برطانیہ کے وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر کے پیر کے روز اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق وہ اپنی رخصتی کے طریقہ کار اور نئے لیبر پارٹی لیڈر کے انتخاب کے لیے روڈ میپ بھی پیش کر سکتے ہیں-
برطانوی میڈیا کے مطابق وزیراعظم کیئر اسٹارمر کو گزشتہ کئی ہفتوں سے اپنی جماعت لیبر پارٹی کے اراکینِ پارلیمنٹ کی جانب سے شدید دباؤ کا سامنا ہے کہ وہ قیادت چھوڑنے کے لیے واضح ٹائم ٹیبل دیں ،رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ وہ مبینہ طور پر اس معاملے پر اپنی اہلیہ کے ساتھ چیکرز ریزڈنس میں مشاورت کر رہے تھے،تاہم حکومتی ذرائع نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیئر اسٹارمر اب بھی اپنی ذمہ داریاں جاری رکھنے پر مکمل توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں اور وہ عہدے سے ہٹنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔
کئیر اسٹارمر پر سیاسی دباؤ اس وقت مزید بڑھ گیا جب لیبر پارٹی کے سینئر رہنما اینڈی برنہم حالیہ ضمنی انتخاب میں کامیابی حاصل کرکے دوبارہ پارلیمنٹ پہنچے، جس کے بعد ان کی قیادت کے لیے حمایت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
رپورٹس کے مطابق کیئر اسٹارمر کو اندازہ ہو چکا ہے کہ پارلیمانی لیبر پارٹی کی بڑی تعداد اب اینڈی برنہم کی حمایت کر رہی ہے برطانوی اخبارات اور سیاسی مبصرین کے مطابق اینڈی برنہم کو تقریباً 300 ارکانِ پارلیمنٹ کی تائید حاصل ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، جس کے باعث ان کے اگلے وزیراعظم بننے کے امکانات مضبوط ہو گئے ہیں،وزیراعظم اسٹارمر نے جمعہ کے روز واضح کیا تھا کہ وہ کسی بھی قیادت کے چیلنج کا مقابلہ کریں گے اور پارٹی کو اندرونی اختلافات سے بچانے کی اپیل بھی کی۔
سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر کیئر اسٹارمر پیر کو مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہیں تو لیبر پارٹی میں قیادت کی منتقلی کا عمل فوری طور پر شروع ہو سکتا ہے اینڈی برنہم اس وقت وزارتِ عظمیٰ کے مضبوط ترین امیدوار سمجھے جا رہے ہیں اور ان کے حامی ایک منظم اور پُرامن انتقالِ اقتدار کے خواہاں ہیں۔
دوسری جانب برطانوی میڈیا میں آنے والی اطلاعات کے مطابق اینڈی برنہم کی ممکنہ حکومت میں موجودہ وزیر داخلہ شبانہ محمود کو اہم کردار دیے جانے کا امکان ہے اور وہ کابینہ میں برقرار رہ سکتی ہیں، شبانہ محمود امیگریشن نظام میں اصلاحات کے عمل کو جاری رکھنے کی خواہاں ہیں، جبکہ غیرقانونی تارکینِ وطن کے لیے شہریت کے قوانین مزید سخت کیے جانے کی تجاویز بھی زیر غور آ سکتی ہیں۔
تاہم برطانوی وزیراعظم ہاؤس کے بعض ذرائع کا مؤقف ہے کہ کیئر اسٹارمر تاحال اپنے فرائض پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں اور انہوں نے باضابطہ طور پر استعفے کا اعلان نہیں کیااس لیے حتمی صورتحال پیر کو متوقع اعلان کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔
واضح رہے کہ 2024 کے عام انتخابات میں لیبر پارٹی کی تاریخی کامیابی کے بعد اسٹارمر اقتدار میں آئے تھے تاہم بعد ازاں مختلف سیاسی تنازعات اور پالیسی تبدیلیوں کے باعث ان کی مقبولیت میں کمی دیکھی گئی ہے جس سے حکومت کو عوامی اعتماد کے چیلنج کا سامنا ہے۔
