Baaghi TV

Tag: برطانیہ

  • برطانیہ:  فوجی کیمپ میں پناہ گزینوں کے قیام کے منصوبے پر عوام کا احتجاج

    برطانیہ: فوجی کیمپ میں پناہ گزینوں کے قیام کے منصوبے پر عوام کا احتجاج

    مشرقی سسیکس کے قصبے میں حکومت کی جانب سے تقریباً 600 پناہ کے متلاشی افراد کو ایک فوجی مقام پر رکھنے کے منصوبے کے خلاف عوامی ردِعمل سامنے آگیا، مقامی سطح پر پرامن اور منظم احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

    برطانوی میڈیا کے مطابق حکومت نے اکتوبر میں اعلان کیا تھا کہ سیاسی پناہ کے متلاشیوں کو کروبورو کے مضافات میں واقع فوجی تربیتی کیمپ میں عارضی طور پر رکھا جائے گا۔ اس فیصلے کے بعد علاقے میں عوامی تشویش اور اعتراضات میں اضافہ ہوا۔ہوم آفس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پناہ کے متلاشیوں کو فوجی مقامات پر منتقل کرنا کروبورو کی سائٹ سمیت ہوٹلوں کے متنازع استعمال کو ختم کرنے کی حکومت کی پالیسی کا حصہ ہے۔ ترجمان کے مطابق انتخابات سے قبل اس منصوبے پر عمل درآمد کا وعدہ کیا گیا تھا اور حکومت مقامی حکام، پراپرٹی پارٹنرز اور کمیونٹی کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے ہوئے ہے۔

    سرکاری بیان کے مطابق حکومت بتدریج پناہ گزینوں کی رہائش کے لیے ہوٹلوں کے استعمال سے پیچھے ہٹ رہی ہے اور اس مقصد کے لیے نئے متبادل مقامات تیار کیے جا رہے ہیں

    ملتان: ثانیہ زہرا قتل کیس کا فیصلہ، شوہر کو سزائے موت

    عالمی انٹرنیٹ خرابی، پی ٹی اے کا وضاحتی بیان جاری

    علیمہ خان پولیس تحویل میں، پی ٹی آئی کارکنان سے جھڑپ

    انٹرنیٹ کی ناقص کارکردگی،قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا شدید احتجاج

  • برطانیہ ،عوامی عہدیداروں کے گھروں کے باہر احتجاج کو جرم قرار دینے کا قانون پیش

    برطانیہ ،عوامی عہدیداروں کے گھروں کے باہر احتجاج کو جرم قرار دینے کا قانون پیش

    برطانیہ نے ایک نئے قانون کے تحت منتخب نمائندوں، ججوں اور مقامی کونسلروں کے گھروں کے باہر احتجاج کو جرم قرار دینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام سیاست میں بڑھتی ہوئی ہراسانی اور دھمکیوں کو روکنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق برطانوی حکومت نے کہا ہے کہ نئے ’کرائم اینڈ پولیسنگ بل‘ کے تحت پولیس کو ایسے مظاہروں کو روکنے کا اختیار حاصل ہوگا جو کسی عوامی عہدیدار کو اس کے سرکاری فرائض یا ذاتی زندگی میں متاثر کرنے کے مقصد سے کیے جائیں۔قانون کی خلاف ورزی پر 6 ماہ تک قید کی سزا دی جا سکے گی۔سیکیورٹی وزیر ڈین جاروس نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’برطانوی سیاست میں حصہ لینے والوں کو جس سطح کی بدسلوکی کا سامنا ہے، وہ چونکا دینے والی ہے، یہ ہماری جمہوریت کے لیے خطرہ ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’لوگوں کو سیاست میں حصہ لیتے وقت اپنے یا اپنے خاندان کے تحفظ کے حوالے سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔ایک پارلیمانی سروے کے مطابق 96 فیصد ارکانِ پارلیمان نے ہراسانی یا دھمکیوں کا سامنا کیا، جبکہ انتخابی نگران ادارے کے مطابق گزشتہ عام انتخابات میں نصف سے زائد امیدواروں کو بھی اسی نوعیت کے خطرات لاحق رہے۔

    گزشتہ برس وزیراعظم کیر اسٹارمر کے گھر کے باہر فلسطین نواز مظاہرین نے بچوں کے جوتے اور ایک بینر چھوڑا تھا، جس میں اسرائیل پر اسلحہ پابندی کی حمایت کا مطالبہ کیا گیا تھا۔اسی طرح 2023 میں سابق وزیراعظم رِشی سونک کے گھروں کے باہر بھی ماحولیاتی کارکنوں نے احتجاج کیا تھا۔حکومت کے مطابق نئے قانون میں احتجاج سے متعلق مزید سخت اقدامات شامل ہوں گے، جن میں جنگی یادگاروں پر چڑھنے، آتش بازی یا فلیئرز کے استعمال اور چہرہ چھپانے کے لیے ماسک پہننے پر پابندی شامل ہے۔

    حکومتی وزرا کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد جمہوری اداروں کے تحفظ اور عوامی سلامتی کو یقینی بنانا ہے، تاہم ناقدین کے مطابق اس قانون سے اظہارِ رائے اور احتجاج کے حق پر مزید قدغنیں لگ سکتی ہیں۔نیا ’کرائم اینڈ پولیسنگ بل‘ اس وقت برطانوی پارلیمان سے منظوری کے مراحل میں ہے، اور توقع ہے کہ اسے آئندہ سال شاہی توثیق حاصل ہو جائے گی

    قومی اسمبلی اجلاس کا 19 نکاتی ایجنڈا جاری، وزرا سوالات کے جوابات دیں گے

    پاکستان کی سنسنی خیز مقابلے میں جنوبی افریقہ کو 2 وکٹوں سے شکست

    بھارت: مسافر ٹرین اور مال گاڑی میں تصادم، 8 افراد ہلاک

  • برطانیہ، فرانس اور جرمنی کا ایران پر پابندیوں کے بعد سفارتی رابطے رکھنے کا اعلان

    برطانیہ، فرانس اور جرمنی کا ایران پر پابندیوں کے بعد سفارتی رابطے رکھنے کا اعلان

    برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے ایران پر اقوامِ متحدہ کی پابندیاں دوبارہ لاگو ہونے کے بعد جاری مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ وہ تہران کے ساتھ سفارتی رابطے اور مذاکرات جاری رکھیں گے اور ایران سے اشتعال انگیزی سے باز رہنے اور جوہری تحفظ کی قانونی پابندیوں کی پاسداری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    بیان میں تینوں یورپی ممالک نے ایران کے حالیہ اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا اور علاقائی سلامتی کے لیے سفارتی حل پر زور دیا گیا۔ اقوامِ متحدہ کی جانب سے ایران پر معاشی، تجارتی، سفری اور ہتھیاروں سے متعلق پابندیاں گزشتہ شب سے دوبارہ نافذ کی گئی ہیں۔دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ نے ان پابندیوں کو دوبارہ فعال کرنے کو ’’قانونی طور پر بے بنیاد اور ناقابلِ جواز‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اپنے قومی حقوق اور مفادات کا مضبوطی سے دفاع کرے گا۔

    وزارتِ خارجہ نے خبردار کیا کہ ایرانی عوام کے حقوق اور مفادات کو نقصان پہنچانے والے کسی بھی اقدام کا مناسب اور سخت جواب دیا جائے گا۔

    بنگلہ دیش میں قبائلی لڑکی کے گینگ ریپ کے بعد ہنگامے، تین ہلاک، کرفیو نافذ

    خیبرپختونخوا میں ڈینگی کے کیسز میں اضافہ، تعداد 2283 تک پہنچ گئی

    نیپال کی ویسٹ انڈیز کو دوسرے ٹی ٹوئنٹی میں بھی شکست، سیریز جیت لی

    ٹرمپ نے غزہ امن منصوبہ پیش کر دیا، مسلم ممالک کی حمایت حاصل

  • برطانیہ میں کام کے لیے ڈیجیٹل آئی ڈی لازمی قرار

    برطانیہ میں کام کے لیے ڈیجیٹل آئی ڈی لازمی قرار

    برطانیہ میں کام کرنے کے لیے نئی ڈیجیٹل آئی ڈی اسکیم لازمی قرار دے دی گئی۔

    برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اعلان کیا کہ ڈیجیٹل آئی ڈی کے ذریعے ملک میں قیام اور کام کرنے کے حق کی تصدیق کی جائے گی، جبکہ نوکری کے آغاز پر ڈیجیٹل آئی ڈی دکھانا ضروری ہوگا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈیجیٹل آئی ڈی ہر وقت ساتھ رکھنے کی ضرورت نہیں ہوگی، یہ فون میں کنٹیکٹ لیس کارڈ کی طرح کام کرے گی۔ برطانوی شہریوں اور قانونی طور پر مقیم افراد کے لیے یہ سہولت مفت فراہم کی جائے گی۔

    خیال رہے کہ برطانیہ میں عام شہریوں کے لیے دوسری جنگِ عظیم کے بعد سے شناختی کارڈ لازمی نہیں رہے اور یہ معاملہ ہمیشہ متنازع رہا ہے۔سول رائٹس کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام آزادی پر قدغن اور ذاتی معلومات کے لیے خطرہ ہے۔ ماضی میں سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر نے بھی بایومیٹرک شناختی کارڈ متعارف کرانے کی کوشش کی تھی، تاہم عوامی مخالفت کے باعث منصوبہ ترک کر دیا گیا تھا۔

    ایران-روس کے درمیان 25 ارب ڈالر کے ایٹمی بجلی گھر وں کامعاہدہ

    ماڈرن اسپتال کے تحت فری میڈیکل کیمپ 28 ستمبر کو لگے گا

  • برطانیہ، آسٹریلیا اور کینیڈا کا فلسطین کو تسلیم کرنا تاریخی پیش رفت ہے،حماس

    برطانیہ، آسٹریلیا اور کینیڈا کا فلسطین کو تسلیم کرنا تاریخی پیش رفت ہے،حماس

    اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے برطانیہ، آسٹریلیا اور کینیڈا کی جانب سے فلسطین کو آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے فلسطینی عوام کی طویل جدوجہد کی بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔

    اتوار کو جاری بیان میں حماس کے ترجمان نے کہا کہ فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنا ایک اہم اور مثبت قدم ہے، جو آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کے حق کو مزید مضبوط بناتا ہے۔حماس نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے اب عملی اقدامات کرے اور واضح کیا کہ اس ریاست کا دارالحکومت القدس (یروشلم) ہونا چاہیے۔

    بیان میں کہا گیا کہ فلسطینی عوام دہائیوں سے ظلم، قبضے اور نسل کشی کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں، لہٰذا اب وقت ہے کہ دنیا انصاف پر مبنی مؤقف اختیار کرے اور فلسطینی ریاست کو اقوام متحدہ میں مکمل رکنیت فراہم کرے۔

    بھارتی کھلاڑیوں کے رویے پر وفاقی وزیر اطلاعات کا ردعمل آگیا

    شام میں پارلیمانی انتخابات 5 اکتوبر کو ہوں گے

    ڈریپ کی ملک گیر کارروائیاں: جعلی ادویات کے 3 بیچز ضبط

    پاک–بھارت میچ میں حارث رؤف اور ابھیشیک شرما کے درمیان گرما گرمی

  • برطانیہ آج فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لے گا، برطانوی وزیر اعظم کا اعلان

    برطانیہ آج فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لے گا، برطانوی وزیر اعظم کا اعلان

    لندن: برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے اعلان کیا ہے کہ برطانیہ آج فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لے گا۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق برطانوی حکومت نے کہا ہے کہ غزہ میں بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر پالیسی تبدیل کی جا رہی ہے۔ اور برطانیہ آج دوپہر کو فلسطینی ریاست کو تسلیم کرلے گا۔

    واضح رہے کہ پرتگال نے بھی فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کر دیادوسری جانب کینیڈا اور فرانس ان دیگر مغربی ممالک میں شامل ہیں جو اسمبلی میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

    یہ ممالک ایک ایسے وقت فلسطینی ریاست کو تسلیم کر رہے ہیں کہ جب اسرائیل غزہ پٹی فلسطینیوں کا قتل عام کر رہا ہے جسے نسل کشی قرار دیا جا چکا ہے،پرتگال نے جولائی میں ہی اعلان کر دیا تھا کہ وہ تنازع کی “انتہائی تشویش ناک پیشرفت” کی وجہ سے ایسا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جس کی وجہ غزہ میں جاری انسانی بحران اور اسرائیل کی فلسطینی زمین کو ضم کرنے کی بار بار کی دھمکیاں ہیں،اقوام متحدہ کے 193 ارکان میں سے تقریباً تین چوتھائی پہلے ہی فلسطین کی ریاست کو تسلیم کر چکے ہیں۔

  • نومنتخب برطانوی وزیر داخلہ کی پاکستان سمیت کئی ممالک کو ویزا پابندیوں کی دھمکی

    نومنتخب برطانوی وزیر داخلہ کی پاکستان سمیت کئی ممالک کو ویزا پابندیوں کی دھمکی

    برطانیہ کی نومنتخب وزیر داخلہ شبانہ محمود نے پاکستان سمیت کئی ممالک کو ویزا پابندیوں کی دھمکی دے دی۔

    برطانوی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ انگلینڈ ان ممالک کے شہریوں کو ویزے دینا معطل کر سکتا ہے جو تعاون نہیں کرتےایسے ممالک مہاجرین کی واپسی پر تیار نہیں ہوتے ان میں پاکستان بھی شامل ہے ان کا کہنا تھا کہ قوانین پر عمل کریں، اگر آپ کا کوئی شہری ہمارے ملک میں رہنے کا حق نہیں رکھتا تو اُسے واپس لینا ہوگا۔

    رپورٹ کے مطابق جن ممالک کو ماضی میں غیر تعاون یافتہ قرار دیا گیا ان میں بھارت، پاکستان، ایران، عراق، بنگلہ دیش، گیمبیا اور نائیجریا شامل ہیں،برطانیہ کی وزیر داخلہ نے یہ بیان اپنی پہلی بین الاقوامی مصروفیت کے موقع پر آیا، برطانوی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ کام اور تعلیم کے ویزوں پر آ کرپناہ درخواست کے غلط استعمال کو روکنے کیلئے انٹیلی جنس جمع کر رہے ہیں،میری سب سے اولین ترجیح برطانیہ کی سرحدوں کا تحفظ ہے، مستقبل میں ویزے کم کرنے کا امکان بھی موجود ہے تاکہ ممالک کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ وہ تعاون کریں۔

  • برطانوی شہزادی کیتھرین انتقال کرگئیں

    برطانوی شہزادی کیتھرین انتقال کرگئیں

    برطانوی شاہی خاندان کی سب سے معمر رکن ڈچس آف کینٹ شہزادی کیتھرین 92 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں۔

    بادشاہ چارلس نے ڈچس آف کینٹ کی وفات کی تصدیق کرتے ہوئے اپنی عزیزہ کو خراج عقیدت پیش کیا،جمعے کو برطانوی شاہی خاندان کے سرکاری انسٹاگرام اکاؤنٹ نے محترمہ کی وفات کی تصدیق کی،رائل خاندان کی سب سے بزرگ رکن کا انتقال جمعرات 4 ستمبر 2025 کو کینسنگٹن پیلس میں ہوا۔

    بکنگھم پیلس کی جانب سے کہا گیا کہ بادشاہ اور ملکہ اور شاہی خاندان کے تمام ارکان ڈیوک آف کینٹ پرنس ایڈورڈ (مرحومہ کے شوہر)، ان کے بچوں اور پوتوں کے اس نقصان پر غمگین ہیں اور ڈچس کی زندگی بھر تنظیموں کے لیے ان کی وابستگی، موسیقی کے شوق اور نوجوانوں کے لیے ہمدردی کو یاد کرتے ہیں شاہی محل پر یونین جھنڈا بھی ڈچس کی یاد میں سرنگوں کردیا گیا۔

    سیلاب متاثرہ علاقوں میں بہت تباہی نظرآرہی ہے،بلاول

    ڈچس آف کینٹ نے سنہ 1961 میں ڈیوک آف کینٹ پرنس ایڈورڈ سے شادی کی تھی جو کنگ چارلس سوم کی والدہ آنجہانی ملکہ الزبتھ دوم کے کزن تھے اس طرح شہزادی کیتھرین شاہی خاندان کا حصہ بنیں،اگرچہ وہ براہ راست کنگ چارلس کی قریبی رشتہ دار نہیں تھیں لیکن شاہی خاندان کے وسیع دائرے میں ان کا شمار ہوتا تھا، ملکہ الزبتھ کے انتقال کے بعد شہزادی کیتھرین شاہی خاندان کی سب سے عمر رسیدہ رکن بن گئی تھیں۔

    ڈچس آف کینٹ کی وفات کے بعد برطانوی شاہی خاندان کی سب سے عمر رسیدہ رکن اب ان کے شوہر پرنس ایڈورڈ ہیں جو 89 سال کے ہیں، پرنس ایڈورڈ کے بعد شاہ چارلس کی بڑی ہمشیرہ شہزادی این خاندان کی سب سے بزرگ رکن ہیں جن کی عمر 75 برس ہے۔

    بلاول بھٹو کا سیلاب متاثرہ کسانوں کیلئے زرعی ایمرجنسی اور خصوصی پیکج کا مطالبہ

  • برطانوی نائب وزیراعظم عہدے سےمستعفی

    برطانوی نائب وزیراعظم عہدے سےمستعفی

    برطانیہ کی نائب وزیراعظم اور لیبر پارٹی کی ڈپٹی لیڈر انجیلا رینر نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

    برطانوی خبرایجنسیوں اورمیڈیا رپورٹس کے مطابق،برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر کی قریبی ساتھی اور نائب وزیراعظم انجیلا رینرنے حالیہ دنوں میں ایک نئے گھرکی خریداری پر مکمل ٹیکس ادا نہ کرنے کا اعتراف کیا، جس کے بعد ان پرسیاسی وعوامی دباؤ بڑھ گیا وہ ہاؤسنگ سیکریٹری کے منصب کے ساتھ ساتھ لیبر پارٹی کی ڈپٹی لیڈر بھی تھیں۔

    انجیلا رینر پر الزام تھا کہ انہوں نے ایسٹ سسیکس میں فلیٹ خریدتے وقت درست اسٹامپ ڈیوٹی ٹیکس ادا نہیں کیا 8لاکھ پاؤنڈز مالیت کے اس فلیٹ پر انہوں نے 30 ہزار پاؤنڈز ٹیکس جمع کرایا، حالانکہ دوسری جائیداد ہونے کے سبب انہیں 70 ہزار پاؤنڈز ٹیکس دینا چاہیے تھا معاملہ کھلنے پر انہوں نے تسلیم کیا کہ انہوں نے جائیداد کی خرید و فروخت کے دوران واجب الادا اسٹیمپ ڈیوٹی اوردیگرمتعلقہ ٹیکسز کی مکمل ادائیگی نہیں کی تھی۔

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری

    اس معاملے کے منظرعام پرآنے کے بعد ان پر اپوزیشن اور میڈیا کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی تھی، انہوں نے کہا کہ وہ نہیں چاہتیں کہ ان کی ذاتی غلطیوں کی وجہ سے حکومت یا پارٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچے، اسی لیے وہ اپنے دونوں عہدوں سے مستعفی ہو رہی ہیں۔

    وزیراعظم کے مشیر برائے اخلاقی امور سر لاری میگنس کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد رینر نے مستعفی ہونے کا اعلان کیا اس سے قبل کنزرویٹو رہنما کیمی بیڈناخ سمیت حزبِ مخالف کے کئی رہنماؤں نے ان کے استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔

    لیبرپارٹی کے رہنماؤں نے ان کے فیصلے کو مشکل مگر اصولی قراردیا ہے، پارٹی کے قائد نے کہا کہ انجیلا نے ہمیشہ ایمانداری اورعوامی خدمت کو مقدم رکھا اوران کا استعفیٰ ان کی سیاسی دیانتداری کی علامت ہے،ان کے استعفے کے بعد لیبر پارٹی میں قیادت کے نئے ڈپٹی لیڈر کی تلاش کا عمل جلد شروع کیا جائے گا۔

    سونے کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری

    انجیلا رینر کا استعفیٰ لیبر حکومت کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا جارہا ہے صرف 14 ماہ قبل اقتدار میں آنے والی اسٹرمر حکومت کو اب ڈپٹی لیڈر کے انتخاب اور نئے ہاؤسنگ سیکریٹری کی تقرری جیسے اہم فیصلوں کا سامنا ہےتجزیہ کاروں کے مطابق اگر ڈپٹی لیڈر کے عہدے پر بائیں بازو کا امیدوار منتخب ہوا تو یہ اسٹارمر کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتا ہےپارٹی کے اندر یہ بحث بھی چل رہی ہے کہ آیا ڈپٹی لیڈر کو دوبارہ ڈپٹی وزیرِاعظم نامزد کیا جائے گا یا نہیں، بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ کیئر اسٹارمر کابینہ میں وسیع ردوبدل پر بھی غور کرسکتے ہیں۔

    پاک بحریہ کے ڈی جی پی آر کموڈور احمد حسین کی رئیر ایڈمرل کے عہدے پر ترقی

  • برطانیہ ، جنسی جرائم میں اضافہ، بھارتی سب سے زیادہ کیسز میں مجرم

    برطانیہ ، جنسی جرائم میں اضافہ، بھارتی سب سے زیادہ کیسز میں مجرم

    برطانیہ میں گزشتہ چار سالوں (2021 تا 2024) کے دوران غیر ملکیوں کے جنسی جرائم میں سزا پانے کے واقعات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس میں بھارتی شہری سب سے زیادہ کیسز میں مجرم قرار پائے ہیں۔

    سینٹر فار مائیگریشن کنٹرول کے تجزیے کے مطابق بھارتی شہریوں کے خلاف جنسی جرائم میں سزا پانے کے واقعات 2021 میں 28 سے بڑھ کر 2024 میں 100 تک پہنچ گئے، یعنی 257 فیصد اضافہ۔مجموعی طور پر غیر ملکی شہریوں کی جانب سے جنسی جرائم میں سزا پانے کے واقعات میں 62 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ برطانوی شہریوں میں یہ شرح 39.3 فیصد رہی۔دیگر قومیتوں میں نائجیریا (166٪)، عراق (160٪)، سوڈان (117٪)، افغانستان (115٪)، بنگلہ دیش (100٪) اور پاکستان (47٪) بھی شامل ہیں۔

    2021 سے 2024 کے دوران بھارتی شہریوں کے سنگین جرائم میں سزا پانے والے افراد کی تعداد 273 سے بڑھ کر 588 ہوگئی، یعنی 115 فیصد اضافہ۔2024 میں سب سے زیادہ سنگین جرائم میں سزا پانے والی قومیتوں میں رومانیہ (3,271)، البانیا (2,150)، پولینڈ (1,869)، بھارت (588)، ایران (508) شامل ہیں۔

    برطانوی حکام نے کہا ہے کہ غیر ملکی شہری جو جنسی جرائم کے مرتکب ہوں گے، انہیں قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی اور جلد از جلد ملک بدر کیا جائے گا۔سرحدی سلامتی بل میں اصلاحات کے تحت پناہ کی درخواستیں بھی مسترد کی جا رہی ہیں۔حکومت نے اپنے پہلے سال میں تقریباً 5,200 غیر ملکی مجرموں کو ملک بدر کیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 14 فیصد زیادہ ہے۔

    جماعتِ اسلامی کا ضمنی الیکشنز میں حصہ نہ لینے کا اعلان

    کمالیہ: ہیڈ سدھنائی کو بچانے کیلئے مائی صفوراں بند میں شگاف

    کراچی سمیت سندھ بھر میں بارشوں کی پیشگوئی، اربن فلڈنگ کا خدشہ

    تین ملکی ٹی 20 سیریز: افغانستان کی پاکستان کو 18 رنز سے شکست