Baaghi TV

Tag: باغی ٹی وی

  • پاک چین دوستی کا نیا سفر، ایم ایل ون منصوبے کے تحت پاکستانی ریل کا نقشہ بدلنے کی تیاریاں

    پاک چین دوستی کا نیا سفر، ایم ایل ون منصوبے کے تحت پاکستانی ریل کا نقشہ بدلنے کی تیاریاں

    وفاقی وزیر ریلوے اعظم خان سواتی سے چین کے سفیر نونگ رونگ نے منگل کو یہاں ملاقات کی۔ ملاقات میں دونوں ممالک اورسی پیک کے حوالے سے امور زیر بحث کی گئی۔ وزیر ریلوے نے ایم ایل ون منصوبے میں گہری دلچسپی پر چینی سفیر کا شکریہ ادا کیا۔ وفاقی وزیر نے چین کے سفیر کی خد مات کو سراہا اور پاک چین دوستی کو مزید استحکام پہنچانے کے لئے ایم ایل ون پر اجیکٹ کو جلد از جلد شروع کر نے پر اتفاق کیا۔

    چینی سفیر نے کہاکہ ایم ایل پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا منصوبہ ہو گا اور اس سے پاک چین دوستی کو مزید استحکام ملے گا۔ ایم ایل ون منصوبہ پاکستان ریلوے اور ملکی معیشت کے لئے انتہائی اہمیت کاحامل ہے اور چینی شراکت داری سے اس منصوبہ سے پاکستان میں ریل کا نقشہ بدل جائے گا ،یہ منصوبہ سی پیک منصوبے کا حصہ ہے ،ایم ایل ون منصوبے پرتقریباً6.8ارب ڈالر خر چہ آئے گا، ہم چینی حکومت کے خاص طورپر چین کے صدر کے شکر گزار ہیں کہ جنہوں نے اس منصوبے کے لئے پاکستان کی تمام ممکنہ مد د کی۔ایم ایل ون منصوبے کا کام پشاور سے کراچی تک چاروں صوبوں میں ہو گا اس کی تعمیر میں چینی اور مقامی لوگ کام کر یں گے۔ وفاقی وزیر نے چین کے سفیر کو سفاری ٹرین کی افتتاحی تقریب میں بھی مدعو کیادونوں رہنماؤں کے درمیان دیگر امور پر بھی بات چیت ہوئی اوروفاقی وزیر نے پاک چین دوستی مضبوط بنانے کی کوششوں پر چین کے سفیر کا شکر یہ ادا کیا

  • تحریک انصاف کی  فارن فنڈنگ کہاں سے آئیَ؟ فرخ حبیب کا بیان سامنے آگیا

    تحریک انصاف کی فارن فنڈنگ کہاں سے آئیَ؟ فرخ حبیب کا بیان سامنے آگیا

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور پارلیمانی سیکرٹری ریلوے فرخ حبیب نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) فارن فنڈنگ کی بانی ہے، جندال پاکستان کے اداروں کے خلاف مہم جوئی کے لئے بغیر ویزے ڈالروں کے بیگ بھر کر مری میں شریف خاندان کے حوالے کرتا رہا، ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنے والی پی ڈی ایم کی تحریک کو دو ممالک سے فنڈنگ آ رہی ہے- مریم صفدر کو بھاگنے نہیں دیں گے، انہیں جواب دینا پڑے گا۔

    منگل کو الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مریم صفدر اپنی فارن فنڈنگ کا جواب دینے کی بجائے گالم گلوچ برگیڈ کو آگے کر دیتی ہیں- تحریک انصاف نے اپنے چالیس ہزار ڈونرز کا مکمل ریکارڈ الیکشن کمیشن کو پیش کیا ہے، تحریک انصاف نے سالمیت پاکستان کے خلاف کسی فارنر سے ایک روپیہ نہیں لیا، تحریک انصاف کی تمام فارن فنڈنگ بینکنگ چینل کے ذریعے آئی- ویسٹرن یونین کے ذریعے ساری دنیا میں فنڈز ٹرانسفر ہوتا ہے- یہ حوالہ ہنڈی کی طرح بے نامی نہیں ہوتا، اپوزیشن کے فنڈز فالودہ، پاپڑ والے اور مشتاق چینی کے ذریعے حوالہ ہنڈی سے پیسے منتقل کرتے رہے- تارکین وطن نے تحریک انصاف کو نیا پاکستان بنانے کے لئے فنڈنگ کی، ہمیں اسرائیل کو تسلیم کرنے کا طعنہ دینے والوں نے خود 1998ءمیں اپنے اس وقت کے وزیر مذہبی امور کو اسرائیل بھیجا- جھوٹوں کی پاناما رانی کا ایک سال ٹوئٹر اکائونٹ بند رہا۔ انہوں نے کہا کہ اسامہ بن لادن سے بے نظیر بھٹو کو ہٹانے کے لئے، لئے گئے 10 ملین ڈالر کا حساب انہیں دینا پڑے گا، بلاول اور پیپلزپارٹی کس ڈھٹائی سے ان کے ساتھ کھڑے ہیں- منی لانڈرنگ، حوالہ، ہنڈی کی بنیاد رکھنے والے نواز شریف ہیں- انہوں نے اپنی لوٹ مار سے اربوں روپے مریم صفدر کو گفٹ کئے جس سے انہوں نے جائیداد خریدی، ان کے جھوٹ بے نقاب ہو گئے ہیں- ان کے بیٹے، ان کی قیادت بیرون ملک ہے اور ان کے بڑے لیڈر اقامہ ہولڈر رہے۔

    انہوں نے کہا کہ مریم صفدر نے 2017ءمیں یہ اعتراف کیا کہ جندال ان کا خاندانی دوست ہے۔ انہوں نے کہا کہ کہاں گوالمنڈی کا شریف اور کہاں بھارت کا جندال، جندال ڈالروں کے بیگ بھر کے مری میں آ کر پاکستان کے اداروں کے خلاف مہم جوئی کے لئے انہین دیتا رہا، مودی کی حلف برداری میں شریف خاندان شریک ہوا اور حریت قیادت سے ملنے کی بجائے انہوں نے بھارتی اداکاروں سے ملنا پسند کیا۔ انہوں نے کہا کہ 2013ءمیں انہوں نے ایک ارب 30 کروڑ روپے کی واردات کی-

  • دربار حضرت عنایت شاہ قادری رحمتہ اللہ علیہ کا افتتاح، سیکیورٹی اور لنگر کا انتطام مکمل

    دربار حضرت عنایت شاہ قادری رحمتہ اللہ علیہ کا افتتاح، سیکیورٹی اور لنگر کا انتطام مکمل

    لاہور میں صوبائی وزیر اوقاف سید سعید الحسن شاہ نے دربار حضرت عنایت شاہ قادری رحمتہ اللہ علیہ کے 295ویں سالانہ عرس مبارک کی تقریبات کا افتتاح کردیا-

    وزیر اوقاف، سیکرٹری،چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف،ڈائریکٹر جنرل مذہبی امور نے سالانہ عرس مبارک کی تقریبات کا افتتاح رسم چادر پوشی سے کیا- ملک کی تعمیریر و ترقی اور مقبوضہ کشمیر کی آزادی اور دنیا بھر کے مسلمانوں کی سلامتی کے لئے خصوصی دعا بھی کی گئی- وزیر اوقاف سید سعید الحسن شاہ نے کہا کہ حضرت عنایت شاہ قادری رحمتہ اللہ علیہ کی تعلیمات اور افکار سے لاکھوں لوگ آج بھی فیض اٹھا رہے ہیں۔ بزرگان اسلام نے تصوف کے ذریعے ہی دین اسلام پھیلا اور اب ان کی درگاہوں سے بھی مخلوق خدا اپنی پیاس بجا رہی ہے۔ تمام اطرف سے واک تھرو گیٹس کے ذریعے زائرین کودربار تک پہنچنے کی رسائی دی جا رہی ہے۔
    محکمہ اوقاف نےدربار شریف پر آنے والے زائرین کی سکیورٹی اورلنگر کے خصوصی انتظامات کیلئے 87 ہزارروپے کی گرانٹ مختص کردی-

    صوبائی وزیر اوقاف سید سعید الحسن شاہ نے حضرت عنایت شاہ قادری رحمتہ اللہ علیہ کے 295ویں سالانہ عرس مبارک کی تقریبات کا افتتاح دربار پر رسم چادر پوشی سے کیا۔اس موقع پرمحمد عامر جان سیکرٹری،چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف پنجاب اورڈاکٹر طاہر رضابخاری ڈائریکٹر جنرل مذہبی امور اوقاف پنجاب کے علاوہ زونل ایڈمنسٹریٹر اوقاف لاہور،منیجر اوقاف سرکل نمبر2لاہور دیگر مشائخ و عظام اور زائرین کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ انہوں نے مزار اقدس پر چارر پوشی کے بعد ملک کی تعمیریر و ترقی اور مقبوضہ کشمیر کی آزادی اور دنیا بھر کے مسلمانوں کی سلامتی کے لئے خصوصی دعا کی۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت عنایت شاہ قادری رحمتہ اللہ علیہ کی تعلیمات اور افکار سے لاکھوں لوگ آج بھی فیض اٹھا رہے ہیں اور رہتی دنیا تک ان کا فیض جاری رہے گا۔انہوں نے کہا کہ تصوف کے ذریعے ہی دین اسلام پھیلا اور اب ان کی درگاہوں سے بھی مخلوق خدا اپنی پیاس بجا رہی ہے۔ اس کے اطراف میں سکیورٹی و دیگر انتظامات کے حوالے سے دورہ کیا۔ا نہوں نے محکمہ کے تمام افسران و اہلکاران کو سختی سے پابند کیا کہ عرس کے تینوں روز کسی بھی قسم کی کوتاہی یا شکایت نہ ہونے پائے۔ انہوں نے دربار میں ملکی و غیر ملکی زائرین کی مدد کیلئے بنائے گئے مختلف پوائنٹس کا بھی دورہ کیا۔ انہوں نے قوال حضرات کو دی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ دربار سے ملحقہ آبادی میں چیکنگ کا سلسلہ باقاعدہ جاری رکھنے کی ہدایت بھی کی۔ زائرین کوتمام اطرف سے واک تھرو گیٹس کے ذریعے زائرین کودربار تک پہنچنے کی رسائی دی جا رہی ہے۔

    دربار اور اس کے گرد وجوار میں سی سی ٹی وی کیمروں ذریعے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے باقاعدگی سے تمام ہوٹلوں،گھروں اور شہریوں کی چیکنگ کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حضرت عنایت شاہ قادری رحمتہ اللہ علیہ اور اس خطے کے دیگر صوفیاء کی تعلیمات سے اکتسابِ فیض وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یہ صوفیاء امن کے علمبردار اور انسان دوستی کے امین ہیں۔ ان کی خانقاہیں بلا امتیاز مسلک ومذہب ہر ایک کے لیے فیضِ عام کا ذریعہ ہیں۔ ان کے مزارات امن کے مرکز اور محبتوں والفتوں کے امین ہیں۔ ان کی درگاہیں علم کے سب سے بڑے مراکز اور تزکیہ وطہارت کے عظیم ترین مسکن ہیں۔ آج دنیامیں انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خاتمہ اور روادارانہ فلاحی معاشرے کی تشکیل کے لیے صوفیاء کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونا ہوگا۔ ہم سب ان کی تعلیمات پر خود بھی عمل کریں اور انہیں عام لوگوں تک بھی پہنچائیں تاکہ ملک سے دہشت گردی،انتہاپسندی اور فرقہ پرستی کا خاتمہ ہو سکے۔محکمہ کی جانب سے مورخہ 10فروری2021بعد از نماز عشاء محفل سماع /نعت خوانی کا اہتمام بھی کیا جائے گا۔ محکمہ اوقاف نے دربار شریف پر آنے والے زائرین کی سکیورٹی اورلنگر کے خصوصی انتظامات کیے ہیں او ر87 ہزارروپے کی گرانٹ مختص کی ہے۔

  • کیا عوام کو جلد از جلد ریلیف دیا جا سکے گا؟ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کا اجلاس

    کیا عوام کو جلد از جلد ریلیف دیا جا سکے گا؟ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کا اجلاس

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی نے سفارش کی ہے کہ پیسکو کی جانب سے مختلف آسامیاں پر ہونے والی بھرتیوں میں بے ضابطگیوں کی وجہ سے ان بھرتیوں کو منسوخ کیا جائے۔ ٹیسٹنگ ایجنسی کو بلیک لسٹ کر کے محکمے ملوث افراد کے خلاف کارروائی کر کے رپورٹ کمیٹی میں جمع کروائی جائے۔ وزارت توانائی حکام نے کمیٹی کو بریف کیا کہ گوادر میں 17ارب روپے سے زائد بجلی کی فراہمی کا بروجیکٹ چل رہا ہے جو 18ماہ میں مکمل ہوگا۔ کمیٹی نے کوئٹہ، پشاور سمیت دیگر علاقوں میں تعینات اعلیٰ آفسران کی تفصیلات طلب کر لی۔ تفصیلات کے مطابق پیر کے روز سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر فدا محمد خان کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سینیٹرز نعمان وزیر خٹک، احمد خان، ڈاکٹر غوث محمد خان نیازی، مولا بخش چانڈیو، مرزا محمد آفریدی، مولوی فیض محمد، مشتاق احمد،بہرہ مند خان تنگی اور ہدایت اللہ اور وزارت کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

    کوہاٹ سے تعلق رکھنے والے رکن صوبائی اسمبلی امجد خان نے کمیٹی میں خصوصی طور پر شرکت کی اور کوہاٹ کے دیہی علاقوں میں بجلی کی ترسیل کے منصوبوں پر عملدرآمد میں تاخیر کا مسئلہ اٹھایا۔انہوں نے بتایا کہ چیئرمین کمیٹی سینیٹر فدا محمد اور کمیٹی نے اس مسئلے پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے منصوبوں کی جلد تکمیل پر ہدایات دیں تھیں تاہم اْن پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ 2021میں بھی لوگوں کے پاس بجلی کی سہولت نہیں ہے اور عوام بجلی کی سہولت کیلئے ترس رہے ہیں۔ حکام نے ممبر صوبائی اسمبلی امجد خان کے نقطہ نظر سے اتفاق کیا انہوں نے کمیٹی کو پوری صورتحال سے آگا ہ کرتے ہوئے کہا کہ فنڈز کی کمی کی وجہ سے مسائل درپیش رہے تاہم اْس کے حل کیلئے کوشاں ہیں۔ سیکرٹری پاور ڈویڑن نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ منصوبے کیلئے مناسب فنڈز کی فراہمی کیلئے جلد ہی اقدامات اتھائیں جائے گے اور ان منصوبوں جلد از جلد مکمل کرنے کیلئے لائحہ عمل واضح کیا جائے گا۔ قائمہ کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل اور منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے تا کہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ سینیٹر مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت مختلف ترقیاتی منصوبے شروع ہیں تاہم بعض علاقے ابھی بھی ان منصوبوں سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گوادر میں عوام کو لوڈ شیڈنگ کے مسائل کا سامنا ہے۔سینیٹر مرزا آفریدی نے اس بات پر زور دیا کہ گوادر کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے اور مسائل کو حل کرنے کی بجائے اْن میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گوادر کو اور گوادر پورٹ کو خوشحال اور ترقیافتہ دیکھنا چاہئے ہیں تو اس کیلئے بلا تعطل بجلی کا نظام بنانا ہو گا۔

    سیکرٹری پاور ڈویڑن نے کہا کہ بلوچستان حکومت نے ایل او آئی دیا تھا اور نیپرا نے ٹیرف بھی دے دیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک لائحہ عمل اختیار کیا گیا ہے کہ اور ہر وہ منصوبہ جو ایک خاص درجہ بندی میں آتا ہے اْس کیلئے لائحہ عمل بنا دیا گیا ہے۔ تاہم سیکرٹری نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ضرورت سے زیادہ ہے اور نئے منصوبوں سے مزید بہتری آئے گی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 50میگا واٹ سولر اور تین سو میگا واٹ کوئلے کے منصوبے اگر چہ زیر غور ہیں تاہم مکران اور گوادر کے لوگوں کا مسئلہ تب ہی حل ہو گا جب تین سو میگا واٹ کا منصوبہ جس سے کوئلے سے بجلی پیدا کی جائے گی سے حل ہو گا اور طویل مدتی طور پر نیشنل گرڈ کے ساتھ رابطہ کاری سے صحیح طور پر مشکلات میں کمی آئے گی۔ سینیٹر احمد خان نے کہا کہ منصوبے مسلسل تاخیر کا شکار ہیں جس سے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر فدا محمد نے کہا کہ اس مسئلے کا فوری حل تلاش کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے ہدایات دیں کہ تمام ادارے مل کر عملی اقدامات اٹھائیں اور گوادر کو بجلی فراہمی کی ترسیل کے حوالے سے موثر لائحہ عمل اختیار کریں۔ سیکرٹری پاور ڈویڑن نے اس مسئلے کو متعلق فورمز پر اٹھانے کی یقین دہانی کراتے ہوئے اس کے حل میں تیز ی لانے کا وعدہ کیا۔ کمیٹی نے کہا کہ گوادر کی اہمیت اور عوام کی مشکلات کو سامنے رکھتے ہوئے اب ضروری ہو گیا ہے کہ وزارت اس مسئلے کو خصوصی کیس کے طور پر حل کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے۔

    سینیٹر ہدایت اللہ نے کمیٹی کو ایس ڈی جیز کے تحت سابقہ فاٹا کے اضلاع میں بجلی کی ترسیل کے منصوبوں کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ منصوبوں پر پیش رفت شروع ہو چکی ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں کمیٹی اور حکام کا شکریہ ادا کیا۔ ٹیسکو حکام نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ مارچ 2021میں یہ منصوبے مکمل ہو جائیں گے۔کمیٹی نے پیسکو میں لائن سپریٹنڈٹ، میٹر ریڈرز اور بل ڈسٹری بیوٹرز اور دیگر عہدوں پر تعیناتوں میں بے قائدگی کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے ہدایات دیں کہ ٹیسٹنگ ایجنسی اور ذمہ داران حکام کے خلاف فوری کاروائی عمل میں لاتے ہوئے شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور اْن کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ قائمہ کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک امر ہے کہ چھوٹی آسامیوں کیلئے امتحان کا جو طریقہ کار واضع کیا گیا جس پر شفافیت کے حوالے سے سوالات اٹھے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایس ڈی اوز اور آر اوز کی تعیناتی بھی اس ایجنسی نے کی ہے تو اْس کی شفافیت پر بھی اعتراضات اٹھیں گے۔ انہوں نے ہدایات دیں کہ جہاں چھوٹے ملازمین کی تقرری کے عمل کو روک دیا ہے وہاں ایس ڈی اوز اور آر اوز کی تعیناتیوں پر مزید پیش رفت نہ کی جائے اور پورے عمل کی شفاف انداز میں تحقیقات کر کے ذمہ داران کا تعین کیا جائے۔

    سینیٹر بہرہ مند تنگی نے کمیٹی کے اجلاس میں کہا کہ چار سدہ اور گرد و نواں کے علاقوں میں میٹر لگانے، بجلی کے کنکشن منقطہ ہونے اور دیگر مسائل درپیش ہیں جس پر پیسکو کے حکام خاموش ہیں اور اْن کے حل کیلئے کوئی عملی اقدامات نہیں اٹھائے جا رہے۔ کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر فدا محمد خان نے سینیٹر تنگی کے ساتھ مل کر ان مسائل کے حل اور مشکلات دور کرنے کے حوالے سے ہدایات دیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندے عوام کے مسائل حل کرنے کیلئے کوشاں رہتے ہیں اور اس سلسلے میں تمام ادارے تعاون کریں اور رعوام کو درپیش مشکلات کے حل کیلئے فوری اقدامات اٹھائیں۔ سینیٹر مولوی فیض محمد کی جانب سے خضدار کے فیڈر کے مسئلے پر چیئرمین کمیٹی نے فیڈرز کے منصوبوں کی جلد تکمیل پر زور دیا-

  • کیا پاکستان ًمیں غربت کا خاتمہ ممکن ہے ؟ حکام نے سر جوڑ لیے

    کیا پاکستان ًمیں غربت کا خاتمہ ممکن ہے ؟ حکام نے سر جوڑ لیے

    ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی برائے غربت میں کمی اور سماجی تحفظ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمال دینی کی سربراہی میں پاکستان بیت المال ہیڈ کواٹر کے کانفرنس روم میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان بیت المال کے عوامی ریلیف، غربت میں کمی، شرح خواندگی میں اضافہ، علاج معالجہ، بچوں سے مزدوری کے خاتمے کے حوالے سے قائم ہونے والے اسکولوں کی تعداد اور طریقہ کار کے علاوہ پاکستان بیت المال کے مستقبل کے منصوبہ جات کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

    قائمہ کمیٹی کو منیجنگ ڈائریکٹر بیت المال عون عباس بپی نے ویڈیو لنک جبکہ ڈی ایم ڈی مبشر حسن اور دیگر اعلیٰ حکام نے پاکستان بیت المال کے کام کے طریقہ کار، بجٹ، عوام کو فراہم کی جانے والی صحت، تعلیم، پناہ گاہ، ویمن ایمپاورمنٹ سینٹرز، ایس آر سی ایل، دارلااحسا س و دیگر سہولیات و ریلیف کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان بیت المال 1991ایکٹ کے تحت 1992میں قائم ہوا۔ اسکا ہیڈ آفس اسلام آباد اور سات صوبائی،ریجنل دفاتر ہیں۔ اس ادارے کے 154 ڈسٹرکٹ آفس پورے ملک بشمول سابق فاٹا، گلگت بلتستان اور اے جے کے میں قائم کئے ہیں۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اکتوبر 2018سے اب تک 54ہزار مریضو ں کی ادار ے نے زندگیاں بچائی ہیں جس پر 6.4ارب روپے خرچ کئے گئے۔ ملک کے مختلف حصوں میں تھیلیسیماں کے 4191مریضوں کے لئے 321ملین روپے خرچ کئے گئے – ایک سے پانچ سال کی عمر کے بچے جو سماعت سے محروم تھے اُن پر 128ملین روپے خرچ کئے گئے سماعت کے ایک مریض بچے پر 14سے 15لاکھ روپے خرچ آتا ہے۔ ایک سرکاری کے ساتھ چار پرائیویٹ ہسپتالوں کو علاج کیلئے منتخب کیا گیا ہے۔

    چیئرمین کمیٹی کے سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ صوبہ کے پی کے اور بلوچستان میں اس مرض کے ای این ٹی اسپیشلسٹ نہ ہونے کی وجہ سے وہاں کے ہسپتال شامل نہیں کئے گئے۔ چیئرمین کمیٹی ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی نے کہا کہ گھروں میں چھوٹے بچوں کو گھر کے کاموں کیلئے رکھا جاتا ہے اور بچوں سے زیادتی کے واقعات بھی رپورٹ ہوتے ہیں۔ چائلڈ لیبر کے تحفظ کی خاطر ادارہ اقدامات اٹھائے جس پر کمیٹی کو بتایا گیا کہ یہ متعلقہ اداروں کا کام ہے بیت المال کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔ سینیٹر ثمینہ سعید نے کہا کہ ملک بھرمیں بھکاری بچوں کی تعداد میں روز بہ روز اضافہ ہو رہا ہے۔ دونوں ایوانوں کی مشترکہ کمیٹی بنا کر متعلقہ محکموں کے ساتھ اقدامات اٹھائیں جائیں۔ سینیٹر لیفٹینٹ جرنل (ر) عبدالقیوم (ہلال امتیاز ملٹری)نے کہا کہ سابق چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر عطا الرحمن کی رپورٹ کے مطابق 2.5کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں سکول جانے والے بچوں میں سے 32فیصد بھاگ جاتے ہیں دیہی علاقوں کے 40فیصد سکولوں میں بجلی اور پانی نہیں جبکہ 49فیصد میں لیٹرین نہیں۔ ایم ڈی پاکستان بیت المال عون عباس بپی نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کا فوکس احساس اور سوشل ویلفیئر کے کاموں پر زیادہ ہے وزیراعظم نے ریاست مدینہ کے وژن کے مطابق ملک میں کوئی بھوکہ نہ رہے کیلئے پناہ گاہوں کے منصوبے کا آغا ز کیا۔ علاج معالجے اور دیگر ویلفیئر کاموں کیلئے موجودہ حکومت بجٹ پانچ ارب سے بڑھا کر 6.1ارب کیا جس کو 8ارب تک لے جانے کا پروگرام ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بو ن میرو، کڈنی ٹرانسپلانٹ اور کینسر کے مریضوں کے علاج پر بھاری خرچہ آتا ہے اس کے لئے خصوصی بجٹ مختص ہونا چاہئے جس پر قائمہ کمیٹی نے بھاری اخراجات والی سرجری کے مریضوں کی کے علاج کیلئے اضافی بجٹ مختص کرنے کی سفارش کر دی۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایک پنا ہ گاہ کا سالانہ خرچ پانچ کروڑ ہے۔ پناہ گاہوں کو ڈونیشن بھی آ رہی ہے جس میں سے آئی سی ٹی کی پانچ میں سے چار پناہ گاہیں ڈونیشن پر چل رہی ہیں۔ کراچی میں بھی پانچ پناہ گاہیں ہیں ادارے کو پناہ گاہ کیلئے موثر ڈونیشن مل رہی ہے۔ سینیٹر ڈاکٹر رخسانہ زیبری نے کہا کہ آئے دن خبریں سامنے آتی ہیں کہ ایک گم شدہ بچہ ملا ہے۔ ایک ایسا سسٹم ہونا چاہئے جس کے تحت گم شدہ بچوں کا ڈیٹا ایک جگہ اکھٹا ہو سکے۔ جس پر ایم ڈی بیت المال نے کہا کہ متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر ایک لاسٹ چلڈرن اپلیکیشن بنائی جائے گی جس میں گم شدہ بچوں کا ڈیٹا موجود ہوگا۔ انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ یتیم خانوں کو بڑھانے کی بجائے بیواؤں کو زیادہ سپورٹ کیا جا رہا ہے تا کہ وہ اپنے بچوں کی بہتر پرورش کر سکیں۔ قائمہ کمیٹی نے جلد سے جلد میکنزم بنانے کی ہدایت کر دی۔
    سینیٹر فدا محمد نے کہا کہ معاشرے میں آئس کا نشہ تیز ی سے پھیل رہا ہے اور خاص طور پر حیات آباد اور کراچی بری طرح لپیٹ میں آ چکا ہے۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر جمالدینی نے کہا کہ ملک میں کرونا وباء کی طرح ہپیٹا ئٹس بی اینڈ سی تیزی سے پھیل چکا ہے اسکو کنٹرول کرنے کیلئے اقدامات اٹھائیں جائیں۔ قائمہ کمیٹی سفارش کرتی ہے بیت المال کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے تاکہ ملک میں اس پھیلتی ہوئی بیماری کو جلد سے جلد کنٹرول کیا جا سکے۔

    سینیٹر رخسانہ زبیری نے کہا کہ اگر کسی گھر میں ایک سے زائد مریض ہوں تو بیت المال اپنی پالیسی میں ترمیم لا کر گھر کے تمام مریضوں کے علاج کیلئے اقدام لے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق ملک میں غربت میں کمی شرح خواندگی میں اضافہ اور لوگوں کو علاج معالجے کی بہتر سہولیات فراہمی کیلئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ جلد ایک بیواؤں اور یتیموں کی ویلفیئر کاایک پروگرام 7 اضلاع میں شروع کیا جا رہا ہے جس میں ہر ضلع سے احساس پروگرام کے تحت 100بیواؤں کو منتخب کیا جائے گا ایک بچے کی تعلیم کیلئے آٹھ ہزار اور ایک سے زائد کیلئے 12ہزار فراہم کئے جائیں گے۔

    ایک پائلٹ پروگرام ہے جس کو بعد میں پورے ملک میں پھیلایا جائے گا۔ ڈیجیٹل پیمنٹ کی فائل ابھی وزارت خزانہ نے فائنل نہیں کی کہ کس طرح پیمنٹ کرنی ہے۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ایس آر سی ایل کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ وہ علاقے جہاں ایک سے پانچ سال کے 120بچے موجود ہوں اور کام کرنے والے اگلے پانچ سال تک ایسے بچے دستیاب ہو سکیں۔ لیبر ادارے کی جانب سے ریکمنڈیشن اور وزارت غربت میں کمی اور سماجی تحفظ کی گائڈ لائن کے مطابق سکول قائم کیا جاتا ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ مالا کنڈ ڈویژن کے حوالے سے لیبر کے ادارے کی طرف سے کوئی ہدایت نہیں آئی۔ سینیٹر فدا محمد نے کہا کہ مالا کنڈ ڈونژن میں سینکڑوں مائنز، صنعتیں قائم ہو چکی ہیں 80ہزار کے قریب لیبر موجود ہے مگر مالا کنڈ ضلع میں کوئی سکول قائم نہیں کیا گیا۔

    ایم ڈی بیت المال نے کہا کہ قائم کمیٹی سفارش کرے۔ فزبیلٹی کرا کے ہدایت پر عمل کیا جائے گا۔ قائمہ کمیٹی برائے غربت میں کمی و سماجی تحفظ نے ایم ڈی پاکستان بیت المال اور اس کی ٹیم کی غریب عوام کو ریلیف کے حوالے سے فراہم کردہ خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ اراکین کمیٹی نے کہا کہ ادارے نے غریب عوام کیلئے جو خدمات سرانجام دیں ہیں وہ قابل تعریف ہیں۔ ادارے کے مسائل کے حل کیلئے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا اور کمیٹی ہر وقت معاونت کیلئے تیار ہے۔ قائم کمیٹی نے غریب عوام کو مزید ریلیف کے حوالے سے مزید اقدامات اٹھانے کی سفارش کر دی۔ قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹر ز لیفٹینٹ جرنل (ر) عبدالقیوم (ہلال امتیاز ملٹری)، انجینئر رخسانہ زیبری،ثمینہ سعید، فدا محمد کے علاوہ ویڈیو لنک کے ذریعے ایم ڈی پاکستان بیت المال، ڈی ایم ڈی بیت المال، سنیئر جوائنٹ سیکرٹری وزارت غربت میں کمی و سماجی تحفظ اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی

  • ایوان بالا کا اجلاس برائے اقلیتوں کا تحفظ ، تبدیلی مذہب  کا عدالتی طریقہ کار وضع کرنے کی منطوری

    ایوان بالا کا اجلاس برائے اقلیتوں کا تحفظ ، تبدیلی مذہب کا عدالتی طریقہ کار وضع کرنے کی منطوری

    ایوان بالا کی اقلیتوں کے تحفظ اور مذہب کی جبری تبدیلی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنونیئر کمیٹی سینیٹر ڈاکٹر سکندر میندرو کی زیر صدارت پارلیمنٹ لاجز میں منعقد ہوا۔ کمیٹی کے اجلاس میں جبری تبدیلی مذہب سے متعلق قانون سازی اور ”ولی“ اور ”جبری تبدیلی“کی تعریف کے لئے اسلامی نظریاتی کونسل کے ساتھ رابطے کا ایجنڈا زیرغور آیا۔

    کمیٹی جلاس میں کنوینیر کمیٹی سینیٹر ڈاکٹر سکندر میندرو نے کہاکہ پاکستان میں بسنے والے غیر مسلموں کی یہ شکایت رہی ہے کہ یہاں مذہب کو صرف شادی کے لئے تبدیل کرایا جاتا ہے۔ بیرون ممالک میں مذہب کو تبدیل کرنے کے لئے باقاعدہ عدالتوں میں طریقہ کار وضع ہے۔ کمیٹی کے اجلاس میں جبری تبدیلی مذہب سے متعلق بل پر غور کیا گیا اور بحث کی گئی۔ کمیٹی اجلاس میں متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ بل صرف اسلام آباد میں نہیں بلکہ پورے ملک میں نافذ العمل ہوگااورمذہب کی تبدیلی کے لئے مجسٹریٹ کے پاس رجسٹریشن ضروری قرار دی جائیگی۔ کمیٹی اجلاس میں متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ 18 سال سے کم عمر کے افراد کونابالغ ہی تصور کیا جائے۔کمیٹی کے اجلاس میں مذہب تبدیل کرنے والا باقاعدہ مجسٹریٹ کو درخواست دے گا، مجسٹریٹ مذہب تبدیلی کے حوالے سے باقاعدہ تقریب کا انعقاد کرے گا، جبری تبدیلی مذہب میں ملوث افراد کو پانچ سے دس سال قید کی سزا او راس معاملے میں سہولت کار کو تین سے پانچ سال سزا کی بھی تجاویز زیر غور آئیں۔ کنونیئر کمیٹی سینیٹر ڈاکٹر سکندر میندرو نے وزرات انسانی حقوق اور وزرات قانون کو ہدایت کی کہ ایک ہفتے کے اندر بل ڈرافٹ تیار کیاجائے۔

    کمیٹی اجلاس میں اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے جبری تبدیلی مذہب سے متعلق قانون سازی اور ”ولی“ او ر”زبردستی تبدیلی“کی تعریف کے حوالے سے جواب جمع کرایا گیا اور کہا گیا کہ کونسل ابھی مکمل نہیں ہے لہذا عبوری رائے دے سکتے ہیں۔جس پر کنونیئر کمیٹی نے کہا کہ کونسل کے جواب کا آئندہ اجلاس میں تفصیل سے جائزہ لیا جائے گا۔

    کمیٹی اجلاس میں ایم این اے لال چند کے علاوہ وزارت قانون، اسلامی نظریاتی کونسل، وزارت مذہبی امور اور وزارت انسانی حقوق کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی

  • اپوزیشن کا اپنا ”لونگ گواچ“چکا ہے،فردوس عاشق اعوان کا پی ڈی ایم کے لانگ مارچ پر ردعمل

    اپوزیشن کا اپنا ”لونگ گواچ“چکا ہے،فردوس عاشق اعوان کا پی ڈی ایم کے لانگ مارچ پر ردعمل

    فردوس عاشق اعوان نے پی ڈی ایم کے لانگ مارچ پر ردعمل پیش کرتے ہوئے کہا کہ لانگ مارچ پی ڈی ایم ٹولے کیلئے ایک ڈروانا خواب ثابت ہوگا،اپوزیشن عناصر کا اپنا ”لونگ گواچ“چکا ہے، یہ لانگ مارچ کیا کرینگے- سر سے پاؤ ں تک کرپشن کی دلدل میں دھنسے اس ٹولے کو صرف لوٹی دولت بچانے کی فکر ہے، پی ڈی ایم کرپشن کے مگر مچھوں کا ٹولہ ہے-جعلی راجکماری، سندھ کے شہزادے او رمولانا ایک دوسرے کو زیادہ دیر فریب نہیں دے سکیں گے،پی ڈی ایم تاش کے پتوں کی طرح جلد بکھر جائے گی-

    لاہورمیں وزیراعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ لانگ مارچ پی ڈی ایم ٹولے کے لئے ایک ڈروانا خواب ثابت ہوگا-اپوزیشن عناصر کا اپنا ”لونگ گواچ“چکا ہے، یہ لانگ مارچ کیا کریں گے – 26مارچ ابھی دور ہے،لانگ مارچ بھی استعفوں کی طرح ناکام ہی رہے گا- سر سے پاؤ ں تک کرپشن کی دلدل میں دھنسے اس ٹولے کو صرف لوٹی دولت بچانے کی فکر ہے – پی ڈی ایم کرپشن کے مگر مچھوں کا ٹولہ ہے -عوام کرپشن میں لت پت چوروں اور لیٹروں کو پہچان چکے ہیں -لیٹروں، چوروں اور بہروپیوں کا کوئی سیاسی مستقبل نہیں -جعلی راجکماری، سندھ کے شہزادے او رمولانا ایک دوسرے کو زیادہ دیر فریب نہیں دے سکیں گے-پی ڈی ایم تاش کے پتوں کی طرح جلد بکھر جائے گی-وزیراعظم عمران خان کی شفاف سیاست کے سامنے اس ٹولے کی منفی سیاست کا حشر نشر ہو چکا ہے-

  • بائیوٹیکنالوجی کے میدان میں متعدد پاکستانی چینیوں کے ساتھ مل کرکام.

    بائیوٹیکنالوجی کے میدان میں متعدد پاکستانی چینیوں کے ساتھ مل کرکام.

    پاکستان اور چین کے مابین کپاس کی تحقیق کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کو مستحکم کرنے کے لئے اہم پیشرفت ہو رہی ہے۔حکام کےمطابق پاکستان اور چین سی پیک کے فریم ورک کے تحت زرعی شعبے خصوصاََ کپاس کی تحقیق کے شعبے میں بڑی کوششیں کر رہے ہیں۔ اس تعاون کے لئے متعدد عوامل کار فرماہیں۔جن میں جغرافیائی قربت اور موسمی حالات شامل ہیں۔ بائیوٹیکنالوجی کے میدان میں متعدد پاکستانی چینیوں کے ساتھ مل کرکام کر رہے ہیں جس کے ذریعے کپاس کی نئی اقسام تیار کی جارہی ہیں جو موسم اثرات اور کیڑوں کے خلاف مزاحمت کی حامل ہیں

  • ایوان بالاء میں قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس، مختلف ترمیمی بل اورعوامی عرضداشت کا جائزہ

    ایوان بالاء میں قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس، مختلف ترمیمی بل اورعوامی عرضداشت کا جائزہ

    ایوان بالاء میں قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر فاروق حامد نائیک کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر شیری رحمان کے آئینی ترمیمی ایکٹ2019، سینیٹر محمد جاوید عباسی کے کمپنی ترمیمی بل 2020، سینیٹر مشتاق احمد کے اینٹی منی لانڈرنگ ترمیمی بل 2020، سینیٹر طلحہ محمود کے 4 فروری2020 کو سینیٹ اجلاس میں پوچھے گئے سوال، سینیٹر میر کبیر احمد محمد شاہی کے 30 اپریل 2019 کو سینیٹ اجلاس میں پوچھے گئے سوال، سینیٹر مشاہد اللہ خان کی جانب سے 16 ستمبر2020 کو اٹھائے گئے عوامی اہمیت کے معاملہ، 12 جنوری2021 کو چیئرمین سینیٹ کی جانب سے ریفر کی گئی عوامی عرضداشت 3423، ساؤتھ ایشن ریجن میں نیشنل بینک آف پاکستان کی 5 برانچوں کو بند کرنے کے معاملے،سینیٹر محسن عزیز کی جانب سے 13 جولائی2020 کو سینیٹ اجلاس میں پیش کیئے گئے موشن کے علاوہ حکومت کی جانب سے پاکستان سنگل ونڈو بل 2021 کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے پاکستان سنگل ونڈو بل 2021 کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ قائمہ کمیٹی نے بل کی متفقہ طور پر منظوری دے دی۔ سینیٹر شیری رحمان اور سینیٹر محمد جاوید عباسی کی کمیٹی اجلاس میں عدم شرکت پر ان کے ایجنڈوں کو آئندہ اجلاس تک موخر کر دیا گیا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر مشتاق احمد کے اینٹی منی لانڈرنگ ترمیمی بل 2020 کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے قانون کو جلدی میں پاس کیا گیا ہے۔ جلد بازی کی وجہ سے قوانین میں سقم ہیں اس لئے ترمیم لایا ہوں اور ادارے کی طرف سے جو جواب فراہم کیا گیا ہے اس سے اتفاق نہیں کرتا۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ جو بات آپ کر رہے ہیں وہ آپ کے مجوزہ بل میں نہیں۔اس بل کو واپس لے کر نیا ڈارفٹ بنا کر کمیٹی اجلاس میں پیش کریں۔ قائمہ کمیٹی کے ایجنڈے سے بل کو معزز سینیٹر مشتاق احمد نے واپس لے لیا تاکہ ڈرافٹ میں ترمیم لا کر کمیٹی میں پیش کیا جاسکے۔ سینیٹر طلحہ محمود کے سینیٹ اجلاس میں پوچھے گئے سوال کے حوالے سے چیئرمین و اراکین کمیٹی نے کہا کہ اس بل پر کافی بحث ہو چکی ہے اور معلومات فراہم کر دی گئی ہیں جن کو رپورٹ میں شامل کر کے ہاؤس میں پیش کر دیا جائے۔ کمیٹی نے معاملہ ختم کر دیا۔

    سینیٹر میر کبیر احمد محمدشاہی کے معاملے کے حوالے سے بھی چیئرمین وارا کین کمیٹی نے کہا کہ معلومات فراہم کر دی گئی ہیں ان کو رپورٹ میں شامل کر دیا جائے گا۔ کمیٹی نے معاملہ ختم کر دیا۔ سینیٹر مشاہد اللہ خان کے سینیٹ اجلاس میں اٹھائے گئے عوامی اہمیت کے معاملہ برائے مسٹر جاوید آفریدی پشاور زلمی کے مالک کی طرف سے مجموعی طور پر ادا کیے گئے ٹیکس کی تفصیلات کے حوالے سے سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ صرف ایک شخص کے ہی خلاف معاملہ کیوں اٹھایا گیا ہے دیگر لوگوں، کمپنیوں او ر تنظیموں کے ٹیکس کی تفصیلات کیوں طلب نہیں کی گئیں۔ چیئرمین کمیٹی کے سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ ایسی معلومات کا تحفظ ہوتا ہے۔آرٹیکل 216 کے تحت پروٹیکشن حاصل ہے۔قانون کے تحت ٹیکس کے تحت جمع کرائی جانے والی تمام دستاویزات کی حفاطت ٹیکس حکام کی ذمہ داری ہے۔ جس پر قائمہ کمیٹی نے معاملہ ختم کر دیا۔

    چیئرمین سینیٹ کی جانب سے ریفر کی گئی عوامی عرضداشت کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ ایڈوائز ایس ای سی پی نے کمیٹی کو تفصیلا ت سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پٹیشنر کے دو اکاؤنٹ 2017 اور2019 میں بنائے گئے تھے۔ جون2019 میں پٹیشنر نے اماؤنٹ لاسٹ کی شکایت کی۔معاملہ اسٹاک ایکسچینج کو بھیجا گیا جہاں ثالثی پینل نے تفصیل سے جائزہ لیا اور پینل کے سامنے پٹیشنر اپنا موقف ثابت نہ کر سکا۔ پھر ایپلٹ فورم پر گیا وہاں بھی یہ اپنا موقف ثابت نہ کر سکا۔اس کے پاس اپیل کا حق ہے۔ ایس ای سی پی نے دوبارہ درخواست پر بھی انسپیکشن ٹیم بھی قائم کی تاہم انسپیکشن ٹیم نے بھی بروکریج کمپنی کو قصوروار نہیں پایا۔ کمیٹی نے معاملہ ختم کر دیا۔ سینیٹر عائشہ رضا فاروق نے کہا کہ ایسا میکنزم ضرور اختیا رکرنا چاہیے جس کے تحت عام لوگوں کو اس طرح کے مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ نیشنل بینک کی ساؤتھ ایشن ریجن میں 5 برانچوں کو بند کرنے کے معاملے کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

    نیشنل بینک حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ نیشنل بینک کی مختلف ممالک میں 23 برانچیں قائم کی گئی ہیں۔ جنوبی ایشیا میں 6برانچیں ہیں، صرف دو برانچیں ایک افغانستان اور ایک بنگلہ دیش میں بند کر نے کی منظوری حاصل کی گئی ہے۔ منظوری وزارت خزانہ، اسٹیٹ بینک پاکستان اور متعلقہ ملک کے ریگولیٹر سے حاصل کی جاتی ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ افغانستان کے علاقہ جلال آباد اور بنگلہ دیش کے علاقہ سلٹ میں دونوں برانچیں مسلسل خسار ے میں جا رہی تھیں جس کی وجہ سے انہیں بند کیا جارہا ہے۔ بنگلہ دیش میں مزید برانچوں چٹاگانگ اور ڈھاکہ کی برانچوں کو بھی منظوری کے بعد بند کر دیا جائے گا۔ جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ذمہ دار افسران اور بینکوں کی جانب سے دیے گئے قرض کی تفصیلات اور خسارے کی وجوہات کمیٹی کو فراہم کی جائیں جن کو مزید جائزہ لیا جائے گا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر محسن عزیز کے معالے کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ کمرشل بینکوں کی جانب سے صوبہ خیبر پختونخواہ کی عوام کو مجموعی قرض کا صرف ایک فیصد اور صوبہ بلوچستان کی عوام کو 0.4 فیصد قرض دیا گیا ہے جو سراسر ذیادتی ہے اس مسئلے کا پہلے بھی تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ اتنا فرق کیوں آیا ہے۔اسٹیٹ بنک پاکستان ان صوبوں کیلئے رعائتی سکیمیں متعارف کرائے تاکہ یہاں کی صنعتوں کو فروغ مل سکے۔سینیٹر ذیشان خانزادہ نے کہا کہ ان صوبوں میں سیاحت کو فروغ حاصل ہوا ہے۔ بینکوں نے کم شرح سے قرض دینے کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کمیٹی حکومت سے سفارش کرتی ہے کہ ملک کے چھوٹے صوبوں میں کاروبار کیلئے قرض فراہمی میں تفریق کو ختم کیا جائے۔

    سینیٹرمیاں عتیق شیخ نے کہا کہ ملک میں 28 پرائیوٹ لمیٹڈ کمپنیاں لوگوں سے سرمایہ کاری حاصل کر رہی ہیں۔ اس سلسلے کو روکنے کیلئے اسٹیٹ بینک فوری اقدامات کرے۔جس پر ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ معزز سینیٹر صاحب کمپنیوں کی تفصیلات فراہم کر دیں اس پر کاروائی کریں گے۔

    قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرز محسن عزیز، میاں محمد عتیق شیخ، عائشہ رضا فاروق، ذیشان خانزادہ کے علاوہ ایڈیشنل سیکرٹری وزارت خزانہ، سپیشل سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بنک پاکستان، چیئرمین ایف بی آر،چیف کسٹم ایف بی آر، ایم ڈی این ایس پی سی، این بی پی و دیگر متعلقہ اداروں کے حکام نے شرکت کی

  • کاروبارمیں آسانی کیلئےکونسی اصلاحات جاری ہیں؟ ڈاکٹر علوی نے بتا دیا!!

    کاروبارمیں آسانی کیلئےکونسی اصلاحات جاری ہیں؟ ڈاکٹر علوی نے بتا دیا!!

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ ملک میں سرمایہ کاری کیلئے ماحول سازگار ہے اور کاروبارمیں آسانی کیلئے اصلاحات جاری ہیں، تاجر برادری ٹیکس ادا کرنے کی ترغیب دینے کی کوششوں میں اپنا کردار ادا کرے، افغانستان میں امن سے خیبر پختونخوا کو فائدہ اور علاقائی تجارت کو فروغ حاصل ہوگا۔ صدر مملکت نے ان خیالات کا اظہار گورنر ہاؤس پشاورمیں خیبر پختونخوا کی کاروباری برادری سے ملاقات میں کیا۔ گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان، ایف پی سی سی آئی کے سابق صدر غضنفر بلور، سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر شیر باز الیاس اور چیمبر کے دیگر عہدیداران بھی موجود تھے۔ صدر مملکت نے کہا کہ مکمل ٹیکس ادائیگی سے تجارتی خسارہ کم کرنے اور ترقیاتی منصوبوں کے لئے فنڈز کی فراہمی میں مدد ملے گی، تاجر برادری ملک میں ٹیکس ادا کرنے کی ترغیب دینے کی کوششوں میں اپنا کردار ادا کرے۔ صدر عارف علوی نے کہا کہ موجودہ حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کی کی وبا کے دوران 1.2 کھرب کا معاشی ریلیف پیکج دیا گیا ہے ،حکومت بزنس کمیونٹی کو مسابقتی کاروباری ماحول فراہم کرنے کے لئے پرعزم ہے ، ملک میں سرمایہ کاری کیلئے ماحول سازگار ہے اور کاروبارمیں آسانی کیلئے اصلاحات جاری ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ تاجر برادری حکومت سے روابط مزیدبہترکرےاور کاروباری ماحول کی بہتری کیلئے تجاویز دے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیاحت اور آئی ٹی شعبےمیں موجود مواقع سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ افغانستان میں امن سے علاقائی تجارت کو فروغ ملے گا اور اس کا سب سے پہلےخیبر پختونخوا کو فائدہ ہوگا۔ اس موقع پر تاجر برادری نے کاروباری شعبے کے تحفظ اور علاقائی تجارت کے فروغ کیلئے حکومتی اقدامات کی تعریف کی۔ صدر مملکت کو وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں کے ذریعے تجارت کے امکانات اور فوائد کے متعلق بریفنگ دی گئی۔