Baaghi TV

Tag: برطانوی وزیراعظم

  • نئے برطانوی وزیراعظم نے ایران پر امریکی حملوں کیلئے فوجی اڈوں کے استعمال کی منظوری دیدی

    نئے برطانوی وزیراعظم نے ایران پر امریکی حملوں کیلئے فوجی اڈوں کے استعمال کی منظوری دیدی

    برطانیہ کے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم نے ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کے لیے برطانوی عسکری اڈوں کے استعمال کی منظوری دے دی ہے۔

    بلوم برگ کے مطابق برطانیہ کے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم نے امریکا کو ایران کے خلاف ان حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈے استعمال کرنے کی منظور ی دے دی ہے جنہیں برطانیہ "دفاعی کارروائیاں” قرار دیتا ہے۔اینڈی برنہم کا یہ فیصلہ سابق وزیراعظم کیئر اسٹارمر کی تیار کردہ پالیسی کا تسلسل ہے، جس کے تحت ان حملوں کو ایک کھلی جنگ کے بجائے دفاعی نوعیت کی کارروائی قرار دیا گیا ہے۔

    کیئر اسٹارمر نے اپنے عہدے سے سبکدوش ہونے سے قبل سینئر وزراء اور اعلیٰ حکام کے ساتھ اجلاس میں اس پالیسی کا جائزہ لیا تھا، تاہم نئے وزیراعظم کے دفتر سے اس فیصلے پر کوئی باقاعدہ بیان سامنے نہیں آیا ہےرپورٹ میں ذرائع کے حوالے بتایا گیا کہ کیئر اسٹارمر نے جمعہ کو سینئر وزرا اور اعلیٰ حکام کا اجلاس طلب کیا، جس میں رواں ماہ کے آغاز میں امریکی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع ہونے کے بعد برطانیہ کی پالیسی پر غور کیا گیا۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ڈیاگو گارسیا اور آر اے ایف فیئرفورڈ کے فوجی اڈے امریکی طیاروں کے استعمال کے لیے بدستور دستیاب رہیں گے، تاکہ وہ ایرانی میزائل خطرات کا مقابلہ کر سکیں اور آبنائے ہرمز سے متعلق اہداف پر کارروائیاں جاری رکھ سکیں۔

    پیر کے روز وزیراعظم بننے والے اینڈی برنہم کو اجلاس میں ہونے والی گفتگو سے آگاہ کیا گیا اور انہوں نے اس فیصلے سے اتفاق کیا رپورٹ میں ان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ دفاعی امریکی حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کی منظوری سے متعلق سابق حکومت کی پالیسی برقرار رکھیں گے اس فیصلے کا مطلب ہے کہ امریکا کی موجودہ فوجی کارروائیوں کے بعض مراحل میں برطانوی فوجی اڈے استعمال کیے جانے کا امکان ہے۔

    یہ پیش رفت امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف دسویں روز بھی جاری فوجی کارروائیوں کے بعد سامنے آئی ہے امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق رات بھر ایرانی فوجی کمانڈ سینٹرز، لانچ سائٹس اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا گیا،تاہم برطانوی حکام صدر ٹرمپ کی جانب سے پلوں اور بجلی گھروں پر حملوں کی دھمکیوں پر تشویش کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر سفارتی حل نہ نکلا تو ایران کا پکس ایکس ماؤنٹین پر واقع ایٹمی مرکز امریکی حملوں کا ہدف بن سکتا ہے امریکا کے اس موقف کے بعد ایران کی جانب سے بھی سخت ردِعمل ظاہر کیا گیا ہے۔

    ایران کے اعلیٰ عسکری کمانڈ سینٹر ’خاتم الانبیاء‘ کے ترجمان نے ایرانی نیشنل ٹی وی پر بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر واشنگٹن نے اسلامی جمہوریہ ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کیا تو خطے بھر میں امریکی اور اس کے اتحادیوں کے تمام اثاثوں کو نشانہ بنایا جائے گا-

    اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد عرب خلیجی ممالک شدید تشویش میں مبتلا ہیں اور وہ امریکا پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اسرائیل کو ایران پر مزید حملے کرنے سے روکےخلیجی ریاستوں کو خدشہ ہے کہ اگر اسرائیل نے کوئی کارروائی کی تو ایران ان کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی جوابی کارروائی کا نشانہ بنا سکتا ہے،اس کے ساتھ ساتھ امریکا اور اسرائیل کے درمیان بن گوریان ایئرپورٹ پر اضافی امریکی ملٹری ری فیولنگ طیاروں کو کھڑا کرنے کی تجویز پر بھی غور ہو رہا ہے۔

  • برطانوی وزیراعظم کا اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا امکان

    برطانوی وزیراعظم کا اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا امکان

    برطانیہ کے وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر کے پیر کے روز اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق وہ اپنی رخصتی کے طریقہ کار اور نئے لیبر پارٹی لیڈر کے انتخاب کے لیے روڈ میپ بھی پیش کر سکتے ہیں-

    برطانوی میڈیا کے مطابق وزیراعظم کیئر اسٹارمر کو گزشتہ کئی ہفتوں سے اپنی جماعت لیبر پارٹی کے اراکینِ پارلیمنٹ کی جانب سے شدید دباؤ کا سامنا ہے کہ وہ قیادت چھوڑنے کے لیے واضح ٹائم ٹیبل دیں ،رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ وہ مبینہ طور پر اس معاملے پر اپنی اہلیہ کے ساتھ چیکرز ریزڈنس میں مشاورت کر رہے تھے،تاہم حکومتی ذرائع نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیئر اسٹارمر اب بھی اپنی ذمہ داریاں جاری رکھنے پر مکمل توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں اور وہ عہدے سے ہٹنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔

    کئیر اسٹارمر پر سیاسی دباؤ اس وقت مزید بڑھ گیا جب لیبر پارٹی کے سینئر رہنما اینڈی برنہم حالیہ ضمنی انتخاب میں کامیابی حاصل کرکے دوبارہ پارلیمنٹ پہنچے، جس کے بعد ان کی قیادت کے لیے حمایت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

    رپورٹس کے مطابق کیئر اسٹارمر کو اندازہ ہو چکا ہے کہ پارلیمانی لیبر پارٹی کی بڑی تعداد اب اینڈی برنہم کی حمایت کر رہی ہے برطانوی اخبارات اور سیاسی مبصرین کے مطابق اینڈی برنہم کو تقریباً 300 ارکانِ پارلیمنٹ کی تائید حاصل ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، جس کے باعث ان کے اگلے وزیراعظم بننے کے امکانات مضبوط ہو گئے ہیں،وزیراعظم اسٹارمر نے جمعہ کے روز واضح کیا تھا کہ وہ کسی بھی قیادت کے چیلنج کا مقابلہ کریں گے اور پارٹی کو اندرونی اختلافات سے بچانے کی اپیل بھی کی۔

    سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر کیئر اسٹارمر پیر کو مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہیں تو لیبر پارٹی میں قیادت کی منتقلی کا عمل فوری طور پر شروع ہو سکتا ہے اینڈی برنہم اس وقت وزارتِ عظمیٰ کے مضبوط ترین امیدوار سمجھے جا رہے ہیں اور ان کے حامی ایک منظم اور پُرامن انتقالِ اقتدار کے خواہاں ہیں۔

    دوسری جانب برطانوی میڈیا میں آنے والی اطلاعات کے مطابق اینڈی برنہم کی ممکنہ حکومت میں موجودہ وزیر داخلہ شبانہ محمود کو اہم کردار دیے جانے کا امکان ہے اور وہ کابینہ میں برقرار رہ سکتی ہیں، شبانہ محمود امیگریشن نظام میں اصلاحات کے عمل کو جاری رکھنے کی خواہاں ہیں، جبکہ غیرقانونی تارکینِ وطن کے لیے شہریت کے قوانین مزید سخت کیے جانے کی تجاویز بھی زیر غور آ سکتی ہیں۔

    تاہم برطانوی وزیراعظم ہاؤس کے بعض ذرائع کا مؤقف ہے کہ کیئر اسٹارمر تاحال اپنے فرائض پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں اور انہوں نے باضابطہ طور پر استعفے کا اعلان نہیں کیااس لیے حتمی صورتحال پیر کو متوقع اعلان کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔

    واضح رہے کہ 2024 کے عام انتخابات میں لیبر پارٹی کی تاریخی کامیابی کے بعد اسٹارمر اقتدار میں آئے تھے تاہم بعد ازاں مختلف سیاسی تنازعات اور پالیسی تبدیلیوں کے باعث ان کی مقبولیت میں کمی دیکھی گئی ہے جس سے حکومت کو عوامی اعتماد کے چیلنج کا سامنا ہے۔

  • برطانوی وزیراعظم کی سرکاری رہائشگاہ پرافطار ڈنرکا اہتمام،اذان، نماز اور تلاوت قرآن کے خصوصی انتظام

    برطانوی وزیراعظم کی سرکاری رہائشگاہ پرافطار ڈنرکا اہتمام،اذان، نماز اور تلاوت قرآن کے خصوصی انتظام

    بھارتی نژاد رشی سونک کے برطانوی وزیراعظم کا منصب سنبھالنے کے بعد برطانیہ کی تاریخ میں پہلی بار وزیراعظم کی سرکاری رہائشگاہ 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ میں پُرتکلف افطار ڈنرکا اہتمام کیا گیا۔

    باغی ٹی وی: برطانیہ میں مقیم ممتاز مسلم رہنماؤں کو دونوں مقامات پر مدعو کیا گیا تھا اور جہاں اذان، نماز اور تلاوت قرآن پاک کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے تھےکنزرویٹو پارٹی کے چیئرمین گریگ ہینڈز نے برطانیہ کے وزیر اعظم کی سرکاری رہائش گاہ پر مہمانوں کا استقبال کیا –


    انہوں نے برطانیہ کی ترقی میں مسلمانوں کی خدمات کا اعتراف کیا انہوں نےاسلام کو امن و سلامتی کے مذہب کے طور پر سراہتے ہوئے مزید کہا کہ رمضان اب برطانیہ کی مذہبی اور سماجی ثقافت کا حصہ بن چکا ہے۔


    تقریب کی خاص بات شرکاء کے لیے مزیدار پاکستانی کھانوں کا اہتمام تھی پاکستانی کھانوں کی تیاری کے لیے مشہور شیف سلیمان رضا اور اسپائس ولیج کی خدمات حاصل کی گئی تھیں-


    اس کے علاوہ برطانوی دفتر خارجہ کے لنکاسٹر ہاؤس میں افطار ڈنر کا بھی اہتمام کیا گیا افطار ڈنر میں برطانوی وزیر خارجہ کیمی بیڈنوچ اور وزیر تجارت لارڈ جانسن نےشرکاء سےخطاب کیا وزراء نےلندن کودنیامیں اسلامی مالیات کا مرکز بنانے کے عزم کا اظہار کیا حاضرین کو رمضان المبارک کی مبارکباد دی اور برطانیہ میں مقیم مسلم برادری کو خراج تحسین پیش کیا۔

    وزرا نے لندن کو دنیا میں اسلامی مالیات کا مرکز بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ مصر کی جامعہ الازہر کے امام شیخ ہانی سعد محمود تقریب کے مہمان خصوصی تھے اور انہوں نے اپنی تلاوت کلام پاک سے تمام حاضرین کے دلوں کو منور کیا۔

    اس تقریب میں بھی روایتی پاکستانی کھانوں کی تیاری کے لیے مشہور شیف سلیمان رضا اور اسپائس ولیج کی خدمات حاصل کی گئی تھیں مہمانوں نے لذیذ کھانے سے لطف اٹھاتے ہوئے منتظمین کی مہمان نوازی کی تعریف کی۔

  • برطانوی وزیراعظم کوکارمیں دوران سفرسیٹ بیلٹ نہ باندھنے پرجرمانہ

    برطانوی وزیراعظم کوکارمیں دوران سفرسیٹ بیلٹ نہ باندھنے پرجرمانہ

    برطانوی وزیراعظم کوکار میں دوران سفر سیٹ بیلٹ نہ باندھنے پر جرمانہ کردیا گیا۔

    برطانوی میڈیا کے مطابق برطانوی وزیر اعظم رشی سونک کو گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو میں کار میں سفر کے دوران گفتگو میں بغیر سیٹ بیلٹ پہنے سفر کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔

    یوکرین نے اگرکریمیہ پرحملہ کیاتوپھریہ بھی یاد رکھےکہ اس کے نتائج انتہائی خطرناک ہوں گے: روس

    بعد ازاں غلطی کا احساس ہونے پر برطانوی وزیر اعظم کے ترجمان کی جانب سے بیان جاری کیا گیا تھا کہ رشی سونک نے سوشل میڈیا کیلئے ویڈیو بنانے کیلئے کچھ وقت کیلئے سیٹ بیلٹ اتار دیا تھا تاہم اب احساس ہونے پر انہوں نے اپنی غلطی مانتے ہوئے معذرت کی ہے۔

    بیان میں کہا گیا کہ برطانوی وزیر اعظم کا ماننا ہے کہ ہر شہری کو سفر کے دوران سیلٹ بیلٹ ضرور پہننا چاہیے۔

    لنکاشائرپولیس کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے سیٹ بیلٹ نہ پہننے کے معاملے سے آگاہ ہیں،جائزہ لے رہے ہیں۔

    لنکا شائر کی پولیس کا کہنا ہے کہ لندن کے رہائشی 42 سالہ شخص کو دوران سفر کار میں سیٹ بیلٹ نہ باندھنے پر مقررہ جرمانے (فکسڈ پینلٹی)کی مشروط پیش کش کی گئی ہے –

    لیونل میسی کی پی ایس جی رونالڈوکی سعودی آل اسٹارزٹیم کے خلاف فتح

    پولیس کے مطابق سیٹ بیلٹ نہ پہننے پر مسافر کو 100 برطانوی پاؤنڈ جرمانہ کیا گیا ہے، البتہ مقدمہ عدالت میں جانے کی صورت میں جرمانے کی رقم میں 500 پاؤنڈ تک اضافہ ہو سکتا ہے۔

    دوسری جانب برطانوی وزیراعظم رشی سونک کو کار میں سفر کے دوران سیٹ بیلٹ نہ باندھنے پر ہونے والے جرمانے کی خبر پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے عمران خان نے کہا ہے کہ یہی قانونی کی حکمرانی ہے جہاں کوئی اس سے بالاترنہیں۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں سابق وزیراعظم اور پی ٹی آئی کے چیئرمین نے کہا کہ یہی عمل خوشحال قوموں کو غریب ممالک سے ممتاز کرتا ہے،کوئی این آر او نہیں، کوئی قبضہ گروپ نہیں، کوئی حراستی تشدد نہیں،نظام انصاف کمزور کو تحفظ دیتا ہے، انصاف ریاست مدینہ کی بنیاد تھی۔

    لندن میں نواز شریف کی زیرصدارت پنجاب کی صورتحال پراجلاس

  • برطانوی وزیراعظم کو عہدہ  سنبھالنے کے 44 روز بعد مستعفی ہونا پڑگیا

    برطانوی وزیراعظم کو عہدہ سنبھالنے کے 44 روز بعد مستعفی ہونا پڑگیا

    لندن:برطانوی وزیراعظم لز ٹرس نے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا، وہ صرف 44 دن تک برطانیہ کی وزیراعظم رہیں۔برطانیہ میں سیاسی بحران مزید شدت اختیار کر گیا، معاشی پالیسی پر وزیراعظم لز ٹرس کو شدید تنقید کا سامنا تھا۔

    برطانوی وزیراعظم نے عہدہ سنبھالنے کے بعد صرف 44 روز بعد ہی استعفیٰ دینے کا اعلان کردیا۔وزیراعظم لز ٹرس کو کہنا ہے کہ بادشاہ چارلس کو اپنے استعفیٰ سے متعلق آگاہ کردیا۔

    فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق لز ٹرس نے اپنے جانشین کے انتخاب کیلئے آئندہ ہفتے کے اختتام تک الیکشن کرانے کا اعلان کیا ہے۔

    برطانوی وزیراعظم نے اپنے وزیر خزانہ کوازی کوارٹینگ کو چند روز قبل عہدے سے فارغ کردیا تھا، جبکہ برطانوی وزیر داخلہ سوئلا بریورمین نے بھی اپنے عہدے سے گزشتہ روز استعفیٰ دیدیا تھا۔

  • اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد فوری الیکشن میں دلچسپی نہیں،برطانوی وزیراعظم

    اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد فوری الیکشن میں دلچسپی نہیں،برطانوی وزیراعظم

    برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے ان کے خلاف عدم اعتماد کی ناکامی پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اراکین پارلیمنٹ نے متاثر کن اور حتمی فیصلہ دے دیا-

    باغی ٹی وی : برطانوی میڈیا کے مطابق بورس جانسن کے خلاف عدم اعتماد کی ووٹنگ گزشتہ رات ہاؤس آف کامنز میں ہوئی اور ووٹنگ کا عمل پاکستانی وقت کے مطابق رات تقریباً 10 بجےشروع ہوا جو 12 بجے تک جاری رہا اس دوران اراکین نےخفیہ رائے شماری کے ذریعے ووٹ ڈالا۔

    برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کے خلاف عدم اعتماد ناکام ہوگئی

    برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق عدم اعتماد پر ووٹنگ کا نتیجہ پاکستانی وقت کے مطابق رات 1:00 بجے سامنے آیا جس میں برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے اعتماد کا ووٹ جیت لیا۔

    کنزرویٹیو پارٹی کی 1922 کمیٹی کے سربراہ گراہم بریڈی نے نتائج کا اعلان کیا جس کے مطابق 359 میں سے 211 ارکان نے ان کے حق میں جبکہ 148 نے ان کی مخالفت میں ووٹ دیا جبکہ بورس جانسن کو عہدے سے ہٹانے کیلئے 180 کنرویٹو اراکین پارلیمنٹ کے ووٹ درکار تھے ۔

    اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد بورس جانسن نے کہا کہ اراکین پارلیمنٹ نے متاثر کن اور حتمی فیصلہ دے دیا ،اب حکومت چاہتی ہے کہ سب مل کر آگے بڑھیں، آج کا نتیجہ سیاست اور ملک کے لیے اچھا ہے، اعتماد کے حوالے سے ساتھیوں نے 2019 سے بھی بڑا مینڈیٹ دیا-

    بورس جانسن نے کہا کہ اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد فوری الیکشن میں دلچسپی نہیں، معیشت کو مضبوط کرنے اور ملک بھر میں یکساں مواقع فراہم کرنے کا موقع ملا ہے، اپنے ایجنڈے کو جاری رکھیں گے۔

    دوسری جانب اپوزیشن لیڈر سر کئیراسٹارمرنےکہاکہ حکمران جماعت کے پاس عوامی مسائل کا کوئی حل نہیں، منقسم کنزرویٹو پارٹی بورس جانسن کا سہارا بنی ہوئی ہےلیبر پارٹی مہنگائی، سیاست اور عوام کے اعتماد کی بحالی کے لیے متحد ہے۔لیبرپارٹی ہی ملک کودوبارہ صحیح راستے پر واپس لاسکتی ہے۔

    واضح رہے کہ برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کو ان کی سرکاری رہائش گاہ پر لاک ڈاؤن کے دوران پارٹی کرنے سمیت متعدد اسکینڈلز کے بعد اپنی ہی پارٹی کی جانب سے پیر کو عدم اعتماد کے ووٹ کا سامنا کرنا پڑا۔

    وزیرِ اعظم نے جاپانی کمپنیوں کےمسائل حل کرنے کیلئے کمیٹی قائم کر دی

  • برطانوی وزیراعظم کا دورہ،مودی کے آبائی علاقے میں ترقی کے دعوے کا پول کھل گیا

    برطانوی وزیراعظم کا دورہ،مودی کے آبائی علاقے میں ترقی کے دعوے کا پول کھل گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیراعظم مودی کے آبائی علاقے میں ترقی کے دعوے کا پول کھل گیا

    برطانوی وزیراعظم بورس جانسن بھارت کے دورے پر آئے تو مودی سرکار کو گجرات میں ہونے والی ترقی کپڑوں سے چھپانی پڑی، گجرات کا حقیقی ماڈل برطانوی وزیراعظم سے چھپا دیا گیا ہے، برطانوی وزیراعظم گزشتہ روز گجرات پہنچے تو راستے میں آنے والی چھونپڑیوں کے آگے پردے ڈال دئئے گئے تھے تا کہ برطانوی وزیراعظم ان جھونپڑیوں کو نہ دیکھ سکیں اور انہیں گجرات کی ترقی کا اندازہ نہ ہو، تا ہم جھونپڑیوں کے آگے لگائے گئے پردے کی ایک تصویر وائرل ہوئی ہے جس کے بعد مودی سرکار پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے،

    بھارتی شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر گجرات میں اتنی ہی زیادہ ترقی ہوئی ہے تو آخر ان جھونپڑیوں کو برطانیہ کے وزیر اعظم سے چھپانے کے لیے پردہ کیوں لگانا پڑا؟ مودی دنیا سے سچ کیوں چھپا رہے ہیں، جب مودی کے گھر کی حالت یہ ہے تو باقی بھارت کی حالت کیا ہو گی،

    ریلوے کو ہم نے تباہ کیا 6 ماہ سے پہلے جو ریلوے میں ہورہا اس کا میں ذمہ دار نہیں ہوں : وزیر ریلوے

    ریلوے کا خسارہ کب تک ختم ہو گیا؟ِ اعظم سواتی پھر تسلیاں دینے لگے

    ججز کے خلاف ریفرنس، سپریم کورٹ باراحتجاج کے معاملہ پر تقسیم

    حکومت نے سپریم کورٹ‌ کے سینئر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کر دیا

    حکومت نے یہ کام کیا تو وکلاء 2007 سے بھی بڑی تحریک چلائیں گے،وکلا کی دھمکی

    مودی سرکار کی جانب سے جھونپڑیوں کے آگے پردہ لگانے کے باوجود جھونپڑیوں کے مکین پردے کو اٹھا کر باہر نکل آئے ،پردے کے پیچھے چھپا کڑوا سچ برطانوی وزیراعظم تو نہ دیکھ سکے لیکن میڈیا نے دنیا کو دکھا دیا،

    برطانیہ کے وزیر اعظم جس راستے احمد آباد سے سابرمتی آشرم پہنچے اس راستے میں پردہ لگانے پر بھارت کی سابق حکمران جماعت کانگریس کے رہنما دگوجے سنگھ نے بھارتی وزیر اعظم مودی سے سوال پوچھا ہے ، انہوں نے جھونپڑیوں کے آگے پردہ لگانے کی ویڈیو بھی شہئر کر دی اور کہا کہ مودی صاحب،12 سال آپ گجرات کے وزیر اعلیٰ رہے، 8 سال سے آپ ملک کے وزیر اعظم ہیں پھر بھی ایسا کیا رہ گیا جسے بورس جانسن کو دکھانے میں آپ کو شرم آ رہی ہے؟

    واضح رہے کہ مودی سرکار نے ایسا پہلی بار نہیں کیا بلکہ پہلے بھی ایسا ہی کر چکی ہے جب امریکی صدر بھارت کے دورے پر آئے تھے، سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے احمد آباد دورہ کے وقت بھی گجرات ماڈل کی ترقی کے درمیان باقاعدہ دیوار کھڑی کر دی گئی تھی۔ جس راستے سے ٹرمپ گزرے تھے ان راستوں میں دیوار کھڑی کرنے پر بھی مودی اور بی جے پی حکومت کی خوب تنقید ہوئی تھی۔

    مالی نے خاتون کے ساتھ زیادتی کے بعد دوستوں کو بلا لیا،اجتماعی درندگی کا ایک اور واقعہ

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات

    لڑکی کو برہنہ کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کو پولیس نے عدالت پیش کر دیا

    دوسری جانب برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے اپنے مصروف شیڈول کے درمیان اڈانی انڈسٹریز گروپ کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا برطانوی وزیر اعظم کا خیرمقدم کرتے ہوئے اڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم اڈانی نے صاف توانائی، دفاع اور خلائی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں برطانیہ کی کمپنیوں کے ساتھ کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا

    برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن دو روزہ دورے پر ہندوستان میں آئے ہوئے ہیں۔ پہلے مرحلے میں وہ گجرات گئے، گاندھی نگر میں سابرمتی آشرم اور اکشردھام مندر کا دورہ کیا اور وڈودرا میں برطانوی کمپنی جے سی بی کے پلانٹ دیکھنے گئے

    کرونا لاک ڈاؤن، گھر میں فاقے، ماں نے 5 بچوں کو تالاب میں پھینک دیا،سب کی ہوئی موت

    دس برس تک سگی بیٹی سے مسلسل جنسی زیادتی کرنیوالے سفاک باپ کو عدالت نے سنائی سزا

    شادی شدہ خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے بعد ملزمان نے ویڈیو وائرل کر دی

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات

    لڑکی کو برہنہ کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کو پولیس نے عدالت پیش کر دیا

    کیا فائدہ قانون کا، مفتی کو نامرد کیا گیا نہ عثمان مرزا کو،ٹویٹر پر صارفین کی رائے

    برطانوی وزیراعظم بھارت میں چرخہ چلانے لگے

  • برطانوی وزیراعظم بھارت میں چرخہ چلانے لگے

    برطانوی وزیراعظم بھارت میں چرخہ چلانے لگے

    برطانوی وزیراعظم بھارت میں چرخہ چلانے لگے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق برطانوی وزیراعظم بھارت پہنچ گئے ہیں

    برطانوی وزیراعظم بورس جانسن بھارت پہنچے تو انکا بھر پور استقبال کیا گیا، برطانوی وزیراعظم بھارتی وزیراعظم مودی کے شہر گجرات پہنچے ہیں، انہوں نے گجرات پہنچنے کے بعد احمد آباد میں سابرمتی آشرم کا دورہ کیا،سابر متی آشرم کو گاندھی آشرم کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، برطانوی وزیراعظم نے آشرم میں جا کر چرخہ چلایا اور گاندھی کی تعریف کی، آشرم میں وزٹر بک پر برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے تحریر لکھی اور کہا کہ غیر معمولی انسان کے آشرم میں آنا میرے لیے خوش قسمتی کی بات ہے یہ سمجھنا بھی میرے لیے خوش قسمتی کی بات رہی کہ کیسے گاندھی جی نے سچائی کے معمولی اصولوں اور عدم تشدد کا استعمال دنیا کو بہتر بنانے کے لیے کیا

    برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کے ہمراہ گجرات کے وزیر اعلیٰ بھوپیش پٹیل بھی موجود تھے بورس جانسن نے سابرمتی آشرم کے دورے کے وقت آشرم کے نیاس نے انھیں دو کتابیں بھی بطور تحفہ پیش کیں۔آشرم کے ترجمان وراٹ کوٹھاری نے بتایا کہ جانسن جمعرات کی صبح احمد آباد ہوائی اڈے پر پہنچنے کے بعد سابرمتی آشرم گئے جہاں پر ان کا استقبال گجرات کے وزیر اعلیٰ بھوپیش پٹیل اور آشرم کے نیاسی کارتیکے سارابھائی نے کیا۔

    برطانوی وزیراعظم بھارتی ہم منصب سے ملاقات کریں گے ، ملاقات میں اسٹریٹجک دفاع، سفارتی اور اقتصادی شراکت داری پر بات ہوگی، بورس جانسن آزاد تجارتی معاہدے پر بات چیت میں پیشرفت پر بھی زور دیں گے،

    کرونا لاک ڈاؤن، گھر میں فاقے، ماں نے 5 بچوں کو تالاب میں پھینک دیا،سب کی ہوئی موت

    دس برس تک سگی بیٹی سے مسلسل جنسی زیادتی کرنیوالے سفاک باپ کو عدالت نے سنائی سزا

    شادی شدہ خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے بعد ملزمان نے ویڈیو وائرل کر دی

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات

    لڑکی کو برہنہ کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کو پولیس نے عدالت پیش کر دیا

    کیا فائدہ قانون کا، مفتی کو نامرد کیا گیا نہ عثمان مرزا کو،ٹویٹر پر صارفین کی رائے

  • برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن متحدہ عرب امارات پہنچ گئے

    برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن متحدہ عرب امارات پہنچ گئے

    برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن متحدہ عرب امارات پہنچ گئے

    برطانوی وزیر اعظم ابوظہبی میں شیخ محمد بن زاید اور دیگر حکام سے ملاقات کریں گے برطانوی وزیر اعظم سعودی عرب بھی جائیں گے اور ولی عہد سے بھی ملاقات کریں گے برطانوی وزیر اعظم کے دورے کا مقصدتیل کی پیداوار بڑھانے کے لیے تعاون کوفروغ دیناہے دورے میں روسی صدر پیوٹن پر دباؤ بڑھانے کی کوششیں بھی شامل ہوں گی

    ترجمان بورس جانسن کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں 81 افراد کی پھانسی سمیت انسانی حقوق کے مسائل اٹھائیں گے،

    برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایک نئی حقیقت کا سامنا ہے، جس کا مقابلہ ہمیں اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کرنا ہے۔ میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا دورہ کر رہا ہوں،

    برطانوی وزیر اعظم کو اپنے دورے پر تنقید کا سامنا ہے کیونکہ یہ سعودی عرب کی طرف سے 81 مردوں کو اجتماعی پھانسی دینے کے چند دن بعد دورہ کر رہے ہیں، بورس جانسن سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کریں گے کیونکہ وہ روس کے تیل اور گیس پر مغرب کے "نشے” کو ختم کرنے کی کوشش کریں گے

    مسٹر جانسن بدھ کو ابوظہبی میں ولی عہد شہزادہ محمد بن زاید سے ملاقات کریں گے، وہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے بات کرنے کے لیے ریاض جائیں گے۔وسیع پیمانے پر توقع کی جارہی ہے کہ برطانوی وزیر اعظم اس دورے کو خلیجی ریاستوں کو تیل اور گیس کی اپنی پیداوار بڑھانے کی کوشش کرنے اور قائل کرنے کے لیے استعمال کریں گے۔

    سعودی ولی عہد کو بھی 2018 میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد سے مغرب کی طرف سے بڑی حد تک نظر انداز کیا گیا ہے، صرف تین سال قبل، مسٹر جانسن نے خود خاشقجی کے قتل کو "وحشیانہ فعل” قرار دیا تھا

    وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک سے سعودی سفیر کی ملاقات،کیا ہوئی بات؟

    سعودی سفیر اچانک وزیر خارجہ کو ملنے پہنچ گئے

    بڑی تبدیلی، سعودی عرب میں کس کو سفیر مقرر کر دیا گیا؟

    پاکستان سے انتہائی اہم شخصیت سعودی عرب پہنچ گئی

    سعودی عرب کے دو ایئر پورٹس پر ڈرون حملے،فضائی آپریشن معطل

    جمال خاشقجی کے قاتلوں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کیلیے ہر ممکن کوشش کرینگے،منگیتر کا عدالت میں بیان

    امریکی صدر جوبائیڈن نے دیا محمد بن سلمان کو بڑا جھٹکا

    جمال خاشقجی قتل،سعودی ولی عہد نے خاموشی توڑ دی

  • فیس بک نے برطانوی وزیراعظم کی برقع پوش خواتین کے خلاف پوسٹ ڈیلیٹ کردی

    فیس بک نے برطانوی وزیراعظم کی برقع پوش خواتین کے خلاف پوسٹ ڈیلیٹ کردی

    لندن : امریکی ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے فیس بک سے 2018 میں برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کی جانب سے برقع پہننے والی مسلمان خواتین کے بارے میں متنازع تبصرے کو نفرت انگیز قرار دے کر ہٹا دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : میٹا کی جانب سے برطانوی وزیر اعظم کے تبصرے کو نفرت انگیز قرار دیا گیا، جنہوں نے ڈیلی ٹیلیگراف میں ایک کالم میں برقع پہننے والی مسلمان خواتین کو ’لیٹر باکس‘ سے تشبیہ دی تھی۔

    امریکی باشندے نے نیا ملک بنانے کے لئے جزیرہ خرید لیا

    عرب نیوز کے مطابق بگ برادر واچ (بی بی ڈبلیو) نامی ایک ادارے نے فیس بک پر تجرباتی طور پر کچھ جعلی اکاؤنٹس بنائے جس پر بورس جانسن کے ماضی میں کیے گئے تبصرے کو تحریر کیا تو کمپنی نے ان کمنٹس کو نفرت انگیز، ہراسانی اور بلنگ قرار دیا اور اسے فیس بک سے ہٹا دیا۔

    بی بی ڈبلیو نے اپنے جعلی اکاؤنٹ سے وزیراعظم کے جملے دہراتے ہوئے ایک پوسٹ شائع کی جس میں ایک برقع پوش خاتون کو دکھایا گیا، پوسٹ میں لکھا گیا کہ ’یہ بہت احمقانہ ہے کہ لوگ لیٹر باکس بن کر گھومتے پھریں۔‘ اس اکاؤنٹ کو بُلنگ اور ہراسگی پر مشتمل مواد شائع کرنے پر بند کر دیا گیا۔

    چانسلر اینجیلا رینر نے فروری میں ایک فیس بک پوسٹ میں لکھا کہ دہشت گرد کو پہلے گولی ماریں اور اس کے بعد سوال پوچھیں اسے بھی فیس بک نے بند کر دیا۔ برطانیہ کی کنزرویٹو پارٹی کو اکثر مسلمانوں کے بارے میں متنازع بیانات اور سلوک روا رکھنے پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

    روسی فوجی حسیناؤں میں مقابلہ حسن

    انکوائری کے بعد پارٹی نے قرار دیا تھا کہ بورس جانسن کا تبصرہ پارٹی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی نہیں۔ اس سے قبل بورس جانسن نے برقع پوش مسلمان خواتین کو ’بینک ڈکیت‘ کہا تھا۔

    رواں برس کے شروع میں برطانیہ کی پہلی مسلمان خاتون وزیر اور کنزرویٹو پارٹی ہی کی سینیئر رہنما نصرت غنی نے دعوٰی کیا تھا کہ جب انہیں انڈر سیکرٹری کے عہدے سے ہٹایا گیا تھا تو ان کے ساتھ مسلمان ہونے کی وجہ سے پارٹی میں تعصب برتا گیا۔ اس واقعے کے بعد حکومت نے ایک امام قاری عاصم کو اسلاموفوبیا کے خلاف اقدامات کرنے کے لیے تعینات کیا، لیکن ان کا کہنا ہے کہ کئی برسوں سے وزرا نے کوئی ’بامعنی رابطہ‘ نہیں رکھا-

    جوہری مذاکرات:امریکی عورتیں حجاب اور وائٹ ہاؤس کوامام بارگاہ میں بدلیں،ایران کی شرائط