Baaghi TV

Tag: باغی ٹی وی

  • نیب لاہور کی بڑی کامیابی، عوام سے دھوکہ دہی کرنے والے ملزم کی پلی بارگین منظور

    نیب لاہور کی بڑی کامیابی، عوام سے دھوکہ دہی کرنے والے ملزم کی پلی بارگین منظور

    نیب لاہور کی ایک اور اہم جیت سامنے آگئی-

    نیب لاہور کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق عوام کو زندگی بھر کی جمع پونجی سے محروم کرنیوالے ملزم جاوید مظفر بٹ کی 1 ارب 20 کروڑ کی پلی بارگین کی درخواست احتساب عدالت لاہور سے منظور ہوگئی ہے- مزکورہ کیس میں شریک ملزم عثمان ریاض سے نیب لاہور نے 72 کروڑ مالیت کی پہلی پلی بارگین مارچ 2020 میں کی تھی- ملزم کیخلاف عوام سے بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی کی شکایات پر نیب لاہور نے مئی 2019 میں تحقیقات کا آغاز کیا- ستمبر 2019 میں تحقیقاتی ٹیم کی درخواست پر ملزم جاوید مظفر بٹ کو گرفتار کرلیا گیا-

    ملزمان کیخلاف ٹویوٹا گوجرانوالہ موٹرز کے نام پر عوام الناس سے دھوکہ دہی کی مجموعی طور پر 647 مستند شکایات موصول ہوئیں جنہیں ریکارڈ کا حصہ بنالیا گیا- اکتوبر 2019 میں ہی نیب لاہور میں ایک تقریب کے زریعے 14 کروڑ مالیت کی 8 نئی گاڑیاں اور 42 گاڑیوں کے مکمل کاغزات متاثرین کے حوالے کئے گئے- چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی واضع ہدایات ہیں کہ عوام کے لوٹے گئے سرمائے کی ترجیحی بنیادوں پر برآمدگی ممکن بنائی جائے- ڈیڑھ سال کے محدود عرصہ کے دوران مزکورہ کیس میں نیب لاہور نے مجموعی طور پر 1 ارب 92 کروڑ کی بڑی پلی بارگین کیں:- پلی بارگین ایک مکمل سزا ہے جس میں ملزمان سے ناصرف مکمل رقوم کی وصولی کی جاتی ہے بلکہ وہ سزا یافتہ بھی تصور کئے جاتے ہیں- نیب لاہور کا 2020 کے دوران ملزمان کو سزائیں دلوانے کا تناسب کم و بیش 78 فیصد رہا جو نیب لاہور کی شاندار کامیابی کا مظہر ہے-

  • ہزاروں جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس، سائبرقانون سازی کی سخت ضرورت، سینیٹر رحمان ملک

    ہزاروں جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس، سائبرقانون سازی کی سخت ضرورت، سینیٹر رحمان ملک

    سینیٹر رحمان ملک کا سینیٹ قائمہ کمیٹی آئی ٹی میں اظہار خیال سامنے آگیا-

    سینیٹر رحمان ملک نے سینیٹ قائمہ کمیٹی آئی ٹی میں کہا کہ ہزاروں جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس چلائے جا رہے ہیں- جعلی اکاؤنٹس کو مختلف مقاصد کے لئے استعمال کئے جا رہے ہیں- جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے مختلف لوگوں کی کردارکشی سمیت توہین آمیز مواد بھی پھیلائے جارہے ہیں- ہم نے ایک ہارڈ وئیر کا بندوبست کیا تھا تاکہ اسطرح اکاؤنٹس کو فوری بند کیا جا سکے- پی ٹی اے بتائے کہ اس ہارڈ وئیر کا کیا بنا کیا اب تک اس پر کام ہورہا ہے- مختلف ناموں سے پروپیگنڈہ کے لئے جعلی اکاؤنٹس بنائے گئے ہیں-

    اعتزاز احسن کے نام سے ٹویٹر پر جعلی اکاونٹ چلایا جا رہا ہے- اعتزاز احسن نے کئی بار ایف آئی اے کو اسکی شکایت درج کروائی ہے- کئی ماہ گزرے مگر اعتزاز احسن کے نام سے جعلی اکاونٹ بند نہیں کیا جا سکا- اب سوشل میڈیا کا وقت ہے اسطرح چیزوں کو کنٹرول کرنے کیلئے قانون سازی کی ضرورت ہے- سائبر قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کیخلاف سخت قانونی کاروائی ہونی چاہیے-آئی ٹی منسٹری اب تک پنشنز پر فیصلہ نہیں کر سکی- کمیٹی کے ہر اجلاس میں پی ٹی سی ایل ملازمین کے پنشنز کا مسئلہ اٹھایا جارہا ہے- پی ٹی سی ایل کا معاملہ ایف آئی اے کو ریفر کیا جائے تاکہ تحقیق ہوجائے- ہر بار باور کیا جاتا ہے کہ پنشنز ادا کئے جائینگے مگر معلوم ہوتا ہے کہ نہیں ملے ہیں-

    ذیلی کمیٹی نے بھی پی ٹی ای ٹی کے ملازمین کے پنشن میں اضافے کے معاملے پر کئی اجلاس کئے- سب کمیٹی نے اپنی سفارشات پر مبنی ایک جامع رپورٹ سینیٹ قائمہ کمیٹی آئی ٹی کو جمع کیا تھا- سینیٹ قائمہ کمیٹی آئی ٹی نے سب کمیٹی کی سفارشات کو منظور کرکے سینیٹ میں بھیجے تھے- سفارشات کو سینیٹ ہاوس نے منظور کرکے ساٹھ دنوں میں لاگو کرنے کے احکامات دئیے ہیں-عدالت پہلے ملازمین کو پنشن میں اضافے کی ادائگیوں کے احکامات دے چکی ہے-

  • کیا پاکستان میں سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کا امکان ہے؟ رحمان ملک نے  اشارہ کردیا

    کیا پاکستان میں سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کا امکان ہے؟ رحمان ملک نے اشارہ کردیا

    سینیٹ میں قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی کا اجلاس منعقد ہوا-

    سینیٹ قائمہ آئی ٹی کے اجلاس میں سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کیلئے ہمیں سعودی عرب اور یو اے ای کا ماڈل اپنانا چاہئے- توہین آمیز و قابل اعتراض مواد لگانے والوں کیخلاف سخت کارروائی ہونی چاہئے- سوشل میڈیا پر توہین رسالت پر مبنی مواد پھیلائے جا رہے ہیں- توہین رسالت کسی بھی مسلمان کے لئے ناقابل برداشت ہے-

    سوشل میڈیا آپریٹرز سے بات کیجائے کہ پاکستان میں اپنے دفاتر کھلے- سوشل میڈیا آپریٹرز کے دفاتر کھلنے سے ایسے قابل اعتراض مواد فوری ہٹانا ممکن ہو جائیگا-

  • کچرا اٹھانے والی مرمت طلب گاڑیوں کو قابل استعمال بنا نے کا عمل، ہدایات جاری

    کچرا اٹھانے والی مرمت طلب گاڑیوں کو قابل استعمال بنا نے کا عمل، ہدایات جاری

    کچرا اٹھانے والی گاڑیوں کو ورکنگ کنڈیشن میں رکھا جائے۔ انتہائی ضروری اور معمولی مرمت طلب گاڑیوں کو پہلے مرحلے میں قابل استعمال بنایا جائے – میونسپل کمشنر سینٹرل سید محمد علی زیدی کی محکمہ صحت و صفائی کے افسران کو خصوصی ہدایت۔

    کراچی میں میونسپل کمشنر بلدیہ وسطی سید محمد علی زیدی نے محکمہ صحت و صفائی کے معاملات کو بہتر بنانے کے حوالے سے مزکورہ شعبے کے افسران کے خصوصی اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلدیاتی اداروں کی کامیابی کا دارومدار محکمہ سینی ٹیشن کی کارکردگی پر منحصر ہوتا ہے انہوں نے کہا کہ عوام کو صاف ستھراء ماحول فراہم کرنے کے لئے وسائل کی کمی کے باوجودسینی ٹیشن ڈپارٹنمنٹ بلدیہ وسطی جس جانفشانی سے فرائض انجام دے رہا ہے وہ قابل تحسین ہے۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈائریکٹر سینی ٹیشن بلدیہ وسطی ظہیر احمد، ضلع وسطی کے تمام زونز کے ڈپٹی ڈائریکٹرز سینی ٹیشن اور موٹروہیکل انسپکٹرز حضرا ت شریک تھے جبکہ ڈپٹی ڈائریکٹر سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ رحمت اللہ لاشاری نے خصوصی شرکت کی۔اجلاس میں ضلع وسطی کو صاف و شفاف ضلع بنانے کے ساتھ ساتھ محکمہ سینی ٹیشن کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے مختلف اقدامات پر غور کیا گیا جبکہ سینی ٹیشن ڈپارٹ کی کچرا اٹھانے والی خراب اور غیر فعال گاڑیوں کو فوری طور پر ورکنگ کنڈیشن میں لانے اورمرمت کرانے کے حوالے سے بھی لائحہ عمل تیار کیا گیا اس موقع پر میونسپل کمشنر سید محمد علی زیدی نے کہا کہ پہلے مرحلے میں انتہائی ضروری اور کم بجٹ میں مرمت طلب گاڑیوں کو قابل استعمال بنا کر آن روڈ لایا جائے تاکہ ضلع وسطی سے بلا تعطل کچرے کو بروقت لینڈ فل سائیڈ منتقل کیا جاسکے جبکہ دیگر موٹر وہیکل کو مرحلے وار مرمت کروائی جائے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ موٹر وہیکل ڈپارٹمنٹ کی تمام مشینریز اور گاڑیوں کو قابلِ استعمال بنانے کے لئے تمام وسائل برؤے کار لائے جائیں گے انہوں نے مختلف مقامات پر کچرا جلانے کے واقعات کو انسانی صحت کے لئے مضر قراردیتے ہوئے کہا کہ اسکولوں، اسپتالوں اور ڈسپنسریوں، مساجد اور دیگر عوامی اجتماعات کے مقامات کے قریب کسی بھی صورت میں کچراجلانے کے عمل کو سختی سے روکا جائے۔ اس موقع پر محکمہ سینی ٹیشن کے افسران نے میونسپل کمشنر کو جہاں اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی وہیں اپنے مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ بلدیہ وسطی کے سینی ٹیشن ڈپارٹمنٹ کی کارکردگی میں موٹر وہیکل کی خرابی ایک بڑی روکاوٹ ہے جسکی وجہ سے کوڑا کرکٹ اٹھانے اور دیگر صفائی کے کاموں میں دشواری کا سامنا رہتا ہے اگر خراب گاڑیوں کی مرمت کرادی جائے تو بلدیہ وسطی کی کی کارکردگی مزید بہتر ہوسکتی ہے۔ امید کی جارہی ہے کہ نئے میونسپل کمشنر کا لائحہ عمل بلدیہ وسطی کی عوام کو پہلے سے بہتر صفائی کے مناظر دکھانے میں کامیاب رہے گا۔واضح رہے کہ ڈپٹی کمشنر و ایڈمنسٹریٹر ضلع وسطی ڈاکٹر محمد بخش دھاریجو ضلع وسطی کو صاف سے صاف تر بنانے کے لئے پہلے ہی کئی اقدامات کرچکے ہیں جبکہ موجودہ میونسپل کمشنر سید محمد علی زیدی اسی لائحہ عمل کا تسلسل آگے بڑھاتے ہوئے بہتر نتائج کے خواہ ہیں۔

  • سگریٹ کی سمگلنگ میں ایف بی آر کی ملی بھگت کا خدشہ، وزیراعظم کا نوٹس

    سگریٹ کی سمگلنگ میں ایف بی آر کی ملی بھگت کا خدشہ، وزیراعظم کا نوٹس

    وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ اجلاس منعقد کیا گیا- کابینہ اجلاس میں آزاد کشمیر ،فاٹا اور دیگر علاقوں سے سگریٹ سمگلنگ کی رپورٹ پیش کی گئی-

    وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ اجلاس میں پیش کی جانے والی رپورٹ میں بیان کیا گیا کہ ہر سال قومی خزانے کو 140 ارب روپے سمگلنگ کے باعث نقصان پہنچ رہا ہے- سمگل شدہ سگریٹ 20 روپے کا اور ٹیکس دینے والی کمپنیاں 90 روپے میں دیتی ہیں-

    وزیراعظم نے سگریٹ کی سمگلنگ کے معاملے کا بھی نوٹس لے لیا- وزیراعظم نے کہا کہ یہ پہلے بھی میرے علم میں آئی تھی، اب معاملہ نظرانداز نہیں کر سکتے- وزیراعظم نے ایف بی آر اور متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کر لی- ان کا کہنا تھا کہ لگتا ہے اس معاملے میں بھی ایف بی آر کی ملی بھگت ہے- کیا شوگر مافیا کے ساتھ ایف بی آر نہیں ملی ہوئی تھی- کیا ایران سے تیل کی سمگلنگ میں ایف بی آر نہیں ملی ہوتی تھی- کسٹم حکام، خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر حکومت سے بھی ٹریکنگ سسٹم پر بات کی جائے-

  • لائسنسنگ برانچ میں میرٹ اور شفافیت کی یقین دہانی، سی ٹی او راولپنڈی

    لائسنسنگ برانچ میں میرٹ اور شفافیت کی یقین دہانی، سی ٹی او راولپنڈی

    چیف ٹریفک آفیسرراولپنڈی رائے مظہر اقبال کا ٹریفک ہیڈ کواٹر راولپنڈی کی لائسنسنگ برانچ کا سرپرائز وزٹ ۔

    سی ٹی او رائے مظہر اقبال نے یقین دہانی کروائی کہ لائسنسنگ برانچ میں میرٹ اور شفافیت کو ہر صورت برقرار رکھا جائے گا۔ عوام الناس کی سہولیات کے پیش نظر ون ونڈو آپریشن کے ذریعے ایک ہی چھت تلے تمام سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔ سفارش اور کرپشن جیسے عناصر کے خاتمہ کے لیے آن لائن سائن ٹیسٹ لیے جا رہے ہیں۔ ڈرائیونگ ٹیسٹ آٹومیٹڈڈرائیونگ ٹیسٹ ویڈیو سسٹم کے ذریعے لیا جا رہا ہے۔ لائسنسنگ ہال میں 12کاونٹر پر موجودٹریفک سٹاف کے ذریعے شہریوں کی معاونت کی جا رہی ہے۔ خصوصی یونیفارم میں انتہائی پڑھے لکھے ٹریفک آفیسرشہریوں کی رہنمائی کے لیے تعینات کیے گئے ہیں۔

  • چیف ٹریفک آفیسر راولپنڈی کا ٹریفک کی بلا رکاوٹ روانی کے لیے کوشاں

    چیف ٹریفک آفیسر راولپنڈی کا ٹریفک کی بلا رکاوٹ روانی کے لیے کوشاں

    چیف ٹریفک آفیسر راولپنڈی نے سواں پل پر تعمیراتی کام کے باعث جہلم روڈ پر ٹریفک کی روانی کا جائزہ لیا-

    چیف ٹریفک آفیسر راولپنڈی رائے مظہر اقبال جہلم روڈ پر ٹریفک کی روانی کو احسن طریقے سے برقرار رکھنے کے لیے اضافی نفری تعینات کر دی۔ صبح اور شام دو شفٹوں کے لیے 2انسپکٹر،2بیٹ انچارج اور16ٹریفک وارڈنز تعینات کیے گئے ہیں۔ ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ بننے والی گاڑیوں کے خلاف کاروائی کے لیے فورک لفٹر بھی موجود ہو گا۔

    ٹریفک کے بہاﺅ کی بلا رکاوٹ روانی کے لیے ٹریفک پولیس بھرپور محنت کر رہی ہے۔

  • ایوان میں سازگار ماحول کو یقینی بنانا حکومت اور اپوزیشن کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اسپیکرسد قیصر

    ایوان میں سازگار ماحول کو یقینی بنانا حکومت اور اپوزیشن کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اسپیکرسد قیصر

    اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے وزیر اعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان کی ملاقات۔

    اسلام آباد میں اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے منگل کے روز وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے ملاقات کی۔ ملاقات میں قانون سازی اور قومی اہمیت کے حامل اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ اپوزیشن کی ریکوزیشن پر اجلاس بلایا جائے گا۔دونوں رہنماؤں کا ایوان کی کاروائی اسمبلی کے قواعد و ضوابط کے تحت چلانے پر اتفاق کیا گیا۔

    اسپیکرسد قیصر نے کہا کہ ایوان کی کارروائی کو خوش اسلوبی سے چلانا اور ایوان میں سازگار ماحول کو یقینی بنانا حکومت اور اپوزیشن کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ ایوان میں ہنگامہ آرائی سے نہ جمہوریت کی خدمت ہے نہ ہی عوام کی۔انہوں نے مزید کہا آئندہ اجلاس میں قانون سازی اور قومی اہمیت کے حامل اہم مسائل کو زیر بحث لایا جائے گا۔اسپیکر نے کہا کہ ایوان کی کاروائی خوشگوار ماحول میں چلنے سے عوامی اہمیت کے امور اور قانون سازی بہتر انداز میں کی جا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ عوام کی نظریں اپنے منتخب نمائندوں کی طرف لگی ہوئی ہیں لہذا عوام کے اعتماد پر پورا اترنے کے لیے عوام کے منتخب نمائندوں کو پارلیمنٹ کے ذریعے ان کے مسائل کو حل کرنا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ منتخب نمائندے پارلیمنٹ کا موثر انداز میں استعمال کر کے عوامی مسائل کا حل تجویز کر سکتے ہیں۔

    وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے ایوان کی کاروائی موثر انداز سے چلانے پر اسپیکر کے کردار کو قابل ستائش قرار دیتے ہوئے کہا کہ اجلاس کی کاروائی میں ہمیشہ حزب اقتدار اور حزب اختلاف کو برابر موقع فراہم کیا گیا ہے۔انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ممبران قومی اسمبلی آئندہ اجلاس میں قواعد و ضوابط کو ملحوظ خاطر رکھیں گے اور ایوان کی کاروائی ساز گار ماحول میں چلانے کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کریں گے۔انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کو ملک اور عوامی اہمیت کے حامل اہم مسائل کو زیر بحث لانا چاہیے تاکہ عوام کا اپنے منتخب نمائندوں پر اعتماد میں اضافہ ہو سکے گا۔

  • اے این ایف کی ملک بھر میں کاروائیاں، اسمگل شدہ سامان برآمد

    اے این ایف کی ملک بھر میں کاروائیاں، اسمگل شدہ سامان برآمد

    اے این ایف نے ملک بھر میں منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کر رکھا ہے- ترجمان اے این ایف کا کہنا ہے کہ ان آپریشنز کے تحت اے این ایف نے ملک بھر میں 21 کاروائیوں کی ہیں جس کے دوران 2153.166 کلوگرام منشیات برآمد کر لی گئی ہیں-

    مزید بتایا کہ منشیات کے کاروبار میں ملوث 22 ملزمان گرفتار اور اسمگلنگ میں استعمال ہونے والی 10 گاڑیاں بھی قبضے میں لے لی گئیں۔ برآمد شدہ منشیات میں 13.1 کلوگرام ہیروئن, 650.99 کلوگرام چرس,1485 کلوگرام افیون, 3.91 کلوگرام میتھ ایمفیٹامائن (آئس)، 960 عدد ڈیزاپام گولیاں اور 30 عدد ایکسٹیسی گولیاں شامل ہیں۔برآمد شدہ منشیات کی بین الاقوامی مالیت 59.520 ملین امریکی ڈالر بنتی ہے-

  • ”احتساب سب کےلئے“ کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہیں،  ڈی جی نیب خیبر پختونخوا

    ”احتساب سب کےلئے“ کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہیں، ڈی جی نیب خیبر پختونخوا

    قومی احتساب بیورو (نیب) کے چئیرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب افسران ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کو اپنی قومی ذمہ داری اور ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں، ماضی میں جن کو نیب میں بلانے کا سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا ان کو نیب نے بلایا، نیب براڈ شیٹ کمیشن کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیب خیبر پختونخوا آفس کے دورہ کے دوران کیا۔ اس موقع پر ڈی جی نیب خیبر پختونخوا بریگیڈیئر (ر) فاروق ناصر اعوان نے میگا کرپشن مقدمات کے بارے میں بریفنگ دی اوربتایا کہ نیب خیبرپختونخوا میں اس وقت307 شکایات، 68 شکایات کی جانچ پڑتال، 95 انکوائریاں اور 36 انویسٹی گیشنز پر کارروائی جاری ہے ۔

    نیب خیبرپختونخوا کے 182 بدعنوانی کے ریفرنس احتساب عدالت پشاور میں زیر سماعت ہیں۔ ڈی جی نیب خیبر پختونخوا نے بتایا کہ نیب خیبر پختونخوا نے گذشتہ 3 سالوں میں 3018.096 ملین روپے برآمد کر کے قومی خزانے میں جمع کرائے۔ جعلی ہائوسنگ سوسائٹیز سے رقوم برآمد کی گئیں ۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب خیبر پختونخوا نے نیب کی مجموعی کاکردگی بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔نیب خیبر پختونخوا نیب کا ایک اہم علاقائی بیورو ہے جس نے نیب کی مجموعی کاکردگی کو بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب ایک قومی ادارہ ہے جس کے افسران ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کو اپنی قومی ذمہ داری اور ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں۔ نیب کی پہلی اور آخری وابستگی صر ف اور صرف ریاست پاکستان سے ہے۔ نیب”احتساب سب کےلئے“ کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بزنس کمیوٹنی ملک کی ترقی و خوشحالی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ نیب بزنس کمیوٹی کا نہ صرف احترام کرتا ہے بلکہ نیب نے سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس اور انڈرانوائسز کے مقدمات کو ایف بی آر قانون کے مطابق واپس بھیج دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے بزنس کمیونٹی کے مسائل کے حل کےلئے نیب ہیڈ کوارٹرز اور نیب کے تمام علاقائی دفاتر جن میں نیب خیبر پختونخوا شامل ہے میں علیحدہ سیل قائم کئے ہیں جو باقاعدگی کے ساتھ اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں- بزنس کمیونٹی خصوصاً فیڈریشن آف چیمبر آف کامرس پاکستان کے ایک وفد اور اسلام آباد چیمبر آف کامرس نے بزنس کمیونٹی کے مسائل کے حل کےلئے چئیرمین نیب کی عملی کاوشوں کو سراہا۔

    انہوں نے کہا کہ نیب کے معز زاحتساب عدالتوں میں1230بدعنوانی کے ریفرنسز زیر التواءہیں جن کی تقریباً مالیت943 ارب روپے ہے۔ نیب نے ان تمام ریفرنسز کی جلد سماعت کےلئے درخواستیں معزز عدالتوں میں دائر کرنے کا فیصلہ کیاہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب ہر شخص کی عزت نفس کی یقینی بناے کے فیصلے پر سختی سے کار بند ہے۔ بیورو کریسی کو نیب سے کوئی خدشہ نہیں اور نہ ہی کوئی خدشہ ہونا چاہئے کیونکہ نیب ایک انسان دوست ادارہ ہے جو ہمیشہ آئین اور قانون کے مطابق اپنے فرائض سر انجام دینے والوں کو نہ صرف قدر کی نگا ہ سے دیکھتا ہے بلکہ ان کی عزت نفس، احترام اور خدمات کی قدر کرتاہے۔ انہوں نے کہ کہ نیب کا تعلق کسی گروہ، فرد اور جماعت سے نہیں۔ نیب تمام سیاستدانوں کا قانو ن کے مطابق احترام اور انہیں قد ر کی نگا سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بد عنوانی تمام برائیوں کی جڑ ہے اگر پاکستان سے بد عنوانی کا خاتمہ ہوگا تو ملک ترقی کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے اپنے افسران / اہلکاران کی استعداد کار کو مزید بڑھانے اور انہیں عصر حاضر کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے جدید اور سائنسی خطوط پر ریفریشر کورسز کرانے کے علاوہ مانیٹرنگ اینڈ ایویلیشن کے نظام کو بہتر بنانے، مقدمات کو ٹھوس شواہد اور قانون کے مطابق تیاری اور معزز احتساب عدالتوں میں موثر پیروی کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ بد عنوان عناصر کو قانو ن کے کٹہرے میں کھڑا کیا جا سکے۔چئیرمین نیب نے کہا کہ نیب واحد ادارہ ہے جس نے سی پیک کے تحت پاکستان میں جاری منصوبوں کی نگرانی کے لئے چین کے ساتھ مفاہمت کی یاداشت پر دوستخط کیے ہیں۔ معتبر قومی و بین الاقوامی اداروں جیسے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل، عالمی اقتصادی فورم، پلڈاٹ، مشال پاکستان اور گلوبل پیس کینیڈا نے نیب کی کارکردگی کو سراہا ہے۔

    نیب سارک ممالک کے لئے رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب اقوام متحدہ کے انسداد بد عنوانی کنونشن کے تحت پاکستان کا فوکل ادارہ ہے ۔ پاکستان نے اس کنونشن کی توثیق کر رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کی موجودہ انتظامیہ کا براڈ شیٹ کے معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے یہ معاہدہ 2000 ءمیں کیا گیا اور2003ءمیں ختم کر دیا گیا جب کہ اس معاہدہ سے متعلق قانونی کاروائی 2009 میں ختم ہوگئی ۔ اس حوالے سے براڈ شیٹ کمیشن نے کام شروع کر دیا۔ نیب براڈ شیٹ کمیشن کو ہر ممکن تعاون فراہم کرئے گا ۔ انہوں نے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے 1947ءمیں اپنے خطاب میں کرپشن اور اقرباءپروری کو بڑی برائی قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں جن کو نیب میں بلانے کا سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا ان کو نیب نے بلایا۔ نیب کا جوڈیشل ریمانڈ سے کوئی تعلق نہیں نیب ملزم کو گرفتاری کے بعد 24 گھنٹے میں عدالت میں پیش کر تا ہے جہاں شواہد دیکھ کر عدالت ملزم کو جسمانی ریمانڈ دیتی ہے ۔ وائٹ کالر کرائمز اور عام مقدمات میں بہت فرق ہے۔انہوں نے کہا کہ نیب کی تحویل میںملزمان کو کرونا سے بچاﺅ کے لئے خصوصی اقدامات کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پلی بارگین قانون کے تحت کی جاتی ہے جس کی منظوری متعلقہ احتساب عدالت دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نجی ہاﺅسنگ سوسائٹیز کے مالکان ، بیواﺅں ، یتیموں اور سرکاری ملازمین کو ان کی محنت سے کمائی گئی زندگی بھر کی جمع پونجی سے محروم نہ کریں تو نیب ان کی طرف نظر بھر کر بھی نہیں دیکھے گا ۔ چئیرمین نیب نے نیب خیبرپختونخوا کی ڈی جی نیب خیبر پختونخوا بریگیڈئیر (ر) فاروق ناصر اعوان کی سر براہی میں کارکردگی کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ نیب خیبر پختونخوا اس جوش اور جذبے اور قانون کے مطابق اپنی قومی ذمہ داری کو سرانجام دینے کے لئے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھے گا