Baaghi TV

نئے برطانوی وزیراعظم نے ایران پر امریکی حملوں کیلئے فوجی اڈوں کے استعمال کی منظوری دیدی

uk

برطانیہ کے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم نے ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کے لیے برطانوی عسکری اڈوں کے استعمال کی منظوری دے دی ہے۔

بلوم برگ کے مطابق برطانیہ کے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم نے امریکا کو ایران کے خلاف ان حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈے استعمال کرنے کی منظور ی دے دی ہے جنہیں برطانیہ "دفاعی کارروائیاں” قرار دیتا ہے۔اینڈی برنہم کا یہ فیصلہ سابق وزیراعظم کیئر اسٹارمر کی تیار کردہ پالیسی کا تسلسل ہے، جس کے تحت ان حملوں کو ایک کھلی جنگ کے بجائے دفاعی نوعیت کی کارروائی قرار دیا گیا ہے۔

کیئر اسٹارمر نے اپنے عہدے سے سبکدوش ہونے سے قبل سینئر وزراء اور اعلیٰ حکام کے ساتھ اجلاس میں اس پالیسی کا جائزہ لیا تھا، تاہم نئے وزیراعظم کے دفتر سے اس فیصلے پر کوئی باقاعدہ بیان سامنے نہیں آیا ہےرپورٹ میں ذرائع کے حوالے بتایا گیا کہ کیئر اسٹارمر نے جمعہ کو سینئر وزرا اور اعلیٰ حکام کا اجلاس طلب کیا، جس میں رواں ماہ کے آغاز میں امریکی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع ہونے کے بعد برطانیہ کی پالیسی پر غور کیا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ڈیاگو گارسیا اور آر اے ایف فیئرفورڈ کے فوجی اڈے امریکی طیاروں کے استعمال کے لیے بدستور دستیاب رہیں گے، تاکہ وہ ایرانی میزائل خطرات کا مقابلہ کر سکیں اور آبنائے ہرمز سے متعلق اہداف پر کارروائیاں جاری رکھ سکیں۔

پیر کے روز وزیراعظم بننے والے اینڈی برنہم کو اجلاس میں ہونے والی گفتگو سے آگاہ کیا گیا اور انہوں نے اس فیصلے سے اتفاق کیا رپورٹ میں ان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ دفاعی امریکی حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کی منظوری سے متعلق سابق حکومت کی پالیسی برقرار رکھیں گے اس فیصلے کا مطلب ہے کہ امریکا کی موجودہ فوجی کارروائیوں کے بعض مراحل میں برطانوی فوجی اڈے استعمال کیے جانے کا امکان ہے۔

یہ پیش رفت امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف دسویں روز بھی جاری فوجی کارروائیوں کے بعد سامنے آئی ہے امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق رات بھر ایرانی فوجی کمانڈ سینٹرز، لانچ سائٹس اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا گیا،تاہم برطانوی حکام صدر ٹرمپ کی جانب سے پلوں اور بجلی گھروں پر حملوں کی دھمکیوں پر تشویش کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر سفارتی حل نہ نکلا تو ایران کا پکس ایکس ماؤنٹین پر واقع ایٹمی مرکز امریکی حملوں کا ہدف بن سکتا ہے امریکا کے اس موقف کے بعد ایران کی جانب سے بھی سخت ردِعمل ظاہر کیا گیا ہے۔

ایران کے اعلیٰ عسکری کمانڈ سینٹر ’خاتم الانبیاء‘ کے ترجمان نے ایرانی نیشنل ٹی وی پر بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر واشنگٹن نے اسلامی جمہوریہ ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کیا تو خطے بھر میں امریکی اور اس کے اتحادیوں کے تمام اثاثوں کو نشانہ بنایا جائے گا-

اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد عرب خلیجی ممالک شدید تشویش میں مبتلا ہیں اور وہ امریکا پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اسرائیل کو ایران پر مزید حملے کرنے سے روکےخلیجی ریاستوں کو خدشہ ہے کہ اگر اسرائیل نے کوئی کارروائی کی تو ایران ان کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی جوابی کارروائی کا نشانہ بنا سکتا ہے،اس کے ساتھ ساتھ امریکا اور اسرائیل کے درمیان بن گوریان ایئرپورٹ پر اضافی امریکی ملٹری ری فیولنگ طیاروں کو کھڑا کرنے کی تجویز پر بھی غور ہو رہا ہے۔

More posts