Baaghi TV

Tag: باغی ٹی وی

  • نوجوان مصوروں کے لیے سنہری موقع، الحمرا میں ینگ آرٹسٹ ایگزی بیشن کا انعقاد

    نوجوان مصوروں کے لیے سنہری موقع، الحمرا میں ینگ آرٹسٹ ایگزی بیشن کا انعقاد

    الحمر امیں 17ویں سالانہ ینگ آرٹسٹ ایگزی بیشن کا انعقاد اپریل2021 کے پہلے ہفتے ہو گا۔

    ایگزیکٹو ڈائریکٹر الحمرا کا کہنا تھا کہ یہ نمائش گزشتہ17سال سے آرٹ اور آرٹسٹ کی ترویج و ترقی میں نمایاں خدمات سر انجام دے رہی ہے ۔ ڈاکٹر اسلم ڈوگر نے کہا کہ ہمارا مصور فرداور معاشرہ کی حقیقی تصویر پینٹ کر رہا ہے جو سماجی حسن میں اضافہ کا باعث ہے۔
    سربراہ الحمراء کے بقول پاکستان بھر سے 20تا32برس کے نوجوان آرٹسٹ یکم مارچ 2021تک اپنا کام الحمرا آرٹ گیلر ی میں جمع کروا سکتے ہیں۔ نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے آرٹسٹوں کو نقد انعامات،تعریفی اسناد اور سرٹیفکیٹ دیئے جائیں گے۔ ترجمان الحمراء کا کہنا تھا کہ نمائش میں حصہ لینے والے آرٹسٹوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کے لئے انکے کام کو کیٹالاگ کی شکل میں شائع کیا جائے گا۔نوجوان کسی بھی میڈیم میں اپنا کام الحمرا بھیج سکتے ہیں،نمائش میں حصہ لینے والے آرٹسٹوں کے زیادہ سے زیادہ دو فن پارے رکھے جائیں گے۔

    لاہور آرٹس کونسل الحمرا کے زیر اہتمام 17ویں سالانہ ینگ آرٹسٹ ایگزی بیشن کا انعقاد اپریل2021 کے پہلے ہفتے ہو گا۔پاکستان بھر سے 20تا32برس کے نوجوان آرٹسٹ01مارچ 2021تک اپنا کام الحمرا آرٹ گیلر ی میں جمع کروا سکتے ہیں۔نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے آرٹسٹوں کو نقد انعامات،تعریفی اسناد اور سرٹیفکیٹ دیئے جائیں گے۔نمائش میں حصہ لینے والے آرٹسٹوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کے لئے انکے کام کو کیٹالاگ کی شکل میں شائع کیا جائے گا۔نوجوان کسی بھی میڈیم میں اپنا کام الحمرا بھیج سکتے ہیں،نمائش میں حصہ لینے والے آرٹسٹوں کے زیادہ سے زیادہ دو فن پارے رکھے جائیں گے۔ایگزیکٹو ڈائریکٹر الحمرڈاکٹر اسلم ڈوگر نے اس حوالے سے کہا کہ یہ نمائش گزشتہ 17سال سے آرٹ اور آرٹسٹ کی ترویج و ترقی میں نمایاں خدمات سر انجام دے رہی ہے،ہمارا مصور فرداور معاشرہ کی حقیقی تصویر پینٹ کر رہا ہے جو سماجی حسن میں اضافہ کا باعث ہے۔انھوں نے کہا کہ نمائش سے نوجوان آرٹسٹوں کی بھر پور حوصلہ افزائی ہوگی، الحمرا ینگ آرٹسٹو ں کے لئے نئے نئے مواقع پیدا کر رہا ہے جو ان کے روشن مستقبل کا ضامن ہونگے،ہمارے آرٹسٹ بے پناہ تخلیقی صلاحیتوں سے مالا مال ہیں جنہیں وہ سماجی خوبصورتی کے لئے درست سمت میں استعمال کر رہے ہیں۔اس نمائش میں سینکڑوں فن پارے آویزاں کئے جائیں گے جو دیکھنے والوں کے لئے بے حد معلوماتی ثابت ہونگے،نمائش میں پاکستان بھر کے نوجوان آرٹسٹوں کو آپس میں ایک دوسرے سے ملنے کے مواقع میسر آتے ہیں،جن کے مثبت نتائج برآمد ہوتے ہیں۔نوجوان سال بھر اس نمائش کا انتظار کرتے ہیں کیونکہ ان کے فن پاروں کونمائش میں شامل کرنا ان کے لئے ایک اعزاز سے کم نہیں ہوتا۔

  • لاہور چڑیا گھر میں سفید ٹائیگر کے بچوں کی موت کس وجہ سے ہوئی؟

    لاہور چڑیا گھر میں سفید ٹائیگر کے بچوں کی موت کس وجہ سے ہوئی؟

    لاہور کے چڑیا گھر میں سفید ٹائیگر کے بچے کرونا وائرس سے ہلاک ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔ سفید ٹائیگرز کے بچوں کی ہلاکت کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی ہے۔

    یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینمل سائنسز کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق سفید ٹائیگرز کے بچوں کی ہلاکت کوڈ کی وجہ سے ہوئی۔ ہلاک ہونے والے سفید ٹائیگر کے بچوں کے معدے، گلے اور ناک سے مواد کے ٹیسٹ کیے گے تھے، جب کہ چڑیا گھر میں دیگر جانوروں کے بھی ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق سفید شیرنی کے بچوں کی آنتوں میں سوزش تھی۔ ان کے پھیپھڑوں میں انفیکشن سے ایک پھیپڑا سکڑ چکا تھا –

  • جنوبی پنجاب لوک ورثہ میلہ،  لاک ڈاؤن کے بعد عوام کو مثبت تفریحی موقعے کا تحفہ

    جنوبی پنجاب لوک ورثہ میلہ، لاک ڈاؤن کے بعد عوام کو مثبت تفریحی موقعے کا تحفہ

    ملتان کی اولیاء کرام کی دھرتی کے باسیوں کیلئے طویل لاک ڈاؤن کے بعد اچھی خبرآئی ہے- ڈویژنل انتظامیہ کا خطے کی صدیوں پرانی تہذیب عالمی سطح پر اجاگر کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے- ۔کمشنر جاوید اختر محمود نے جنوبی پنجاب لوک ورثہ میلہ سجانے کا حکم جاری کردیا ہے-

    کمشنر جاوید اختر محمود کی ہدایت پر قلعہ کہنہ قاسم باغ پر میلہ سجانے کی تیاریاں شروع کردی گئےں- لوک ورثہ میلہ کے انتظامات بارے کمیٹی مخلتف محکموں پر مشتمل خصوصی کمیٹی بھی تشکیل کردی گئی – کمشنر ملتان نے کہا کہ جنوبی پنجاب لوک ورثہ میلہ میں اس خطے کا کلچر اجاگر کیا جائے گا۔ سرکاری و نجی اداروں سمیت سول سوسائٹی کو مخلتف کلچرل سٹالز لگانے کیلئے مدعو کیا جائے گا۔ جاوید اختر محمود کا کہنا تھا کہ عوام کو کرونا لاک ڈاؤن کے بعد مثبت تفریحی مواقع دینے کیلئے کوشاں ہیں۔ لوک ورثہ میلہ کے ذریعے اس خطے کا ٹیلنٹ اور ہنر سامنے لانا مشن ہے۔ شہریوں اور فنکاروں میں لوک ورثہ میلہ کے حوالے سے دیدنی جوش و خروش- ڈپٹی کمشنر ملتان کنوینئر، ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ شریک کنوینئر مقرر کردیے گئے-

    ملتان میں ریجنل ڈائیریکٹر سمال انڈسٹریز سیکرٹری، سی پی او ملتان ممبر کمیٹی مقرر کردیے گئے ہیں- ڈی جی پی ایچ اے، ایم ڈی سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی ممبران کمیٹی ہونگے- چیف کارپوریشن افسر، ڈپٹی ڈائریکٹر انفارمیشن، ڈائیریکٹر آرٹس کونسل کمیٹی میں شامل ہوں گے- سی ٹی او، سی او ہیلتھ، سول ڈیفنس افسر، ضلعی افسر ریسکو 1122 کمیٹی کا حصہ رہیں گے-

  • پنجاب کےہر پسماندہ علاقے کاوکیل ہوں، ‏وزیراعلیٰ پنجاب

    پنجاب کےہر پسماندہ علاقے کاوکیل ہوں، ‏وزیراعلیٰ پنجاب

    ‏وزیراعلیٰ پنجاب سے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کی ملاقاتیں ہوئیں جس میں حلقوں کے مسائل کے حل اور سینیٹ الیکشن پر مشاورت ہوئی، وزیراعلیٰ نے منتخب نمائندوں کو مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے-

    پسماندہ علاقوں کو حقیقی ترقی کی راہ پر گامزن کر دیا‏ماڑی، سخی سرور اور دیگر علاقوں میں کبھی کوئی وزیراعلیٰ نہیں گیا، پنجاب کے ہر دورافتادہ علاقے میں جاکرمسائل سے آگاہی حاصل کرتا ہوں، ڈی جی خان ہی نہیں، پنجاب کےہر پسماندہ علاقے کاوکیل ہوں، تعلیم، صحت اور دیگر مسائل حل کرنا ترجیحات میں شامل ہے‏پی ڈی ایم جلدگمنامی کی تاریکیوں میں کھوجائےگی، اپوزیشن رہنماؤں کا اتحاد بدگمانیوں پر قائم ہے، پی ڈی ایم کا اتحاد تشکیل سےپہلے ہی اختلافات کا شکارہوگیا تھا، پی ڈی ایم میں اعتماد کا فقدان ہے، پی ڈی ایم لانگ مارچ سے بھی راہ فرار اختیارکررہی ہے، عثمان بزدار

  • حکومت اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام، سرکاری ملازمین کے بعد صحافتی تحریک کا اعلان

    حکومت اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام، سرکاری ملازمین کے بعد صحافتی تحریک کا اعلان

    فیصل آباد یونین آف جرنلسٹس کی اسلام آباد میں سرکاری ملازمین پر ریاستی طاقت کے استعمال کی مذمت
    ایف یو جے کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت ایک فاشسٹ حکومت ہے جو ڈنڈے کے زور پر تمام مسائل حل کرنا چاہتی ہے- صحافی بھی جلد اسلام آباد کا رخ کرنے والے ہیں حکومت پہلے ہی مطالبات تسلیم کرلے-

    فیصل آباد یونین آف جرنلسٹس نے اسلام آباد میں اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے احتجاج کرنے والے سرکاری ملازمین پر ریاستی طاقت کے استعمال کی سخت الفاظ میں شدید مذمت کی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر گرفتار ملازمین کو رہا کرے اور ان کے تمام مطالبات تسلیم کیے جائیں۔ فیصل آباد یونین آف جرنلسٹس کے صدر ندیم جاوید، جنرل سیکریٹری آصف غفار، دیگر عہدیداران عاطف چوہدری، معظم رندھاوا ، منظور عالم، راؤ نعیم ، ثناء رؤف ، پی ایف یو جے کے اسسٹنٹ سیکرٹری حامد یاسین، ممبران ایف ای سی نور الامین، جاوید صدیقی سمیت مجلس عاملہ کے تمام اراکین کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد میں سرکاری ملازمین پر جس انداز سے ریاستی طاقت کا استعمال کیا گیا ہے وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ حکومت ایک فاشسٹ حکومت ہے جو تمام مسائل ڈنڈے کے زور پر حل کرنا چاہتی ہے-

    موجودہ حکومت کے قیام سے اب تک اس ملک کے مزدور طبقے کو صرف جبری برطرفیاں، تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور کٹوتی جیسے تحفے ملے ہیں جس میں میڈیا ورکرز بھی شامل ہیں۔ موجودہ حکومت اپنا ایک بھی وعدہ پورا کرنے میں ناکام ہے اور جب اسے وعدے یاد دلانے کی کوشش کی جارہی ہے تو وہ طاقت کا اندھا استعمال کررہی ہے۔ فیصل آباد یونین آف جرنلسٹس نے سرکاری ملازمین کے احتجاج کی مکمل حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں مزدوروں کی کوئی بھی تحریک ہو ایف یو جے نے ہمیشہ اس کی حمایت کی ہے اور آئندہ بھی کرتی رہے گی۔ انہوں نے حکومت کو یاد دلایا ہے کہ ملک کی صحافی برادری بھی جلد اسلام آباد کا رخ کرنے والی ہے مارچ کے آخری ہفتے میں کوئٹہ سے ملک گیر صحافی تحریک کا آغاز ہوگا اور ملک بھر کے صحافی اپریل کے ہہلے ہفتے میں اسلام آباد پہنچ کر اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے پارلیمنٹ ہاوس کے باہر دھرنا دیں گے حکومت اگر اس وقت کسی ہزیمت سے بچنا چاہتی ہے اس سے پہلے ہی پی ایف یو جے کے مطالبات منظور کرلے۔

  • ملک میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں،امیر طبقے کے لیے جنت، عام عوام  تباہ ، عثمان خان کاکڑ

    ملک میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں،امیر طبقے کے لیے جنت، عام عوام تباہ ، عثمان خان کاکڑ

    ایوان بالاء کی فنکشنل کمیٹی برائے کم ترقی یافتہ علاقہ جات کے مسائل کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر عثمان خان کاکڑ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔فنکشنل کمیٹی کے اجلاس میں 3مارچ 2020کو منعقد ہونے والے کمیٹی اجلاس میں دی گئی سفارشات پر عملدرآمد، چمن کسٹم گیٹ وے، بادینی کسٹم گیٹ وے اور طور خم کسٹم گیٹ وے پر گزشتہ 6ماہ کے دوران تمام ایمپورٹ ایکسپورٹ کی تفصیلات، چمن کسٹم گیٹ وے پر بے شمار کاروباری حضرات کو ایمپورٹ ایکسپورٹ کی اجازت نہ دینا، صوبہ بلوچستان سے خشک میوہ جات اور تربوز کی دیگر صوبوں میں ایکسپورٹ کی اجازت نہ دینے کی وجوہات، بزنس کمیونٹی کی ایمپورٹ ایکسپورٹ کی اشیاء اور خاص طور پر کوئٹہ اور کراچی کے شہروں میں کسٹم اتھارٹی کے سرپرائز وزٹ کے علاوہ یکم نومبر 202کو کراچی کی ٹائر شاپ مارکیٹ کے واقعہ کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

    چیئرمین کمیٹی سینیٹر عثمان خان کاکڑنے کہا کہ صوبہ بلوچستان ملک کا آدھا حصہ ہے پانی نہ ہونے کی وجہ سے 80فیصد زراعت ختم ہو چکی ہے۔ صوبے میں کان کنی کی بہتری کیلئے 63سال سے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔بد قسمتی کی بات ہے کہ ملک کا پسماندہ ترین صوبہ ہونے کے باوجود بھی اس صوبے کی اجناس خاص طور پر خشک میوجات،تربو ز، سبزیاں، فروٹ و دیگر فصلوں کو ملک کے باقی صوبے میں لے جانے کی اجازت نہیں ہے جگہ جگہ تنگ کیا جاتا ہے اور ٹرکوں سے سامان تک نکال لیا جاتا ہے۔ ہمارے صوبے سے چلغوزے کا پیکٹ 1800روپے میں خرید کر 8سے 10ہزار میں فروخت کیا جاتا ہے۔ کسانوں، زمینداروں کا کوئی پرسان حال نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ یہی حال صوبہ خیبر پختونخواہ اور فاٹا و پاٹا کی عوام کے ساتھ بھی ہے لوگوں کو بار بار تنگ کیا جاتا ہے۔ کسٹم حکام دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ ملکر مسائل حل کریں۔ جے ایس وزارت کامرس نے کہا کہ کسی بھی قانون کے تحت تاجروں کو روکنے کی اجازت نہیں ہے۔تاجروں کے مسائل کے حل کے لیے اقدامات اٹھائیں گے۔

    کمیٹی اجلاس میں 3مارچ 2020کو منعقدہ کمیٹی اجلاس میں دی گئی سفارشات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 25ویں ترمیم کے بعد سابق فاٹا و پاٹا کے اضلاع سمیت ژوب ڈویژن میں جون 2023تک انکم ٹیکس سے استثنیٰ دی گئی ہے اور سیل ٹیکس کے حوالے سے ان علاقوں کو جون 2023تک استثنیٰ حاصل ہے۔ جس پر چیئرمین و اراکین کمیٹی نے کہا کہ ان علاقوں کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے فنکشنل کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ ان علاقوں کو 2023کے بعد بھی مزید پانچ سال کے لئے استثنیٰ دی جائے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ صوبہ بلوچستان سے کرومائٹ را کی شکل میں ایکسپورٹ کیا جاتا ہے اگر اُس کی فینشنگ کی جائے تو ملک و قوم کو اربوں کا فائدہ ہو گا۔ پروسیسنگ پلانٹ کیلئے صوبائی حکومت سے بات کی ہے مگر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ 5.5ملین ڈالر کی ویلو ایڈیشن ہو سکتی ہے صرف ایک پلانٹ لگانے سے۔

    کمیٹی اجلاس میں چمن کسٹم گیٹ وے کو 24گھنٹے کھولنے کے حوالے سے معاملے کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ سٹاف کی کمی ہے 750آسامیوں کی سمری ایف پی ایس سی کے پاس پڑی ہے جبکہ تک بھرتی مکمل نہیں ہوتی بہتری ممکن نہیں ہے۔ فنکشنل کمیٹی نے ایف پی ایس سی کو کسٹم کی 750آسامیوں کی جلد سے جلد بھرتی مکمل کرنے کی ہدایت کر دی۔ سینیٹر فدا محمد نے کہا کہ مالاکنڈ ڈویژن کو بھی 2023تک ٹیکس سے استثنیٰ دی گئی تھی مگر مالاکنڈ ڈویژن سے ایف ای ڈی وصول کی جا رہی ہے۔ قائمہ کمیٹی نے فاٹا و پاٹا اور بلوچستان میں تمام ٹیکسز سے استثنیٰ کی سفارش کر دی۔

    چمن کسٹم گیٹ وے، بادینی کسٹم گیٹ وے اور طور خم کسٹم گیٹ وے پر گزشتہ 6ماہ کے دوران تمام ایمپورٹ ایکسپورٹ کی تفصیلات کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے کہا کہ چمن گیٹ وے اور طور خم گیٹ وے پر سیاسی رشوت بہت بڑھ چکی ہے۔ گیٹ وے رات کو بند ہونے کے باوجود مخصوص لوگوں کی گاڑیاں آئس کا نشہ، منشیات، اسلحہ و دیگر چیز یں لے کر گزاری جاتی ہیں اور لاکھوں کی رشوت وصول کی جاتی ہے۔  انہوں نے کہا کہ وہ تاجر جو حکومت کو ٹیکس دیتے ہیں انہیں بارڈر سے کراچی اور اسلام آباد پہنچنے کیلئے ہفتوں لگ جاتے ہیں۔ جگہ جگہ روک کر تنگ کیا جاتا ہے مگر جو من پسند لوگ ہیں جو ملک کو اربوں کا نقصان دے رہے ہیں انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں پرچی سسٹم فروغ پا چکا ہے۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ صادق اچکزئی اور بنی بخش نامی افراد آئس، سیگریٹ، چھالیا اور دیگر منشیات پورے ملک میں سپلائی کر رہے ہیں اُنہیں کوئی پوچھتا تک نہیں ہے۔ کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ  تمام ایکسپورٹرایمپورٹر ٹیکس ادا کرتے ہیں اُن کو تنگ نہ کیا جائے اور سمگلرز کے ساتھ سخت کارروائی کی جائے جو ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ طور خم بارڈر پر سیکنرز لگائے گئے ہیں جس سے پھل اور سبزیاں نقصان دے ہو جاتی ہیں اس کو چیک کرنا چاہئے۔ ایکسپورٹ کی بجائے ٹراذٹ کو ترجیح دیجاتی ہے اور سیکنر والے 8گھنٹے کام کرتے ہیں پھر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں۔ طور خم سے پشاور آتے ہوئے مختلف اداروں کی جانب سے چیک پوسٹیں قائم کر کے بھی لوگوں کو بلاوجہ تنگ کیا جاتا ہے۔ ایک ہی جگہ تمام ادروں کے نمائندے چیکنگ کر سکتے ہیں۔ جے ایس وزارت مواصلات نے کہا کہ بار بار چیکنگ کا کام سے وزارت کا تعلق نہیں ہے متعلقہ اداروں کے ساتھ معاملہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کراچی میں پہلے ایک کنٹینر کا 60ڈالر کرایہ لیا جاتا تھا جس کو بڑھا کر چار سو سے زائد کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے ایکسپورٹ ختم ہوتی جا رہی ہے اور خاص طور پر کرومائٹ کا بزنس تباہ ہو رہا ہے۔ متعلقہ ادارے اس مسئلے کو جلد سے جلد حل کریں۔

    چیئرمین کمیٹی سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے کہا کہ ہمارے علاقے کے لوگ سخت محنت کر کے اپنی حالت بہتر کرتے ہیں کراچی میں کپڑا ٹائر و دیگر کاروبار کرتے ہیں۔سابق وزیراعظم شوکت عزیز کے دور میں بھی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق ہمارے لوگ اسلحہ منشیات وغیرہ کے کام نہیں کرتے بلکہ محنت سے روزگار کماتے ہیں۔ بدقسمتی کی بات ہے کہ کسٹم حکام کے اہلکار افتخار حسن عرف بِلاملک و قوم کیلئے بدنامی کا باعث ہیں۔کاروباری حضرات کو تنگ کرنا اس کا وطیرا ہے۔ افتحار حسن نے منظور جو عرصہ سے کراچی میں ٹائروں کا کاروبار کرتا ہے اس پر فائرنگ کی اوراس کا سامان بھی غیرقانونی طور پر قبضے میں کر لیا۔ منظور تاجر کو افتخار حسن نے دفتر بولا کر کسی اور کا سامان منظور پر ڈال کر پرچہ درج کرا دیا۔ انھوں نے کہا ملک میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں رہی اشرافیہ،سول بیروکریسی،چوہدریوں،نوابوں اور بڑے سرمایہ کاروں  کے لئے یہ ملک جنت بن چکا ہے مگر عام عوام کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ افتحار حسن جیسے لوگوں کے سامنے ہمارے ادارے تک بے بس ہو چکے ہیں۔ افتخار حسن کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے انٹرنل کمیٹی قائم کر کے کمیٹی کو رپورٹ فراہم کی جائے۔ فنکشنل کمیٹی کو منظور کے بھائی نے کراچی کے واقعہ پر تفصیلی آگاہ کیا کمیٹی نے کسٹم حکام کو ملوث لوگوں کے خلاف ایکشن لینے کی سفارش کر دی۔ کسٹم حکام نے کمیٹی کو یقین دہانی کروائی کہ فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کر کے کمیٹی کو رپورٹ فراہم کر دی جائے گی۔ سینیٹر فدا محمد نے کہا کہ پچھلے دنوں ایئرپورٹ پر 53 کلو سونا پکڑا گیادوسرے دن خبر موصول ہوئی کے تمام سونا جہاں حکام نے رکھوایا تھا چوری ہو گیا ہے اس کا آج تک کچھ معلوم نہیں ہو سکا اس میں با اثر لوگ ملوث ہیں جنہوں نے سونا چوری کیا ہے۔کراچی اور بلوچستان کے کاروباری حضرات کے نمائندوں نے کمیٹی کو بتایا کہ کسٹم ڈیوٹی دینے کو تیار ہیں کسٹم کے گوداموں میں اربوں روپے کا سامان پڑا ہے جو مختصر وقت میں خراب ہو جاتا ہے کسٹم حکام نے کہا کہ تمام مسائل کو تحریری طور پر لکھ کر دے دیں جلد مسائل حل کر لیئے جائیں گے۔

    فنکشنل کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرز فدا محمد، سردار محمد شفیق ترین، محمد خالد بزنجواور نصرت شاہین کے علاوہ  جوائنٹ سیکرٹری وزارت کامرس، چیف کسٹم ایف بی آر، ممبر کسٹم ایف بی آر، جوائنٹ سیکرٹری وزارت خزانہ، صوبہ بلوچستان اور کراچی کے کاروباری حضرات کے نمائندوں نے شرکت کی۔

  • فاٹااور بلوچستان کے طالبعلموں کے  میڈیکل وظائف کا معاملہ، چیئر مین پی ایم سی  کے خلاف نوٹس جاری

    فاٹااور بلوچستان کے طالبعلموں کے میڈیکل وظائف کا معاملہ، چیئر مین پی ایم سی کے خلاف نوٹس جاری

    ایوان بالا کی فنکشنل کمیٹی برائے کم ترقی یافتہ علاقہ جات کے مسائل کا اجلاس چیئر مین کمیٹی سینیٹر عثما ن خان کاکڑ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاوس میں منعقد ہوا۔ فاٹااور بلوچستان کے طالبعلموں کو کئی برسوں سے 265 میڈیکل وظائف دیئے جا رہے تھے جس پرا یچ ای سی نے آما دگی کا اظہار کیا تھا ان کی طرف سے کوئی رکاوٹ نہیں تھی اورا یچ ای سی وظائف دینے کے لیئے تیارہے۔

    مگر پی ایم سی کی جانب سے سکالرشپز دینے میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں اور آج کمیٹی کے اجلاس میں چیئر مین پی ایم سی ،نائب چیئر مین پی ایم سی اور سیکرٹری ہیلتھ کی عدم حاضری پر چیئر مین کمیٹی سینیٹر محمد عثمان خان کاکڑاور اراکین کمیٹی نے سخت برہمی کا اظہارکرتے ہوئے احتجاجاََکمیٹی کا اجلاس ملتوی کر دیا اور ان تینوں کے خلاف نوٹسسزجاری کرنے کا حکم دیااورفیصلہ کیا کہ ان کے خلاف تحریک استحقاق ایوان میں لے کرجانے کا فیصلہ کیا۔ چیئرمین واراکین ِکمیٹی نے متعلقہ حکام کے رویوں کے بارے میں چیئرمین سینیٹ کے سامنے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا اور تمام صورتحال سے تفصیلی آگاہ کیا ۔

    کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹر ز فد ا محمد ، سردار محمد شفیق ترین اور نصرت شاہین کے علاوہ وزارت ہیلتھ ،ایچ ای سی اور پی ایم سی کے حکام نے شرکت کی۔

  • پاکستان ٹیلی وژن  قومی اثاثہ قرار، مالی مسائل حل کرنے کی ہدایت،  سینیٹ  اجلاس

    پاکستان ٹیلی وژن قومی اثاثہ قرار، مالی مسائل حل کرنے کی ہدایت، سینیٹ اجلاس

    اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر فیصل جاوید کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہواجس میں اطلاعات تک رسائی کے ترمیمی بل 2021کے علاوہ پاکستان براڈ کاسٹنگ اسو سی ایشن کے مسائل اور دیگر اہم امور پر تفصیلی بحث کی گئی۔

    ترمیمی بل سینیٹر ز سجاد حسین طوری، ولید اقبال، محمد علی سیف، منظور احمد کاکڑ اور مرز آفریدی نے ایوان میں پیش کیا تھا۔ اراکین نے بل پر تفصیلی نقطۂ نظر پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایوان بالا اور قومی اسمبلی آئینی ادارے ہیں اور کام کی نوعیت دوسرے اداروں سے بالکل مختلف ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے کسی ایوان سے متعلق معلومات تک رسائی کا اختیار دینا سپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کا اختیار ہے۔

    سینیٹرز رخسانہ زبیری اور پرویز رشید نے بل کی مخالفت کی۔ متعلقہ وزارت نے مجوزہ ترمیمی بل پر اپنا نقطۂ نظر سرسری طور پر کمیٹی کے سامنے پیش کیا تاہم کمیٹی نے یہ فیصلہ کیا کہ اس بل پر وزارت اور پاکستان انفارمیشن کمیشن کا تفصیلی موقف انتہائی لازمی ہے۔ کمیٹی نے ہدایات دیں کہ جلد ہی اس سلسلے میں تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔ کمیٹی نے پاکستان براڈ کاسٹنگ ایسوسی ایشن کے مسائل پر بحث کرتے ہوئے وزارت سے الیکڑانک میڈیا کے اشتہارات کی مد میں واجب الادا رقوم کی تفصیلات ریڈیو اور ٹی وی لائسنس کی فیس میں اضافے پر بھی تفصیلی جواب طلب کر لیا۔

    پاکستان ٹیلی وژن کو قومی اثاثہ قرار دیتے ہوئے چیئرمین کمیٹی اور سینیٹرز نے اس بات پر زور دیا کہ موثر حکمت عملی کے تحت اس اہم اثاثے کو مالی سطح پر درپیش مسائل سے باہر نکالا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک انقلابی حکمت عملی کے تحت ہی ادارے کو اس صورتحال سے باہر نکالا جاسکتاہے۔

  • چیئرمین سینیٹ اور نیپالی سفیرکی ملاقات، تجارت، تعلیم اور دیگر شعبوں میں معاونت کی گنجائش موجود

    چیئرمین سینیٹ اور نیپالی سفیرکی ملاقات، تجارت، تعلیم اور دیگر شعبوں میں معاونت کی گنجائش موجود

    اسلام آباد میں چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی سے نیپال کے سفیر تاپس آدھیکاری کی پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات ہوئی۔ ملاقات کے دوران دوطرفہ اور پارلیمانی تعلقات کے حوالے سے اہم امور پر گفتگو کی گئی۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان سارک ممالک کے ساتھ دوطرفہ تعاون کو علاقائی خوشحالی کیلئے اہم سمجھتا ہے اور پاکستان اور نیپال نے بین الپارلیمانی یونین، ایشائی پارلیمانی اسمبلی اور دیگر اہم فورمز پر مثالی تعاون کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے مابین پارلیمانی سطح پر رابطہ کاری کثیر لجہتی تعاون کیلئے اہم ہے اور دونوں ممالک ان بین الاقوامی فورمز کو خطے کے بہتر مستقبل اور خوشحالی کیلئے استعمال کر سکتے ہیں۔

    چیئرمین سینیٹ نے نیپالی سفیر کو بھارتی افواج کے ہاتھوں مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم اور انسانی حقو ق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا بازار گرم کر رکھا ہے اور بھارت اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی قرارداوں اور عالمی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہا ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان کشمیر سمیت تمام مسائل کا حل پُر امن طریقے سے چاہتا ہے اور کشمیر کے مسئلے کا حل کشمیری عوام کی خواہشا ت اور اقوام متحدہ کی قرارداوں کے مطابق ہی قابل قبول ہو گا۔انہوں نے کہا کہ پارلیمانی رابطہ کاری کیلئے پاکستان نیپال پارلیمانی فرینڈ شپ گروپ کو موثر کردار ادا کرنا ہو گا اور عوامی سطح پر روابط اور پارلیمانی سفارتکاری کے فروغ کیلئے پارلیمانی فرینڈ شپ گروپ موثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔چیئرمین سینیٹ نے پاکستان اور نیپال کے پارلیمانی وفود میں تیزی لانے پر بھی زور دیا۔

    چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے کہا کہ نیپال کی پارلیمان پاکستان کے ادارہ برائے پارلیمانی خدمات سے تربیتی ورک شاپس اور نیپال کے پارلیمان کے اراکین اور سٹاف کی استعداد کار بڑھانے کیلئے استفادہ کر سکتے ہیں اور ادارہ جاتی روابط کے تحت ایک دوسرے کے تجربات سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ تجارت، تعلیم اور دیگر شعبوں میں بھی معاونت و رابطہ کاری کیلئے وسیع گنجائش موجود ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے سفیر کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور کہا کہ میں امید کرتا ہوں کہ سال 2021پاکستان اور نیپال کے دوطرفہ تعلقات، پارلیمانی روابط کے استحکام اور معاونت کیلئے ایک بہترین سال ثابت ہو گا۔

  • مولانا کسی طرح بھی عمران خان کے ہم پلہ نہیں، سیاسی اکھاڑے میں چیلنج نہ کریں، فردوس عاشق اعوان

    مولانا کسی طرح بھی عمران خان کے ہم پلہ نہیں، سیاسی اکھاڑے میں چیلنج نہ کریں، فردوس عاشق اعوان

    فردوس عاشق اعوان نے اپنی میڈیا ٹاک میں بتایا کہ عمران نوٹوں اور لوٹوں کی خریدوفروخت کا باب ہمیشہ کے لئے بند کرنا چاہتے ہیں- وزیراعظم نے NRO کی لانڈری کو تالے لگا دیئے ہیں، اب کرپٹ سیاستدان اپنی سیاسی گندگی دھو کر پوتر نہیں بن سکتے- کرپٹ ٹولے نے سرکاری ملازمین کو اپنے ایجنڈے کے لئے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے-

    لاہورمیں معاون خصوصی وزیراعلیٰ پنجاب برائے اطلاعات ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ کرپٹ ٹولے کو عوام نے مسترد کیا تو اپوزیشن نے سرکاری ملازمین کو اپنے ایجنڈے کیلئے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔اپوزیشن  سرکاری ملازمین کے احتجاج کی حمایت کر کے بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانے کا کردار ادا کر رہی ہے۔مولانا فضل الرحمن 40 سال کی سیاسی استادی کے دعوے کے باوجود دو سیاسی نابالغوں کے کندھوں پر بیٹھ کر پارلیمنٹ پہنچنا چاہتے ہیں۔یہ وہی مولانا  ہیں جنہوں نے 40 سال تک نوٹ زدہ سیاست کا فلسفہ متعارف کروایا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج ڈی جی پی آر میں صوبائی وزیر زراعت کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ عمران خان بریف کیس کی سیاست کو ہمیشہ کے لئے دفن کرنا چاہتے ہیں۔دوسری طرف بریف کیس سیاست کے موجد لندن بیٹھ کر ہارس ٹریدنگ کا جال بن رہے ہیں۔ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگانے والے اوپن بیلٹنگ کی مخالفت کرکے نوٹ کو عزت دے رہے ہیں۔ڈاکٹرفردوس عاشق نے کہا کہ عمران خان ان سیاسی بونوں میں واحد دبنگ لیڈر ہے۔

    مولانا کسی طرح بھی عمران خان کے ہم پلہ نہیں ہو سکتے اس لئے عمران خان کو سیاسی اکھاڑے میں چیلنج نہ کریں۔ معاون خصوصی نے کہا کہ خان نے ایک ہی جھٹکے میں پی ڈی ایم کو زمین بوس کر دیا ہے اور اب ان کی چیخیں بند نہیں ہو رہیں۔ اکھڑی ہوئی سانسوں والی پی ڈی ایم  اپنی مردہ سیاست میں جان ڈالنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور زرداری نوٹ زدہ سیاست کے بانی ہیں۔اوپن بیلٹنگ کے مخالفین ووٹ نہیں نوٹ کو عزت دینے  کے حامی ہیں۔ نوٹو ں کے ذریعے پارلیمنٹ  پہنچنے والے کرپشن کے گل کھلانے کے سوا کیا کر سکتے ہیں؟عمران خان سیاسی لوٹوں اور ووٹوں کی خرید و فروخت کا باب ہمیشہ کیلئے بند کرنا چاہتے ہیں۔عمران خان نے NROکی لانڈری کو تالے لگا دیئے ہیں۔اب کرپٹ سیاستدان اپنی سیاسی گندگی دھو کر پوتر نہیں بن سکتے۔