Baaghi TV

Tag: برطانیہ

  • وزیراعظم  کی ترک،اماراتی،ازبک،تاجک،نیپالی صدر، برطانوی وزیراعظم سے ملاقات

    وزیراعظم کی ترک،اماراتی،ازبک،تاجک،نیپالی صدر، برطانوی وزیراعظم سے ملاقات

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی باکو، آذربائیجان میں کانفرنس آف پارٹیز (COP-29) کے کلائیمیٹ ایکشن سربراہی اجلاس کی افتتاحی تقریب کے موقع پر عالمی رہنماؤں سے غیر رسمی ملاقاتیں ہوئی ہیں

    وزیراعظم شہباز شریف نے اماراتی صدر محمد بن زاید، ترک صدر رجب طیب ایردوان، ازبک صدر شوکت مرزیویف، تاجک صدر امام علی رحمن، نیپالی صدر رام چندر پاؤڈیل، اور بنگلہ دیشی چیف ایڈوائزر ڈاکٹر محمد یونس سے موسمیاتی تبدیلی، آبی وسائل کے تحفظ اور باہمی تعلقات پر گفتگو کی۔

    وزیرِاعظم کی متحدہ عرب امارات کے صدر عزت مآب محمد بن زاید النہیان سے ملاقات ہوئی ہے جس میں پاکستان-متحدہ عرب امارات کے مابین موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے تعاون سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو کی گئی،

    وزیرِ اعظم کی ترک صدر رجب طیب ایردوان اور ترکیہ کی خاتون اول امینہ ایردوان سے بھی ملاقات ہوئی ہے، ملاقات میں ترکیہ پاکستان کے ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے حوالے سے تعاون سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو کی گئی،

    وزیرِ اعظم کی اس موقع پر عالمی رہنماؤں سے غیر رسمی ملاقاتیں بھی ہوئیں. وزیرِ اعظم کی برطانیہ کے وزیرِ اعظم سر کیئر اسٹارمر   سے ملاقات ہوئی، ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے پاکستان برطانیہ تعاون کے فروغ کے حوالے سے گفتگو کی.

    وزیرِ اعظم کی ازبکستان کے صدر عزت مآب شوکت مرزیویف اور تاجکستان کے صدر امام علی رحمن سے بھی ملاقات ہوئی ہے ملاقات میں وسط ایشیائی ممالک اور پاکستان میں گلیشیئرز و آبی وسائل کے تحفظ پر گفتگو کے ساتھ ساتھ پاکستان کے تاجکستان اور ازبکستان سے مواصلاتی روابط کو وسعت دینے پر گفتگو کی گئی،

    وزیرِ اعظم کی نیپال کے صدر رام چندر پاؤڈیل اور بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر ڈاکٹر محمد یونس سے بھی ملاقات ہوئی. ملاقات میں جنوبی ایشیاء میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، بلند ہوتی سطح سمندر کے خطرات اور جنگلات کے تحفظ پر گفتگو کی گئی، اسکے علاوہ بنگلہ دیش اور نیپال کے ساتھ پاکستان کے دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے حوالے سے بھی گفتگو کی گئی،

    وزیرِ اعظم شہباز شریف کوپ 29 کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچ گئے۔

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    اکرم چوہدری کا نجی ٹی وی کے نام پر دورہ یوکے،ذاتی فائدے،ادارے کو نقصان

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

    دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے اقوام متحدہ کے فریم ورک کے مطابق خصوصی فنڈز مختص کرنے کا مطالبہ کیا ہے،باکو میں کلائمیٹ فنانس گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ترقی پذیر ممالک کو 2030ء تک ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے 6 ہزار 8 سو ارب ڈالر کی ضرورت ہے، وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان میں گزشتہ برسوں میں آنے والے سیلاب کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ماضی قریب میں دو تباہ کن سیلابوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، اب تک سیلاب سے ہونے والے نقصانات سے نکل نہیں سکے ہیں، ترقی یافتہ ملکوں کو موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے آگے آنا ہوگا، یو این فریم ورک پر عمل کرنا ہوگا،

  • ٹرمپ کی کامیابی،شہزادہ ہیری کی امیگریشن فائل منظر عام پر آنے کاامکان

    ٹرمپ کی کامیابی،شہزادہ ہیری کی امیگریشن فائل منظر عام پر آنے کاامکان

    امریکی صدارتی انتخاب میں ٹرمپ کی کامیابی: شہزادہ ہیری کی امیگریشن فائل منظر عام پر آ سکتی ہے

    امریکہ میں 2024 کے صدارتی انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے بعد برطانیہ کے شہزادہ ہیری کی خفیہ امیگریشن فائل منظر عام پر آ سکتی ہے۔ بائیڈن انتظامیہ نے اب تک اس فائل کی ریلیز کو روکے رکھا تھا، لیکن ٹرمپ کی جیت کے بعد یہ معاملہ دوبارہ سرخیوں میں آ سکتا ہے۔

    شہزادہ ہیری اور ٹرمپ کے درمیان اختلافات 2016 کے امریکی صدارتی انتخابات کے دوران بڑھنے لگے تھے، جب میگھن مارکل نے ٹرمپ کو عورت دشمن قرار دیا تھا اور جواب میں ٹرمپ نے میگھن کو "گھٹیا” قرار دیا تھا۔ اس کے بعد، ٹرمپ نے 2017 میں کہا تھا کہ اگر وہ دوبارہ صدر بنے تو شہزادہ ہیری کو حمایت نہیں دیں گے کیونکہ اس نے ملکہ الزبتھ دوم کے ساتھ بے وفائی کی ہے۔ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ اگر شہزادہ ہیری نے اپنی امیگریشن درخواست میں جھوٹ بولا تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

    شہزادہ ہیری کی امریکی امیگریشن درخواست پر سوالات اُس وقت اُٹھے جب 2023 میں اُنہوں نے اپنی یادداشت "Spare” میں منشیات کے استعمال کا اعتراف کیا۔ امریکی امیگریشن کے قوانین کے مطابق، منشیات کا استعمال امریکی شہریت حاصل کرنے میں رکاوٹ بن سکتا ہے، اور اس بارے میں معلومات درخواست میں فراہم کرنا ضروری ہوتا ہے۔دائیں بازو کے تھنک ٹینک "ہیریٹج فاؤنڈیشن” کا دعویٰ ہے کہ منشیات کا تفریحی استعمال امریکی شہریت کے لیے نااہلی کا باعث بن سکتا ہے۔ امریکی محکمہ داخلی سلامتی نے شہزادہ ہیری کی امیگریشن فائلز کی ریلیز سے انکار کر دیا تھا، جس کے بعد ہیریٹج فاؤنڈیشن نے اس فیصلے کے خلاف مقدمہ دائر کیا، جو ابھی اپیل میں ہے۔برطانوی میڈیا کے مطابق، شہزادہ ہیری کو بائیڈن انتظامیہ کی مکمل حمایت حاصل ہے، لیکن ٹرمپ کی کامیابی کے ساتھ، یہ ممکن ہے کہ وہ شہزادہ ہیری کی امیگریشن درخواست پر دوبارہ غور کریں یا اس کے ریکارڈز منظر عام پر لے آئیں۔ہیریٹج فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ شہزادہ ہیری کے ریکارڈز کی منظر عام پر آنے سے یہ پیغام جائے گا کہ قانون سب کے لیے یکساں ہے اور کسی کو بھی قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جا سکتا۔

    شہزادہ ہیری کے امیگریشن کیس نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے، جس میں نہ صرف برطانوی شاہی خاندان کی نجی زندگی شامل ہے بلکہ امریکی امیگریشن پالیسی بھی متاثر ہو رہی ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے سخت امیگریشن قوانین کا حامی ہونا اور ہیری کی ممکنہ امیگریشن فائلز کا منظر عام پر آنا ایک بڑی سیاسی اور قانونی تبدیلی کی علامت ہو سکتی ہے۔ اس معاملے پر بائیڈن انتظامیہ کا موقف ایک طرف جبکہ ٹرمپ کے امیگریشن قوانین پر سخت موقف کا فیصلہ ایک اہم موڑ ہوگا، جس سے بین الاقوامی سطح پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

    ٹرمپ کی تین شادیاں،26 جنسی ہراسانی کے الزامات،امیر ترین صدر

    ٹرمپ کی جیت،زلفی بخاری کی مبارکباد،ملاقات کی تصویر بھی شیئر کر دی

    ٹرمپ کے دوبارہ صدر منتخب ہونے پر روس،ایران کا ردعمل

    ٹرمپ کو برطانوی،بھارتی وزیراعظم،فرانسیسی،یوکرینی صدر و دیگر کی مبارکباد

    امریکی انتخابات،سیاسی منظر نامے میں اہم تبدیلیاں

    وزیراعظم کی ٹرمپ کو مبارکباد،پاک امریکا تعلقات مزید مضبوط کرنے کا عزم

    اپریل 2022 میں عمران خان سے ملاقات کرنیوالی الہان عمر چوتھی بار کامیاب

    ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی امریکہ کے لیے ایک نیا آغاز،اسرائیلی وزیراعظم

    ٹرمپ کی فاتحانہ تقریر،ایلون مسک کی تعریفیں”خاص”شخص کا خطاب

    ٹرمپ کا شکریہ،تاریخی کامیابی دیکھی،جے ڈی وینس

    ٹرمپ کو دوبارہ صدر منتخب ہونے پر بلاول کی مبارکباد

  • برطانیہ،جنسی زیادتی کے 20 مجرمان کو 219 برس قید کی سزا

    برطانیہ،جنسی زیادتی کے 20 مجرمان کو 219 برس قید کی سزا

    برطانیہ 4 کمسن لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے جرم میں20 افراد کو 219 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے

    ویسٹ یارکشائر پولیس کے ایک سرکاری بیان میں 6 نومبر کو اعلان کیا گیا کہ برطانیہ میں گرومنگ گینگز کی ایک اور سزا میں، 20 مردوں کو کمسن لڑکیوں کے ساتھ زیادتی اور حملہ کرنے کا مجرم پایا گیا اور انہیں مجموعی طور پر 219 سال سے زیادہ قید کی سزا سنائی گئی۔ سزا پانے والوں میں، ہیلی فیکس کے شہزاد نواز (45) کو عصمت دری اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کا مجرم پایا گیا اور اسے مجموعی طور پر 11 سال کی سزا سنائی گئی۔ ہیلی فیکس کے ندیم ناصر (44) کو عصمت دری اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کا مجرم پایا گیا اور اسے مجموعی طور پر 11 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ ہیلی فیکس کے ساجد عدالت (48) کو عصمت دری کا مجرم پایا گیا اور اسے کل سات سال کی سزا سنائی گئی۔ ہیلی فیکس کے سہیل ظفر (41) نے عصمت دری اور کلاس سی منشیات کی فراہمی کے جرم کا اعتراف کیا۔ اسے مجموعی طور پر 42 ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔ ہیلی فیکس کے شہزاد نذیر (49) کو عصمت دری کا مجرم پایا گیا اور اسے مجموعی طور پر 11 سال کی سزا سنائی گئی۔ہیلی فیکس کے ندیم عدالت (39) کو عصمت دری کا مجرم پایا گیا اور اسے 14 سال کی سزا سنائی گئی۔ اس نے سزا کے خلاف اپیل کی اور اسے بڑھا کر کل 16 سال کر دیا گیا۔ ہیلی فیکس کے اسد محمود (38) کو عصمت دری کا مجرم پایا گیا اور اسے مجموعی طور پر 13 سال کی سزا سنائی گئی۔ ہیلی فیکس کے محمد رضوان اقبال (39) کو عصمت دری کا مجرم پایا گیا اور اسے کل نو سال کی سزا سنائی گئی۔ ہیلی فیکس کے وسیم عدالت (38) کو عصمت دری کا مجرم پایا گیا اور اسے 12 سال کی سزا سنائی گئی، جسے اپیل کے بعد بڑھا کر 14 سال 6 ماہ کر دیا گیا۔ہیلی فیکس کے امیر شعبان (48) کو عصمت دری کا مجرم پایا گیا اور اسے 10 سال کی سزا سنائی گئی۔ ہیلی فیکس کے ملک قدیر (67) کو عصمت دری کے پانچ الزامات کا مجرم پایا گیا اور اسے 22 سال کی سزا سنائی گئی۔ ہیلی فیکس کے محمد زیاراب (55) کو عصمت دری کا مجرم پایا گیا اور اسے 10 سال کی سزا سنائی گئی۔ ہیلی فیکس کے عمران راجہ یاسین (45) کو ریپ کا مجرم پایا گیا اور اسے 10 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ ہیلی فیکس کے کامران امین (48) کو ریپ کا مجرم پایا گیا اور اسے 10 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ ہیلی فیکس کے محمد اختر (54) کو عصمت دری کا مجرم پایا گیا اور اسے 11 سال کی سزا سنائی گئی۔ وہ اپنی سزا کاٹتے ہوئے انتقال کر گئے۔ہیلی فیکس کے ثقاب حسین (46) کو عصمت دری کا قصوروار پایا گیا اور اسے 7 سال اور 6 ماہ کی سزا سنائی گئی۔ ہیلی فیکس کے ہارون صادق (40) کو عصمت دری کے دو الزامات کا مجرم پایا گیا اور اسے 10 سال کی سزا سنائی گئی۔ ڈیوزبری کے شفیق علی رفیق (44) کو عصمت دری کے دو الزامات کا مجرم پایا گیا اور اسے 12 سال کی سزا سنائی گئی۔ بریڈ فورڈ کے سرفراز ربنواز (39) کو عصمت دری کے دو الزامات کا مجرم پایا گیا اور اسے 9 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ ہیلی فیکس کے کریگ مچل (55) کو عصمت دری کا مجرم پایا گیا اور اسے 12 سال کی سزا سنائی گئی۔

    ان ملزمان کو میں 12 سے 16 سال کی چار لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور ان کا استحصال کرتے ہوئے، انفرادی تحقیقات اور قانونی چارہ جوئی کے بعد عدالت پیش کیا گیا تھا۔ کالڈرڈیل کے جاسوسوں نے 2016 میں ابتدائی الزام کے بعد سے 2001 اور 2010 کے درمیان کیلڈرڈیل کے علاقے میں بچوں کے جنسی استحصال کے مختلف آزادانہ دعووں کی کئی انتہائی حساس اور پیچیدہ تحقیقات کی ہیں۔” قانونی کارروائیوں کے تحفظ کے لیے ابتدائی مرحلے میں عدالتی پابندیوں کی وجہ سے، ہم اب تک ان تحقیقات کے نتائج کا اشتراک کرنے سے قاصر رہے ہیں۔ پابندیاں اب ہٹا دی گئی ہیں، ہمیں تین تحقیقات کی تفصیلات بتانے کی اجازت دی گئی ہے

    کیلڈرڈیل میں 2006 سے 2009 کے درمیان 13 سے 16 سال کی دو لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور ان کا استحصال کیا گیا جس کے بعد پہلی تحقیقات 2016 میں شروع کی گئیں۔بریڈ فورڈ کراؤن کورٹ میں دو مقدمات کی سماعت کے دوران ہیلی فیکس سے تعلق رکھنے والے نو افراد کو قید کیا گیا۔ اکتوبر 2021 میں پہلے مقدمے کا آغاز ہوا جس میں پانچ افراد کو مجرم قرار دیا گیا اور چار مزید کو دوسرے مقدمے کے دوران مجرم قرار دیا گیا جو جنوری 2022 میں شروع ہوا تھا۔ 2002 سے 2006 تک ایک کمزور لڑکی کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے بارے میں سننے کے بعد، دوسری تفتیش بھی 2016 میں شروع ہوئی تھی۔بریڈ فورڈ کراؤن کورٹ میں، اگست 2022 میں پہلے مقدمے میں ایک شخص کو مجرم قرار دیا گیا تھا اور اکتوبر 2022 میں شروع ہونے والے دوسرے مقدمے میں چھ افراد کو قصوروار پایا گیا تھا۔ جنوری 2024 میں شروع ہونے والے تیسرے مقدمے میں تین افراد کو قصوروار پایا گیا تھا۔ 2018 میں 2001 اور 2002 کے درمیان ایک 12 سالہ لڑکی کو جنسی طور پر ہراساں کیا گیا تھا، تیسری تحقیقات کا موضوع تھا، جس میں ایک شخص کو مجرم سمجھا گیا تھا۔

    کم عمر لڑکیوں سے جنسی زیادتی،برطانیہ میں سات افراد پر فردجرم عائد

    برطانوی میڈیا کے مطابق 2014 میں ایک رپورٹ شائع ہوئی تھی جس میں رودرہیم میں 1997 سے لیکر 2013 تک برطانیہ میں مقیم پاکستانی افراد کے ایک گینگ کی طرف سے 1400 لڑکیوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنائے جانے کے انکشاف کے بعد آپریشن اسٹوو وڈ کے نام سے تحقیقات کا آغاز کیا گیا تھا ،برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی کے مطابق کمسن لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات سپر مارکیٹ، قبرستان، پارک، کار اور بچوں کی نرسری کے عقب سمیت مختلف مقامات پر ہوئے تھے،ایک بچی کو ہوٹل میں دو افراد نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا،

    قبل ازیں برطانیہ میں کم عمر لڑکیوں کو متعدد بار جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والے 24 ملزمان کو سزا سنائی گئی ہے،جن ملزمان کو عدالت نے سزا سنائی وہ ویسٹ یارکشائر میں 1999 سے 2012 کے درمیان متعدد کم سن لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی، بدسلوکی اور اسمگلنگ کے مرتکب پائے گئے ہیں، اس کیس کی ابتدا 2018 میں 8 بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی تحقیقات کے دوران ان ملزمان کی گرفتاریوں سے ہوئی، تحقیقات کے دوران ملزمان کا پورا نیٹ ورک پکڑا گیا اور دیگر بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات بھی سامنے آئے،

    ٹاٹا موٹرز کی کینٹین میں سموسوں سے کنڈوم،تمباکو،پتھرنکل آئے،مقدمہ درج

    شادی کی ضد مہنگی پڑ گئی،ملزم نے خاتون کو پارک میں زندہ جلا دیا

    خبردار، حق خطیب سے بڑا فنکار آ گیا، سائنس ہار گئی،ہاتھ سے موبائل کی بیٹری چارج

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    سوشل میڈیا پر دوستی،پھر عریاں تصاویر،پھر زیادتی،کم عمر لڑکیاں‌بنتی ہیں زیادہ شکار

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    سوشل میڈیا پر رابطہ،دبئی ویزے کے چکر میں خاتون عزت لٹوا بیٹھی

    زبردستی دوستی کرنے والے ملزم کو خاتون نے شوہر کی مدد سے پکڑوا دیا

    دوران دوستی باہمی رضامندی سے جنسی عمل کو شادی کے بعد "زیادتی” قرار دے کر مقدمہ درج

    خاتون کو برہنہ کر کے تشدد ،بنائی گئی ویڈیو،آٹھ ملزمان گرفتار

  • برطانیہ میں نئے منکی پاکس وائرس کے مزید دو کیسز کی تصدیق

    برطانیہ میں نئے منکی پاکس وائرس کے مزید دو کیسز کی تصدیق

    لندن:برطانیہ میں نئے منکی پاکس وائرس کے دو اضافی کیسز سامنے آگئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق قومی صحت کے حکام نے کہا ہے کہ عوام کے سامنے پہلا کیس سامنے آنے کے ایک ہفتے سے بھی کم وقت کے بعد منکی پاکس کے دو کیسز مزید سامنے آئی ہیں،یہ دو نئے کیسز پہلے کیس کے گھریلو رابطوں میں سے ہیں، پہلا کیس ایک نامعلوم شخص کا تھا جس نے حال ہی میں افریقی ممالک کا سفر کیا تھا جہاں یہ وائرس وبا کی صورت اختیار کرچکا ہے۔

    برطانیہ کی ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی نے کہا کہ دو نئے مریضوں کو لندن میں گائے اور سینٹ تھامس نیشنل ہیلتھ سروس فاؤنڈیشن ٹرسٹ میں خصوصی نگہداشت میں رکھا ہے عوام کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ ابھی بھی عام آبادی کیلئے خطرہ کم ہے۔

    قوم اپنے شہداء کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کر سکتی.وزیراعظم

    مزید برآں ہم شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں کہ کیسز کے تمام رابطوں کی نشاندہی کی جائے اور مزید پھیلنے کے خطرے کو کم کرنے کے لیے متعلقہ لوگوں سے رابطہ کیا جائے۔

    میڈیا لوگوں میں محتسب کے دفاتر بارے آگاہی پیدا کرے،قائمقام صدر

  • برطانیہ کااسرائیلی وزیر خزانہ ،وزیر قومی سلامتی پر پابندیاں لگانے پر غور

    برطانیہ کااسرائیلی وزیر خزانہ ،وزیر قومی سلامتی پر پابندیاں لگانے پر غور

    برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کا کہنا ہے کہ برطانوی حکومت انتہائی دائیں بازو کے اسرائیلی وزرا اِتمیر بین گور اور بیزالل اسموترچ کے خلاف پابندیوں پر غور کررہی ہے۔

    خبر رساں اداروں اے ایف پی اور رائٹرز کے مطابق برطانوی پارلیمنٹ میں وزیر اعظم سے سوال کیا گیا کہ کیا حکومت اسرائیلی وزرا پر پابندیاں لگائے گی؟ کیئر اسٹارمر نے کہا کہ ’ہم اس پر غور کررہے ہیں کیونکہ مغربی کنارے میں انتہائی تشویشناک سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ صریحاً مکروہ بیانات دیے گئے ہیں۔‘اسرائیل کے وزیر قومی سلامتی اِتامیر بین گور اور وزیر خزانہ بیزالل اسموترچ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کے قیام کے پر زور حامی ہیں جو کہ عالمی قانون کے تحت غیرقانونی اقدام ہے۔اسرائیلی وزیر خزانہ یہ تجویز دیکر بھی عالمی تنقید کی زد میں آچکے ہیں کہ فلسطین میں یرغمال بنائے گئے اسرائیلیوں کو آزاد کرانے کیلیے غزہ کے 20 لاکھ باشندوں کو بھوک سے مارنا بھی جائز ہوگا۔

    اس سے قبل رواں ہفتے سابق برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ کیمرون نے انکشاف کیا تھاکہ سابق قدامت پسند حکومت انتہاپسند سیاستدانوں پر پابندیاں عائد کرنے پر غور کررہی تھی۔لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے کیئر اسٹارمر کی حکومت منگل کو پہلے ہی اسرائیلی آباد کاروں کی 7چوکیوں اور تنظیموں پر پابندی عائد کرچکی ہے۔گزشتہ برس 7 اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد سے مغبوضہ مغربی کنارے پر اسرائیلی آبادکاروں اور صہیونی فوج کے حملے بڑھ گئے ہیں۔ْبرطانوی وزیراعظم نے غزہ میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ ’ انسانی جانوں کا ضیاع روکنے اور غزہ میں بڑے پیمانے پر امداد پہنچانے کیلیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھانا ہوں۔’

    دریں اثنا برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے اعلان کیا ہے کہ شمالی غزہ میں 2 ہفتے سے کسی قسم کی خوراک داخل نہ ہونے کی اطلاعات پر برطانیہ، فرانس اور الجیریا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے۔

    فرانس نے اسرائیلی کمپنیوں کو دفاعی نمائش میں شرکت سے روک دیا

    ادھر 2 باخبر ذرائع کا کا کہنا ہے کہ فرانس نے عنقریب منعقد ہونے والے ملٹری نیول ٹریڈ شو میں اسرائیلی کمپنیوں کی شرکت پر پابندی عائد کردی ہے، تازہ ترین پیش رفت دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتے ہوئے کشیدہ تعلقات کی نشاندہی کرتی ہے۔پیرس نے پہلے ہی رواں برس اسرائیلی کمپنیوں کی ملٹری ٹریڈ شو میں شرکت پر پابندی عائد کردی تھی۔ فرانسیسی وزارت دفاع نے اس وقت کہا تھا کہ صدر ایمانیول میکرون کی جانب سے اسرائیل سے غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کیے جانے کے بعد کمپنیوں کیلیے حالات مناسب نہیں رہے ہیں۔وزارت دفاع، وزیر خارجہ ، اسرائیلی سفارتخانے اور 4 سے 7نومبر تک جاری رہنے والی سالانہ بحری نمائش کو منعقد کرنے والی تنظیم یورو نیول نے تبصروں کی درخواستوں پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔برطانوی اور اسرائیلی وزرائے اعظم کے درمیان کشیدگی میں اس وقت اضافہ ہوا ہے جب حالیہ ہفتوں میں پیرس نے واشنگٹن کے ساتھ مل کر اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان 21 روزہ جنگ بندی کو بچانے کیلیے کوششوں کا آغاز کیا تھا جس کا مقصد طویل مدتی سفارتی حل کیلیے بات چیت کے دروازے کھولنا تھا۔

    جس وقت فرانس اور امریکا یہ سمجھ رہے تھے کہ اسرائیل شرائط پر رضامند ہے، اس نے اگلے روز حزب اللہ کے رہنما حسن نصر اللہ پر میزائل حملے کرکے انہیں حیرت میں مبتلا کردیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ فوری طور پر جنگ بندی کا کوئی امکان نہیں ہے، پیرس نے لڑائی بند ہونے کے بعد سفارتی حل کے لیے پیرامیٹرز طے کرنے کی کوشش پر توجہ مرکوز کر دی ہے۔دریں اثنا صدر میکرون نے حالیہ ہفتوں میں کئی مرتبہ اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو اور ان کی حکومت کو ناراض کیا ہے، خاص طور پر جب جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کی امن فوج اسرائیل کراس فائرنگ کی زد آئی تو انہوں نے اسرائیل کو غزہ میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی فراہمی بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔فرانسیسی حکام کے مطابق منگل کو فرانسیسی صدر نے کابینہ سے خطاب میں کہا کہ نتن یاہو کو نہیں بھولنا چاہیے کہ ان کے ملک کا قیام اقوام متحدہ کے فیصلے کے نتیجے میں عمل میں آیا ہے، فرانسیسی وزیر خارجہ جین نوئل بیروٹ نے بیان کی شدت کم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے وضاحت کی تھی کہ یہ عام تبصرہ تھا جس کا مقصد اسرائیل کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے احترام کی اہمیت کو یاد دلانا تھا۔

    فرانسیسی صدر کے بیان کے جواب میں نتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں فرانسیسی حکوت کے نازی جرمنی سے اشتراک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ’اسرائیل کا قیام ہمارے ہیروز کے خون سے لڑی گئی جنگ آزادی کے نتیجے میں عمل میں آیا تھا، جن میں سے بہت سے ہولوکاسٹ سے بچ جانے والے تھے جس میں فرانس کی ویچی حکومت بھی ملوث تھی۔‘دو سفارت کاروں کہنا ہے کہ حالیہ بیانات لبنان میں ثالثی کی فرانسیسی کوششوں کیلیے مددگار ثابت نہیں ہوگے، جوکہ آئندہ ہفتے پیرس میں ایک کانفرنس کی میزبانی کرنے جارہا ہے۔نیتن یاہو نے پیرس کی نیت پر سوال اٹھاتے ہوئے اس پر جنوبی افریقہ اور الجزائر کو کیا ہے مدعو کرنے کا الزام عائد کیا ہے، جو ان کے مطابق ’اسرائیل کو اپنے دفاع کے بنیادی حق سے محروم کرنے کیلیے کوشاں ہیں اور حقیقت میں اس کے وجود کے حق کو ہی مسترد کرتے ہیں۔‘

    دوست آن لائن ہیں؟ اب تھریڈز پر یہ جاننا ممکن

    مراد علی شاہ سے اطالوی سفیر کی ملاقات، سندھ میں اطالوی زبان سکھانے پر اتفاق

    معیشت کی بحالی کیلئے حکومت کا اسمگلنگ کیخلاف کریک ڈائون جاری

  • جعلسازی کی شناخت کرنے والا نیا ٹول متعارف

    جعلسازی کی شناخت کرنے والا نیا ٹول متعارف

    لندن: برطانیہ میں صارفین کو انٹرنیٹ جعلسازیوں سے بچانے کے لیے جعلسازی کی شناخت کرنے والا نیا ٹول متعارف کرا دیا گیا۔

    باغی ٹی وی : صارفین کسی بھی مشکوک ٹیکسٹ، ای میل یا ویب سائٹ کا اسکرین شاٹ اپ لوڈ کریں گے اور دیکھیں گے کہ آیا یہ محفوظ ہیں یا نہیں، آسک سِلور نامی اس ٹول کو واٹس ایپ میں استعمال کیا جاسکتا ہے، صارف کے اس ٹول میں سائن اپ ہونے کے بعد یہ دیگر کونٹیکٹ کی طرح ظاہر ہوگا اور اے آئی کا استعمال کرتے فوری جائزہ لے کر بتائے گا کہ آیا مقصود چیٹ اسکیم ہے یا نہیں۔

    سیٹ اپ کرنے کے بعد صارف کو بتایا جائے کہ آیا ای میل، ٹیکسٹ یا ویب سائٹ محفوظ ہے اور اسکیم کو رپورٹ کرنے جیسے اقدام سمیت دیگر اقدام بتائے گا،غیر منافع بخش اسکیم پروٹیکشن گروپ گیٹ سیف آن لائن نے یہ آلہ بنانے والی کمپنی کے ساتھ اشتراک کر کے پبلک کے لیے یہ ٹول لانچ کیا اور آن لائن اسکیم سے محفوظ رہنے کے لیے آگہی میں مدد دی۔

  • حریم شاہ نے  برطانوی سیاست میں قدم رکھ دیا ؟

    حریم شاہ نے برطانوی سیاست میں قدم رکھ دیا ؟

    لندن:پاکستانی ٹک ٹاکر حریم شاہ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے برطانوی سیاست میں قدم رکھ دیا ہے-

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے حریم شاہ کا کہنا تھا کہ میں نے باضابطہ انداز میں برطانیہ کی سیاست میں قدم رکھ دیا ہے اور حال ہی میں ہوئے الیکشن میں لبرل ڈیموکریٹس کیلئے مہم بھی چلائی ہے،میں نے برطانیہ میں لبرل ڈیموکریٹس کیلئے کام کا آغاز کیا ہے، اس کیلئے میں لبرل ڈیموکریٹس کی مشکور ہوں جنہوں نے مجھے اس قابل سمجھا اور اپنی پارٹی کا حصہ بنایا، میری کوشش ہوگی کہ میں لبرل ڈیموکریٹس کی توقعات پر پورا اتروں اور اس ملک میں رہتے ہوئے اپنا بہتر کردار ادا کر سکوں۔

    حریم شاہ کا کہنا تھا کہ درحقیقت میں پاکستانی ہوں اور پاکستانی ہونے کی حیثیت کے ساتھ برطانوی پارلیمنٹ میں بیٹھ کر ان کی سیاسی جماعت کیلئے کچھ کرنا میرے لیے ایک بڑی کامیابی ہے، اس پارٹی میں میرے کچھ دیگر دوست بھی کام کر رہے ہیں اس کے علاوہ اس پارٹی کیلئے بہت سے پاکستانی بھی کام کر رہے ہیں۔

    خبررساں ادارے سے بات کرتے ہوئے معروف ٹک ٹاکر کا کہنا تھا کہ میں برطانیہ میں ایل ایل بی میں اپنی پڑھائی جاری رکھے ہوئے ہوں،میں پاکستان سے ماسٹرز کرچکی ہوں اور حافظ قرآن بھی ہوں، اب میں برطانیہ سے ایل ایل بی کر رہی ہوں اور اس کیلئے میری تمام فیسز برطانوی حکومت ادا کرتی ہے، اس کے ساتھ رہائش، جم کے اخراجات حتیٰ کہ کالج کیلئے ٹرانسپورٹ کا خرچہ بھی برطانوی حکومت ادا کرتی ہے۔

    قبل ازیں ایک اور انٹر ویو میں بات کرتے ہوئے حریم شاہ کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر نہیں بن سکی جب آپ پی ایچ ڈی کرلیتے ہیں تو آپ کے نام سے ڈاکٹر لگ جاتا ہے اور کوشش کروں گی پی ایچ ڈی کروں، آکسفورڈ یونیورسٹی جانے کا بڑا شوق ہے عمران خان نہیں چاہتے وہ چانسلر بنیں، آکسفورڈ یونیورسٹی نے خود ان کو چانسلر کیلئے منتخب کیا ہے، عمران خان کی شہرت ہی اتنی ہی ہے، عمران خان آکسفورڈ سے بڑا نام ہے، آکسفورڈ سے بڑے بڑے رہنماؤں نے پڑھا ہے، آکسفورڈ سے بینظیر بھٹو اور عمران خان نے پڑھا ہے، یہ دونوں پاکستان کے بہادر لیڈر ہیں۔

  • اہلیہ کو تحفے میں ملے کپڑے ڈکلیئر نہ کرنے پر برطانوی وزیراعظم کے خلاف تحقیقات

    اہلیہ کو تحفے میں ملے کپڑے ڈکلیئر نہ کرنے پر برطانوی وزیراعظم کے خلاف تحقیقات

    لندن: اہلیہ کو تحفے میں ملے کپڑے ڈکلیئر نہ کرنے پر برطانوی وزیراعظم سر کئیر اسٹارمر مشکل میں پڑ گئے-

    باغی ٹی وی : برطانوی میڈیا کے مطابق اہلیہ کو تحفے میں ملنے والے لباس کی تفصیل ڈکلیئر نہ کرنے پر برطانوی وزیراعظم سر کئیر اسٹارمر کیخلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا وحید علی جن کا تعلق برطانیہ میں مقبول شخصیات میں کیا جاتا ہے، وہ لیبر پارٹی کو عطیات فراہمی کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔

    وحید علی برطانوی فیشن کمپنی اے ایس او ایس کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں انہوں نے وزیراعظم کئیر اسٹارمر کی اہلیہ کے کپڑوں کی ادائیگی کی اور کپڑوں میں جو تبدیلیاں کرائی تھیں اس کے خراجات بھی اٹھائےتاہم جولائی میں منتخب ہونے والے برطانوی وزیراعظم کئیر اسٹارمر نے اہلیہ کو ملنے والے ان تحائف کی تفصیلات شئیر نہیں کیں جس کے باعث ان کے لیے مشکلات کھڑی ہوگئیں، تفصیلات ظاہر نہ کرنے پر ان کے خلاف تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

  • برطانیہ میں طالبان  نے اپنے عملے کی برطرفی کے بعد سفارت خانہ بند کر دیا

    برطانیہ میں طالبان نے اپنے عملے کی برطرفی کے بعد سفارت خانہ بند کر دیا

    لندن: افغانستان کی طالبان پر مشتمل عبوری حکومت نے لندن میں اپنا سفارتخانہ بند کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی : برطانیہ میں افغانستان کے سفیر زلمے رسول نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر کہا کہ سفارت خانہ 27 ستمبر کو ”میزبان ملک کی سرکاری درخواست پر“ بند ہو جائے گا،ہم تمام ساتھیوں، شہریوں اور متعلقہ اداروں کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور ان کی تعریف کرتے ہیں جنہوں نے اس عرصے کے دوران لندن میں افغان سفارت خانے کے ساتھ مخلصانہ تعاون کیا،طالبان کی طرف سے اپنے عملے کی برطرفی کے بعد سفارت خانہ بند کیا جا رہا ہے۔“

    واضح رہے کہ مذکورہ اقدام جولائی میں طالبان کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے سابقہ حکومت کے قائم کردہ سفارت خانوں کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا۔

    وفاقی حکومت نے پنشن رولز میں ترامیم کر دیں

    خیال رہے کہ اگست 2021 میں کابل کے سقوط کے بعد یورپ میں بہت سے افغان سفارت خانے کام کرتے رہے لیکن واشنگٹن ڈی سی میں پوسٹنگ سمیت دیگر کو بند کرنے پر مجبور کر دیا گیاطالبان کو برطانیہ نے افغانستان کی قانونی حکومت کے طور پر تسلیم نہیں کیا اور اپنا سفارت خانہ کابل سے قطر منتقل کر دیا۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب کا عید میلاد النبیؐ پر فول پروف سیکیورٹی کا حکم

  • برطانوی فسادات کو ہوا دینے والا لاہور ی صحافی  فرحان مقدمے سے ڈسچارج

    برطانوی فسادات کو ہوا دینے والا لاہور ی صحافی فرحان مقدمے سے ڈسچارج

    برطانیہ میں فیک نیوز سے فسادات کا معاملہ،ملزم فرحان آصف کو 4 روزہ جسمانی ریمانڈ کے بعد عدالت پیش کر دیا گیا

    دوران سماعت تفتیشی افسر نے کہا کہ ملزم فرحان آصف کے خلاف کسی بھی قسم کا کوئی ثبوت نہیں ملا،فرحان آصف تفتشی میں بے قصور قرار دے دئیے گئے، فرحان آصف کو آج مقدمے سے ڈسچارج کر دیا گیا،فرحان آصف کی پیشی کے موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے.،ملزم کیخلاف مقدمہ پیکا ایکٹ کی دفعہ 9 اور 10 اے کے تحت درج کیا گیا ہے.

    میڈیا رپورٹس کے مطابق فرحان آصف نے اپنی پوسٹ میں بچیوں پر حملہ کرنے والے کا نام شکتی علی پوسٹ کیا، ملزم نے برطانیہ میں ہونے والے واقعے پر لگائی پوسٹ اور ویڈیو دوسرے پلیٹ فارم سے منسلک کرنے کی کوشش کی، ملزم نے صرف ایک بار بیرون ملک کا دورہ کیا تھا،ملزم نے غلط اور فیک خبروں کے ذریعے کمائی کی، ملزم نے کچھ پوسٹس کو رپورٹ ہونے کے بعد ڈیلیٹ بھی کیا،ملزم کبھی برطانیہ نہیں کیا گیا، اسکا وہاں ایک خاتون سے رابط تھا ملزم ماہانہ تین سے چار لاکھ روپے کما رہا تھا،

    برطانیہ میں بیٹھ کر پاکستان بارےجھوٹی خبریں دینے والوں‌کو گرفتارکیا جائے ، مبشر لقمان

    غلط معلومات پھیلا کر برطانوی فسادات کو ہوا دینے والا لاہوری صحافی گرفتار

    برطانیہ،تیز تر انصاف،عدالتوں میں ویڈیو چل گئیں،فسادات میں ملوث ملزمان کو سزائیں

    فسادات مجھے برطانیہ چھوڑنے پر مجبور کر سکتے ہیں،حمزہ یوسف

    برطانیہ میں نسل پرستی کی لہر: اقلیتوں پر حملوں میں اضافہ

    برطانیہ میں دوبارہ ہنگامہ: فاشسٹ گروپوں کی جانب سے عمارتوں کو نذر آتش ، لوٹ مار کی گئی

    برطانیہ کے شہر لیڈز میں ہنگامہ آرائی میں ملوث متعدد افراد گرفتار