(باغی سپورٹس) قومی ٹرے ہاکی چیمپئن شپ فائنل میں پنجاب نے پلنٹی شوٹ آؤٹ پر ماڑی پٹرولیم کو شکست دے دی ،،،
دونوں ٹیموں کے درمیان فائنل میچ میں دلچسپ مقابلہ دیکھنے میں آیا،،، ہاف ٹائم تک دونوں ٹیموں کے درمیان میچ بغیر کسی گول کے برابر تھا ،،، پنجاب نے تیسرے کوارٹر میں دو گول کرکے دوصفر کی برتری حاصل کرلی ،، چوتھے کوارٹر میں ماڑی پٹرولیم نے دو گول کرکے میچ دودو گول کرکے برابر کردیا ،،،
مقررہ وقت میں میچ دو دو گول سے برابر ہونے پر دونوں ٹیموں کو پانچ پانچ پلنٹی شوٹ آوٹ دئیے گئے ،،شوٹ آوٹ ہر پنجاب نے دو کے مقابلے میں چار گول سے کامیابی حاصل کرلی ،،،ایشین ہاکی فیڈریشن کے چیف ایکزیکٹیو طیب اکرام مہمان خصوصی تھے،،،
سیکرٹری پی ایچ ایف آصف باجوہ ، گورنر روٹری کلب تعظیم احمدکمبوہ ،،قومی سلیکشن کمیٹی کے چئیرمین منظور جونئیر، اراکین خالد حمید ، ناصر علی اور وسیم فیروز ،
بھی مہمانوں میں شامل تھے ،،
Tag: باغی ٹی وی
-

قومی ٹرے ہاکی چیمپئن شپ فائنل میں پنجاب نے دے دی شکست
-

مصباالحق نے قومی کرکٹ کے حوالے سے بڑا اعلان کردیا،جانیے اس خبر میں
(باغی اسپورٹس)زمبابوے کے خلاف دوسرے ون ڈے میچ کے لیے 15 رکنی قومی اسکواڈ کا اعلان کردیا گیا،قومی اسکواڈ کا اعلان قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق نے کیا تفصیلات کے مطابق اسکواڈ میں صرف ایک تبدیلی کی گئی ہے، حارث سہیل کی جگہ نوجوان حیدر علی کو اسکواڈ میں شامل کیا ہے، حارث سہیل ابھی مکمل فٹ نہیں ہوئے،
شاداب خان نے ابھی ٹریننگ کا آغاز کیا ہے، دوسرے ون ڈے میں بھی انہیں آرام دے رہے ہیں،
زمبابوے کے خلاف اعلان کردہ 15 رکنی قومی اسکواڈ میں کپتان بابر اعظم، امام الحق اور عابد علی شامل
فخر زمان، حیدر علی، محمد رضوان، افتخار احمد اور خوشدل شاہ بھی اسکواڈ کا حصہ
فہیم اشرف، عماد وسیم، عثمان قادر، وہاب ریاض، شاہین آفریدی، حارث رؤف اور موسی خان اسکواڈ میں شامل
دونوں ٹیموں کے مابین دوسرا ون ڈے میچ کل بروز اتوار کو پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم راولپنڈی میں کھیلا جائے گا -

نیشنل انڈر 19 ون ڈے چیمپئن شپ کا فائنل پیر کو دفاعی چیمپئن سندھ اور ناردرن کے درمیان کھیلا جائے گا
باغی اسپورٹس(لاہور) نیشنل انڈر19 ون ڈے چیمپئن شپ کا فائنل 2 نومبر بروز پیر کو دفاعی چیمپئن سندھ اور ناردرن کی ٹیموں کے مابین قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلا جائے گا۔ دونوں ٹیمیں 14، 14 پوائنٹس کے ساتھ پوائنٹس ٹیبل پر بالترتیب پہلے اور دوسرے نمبر پر رہیں۔ کے پی نے 12 اور سنٹرل پنجاب نے 10 پوائنٹس حاصل کیں۔سدرن پنجاب کی ٹیمیں بالترتیب پانچویں اور چھٹی پوزیشن پر رہیں۔
ہفتے کے روز کھیلے گئے ایونٹ کے تین لیگ میچز میں ناردرن، سندھ اور کے پی نے اپنے اپنے میچز جیت لیے۔
ایل سی سی اے گراؤنڈ لاہور میں کھیلے گئے میچ میں ناردرن نے سدرن پنجاب کو 4 وکٹوں سے ہرادیا۔ناردرن نے 128 رنز کا ہدف 29.4 اوورز میں 6 وکٹوں کےنقصان پر حاصل کرلیا۔ مبصر خان 58 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے۔ سدرن پنجاب کے فیصل اکرم نے تین وکٹیں حاصل کیں۔اس سے قبل سدرن پنجاب کی ٹیم پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 127 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔اوپنر عون شہزاد نے 50 رنز بنائے۔ مبشر علی نے40 رنز بنائے۔ ناردرن کے مبصر خان نے 3جبکہ سجاد خان، مہران ممتاز اور عادل ناز نے 2،2 وکٹیں حاصل کیں۔
مریدکے کنٹری کلب میں کھیلے گئے میچ میں سندھ نے سنٹرل پنجاب کو 9 وکٹوں سے شکست د ےدی۔ سندھ نے 180 رنز کا ہدف 31ویں اوور میں حاصل کرلیا۔ مبشر نواز نے 85 اوررضوان محمود نے 83 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلیں۔سنٹرل پنجاب کی جانب سے واحد وکٹ منیب واصف نے حاصل کی، انہوں نے صائم ایوب کو کھاتہ کھولے بغیر پویل واپس پہنچایا۔ ۔اس سے قبل عدیل میو کی عمدہ باؤلنگ کی بدولت سنٹرل پنجاب کی پوری ٹیم 46.1 اوورز میں 179 پر آؤٹ ہوگئی۔ بائیں ہاتھ کے اسپنر نے 34 رنز کے عوض 5 وکٹیں حاصل کیں۔حسنات عباس 44 رنز بنا کر نمایاں رہے۔
رانا نوید الحسن کرکٹ اکیڈمی شیخوپورہ میں کھیلے گئے میچ میں خیبرپختونخوا نے بلوچستان کو 183 رنز کے بھاری مارجن سے ہرادیا۔ کے پی نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ پچاس اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 287 رنز بنائے۔ معاذ صداقت 82 اور حسیب خان 77 رنز بناکر سب سے نمایاں رہے۔اورنگزیب نے 3 وکٹیں حاصل کیں۔ جواب میں بلوچستان کی پوری ٹیم 33.5 اوورز میں 104 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔ ذیشان احمد اور شاہد عزیز نے 3،3 وکٹیں حاصل کیں۔باسط علی نے سب سے زیادہ 26 رنز بنائے۔
-

اوگرا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کاامکان،ریلیف دینے کا سوچ لیا
اوگرا نے عوام کوریلیف دینے کا سوچ لیا
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 2 روپے فی لٹر کمی کاامکاناوگرا نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی سمری حکومت کو بھجوا دی۔
پٹرول ایک روپیہ 50 پیسے فی لٹر سستا کرنے کی سفارش کی گئی ہے جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے فی لٹر تک کمی کی تجویز ہے
وزیراعظم کی منظوری کے بعد نئی قیمتوں کااعلان ہوگا
وزارت خزانہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق اعلان آج کرے گی
نئی قیمتوں کا تعین 15 روز کےلئے کیا جائے گا
-

سوشل میڈیا سے وابستہ صحافیوں کی آواز: علی حسین مرزا
وہ تمام صحافی جن کا تعلق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز یا آن لائن یوٹیوب چینلز اور ویب پورٹلز سے ہوتا ہے ان کو تھانہ کچہری اور جائے واقعہ وغیرہ پر استحصال کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ حالانکہ فی زمانہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کی نسبت سوشل میڈیا پر خبر پہلے پہنچتی ہے اور زیادہ وائرل ہوتی ہے۔ انصاف کی نگاہ سے دیکھا جائے تو سوشل میڈیا سے وابستہ چینلز اور پیجز سے وابستہ صحافی حضرات الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا سے وابستہ صحافیوں کی نسبت زیادہ دماغ کھپائی کرتے ہیں۔ وقت کم ہوتا ہے اور فی الفور خبر بریک کرنا ہوتی ہے۔ الیکٹرانک میڈیا کی تیزرفتاری اپنی جگہ لیکن خبر بریک ہوکر وائرل ہونے میں سوشل میڈیا زیادہ کارآمد ثابت ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بڑے بڑے اور کامیاب الیکٹرانک میڈیا ہاوسز بھی سوشل میڈیا کا سہارا لیتے ہیں تاکہ انکو رینکنگ ملے۔ المختصر سوشل میڈیا کی طاقت کا ہر صحافتی ادارہ معترف ہے لیکن پھر کیا وجہ ہے کہ سوشل میڈیا سے وابستہ صحافی طبقے کو استحصال کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ کیوں؟ صحافت پیغمبرانہ فعل ہے۔ اور یہ فعل کسی ایک طبقے کی میراث نہیں ہے۔ سچ کو آشکار کرنے کے لیے ایمانداری بروئے کار لائی جاتی ہے ناکہ بیجز اور مائیک اور ہرے بھرے لوگوز۔
سوشل میڈیا سے وابستہ صحافی طبقے کی آواز
بقلم: علی حسین باغی ٹی وی اوکاڑہ
-
اولمپکس 2020 ہاکی کوالیفائرز : پاکستان بمقابلہ نیدر لینڈ پہلا میچ برابر ہوگیا
ایمسٹرڈیم: اولمپکس ہاکی کوالیفائنگ راؤنڈ کا ۔پہلا میچ پاکستان اور نیدر لینڈ کی ٹیموں کے درمیان کھیلا گیا میچ 4۔4 گول سے برابر ہو گیا ، پاکستان ہاکی ٹیم نیدر لینڈ کیخلاف اپنا دوسرا میچ کل بروز اتوار کھیلے گی ،
پاکستان کی جانب سے مبشر علی ، غضنفر علی،محمد رضوان اورعلی مبشر نے گول کئے، پہلے کوارٹر تک اختتام تک پاکستان کو 0۔1کی برتری حاصل تھی ، وقفے تک مقابلہ 2۔2گول سے برابر تھا ، دونوں ٹیموں کے درمیان دوسرا میچ کل کھیلا جائے گا
اولمپک کوالیفائرز کی فاتح ٹیم اولمپک گیمز ٹوکیو 2020 کیلئے کوالیفائی کرے گی -

پاکستان میں معیشت کی بہتری ممکن ہے ، لیکن کیسے ؟
اب تک تقریبا ہر شخص یہ تسلیم کرچکا ہے کہ کھپت پر مبنی ترقی کا ماڈل جس پر پاکستان بہتر شرح نمو کو حاصل کرنے کے لئے بھروسہ کرتا ہے وہ ناقابل برداشت ہے۔ زیادہ تر مبصرین اس بات سے بھی متفق ہیں کہ پاکستان کو ترقی کے کلیدی محرک کی حیثیت سے برآمدات کی طرف رخ کرنا چاہئے۔ اس بیانیہ نے موجودہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو استحکام کے ضروری اقدامات پر عمل درآمد کرنے کے لئے اہم گنجائش فراہم کی ہے جس کا مقصد کھپت پر قابو پانا ہے جبکہ بیک وقت ، صنعتوں کو برآمد کرنے کے لئے مراعات فراہم کرنا ہے۔
تاہم ، بیشتر مبصرین کی یہ اور اس جیسی پالیسی تجاویز نے اس غلط فہمی کو جنم دیا ہے کہ معاشی عدم توازن کا ازالہ کرنے کے لئے صرف استحکام کی پالیسیاں ہی کسی نہ کسی طرح اعلی نمو کے راستے کو جنم دیتی ہیں جو کہ آئی ایم ایف کے بیل آوٹ پیکج سے بچا لیتی ہیں یہ غلط ہے۔
استحکام کی پالیسیاں جس میں مالی اور مالیاتی پالیسیاں شامل ہیں معیشت کو اس کی بنیادی پیداواری شرح نمو کے گرد مستحکم کرتی ہیں۔ اس کو دیکھنے کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ، جب بھی جی ڈی پی بنیادی پیداواری شرح نمو سے زیادہ بڑھتی ہے ، معاشی عدم توازن سامنے آنا شروع ہوتا ہے ، جس سے پالیسی سازوں کو استحکام کی پالیسیوں کے ساتھ جواب دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔
اگر 2013 سے 2018 تک کے مالی سال اور ان کی جی ڈی پی گروتھ کی بات کی جائے تو ان سالوں میں شرخ نمو 4 فیصد سے زائد رہی لیکن کرنٹ اکاونٹ خسارہ کل جی ڈی پی کا 1.54- سے 6.14- تک جا پہنچا ، جس کے نتائج ابھی تک موجودہ حکومت بھگت رہی ہے،اسی طرح کی صورتحال مالی سال 2004 سے 2008 کے درمیان پیدا ہوئی جب جب ملک کی جی ڈی پی گروتھ 5 فیصد سے زائد تھی لیکن پانچ سال بعد کرنٹ اکاونٹ خسارہ جو کہ جی ڈی پی کا 0.8 فیصد تھا وہ 9.2 فیصد تک جا پہنچا، ان دونوں ادوار میں خسارے کی بنیادی وجہ پالیسی ایڈجسٹمنٹ کا دیر بعد ہونا ثابت ہوئی، اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اگر آپ اپنی ترقی کی شرخ 5 فیصد سے اوپر لیکر جانا چاہتے ہیں تو اس کی بنایدی وجہ ملک کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہونا چاہیے نہ کہ مانیٹری یا مالیاتی پالیسی کی توسیع ہونی چاہیے،
مہاتیر محمد نے بھارت سے تجارت کے متعلق اہم اعلان کر دیا
ہماری توجہ کو پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے کی طرف موڑنے کی اہمیت کو اس اہم کردار کو تسلیم کرکے مزید سراہا جاسکتا ہے جو اس نے ملک کی برآمدات کی کارکردگی میں ادا کیا ہے۔ جرنل آف انٹرنیشنل اکنامکس میں شائع ہونے والے 2002 کے ایک مقالے میں ، محققین ہسپانوی مینوفیکچرنگ فرموں کے اعداد و شمار کا استعمال کرتے ہیں تاکہ یہ ظاہر کیا جا سکے کہ برآمدی منڈی میں داخل ہونے کا امکان زیادہ تر پیداواری فرموں کے پاس ہے۔جائزہ برائے عالمی اقتصادیات میں شائع ہونے والے 2005 کے ایک مقالے میں ، بوکونی یونیورسٹی اور سنٹر فار یورپی اقتصادی تحقیق کے محققین نے جرمن مینوفیکچرنگ فرموں کے لئے اسی طرح کے نتائج برآمد کیے۔ امریکن اکنامک ریویو میں شائع ہونے والا 2008 کا ایک مقالہ تائیوان کے الیکٹرانکس پروڈیوسروں کے لئے بھی یہی دکھایا گیا ہے۔
معیشت کی پیداواری صلاحیت کا تعین کرنے والے عین عوامل بہت زیادہ چرچ کا موضوع بنے ہوئے ہیں جو ابھی تک حل طلب نہیں ہیں۔ لیکن نسبتا یقین کے ساتھ جو کچھ کہا جاسکتا ہے وہ یہ ہے کہ پیداواری شرح نمو اس بات پر منحصر ہے کہ کسی ملک کے معاشی وسائل پیداواری مقاصد کے لئے کس طرح موثر انداز میں اکٹھے ہوسکتے ہیں، پیداواری صلاحیت کو بڑھانے کی خاطر، پالیسی سازوں کو اپنی توجہ صرف وسائل کے معیار پر ہی محدود نہیں رکھنا چاہئے۔ اس کے بجائے ، اور جیسا کہ رابرٹ سولو (ایک اور نوبل انعام یافتہ ماہر معاشیات) کہتا ہے کہ ، معاشرتی اصول اور ادارے بھی کسی ملک کی پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے کی جستجو میں عوامل کو محدود کرنے یا ان کو بہتر کرنے میں اہم ثابت ہوسکتے ہیں۔
گوادر پورٹ پوری طرح فعال ہے، برآمدات میں کتنا ہوا اضافہ؟ مشیر تجارت نے بتائی اہم باتیں
اس پر غور کرتے ہوئے ، ایسی کوئی بھی پالیسی جو کسی ملک کے وسائل یعنی زمین ، مزدوری اور سرمایے کے مابین تعامل کو سہولت فراہم کرتی ہے یا اس طرح کے وسائل کے معیار کو بہتر بناتی ہے وہ معیشت کی پیداوری کو بڑھانے میں معاون ثابت ہوگی۔
بہت سے معاملات میں ، قدیم اور ناقص تحقیق شدہ قواعد و ضوابط کی بہتات معاشی وسائل کو اکٹھا کرنے میں کلیدی رکاوٹ پیش کرتی ہے۔ دوسرے معاملات میں ، مناسب قوانین کا فقدان وہ ہے جو مارکیٹوں کی ترقی میں رکاوٹ ہے۔سی فوڈ کی برآمدات میں ریکارڈ اضافہ
اسی طرح علاقائی وسطی اور جنوبی ایشین معیشتوں کے ساتھ تجارتی روابط کو فروغ دینے کے مقصد کے ساتھ اہم انفراسٹرکچر اور سفارتی راہداری میں رکاوٹوں کا ازالہ کرنا معیشت کی پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے میں بہت آگے جاسکتا ہے۔ تکنیکی اور پیشہ ورانہ تربیتی پروگراموں کی اصلاح ایک اور شعبہ ہے جس پر ضروری توجہ نہیں دی گئی ہے۔ اب جبکہ حکومت نے استحکام کے بیشتر اقدامات پہلے ہی کر رکھے ہیں ، لہذا توجہ مرکوز کو پیداواری صلاحیت میں بہتری لانے کی طرف ہونا چاہئے۔ توقع ہے کہ ایک سال کے عرصے میں معیشت مستحکم ہونے لگے گی۔ تاہم ، یہ سارے اسباب کم و بیش چار فیصد کی معمولی شرح سے بڑھ رہے ہیں۔
اور اب اگر حکومت ان اصلاحات کا آغاز نہیں کرتی تو الیکشن کے قریب حکومت کو ایک بار پھر پرانے گھسے پٹے نعروں اور ترقی کے اشاروں کا سہارا لینا ہوگا جو کہ عین ممکن ہے کہ ایلکشن میں کامیاب نہ کرو سکیں،
-

ورلڈ ریبیز ڈےاور پاکستان : علی چاند
دنیا بھر میں 28 ستمبر کو ورلڈ ریبیز ڈے منایا جاتا ہے ۔ اس دن کے منانے کا مقصد دنیا بھر سے ریبیز کی بیماری کو روکنا اور کنٹرول کرنا ہے ۔ ریبیز ایک جان لیوا بیماری ہے جو کسی جانور خاص طور پر کتے کے کاٹنے سے ہوتی ہے ۔ ریبیز لاٸسا واٸرس کی وجہ سے پھیلتی ہے جو انسان میں تب اثر انداز ہوتی ہے جب یہ واٸرس انسان کی ریڑھ کی ہڈی یا دماغ کی طرف بڑھتا ہے ۔ یہ واٸرس عصاب کے ذریعے دماغ تک پہنچتا ہے اور جب یہ واٸرس دماغ تک پہنچتا ہے تو اس مرض کی علامات ظاہر ہوتی ہیں ۔ یہ واٸرس شکل میں پستول کی گولی سے مشابہ ہوتا ہے ۔ یہ واٸرس پاگل کتے کے کاٹنے سے اس کی رطوبت کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے انسان میں ریبیز کی بیماری ہوتی ہے ۔
ریبیز کی بیماری کی دو اقسام ہوتی ہیں ۔ فیورس اور ڈمپ ۔ فیورس سے انسانی دماغ میں سوزش ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے مریض بے چینی اور ڈپریشن محسوس کرتا ہے ۔ ایسی حالت میں مریض انسان کو باقی لوگوں سے الگ کسی محفوظ مقام پر منتقل کر دینا چاہیے جبکہ ڈمپ میں انسان پٹھوں کی کمزوری اور فالج کی کیفیت میں مبتلا ہوجاتا ہے ۔ ایسی حالت میں انسان کی جلد موت واقع ہوجاتی ہے ۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس بیماری کا کورس تین ٹیکوں پر مشتمل ہوتا ہے ۔ اور یہ ٹیکے بیماری کے پہلے دن ، ساتویں اور اٹھاٸیسویں دن لگانے ہوتے ہیں ۔ اس کے بعد احتیاط کے طور پر ایک سال بعد ایک ٹیکہ اور پانچ سال بعد ایک اور ٹیکہ لگوا کر اس بیماری سے مستقل طور پر بچا جا سکتا ہے ۔ کتے کے کاٹنے کے فورا بعد مریض کے زخم کو اچھی طرح دھونا چاہیے اگر جراثیم کش لیکوڈ پاس ہو تو چاہیے کہ زخم کو اس سے دھویا جاٸے ۔ زخم پر ٹانکے ہرگز نہ لگواٸیں جاٸیں اور نہ ہی زخم کے اوپر پٹی کرنی چاہیے ۔
دنیا بھر میں اکثر ممالک میں یا تو ریبیز کا مکمل خاتمہ ہوچکا ہے یا پھر یہ بیماری زوال پذیر اور ختم ہونے کے قریب ہے ۔ لیکن پاکستان میں بد قسمتی سے ابھی بھی صورتحال بدتر سے بدتر ہوتی جارہی ہے ۔ اس کی بڑی وجہ مرض سے لاعلمی اور پھر علاج کے لیے گھریلو ٹوٹکے اور دیسی علاج ہیں ۔ اس کے علاوہ اہم وجہ پاکستان کے ہسپتالوں کی ابتر صورتحال اور ادویات کی کمی بھی ہے ۔ پاکستان میں ریبیز کی ویکسین کی کمی کی وجہ سے پانچ ہزار لوگ موت کا شکار ہورہے ہیں ۔ ایک حالیہ رپوٹ کے مطابق 9 ماہ میں صرف کراچی میں ریبیز کے تقریبا آٹھ ہزار مریض سامنے آٸیں ہیں ۔ محکمہ سندھ کی طرف سے شاٸع کردہ رپوٹ کے مطابق اس سال کے پہلے پانچ ماہ میں کتے کے کاٹے کے 69 ہزار کیس سامنے آٸے ہیں ۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت لوگوں کو اس بیماری کے بچاو کے حوالے سے حفاظتی انتظامات کے طریقوں سے آگاہ کرے ۔ ریبیز کے مریضوں کو بھر وقت ویکسین کی سہولت دی جاٸے ۔ ہسپتالوں میں ادویات کی کمی کو پورا کیا جاٸے ۔ کتوں کی نسل کشی کی جاٸے اور ایسے کتے جس سے ریبیز کی بیماری کا خطرہ ہو انہیں فوری طور پر مار دیا جاٸے ۔ لوگوں کو ریبیز کے حوالے سے مکمل آگاہی دی جاٸے اور ابتداٸی طبی امداد کے حوالے سے آگاہ کیا جاٸے ۔
-

جارح مزاج بیٹسمین اگر ٹک ٹک کرنے لگے گا تو کھیل نہیں پائے گا ، مصباح الحق
پاکستان کرکٹ ٹيم کے ہيڈ کوچ مصباح الحق کا کہنا ہے کہ پاکستان ہو یا کوئی اور ملک، اب کہیں بھی کچھ بھی ہوسکتا ہے، ہمیں کرکٹ کو جاری رکھنا چاہیے، دنیا کو چاہیے کہ اب وہ پاکستان آکر کرکٹ کھیلے، اب یہاں کے فینز کو زیادہ دير ایکشن سے محروم نہیں رکھا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ اچھا ہوتا اگر سری لنکا کی فل اسٹرینتھ ٹیم یہاں ہوتی لیکن جو ٹیم آئی ہے وہ بھی بہتر ہے اور پاکستان ٹیم کو سرپرائز کرسکتی ہے۔ بطور پروفیشنل کرکٹرز وہ یہ نہیں سوچتے کہ کون سا کھلاڑی ہے اور کون سا نہیں، سری لنکا کی ٹیم ویسے ہی نوجوان پلییئرز پر مشتمل ہے۔قومی ٹیم کے ہيڈ کوچ کے مطابق سری لنکا سے سیریز ميں نوجوان کرکٹرز کیلئے بھی کارکردگي دکھانے کے مواقع موجود ہيں کھلاڑی سیریز میں اپني سو فیصد پرفارمنس دیں گے، پاکستان اس سیریز میں بھرپور کرکٹ کھیلے گا اور امید ہے کہ فینز کو اچھی کرکٹ دیکھنے کو ملے گی۔
مصباح الحق کا کہنا تھا کہ یہ سب کیلئے اہم لمحہ ہے کیوں کہ پاکستان کافی عرصہ بعد ہوم گراؤنڈ پر ون ڈے انٹرنیشنل کھیل رہا ہے۔ قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد سے متعلق ہیڈ کوچ نے کہا کہ سرفراز احمد نے بہت محنت کی ہے، اس کی کپتانی کی کامیابی کیلئے ضروری ہے کہ وہ خود بھی پرفارم کرے، میری تمام سپورٹ سرفراز احمد کے ساتھ ہے اور امید ہے کہ وہ سیریز میں اچھا پرفارم کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے بھی سرفراز کی حمایت کی اور آج بھی ان کی سپورٹ کرتے ہیں، ماضی میں سرفراز نے بطور کپتان کافی اچھے نتائج دییے ہیں جن میں چیمپئنز ٹرافی کی جیت اور ٹی ٹوئنٹی میں نمبر ایک ہونا شامل ہے، چیزیں اوپر نیچے ہوجاتی ہیں جو جلد بہتر ہوجائیں گی۔
قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ نے مزید کہا کہ وہ اس بات کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ پلیئرز اپنا نیچرل گیم کھیلیں، جارح مزاج بیٹسمین اگر ٹک ٹک کرنے لگے گا تو نہیں کھیل پائے گا، ضرورت اس بات کی ہے کہ ٹیسٹ کیلئے ایک مضبوط ٹیم تیار کی جائے، اور یہی ان کا فوکس ہے۔ مصباح کا کہنا تھا کہ ڈومیسٹک کرکٹ سے انٹرنیشنل کرکٹ میں آنے کیلئے صرف پرفارمنس ہی کافی نہیں، پلیئرز کو معیار کے مختلف باکسز پر ٹک مارک کرنا ضروری ہے جس کے بعد وہ انٹرنیشنل معیار پر پورا اترتاہے، ڈومیسٹک کرکٹ کا معیار بہتر ہونے سے امید ہے کہ کرکٹ بھی بہتر ہوگی۔ مصباح الحق نے کہا آسٹریلیا میں ہمیشہ بیٹنگ کی وجہ سے پریشانی رہتی تھی لیکن پچھلے دورے میں بیٹنگ سے زیادہ پریشان بولنگ نے کیا تھا،
آسٹریلیا میں کامیابی کیلئے ضروری ہے کہ حریف کی 20 وکٹیں حاصل کی جائیں۔ ایک سوال پر چیف سلیکٹر کا کہنا تھا کہ فاسٹ بولرز کا ٹیسٹ کرکٹ چھوڑنا اچھی بات نہیں کیوں کہ ٹیسٹ کی کارکردگی کو ہمیشہ یاد رکھا جاتا ہے لیکن اب یہ ایک کھلاڑی ہی بہتر بتاسکتا ہے کہ اس کا جسم کتنا ورک لوڈ برداشت کرسکتا ہے۔ ک سوال کے جواب میں مصباح الحق نے کہا کہ مکی آرتھر اور انضمام الحق کی مینجمنٹ نے اچھے کام بھی کیے، بابر اعظم جیسے ورلڈ کلاس کھلاڑی کا آنا، شاہین آفریدی اور شاداب جیسے بولرز ملنا ، اس کا سابق مینجمنٹ کو کریڈیٹ جاتا ہے، جو ان کے اچھے کام ہوئے، ہم ان کو آگے بڑھائیں گے۔ یاد رہے کہ مصباح الحق کے قومی ٹیم کے چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ بننے کے بعد پاکستان اور سری لنکا کے درمیان پہلی سیریز ہے جس کیلئے انہوں نے ٹیم کا اعلان کیا ہے۔ سری لنکا کی ٹیم پاکستان پہنچ چکی ہے اور وہ کراچی میں 3 ایک روزہ اور لاہور میں 3 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے گی۔ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان پہلا ون ڈے انٹرنیشنل میچ 27 ستمبر کو نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔ -

وال مارٹ نے امریکہ میں ای سگریٹ کی فروخت بند کردی
امریکہ میں کاروبار کے سب سے بڑے بروکر وال مارٹ نے الیکٹرنک سگریٹ کی فروخت پر مکمل پابندی عائد کر دی ، اس پابندی کی بڑی وجہ الیکڑانک سگریٹ کے باعث نوجوانوں میں پھیلنے والی سانس کی بیماریاں ہیں،
وال مارٹ کی انتظامیہ کو ایک رپورٹ موصول ہوئی جس میں الیکٹرانک سگریٹ اور نکوٹین کے نوجوانوں میں استعمال بڑھنے کے اثرات کا زکر کیا گیا تھا ، اس رپورٹ میں واضع زکر تھا کہ کتنے فیصد امریکی نوجوان اس نشے کی لت میں دھت ہو کر یا بیمار ہو چکے ہیں یا اپنی زندگی کی بازی ہار چکے ہیں ، اور وال مارٹ نے اپنے کسٹمر کی حفاظت کی غرض سے یہ قدم اٹھایا اور الیکٹرانک سگریٹ کو بند کر دیا ،