Baaghi TV

Tag: بریکنگ

  • پاکستان رومانیہ کے سرمایہ کاروں اور تاجروں کوسرمایہ کاری کے وسیع مواقع فراہم کرے گا:شاہ محمود قریشی

    پاکستان رومانیہ کے سرمایہ کاروں اور تاجروں کوسرمایہ کاری کے وسیع مواقع فراہم کرے گا:شاہ محمود قریشی

    اسلام آباد:وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے پیر کو رومانیہ کے سرمایہ کاروں اور تاجروں پر زور دیا کہ وہ پاکستان میں تجارت اور سرمایہ کاری کے وسیع مواقع سے استفادہ کریں۔پاکستان رومانیہ کے سرمایہ کاروں اور تاجروں کوسرمایہ کاری کے وسیع مواقع فراہم کرے گا:شاہ محمود قریشی

    اپنے رومانیہ کے ہم منصب بوگڈان اوریسکو کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ رومانیہ کے سرمایہ کاروں کے لیے نہ صرف دوطرفہ تجارتی تعلقات کو فروغ دینے بلکہ پاکستان کے وسطی ایشیا کے لیے برآمدات کا مرکز بننے کے امکانات کے حوالے سے بھی بڑی صلاحیت موجود ہے۔ بازار اب دنیا کے لیے کھولے جا رہے تھے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان چین کے ساتھ اقتصادی راہداری بنا رہا ہے اور گوادر پورٹ کی تعمیر دنیا کو خشکی میں گھرے وسطی ایشیائی جمہوریہ اور افغانستان کے لیے کھول دے گی۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ رومانیہ کی قیادت سے ملاقاتوں میں اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان افہام و تفہیم کو مزید فروغ دینے کے وسیع مواقع موجود ہیں کیونکہ یہ آگے بڑھنے کا صحیح وقت ہے۔

    رومانیہ کے ہم منصب کے مطابق، انہوں نے مزید کہا کہ COVID چیلنج کے باوجود گزشتہ مالی سال کے دوران دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت میں تقریباً 50.6 فیصد اضافہ ہوا۔ تاہم، یہ ان کے دوطرفہ تعلقات اور یورپی یونین کے ساتھ تجارتی مواقع کے تناظر میں حقیقی صلاحیت کے قریب نہیں تھا، انہوں نے مشاہدہ کیا۔

    وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان فائدہ مند پوزیشن پر ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ GSP+ اسٹیٹس کے ساتھ، انہوں نے محسوس کیا کہ یہ EU اور پاکستان دونوں کے لیے باہمی طور پر فائدہ مند رہا ہے۔

  • پاکستان کی پہلی قومی سلامتی پالیسی کے اہم نکات سامنے آ گئے

    پاکستان کی پہلی قومی سلامتی پالیسی کے اہم نکات سامنے آ گئے

    اسلام آباد:پاکستان کی پہلی جامع قومی سلامتی پالیسی کے اہم نکات سامنے آ گئے ، اس حوالے سے اس قومی پالیسی کی دستایزات پرمشتمل سو سے زائد صفحات کا آدھا حصہ پبلک کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق 100سے زائد صفحات پر مشتمل پالیسی کا آدھا حصہ پبلک کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، وزیر اعظم عمران خان جمعہ کو 50 صفحات پر مشتمل غیر خفیہ پالیسی کے نکات کا اجراء کرینگے، پالیسی اکانومی، ملٹری اور ہیومن سکیورٹی تین بنیادی نکات پر مشتمل ہے۔

    ذرائع کے مطابق اکانومی سکیورٹی کو قومی سلامتی پالیسی میں مرکزی حیثیت دی گئی، پاکستان میں قومی سلامتی سے متعلق پہلی بار جامع پالیسی تیار کی گئی، سلامتی پالیسی پر سالانہ بنیادوں پر نظرثانی کی جائے گی، نئی حکومت کو پالیسی پر ردوبدل کا اختیار حاصل ہو گا، نیشنل سیکیورٹی کمیٹی پالیسی کی وارث ہو گی۔

    ذرائع کے مطابق ہر مہینے حکومت نیشنل سکیورٹی کمیٹی کو عملدرآمد رپورٹ پیش کرنے کی پابند ہو گی، پالیسی میں دو سے زائد ایکشن وضع کئے گئے، پالیسی ایکشن کا حصہ کلاسیفائیڈ تصور ہو گا، خطے میں امن، رابطہ کاری اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارت پالیسی کا بینادی نقطہ ہو گا۔

    ذرائع کے مطابق ہائبرڈ وار فیئر بھی قومی سلامتی کمیٹی کا حصہ ہو گا، ملکی وسائل کو بڑھانے کی حکمت عملی دی گئی ہے، کشمیر کو پاکستان کی سلامتی پالیسی میں اہم قرار دیا گیا، مسئلہ کشمیر کا حل پالیسی کی ترجیحات میں شامل ہے، پالیسی پر سیاسی فریقین کو اعتماد میں لینے کے لئے نیشنل سیکیورٹی ڈویژن آمادہ ہو گیا، بڑھتی آبادی کو ہیومن سکیورٹی کا بڑا چیلنج قرار دیا گیا۔ شہروں کی جانب ہجرت، صحت، پانی اور ماحولیات بھی پالیسی کا حصہ ہے۔

    ذرائع کے مطابق فوڈ اور صنفی امتیاز ہیومن سیکیورٹی کے اہم عنصر ہے ایران پر پابندیاں ختم ہونے کے بعد حکومت کو معاملات آگے بڑھانے کا اختیار کی بھی تجویز ہے، گڈ گورننس، سیاسی استحکام ،فیڈریشن کی مضبوطی پالیسی کا حصہ ہے۔

  • بھارت:پولیس کی موجودگی میں ہندو بلوائیوں کامسلمان    نوجوانوں پرحملہ:عمران خان کی مودی کووارننگ

    بھارت:پولیس کی موجودگی میں ہندو بلوائیوں کامسلمان نوجوانوں پرحملہ:عمران خان کی مودی کووارننگ

    نئی دلی :بھارت :پولیس کی موجودگی میں ہندتوا بلوائیوں کا مسلمان نوجوانوں پر حملہ ،اطلاعات کے مطابق بھارتی ریاست کرناٹکا کے ضلع کولار میں پولیس کی موجودگی میں لاٹھیوں اور سلاخوں سے مسلح ہندوتوا بلوائیوں کے حملے میں چھ مسلمان شدید زخمی ہو گئے ہیں۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق پولیس نے کولار اسٹیشن میں واقعے کے سلسلے میں تین مقدمات درج کیے ہیںجن میں سے دو ہندوئوں اور ایک مسلمانوں کے خلاف درج کیاگیا ہے ۔زخمی ہونے والے پانچ مسلمان ایک سرکاری ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

    یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب تین خواتین اور دو مردوں پر مشتمل ایک مسلمان خاندان صوفی بزرگ حضرت خواجہ عثمان شا ولی کی درگاہ پر حاضری کے بعد واپس جارہے تھے کہ جب تراہلی گائوں کے قریب ہندو توا بلوائیوں نے ان سے بدتمیزی کی اور مسلمانوں کے خلاف توہین آمیز کلمات ادا کئے ۔

    واقعے کے بعد پولیس نے مسلمانوں کے ایک گروپ کے ہمراہ حملہ آوروں کی شناخت کے لیے جائے وقوعہ کا دورہ کیا۔ لیکن جیسے ہی وہ جائے وقوعہ پر پہنچے توحملہ آور جنگل میں فرار ہو گئے ۔جنگل میں ان کا تعاقب کرنے پر لاٹھیوں اور سلاخیوں سے لیس مرد و خواتین کے ایک بڑے گروپ نے انہیں گھیرے میں لیکر حملہ کر دیا جس سے چھ مسلمان افراد زخمی ہو گئے ۔

    ادھر کل وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ دسمبر میں ہندوتوا شدت پسندوں کے ایک اجتماع میں اقلیتوں خصوصاً 20 کروڑ مسلمانوں کے قتل عام کیلئے اپیل کی گئی تھی۔

    سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اقلیتوں کے قتل عام کے لیے کی گئی اپیل پر مودی سرکار کی خاموشی سوالات کو جنم دیتی ہے۔

     

     

    عمران خان کا کہنا تھا کہ مودی سرکار کے یہ شدت پسندانہ عزائم ہمارے علاقائی امن کیلئے حقیقی خطرہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت میں ہندوتوا جتھے پوری ڈھٹائی اور آزادی سے مذہبی اقلیتوں پر حملہ آور ہیں۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وقت کی نزاکت کا تقاضا ہے کہ عالمی برادری اس کا نوٹس لے اور کارروائی کرے۔

  • بھارتی جیلوں میں نظربند کشمیری سیاسی رہنمائوں کی زندگیوں کو شدید خطرہ:تازہ واقعہ میں کشمیری جانبحق

    بھارتی جیلوں میں نظربند کشمیری سیاسی رہنمائوں کی زندگیوں کو شدید خطرہ:تازہ واقعہ میں کشمیری جانبحق

    نئی دلی :بھارتی جیلوں میں نظربند کشمیری سیاسی رہنمائوں کی زندگیوں کو شدید خطرہ:تازہ واقعہ میں کشمیری جانبحق
    ،اطلاعات کے مطابق بھارتی دارلحکومت نئی دلی میں مہلک کورونا وبا تیزی سے پھیل رہی ہے جس کی وجہ سے تہاڑ جیل سمیت نئی دلی کی دیگر جیلوں میں غیر قانونی طورپر نظربند کشمیری سیاسی رہنمائوں کی زندگیوں کو شدید خطرہ لاحق ہے ۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے علاوہ چار سو کے قریب بھارتی اراکین پارلیمنٹ اور دلی پولیس کے تین سو اہلکار مہلک کورونا وائرس میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ جیل حکام کے اعدادو شمار کے مطابق نئی دلی کی تہاڑ جیل میں 29جبکہ منڈولی جیل کے 17قیدی بھی کورونا وائر س میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ نئی دلی کی تینوں جیلوں میں موجود قیدیوں کی مجموعی تعداد سات جنوری تک 18ہزار528تھی جن میں سے سب سے زیادہ 12ہزار 669قیدی تہاڑ ،4ہزار18منڈولی اور ایک ہزار841روہنی جیل میں قید ہیں۔

    واضح رہے کہ نئی دلی کی جیلوں میں قیدیوں کورونا وائرس کے تیزی سے مبتلا ہونے کی وجہ سے کشمیری سیاسی نظربندوں کی زندگیوں کو شدید خطرہ لاحق ہے۔اس وقت کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ کے علاوہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، نعیم احمد خان، الطاف احمد شاہ، ایاز محمداکبر، پیر سیف اللہ، راجہ معراج الدین کلوال، فاروق احمد ڈار، شاہد الاسلام، دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی، ناہیدہ نسرین، انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز، انجینئر رشید اور کشمیری تاجر ظہور احمد وتالی تہاڑ، جودھ پور، آگرہ، ہریانہ اور بھارت کی دیگر جیلوں میں غیر قانونی طورپر نظربند ہیں اوران کے مہلک وائر س میں مبتلا ہونے کا شدیدخطرہ ہے ۔

    ادھر ایک تازہ واقعہ میں غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کپواڑہ جیل میں ایک نوجوان قیدی مردہ حالت میں پایاگیا ہے ۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق 19سالہ خورشید احمد وانی ڈسٹرکٹ جیل کپواڑہ میں مردہ حالت میں پایاگیا ہے ۔بھارتی جیل حکام پر اکثر جیلوں میں قیدیوں کی موت کا الزام عائد کیاجاتا ہے ۔

  • شیرآیا شیرآیا مگرشیراپنی خصلت سے باز نہ آیا:گجرات میں پالتو شیر نے11سالہ بچے کوکاٹ لیا

    شیرآیا شیرآیا مگرشیراپنی خصلت سے باز نہ آیا:گجرات میں پالتو شیر نے11سالہ بچے کوکاٹ لیا

    گجرات :شیراپنی خصلت سے باز نہ آیا:گجرات میں پالتو شیر نے 11سالہ بچے کو کاٹ لیا ،اطلاعات ہیں‌ کہ شہر گجرات کے علاقے عدووال میں پالتو شیر نے 11سالہ بچے کو کاٹ لیا۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق شیر نے بچے کے بازوپرکاٹا جس کے باعث بچے کو زخمی حالت میں اسپتال منتقل کردیا گیا۔متاثرہ بچے کا بیان میں کہنا تھاکہ کزن کے ساتھ ڈیرے پرشیردیکھنے گیاتھا، پنجرے کے قریب گیا تو شیر نے کاٹ لیا۔

    دوسری جانب پولیس کے مطابق وائلڈ لائف ایکٹ کےتحت مقدمہ درج کرکے ایک شخص کو گرفتار کرلیا گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ زمیندار اور 2 ملازمین کے خلاف درج کیا گیا ہے جبکہ گرفتار شخص فیاض زمیندارکا ملازم ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے یمن میں ایک چڑیا گھر کے اندر ایک شیر نے دو سالہ بچی پر حملہ کر کے اسے زخمی کر دیا۔ یہ واقعہ ملک کے وسطی صوبے اِب میں پیش آیا۔

    مقامی ذرائع کے مطابق دنیا ادریس نامی بچی نے شیر کے پنجرے کے اندر اپنا ہاتھ داخل کر دیا۔ اس پر شیر نے بچی کے بائیں ہاتھ پر کاٹ لیا۔ جب یہ واقعہ پیش آیا تو بچی کا باپ اپنی بیٹی کی تصویر لینے میں مصروف تھا۔

     

     

    مذکورہ ذرائع نے بتایا کہ ننھی بچی کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کر کے اسے ہنگامی طبی امداد دی گئی۔

    انسانی حقوق کے حلقوں نے واقعے کا ذمے دار بچی کے باپ اور (حوثیوں کے زیر انتظام) چڑیا گھر کی انتظامیہ کو قرار دیا ہے۔ حلقوں کے مطابق اس نوعیت کے درندوں کے واسطے پنجرے کا انتظام نامناسب تھا۔ بچوں کو جانوروں کے پنجروں سے مزید فاصلے پر رکھا جانا چاہیے۔

  • سانحہ مری کی تحقیقات کیلئے کمیٹی قائم،7 روز میں تحقیقات مکمل کرکے اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت

    سانحہ مری کی تحقیقات کیلئے کمیٹی قائم،7 روز میں تحقیقات مکمل کرکے اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت

    نوٹیفکیشن کے مطابق ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ ظفر نصراللہ کو کمیٹی کا کنوینر مقرر کیا گیا ہے جبکہ صوبائی سیکرٹریزعلی سرفراز، اسد گیلانی اور اے آئی جی فاروق مظہر کمیٹی کے رکن ہوں گے۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سانحہ مری کی تحقیقاتی کمیٹی کے ٹی او آرز بھی طے کرلیےگئے ہیں۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی سانحہ مری سے متعلق سرکاری محکموں کے ذمہ داروں کا تعین کرے گئی اور تحقیقات کرےگی کہ مری میں سیاحوں اور گاڑیوں کوکنٹرول کرنےکےکیا قدامات کیے؟

    کمیٹی تحقیق کرےگی کہ محکمہ موسمیات کی وارننگ پر اداروں نےکیا لائحہ عمل اختیارکیا؟ کیا میڈیا پر مری آنے سے روکنے کیلئے کوئی وارننگ جاری کی گئی؟

    نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی تحقیقات کرے گی برفانی طوفان کی اطلاع کےبعدکیاحفاظتی اقدامات کیےگئے؟یہ کمیٹی 7 روز میں تحقیقات مکمل کرکے اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

    دوسری جانب پنجاب حکومت کے ترجمان حسان خاور کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے سانحہ پر انکوائری کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا، انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کےبعد ذمہ داران کا تعین اوران کے خلاف کارروائی ہوگی۔

    ان کا کہنا تھاکہ سانحے کی ذمہ داری ضلعی انتظامیہ پر بھی عائد ہوتی ہے، عوام کی بھی غلطی ہے انھیں انتظامیہ کی وارننگ کوسنجیدہ لینا چاہیے تھا۔

    خیال رہے کہ گزشتہ روز مری میں برفانی طوفان اور رش کے باعث 23 افراد اپنی گاڑیوں میں انتقال کرگئے تھے، انتقال کرجانے والوں میں ایک ہی خاندان کے 8 افراد بھی شامل تھے۔

  • پوپ فرانسس کا سانحہ مری پر اظہار افسوس

    پوپ فرانسس کا سانحہ مری پر اظہار افسوس

    ویٹی کن:کیتھولک عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پوپ فرانسس نے سانحہ مری پر اظہار افسوس کیا ہے۔ادھر یہ بھی اطلاعات ہیں‌ کہ ویٹی کن میں منعقد تقریب میں سانحہ مری میں جاں بحق افراد کے لیے دعائیں بھی کی گئیں۔

    پوپ فرانسس نے سانحہ مری پر اظہار افسوس کرتے ہوئےکہا ہےکہ وہ لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔

    ادھر یورپین یونین نے پاکستان کے سیاحتی مقام مری میں موسمی حالات کے باعث سیاحوں کی ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    اس حوالے سے پاکستان میں یورپین یونین کے دفتر اور اس کی سفیر اندرولا کامینارا نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے ذریعے اس حادثے پر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں مری میں چھٹیاں منانے والوں کی جان جانے کے المناک نقصان کے بارے میں جان کر صدمہ ہوا ہے۔

    انہوں نے اس خوفناک حادثے میں اپنے پیاروں کو کھونے والے خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ان کے لیے ابدی سکون اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی۔

    خیال رہے کہ مری میں 7 جنوری کی رات کو آنے والے برفانی طوفان نے 20 سے زائد زندگیاں نگل لیں، حکومت نے مری کو آفت زدہ قرار دے کر ایمرجنسی نافذ کردی ہے اور ریسکیو اہلکاروں کی جانب سے امدادی کاموں کا سلسلہ جاری ہے۔

    ادھر وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کو سانحہ مری کی ابتدائی رپورٹ پیش کردی گئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ مری میں 4 روز میں 1 لاکھ 62 ہزار گاڑیاں داخل ہوئیں، اموات کاربن مونو آکسائیڈ کی زیادتی سے ہوئیں ۔

    وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو دورہ مری میں واقعے کے محرکات کی رپورٹ پیش کردی گئی ہے جس کے مطابق 7 جنوری کو 16 گھنٹے میں چار فٹ برف پڑی، 3 جنوری سے 7 جنوری تک 1 لاکھ 62 ہزار گاڑی مری داخل ہوئیں ۔

    وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ٹریفک لوڈ مینجمنٹ نہ کرنے پر برہمی کا اظہا کرتے ہوئے کہا کہ ٹریفک کی روانی کو کنٹرول کرنا کس کا کام تھا؟۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ 16 مقامات پر درخت گرنے سے ٹریفک بلاک ہوئی ، 21 ہزار گاڑیاں واپس بھجوائی گئیں ، 4 سے 5 گاڑیوں میں 22 افراد جاں بحق ہوئے ، یہ افراد کاربن مونو آکسائیڈ کی زیادتی سے جاں بحق ہوئے ، 70 فیصد علاقوں میں بجلی بحال کر دی گئی ہے ۔

  • سانحہ مری کی ذمہ دار مری انتظامیہ:کس کی وفادار اور کس کو کیا خوار:ایمپلائمنٹ سٹیٹمنٹ جاری کی جائے:عوام

    سانحہ مری کی ذمہ دار مری انتظامیہ:کس کی وفادار اور کس کو کیا خوار:ایمپلائمنٹ سٹیٹمنٹ جاری کی جائے:عوام

    مری :سانحہ مری کی ذمہ دار مری انتظامیہ:کس کی وفادار اور کس کو کیا خوار:ایمپلائمنٹ سٹیٹمنٹ جاری کی جائے:عوام نے حکومت وقت سے تحقیقات کا مطالنبہ کردیا ،اطلاعات ہیں کہ سانحہ مری کی ذمہ دارموجودہ مری انتظامیہ نوازشریف دورحکومت سے بڑی طاقتور اور خودمختارانتظامیہ ہے جس کے بڑے بڑے عہدوں پرتبادلے اور تقرریاں نوازشریف،مریم نواز اورشہبازشریف کی خواہش پر کئے گئے

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ موجودہ حکومت نے اس انتظامیہ کی مری اور مضافات کے علاقوں میں گرفت کو کنٹرول کرنے کی بڑی کوششیں کی مگراس دوران بڑے بڑے لوگوں نے اس کوشش کو بریک لگائے رکھی یا پھرگھوم گھما کے وہی لوگ مختلف علاقوں میں تعینات کرواتے رہے اور اس میں پنجاب حکومت کی اپنی بھی غلطی اورسُستی ہے کہ وہ اس لابنگ کو سمجھ نہ سکی ،

    ادھر جب سے سانحہ مری رونما ہوا ہے اس وقت سے سوشل میڈیا پر ایک سوال بڑی تیزی سے گردش کررہا ہے ،جس میں عوام پوچھ رہےہیں کہ بار بار مری انتظامیہ کی بات ہورہی ہے ہے پہلے یہ تو بتایا جائے کہ یہ مری انتظامیہ کیا چیز ہے ، اس انتظآمیہ کے شعبے کون کون سے ہیں اور ان اداروں کے سربراہان کون ہیں اور ان کو کن کی خواہش پر وہاں تعینات کیا گیا

     

    اس حوالے سے عوام الناس خصوصا مری ، ہزارہ اورایبٹ آباد ، گلیات اور دیگرعلاقوں کے لوگ اپنے سوشل میڈیا پیجز پریہ رونا رو رہے ہیں کہ یہ وہی پرانی انتظآمیہ ہے سوائے چندنئے لوگوں کے جن کونوازشریف ، مریم نواز اور شہبازشریف کی خواہش پرتعینات کیا گیا تھا اور آج بھی وہی ان علاقوں میں بااختیار اور بااثرہیں

    بعض نے بڑے دعوے کے ساتھ لکھا ہے کہ مری انتظآمیہ میں 80 فیصد سے زائد موجودہ اور سابق ن لیگی وزرا ، ارکان اسمبلی اور دیگربااثرشخصیات کی خواہش پر تعینات ہیں اور وہ اپنے محسنوں کے وفادار بھی ہیں‌

    دوسری طرف یہ بھی کہا جارہا ہے کہ نااہلی کی ذمہ دار موجودہ حکومت ہے جس کو آج تک یہ اندازہ نہ ہوسکا کہ مری انتظامیہ ایک خاص فکراورایک خاص گروہ سے تعلق رکھتی ہے

    ادھر اسی حوالے سے ایک اہم شخصیت نے فیس بک پرایک اشارہ دیا ہے جوکہ بہت اہم ہے ،یہ ہیں ظفر حجازی جوکہ کہتےہیں کہ مری انتظامیہ میں وہی ہیں جو ایوان اقتدار میں بیٹھے ہیں اور ان کا ہی یہاں ہولڈ ہے اوراثر ہے ، مری انتظآمیہ میں شامل انہیں میں سے کسی کے بھتیجے ، بھانجے،بیٹے اوربہت قریبی وفادار ہیں جواس وقت مری پرقابض ہیں اور اپنی بے رحمانہ طرز زندگی سے لوگوں کو مار ررہے ہیں

    عوام الناس کا کہنا ہے کہ حکومت ساری مری انتظامیہ کی جاب ہسٹری اور سٹیٹس قوم کے سامنے لائے

  • سانحہ مری:کیا واقعی جانبحق ہونے والوں کی موت کی ذمہ دار حکومت ہے؟رپورٹ نےحقیقت کھول دی

    سانحہ مری:کیا واقعی جانبحق ہونے والوں کی موت کی ذمہ دار حکومت ہے؟رپورٹ نےحقیقت کھول دی

    سانحہ مری:سانحہ مری:کیا واقعی جانبحق ہونے والوں کی موت کی ذمہ دار حکومت ہے؟رپورٹ نےحقیقت کھول دی ،اطلاعات کے مطابق سانحہ مری کے حوالے سے ایک رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گاڑیوں میں بیٹھے افرادکاربن مونو آکسائیڈ سے جاں بحق ہوئے

     

    دوسری طرف ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مری جانے والوں کو اس بات کی آگاہی ہوتی کہ گاڑی کے دھوئیں والے پائپ کو ہرصورت کھلا رکھنا اور اس پربرف یا کوئی اور چیز نہیں آنے دینی تو گاڑیوں میں سوار لوگ جومری میں غلطی کی ہے وہ نہ کرتے

     

     

    وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو سانحہ مری کی ابتدائی رپورٹ پیش کردی گئی۔ابتدائی رپورٹ کے مطابق7 جنوری کو مری میں 16گھنٹے میں4 فٹ برف پڑی،3 جنوری سے7 جنوری تک ایک لاکھ 62 ہزارگاڑیاں مری میں داخل ہوئیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ گاڑیوں میں بیٹھے 22 افرادکاربن مونو آکسائیڈ سے جاں بحق ہوئے، 16 مقامات پر درخت گرنے سے ٹریفک بلاک ہوئی، مری جانے والی 21 ہزارگاڑیاں واپس بھجوائی گئیں۔وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے ٹریفک لوڈمینجمنٹ نہ کرنے پر اظہار برہمی کیا ہے۔

     

    اس رپورٹ کے بعد پراپیگنڈہ کرنے والوں کے سارے الزامات دم توڑ گئے ہیں جو ان ہلاکتوں کا ذمہ دار حکام کوقرار دے رہے ہیں

     

     

    یاد رہے کہ کل سے  پاکستان کی ایک بڑی شخصیت کا آڈیو پیغام وائرل ہورہا ہے جس میں مری میں پیش آنے والے واقعہ سے متعلق ایسے حقائق پیش کئے گئے ہیں اگریہ حقائق پہلے بیان ہوجاتے تو یقینا اس طرح حادثہ نہ ہوتا ،

    یاد رہے کہ قوم اس وقت ایک سانحے سے گزررہی ہے جس میں مری میں شدید برفباری اور سیاحوں کے رش کے باعث برفانی طوفان میں پھنسے کئی شہری اپنی گاڑیوں میں موت کے منہ میں چلے گئے۔

     

    <img class=”alignnone wp-image-452983″ src=”https://login.baaghitv.com/wp-content/uploads/2022/01/560f6c6a-b9eb-456c-a8a4-0d7ed22a19e2-158×300.png” alt=”” width=”559″ height=”1061″ />

    گاڑی برف میں پھنس جائے تو کیا کرنا چاہیے؟ اس حوالے سے انسپکٹر جنرل (آئی جی) نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس انعام غنی کا بیان سامنے آیا ہے۔ان کا کہنا تھاکہ کاربن مونوآکسائیڈمیں بونہیں ہوتی، اس کا پتہ لگانا بہت مشکل ہے، کاربن مونو آکسائیڈ جلد موت کا سبب بن سکتی ہے۔

    مری میں برفباری اور سیاحوں کے رش کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ اگر گاڑی برف میں پھنس گئی ہے اور انجن چل رہاہے تو کھڑکی ہلکی سی کھولیں، گاڑی کے ایگزاسٹ سائلنسرپائپ سے برف صاف کریں۔

    &nbsp;

    <img class=”alignnone size-medium wp-image-452984″ src=”https://login.baaghitv.com/wp-content/uploads/2022/01/635929_11496233-2-300×200.jpg” alt=”” width=”300″ height=”200″ />

    ان کا کہنا تھا کہ ہیٹرچلانے سے پہلےچیک کر لیں کہ سائلنسر برف کی وجہ سےبند تو نہیں ہو چکا،ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر سائلنسر بند ہوا تو "کاربن مونو آکسائیڈ” گیس گاڑی میں جمع ہو سکتی ہے، انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ اس گیس کا کوئی رنگ یا بُو نہیں ہوتی، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ گیس چند منٹ میں انسان کی جان لےلیتی ہے

    خیال رہے کہ مری میں شدید برفباری اور سیاحوں کے رش کی وجہ سے صورتحال انتہائی خراب ہوگئی اور 20 سے زائد افراد کی گاڑیوں میں اموات کے بعد سیاحتی مقام کو آفت زدہ قرار دے دیا گیا ہے۔

  • 10 ارب ڈالر مالیت کی خلائی دوربین جیمز ویب نے اہم سنگ میل عبور کرلیا

    10 ارب ڈالر مالیت کی خلائی دوربین جیمز ویب نے اہم سنگ میل عبور کرلیا

    واشنگٹن :10 ارب ڈالر مالیت کی خلائی دوربین جیمز ویب نے اہم سنگ میل عبور کرلیا،اطلاعات ہیں کہ کرسمس کے موقع پر خلا میں جانےوالی 10 ارب ڈالر مالیت کی جیمز ویب اسپیس نے دو ہفتوں پرمحیط ڈیپلائمنٹ کا پیچیدہ مرحلہ عبور کرلیا ہے۔اوراب سائنسدانوں نے دعویٰ‌ کیا ہے کہ کامیابیوں اور انقلاب کا ایک نیا دور شروع ہوگیا ہے

    اس حوالے سے خلائی ادارے ناسا نے اپنی ٹوئٹ میں جیمز ویب کے خلائی میدان میں اہم سنگ میل طےکرنے پر مبارک باد دیتے ہوئے کہ ’ کامیاب ڈیپلائمنٹ کے بعد جیمز ویب نے اپنا آخری شیشہ کھول دیا ہے جس سے 50 ڈیپلائمنٹس اور 178 پنز کی ریلیز کا مرحلہ طے ہوگیا ہے۔‘

    جیمز ویب اپنے سونے کے پانی چڑھے پھول کی پتیوں جیسے عظیم الجثہ شیشوں کے ساڑھے 6 میٹر طویل آخری شیشے کو مکمل طور پر کھول کر کائناتی تاریخ کے ہر مرحلے کو ریکارڈ کرنے کے لیے تیار ہوگئی ہے۔

     

    ناسا کی اس ٹوئٹ کے بعد ریاست میری لینڈ میں قائم اسپیس ٹیلی اسکوپ سائنس انسٹی ٹیوٹ کے انجینئرز کی ٹیم میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ ناسا کے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ جیمز ویب میں اب تک لانچ ہونے والی سب سے بڑے اور حساس شیشے لگائے گئے ہیں جنہیں ’ گولڈن آئی‘ بھی کہا جاتا ہے۔

    جسامت میں بہت بڑی ہونے کی وجہ سے اس ٹیلی اسکوپ کو اوریگامی طرز پر راکٹ میں فٹ کیا گیا تھا، جب کہ سورج کی شعاعوں سے محفوظ رکھنے کے اس میں ایک حفاظتی شیلڈ دی گئی ہے جو کہ مستقل طور پر ٹیلی اسکوپ، سورج، چاند اور زمین کے درمیان حائل رہے گی۔

    10 ارب ڈالر مالیت کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ زمین کی سطح سے لاکھوں میل دوری پر شمسی مدار میں گردش کرے گی۔ہبل ٹیلی اسکوپ سے زیادہ طاقت ور جیمز ویب 13 ارب 70 کروڑ سال قبل تشکیل پانے والے اولین ستاروں اور کہکشاؤں سے متعلق معلومات جمع کرے گی۔

    جیمز ویب اسپیس کو زمین سے 340 ملین میل دوری پر موجود خلائی دوربین ہبل کا پیش رو سمجھا جارہا ہے۔

    یاد رہے کہ جیمز ویب اسپیس کی تیاری 30 سال قبل شروع کی گئی تھی۔ اس وقت اس پراجیکٹ کے لیے ناسا نے 500 ملین ڈالر کا بجٹ مختص کیا تھا۔ جیمز ویب کو 2007 میں خلائی سفر پر روانہ کرنا تھا تاہم کچھ تیکنیکی خامیوں کی بنیاد پر اس کی لانچنگ ملتوی ہوتی رہی۔

    جیمز ویب کو 25 دسمبر 2021 کو فرنچ گیوآناخلائی مرکزسے راکٹ آریانے 5 کے ذریعے خلائی سفر پر روانہ کیا گیا تھا۔۔