خان – سیلاب متاثرین کو ایکسپائری ادویات دینے کا نوٹس

     

    اجلاس میں ڈپٹی کمشنرنے متوقع 6 اگست سے شروع ہونے والی بارشوں کی پیش نظر مربوط و جامع حکمت عملی اپنانے کی ہدایت کی ،ضلعی انتظامیہ،میونسپل کمیٹی سمیت۔ادارہ ترقیات کے رینز رسپانس ٹیموں کو فوری طور پر متحرک کردیا گیا اور ضروری عملہ و مشنری کا دوبارہ ازسرنو جائزہ لے کر ضرورت کے مطابق اضافی تعنیاتیاں کی گٸ ہیں جبکہ کنٹرول روم بھی قائم کیاگیا ھے .ڈپٹی کمشنرنے تمام تر وسائل کو بروئے کار لا کر فوری و موثر اقدامات کرنے کی ہدایت جاری کی ہیں ، پیشگی اقدامات کے طور پر نکاسی آب کی لاٸنز اور نالوں کی صفاٸی شروع کردی گئی ہے. اجلاس میں ڈپٹی کمشنر نے حالیہ بارشوں کے دوران شپ روز مصروف عمل ریسپانس ٹیموں اور دیگر عملہ کی کارکردگی پر اظہارکا اطمینان کرتے ہوئے ان کی حواصلہ افزائی کی.

  • برسات کا پانی کینسر سمیت دیگر امراض کا سبب بن سکتا ہے،تحقیق

    برسات کا پانی کینسر سمیت دیگر امراض کا سبب بن سکتا ہے،تحقیق

    ماہرین نے نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ برسات کا پانی کینسر سمیت دیگر امراض کا سبب بن سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی:سوئیڈن کی اسٹاک ہوم یونیورسٹی کے ماہرین کی جانب سے دنیا بھر میں موجود برساتی پانی پر لیبارٹری تجربات اور فیلڈ ورک کی تحقیق کی گئی جسے انوائرمینٹل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نامی تحقیقی جریدے میں شائع کیا گیا-

    دنیا کا اب تک کا سب سے مختصر ترین دن ریکارڈ

    تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ زمین پر موجود برساتی پانی انسانی ساختہ خطرناک کیمیکلز کے باعث کینسر سمیت دیگر امراض کا سبب بن رہا ہےکبھی زائل نہ ہونے والے انسانی ساختہ کیمیکلز (Forever Chemicals) برساتی پانی کو گدلا کر دیتے ہیں اور یہ کیمیکلز انسانی صحت پر خطرناک اثرات مرتب کر رہے ہیں۔

    تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ صرف انڈسٹریل علاقے ہی نہیں بلکہ یہ کیمیکلز انٹارکٹیکا اور تبت جیسے دور دراز اور ویران علاقوں میں بھی بارش کے پانی اور برف میں پائے گئے ہیں یہ انسانی ساختہ کیمیکل پر فلورواکائیل اور پولی فلورواکائیل سبسٹینسز (Perfluoroalkyl and polyfluoroalkyl substances (PFAS)) فائر فائٹنگ فوم، کھانا بنانے کے برتنوں کی نان اسٹک کوٹنگ، اور ٹیکسٹائل میں استعمال ہوتے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ پی ایف اے ایس کیمیکلز کو خودکار طریقے سے زائل ہونے میں ہزار سال لگ سکتے ہیں اور ان کیمیکلز پر ہونے والی سالوں کی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان کے انسانی صحت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں کیونکہ ماحولیات میں موجود مضر صحت پی ایف اے ایس کیمکلز زائل نہیں ہو رہے، اس کا سبب ان کیمیکلز کے زائل ہونے کی طویل مدت اور وہ قدرتی سائیکل ہے جو انہیں بارشوں کے ذریعے واپس ماحولیات میں لے آتا ہے۔

    برازیل میں ایمیزون کے جنگلات کی کٹائی کا نیا ریکارڈ

    ماہرین کے مطابق برسات کا پانی دنیا کے کافی حصوں میں پینے کے لائق صاف پانی تصور کیا جاتا ہے لیکن یہ پانی انسانی ساختہ کیمیکلز کی وجہ سے آلودہ ہو کر مضر صحت بن جاتا ہے اور انسانوں میں کینسر سمیت دیگر امراض کا سبب بن جاتا ہے۔

    ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اب ہم دھرتی کے فطری ماحولیات کی حدود کو کراس کر چکے ہیں اور دھرتی پر کوئی ایک ایسا مقام موجود نہیں جہاں ایک انسان ان کیمیکلز کے مضر صحت اثرات سے محفوظ رہ سکے۔

    اسٹاک ہوم یونیورسٹی اور ای ٹی ایچ زیورخ یونیورسٹی کے محققین کے مطابق، تبدیلیوں کا مطلب ہے کہ بارش کے پانی میں ان کیمیکلز کی سطح "اب ہر جگہ گائیڈ لائن کی سطح سے اوپر ہے”۔

    "پچھلے 20 سالوں میں پینے کے پانی میں پی ایف اے ایس کے رہنما اصولوں میں حیران کن کمی آئی ہے،” ایان کزنز، مطالعہ کے سرکردہ مصنف اور اسٹاک ہوم یونیورسٹی کے شعبہ ماحولیاتی سائنس کے پروفیسر نے کہا مثال کے طور پر، پی ایف اے ایس کلاس میں ایک معروف مادے کے لیے پینے کے پانی کی گائیڈ لائن ویلیو، یعنی کینسر کا باعث بننے والا پرفلووروکٹانوک ایسڈ (PFOA)، امریکہ میں 37.5 ملین گنا کم ہوا ہے۔”

    انہوں نے مزید کہا کہ پینے کے پانی میں PFOA کے لئے تازہ ترین امریکی رہنما خطوط کی بنیاد پر، ہر جگہ بارش کے پانی کو پینے کے لیے غیر محفوظ قرار دیا جائے گا۔

    تجرباتی دوا سے کینسر کے تمام مریض شفایاب ،ماہرین نے تحقیق کو معجزہ قرار دیدیا

  • وزیراعظم شہبازشریف کا دورہ ٹانک تیسری بار ملتوی

    وزیراعظم شہبازشریف کا دورہ ٹانک تیسری بار ملتوی

    وزیراعظم شہبازشریف کا دورہ ٹانک تیسری بار ملتوی کردیا گیا ہے۔اطلاعات کے مطابق وزیراعظم شریف نے آج ٹانک کے سیلاب زدہ گاؤں کا دورہ کرنا تھا۔ اس سلسلے کے تحت وزیراعظم نے آج دن 12 بجے پائی پہنچنا تھا۔ وزیراعظم کوسرکل کنڈیان کے سیلاب زدہ علاقہ پائی کا دورہ کرنا تھا اورسیلاب زدگان سے بھی ملنا تھا ۔

    وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے دورے کے ملتوی ہونے کی وجوہات نہیں بتائی گئیں۔

     

    وزیراعظم شہباز شریف کی رہائش گاہ پر اہم اجلاس:فارن فنڈنگ کیس پر مشاورت

    اس سے قبل پائی میں وزیراعظم کے ہیلی کاپٹر کے لیے پیلی پیڈ سمیت دورے کے تمام انتظامات مکمل کرلئے گئے تھے۔اپنے دورے میں وزیراعظم کی جانب سےسیلاب زدگان کیلئے خصوصی پیکیج کا اعلان بھی متوقع تھا۔ وزیراعظم کی آمد سے قبل ضلعی انتظامیہ،سول و عسکری حکام پائی پہنچ چکے تھے۔

    منی لانڈرنگ کیس، شہباز شریف اور حمزہ شہباز فردجرم کے لیے آئندہ سماعت پر طلب

    اس سے پہلے پاکستان میں بارشوں اور سیلاب کی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ سیلاب سے مشکل صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے کئی محاذوں پر کام کر رہے ہیں، ریسکیو آپریشن میں بھرپور کردار ادا کرنے پر صوبائی انتظامیہ اور افواج پاکستان کا مشکور ہوں۔

     

    تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ٹویٹ میں کہا کہ بلوچستان میں مسلسل بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے ہونے والی تباہی ناقابل بیان ہے۔

    وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ حکومت کے تمام اداروں نے ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے ریسکیو اور ریلیف کا کام اور تیز کر دیا ہے، ہم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک متاثرین کی آباد کاری مکمل نہیں ہو جاتی۔

    شہباز شریف واقعی خادم اعلیٰ ہیں تو پٹرول 150روپے پرواپس لاؤ،عمران خان

    انہوں نے کہا کہ ہم سیلاب سے پیدا شدہ مشکل صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے کئی محاذوں پر کام کر رہے ہیں، چیلنج یقیناً بہت بڑا ہے لیکن اس چیلنج سے نمٹنے کا ہمارا عزم اس سے بھی مضبوط تر ہے۔انہوں نے کہا کہ میں پوری قوم سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آگے بڑھے اور تکلیف میں مبتلا ہمارے بھائی بہنوں کی مدد کرے۔

    وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ میں ریسکیو اور ریلیف آپریشن میں بھرپور کردار ادا کرنے پر وزیر اعلیٰ بلوچستان، صوبائی انتظامیہ، این ڈی ایم اے اور افواج پاکستان کا خاص طور پر مشکور ہوں۔

  • بلوچستان میں سیلاب سے تباہی، جاں بحق افراد کی تعداد 132 تک پہنچ گئی،پاک آرمی اور فضائیہ کا ریلیف آپریشن

    بلوچستان میں سیلاب سے تباہی، جاں بحق افراد کی تعداد 132 تک پہنچ گئی،پاک آرمی اور فضائیہ کا ریلیف آپریشن

    کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع میں بارش اور سیلاب سے جاں بحق افراد کی تعداد 132 تک پہنچ گئی جبکہ سیکڑوں مکانات بھی تباہ ہوگئے۔ریلوے ٹریک کو نقصان پہنچنے سے پاک ایران مال بردار ٹرین سروس معطل کر دی گئی جبکہ قومی شاہراہ کو نقصان پہنچنے سے بلوچستان سے کراچی جانے والے پھل اور سبزیوں کی ترسیل بھی معطل ہوگئی۔

    متاثرہ علاقوں میں پاک آرمی اور فضائیہ کا ریلیف آپریشن جاری ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق فوجی طبی امداد فراہم کرنے اور مواصلاتی ڈھانچے کو کھولنے کے علاوہ ریسکیو، امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ اٹک، تربیلا، چشمہ اور گڈو کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ سندھ کے علاوہ تمام دریا معمول کے مطابق بہہ رہے ہیں۔ ورسک کے مقام پر نچلا سیلاب اور دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب موجود ہے۔ ورسک کے مقام پر نچلا سیلاب اور دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔

    آئی ایس پی آر مردان میں سب سے زیادہ 133 ملی میٹر اور مہمند میں 85 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ مردان میں پانی نکالنے کی کوششیں کی گئیں۔ ضلع مہمند کے مقامی نالوں میں سیلاب کی اطلاع ملی ہے۔ سیلاب متاثرین میں امدادی اشیاء تقسیم کی گئیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق دونوں اضلاع میں میڈیکل کیمپ لگائے گئے ہیں۔

    جھل مگسی گندھاوا کا مکمل رابطہ بحال کر دیا گیا ہے۔گندھاوا اور گردونواح میں آرمی میڈیکل کیمپ میں 115 مریضوں کا علاج کیا گیا۔ خضدار ایم-8 اب بھی منقطع ہے۔ رابطے کی بحالی پر کام جاری ہے جبکہ حافظ آباد میں سی ایم ایچ خضدار اور ایف سی کی جانب سے لگائے گئے فیلڈ میڈیکل کیمپ میں 145 متاثرہ افراد کا علاج کیا گیا۔ باباکوٹ اور گندھا کی متاثرہ آبادی کے لیے بھی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق سیلاب متاثرین میں راشن اور پکا ہوا کھانا تقسیم کیا گیا۔ گندکھا میں فیلڈ میڈیکل کیمپ میں مختلف مریضوں کا علاج کیا گیا۔چمن میں بارش نہیں ہوئی۔ باب دوستی مکمل طور پر فعال ہے۔ نوشکی پھنسے ہوئے لوگوں کے لیے امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔پکا ہوا کھانا 1000 سے زیادہ لوگوں کو دیا گیا ہے۔ 3 مقامات پر تباہ ہونے والے این-40 کی مرمت کر کے ٹریفک بحال کر دی گئی ہے۔ لسبیلہ علاقے میں بارش نہیں ہوئی۔ صورتحال مستحکم ہو رہی ہے.گوادر میں جنرل آفیسر کمانڈنگ نے حب اور اتھل کا دورہ کیا۔ قراقرم ہائی وے میں سکندر آباد کے قریب 2 مٹی تودے گرنے کی اطلاع تھی۔ ایف ڈبلیو او کی جانب سے سڑک کو یک طرفہ ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

    بلوچستان میں سیلاب،وزیراعظم کا جاں بحق افراد کے لواحقین کو10لاکھ دینے کا اعلان

    بلوچستان کے اکثر علاقوں میں وقفے وقفے سے موسلا دھار بارش کا سلسلہ جاری ہے، ندی نالوں میں طغیانی اور سیلابی ریلوں سے بیشتر رابطہ سڑکیں بہہ گئیں۔

    صوبے بھر میں طوفانی بارشوں اور سیلاب سے پیش آنے والے حادثات میں ساڑھے 13 ہزار مکانات متاثر ہوئے ہیں جبکہ بجلی کے 140 کھمبے گر چکے ہیں۔ کوئٹہ میں انگوروں کے باغات تباہ ہو گئے، ضلع واشک میں سیلابی ریلہ پیاز سے بھری بوریاں بہا کر لے گیا۔

    محکمۂ موسمیات نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں آج بھی موسلا دھار بارش کی پیش گوئی کر دی۔
    کوئٹہ، ژوب، زیارت، موسیٰ خیل، قلعہ عبداللّٰہ، پشین، بارکھان میں آج بادل برس سکتے ہیں، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بلوچستان میں سب سے زیادہ بارش ژوب میں 45 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔تاریخ رقم کرنے والا مون سون کا چوتھا اسپیل بلوچستان کے جنوب مشرق اور وسطی علاقوں میں تباہ کاریوں کا باعث بن رہا ہے۔

     

    سکھر بیراج سے مزید 12 لاشیں برآمد

     

     

    شمال میں سب سے زیادہ متاثرہ ضلع قلعہ سیف اللّٰہ کے دور افتادہ علاقے اور بلوچستان کے بلند ترین مقام کان مہتر زئی میں نظامِ زندگی مفلوج ہو گیا۔پہاڑوں پر زندگی گزارنے والے حالات سے مجبور ہو کر شہروں کی جانب نقل مکانی کر رہے ہیں۔

     

    سیلاب،حکومت کے ساتھ رفاہی ادارے بھی آگے بڑھیں،سراج الحق

     

     

    بلوچستان میں بارشوں اور ڈیموں اور ندی نالوں میں طغیانی کے باعث مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی جس کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان ہوا۔لوچستان میں اب تک بارشوں اور سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے افراد کی تعداد ایک سو 26 تک پہنچ گئی، دشتگور انکی ندی سے تین بچیوں کی لاشیں برآمد ہوئیں۔لوچستان میں اب تک بارشوں اور سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے افراد کی تعداد ایک سو 26 تک پہنچ گئی.

    بارشوں اور مختلف واقعات میں جاں بحق ہونے والے افراد میں 45 مرد، 32 خواتین جبکہ 38 سے زائد بچے شامل ہیں، جن میں سے بیشتر سیلابی ریلے میں بہہ گئے تھے، اس کے علاوہ ہزاروں مویشی بھی سیلابی ریلے میں بہہ کر ہلاک ہوگئے۔وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کا کہنا ہے کہ متاثرین کے نقصان کا ازالہٰ اور انکی جلد از جلد بحالی کی جائے گی۔

    بلوچستان کے سابق وزیراعلی نواب اسلم رسانی نے موٹر سائیکل پراپنے حلقہ میں سیلاب اور بارشون سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا ہے.

    علاوہ ازیں سیلاب اور بارشوں کے نتیجے میں 60 سے زائد افراد زخمی ہوئے جن میں 43 مرد، 7 خواتین اور گیارہ بچے شامل ہیں۔جھل مگسی، قلعہ عبداللہ، نوشکی، مستونگ سمیت دیگر علاقے زیادہ متاثر ہونے والے علاقے ہیں، جہاں سیلابی ریلوں کی تباہی سے سیکڑوں گھر ملبے کا ڈھیر بنے ہوئے ہیں اور مقامی شہری بے یار و مددگار کھلے آسمان تلے زندگی گزار رہے ہیں۔

    دوسری جانب لک پاس کے قریب واقع ڈیم ٹوٹنے کے باعث کوئٹہ تفتان شاہراہ زیرآب گئیں، جس کے بعد شاہراہ کو ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا ہے۔ باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بارش اور سیلاب سے بلوچستان میں 2 لاکھ ایکڑ زرعی اراضی تباہ ہوگئی جبکہ ہزاروں خاندان بے گھر ہوگئے ہیں جبکہ 15 پُل متاثر ہوئے، متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کا متعلقہ اداروں کے ہمراہ ریسکیو آپریشن جاری جاری ہے جبکہ پانچ میڈیکل کیمپ بھی قائم کیے گئے ہیں۔ سیلابی ریلے میں دالبندین کے قریب ریلوے ٹریک بہہ گیا جس کے نتیجے میں پاک ایران ریلوے سروس کو بند کردیا گیا جبکہ باب دوستی سے پانی کی نکاسی کر کے اسے پیدل آمد و رفت کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

    مزید برآں ڈی جی پی ڈی ایم اے نےڈی جی خان ڈویژن کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا،ڈی جی پی ڈی ایم اے نے سیلاب سے جان بحق ہونے والے خاندانوں سے ملاقات کی اورلواحقین سے اظہار تعزیت کیا،ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے عثمان خالد اور ضلعی انتظامیہ کے افسران بھی ڈی جی پی ڈی ایم اے کےہمراہ تھے.

    ڈی جی پی ڈی ایم اے فیصل فرید کا کہنا تھا کہ قیمتی جانوں کے ضیاع پر بہت افسوس ہوا،مشکل گھڑی میں متاثرین کے ساتھ کھڑے ہیں۔سیلاب سے ڈی جی خان ڈویژن کو بہت نقصان ہوا،حکومت پنجاب کی جانب سے گھروں، فصلوں اور مویشیوں کے نقصانات کا تخمینہ لگا کر متاثرہ افراد کی مالی معاونت کی جائے گی،میڈیکل کیمپس میں سیلاب متاثرین کو وبائی امراض سے بچاؤ کی ویکسین بھی لگائی جا رہی ہیں۔ سانپ کے کاٹنے سمیت دیگر ادویات میڈیکل کیمپس میں دستیاب ہیں۔حکومت پنجاب کی ہدایت کے مطابق سیلاب متاثرین میں خشک راشن،اور خیمہ جات کی تقسیم کا عمل جاری ہے۔ سیلاب کے پانی کا اخراج کافی حد ہو چکا،متاثرین کی گھروں میں شفٹنگ جاری ہے۔ وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی ریلیف کی تمام سرگرمیوں کی خود مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔ تمام متعلقہ محکمے مربوط انداز سے ریلیف کی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ وزیر اعلی پنجاب کی ہدایت کے مطابق سیلاب سے متاثرہ بہن بھائیوں کوتنہا نہیں چھوڑیں گے-

    ڈیرہ غازی خان ڈویژن اور میانوالی کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں مسلسل جاری ہیں۔ڈی جی پی ڈی ایم اےکمشنر ڈیرہ غازی خان محمد عثمان انور نے تونسہ شریف کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا۔پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سردار جعفر خان بزدار،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو طیب خان،اے سی تونسہ اسد چانڈیہ اور دیگر دوران ہمراہ تھے ڈی جی خان نےسیلاب کی تباہی کاریوں کا جائزہ لیا۔ سیلاب متاثرین میں خیمے اور خشک راشن کے تھیلے تقسیم کئے۔متاثرین سے گفتگو کرتے ہوئے کمشنر محمد عثمان انور نے کہا کہ مزید بارش نہ ہونے پر تین روز کے اندر ہر متاثرہ گھر تک امدادی سامان پہنچا دیں گے ۔امدادی سامان کی شفاف تقسیم کےلئے بستی سطح کی ٹیمیں تشکیل دے دیں ہیں۔سروے ٹیمیں تشکیل دے دی گئیں ہیں۔تخمینہ مکمل ہونے پر گھر اور فصلوں کا ازالہ کیا جائیگا
    سردار جعفر خان بزدار نے کہا کہ متاثرہ انفراسٹرکچر کی جلد بحالی ممکن بنائی جائے ۔متاثرین سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت سیلاب زدگان کے دکھ میں برابر کی شریک ہیں۔ہر متاثرہ فرد کی بحالی تک کام کرتے رہیں گے،کمشنر عثمان انور نے بستی چھتانی کا بھی دورہ کیا۔سیلابی ریلے میں جاں بحق افراد کےلئے فاتحہ خوانی اور لواحقین سے تعزیت کا بھی اظہار کیا۔

  • بارشیں،سندھ میں 93 اموات اور 59 افراد زخمی ہوئے،وزیراعلیٰ سندھ

    بارشیں،سندھ میں 93 اموات اور 59 افراد زخمی ہوئے،وزیراعلیٰ سندھ

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت بارشوں کے نقصانات سے متعلق اجلاس میں وزیراعلیٰ ہاؤس سے بذریعہ وڈیو لنک شرکت کی

    وزیراعلیٰ سندھ نے وزیراعظم کو آگاہی دی کہسندھ میں جولائی کے دوران بارشورں کے سلسلہ شروع ہوا،مون سون کا پہلا اسپیل 2 تا 11 جولائی تک جاری رہا، بارشوں کا دوسرا اسپیل 14 تا 18 جولائی تک جاری رہا، تیسرا اسپیل 23 جولائی سے ابتک جاری ہے، سندھ میں ابتک نارمل بارشوں سے 369 فیصد زیادہ ہوئی ہیں، سندھ میں مون سون سیزن میں 48.5 ملی میٹر بارشیں ہوتی ہیں، شہر کراچی میں 556 ملی میٹر بارشیں ریکارڈ ہوئی ہیں، لیکن یکم تا 26 جولائی تک 227.1 ملی میٹر بارشیں ہوئی ہیں جو 369 فیڈ زیادہ ہیں، سندھ کے تقریباً تمام شہروں میں تینوں اسپیل میں بارشیں ہوئی ہیں، ابتک سندھ میں 93 اموات اور 59 افراد زخمی ہوئے ہیں، 93 اموات میں 47 بچے ہیں جو انتہائی تکلیف دہ بات ہے، موسلادھار بارشوں کے باعث 35 کراچی واٹر بورڈ کی سیوریج کی لائن کو نقصان پہنچا، 3 پل ضلع غربی اور ملیر میں ٹوٹ گئیں، کراچی میں اہم سڑکیں جس میں ای بی ایم کازوے، کراسنگ کازوے بری طرح متاثر ہیں، صوبے بھر میں 388.5 کلومیٹر مختلف شہروں کو ملانے والی سڑکیں بری طرح متاثر ہوئیں، ان 388.5 کلومیٹر میں کراچی، حیدرآباد، بدین، ٹھٹہ، سجاول شامل ہیں،

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ صوبے بھر میں 15547 جزوی طور پر اور 2807 گھر مکمل طرح گرگئے، 89213 ایکڑوں پر فصلیں بری طرح متاثر ہوئیں،سندھ میں ریلیف کا کام بھی جاری ہے، پی ڈی ایم اے سندھ نے 62 پانی نکاسی کے ہیوی پمپس صوبے بھر میں مختلف جگہوں پر لگائیں ہیں، کراچی شہر میں 30 پمپس لگائے گئے ہیں، 6280 ٹینٹس، 17675 مچھروں کی جالیاں، 20 بوٹس، 3280 جیری کین اور بستر وغیرہ بارش متاثریں کو مہیا کئے ہیں، 300 راشن بیگز اور پکا ہوا کھانا بھی بارش متاثریں میں جہاں ضرورت ہے تقسیم کیا ہے، بلوچستان میں مزید بارشیں ہونگی جس سے حب ڈیم پر دباؤ بڑھے گا، حب ڈیم پر دباؤ بڑھنے کا مقصد کراچی کے غربی علاقوں میں نقصان کا خدشہ ہے، کھیر تھر رینج میں مزید بارشوں سے قمبر، شہدادکوٹ،دادو اور جامشورو میں پانی کا بہاؤ بڑھے گا، گڈو بیراج میں اسوقت نچلے درجے کا سیلاب ہے یعنی 283.4 کیوسک کا ریلا گزر رہا ہے، اگلے 24 گھنٹوں میں گڈو بیراج پر 290 سے 340 کیوسک پانی ہونے کی توقع ہے، جب گڈو بیراج میں پانی 400 کیوسک سے بڑھتا ہے تو کچے سے لوگوں کو منتقل کرتے ہیں، سندھ میں بارشوں سے ضایع ہونے ہولی جانوں کیلئے وفاق معاوضہ دینے میں مدد کرے، بلوچستان کے ساتھ بچاء بندوں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے، بچاء بندوں کی مضبوطی سندھ میں پانی آنے سے روکے گی، لیفٹ بینک آؤٹ فال ڈرین کی گنجائش بڑھانے کی ضرورت ہے، رائیٹ بینک آؤٹ فال ڈرین کو ترجیحی بنیاد پر مکمل کیا جائے، کراچی میں بڑے برساتی نالوں کی اپگریڈیشن کیلئے وفاقی حکومت مددکرے،

    وزیراعلیٰ سندھ نے وزیراعظم سے درخواست کی کہ زرعی ترقیاتی بینک کو ہدایت دیں کہ آفت زدہ علاقوں میں زرعی قرضوں کی وصولی ایک سال کیلئے مؤخر کرے سندھ حکومت بارشوں سے متاثرہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دینے جا رہی ہے،

    حکومت بارش سے متاثرہ افراد کو معاوضہ دینے کا اعلان کرے،سربراہ پاکستان سنی تحریک

    بارش کے بعد کی صورتحال ، میئر کراچی نے گورنر سندھ سے ملاقات میں وفاق سے مدد مانگ لی

    اکثر ارکان اسمبلی ڈیفنس اور کلفٹن کے رہائشی ہیں انہیں پتا ہی نہیں کہ کراچی کے عوام کے مسائل کیا ہیں،حافظ نعیم الرحمان

  • تین ضلعوں کو ملانے والا تجارتی روڈ تباہ حال

    تین ضلعوں کو ملانے والا تجارتی روڈ تباہ حال

    قصور
    پھولنگر تا فیصل آباد روڈ شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار،لوگوں کی آمد و رفت کیساتھ تجارت بھی متاثر

    تفصیلات کے مطابق تین ضلعوں قصور،ننکانہ،فیصل آباد کو ملانے والا فیصل آباد پھولنگر روڈ عرصہ دراز سے شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے
    یہ روڈ لوگوں کی آمد و رفت کیساتھ بہت ہی اہم ترین تجارتی گزر گاہ بھی ہے
    پاکستان کے تیسرے بڑے شہر فیصل آباد میں قصور سے آنے جانے والے تاجر شدید مشکلات کا شکار ہیں
    سارے روڈ پر بے شمار گڑھے پڑے ہوئے ہیں جس کے باعث حادثات رونما ہونے کیساتھ گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچتا ہے
    سارے روڈ پر گردو غبار کا راج ہے جس کے باعث لوگ کئی مہلک بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں
    قصور سے فیصل آباد کا چند گھنٹوں کا سفر سارا دن میں طے پاتا ہے جس کے باعث تجارت متاثر ہو رہی ہے
    علاقہ مکینوں نے کمشںر لاہور و وزیر اعلی پنجاب سے ازخود نوٹس لے کر جلد سے جلد روڈ کو نئے سرے سے تعمیر کا مطالبہ کیا ہے

  • حب ڈیم سےکراچی کو پانی سپلائی کرنے والی نہر میں شگاف:ہنگامی حالت کا اعلان

    حب ڈیم سےکراچی کو پانی سپلائی کرنے والی نہر میں شگاف:ہنگامی حالت کا اعلان

    کراچی :حب ڈیم سےکراچی کو پانی سپلائی کرنے والی نہر میں شگاف پڑگیا اور متاثرہ حصے سے بہنے والا پانی قریبی گوٹھوں کی جانب بہنے لگا ہے۔جس کی وجہ سے حکام نے اس علاقے میں ہنگامی حالت کا اعلان کردیا ہے ،

    واٹر بورڈ ذرائع کے مطابق ناردرن بائی پاس دعا ہوٹل کے قریب حب نہرکا حصہ ٹوٹا ہے، اس نہر سےکراچی کو پانی فراہم کیا جاتا ہے۔متاثرہ حصے سے بہنے والا پانی قریبی گوٹھوں کی جانب جا رہا ہے، شدید بارش کی وجہ سے یہ حصہ ٹوٹا ہے، پانی عیسٰی اور خمیسو گوٹھ میں داخل ہوسکتا ہے، ایک گھنٹہ گزرنے کے باوجود انتظامیہ نہیں پہنچ سکی، ذرائع کے مطابق کراچی میں پانی کی سپلائی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

    دوسری جانب پولیس کا کہنا ہےکہ پانی منگھوپیرکے غیر آباد علاقے میں جا رہا ہے، شگاف کو پرکرنے کے لیے مشینری لائی جارہی ہے، حب کینال کی مرمت تک پانی کی فراہمی بند کردی گئی ہے۔پولیس کے مطابق تاحال منگھوپیر کی کسی رہائشی آبادی کے متاثر ہونےکی اطلاع نہیں ہے۔

    اتوار کی علی الصبح سے کراچی اور گرد و نواح میں وقفے وقفے سے کہیں ہلکی تو کہیں تیز بارش کا سلسلہ جاری ہے۔کراچی میں اس قدر بارش ہورہی ہے کہ کراچی بارش سے پانی پانی ہوگیا ہے

    کراچی میں مون سون بارشوں کا تیسرا اسپیل اپنے اثرات دکھا رہا ہے، اتوار کی علی الصبح سے شہر کے مختلف علاقوں اور گرد و نواح میں وقفے وقفے بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں مون سون کے تیسرے اسپیل کے دوران اب تک سب سے زیادہ بارش آج سب سے زيادہ بارش قائد آباد ميں 86.5 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔رات سے مختلف علاقوں میں کہیں ہلکی تو کہیں درمیانی بارش کا سلسلہ جاری ہے ،یوں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سب سے ذیادہ بارش قائدآباد میں 21 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی

    گڈاپ ٹاؤن20، گلشنِ حدید10، صدر9، کیماڑی8، نارتھ کراچی6.2، سعدی ٹاؤن6 ملی میٹر، جناح ٹرمینل، گلشنِ معمار، کورنگی میں 5.2، پی اے ایف فیصل بیس 4.5 ملی میٹر ایئرپورٹ اولڈ ایریا، یونیورسٹی روڈ3.6، ڈی ایچ اے فیزٹو3.4 ملی میٹر،گلشن حديد62، پی اے ايف مسرور بيس پر 54.5 ، کيماڑی ميں 54 ملی ميٹر بارش کی گئی ۔

    بارش کے پانی نکاسی نہ ہونے کی وجہ سے سرجانی ٹان ، نارتھ کراچی اور نیو کراچی میں حالات سب سے زیادہ خراب ہیں۔ کئی سڑکوں پر پانی جمع ہے جب کہ گڑھے جوہڑ بنے ہوئے ہیں۔

    کوہ سلیمان کے علاقے بغل چر میں بارشوں سے لینڈ سلائیڈنگ اور آمد و رفت کا راستہ بند

    دوسری جانب شہر کے متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی معطل ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو دُہری اذیت کا سامنا ہے۔محکمہ موسمیات نے کراچی سميت اندرون سندھ ميں بارشوں کا موجودہ سلسلہ 26 جولائی تک جاری رہنے کی پيشگوئی کی ہے۔

    مون سون بارشوں سے متعلق محکمہ موسمیات کا تازہ الرٹ جاری

    شہر کے دورے کے دوران وزیر اعلیٰٓ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ محکمہ موسمیات نے تیز بارش کی پیش گوئی کی ہے، اللہ تعالی سے دعا ہے کہ بارش رحمت والی ہو زحمت نہ ہو، لوگوں سے گزارش ہے کہ غیر ضروری باہر نہ نکلیں۔

    مراد علی شاہ نے کہا کہ جب بارش تیز ہوتی ہے تو سڑکوں پر پانی جمع ہوجاتا ہے۔ حکومت سندھ کے وزرا اور انتظامیہ کے لوگ سڑکوں پر ہیں، کوئی بھی صورتحال ہو انتظامیہ کو ہر جگہ موجود پائیں گے۔

    بارش برسانے والا ہوا کے کم دباؤ کا سسٹم سندھ میں داخل ،محکمہ موسمیات

    شادمان نالے میں خاتون کے ڈوبنے کے واقعے کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس واقعےکا مجھے بہت افسوس ہے، نالوں کی صفائی کا کام پورا سال چلتا رہتا ہے، شادمان نالے پر کام پہلے بھی چل رہا تھا۔

    میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ شہر کی صورتحال قابو میں ہے، کراچی شہرکی سڑکیں اور انڈر پاسز کلیئر ہیں، بلدیاتی عملہ میدان میں موجود ہے، سڑکوں کے اطراف جمع پانی کی نکاسی کی جاری

  • لاہورمیں بارش نے 20 سال کا ریکارڈ توڑ دیا،گلی محلےاورسڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کرنےلگیں

    لاہورمیں بارش نے 20 سال کا ریکارڈ توڑ دیا،گلی محلےاورسڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کرنےلگیں

    لاہور میں 7 گھنٹے کی مسلسل بارش نے 20 سال کا ریکارڈ توڑ دیا گلی محلے اور سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگیں۔

    باغی ٹی وی : لاہور میں موسلادھار بارش سے شاہراہیں ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگیں گلی محلے تالاب میں تبدیل ہوگئے کینال روڈ پر ہربنس پورہ کے قریب پانی جمع ہو گیا ہربنس پورہ انڈر پاس بھی بارش کے پانی سے بھر گیا۔ پانی جمع ہونے کے باعث ٹریفک کا نظام شدید متاثرہوا شہری گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے۔

    سیشن کورٹ اورسول کورٹ کے اطراف جگہ جگہ بارش کا پانی جمع ہونے سے سائلین اور وکلاکو عدالتوں میں پیش ہونے میں مشکلات کا سامنا ہے۔عدالتوں کے داخلی اور خارجی راستوں ہر بارش کا پانی جمع ہو گیا۔بارش کا پانی وکلا کے چیمبر میں بھی داخل ہوگیا۔

    ایم ڈی واسا کے مطابق لاہور میں سب سے زیادہ بارش تاج پورہ میں 234 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے،ائیرپورٹ ایریا میں 188 ملی میٹر بارش ہوچکی ہے۔مغل پورہ کے علاقے میں 171، چوک ناخدا میں 159، پانی والا تالاب کے علاقے میں 158 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔لکشمی چوک میں 141، گلشن راوی کے علاقہ میں 128، فرخ آباد میں 119 ملی میٹر بارش ہوئی۔

    شہر میں ہونے سے والی بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام شدید متاثرہوگیا۔بارش کے باعث لیسکو کے 100 سے زائد فیڈرز ٹرپ کر گئے۔فیڈرز ٹرپ ہونے اور دیگر فنی خرابیوں کے باعث متعدد علاقے بجلی سے محروم ہیں۔

    واپڈا ٹاون،جوہر ٹاون، نشیمن اقبال، کماہاں،بیدیاں روڈ، پرانا کاہنہ، والٹن، چونگی امرسدھو میں بجلی غائب ہے۔بھٹہ چوک ،گجر پورہ ،قلعہ محمدی، علی پارک ،داتا پارک، خان کالونی، باغبانپورہ، سمن آباد، اردو بازار میں بھی بجلی بند ہے۔

    حسن ٹاون، اعوان ٹاون، مغل پورہ، شاد باغ، شادی پورہ کے متعدد علاقوں میں بجلی معطل ہے۔بجلی کی طویل بندش کے باعث شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے-

    ایم ڈی واسا کا کہنا ہے کہ تمام ڈسپوزل اسٹیشن فعال ہیں اور جنریٹر بھی استعمال کر رہے ہیں، اتنی زیادہ بارش کے باوجود بیشتر علاقے کلیئر کر دیے ہیں لکشمی چوک، کوپر روڈ، دوموریہ، ایک موریہ، فردوس مارکیٹ، جی پی او چوک، نابھہ روڈ، بھاٹی گیٹ، جناح اسپتال اور ٹکا چوک بھی کلیئر کر دیاگیا ہے۔

    بارشوں کے باعث چھتیں گرنے کے دو مختلف واقعات میں 2 بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق اور 8 زخمی ہو گئے ہیں

    سلامت پورہ کے علاقے محلہ عید گاہ میں مکان کی چھت گر گئی حادثہ میں ایک شخص جاں بحق، ایک بچہ زخمی ہو گیا۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق ملبے تلے بچے کی والدہ کے دبے ہونے کی بھی اطلاعات ہیں امدادی کاروائیاں جاری ہیں-

    گجرات کے علاقے ہیرا پور میں ڈیرے کی چھت گرنے سے 2 کم سن بچیاں جاں بحق اور 6افراد زخمی ہو گئے۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق خستہ حال چھت گرنے سے جاں بحق ہونے والی دونوں بچیوں کی عمریں 12 سے 14 سال کے درمیان ہے جب کہ زخمیوں میں والد اور والدہ سمیت 4 بچے بھی شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ محکمہ موسمیات نے لاہور میں بارش کا سلسلہ 26 جولائی تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کی پیش گوئی کررکھی ہے۔ گزشتہ روز ہونے والی زیادہ سے زیادہ بارش 156 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے انتظامیہ کو چوکس رہنے کا حکم دیتے ہوئے ریسکیو 1122، واسا اور دیگر متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کردی ہیں۔

  • کراچی سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں بارش کا امکان

    کراچی سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں بارش کا امکان

    کراچی:مختلف علاقوں میں بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے-

    باغی ٹی وی: گلستان جوہر،گلشن اقبال،جمشید روڈ پر بارش ہو رہی ہے سندھ اور بلوچستان میں مختلف مقامات پر گرج چمک کے ساتھ مزید بارش متوقع ہے-

    محکمہ موسمیات کے مطابق پنجاب، بالائی خیبرپختونخوا میں چند مقا مات پر تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کا امکان ہے،گلگت بلتستان اور آزادکشمیر میں بھی مختلف مقامات پر بارش کا امکان ہے،اسلام آباد میں بعض مقامات پر گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے-

    محکمہ موسمیات کے مطابق سبی،ہرنائی، نصیر آباد، خضدار،قلات ،لسبیلہ، بارکھان ، مکران اورتربت میں بارش متوقع ہے،آواران،پنجگور، جیوانی اورگوادر میں آندھی کے ساتھ موسلادھار بارش کا بھی امکان ہے،راولپنڈی ، گلیات، مری ، جہلم ، اٹک ، لاہور اورگوجرانوالہ میں بارش کا امکان ہے-

    محکمہ موسمیات کے مطابق سیالکوٹ، بہاولپور،بہاولنگر، رحیم یار خان اورڈیرہ غازی خان میں بارش کا امکان ہے ،کراچی، ٹھٹھہ ،بدین ،مٹھی،حیدر آباد، سانگھڑ،دادو اور بینظیر آباد میں بارش متوقع ہے،دیر، سوات، بالا کوٹ، مانسہرہ، ایبٹ آباد، کرم اوروزیرستان میں بارش کا امکان ہے-

    واضح رہے کہ گزشتہ روز کراچی کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ تیز بارش ہوئی شہر قائد میں تیز بارش کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آگئے جبکہ کچھ علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی تھی۔

  • شدید بارش،پی ڈی ایم اے  نےالرٹ جاری کر دیا

    شدید بارش،پی ڈی ایم اے نےالرٹ جاری کر دیا

    مون سون کے حوالے سے پی ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیا

    ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق بہاولپور اور ڈی جی خان ڈویژن کے مختلف علاقوں میں شدت کے ساتھ بارش کا امکان ہے.15 سے 17 جولائی تک راولپنڈی، سرگودھا، ملتان، گوجرانوالہ، لاہور، فیصل آباد اور ساہیوال ڈویژن اور دریاؤں کے بالائی علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ موسمیاتی بارش کا امکان ہے۔

    حکومت کا سیلاب سے جاں بحق افراد کے لواحقین کو 10 لاکھ روپے امداد دینے کا اعلان

    ترجمان پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ڈی جی خان ڈویژن کے پہاڑی علاقوں میں 15 سے 17 جولائی 2022 تک درمیانے درجے سے اونچے درجے کا سیلاب متوقع ہے۔ جبکہ بہاولپور ڈویژن اور ڈی جی خان ڈویژن کے شہروں اور مضافات کے نشیبی علاقوں میں سیلابی صورتحال کا خدشہ ہے۔

     

    لاہور میں بارش جاری،توجہ نکاس آب پر ہے ،کمشنر

     

    ترجمان کے مطابق کوہ سلیمان،سالٹ رینج سے منسلک ندی نالوں میں پانی کی سطح بلند ہو سکتی ہے،جس سے علاقے میں سیلاب کا خطرہ ہے، پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ نشیبی علاقوں کے مکینوں کو ضرورت پڑنے پر عارضی ریلیف کیمپوں اورمحفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے اقدامات کرے،ریلیف کیمپوں میں ضلعی انتظامیہ کی طرف سے پکا ہوا کھانا فراہم کرنے کے لیے ضروری انتظامات کو یقینی بنایا جائے۔

    ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق متعلقہ محکموں کو ہدایت کر دی گئی ہے کہ شہری علاقوں میں سیلاب سے بچنے کے لیے تمام درکار مشینری/ڈیواٹرنگ سیٹ بروقت دستیاب کرائے جائیں۔محکمہ صحت سیلاب کے متاثرین کو ابتدائی طبی امداد کی فراہمی کے لیے طبی ٹیموں کو متحرک رکھے۔ شدید بارشوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے ضروری انتظامات کیے جائیں جو مقامی نالوں/دریاؤں میں اچانک سیلاب پیدا کر سکتے ہیں۔

    بارش کے پانی سے ہونے والی بیماریوں سے بچنے کے لیے محکمہ صحت کی جانب سے مخصوص جگہوں پر ادویاتی سپرے کے چھڑکاؤ یقینی بنایا جائے۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے پنجاب کے تمام اضلاع کی انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے.