Baaghi TV

Tag: برطانیہ

  • برطانیہ میں نسل پرستانہ اور اسلاموفوبیا پر مبنی بیانات پر دفتر خارجہ کا ردعمل

    برطانیہ میں نسل پرستانہ اور اسلاموفوبیا پر مبنی بیانات پر دفتر خارجہ کا ردعمل

    اسلام آباد: دفتر خارجہ کا برطانیہ میں نسل پرستانہ اور اسلاموفوبیا پر مبنی سیاسی اور میڈیا کے بیانات پر ردعمل سامنے آیا ہے-

    باغی ٹی وی : برطانیہ میں پاکستانی کمیونٹی کے خلاف حالیہ نسل پرستانہ بیانات کے حوالے سے میڈیا کے سوالات کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور برطانیہ کی دوستی خلوص، مضبوط تعاون اور اعتماد پر مبنی ہے، کئی دہائیوں سے پروان چڑھنے والا یہ تعلق پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ایک اہم ترجیح ہے۔

    ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ دونوں ممالک کے گہرے اور کثیر الجہتی تعلقات تجارت و سرمایہ کاری، تعلیم، سلامتی، انسداد دہشت گردی، پارلیمانی تعاون اور عوامی روابط جیسے اہم شعبوں پر محیط ہیں، 17 لاکھ سے زائد برطانوی پاکستانیوں کی موجودگی دونوں دوست ممالک کے درمیان سب سے مضبوط رشتہ ہے، اس کے پیش نظر، برطانیہ میں نسل پرستانہ اور اسلاموفوبیا پر مبنی سیاسی اور میڈیا کے بیانات پر گہری تشویش ہے۔

    جاپان میں 6.9 شدت کا زلزلہ،سونامی کی وارننگ جاری

    ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ چند افراد کے قابل مذمت اعمال کو پورے 17 لاکھ برطانوی پاکستانیوں کی کمیونٹی کے ساتھ جوڑنا درست نہیں، پاکستانی نژاد برطانوی شہریوں نے برطانیہ کی ترقی، خوشحالی اور آزادی میں اہم کردار ادا کیا ہے، پاکستان سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نے برطانوی بھارتی فوج میں خدمات انجام دیں دونوں عالمی جنگوں میں جمہوریت کی حمایت کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔

    پی ایس ایل کو 10 سال مکمل،کون سے کھلاڑی کو کس ایوارڈز سے نوازا گیا

    ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ آج برطانوی پاکستانی برطانیہ کے صحت، ریٹیل اور سروسز سیکٹر کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، کئی پاکستانی نژاد برطانوی شہری اہم عوامی عہدوں پر فائز ہیں، اور ہزاروں لوگ پارلیمنٹ کے اراکین، میئرز، کونسلرز اور مقامی پولیس اور میونسپل سروسز کے ارکان کے طور پر اپنی کمیونٹیز کی خدمت کر رہے ہیں، برطانوی پاکستانی کھیلوں اور فنون میں بھی نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کر چکے ہیں، ان کے کھانے اور موسیقی برطانوی ثقافت کو مزید خوبصورتی بخشتے ہیں، اتنی بڑی اور متنوع کمیونٹی کو چند افراد کے اعمال کی بنیاد پر بدنام کرنا قابل مذمت ہے۔

    قومیت کا نعرہ لگانے والے لوگ بھی خود کو لبرل کہتے ہیں،مولانا فضل الرحمان

  • برطانیہ نے ایلون مسک کے سوشل میڈیا  کی مانیٹرنگ شروع کردی

    برطانیہ نے ایلون مسک کے سوشل میڈیا کی مانیٹرنگ شروع کردی

    لندن: برطانوی سکیورٹی حکام نے ایلون مسک کی سوشل میڈیا پوسٹوں کی مانیٹرنگ شروع کردی ہے۔

    باغی ٹی وی : برطانوی میڈیا کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کے مالک ایلون مسک اور دیگر کی پوسٹوں کو ممکنہ سکیورٹی رسک کے طور پر مانیٹر کیا جارہا ہے پوسٹوں کی نگرانی ہوم آفس کی ہوم لینڈ سکیورٹی ٹیم کررہی ہے سکیورٹی ٹیم یہ بھی جائزہ لے رہی ہےکہ ان پوسٹوں کی پہنچ کہاں تک ہے اور کون “انگیج” ہو رہا ہے۔

    ایلون مسک کی ٹرانسجینڈر بیٹی کی ایک بار پٔھر والد پرتنقید

    واضح رہےکہ گزشتہ دنوں ایلون مسک نے برطانوی عوام کو ’ظالمانہ حکومت‘ سے آزادی دلوانے سے متعلق ایکس صارفین سے رائے طلب کی تھی،ایلون مسک نے سوال اٹھایا کہ کیا امریکا کو برطانیہ کے عوام کو ان کی ’ظالمانہ حکومت‘ سے آزاد کرانا چاہیے؟-

    ایلون مسک جو نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر بھی ہیں، نے برطانوی حکومت کے حوالے سے سخت بیانات دیے ہیں جس سے فریقین کے درمیان لفظی جنگ جاری ہےایلون مسک نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹوں میں برطانیہ کی لیبر حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے بچوں کے ساتھ زیادتی کے اسکینڈلز سے نمٹنے کے طریقہ کار کو نشانہ بنایا تھا۔

    لاس اینجلس کی آگ تاحال بے قابو، متاثرہ علاقوں میں لوٹ مار کے بعد کرفیو نافذ

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کے مالک ایلون مسک نے برطانیہ کی سیف گارڈنگ منسٹر جیس فلپ کو ریپ اور نسل کشی کی معافی دینے والا قرار دیا تھاایلون مسک نے برطانوی وزیراعظم پر بھی تنقید کرتے ہوئے ان پر گرومنگ گینگز کے خلاف کارروائی میں ناکام رہنے کا الزام لگایا تھا۔

    جیس فلپ کے مطابق مسک کی پوسٹ کے سبب انہیں دھمکیاں دی جارہی ہیں۔

    دوسری جانب مسک کی تعریف کرنے والے برطانوی رکن پارلیمنٹ روپرٹ لو نے ہوم آفس سے دریافت کیا ہےکہ مسک کی کیوں اور کتنی پوسٹوں کی چھان بین کی جارہی ہے اوراس پر کتنا پیسا خرچ ہوا؟-

    مصر کے قدیم ترین دینی تعلیمی ادارے کا پاکستان میں اپنا کیمپس کھولنے کا اعلان

  • حمزہ یوسف نے  ایلون مسک کو "دنیا کا سب سے خطرناک آدمی” قرار دے دیا

    حمزہ یوسف نے ایلون مسک کو "دنیا کا سب سے خطرناک آدمی” قرار دے دیا

    اسکاٹ لینڈ کے سابق رہنما حمزہ یوسف نے دنیا کے معروف کاروباری شخصیت ایلون مسک کو "دنیا کا سب سے خطرناک آدمی” قرار دے دیا ہے۔

    حمزہ یوسف نے اپنے بیان میں ایلون مسک کی تفرقہ انگیز بیان بازی کی سخت مذمت کرتے ہوئے ان سے فوری اور فیصلہ کن کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایلون مسک نہ صرف سوشل میڈیا پر غلط معلومات اور نقصان دہ نظریات پھیلا رہے ہیں، بلکہ جمہوریت کو بھی نقصان پہنچانے کے لیے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کر رہے ہیں۔حمزہ یوسف نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ یہ مسئلہ صرف ایک ٹوئٹ یا کسی فرد کے بارے میں نہیں ہے بلکہ یہ ایک وسیع تر عمل ہے جس میں طاقتور افراد اور بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال کرکے تفرقہ انگیزی اور تعصب کو بڑھاوا دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایلون مسک کی انتہائی دائیں بازو کے ساتھ ہمدردیاں ہیں جو مسلمان مخالف نفرت انگیزی کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔

    حمزہ یوسف کا کہنا تھا کہ اگر ایلون مسک 1930 کی دہائی میں ہوتے تو ان کے اعمال اور بیان بازی سے ایسا لگتا ہے کہ وہ اس وقت کے خطرناک دائیں بازو کی پاپولزم کو بڑھاوا دے رہے ہوتے۔ انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ تاریخ میں ہم نے ہمیشہ دیکھا ہے کہ جب کسی کمیونٹی کے خلاف نفرت کو بے قابو ہونے دیا گیا، تو اس کے تباہ کن نتائج سامنے آئے۔حمزہ یوسف نے ایلون مسک پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ انہوں نے جمہوریت کو تباہ کرنے اور برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر کا تختہ الٹنے کی کوشش کی۔ اس الزام کے تحت ایلون مسک نے برطانوی حکومت اور سیاست دانوں پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں، جن میں گرومنگ گینگ جرائم کو چھپانے کا الزام شامل ہے۔ ایلون مسک نے وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر کی برطرفی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

    ایلون مسک کے یہ اشتعال انگیز بیانات، جن میں انہوں نے مہاجرین اور اسلام مخالف بیانات دیے، اور انتہائی دائیں بازو کی شخصیات کی کھلے عام حمایت کی، نے برطانیہ اور یورپ میں شدید ردعمل پیدا کیا ہے۔ ان کے بیانات پر بحث چھڑ گئی ہے، جس میں سوشل میڈیا کے کردار، آزادیٔ اظہار اور غیر ملکی اثر و رسوخ پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

    اس کے علاوہ، ایلون مسک نے برطانیہ میں جنسی جرائم سے متعلق ایک اور بحث چھیڑی، جب امریکی برطانوی سوشل میڈیا انفلوئنسر اینڈریو ٹیٹ کے بیان پر تبصرہ کیا تھا۔ اینڈریو ٹیٹ نے برطانیہ میں جرائم کو مسلمانوں سے جوڑا تھا، جس پر ایلون مسک نے اس بات کو درست قرار دیا۔ برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر نے ایلون مسک کی ان تنقیدوں کو مسترد کرتے ہوئے ان کی مخالفت کی تھی۔ ایلون مسک نے برطانیہ کی سیف گارڈنگ وزیر جیس فلپ پر بھی تنقید کی، اور ان پر گرومنگ گینگز کے خلاف قانونی کارروائی کرنے میں ناکامی کا الزام عائد کیا تھا۔

    ٹیکس نہ دینے والوں سے ٹیکس وصول کیا جائے گا، وزیراعظم

    توشہ خانہ ٹو کیس، بشریٰ کی عدم پیشی،عدالت کا اظہار برہمی

    لاس اینجلس میں آگ ،اداکارہ نورا فتیحی کیسے نکلیں؟

  • سرکاری نیوز ایجنسی اے پی پی نے "باورچی” کو برطانیہ میں سینئر رپورٹر بنا دیا

    سرکاری نیوز ایجنسی اے پی پی نے "باورچی” کو برطانیہ میں سینئر رپورٹر بنا دیا

    پاکستان کی سرکاری نیوز ایجنسی اے پی پی کا کمال،باورچی کو برطانیہ میں سینئر رپورٹر مقرر کر دیا

    پاکستان کے قومی خبررساں ادارے اے پی پی (ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان) نے ایک باورچی کو برطانیہ میں اپنے نئے نمائندے،سینئر رپورٹر کے طور پر مقرر کر لیا ہے۔ اے پی پی نے فیضان خالد کو برطانیہ (یو کے) میں سینئر رپورٹر کے طور پر تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔اے پی پی کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، ملک فیضان خالد، جو کہ 34-ایگنیس ایونیو، ایل فورڈ آئی جی12EE، یو کے میں مقیم ہیں، کو اے پی پی کا سینئر رپورٹر مقرر کیا گیا ہے۔ فیضان خالد کو خبریں، تصاویر اور ویڈیوز مخصوص ای میل ایڈریسز اور واٹس ایپ گروپ میں ارسال کرنی ہوں گی۔ اس کے لیے انچارج ڈسٹرکٹ رپورٹر ڈیسک سے رابطہ کیا جا سکتا ہے، نوٹفکیشن میں ای میل ایڈریسز بھی دیئے گئے ہیں.ملک فیضان خالد کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے شناختی کارڈ، تعلیمی اسناد اور ڈومیسائل کی مصدقہ کاپیاں اس دفتر میں جمع کرائیں تاکہ ضروری کارروائی کی جا سکے۔یہ نوٹیفکیشن ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے منیجنگ ڈائریکٹر جناب محمد آصف کھچی کی منظوری کے بعد جاری کیا گیا ہے۔

    اے پی پی کے برطانیہ میں سینئر رپورٹر مقرر ہونے والے فیضان خالد کی برطانوی حکومت کی ویب سائٹ پر جب پروفائل چیک کی گئی تو وہ ٹوٹنگ کراہی اینڈ کمپنی لمیٹڈ میں نومبر 2024 سے بطور ڈائریکٹر کام کر رہے ہیں،ملک فیضان خالد نے اوریجنل کڑاہی میں بھی بطور ڈائریکٹر نومبر 2024 سے کام کر رہے ہیں،مئی 2017 سے ان کا تجربہ الہاشم شہنشاہ ریسٹورینٹ کا لکھا ہوا ہے،ریسٹورینٹ میں انکا کردار ڈائریکٹر کا ہے، اس کا مطلب ہے کہ ملک فیضان خالد جو ہوٹل کے ڈائریکٹر ہیں وہ کھانے بنانے کا وسیع تر تجربہ رکھتے ہوں گے اور اے پی پی نے انہیں سینئر رپورٹر بنا دیا ہے،

    faizan khalid

    دوسری جانب اے پی پی نے محمد اصغر، سابق سینئر صحافی کو چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ایک سال کے لیے اعزازی طور پرکام کرنے کی اجازت دی ہے،

  • ہومپیو وائرس،برطانیہ میں کیسزدوگنا،ماہرین نے چین سے تفصیلات مانگ لیں

    ہومپیو وائرس،برطانیہ میں کیسزدوگنا،ماہرین نے چین سے تفصیلات مانگ لیں

    برطانیہ کے ماہرین نے چین سے درخواست کی ہے کہ وہ ہومپیو وائرس ایچ ایم پی وی کے پھیلاؤ کی اہم تفصیلات فراہم کرے، جس کی وجہ سے چینی اسپتالوں پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ برطانوی ماہرین کا کہنا ہے کہ انہیں اس وائرس کی موجودہ قسم کے بارے میں مزید معلومات کی ضرورت ہے تاکہ وہ اس کی برطانوی عوام کے لیے ممکنہ خطرات کا صحیح طور پر اندازہ لگا سکیں۔

    برطانوی ماہر وائرس ڈاکٹر اینڈریو کیچ پول نے کہا، "ہمیں وائرس کے اس مخصوص اسٹین کی تفصیلات کی ضرورت ہے جو چین میں گردش کر رہا ہے تاکہ ہم صحیح طور پر اس کے اثرات کا تجزیہ کر سکیں۔” ڈاکٹر کیچ پول نے مزید کہا کہ "چین میں اس وائرس کے پھیلاؤ کی شدت معمول سے زیادہ ہو سکتی ہے۔”برطانوی صحت کے حکام نے اس وائرس کے پھیلاؤ کو اہمیت دیتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ میں گزشتہ ماہ کے دوران ہومپیو وائرس کے کیسز میں دوگنا اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ حالیہ برطانوی نگرانی کے ڈیٹا کے مطابق، ایک اندازے کے مطابق ہر 20 سانس کی بیماریوں میں سے ایک کی وجہ ایچ ایم پی وی ہو سکتی ہے۔

    ڈاکٹر کیچ پول نے مزید کہا کہ "ہومپیو وائرس عام طور پر سردیوں کے موسم میں پایا جاتا ہے، لیکن یہ لگتا ہے کہ چین میں اس وائرس کے سنجیدہ کیسز کی شرح معمول سے زیادہ ہو سکتی ہے۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ "ہمیں یہ سمجھنے کے لیے مزید معلومات کی ضرورت ہے کہ آیا یہ وائرس معمول کے گردش کرنے والے اسٹینز ہیں یا چین میں جو وائرس پھیل رہا ہے وہ کچھ مختلف ہے۔”اس وائرس کے عام علامات نزلہ اور کھانسی ہیں، لیکن کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد جیسے بچے، بزرگ اور بیمار لوگ اس سے زیادہ سنگین بیماریوں میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔

    چین نے حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی اسپتالوں کی بھرپور تصاویر اور ویڈیوز کو کم اہمیت دی ہے اور کہا ہے کہ یہ وائرس گزشتہ سال کے مقابلے میں کم سنگین ہے۔ تاہم، کچھ ماہرین نے چین میں جاری صورتحال کو 2019 میں کووڈ-19 کے آغاز کے ساتھ مماثلت قرار دیا ہے، جب چین نے ابتدائی طور پر وائرس کی شدت کو کم کر کے پیش کیا تھا۔برطانوی ماہرین نے بھی اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ چینی اسپتالوں میں جو منظر دکھائی دے رہے ہیں، وہ برطانیہ کے اسپتالوں سے زیادہ مختلف نہیں ہیں۔

    ماہرین نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ایچ ایم پی وی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں، خاص طور پر ان لوگوں کو جو کمزور مدافعتی نظام رکھتے ہیں۔ پروفیسر جایا ڈنٹس نے کہا، "ہمیں اس وائرس کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لیے محتاط اور متوازن طریقہ اختیار کرنا ہوگا۔”انہوں نے مزید کہا، "ہمیں ٹیسٹ کرانا، گھر پر رہنا اور دوسروں سے دور رہنا چاہیے، عوامی مقامات پر ماسک پہننا چاہیے اور اپنے کمزور افراد کی حفاظت کرنی چاہیے۔”

    چین سے مزید شفاف معلومات کی درخواست عالمی ماہرین کی جانب سے کی گئی ہے۔ ڈاکٹر سنجیہ سنانییکے نے کہا، "چین کے لیے اس پھیلاؤ پر جلدی معلومات فراہم کرنا بہت ضروری ہے، بشمول اس بات کے کہ کس گروہ میں اس کا زیادہ اثر ہو رہا ہے۔”انہوں نے مزید کہا، "ہمیں جینیاتی ڈیٹا کی بھی ضرورت ہے تاکہ یہ تصدیق ہو سکے کہ ایچ ایم پی وی ہی اس کا سبب ہے اور آیا اس میں کوئی اہم تغیرات تو نہیں ہوئے ہیں۔”

    امریکہ میں بھی ایچ ایم پی وی کے کیسز میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے، جہاں دسمبر کے آخر میں مثبت ٹیسٹ کی شرح دگنا ہو گئی۔ تاہم، امریکی سی ڈی سی کا کہنا ہے کہ وہ چین میں ہونے والی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں، لیکن انہیں فی الحال امریکہ میں اس کے پھیلاؤ کے بارے میں زیادہ تشویش نہیں ہے۔

    ہومپیو وائرس پہلی بار 2001 میں سامنے آیا تھا اور عام طور پر نزلہ یا سردی کے جیسے علامات پیدا کرتا ہے۔ تاہم، اس کے شدید کیسز میں برونکائٹس، برونکائیولائٹس اور نمونیا جیسے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں، جن میں سانس کی تکلیف، شدید کھانسی اور سانس کا مسئلہ شامل ہیں۔ بچے، بزرگ اور کمزور مدافعتی نظام والے افراد اس کے شدید اثرات کا زیادہ شکار ہو سکتے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ ایچ ایم پی وی عموماً ہلکا وائرس ہے، اس لیے اس کا عین موت کا شرح معلوم نہیں، لیکن اندازہ ہے کہ ہسپتال میں داخل ہونے والے 10 سے 30 فیصد مریض اس وائرس کی وجہ سے موت کا شکار ہو سکتے ہیں۔ڈاکٹر سنانییکے نے خبردار کیا کہ چین میں ایچ ایم پی وی کے کیسز میں اضافہ ایک "خراب فلو سیزن” کے مترادف ہے اور اس کے عالمی سطح پر پھیلنے کا امکان کم ہے۔

    اگرچہ ایچ ایم پی وی ایک عام وائرس سمجھا جاتا ہے، لیکن اس کے پھیلاؤ اور چین میں بڑھتی ہوئی شدت نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے۔ ماہرین نے چین سے مزید معلومات فراہم کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ وائرس کی نوعیت اور اس کے اثرات کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے اور اس کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لیے ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کی جا سکیں۔

    بھارت میں انسانی میٹا نیومو وائرس کا پہلا کیس رپورٹ

    چین میں پھیلنے والا وائرس 2 دہائیوں سے پاکستان میں موجود ؟

    چین : کورونا جیسا وائرس ’ایچ ایم پی وی‘ پھیلنے کی اطلاعات

    بھارت میں منکی پاکس وائرس کی تشخیص ،علاج کی نئی تکنیک دریافت

  • برطانیہ اور جرمنی میں برفباری کے باعث پروازوں میں خلل

    برطانیہ اور جرمنی میں برفباری کے باعث پروازوں میں خلل

    برطانیہ اور جرمنی میں شدید برفباری نے یورپ کے مختلف حصوں میں خلل ڈال دیا، جس سے ہوائی سفر متاثر ہوا۔

    برطانیہ کے متعدد ایئرپورٹس نے اتوار کی صبح شدید برفباری اور برف جمنے کی وجہ سے اپنی رن ویز بند کر دیں۔ برطانیہ کی موسمیاتی دفتر کے مطابق پورے ملک کے مختلف حصے برف اور برفباری کے خطرات کی زد میں تھے، جن میں شمالی آئرلینڈ کا بیشتر حصہ، اسکاٹ لینڈ کا بیشتر حصہ اور انگلینڈ کے شمالی اور وسطی علاقے شامل تھے۔ ویلز کے بیشتر علاقے کو بھی زرد بارش کی وارننگ دی گئی تھی۔مانچسٹر ایئرپورٹ، جو برطانیہ کا تیسرا سب سے بڑا ایئرپورٹ ہے، نے اتوار کی صبح اعلان کیا کہ اس نے شدید برفباری کی وجہ سے اپنی رن وے عارضی طور پر بند کر دی ہے۔ سوشل میڈیا پر کیے گئے ایک پوسٹ میں ایئرپورٹ نے بتایا کہ اس کے عملے نے رن وے سے برف صاف کرنے کے لیے کام کیا اور تقریباً 9:45 صبح کے قریب رن وے دوبارہ کھول دیا گیا۔

    لِورپول کا جان لینن ایئرپورٹ بھی اتوار کی صبح برفباری کے باعث اپنی رن وے عارضی طور پر بند کر چکا تھا، تاہم 10:15 صبح کے قریب اس نے اپنی رن وے دوبارہ کھول دی۔ نیو کاسل انٹرنیشنل ایئرپورٹ نے بتایا کہ "شدید اور مسلسل برفباری” کی وجہ سے پروازوں کے شیڈول میں خلل آیا ہے۔برمنگھم ایئرپورٹ نے رات کے قریب کئی گھنٹوں تک اپنی خدمات بند رکھی تاکہ عملہ برف کو صاف کر سکے، لیکن اتوار کو اس نے دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا اور کہا کہ "مستقل مزاج ٹیموں کی کوششوں کی بدولت یہ دوبارہ کھولا گیا”۔

    برطانیہ میں ٹرین کے راستے بھی موسمی حالات کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں، جیسا کہ نیشنل ریل نے اتوار کی صبح بتایا۔ برف اور برفباری کی وجہ سے ریل کے راستوں پر رفتار کی حدود اور لائن بندشیں لگائی جا رہی ہیں تاکہ ٹرینیں محفوظ طریقے سے چل سکیں۔نیشنل ہائی ویز، جو انگلینڈ کے اہم راستوں کو چلانے والی حکومتی کمپنی ہے، نے ہفتہ اور اتوار کو برفباری کی شدید وارننگ جاری کی تھی۔ انہوں نے سڑکوں پر سفر کرنے والے افراد کو اضافی احتیاط برتنے کا مشورہ دیا۔

    اسکاٹ لینڈکےعلاقےلاخ گلاسکارنوچ میں رات کو درجہ حرات منفی 11 تک گرا۔ لندن میں گزشتہ شب گرنے والی برف بارش کے سبب جم نہ سکی،ناردرن آئرلینڈ میں 28 ہزار اور انگلینڈ میں سیکڑوں گھروں کی بجلی چلی گئی۔ لندن کے واٹر لو اسٹیشن سے درجنوں ٹرینیں بجلی میں خلل کے سبب منسوخ ہوگئیں،حکام کی جانب سے متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں کو گھروں میں رہنےکا مشورہ دیا گیا ہے۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی جانب سے ڈرائیورزکو خبردار کیا گیا ہےکہ شمالی انگلینڈ میں آج 25 سینٹی میٹر تک برف گرسکتی ہے،دیگر علاقوں میں شدید برفباری، بارش، پھسلن اور سیلاب کی یلو وارننگ جاری کی گئی ہے۔ بعض علاقوں میں 40 سینٹی میٹرتک برف گرنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

    دوسری جانب جرمنی میں بھی برفباری اور سیاہ برف، ساتھ ہی خراب دید کے حالات کے باعث فرینکفرٹ ایئرپورٹ پر درجنوں پروازیں منسوخ ہو گئیں۔ اے پی کی رپورٹ کے مطابق، فرینکفرٹ ایئرپورٹ پر تقریباً 120 پروازیں منسوخ کر دی گئیں، جو کل 1,090 پروازوں میں سے ایک بڑی تعداد تھی۔میونخ ایئرپورٹ پر صرف ایک رن وے کھلا تھا۔ جرمنی کے موسمیاتی دفتر نے خبردار کیا کہ برفباری کے بعد منجمد بارش جاری رہ سکتی ہے اور لوگوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی نصیحت کی۔

    جنگی جرائم کا مقدمہ،اسرائیلی فوجی برازیل سے رات کے اندھیرے میں فرار

    سپریم کورٹ،سابق ڈپٹی اسپیکر رولنگ کیس ،پرویز الہیٰ کو نوٹس جاری

  • برطانیہ کیلئے پی آئی اے کی پروازیں فروری تک چلنے کا امکان

    برطانیہ کیلئے پی آئی اے کی پروازیں فروری تک چلنے کا امکان

    یورپ کے لیے براہ راست پروازوں پر پابندی کے خاتمے کے بعد سول ایوی ایشن اتھارٹی برطانیہ میں قومی ایئر لائن کی براہ راست پروازوں پر عائد پابندی ہٹوانے کے لیے متحرک ہوگئی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ برطانیہ کے لیے پی آئی اے کا براہ راست فلائٹ آپریشن فروری میں بحال ہونے کا امکان ہے، پہلے مرحلے میں مانچسٹر کے لیے پروازیں شرو ع کی جائیں گی۔ذرائع کے مطابق ڈی ایف ٹی نے سی اے اے کی مینول رپورٹ پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے سیکیورٹی آڈٹ میں استثنیٰ کی درخواست پر رضا مندی ظاہر کردی ہے اور برطانوی ٹیم رسمی طور پر سی اے اے اور پی آئی اے کا سیفٹی آڈٹ کرے گی۔سی اے اے کے ذرائع کے مطابق برطانیہ کے محکمہ ٹرانسپورٹ کیریئر (ڈی ایف ٹی ) کی ٹیم سی اے اے اور پی آئی اے کے سیکیورٹی آڈٹ کے لیے 15 سے 17 جنوری تک کراچی کا دورہ کرے گی۔سی اے اے ذرائع کے مطابق برطانوی ڈی ایف ٹی کی ٹیم پی آئی اے اور سول ایوی ایشن کا آڈٹ پہلے ہی کرچکی ہے جس پر پی آئی اے اور سی اے اے نے کامیابی حاصل کی تھی۔ڈی جی سول ایوی ایشن اتھارٹی نادر شفیع ڈار ذاتی طور پر برطانیہ کے لیے براہ راست پروازوں کی بر وقت بحالی کو یقینی بنانے کے لیے حفاظتی ٹیموں کی قیادت کر رہے ہیں، سول ایوی ایشن کے حکام ڈی ایف ٹی کے وفد کو بریفنگ دیں گے۔ذرائع کے مطابق برطانیہ اور یورپی یونین کے لیے براہ راست پروازوں کا دوبارہ آغاز نئے سال میں سی اے اے کا پہلا تحفہ ہوگا، پاکستان ایوی ایشن میں حفاظت اور سلامتی کا واحد ریگولیٹر بن گیا ہے۔

    پٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں سالانہ بنیادوں پر 4 فیصد اضافہ

    سعودی عرب جانے والے مسافرسے ہیروئن برآمد

    پاکستان اور بنگلہ دیش کی افواج کے مابین تربیتی معاہدہ، بھارت کو تشویش

  • نومئی کے مجرموں کو سزا پر برطانوی ردعمل غیر ضروری

    نومئی کے مجرموں کو سزا پر برطانوی ردعمل غیر ضروری

    برطانیہ نے ایک غیر ضروری اور غیر معقول بیان میں پاکستان میں شہریوں کے فوجی عدالتوں میں مقدمات چلانے پر اعتراض اٹھایا ہے۔ یہ اعتراض اُس ملک کی طرف سے آیا ہے جو خود 29 جولائی 2024 کو ساؤتھ پورٹ کے علاقے میں ہونے والے نسل پرستی کے فسادات کے بعد اپنے شہریوں پر سخت کارروائی کر چکا ہے۔ ان فسادات کے بعد برطانیہ نے چند دنوں کے اندر 200 سے زیادہ افراد، بشمول تین بچوں، کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے کے غیر مستقیم الزامات پر سزا دی اور سخت سزائیں سنائیں۔

    فسادات میں ملوث تمام افراد کو فوراً جیل بھیج دیا گیا۔ 54 سزا یافتہ افراد میں سے 47 بالغ اور 3 نابالغ افراد کو قید کی سزائیں دی گئیں۔ جنہوں نے جرم قبول کیا، ان کے مقدمات کو تیزی سے نمٹایا گیا، جبکہ باقی افراد کو حراست میں رکھا گیا۔خاص طور پر وہ لوگ جنہوں نے براہ راست تشدد میں حصہ نہیں لیا لیکن سوشل میڈیا پر نفرت انگیزی پھیلائی، ان کے خلاف سخت اقدامات کیے گئے۔ نارتھمپٹن میں ایک 26 سالہ شخص، جس نے ہوٹلوں اور تارکین وطن کی مدد کرنے والے وکیلوں کو جلانے کی دھمکی دی تھی، کو تین سال اور دو ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔پاکستان نے کبھی برطانیہ کے اس عمل پر اعتراض نہیں کیا، بلکہ فسادات کے دوران جعلی خبروں پھیلانے والے افراد کی شناخت میں مکمل تعاون کیا، کیونکہ یہ برطانیہ کا اندرونی معاملہ تھا۔اب برطانیہ کی طرف سے پاکستان میں ایک قانونی اور آئینی عمل پر اعتراض کرنا نہایت مضحکہ خیز اور بے بنیاد ہے۔ 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے ایک سال سے زیادہ عرصہ لگ گیا، اور اب ٹھوس شواہد کی بنیاد پر مقدمات کو نمٹایا جا رہا ہے۔ یہ سب پاکستان کے آئین اور قانون کے مطابق ہو رہا ہے۔

    یہ بات واضح ہے کہ ہر ملک کے قوانین اور عدالتی نظام مختلف ہوتے ہیں اور ان کا انحصار زمینی حقائق پر ہوتا ہے۔ پاکستان میں شہریوں کے فوجی عدالتوں میں مقدمات چلانا ایک قانونی اور آئینی عمل ہے جو ملک کے قوانین اور آئین کے تحت جائز ہے۔برطانیہ کو چاہیے کہ وہ اپنے معاملات پر توجہ دے اور غزہ اور فلسطین کے عوام کے سیاسی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آواز اٹھائے، اور اسرائیل کو نسل کشی سے روکے۔برطانیہ کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے سے گریز کرنا چاہیے، خاص طور پر کسی بیرونی دباؤ کے تحت۔ پاکستان کسی بھی غیر ضروری اور بے بنیاد سیاسی مداخلت کو قبول نہیں کرے گا۔

    کوشش ہونی چاہیے کہ کے فور منصوبہ کو جلد از جلد مکمل ہو،سعید غنی

    9 مئی مقدمات میں شہریوں کی سزاؤں پربرطانیہ کاردعمل آگیا

    کراچی کو ٹینکروں کے ذریعے نہیں نلکوں میں پانی دیا جائے ، منعم ظفر خان

    چینی قونصلیٹ لاہور کے زیر اہتمام فرینڈشپ ایوارڈ تقریب 2024 کا انعقاد

    ایف بی آر کی نئی پاسورڈ پالیسی جاری

    یونان کشتی حادثہ، مزید 15 انسانی اسمگلروں کے نام اسٹاپ لسٹ میں شامل

  • برطانوی ایئر پورٹ پر پولیس سے جھگڑا،دو پاکستانیوں پر فردجرم عائد

    برطانوی ایئر پورٹ پر پولیس سے جھگڑا،دو پاکستانیوں پر فردجرم عائد

    برطانیہ کے مانچسٹر ایئرپورٹ پر پولیس اہلکاروں سے جھگڑنے کے الزام میں دو پاکستانی نوجوانوں پر فردِ جرم عائد کردی گئی ہے۔

    کراؤن پراسیکیوشن سروس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، ان نوجوانوں پر پولیس اہلکاروں سے بدسلوکی اور جھگڑے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، تاہم اس واقعے میں کسی پولیس افسر پر فردِ جرم عائد نہیں کی گئی۔یہ واقعہ جولائی 2023 میں پیش آیا تھا جب مانچسٹر ایئرپورٹ پر پولیس اور دو پاکستانی نوجوانوں کے درمیان جھگڑا ہوا تھا۔ اس دوران پولیس نے ایک نوجوان کو زمین پر گرا کر تشدد کا نشانہ بنایا، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی تھی۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا تھا کہ پولیس اہلکار ایک نوجوان کو طاقت کے ساتھ قابو کر رہے تھے، جس پر عوامی سطح پر تشویش اور غم و غصہ کا اظہار کیا گیا۔

    اس واقعے کے بعد، سوشل میڈیا پر پاکستانی کمیونٹی اور دیگر افراد کی جانب سے پولیس کے رویے پر سخت تنقید کی گئی۔ ویڈیو میں نوجوان پر ہونے والے تشدد کو غیر ضروری اور زیادتی قرار دیا گیا۔ مانچسٹر سے منتخب برطانوی پاکستانی رکن پارلیمنٹ، افضل خان نے بھی اس واقعے پر شدید ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا تھا کہ پولیس نے شہری پر طاقت کا بے جا استعمال کیا ہے اور اس معاملے کی غیر جانبدار تحقیقات ہونی چاہیے۔افضل خان نے انڈپینڈنٹ آفس فار پولیس کنڈکٹ سے اس واقعے کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا تھا تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ پولیس اہلکاروں نے اپنی ذمہ داریوں سے تجاوز کیا ہے یا نہیں۔

    اس دوران، نوجوانوں کی والدہ نے برطانوی عدالت کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے کے ساتھ جو سلوک کیا گیا وہ نہ صرف غیر قانونی تھا بلکہ غیر اخلاقی بھی تھا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ عدالت میں اس فیصلے کے خلاف اپیل کی جائے گی اور انصاف کا دروازہ کھلے گا۔

    مانچسٹر پولیس کی جانب سے اس معاملے میں ابھی تک کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکاروں کی کارروائی اس وقت کے حالات کے مطابق تھی اور انہیں عوامی حفاظت کے لیے کارروائی کرنی پڑی۔ پولیس نے یہ بھی کہا کہ اس قسم کے واقعات کی مکمل تحقیقات کی جاتی ہیں تاکہ ایسی صورتحال کے دوران اہلکاروں کی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے۔

    اس واقعے کے بعد مانچسٹر سمیت پورے برطانیہ میں پاکستانی کمیونٹی کی جانب سے پولیس کے اس رویے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ متعدد افراد نے سوشل میڈیا پر اپنی آواز بلند کی اور مطالبہ کیا کہ پولیس کے اہلکاروں کو جوابدہ بنایا جائے۔ اس کے علاوہ، کئی تنظیموں نے اس معاملے کی تحقیقات کرنے اور نوجوانوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے ازالے کا مطالبہ کیا۔یہ واقعہ برطانیہ میں پاکستانی کمیونٹی کی حالت اور پولیس کے رویے پر ایک سنگین سوالیہ نشان بن چکا ہے اور اس کے اثرات مستقبل میں برطانوی پولیس اور کمیونٹی کے تعلقات پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

    ایئر پورٹ پر پولیس کا نوجوان پر تشدد،شہریوں کا پولیس کے خلاف احتجاج

    بنوں واقعہ،تحقیقات کر کے ذمہ داران کو سز ا دی جائیگی،بیرسٹر سیف

    بنوں حملہ،ایک اور دہشت گرد کی شناخت،افغان شہری نکلا

    دہشت گرد عثمان اللہ عرف کامران کا تعلق افغانستان کے صوبہ لوگر سے تھا۔

     بنوں میں دہشت گردی کی گھناؤنی کارروائی حافظ گل بہادر گروپ نے کی ہے،

    بونیر،سیکورٹی فورسز کا آپریشن،دہشتگردوں کا سرغنہ جہنم واصل،دو جوان شہید

  • ایک خاندان کے ہاں 65 سال بعد بیٹے کی پیدائش

    ایک خاندان کے ہاں 65 سال بعد بیٹے کی پیدائش

    لندن: ایک خاندان کے ہاں 65 سال بعد یا چوتھی نسل میں پہلے لڑکے کی پیدائش ہوئی تو انہوں نے لگ بھگ 3 دہائی پرانی ایک تصویر کو دوبارہ نئی شکل میں بنایا،یہ تصویر ایک مقامی روزنامے میں شائع ہوئی تھی جس میں ایک خاندان کی 5 نسلوں کو دکھایا گیا تھا۔

    برطانیہ کے قصبے Stowmarket سے تعلق رکھنے والی 27 سالہ شانتیل اسٹون کے ہاں گزشتہ دنوں بیٹے کی پیدائش ہوئی جب 1997 میں شانتیل اسٹون کی پیدائش ہوئی تھی تو ان کی نانی نے اپنے خاندان کی 4 نسلوں کے ساتھ نومولود بیٹی کی تصویر کھچوائی تھی، اب شانتیل اسٹون کے ہاں 26 نومبر کو بیٹے کی پیدائش ہوئی تو ان کی نانی نے ایک بار پھر ایسا کیا۔
    photo
    1997 کی تصویر میں شانتیل اسٹون اپنی والدہ ایمنڈا لی کی گود میں تھی جبکہ شانتیل اسٹون کی نانی لنزے اسٹون، پرنانی جوآن ایبرن اور سکڑ نانی ایڈتھ میننگ بھی اس تصویر میں موجود تھیں-

    آخری بار اس خاندان میں لڑکے کی پیدائش 1959 میں لنزے اسٹون کے بھائی کیون کی ہوئی تھی، لنزے اسٹون کے مطابق ‘مجھے یاد ہے کہ رپورٹر میرے نانا کے گھر 1997 میں آیا اور یہ تصویر کھینچی،ان کے مطابق اس زمانے میں ایمنڈا کا کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ اگلی بار لڑکا ہو جائے مگر پھر اس نے 3 مزید لڑکیوں کو جنم دیا۔
    uk
    اب نئی تصویر میں ایڈتھ میننگ کی جگہ 91 سالہ جوآن ایبرن نے لے لی ہے اور وہ اپنی والدہ کی جگہ اس خاندان کی سرپرست بن چکی ہیں جبکہ اس لڑکے کی سکڑ نانی ہیں،جوآن ایبرن کی 91 ویں سالگرہ کے موقع پر ان کا خاندان جمع ہوا تاکہ بچے کی پیدائش پر جشن منا سکے اور اس موقع پر نئی تصویر کھینچی گئی۔

    لنزے اسٹون کے مطابق یہ بہت خوبصورت موقع تھا انہوں نے کہا کہ میرا نواسا بہت خوبصورت ہے اور اپنے والدین کی طرح کافی متحرک نظر آتا ہے،اس نے وضاحت کی کہ اس کی بہن کو بھی ایک پوتے سے نوازا گیا ہے، یعنی تھیو بھی خاندان میں اکیلا لڑکا نہیں ہے۔