Baaghi TV

Tag: باغی ٹی وی

  • ملک بھر میں قومی خوشحالی سروےزور و شور سے جاری،بینظیر انکم سپورٹس پروگرام ثانیہ نشتر

    ملک بھر میں قومی خوشحالی سروےزور و شور سے جاری،بینظیر انکم سپورٹس پروگرام ثانیہ نشتر

    سرگودہا ۔وزیر اعظم کی معاون برائے سماجی تحفظ وچیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹس پروگرام ثانیہ نشتر نے کہاکہ ملک بھر میں قومی خوشحالی سروے 30جون تک مکمل کر لیاجائیگا ۔ اب تک 70 فیصد سروے مکمل ہو چکاہے ۔ پنجاب میں 54 فیصد جبکہ سرگودہا ڈویژن میں مجموعی طورپر 28 فیصد سروے مکمل کیا جاچکاہے ۔ 70 لاکھ خاندانوں کو احساس کفالت پروگرام کے تحت ادائیگیاں شروع کر دی گئی ہیں ۔ سروے کے بعد نئے رجسٹرڈ سات لاکھ خاندانوں کو ایس ایم ایس بھیجے جارہے ہیں کہ آپ متعلقہ بینک پر جا کر اپنے پیسے لے سکتے ہیں ۔ نئے سروے سے 13 لاکھ حقدار ایسی خواتین کو تاحال ادائیگیاں اس لئے نہیں ہوسکیں کہ ان کے پاس نادراکے شناختی کارڈ نہ ہیں ۔ انہیں بذریعہ خط کہاگیاکہ اپنے شناختی کارڈ جلد از جلد بنوا کر احساس کفالت کے پیسے حاصل کر سکتی ہیں ۔وہ آج اپنے دورہ سرگودہا کے موقع پر ڈپٹی کمشنر دفتر میں صحافیوں کو احساس کفالت پروگرام سے متعلق بریفنگ دے رہی تھیں ۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل بینظیر انکم سپورٹس پروگرام پنجاب رانا شاہد ‘ ڈی جی ہیڈکوارٹر نوید اکبر ‘ ڈپٹی کمشنر سرگودہا نائلہ باقر اور ڈائریکٹر بینظیر انکم سپورٹس پروگرام سرگودہا مقدس نوید چیمہ بھی ہمراہ تھے ۔ چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹس پروگرام ثانیہ نشتر نے کہاکہ احساس پروگرام سے بہت سے سفید پوش افراد بھی استفادہ کر رہے ہیں ان کا بھرم برقرار رکھنے کیلئے ستمبر سے ادائیگیوں کا نظام تبدیل کیاجارہاہے او رایسے سفید پوش افراد اپنے اکاونٹ سے چیک کے ذریعے بھی رقم حاصل کرسکیںگے ۔ انہوں نے کہاکہ مستحق خصوصی افراد بھی نادرا سے خصوصی شناختی کارڈ بنواکر احسا س کفالت پروگرام میں شامل ہوسکتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ملک بھر میں ڈیجیٹل بنیادوں پر احساس سروے کیا جارہاہے جبکہ سرگودہا میں نئے ماڈل کے تحت سروے جاری ہے ۔ سرو ے کیلئے این جی اوز اور مقامی اساتذہ کی مددلی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر غیر سیاسی بنیادوں پر جاری سروے کا مقصد مستحق خاندانوں کا پتہ چلا کر شفاف انداز میں رقم ان تک پہنچانا ہے ۔ انہوں نے و اضح کیاکہ احساس سروے مفت کیا جارہا ہے جس کی کوئی فیس نہیں ۔ایک سوال کے جواب میںانہوں نے بتایاکہ پچھلے سال کرونا کی وجہ سے قومی خوشحالی سروے متاثر ہوا لیکن اب دوبارہ بھر پور انداز میں سروے کا کام جاری ہے ۔ ایک او رسوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ کرونا لاک ڈاؤن میں شفاف انداز میں 12 ہزار روپے فی کس ملک کی آبادی تک پہنچائے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ جہاں سروے جاری ہے وہاں وہ خود جا کر معائنہ کر رہی ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ایسے سرکاری افسران او رملازمین کے علاوہ غیر مستحق افراد جنہوں نے بینظیر انکم سپورٹس پروگرام سے کوئی مدد حاصل کی ان کے خلاف فوری کارروائی کرتے ہوئے ملازمتوں سے برخاست کر دیاگیا جبکہ اب ایسا شفاف نظام تشکیل دیاگیا ہے کہ کوئی سرکاری افسر یا فرد کسی قسم کی مدد نہیں لے سکے گا ۔ ثانیہ نشتر نے کہاکہ احساس پروگرام کے تحت احساس کفالت ‘ احساس وظیفہ او راحساس بلاسود قرضہ پروگرام سے اب تک لاکھوں مستحق افراد استفادہ کرچکے ہیں ۔ قبل ازیں دفتر آمد پر کمشنر ڈاکٹر فرح مسعود او رڈپٹی کمشنر نائلہ باقر نے چیئر پرسن بینظیر انکم سپورٹس پر وگرام ثانیہ نشتر کا استقبال کیا ۔ ڈپٹی کمشنر نائلہ باقر نے سرگودہا میں جاری قومی خوشحالی سروے بارے تفصیلی بریفنگ دی ۔ وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی بہبود نے سلیمان پورہ کادورہ کر کے احساس کفالت پروگرام سے استفادہ کرنے والی خواتین سے ملاقات کر کے مسائل دریافت کئے ۔

  • مسلم لیگ ن کامقصدجھوٹ کوپروان چڑھانا ہے، فردوس عاشق اعوان

    مسلم لیگ ن کامقصدجھوٹ کوپروان چڑھانا ہے، فردوس عاشق اعوان

    لاہور:معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان کی میڈیا سے گفتگو ہوئی جس میں انہوں نے کہا کہ ‏مریم نوازہرروزکوئی نیاجھوٹ ایجادکرتی ہیں۔ ایک میچ کرکٹ کاچل رہاہے،ایک میچ دھاندلی لیگ بمقابلہ عمران خان چل رہاہے۔عمران خان نےدھاندلی لیگ کےتمام کھلاڑیوں کوکلین بولڈکردیا۔عمران خان نے 20پولنگ اسٹیشنزپردوبارہ پولنگ کا کہا۔ مسلم لیگ ن کامقصدجھوٹ کوپروان چڑھانا ہے۔ڈسکہ میں دہائیوں سےووٹ بٹورےجاتےتھے۔ آج ڈسکہ میں آپ کے ہتھکنڈوں کے باوجودپی ٹی آئی حلقے سے جیتی ہے۔عوام نےعمران خان کواپنامسیحاچناہواہے،ووٹ دےرہےہیں۔وزیرآباد میں پی ٹی آئی چار پانچ ہزار ووٹوں کے فرق سے ہاری ہے۔

  • حکومت اور طاقت کے نشے میں دھت  افراد انتخابات پر اثر انداز ہورہےہیں!!

    حکومت اور طاقت کے نشے میں دھت  افراد انتخابات پر اثر انداز ہورہےہیں!!

    لاہور: تحریک لبیک یارسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم کے سربراہ ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی نے کہا: ڈسکہ ضمنی الیکشن حکومت اور آپوزیشن کا کردار شرمناک ہے۔پولنگ کے دن قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کردار بھی معنی خیز ہے قتل و غارت،لوٹ مار،دھینگا مشتی کے ہوتے ہوئے شفاف الیکشن کا محض خواب ہی دیکھا جا سکتا ہے۔حکومت اور طاقت کے نشے میں دھت  افراد اگر انتخابات پر اثر انداز ہوتے رہیں تو عوام کے دل کی آواز اور حقیقی قیادت کیسے سامنے آسکتی ہے۔پاکستان میں الیکشن کے پراسس میں اتنی خرابیاں ہیں کہ بتانا مشکل ہے کہ درست کہاں سے ہے۔انتخابات میں دھاندلی،دھاندلہ اور جھرلو پھرنے تک کے الفاظ چھوٹے پڑ گئے ہیں مگر انتخابی گڑبڑ کہی بڑی ہے۔بار بار الیکشن دیکھ کر ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ آزادانہ منصفانہ انتخابات کا صرف  نعرہ ہی لگایا جا سکتا ہے۔ناہل قیادت اور غیروں پر منحصر معیشت سے ایٹمی پاکستان کی حفاظت مشکل ہے۔اگر انتخابات محض ایک ڈھونگ ہی رہے تو معیشت مضبوط نہیں ہوسکتی اور معیشت کے مسلسل کمزور ہونے پر ایٹمی پروگرام رول بیک کرنے کا سانحہ ہو سکتا ہے۔

  • الحمرا  نے موسیقی کی دُنیا کو بڑے نام  اور آرٹسٹ دیئے ہیں!!

    الحمرا نے موسیقی کی دُنیا کو بڑے نام اور آرٹسٹ دیئے ہیں!!

    لاہور آرٹس کونسل الحمراء نے موسیقی کے فروغ میں ہمیشہ اہم کرداد ادا کیا۔ الحمرا ایک ایسا ادارہ ہے جس نے موسیقی کی دُنیا کو بڑے نام دیئے ہیں، اسی شاندار روایت کو جاری رکھتے ہوئے الحمراء نمبر 2 میں مقابلہ گائیکی کے آڈیشن کا انعقاد کیا۔ جس میں نہ صرف لاھور بلکہ پنجاب بھر سے تعلق رکھنے پندرہ تا تیس سال کی عمر کے زائد گلوکارو نے حصہ لیا۔جس میں جج کی ماہرانہ رائے کے مطابق بہترین کارکردگی دیکھانے والے بارہ نوجوانوں کو منتخب کیا گیا۔مقابلے میں جج کے فرائض استاد عبدالروف نے انجام دیئے۔ انہوں نے مقابلے میں شرکت کرنے والے نوجوانوں کی حوصلہ آفزائی کی۔ آڈیشن میں منتخب ہونے والے نوجوانوں نے الحمراء انتظامیہ کے اس احسن اقدام کا بے حد شکریہ ادا کیا،یہ نوجوان بروز جمعرات کو الحمرا کے ہال نمبر ایک میں اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے۔اس موقع پر ایگزیکٹوڈائریکٹر لاہور آرٹس کونسل الحمراء ڈاکٹر اسلم ڈوگر نے کہا کہ فن کو فروغ دینا اور فنکاروں کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنا ہی الحمرا کا اصل مقصد ہے، جس کو یہ ادارہ با خوبی نبھا رہا ہے۔ انہوں نے مقابلے میں منتخب ہونے والے نوجوانوں کو مبارک باد دیتے ہوئے انکے لئے نیک تمناوں کا اظہار کیا۔

  • زچگی کیلئے تربیت یافتہ گائناکالوجسٹ کی خدمات سے استفادہ کرنا چاہیے، ماہر گائناکالوجسٹ

    زچگی کیلئے تربیت یافتہ گائناکالوجسٹ کی خدمات سے استفادہ کرنا چاہیے، ماہر گائناکالوجسٹ

    جنرل ہسپتال میں 3 روزہ کلینکل کورس کا اختتام، صوبہ بھر سے سینئر گائنی ڈاکٹرز نے شرکت کی۔ پروفیسر الفرید ظفر کا کہنا ہے کہ میڈیکل میں مہارت کیلئے تربیتی ورکشاپس کاانعقاد اور شرکت ضروری ہے ہیلتھ پروفیشنلز کی کامیابی غریب مریضوں کو صحت یابی سے ہمکنار کرنا ہے، ہرمریض وی آئی پی ہونا چاہیے
    ماہرین کا کہنا ہے کہ خواتین کی صحت،خصوصاً حمل و زچگی کے معاملات کو سنجیدہ نہیں لیا جاتاجس سے پیچیدگیاں ہوتی ہیں
    سربراہ ایل جی ایچ کا کہنا ہے کہ زچگی کیلئے تربیت یافتہ گائناکالوجسٹ کی خدمات سے استفادہ کرنا چاہیے۔
    پاکستان کو ایک صحت مند قوم بنانے کیلئے زچہ و بچہ کی صحت پر خصوصی توجہ دینا ہو گی: ۔ پرنسپل امیر الدین میڈیکل کالج و معروف گائناکالوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر نے کہا ہے کہ طب کے شعبہ میں اعلی ترین مہارت کے درجے پر پہنچنے کیلئے باقاعدگی کے ساتھ تربیتی ورکشاپس کا انعقاد و تحقیقی کام میں وقت لگانا اور سینئر اساتذہ ڈاکٹرز کے تجربات کی روشنی میں اپنی پیشہ وارانہ قابلیت میں مسلسل اضافہ انتہائی ضروری ہے تاکہ ینگ ڈاکٹرز بھی اُن کے نقش قدم پر چل کر دکھی انسانیت کی بہتر سے بہتر انداز میں خدمت کر سکیں۔ ان خیالات کا اظہارپرنسپل پی جی ایم آئی پروفیسر الفرید ظفر نے جنرل ہسپتال میں گائنی کے شعبے میں اعلی مہارت کیلئے منعقدہ 3 روزہ کلینکل ایگزیم کورس کے اختتامی سیشن کے شرکاء میں سرٹیفکیٹس تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ورکشاپ کا اہتمام جنرل ہسپتال کی گائنی یونٹ 2کی پروفیسر ڈاکٹر فائقہ سلیم بیگ نے کیا تھا جس میں صوبہ بھر سے ایم ایس، ایف سی پی ایس اور ایم سی پی ایس کرنے والے ڈاکٹرز کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ دوران ورکشاپ ملک کے مایہ ناز گائناکالوجسٹس نے نوجوان ڈاکٹروں کو لیکچرز بھی دیے اور ان کو جدید طریقہ علاج کے بارے میں روشناس کروایا۔پرنسپل علامہ اقبال میڈیکل کالج پروفیسر عارف تجمل،پروفیسر محمد طیب،پروفیسر ارشد چوہان، پروفیسر روبینہ سہیل، پروفیسر عالیہ بشیر، پروفیسر ڈاکٹر مہرالنساء، پروفیسر ڈاکٹر فرح، پروفیسر فرحت ناز، پروفیسر نائلہ طارق، پروفیسر عاصمہ گل، ڈاکٹر لیلیٰ شفیق اور ڈاکٹر عائشہ افتخار نے لانگ اور شارٹ سرجری کے متعلق نوجوان ڈاکٹرز کو مستقبل کیلئے مفید معلومات فراہم کرنے کے ساتھ رہنمائی بھی کی اور سوال و جواب کے سیشن بھی ہوئے۔
    پروفیسر الفرید ظفر نے کہا کہ ہیلتھ پروفیشنلز کے سامنے سب سے بڑی کامیابی غریب و نادار مریضوں کا علاج کر کے انہیں صحتیابی سے ہمکنار کرنا ہوتا ہے لہذا ڈاکٹر کیلئے ہر مریض کا درجہ وی آئی پی ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے خطیر بجٹ اور دیگر سہولیات کا ایک ہی بنیادی مقصد شہریوں کو بہتر علاج معالجہ کی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا ہے جس کیلئے موجودہ حکومت تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تربیتی ورکشاپ میں آگاہی و معلومات کی فراہمی سے ڈاکٹرز کو آئندہ اپنے سالانہ امتحانات میں آسانیاں پیدا ہونگی اور وہ مکمل اعتماد کے ساتھ پیشہ وارانہ تعلیم کے امتحانات دے سکیں گے جس سے ان کی کامیابی کے امکانات زیادہ روشن ہو سکیں گے اور وہ عملی زندگی میں بہتر سے بہتر خدمات سر انجام دے سکیں گے۔
    صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پرنسپل امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر الفرید ظفر نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں بعض سماجی اور روایتی اقدار کی وجہ سے خواتین اور بچوں کی صحت نظر انداز ہو رہی ہے اور خاندان کے افراد خواتین کی صحت،خصوصاً حمل و زچگی کے معاملات کو سنجیدگی سے نہیں لیتے جس کی وجہ سے اکثر خواتین کو پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ہر سال ہزاروں خواتین حمل و زچگی کے دوران اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسی طرح نومولود بچوں میں بھی شرح اموات بہت زیادہ ہے لہذا پاکستان کو ایک صحت مند قوم بنانے کیلئے خواتین اور ماؤں کی صحت پر خصوصی توجہ دینا ہو گی۔ بالخصوص دیہی خواتین اور ان کے خاندانوں میں شعور بیدار کرنا انتہائی ضروری ہے تاکہ وہ غیر تربیت یافتہ دائیوں سے اپنی جانوں کو خطرات میں ڈالنے کی بجائے دوران حمل کسی مستند لیڈی ڈاکٹر یا کوالیفائیڈ ایل ایچ وی سے معائنہ کروائیں تاکہ وقت آنے پر کسی منفی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا ڈاکٹروں کی پیشہ وارانہ تربیت اور ان کی میڈیکل ایجوکیشن کو اپ ڈیٹ کرنے کیلئے پی جی ایم آئی و ایل جی ایچ مختلف تربیتی کورسز، سیمینار و ورکشاپ کا انعقاد آئندہ بھی کرتا رہے گاتاکہ انہیں زیادہ سے زیادہ معاونت مل سکے۔

  • سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں, یاسمین راشد

    سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں, یاسمین راشد

    ڈاکٹریاسمین راشد کا کہنا ہے کہ صوبہ بھرکے سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرزکی حاضری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیاجائے گا۔
    تمام وائس چانسلرزاورپرنسپل حضرات اپنے ماتحت ہسپتالوں میں ڈاکٹرزکی حاضری کو خود مانیٹرکریں
    سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔وزیر صحت پنجاب
    لاہور24 فروری: وزیر صحت پنجاب ڈاکٹریاسمین راشدکی زیرصدارت محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کئیراینڈ میڈیکل ایجوکیشن میں اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا،جس میں سیکرٹری صحت بیرسٹرنبیل اعوان،ایڈیشنل سیکرٹری ڈاکٹر آصف طفیل،وائس چانسلرکنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی پروفیسرڈاکٹرخالدمسعودگوندل،وائس چانسلرفاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی پروفیسرڈاکٹرعامرزمان خان،پرنسپل علامہ اقبال میڈیکل کالج پروفیسرڈاکٹرعارف تجمل،پرنسپل امیرالدین میڈیکل کالج پروفیسرڈاکٹر سردارالفرید، ایگزیکٹوڈائریکٹر پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف نیوروسائنسز پروفیسرڈاکٹرخالدمحمود،ایم ایس جناح ہسپتال ڈاکٹریحییٰ سلطان، ڈاکٹر علی رزاق،ایم ایس یکی گیٹ ہسپتال ڈاکٹرگلزاراحمد،میاں زاہدالرحمن باٹہ ودیگرافسران نے شرکت کی۔صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدنے اجلاس کے دوران سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرزکی حاضری،مریضوں کے علاج،صفائی ستھرائی،ادویات کی فراہمی ودیگرانتظامی امورکا تفصیلی جائزہ لیا۔ایڈیشنل سیکرٹری ڈاکٹرآصف طفیل نے اجلاس کے دوران مختلف سرکاری ہسپتالوں کے حالات بارے تفصیلات پیش کیں۔
    صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدنے کہاکہ تمام سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرزکی حاضری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیاجائے گا۔سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرزکی کمی کوفوراًپورا کیا جائے۔ڈاکٹریاسمین راشدنے کہاکہ سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور صفائی ستھرائی کے ناقص انتظامات کا ذمہ دار ایم ایس ہوگا۔کسی بھی سرکاری ہسپتال میں ادویات کی کوئی کمی نہیں ہے۔صوبائی وزیر صحت نے مزیدکہاکہ سرکاری ہسپتالوں کے حالات مزیدبہتربنانے کیلئے سرپرائزوزٹس کا سلسلہ جاری رہے گا۔تمام وائس چانسلرزاورپرنسپل حضرات اپنے ماتحت ہسپتالوں میں ڈاکٹرزکی حاضری کو خود مانیٹرکریں۔ایک ماہ بعد سرکاری ہسپتالوں کے حالات بارے دوبارہ اجلاس طلب کیاجائے گا۔

  • لاہورکے  طلبہ کی آزادی کشمیر کے لئے جدوجہد اور جذبہ قابل دید،سردار مسعود خان

    لاہورکے طلبہ کی آزادی کشمیر کے لئے جدوجہد اور جذبہ قابل دید،سردار مسعود خان

    صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے کہاہے کہ کشمیرکی آزاد ی کے حوالے سے لاہور بہت اہم کردار اداکررہاہے ، لاہور کے طلبہ آزادی کشمیر کے لیے جو جدوجہد کر رہے ہیں ان کا جذبہ قابل دید ہے جبکہ وہ تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید دورکے ہتھیارمیڈیا سے بھی لیس ہیں کیونکہ قوم کے یہ بچے جب عملی زندگی میں آئیں گے تو پاکستان سمیت دنیا بھرمیں کشمیر کی آزادی کے لئے ایک مثبت اور اعلی سوچ سے بہترین ماحول پیداکریں گے ۔لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری کولاہورپریس کلب کاگیارہویں مرتبہ صدر منتخب ہونے اورنومنتخب گورننگ باڈی کو مبارکباد دینے کے لئے کلب کے دورہ کے موقع پر میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے مزید کہاکہ پریس کلب کے صدر ارشد انصاری اور لاہور پریس کلب کی قیادت میں صحافی ملک وقوم کی بہترین خدمت میں سرگرم عمل ہیں اور یہ ان کی ایمانداری اور اپنے شعبہ سے بے لوث محبت کا نتیجہ ہے کہ تمام صحافی برادری انھیں اپنالیڈردیکھناپسند کرتی ہے ۔ اس موقع پر صدر ارشد انصاری ، سیکرٹری زاہد چوہدری ، جوائنٹ سیکرٹری خواجہ نصیر ، ممبرگورننگ باڈی ہماءمیر، عمران شیخ ، سید رضوان شمسی نے معززمہمان کا کلب آمد پر استقبال کیا ۔ سردارمسعودخان نے میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے مزید کہاکہ جموں کشمیر کی صورتحال بدستور ہولناک ہے،جموں کشمیر میں کشمیریوں سے انکی ثقافتی حیثیت چھینی جا رہی ہے ،آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لیے بھارتی باشندوں کی آبادکاری کا عمل تیزی سے جاری ہے،20 سے 30 لاکھ ہندوﺅں کو بھارت سے لا کر کشمیر میں بسایا جا رہا ہے جہاں ان کی الگ بستیاں بسائی جارہی ہیں ،کشمیریوںکی نسل کشی ہو رہی ہے ، کشمیر کی گلیوں میں قتل و غارت کا بازار گرم ہے،کشمیریوں سے ان کی زرعی اور غیر زرعی زمین چھین کران کی زمینوں پر قبضہ کیا جارہاہے ، ان کی زبان ختم کی جا رہی ہے اور ان کے روائتی لباس پر پابندی لگا دی گئی ہے ، پاکستان کی نوجوان نسل کشمیر کو آزاد دیکھنا چاہتی ہے ، نوجوان نسل ذرائع ابلاغ کے ذریعے کشمیر کے مسئلہ کو اجاگر کر سکتی ہے، ،نوجوان نسل بھارت کے ظلم وستم کی مذمت کرنا چاہتی ہے ان کے پاس ہتھیار نہیں ہیں ،کشمیری نوجوان اس طرح کا کردار ادا نہیں کر پا رہے ہیں، کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے بیانیے کودنیابھرمیں تقویت مل رہی ہے،برطانوی اور امریکی کانگریس نے بھی کشمیر کے حوالے سے آواز بلند کی ہے،کچھ لوگ مایوسیاں پھیلا رہے ہیں،خود مختار کشمیر کی آوازیں تو 1947 سے ہیں مگر مہاراجہ ہری سنگھ اور شیخ عبداللہ بھارت سے مل گئے،مایوسی کے بجائے اپنے بیانیے کو مستقل مزاجی سے بیان کرنے کی ضرورت ہے،صرف کشمیر نہیں بھارت کے مسلمان بھی ہندوﺅں کے شر سے محفوظ نہیں،حق و باطل کے معرکے میں حوصلہ کی ضرورت ہے ،کشمیریوں کی قربانیاں ضرور رنگ لائیں گی۔ صدر ارشد انصاری اور سیکرٹری زاہد چوہدری نے معزز مہمان کو کلب آمد پر خوش آمدید کہااور انھیں کشمیر کابہترین سفیر قراردیتے ہوئے کہاکہ وہ بین الاقوامی پالیسی ومعاملات کے ماہرہیںاورساری دنیامیں کشمیر کازکے لئے بہترین خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

  • آخر کب تک پختونوں کو ہی بیرونی سازشوں کا ایندھن بنایا جائے گا،صدرمحمد صدیق الرحمن پراچہ

    آخر کب تک پختونوں کو ہی بیرونی سازشوں کا ایندھن بنایا جائے گا،صدرمحمد صدیق الرحمن پراچہ

    پشاور: جماعت اسلامی یو خیبر پختونخوا کے صوبائی صدرمحمد صدیق الرحمن پراچہ نے میرعلی واقع پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ: آرمی کنٹرولڈ ڈسٹرکٹ ⁧‫وزیرستان‬⁩ ⁧‫کی ٹحصیل میرعلی‬⁩ میں ⁧‫بنوں‬⁩ سے تعلق رکھنے والی 4 خواتین کا قتل، بدترین جرم اور سیکورٹی لیپس ہے۔ اس بزدلانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں تمام حساس و سیکیورٹی ادارے جلد ملوث ملزمان کو نشان عبرت بنائے۔ میرعلی میں ایک بار پھر غیر سرکاری تنظیم کی خواتین ٹارگٹ کلنک کا نشانہ بنی۔ میرعلی پہنچنے تک راستے میں آٹھ چیک پوسٹوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ ضربِ غضب آپریشن پر اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود بھی وزیرستان میں امن قائم نہ ہونا سیکیورٹی_اداروں پر سوالیہ نشان ہے۔ دہشتگردی کے نام پر اربوں روپے خرچ کر کے لوگوں کو بے گھر کر کے اور عام عوام کو ہر قسم کی تکالیف سے دو چار کرایا۔وزیرستان کی تحصیل میرعلی کے گاوں ایپی میں شہید ھونے والی 4 خواتین میں سے ایک بہن کی 4 مہینے کی بیٹی رہ گئی اب اس بچی کا کیا قصور تھا جسے ماں کی محبت سے محروم کردیا؟
    میرعلی میں بنوں کی خواتین کا قتل بدترین جرم ہے۔ قبائیلی اظلاع میں ٹارگٹ کلینگ پر تشویش ہے
    ‬آخر کب تک پختونوں کو ہی بیرونی سازشوں کا ایندھن بنایا جائے گا۔ ہمیشہ قبائیلوں نے ہی پاکستان کےلیئے قربانیاں دیں۔ دہشتگردی کے دوران سب سے زیادہ جانی و مالی نقصان قبائیلوں کا ہی ہوا ہے۔ پختون بیلٹ اور قبائیلوں کی سرزمین مزید سازشوں کے لیئے استعمال نہیں ہونے دینگے۔اندرونی و بیرونی سازشوں کو جماعت اسلامی ہی ناکام بنائے گی۔ ظلم کے خلاف ہمیشہ آواز اٹھائی اور اٹھاتے رہینگے۔ بنوں کے مظلوم خاندانوں کے ساتھ غم میں برابر کے شریک ہیں۔ وزیراعظم شہید ہونے والی خواتین کے خاندانوں کے لیئے شہید پیکج کا اعلان کرے۔ خطے میں امن کے لیئے ضروری ہے کہ ویہاں کے عوام کو سنا جائے۔

  • چیف ٹریفک آفیسر کی ٹریفک قوانین پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت

    چیف ٹریفک آفیسر کی ٹریفک قوانین پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت

    چیف ٹریفک آفیسر عباس مجید خان مروتشہر میں ہیلمٹ‘ سیٹ بیلٹ‘ نو پارکنگ زونز اور تجاوزات مافیا کیخلاف جاری مہمات میں مزید تیزی لائی جائے.
    پشاور: چیف ٹریفک آفیسر عباس مجید خان مروت نے تجاوزات مافیا‘ بغیر ہیلمٹ کے ڈرائیونگ کرنیوالے موٹر سائیکل سواروں اور سیٹ بیلٹ باندھے بغیر ڈرائیونگ کرنیوالوں کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کرنے کی ہدایت کردی۔ اس سلسلے میں ٹریفک نظام سے متعلقہ جائزہ اجلاس زیر صدارت چیف ٹریفک آفیسر عباس مجید خان مروت منعقد ہوا جس میں ایس پی ہیڈ کوارٹرز افتخار علی‘ ایس پی کینٹ ٹریفک امان اللہ‘ ایس پی سٹی ٹریفک عبد السلام خالد‘ ڈی ایس پیز سمیت ٹریفک آفیسرز اور ٹریفک وارڈنز نے شرکت کی۔ چیف ٹریفک آفیسر عباس مجید خان مروت نے گزشتہ ہفتے سٹی ٹریفک پولیس پشاور کی جانب سے کی جانیوالی کارروائیوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اجلاس کے دوران چیف ٹریفک آفیسر عباس مجید خان مروت کو پلازوں میں پارکنگ نہ بنانے والوں کو نوٹسز‘ تجاوزات مافیا کے خلاف کارروائیوں‘ کالے شیشوں کے استعمال‘ اوور لوڈنگ‘ نو پارکنگ زونز کی خلاف ورزیوں‘ ہیلمٹ‘ سیٹ بیلٹ‘ ون ویلنگ‘ غیر رجسٹرڈ موٹر سائیکلوں اور دیگر مہمات کے بارے میں بریفنگ دی جس پر چیف ٹریفک آفیسر عباس مجید خان مروت نے اطمینان کا اظہار کیا اور ہدایت کی کہ پلازہ مالکان کو جاری کئے جانیوالے نوٹسز کا دورانیہ ختم ہونے کی صورت میں فوری طور پر کارروائی عمل میں لائی جائے اور شہر میں جاری دیگر مہمات میں مزید تیزی لائی جائے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ سٹی ٹریفک پولیس پشاور کی جانب سے تجاوزات مافیا کے خلاف کی جانیوالی کارروائیوں سے قصہ خوانی‘ جلیل کبابی روڈ اور دیگر بازاروں سے تجاوزات کا خاتمہ کردیا گیا ہے جبکہ چیک اینڈ بیلنس کے لئے اہلکاروں کو تعینات کردیا گیا ہے جس پر چیف ٹریفک آفیسر نے ٹریفک حکام اور اہلکاروں کی کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ تجاوزات کے خلاف آپریشنز کا سلسلہ جاری رکھا جائے اور کسی کے ساتھ کوئی نرمی نہ برتی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہر میں بلا تعطل ٹریفک نظام رواں دواں رکھنے کے لئے تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائی جائیں اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائیگی جبکہ مرتکب افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائیگی۔

  • ہر آدمی کو منشیات جیسی لعنت کے خلاف اٹھنا ہو گا, وفاقی وزیر

    ہر آدمی کو منشیات جیسی لعنت کے خلاف اٹھنا ہو گا, وفاقی وزیر

    اسلام آباد- وفاقی وزیر انسداد منشیات اعجاز احمد شاہ کی ڈی چوک سے پارلیمنٹ ہاوس تک انسداد منشیات واک میں شرکت- اس موقع پر ڈی جی اے این ایف میجر جنرل عارف ملک بھی موجود تھے.
    اسلام آباد انسدادِ منشیات واک کے دوران وفاقی وزیر اعجاز شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انسداد منشیات پوری قوم کا مسلہ ہے اس پر ہمیں مل کر سوچنا ہو گا- ان کا کہنا تھا کہ اس واک سے آگہی حاصل ہو گی کہ منشیات ایک خطرناک چیز ہے جس سے بچاؤ ممکن اور ضروری ہے- وفاقی وزیر انسداد منشیات اعجاز احمد شاہ نے کہا کہ ہر آدمی کو منشیات جیسی لعنت کے خلاف اٹھنا ہو گا- وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ملک میں منشیات کی وباء پھیل رہی ہے اور نشہ ایک بہت بڑی لعنت ہے جس سے ہماری آنے والی نسلیں تباہ ہو سکتی ہیں- ان کا کہنا تھا کہ اس مارچ کا مقصد نشے کے خلاف آگاہی پھیلا نا ہے- وفاقی وزیر اعجاز کا کہنا تھا کہ
    اسکول اور یونیورسٹیوں میں یہ وباء تیزی سے پھیل رہی ہے اوراپنی نوجوان نسل کو اس لعنت سے بچانا ہمارا فرض ہے-
    اس واک کا مقصد اس بات کا احساس دلانا تھا کہ نشے کی عادت انسان کی زندگی خطرے میں ڈال دیتی ہے اور اس سے چھٹکارا پانے کے لئے ہم سب کو مل کر نشے سے انکار کرنا ہوگا- یہ پیغام دینے کے لئے اس موقع پر واک کے شرکاء نے نشے سے انکار- زندگی سے پیار کے بینر اٹھا رکھے تھے-
    وزارت انسداد منشیات اور اے این ایف تین سطح کی پالیسی کے تحت منشیات کے خاتمے کے لئے کام کر رہی ہے، جس میں ڈیمانڈ میں کمی لانا، سپلائی کو کم/ختم کرنا اور عالمی سطح پر باہمی تعاون کے ذریعے منشیات کے خلاف کام کرنا شامل ہیں-
    اس واک میں وفاقی وزیر انسداد منشیات اعجاز احمد شاہ، میجر جنرل عارف کے ساتھ ساتھ وزارت انسداد منشیات اور اے این ایف کے افسران نے بھی شرکت کی- واک کے دیگر شرکاء میں عام عوام، مختلف سکول، کالجز، یونیورسٹیز کے طلباء، پاکستان بوائز سکاوٹز، گزلز گائیڈز، سول سوسائٹی، یو این او ڈی سی اور این جی اوز کے نمائندے شامل تھے- واک کا آغاز ڈی چوک اور اختتام پارلیمنٹ ہاوس پر ہوا- واک کے شرکاء میں انسداد منشیات سے متعلق کتابچے تقسیم کئے گئے-