Baaghi TV

Tag: بارش

  • تین ضلعوں کو ملانے والا تجارتی روڈ تباہ حال

    تین ضلعوں کو ملانے والا تجارتی روڈ تباہ حال

    قصور
    پھولنگر تا فیصل آباد روڈ شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار،لوگوں کی آمد و رفت کیساتھ تجارت بھی متاثر

    تفصیلات کے مطابق تین ضلعوں قصور،ننکانہ،فیصل آباد کو ملانے والا فیصل آباد پھولنگر روڈ عرصہ دراز سے شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے
    یہ روڈ لوگوں کی آمد و رفت کیساتھ بہت ہی اہم ترین تجارتی گزر گاہ بھی ہے
    پاکستان کے تیسرے بڑے شہر فیصل آباد میں قصور سے آنے جانے والے تاجر شدید مشکلات کا شکار ہیں
    سارے روڈ پر بے شمار گڑھے پڑے ہوئے ہیں جس کے باعث حادثات رونما ہونے کیساتھ گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچتا ہے
    سارے روڈ پر گردو غبار کا راج ہے جس کے باعث لوگ کئی مہلک بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں
    قصور سے فیصل آباد کا چند گھنٹوں کا سفر سارا دن میں طے پاتا ہے جس کے باعث تجارت متاثر ہو رہی ہے
    علاقہ مکینوں نے کمشںر لاہور و وزیر اعلی پنجاب سے ازخود نوٹس لے کر جلد سے جلد روڈ کو نئے سرے سے تعمیر کا مطالبہ کیا ہے

  • حب ڈیم سےکراچی کو پانی سپلائی کرنے والی نہر میں شگاف:ہنگامی حالت کا اعلان

    حب ڈیم سےکراچی کو پانی سپلائی کرنے والی نہر میں شگاف:ہنگامی حالت کا اعلان

    کراچی :حب ڈیم سےکراچی کو پانی سپلائی کرنے والی نہر میں شگاف پڑگیا اور متاثرہ حصے سے بہنے والا پانی قریبی گوٹھوں کی جانب بہنے لگا ہے۔جس کی وجہ سے حکام نے اس علاقے میں ہنگامی حالت کا اعلان کردیا ہے ،

    واٹر بورڈ ذرائع کے مطابق ناردرن بائی پاس دعا ہوٹل کے قریب حب نہرکا حصہ ٹوٹا ہے، اس نہر سےکراچی کو پانی فراہم کیا جاتا ہے۔متاثرہ حصے سے بہنے والا پانی قریبی گوٹھوں کی جانب جا رہا ہے، شدید بارش کی وجہ سے یہ حصہ ٹوٹا ہے، پانی عیسٰی اور خمیسو گوٹھ میں داخل ہوسکتا ہے، ایک گھنٹہ گزرنے کے باوجود انتظامیہ نہیں پہنچ سکی، ذرائع کے مطابق کراچی میں پانی کی سپلائی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

    دوسری جانب پولیس کا کہنا ہےکہ پانی منگھوپیرکے غیر آباد علاقے میں جا رہا ہے، شگاف کو پرکرنے کے لیے مشینری لائی جارہی ہے، حب کینال کی مرمت تک پانی کی فراہمی بند کردی گئی ہے۔پولیس کے مطابق تاحال منگھوپیر کی کسی رہائشی آبادی کے متاثر ہونےکی اطلاع نہیں ہے۔

    اتوار کی علی الصبح سے کراچی اور گرد و نواح میں وقفے وقفے سے کہیں ہلکی تو کہیں تیز بارش کا سلسلہ جاری ہے۔کراچی میں اس قدر بارش ہورہی ہے کہ کراچی بارش سے پانی پانی ہوگیا ہے

    کراچی میں مون سون بارشوں کا تیسرا اسپیل اپنے اثرات دکھا رہا ہے، اتوار کی علی الصبح سے شہر کے مختلف علاقوں اور گرد و نواح میں وقفے وقفے بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں مون سون کے تیسرے اسپیل کے دوران اب تک سب سے زیادہ بارش آج سب سے زيادہ بارش قائد آباد ميں 86.5 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔رات سے مختلف علاقوں میں کہیں ہلکی تو کہیں درمیانی بارش کا سلسلہ جاری ہے ،یوں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سب سے ذیادہ بارش قائدآباد میں 21 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی

    گڈاپ ٹاؤن20، گلشنِ حدید10، صدر9، کیماڑی8، نارتھ کراچی6.2، سعدی ٹاؤن6 ملی میٹر، جناح ٹرمینل، گلشنِ معمار، کورنگی میں 5.2، پی اے ایف فیصل بیس 4.5 ملی میٹر ایئرپورٹ اولڈ ایریا، یونیورسٹی روڈ3.6، ڈی ایچ اے فیزٹو3.4 ملی میٹر،گلشن حديد62، پی اے ايف مسرور بيس پر 54.5 ، کيماڑی ميں 54 ملی ميٹر بارش کی گئی ۔

    بارش کے پانی نکاسی نہ ہونے کی وجہ سے سرجانی ٹان ، نارتھ کراچی اور نیو کراچی میں حالات سب سے زیادہ خراب ہیں۔ کئی سڑکوں پر پانی جمع ہے جب کہ گڑھے جوہڑ بنے ہوئے ہیں۔

    کوہ سلیمان کے علاقے بغل چر میں بارشوں سے لینڈ سلائیڈنگ اور آمد و رفت کا راستہ بند

    دوسری جانب شہر کے متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی معطل ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو دُہری اذیت کا سامنا ہے۔محکمہ موسمیات نے کراچی سميت اندرون سندھ ميں بارشوں کا موجودہ سلسلہ 26 جولائی تک جاری رہنے کی پيشگوئی کی ہے۔

    مون سون بارشوں سے متعلق محکمہ موسمیات کا تازہ الرٹ جاری

    شہر کے دورے کے دوران وزیر اعلیٰٓ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ محکمہ موسمیات نے تیز بارش کی پیش گوئی کی ہے، اللہ تعالی سے دعا ہے کہ بارش رحمت والی ہو زحمت نہ ہو، لوگوں سے گزارش ہے کہ غیر ضروری باہر نہ نکلیں۔

    مراد علی شاہ نے کہا کہ جب بارش تیز ہوتی ہے تو سڑکوں پر پانی جمع ہوجاتا ہے۔ حکومت سندھ کے وزرا اور انتظامیہ کے لوگ سڑکوں پر ہیں، کوئی بھی صورتحال ہو انتظامیہ کو ہر جگہ موجود پائیں گے۔

    بارش برسانے والا ہوا کے کم دباؤ کا سسٹم سندھ میں داخل ،محکمہ موسمیات

    شادمان نالے میں خاتون کے ڈوبنے کے واقعے کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس واقعےکا مجھے بہت افسوس ہے، نالوں کی صفائی کا کام پورا سال چلتا رہتا ہے، شادمان نالے پر کام پہلے بھی چل رہا تھا۔

    میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ شہر کی صورتحال قابو میں ہے، کراچی شہرکی سڑکیں اور انڈر پاسز کلیئر ہیں، بلدیاتی عملہ میدان میں موجود ہے، سڑکوں کے اطراف جمع پانی کی نکاسی کی جاری

  • لاہورمیں بارش نے 20 سال کا ریکارڈ توڑ دیا،گلی محلےاورسڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کرنےلگیں

    لاہورمیں بارش نے 20 سال کا ریکارڈ توڑ دیا،گلی محلےاورسڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کرنےلگیں

    لاہور میں 7 گھنٹے کی مسلسل بارش نے 20 سال کا ریکارڈ توڑ دیا گلی محلے اور سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگیں۔

    باغی ٹی وی : لاہور میں موسلادھار بارش سے شاہراہیں ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگیں گلی محلے تالاب میں تبدیل ہوگئے کینال روڈ پر ہربنس پورہ کے قریب پانی جمع ہو گیا ہربنس پورہ انڈر پاس بھی بارش کے پانی سے بھر گیا۔ پانی جمع ہونے کے باعث ٹریفک کا نظام شدید متاثرہوا شہری گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے۔

    سیشن کورٹ اورسول کورٹ کے اطراف جگہ جگہ بارش کا پانی جمع ہونے سے سائلین اور وکلاکو عدالتوں میں پیش ہونے میں مشکلات کا سامنا ہے۔عدالتوں کے داخلی اور خارجی راستوں ہر بارش کا پانی جمع ہو گیا۔بارش کا پانی وکلا کے چیمبر میں بھی داخل ہوگیا۔

    ایم ڈی واسا کے مطابق لاہور میں سب سے زیادہ بارش تاج پورہ میں 234 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے،ائیرپورٹ ایریا میں 188 ملی میٹر بارش ہوچکی ہے۔مغل پورہ کے علاقے میں 171، چوک ناخدا میں 159، پانی والا تالاب کے علاقے میں 158 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔لکشمی چوک میں 141، گلشن راوی کے علاقہ میں 128، فرخ آباد میں 119 ملی میٹر بارش ہوئی۔

    شہر میں ہونے سے والی بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام شدید متاثرہوگیا۔بارش کے باعث لیسکو کے 100 سے زائد فیڈرز ٹرپ کر گئے۔فیڈرز ٹرپ ہونے اور دیگر فنی خرابیوں کے باعث متعدد علاقے بجلی سے محروم ہیں۔

    واپڈا ٹاون،جوہر ٹاون، نشیمن اقبال، کماہاں،بیدیاں روڈ، پرانا کاہنہ، والٹن، چونگی امرسدھو میں بجلی غائب ہے۔بھٹہ چوک ،گجر پورہ ،قلعہ محمدی، علی پارک ،داتا پارک، خان کالونی، باغبانپورہ، سمن آباد، اردو بازار میں بھی بجلی بند ہے۔

    حسن ٹاون، اعوان ٹاون، مغل پورہ، شاد باغ، شادی پورہ کے متعدد علاقوں میں بجلی معطل ہے۔بجلی کی طویل بندش کے باعث شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے-

    ایم ڈی واسا کا کہنا ہے کہ تمام ڈسپوزل اسٹیشن فعال ہیں اور جنریٹر بھی استعمال کر رہے ہیں، اتنی زیادہ بارش کے باوجود بیشتر علاقے کلیئر کر دیے ہیں لکشمی چوک، کوپر روڈ، دوموریہ، ایک موریہ، فردوس مارکیٹ، جی پی او چوک، نابھہ روڈ، بھاٹی گیٹ، جناح اسپتال اور ٹکا چوک بھی کلیئر کر دیاگیا ہے۔

    بارشوں کے باعث چھتیں گرنے کے دو مختلف واقعات میں 2 بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق اور 8 زخمی ہو گئے ہیں

    سلامت پورہ کے علاقے محلہ عید گاہ میں مکان کی چھت گر گئی حادثہ میں ایک شخص جاں بحق، ایک بچہ زخمی ہو گیا۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق ملبے تلے بچے کی والدہ کے دبے ہونے کی بھی اطلاعات ہیں امدادی کاروائیاں جاری ہیں-

    گجرات کے علاقے ہیرا پور میں ڈیرے کی چھت گرنے سے 2 کم سن بچیاں جاں بحق اور 6افراد زخمی ہو گئے۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق خستہ حال چھت گرنے سے جاں بحق ہونے والی دونوں بچیوں کی عمریں 12 سے 14 سال کے درمیان ہے جب کہ زخمیوں میں والد اور والدہ سمیت 4 بچے بھی شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ محکمہ موسمیات نے لاہور میں بارش کا سلسلہ 26 جولائی تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کی پیش گوئی کررکھی ہے۔ گزشتہ روز ہونے والی زیادہ سے زیادہ بارش 156 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے انتظامیہ کو چوکس رہنے کا حکم دیتے ہوئے ریسکیو 1122، واسا اور دیگر متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کردی ہیں۔

  • کراچی سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں بارش کا امکان

    کراچی سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں بارش کا امکان

    کراچی:مختلف علاقوں میں بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے-

    باغی ٹی وی: گلستان جوہر،گلشن اقبال،جمشید روڈ پر بارش ہو رہی ہے سندھ اور بلوچستان میں مختلف مقامات پر گرج چمک کے ساتھ مزید بارش متوقع ہے-

    محکمہ موسمیات کے مطابق پنجاب، بالائی خیبرپختونخوا میں چند مقا مات پر تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کا امکان ہے،گلگت بلتستان اور آزادکشمیر میں بھی مختلف مقامات پر بارش کا امکان ہے،اسلام آباد میں بعض مقامات پر گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے-

    محکمہ موسمیات کے مطابق سبی،ہرنائی، نصیر آباد، خضدار،قلات ،لسبیلہ، بارکھان ، مکران اورتربت میں بارش متوقع ہے،آواران،پنجگور، جیوانی اورگوادر میں آندھی کے ساتھ موسلادھار بارش کا بھی امکان ہے،راولپنڈی ، گلیات، مری ، جہلم ، اٹک ، لاہور اورگوجرانوالہ میں بارش کا امکان ہے-

    محکمہ موسمیات کے مطابق سیالکوٹ، بہاولپور،بہاولنگر، رحیم یار خان اورڈیرہ غازی خان میں بارش کا امکان ہے ،کراچی، ٹھٹھہ ،بدین ،مٹھی،حیدر آباد، سانگھڑ،دادو اور بینظیر آباد میں بارش متوقع ہے،دیر، سوات، بالا کوٹ، مانسہرہ، ایبٹ آباد، کرم اوروزیرستان میں بارش کا امکان ہے-

    واضح رہے کہ گزشتہ روز کراچی کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ تیز بارش ہوئی شہر قائد میں تیز بارش کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آگئے جبکہ کچھ علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی تھی۔

  • شدید بارش،پی ڈی ایم اے  نےالرٹ جاری کر دیا

    شدید بارش،پی ڈی ایم اے نےالرٹ جاری کر دیا

    مون سون کے حوالے سے پی ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیا

    ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق بہاولپور اور ڈی جی خان ڈویژن کے مختلف علاقوں میں شدت کے ساتھ بارش کا امکان ہے.15 سے 17 جولائی تک راولپنڈی، سرگودھا، ملتان، گوجرانوالہ، لاہور، فیصل آباد اور ساہیوال ڈویژن اور دریاؤں کے بالائی علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ موسمیاتی بارش کا امکان ہے۔

    حکومت کا سیلاب سے جاں بحق افراد کے لواحقین کو 10 لاکھ روپے امداد دینے کا اعلان

    ترجمان پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ڈی جی خان ڈویژن کے پہاڑی علاقوں میں 15 سے 17 جولائی 2022 تک درمیانے درجے سے اونچے درجے کا سیلاب متوقع ہے۔ جبکہ بہاولپور ڈویژن اور ڈی جی خان ڈویژن کے شہروں اور مضافات کے نشیبی علاقوں میں سیلابی صورتحال کا خدشہ ہے۔

     

    لاہور میں بارش جاری،توجہ نکاس آب پر ہے ،کمشنر

     

    ترجمان کے مطابق کوہ سلیمان،سالٹ رینج سے منسلک ندی نالوں میں پانی کی سطح بلند ہو سکتی ہے،جس سے علاقے میں سیلاب کا خطرہ ہے، پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ نشیبی علاقوں کے مکینوں کو ضرورت پڑنے پر عارضی ریلیف کیمپوں اورمحفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے اقدامات کرے،ریلیف کیمپوں میں ضلعی انتظامیہ کی طرف سے پکا ہوا کھانا فراہم کرنے کے لیے ضروری انتظامات کو یقینی بنایا جائے۔

    ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق متعلقہ محکموں کو ہدایت کر دی گئی ہے کہ شہری علاقوں میں سیلاب سے بچنے کے لیے تمام درکار مشینری/ڈیواٹرنگ سیٹ بروقت دستیاب کرائے جائیں۔محکمہ صحت سیلاب کے متاثرین کو ابتدائی طبی امداد کی فراہمی کے لیے طبی ٹیموں کو متحرک رکھے۔ شدید بارشوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے ضروری انتظامات کیے جائیں جو مقامی نالوں/دریاؤں میں اچانک سیلاب پیدا کر سکتے ہیں۔

    بارش کے پانی سے ہونے والی بیماریوں سے بچنے کے لیے محکمہ صحت کی جانب سے مخصوص جگہوں پر ادویاتی سپرے کے چھڑکاؤ یقینی بنایا جائے۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے پنجاب کے تمام اضلاع کی انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے.

  • لاہور میں بارش جاری،توجہ نکاس آب پر ہے ،کمشنر

    لاہور میں بارش جاری،توجہ نکاس آب پر ہے ،کمشنر

    لاہور اور گرد ونواح میں ہلکی اور تیز بارش کا سلسلہ جاری ہے .کمشنر لاہور کیپٹن ر محمد عثمان کا کہنا ہے کہ لاہورکے تمام علاقوں میں بونداباندی ہورہی ہے۔تیز بارش رپورٹ نہیں ہوئی۔کمشنر لاہور کو شہر کے مختلف 15علاقوں میں بارش کی صورتحال کی رپورٹ پیش کی گئی.

    مین شاہراہ سیلاب کے باعث کٹنے سےاپرچترال کا ایک ہفتے سے زمینی رابطہ منقطع

    کمشنر لاہور نے بتایا کہ ابھی تک ایرپورٹ ایریا میں زیاد ہ سے زیادہ 10.2ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے۔لاہور کے تمام انڈرپاسز پر عملہ موجود ہے۔شہری ہنگامی حالت میں فوری اطلاع دیں۔بوندا باندی رکنے کے بعد ساری توجہ نکاسئ آب پر مرکوز ہونی چاہئیے۔ایم سی ایل افسران و سٹاف لاہور کے مضافاتی علاقوں میں خود موجود رہیں.

     

     

    کمشنر لاہورنے ہدیت کی کہ ایم سی ایل کی مشینری و کرینز سورنگ پوائنٹس ایریا کے نزدیک موجود رکھیں۔
    رپورٹ کیمطابق ہر ہنگامی مرکز ۔ڈسپوزل اسٹیشن پر واسا اہلکار پوری تندہی سے کام کر رہے ہیں۔

    ایم ڈی واسا غفران احمد کا کہنا ہے کہ بارش کے باوجود تمام علاقے کلیئر ہیں ۔ تمام ایمرجنسی کیپمس پر سٹاف ڈیوٹی سر انجام دے رہا ہے ۔اتمام انڈر پاسز مکمل فعال ہیں اور ٹریفک رواں دواں ہے ۔ ایم ڈی نےمزید بارشوں کے پیش نظر عملہ و افسران کو فیلڈ میں متحرک رہنے کی ہدایات کی.

  • لاہور میں موسلادھار بارش سے موسم خوشگوارہوتے ہی بجلی غائب

    لاہور میں موسلادھار بارش سے موسم خوشگوارہوتے ہی بجلی غائب

    لاہور : لاہور میں موسلادھار بارش سے موسم خوشگوارہوتے ہی بجلی غائب ،اطلاعات کے مطابق مون سون کی بارشوں نے لاہور میں جل تھل ایک کردیا، شہریوں کے چہرے کھل اٹھے، شہر کی اہم شاہراہیں زیرآب آگئیں۔

    لاہور ميں موسلادھار بارش اور ژالہ باری سے موسم خوشگوار ہوگيا جبکہ کئی فيڈرز ٹرپ ہونے سے مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔محکمہ موسميات کے مطابق لاہور کے جیل روڈ پر33.6 ،ایئرپورٹ پر 45.5،گلبرگ میں 57.5 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔

    موسلادھار بارش کے باعث شہر کے نشيبی علاقے زيرآب آگئے، لکشمی چوک اور نسبت روڈ سمیت شہر کی مختلف سڑکوں پر بارش کا پانی جمع ہوگیا۔

    لکشمی چوک پر 85،اپر مال پر69، مغل پورہ میں 66،تاج پورہ میں83 ملی میٹر، نشتر ٹاؤن میں 80 ،چوک نا خدا پر67 ،پانی والا تالاب میں104 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

    موسم کا حال بتانے والوں کا کہنا ہے کہ فرخ آباد میں101 ،گلشن راوی میں78, اقبال ٹاؤن میں41، سمن آباد میں50 ملی میٹربارش ہوئی۔اس حوالے سے ایم ڈی واسا کا کہنا ہے کہ جوہر ٹاؤن میں 63 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، پانی والا تالاب میں سب سے زیادہ 104 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

    اس کے علاوہ کوپر روڈ، لکشمی چوک، دوموریہ، جی پی او، کشمیر روڈ، قینچی اسٹاپ، شاہ جمال اور اللہ ہو چوک کے علاقے کلیئر کردیے گئے ہیں۔

  • توشہ خانے سے چوری تم کرو اور چور ہم،وزیراعلیٰ سندھ برس پڑے

    توشہ خانے سے چوری تم کرو اور چور ہم،وزیراعلیٰ سندھ برس پڑے

    توشہ خانے سے چوری تم کرو اور چور ہم،وزیراعلیٰ سندھ برس پڑے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کراچی میں3 گھنٹوں میں 127 ملی میٹر بارش ہوئی،کم وقت میں زیادہ بارش ہونے سے نظام متاثر ہوا،

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے 2020 میں بہت زیادہ بارشیں ہوئی تھیں،جس دن بارش ہوئی اس دن الائشیں اٹھانے میں بڑی مشکلات پیش آئیں،عید کے دن میں شہر میں کوئی پانی نہیں تھا،عید کے روز شام سے اگلے دن تک شدید بارش ہوئی،بارش کی وجہ سے بہت زیادہ پانی تھا موسم میں تبدیلی کی وجہ سے زیادہ بارشیں ہو رہی ہیں ضلع جنوبی میں ایک دن میں 132 ملی میٹر بارش ہوئی،

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ کہا گیا کہ سارے افسران عید پر گھروں کو چلے گئے ،ایڈ منسٹریٹر ،کمشنر سمیت تمام افسران کراچی میں ہی موجود تھے ،الیکشن کے نزدیک دوسروں کو گندا کرنے کیلئے یہ اس طرح کرتے ہیں،اب یہی لوگ بیٹھ کر زہر اگل رہے ہیں،پی ٹی آئی خود کو بہت بڑی جماعت کہتی ہے لیکن وہ ہے نہیں،جو ساڑھے 3 سال وزیراعظم رہے وہ ایک دن کراچی میں نہیں گزارا ،توشہ خانے سے چوری تم کرو اور چور ہم،چینی ،آٹا تم چوری کروا ور چور ہم،نور ی آباد پاور پلانٹ کبھی بند نہیں ہوا اس پر کیس بنا گیا،

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ کل صبح تک پانی صاف تھا،پوری سندھ حکومت عید سے پہلے سے سڑکوں پر ہے،برسات کا ایک اور اسپیل کل سے آنا ہے،اس کے لیے ہم نے نالوں کو ابھی سے صفائی کرنی ہے،آج ایک صاحب نے کہا کراچی میں ایمرجنسی لگا دو،2007 میں بارشوں کے دوران 228 افراد جاں بحق ہوئے تھے ،2009 میں بارش کے دوران 50 افراد جاں بحق ہوئے میڈیا وہ بات نہ کریں جس سے انتشار پھیل جائے، میڈیا کو چاہیے کہ حقیقت کو سامنے لائیں،لوکل گورنمنٹ کی بلڈنگ نالے کے اوپر بنی ہے،کیا یہ عمارت 10،5یا 20سال پہلے بنی تھی؟سپریم کورٹ کی پارکنگ نالے پر میں نے بنائی ہے؟نالوں کے اوپر دکانیں بنی ہوئی ہیں وہ کیا میں نے بنائی ہیں،کیا ان دکانوں کو یا جو تعمیرات ہوئی ہے ان سب کو گرا دوں؟

    حریم شاہ کی کسی شخص کے گھٹنے پر بیٹھنے کی تصویر وائرل، وہ شخص کون؟ حریم نے خود بتا دیا

    حریم شاہ کی "لیکس” زرتاج گل بھی میدان میں آ گئیں، کیا کہا؟ جان کر ہوں حیران

    دوسروں کی ویڈیو لیک کرنیوالی حریم شاہ خود "بے آبرو” ہو گئی،کہتی ہیں دو افراد آئے منہ پر ہاتھ رکھا اور پھر…

    حریم شاہ پر تشدد سے قبل ایسا کیا کام کیا گیا کہ حریم شاہ کہیں کی نہ رہی

  • ملک میں بارشیں اور سیلاب،پاک فوج عوام کی جان ومال کے تحفظ کیلئے پرعزم

    ملک میں بارشیں اور سیلاب،پاک فوج عوام کی جان ومال کے تحفظ کیلئے پرعزم

    ملک کے مختلف مقاما ت میں شدید بارشیں اور کئی مقامات پر اربن فلڈنگ کی صورتحال میں پا ک فوج سول انتظامیہ کے ساتھ شانہ بشانہ ہے،بارشوں کی صورتحال کے پیش نظرتمام کور ہیڈ کوارٹرزکو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں.اور کہا گیا ہے کہ بارشوں کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے مکمل تیاری رکھیں اور ریسکیو ریلیف اور زیرِ آب علاقوں کو کلئیر کرنے کے لئے انتظامیہ کی بھرپور مدد کی جائے۔

    کراچی: موسلادھار بارش، متعدد علاقے ڈوب گئے، گھروں میں پانی داخل، کرنٹ لگنے سے 3 جاں بحق

    کراچی میں شدید بارش کے باعث پاکستان آرمی، پاکستان رینجرز سندھ، ایف ڈبلیو او اور این ایل سی کی ٹیمیں مسلسل انتظامیہ کی معاونت کر رہی ہیں۔388ڈی واٹرنگ ٹیمز مسلسل زیر ِ آب علاقوں میں ڈی واٹرنگ میں مصروف ہیں۔

    راولپنڈی اوراسلام آباد میں زیادہ سے زیادہ بارش21 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔ تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے۔راولپنڈی کور مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیار ہے۔

    خیبر پختونخوا میں ٹانک اور صوابی میں فلیش فلڈنگ ہے جبکہ پشاور کور نے روڈ شندور چترال کو ٹریفک کے بہاؤ کیلئے کھولنے میں سول انتظامیہ کی مدد کی ہے۔


    بلوچستان میں لسبیلہ میں 400افراد کو سیلابی پانی سے ریسکیو کیا گیا۔کوئٹہ کور نے ہر ضلع میں ایک رابطہ آفسر مقرر کیا ہے جو کہ PDMAاور سول انتظامیہ کے ساتھ آپریشن میں مصروف ِ عمل ہے۔


    گلگت بلتستان میں قراقرم ہائی وے، جگلوٹ سکردو روڈ اور بابو سر شاہرائیں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بلاک ہو گئیں تھیں،جنہیں ایف ڈبلیو اور اور این ایچ اے نے ٹریفک کے لئے بحال کر دیا ہے۔FCNAٹروپس ضلع غِذر میں سول انتظامیہ کی مدد مصروفِ عمل ہیں۔

     

    فوج کے دستے اور رینجرز اہلکار کراچی میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف

  • بارشوں سے 135 سے زائد افراد جاں بحق، مزید بارشوں کا امکان

    بارشوں سے 135 سے زائد افراد جاں بحق، مزید بارشوں کا امکان

    لاہور:ملک بھر میں مون سون کی بارشوں کے دوران جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 135 سے تجاوز کر گئی جبکہ محکمہ موسمیات نے مزیدبارش کی پیشگوئی کر دی ہے۔

    عرب میڈیا کے مطابق مون سون کی بارشوں نے ملک کے مختلف علاقوں کو شدی دمتاثر کیا ہے، خاص طور پر ملک کے جنوب مغرب میں، جہاں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران بارش کے باعث آنے والے شدید سیلاب نے درجنوں افراد کی زندگی نگل لی ہیں اور سینکڑوں کو بے گھر ہو گئے ہیں۔

    جون سے شروع ہونے والی مون سون کی شدید بارشوں کے باعث بلوچستان میں 57 کے قریب لوگ زندگی کی بازی ہار گئے ہیں، سندھ میں 24 افراد جاں بحق ہوئے، 21 افراد پنجاب میں چل بسے، خیبرپختونخوا میں 18، گلگت بلتستان میں 10، آزاد کشمیر میں چار اور ایک شخص اسلام آباد میں موت کی وادی میں پہنچ گیا۔

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے ) نے بارش کے دوران 154 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ 312 گھروں کو مکمل طور پر نقصان پہنچا اور 718 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا۔ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

    دوسری طرف محکمہ موسمیات نے ملک میں بالخصوص جنوبی سندھ اور جنوب مغربی بلوچستان میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے۔

    پی ایم ڈی کے مطابق جنوبی اور جنوب مشرقی سندھ اور ساحلی بلوچستان میں الگ تھلگ موسلا دھار بارشوں کے ساتھ گرج چمک کے ساتھ ہلکی بارش/بارش متوقع ہے۔ تمام بڑے دریاؤں، اسلام آباد کے ساتھ ساتھ کوہاٹ، بنوں، ڈی آئی خان، راولپنڈی، گوجرانوالا، ڈی جی خان ڈویژنوں کے بالائی علاقوں اور12 جولائی تک ملک کے دیگر علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا بھی امکان ہے۔

    عرب میڈیا کے مطابق پاکستان میں حالیہ دنوں کے دوران ملک بھر میں موسلا دھار بارشیں ہوئی ہیں، جس سے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کا بڑا حصہ پانی میں ڈوب گیا ہے۔ بلوچستان میں موسلادھار بارش کے باعث 8 ڈیم ٹوٹ گئے ہیں۔